Naama Haye Na-Tamam- Makateeb-e-Mashahir Banam- Professor Raees Ahmed Arshi

 

مولف کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی سعادت نہیں کہ اس کی محنت رنگ لائے اور وہ اپنی کاوش اس شخصیت کی خدمت میں پیش کر سکے جس سے متعلق ہو۔ جب کتاب اپنے اصل مقام تک پہنچتی ہے اور صاحبِ موضوع کی نظرِ قبولیت حاصل کرتی ہے تو یہ لمحہ کسی بھی تخلیق کار کے لیے بے حد خوشی کا سبب بنتا ہے۔ گزشتہ رات جب کتاب “مکاتیبِ مشاھیر بنام پروفیسر رئیس احمد عرشی” اڈے (حاجی گُل مقصود گُڈز، میانوالی) سے وصول کی تو دل میں ایک بے چینی اور خوشگوار انتظار تھا کہ کب صبح ہو اور یہ کاوش محترم پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب کی خدمت میں پیش کروں۔ آج دن کو عرشی صاحب سے رابطہ کیا اور اُن کی خدمت میں حاضر ہوا، حاضر ہوتے ہی ان کی مسکراہٹ، شفقت بھرا انداز اور خلوص سے بھرپور پذیرائی نے میری تمام محنت کو گویا امر کر دیا۔ کتاب دیکھ کر انہوں نے نہ صرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ اس کی خوب صورت طباعت کو بھی سراہا۔ خدا تعالیٰ عرشی صاحب کو صحت و سلامتی عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

نامہ ہائے ناتمام: مکاتیبِ مشاھیر بنام پروفیسر رئیس احمد عرشی

ترتیب و تدوین، مقدمہ: محمد منشا خان

اشاعت: طبع اول، نومبر 2025ء

صفحات: 230، تعداد: 500

بہ اہتمام: شاہِ بسطام تحقیقاتی ادارہ برائے تصوف

ناشر: قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاھور

مکاتیبِ مشاھیر بنام پروفیسر رئیس احمد عرشی، مرتبہ: محمد منشا خان

تحریر: رئیس احمد عرشی (7 اپریل 2026، منگل)

دورانِ ملازمت قرابتوں میں کی گئی حماقتوں اور رقابتوں کا، احباب کی مجالس میں زیرِ بحث رہتے ہوئے مشاہدہ تو ہمیں بارہا رہا مگر بعد از ریٹائرمنٹ ہماری کرامتوں اور کرتوتوں کا تعاقب ادب نواز شکاریوں نے جس شد و مد سے کیا اس کا خدشہ تو ہمارے وہم و گماں میں بھی نہ تھا یہاں تک کہ اجنبی اور نادیدہ شخصیات نے بھی ہمیں نشانے پہ رکھ لیا مثلاً آنسہ زاہدہ سرور نے ڈاکٹر مقبول نثار کی نگرانی میں ”رئیس احمد کی ادبی خدمات“ کے عنوان کے تحت، سرگودہا یونیورسٹی سرگودہا سے اور محترمہ آفرین گل نے ڈاکٹر شفیق آصف کی زیرِ نگرانی ”رئیس احمد عرشی، شخصیت اور فن“ کے عنوان کے تحت سرگودہا یونیورسٹی میانوالی کیمپس سے مقالات لکھ کر مجھے ذرے سے آفتاب بنا دکھایا۔ میرے ممدوح عزیزم محمد عرفان خان نے بھی ماہنامہ نوائے پٹھان لاہور کے لیے لکھے گئے میرے اداریوں کو بنیاد بناکر وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کو ڈاکٹر محمد وسیم انجم کی زیرِ نگرانی نوائے پٹھان کی علمی و ادبی خدمات کے مقالے سے نوازا۔

خاکسار سے علیک سلیک رکھنے والے بعض کرم فرما بھی مجھے سر پر اٹھانے سے باز نہ رہ سکے۔ ان مداحوں میں مکرم ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پروفیسر جناب احسان قریشی، ابوالمعانی عصری مرحوم اور عزت مآب جناب عطااللہ خان نیازی (ایڈمن سلطان خیل نیازی پشتون) نے اپنی توانائیاں مجھ ایسے خزف کو الماس ثابت کر دکھانے میں صرف کیں (ممدوحین کے احسانات کا یہ قرض تا حال واجب الادا ہے)۔

اس طولانی تمہید کا محرک میرے ایک نئے مدح سرا محمد منشا خان صاحب ہیں، نجانے کس کرم فرما نے انھیں اس وہم میں مبتلا کیا کہ ”رئیس احمد عرشی نامی شخص بھی ایک ایسے شاعر و ادیب ہیں جنہیں آپ بآسانی تختۂ مشق بنا سکتے ہیں“۔ یوں وہ ہماری تلاش میں کمربستہ ہوئے۔

پہلا وار انھوں نے ہمارے موبائل نمبر پر کیا۔ اب جان نہ پہچان، سماعت پر ملاقات کی والہانہ عقیدت اور حلاوت آمیز لہجے میں استدعا لیے، ایک نئی آواز کی دستک ہمارے لیے حیرت افزا تو تھی مگر ہم نے ہمہ وقت منتظر رہنے کا عندیہ دیا تو اگلے ہی روز وہ غریب خانے پر آن وارد ہوئے۔ مدعا تھا ہمارے نام آمدہ مشاہیر کے خطوط کی تلاش۔

خط و کتاب کا دور تو ہماری اوائل عمری ہی میں اختتام پا چکا تھا۔ خط و کتابت کے مروجہ دور کے جو دو چار سال ہمارے ہاتھ لگے تو اس وقت تو خطوط کا مصرف بچوں کے لیے ان سے صرف جہاز اور کشتیاں بنانا تھا تاکہ وہ جہاز اڑانے اور کشتیاں نذرِ آب کرنے کے فن سے آگاہ رہیں۔ خطوط کی جمع آوری کے ادراک کی تو اذہان کو ممانعت تھی، کسے خبر تھی؟ کہ خطوط کے مجموعے بھی اشاعت پذیر ہوں گے۔

چنانچہ ہم نے انھیں باز رکھنے کو، چکمہ دینے کی ممکنہ کوشش کی (جس کی تفصیل زیرِ نظر کتاب میں مرقوم ہے) مگر وہ پارہ صفت قلم کار ہیں، باز نہ آئے۔ انھوں نے ہماری کباڑخانہ نما لائبریری سے چند خطوط نکال مارے اور موصولہ چند خطوط کو بنیاد بنا کر ایک ایسی ضخیم اور شاہکار کتاب ترتیب دے ڈالی جو بساطِ ادب پر مدتوں فیض رساں رہے گی۔

اس کتاب میں خاصے کی چیز اس کا فانٹ نمبر 19/14، کے انچاس صفحات پر محیط، بسیط و وقیع مقدمہ ہے۔ محمد منشا خان نے اس میں مکتوب نگاری کی اہمیت و افادیت اور تاریخ کا انتہائی قابلِ تحسین محققانہ تجزیہ پیش کرتے ہوئے میرے قبیلے اور میری ذات کی جامع تاریخ تک تحریر کر دی ہے۔ یہی نہیں، انھوں نے میری ادبی نشست و برخاست کی حرکات و سکنات کے محرکات و واقعات تک کا احاطہ بخوبی کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر مکتوب نگار کا جامع تعارف بشمول ادبی خدمات قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔ کتاب کا ایک اور گراں قدر پہلو اہم ترین مسودات کے عکس پر مشتمل ضمیمہ جات ہیں جو نمایاں اور نہایت واضح ہیں۔

محمد منشا خان منجھے ہوئے زود نویس لکھاری ہیں۔ ان کے قلمی اوصاف کے واجبی اظہار کے لیے بھی ایک دفتر چاہیے، سرِدست یہ موقع، محل اس کا ذکر کرنے سے مانع ہے۔

اللہ تبارک تعالیٰ محمد منشا خان کو اجرِ کبیر سے نوازے (آمین) کہ یہ کتاب ہمیں افقِ ادب پر مدتوں منور رکھے گی۔


میانوالی کی ادبی میراث   –تحریر: عبد الستار عاصم، لاہور

کبھی کبھار ادبی تاریخ صرف کتابوں میں نہیں بلکہ وہ بکھرے ہوئے کاغذوں، مدھم سیاہی اور وقت کی گرد میں چھپے خطوط میں سانس لیتی ہے۔ ایسے ہی چند اوراق، جو برسوں تک خاموشی سے اپنی باری کے منتظر رہے، اب ایک نئی صورت میں منظر عام پر آ چکے۔ یہ خطوط صرف ذاتی مراسلت نہیں بلکہ ایک عہد کی ادبی ا فکری بازگشت اور ژندہ تاریخ ہوتے ہیں جن میں علمی مکالمات اور اہلِ قلم کی سوچ کی جھلک محفوظ ہے۔

میانوالی کے ادبی حلقوں میں پروفیسر رئیس احمد عرشی کا نام ایک بلند مقام رکھتا ہے۔ وہ نہ صرف اردو ادب کے استاد ہیں بلکہ ایک بہترین کالم نگار، مصنف، شاعر اور ایسے رہنما بھی ہیں جنہوں نے لفظ کو شعور اور فکر کو سمت دینے کا کام کیا۔ آپ کے نام مختلف مشاہیر کے خطوط گرد میں مخفی تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ مکاتیب اب تک غیر مطبوعہ تھے گویا ایک قیمتی علمی خزانہ صدیوں تک پردۂ راز میں محفوظ رہا۔ یہیں محمد منشا خان کی محنت ایک نئی جہت اختیار کرتی ہے۔ ایک ایسا انسان جس نے کاروباری مصروفیات کے باوجود اپنے شہر اور علمی ورثے سے تعلق برقرار رکھا۔ انہوں نے ان بکھرے ہوئے خطوط کو جمع کیا، مرتب کیا اور ان میں زندگی پھونک دی۔

کتاب کا نام “مکاتیبِ مشاہیر بنام پروفیسر رئیس احمد عرشی” ہے۔ یہ مجموعہ ماضی اور حال کے درمیان علمی رابطہ قائم کرتا ہے۔ اس میں شامل خطوط پاکستان کے نامور ادبی و علمی شخصیات کی فکری جھلک پیش کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ پروفیسر رئیس احمد عرشی نے اہلِ قلم کے درمیان کس قدر مرکزی اور مؤثر مقام حاصل کیا۔

کتاب کی تیاری کوئی آسان عمل نہ تھا۔ بہت سے خطوط وقت کی مار سے کمزور اور بوسیدہ ہو چکے تھے، کئی خطوط کی تحریری باریکیاں سمجھنا اور ترتیب دینا ایک مستقل جستجو کا تقاضا کرتا تھا۔ مگر یہ محمد منشا خان کی محنت ہی تھی جو ان خطوط میں نئی جان ڈال کر انہیں ایک تحقیقی اور ادبی دستاویز کی شکل عطا کر گئی۔ محمد منشا خان نے اس کام کے ذریعے میانوالی کے سپوت ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ یہ صرف ادبی خدمت نہیں بلکہ اپنی مٹی، اپنے شہر اور علمی ورثے سے وفاداری کا عملی اظہار بھی ہے۔ آپ کی یہ کتاب نہ صرف اردو ادب کے ذخیرے میں ایک وقیع اضافہ ہے بلکہ میانوالی کی ادبی تاریخ میں بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ پہلی بار منظرِ عام پر آنے والے خطوط، اہلِ علم کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں اور اس مجموعے کی اشاعت سے نہ صرف ادب اور تحقیق کو تقویت ملے گی بلکہ شہر کی ادبی شناخت بھی مزید مضبوط ہوگی۔

اس کتاب کو قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاہور نے اپنے ادارے کی جانب سے نہایت خوبصورت اور عمدہ آرٹ پیپر پر طباعت کے ساتھ شائع کیا ہے۔ حاصل کرنے کے لیے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل والٹن روڈ لاہور کینٹ پاکستان 03000515101


 

ناتمام تحریروں کی بازیافت: میانوالی کے علمی وقار کا نیا حوالہ-تحریر: ٹیم میانوالی آرگ

ادبی تاریخ محض ضخیم جلدوں یا کتب خانوں کی گرد آلود الماریوں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ بسا اوقات یہ ان شکستہ کاغذوں اور نیم وا حروف میں بھی دھڑکتی ہے جو مشاہیرِ علم و فن نے ایک دوسرے کے نام رقم کیے۔ میانوالی کی مردم خیز مٹی سے ایک ایسی ہی گراں قدر دستاویز “نامہ ہائے ناتمام: مکاتیبِ مشاہیر بنام پروفیسر رئیس احمد عرشی” کی صورت میں نمودار ہوئی ہے۔ یہ مجموعہ محض چند مکتوبات کا انبار نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کی تہذیبی و فکری تاریخ کا عکسِ جمیل ہے۔

پروفیسر رئیس احمد عرشی: میانوالی کے قصرِ ادب کا ایک درخشاں ستون

پروفیسر رئیس احمد عرشی کا اسمِ گرامی میانوالی کی ادبی قلمرو میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کی شخصیت علمی گہرائی، شعری بصیرت اور شگفتہ کالم نگاری کا ایک حسین امتزاج ہے۔ آپ کی علمی مجلسیں ہمیشہ سے اہلِ دانش کے لیے مرکزِ کشش رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ادیبوں اور مفکروں نے آپ کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔

تعلیمی و تحقیقی حلقوں میں آپ کی خدمات کا اعتراف اس حقیقت سے عیاں ہے کہ سرگودھا یونیورسٹی اور وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد جیسے معتبر اداروں میں آپ کی شخصیت اور فن کو باقاعدہ تحقیق کا موضوع بنایا گیا ہے۔ آپ کی تحریریں جہاں سماج کے نبض شناس ہونے کا ثبوت دیتی ہیں، وہاں ان میں چھپا طنز و مزاح قاری کو سنجیدہ فکر کے ساتھ ساتھ انبساط کا سامان بھی فراہم کرتا ہے۔

داستانِ مکتوبات: جہازوں اور کشتیوں سے کتابی صورت تک

“نامہ ہائے ناتمام” ان نادر مکتوبات کی بازیافت ہے جو مختلف مشاہیر نے پروفیسر رئیس احمد عرشی کی نذر کیے۔ یہ مراسلے محض خیریت کے تبادلے نہیں بلکہ ایسے علمی مکالمے ہیں جن کے بطن میں تاریخ، سیاست اور ادب کے کئی گوشے پنہاں ہیں۔

عجیب و غریب حقیقت یہ ہے کہ عرشی صاحب ان گوہرِ نایاب سے اس قدر بے نیاز تھے کہ ان کے گھر کے نونہال ان قیمتی کاغذات سے کشتیاں اور جہاز بنا کر اڑایا کرتے تھے۔ مگر دستِ تقدیر کو ان بکھرے ہوئے اوراق کو ایک لڑی میں پرونا منظور تھا، جس کا وسیلہ محمد منشا خان کی علم دوستی اور مستقل مزاجی بنی۔

محمد منشا خان: ایک جوہر شناس محقق کا عزمِ مصمم

اس علمی اثاثے کو وقت کی بے رحم موجوں سے بچانے اور اسے ایک شاہکار مجموعے کی صورت دینے کا سہرا محمد منشا خان کے سر بندھتا ہے۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی تپش کے باوجود میانوالی کے علمی ورثے کی آبیاری کے لیے جو عرق ریزی کی، وہ لائقِ تحسین ہے۔

تالیف و تدوین کے چند نمایاں پہلو:

  • تحقیقی جستجو: منشا خان نے عرشی صاحب کی لائبریری کے غبار آلود گوشوں سے ان خطوط کو برآمد کیا جو دیمک کی نذر ہونے کے قریب تھے۔
  • مبسوط و معتبر مقدمہ: کتاب کی زینت اس کا 49 صفحات پر محیط وہ علمی مقدمہ ہے جس میں مکتوب نگاری کی تاریخ اور اس کے فنی پہلوؤں پر محققانہ بحث کی گئی ہے۔
  • مشاہیر کا تعارف: ہر مکتوب کے ساتھ متعلقہ مکتوب نگار کا جامع تذکرہ شامل کر کے مرتب نے قارئین کے لیے فکری پس منظر کو واضح کر دیا ہے۔
  • تاریخی استناد: اس کتاب میں نہ صرف عرشی صاحب کی ذاتی و ادبی زندگی کا احاطہ کیا گیا ہے بلکہ اہم ترین مسودات کے عکس (Facsimiles) بھی شامل کیے گئے ہیں، جو اس کی تاریخی اہمیت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں۔

اشاعتی حسن اور طباعت کا معیار

قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاہور نے اس تالیف کو جس سلیقے اور اہتمام سے شائع کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ نفیس آرٹ پیپر، دیدہ زیب فانٹ اور معیاری طباعت نے اس کتاب کو اہل ذوق کے لیے ایک بہترین تحفہ بنا دیا ہے۔

کتابیات:

  • عنوان: نامہ ہائے ناتمام
  • مرتب: محمد منشا خان
  • زیرِ سایہ: شاہِ بسطام تحقیقاتی ادارہ برائے تصوف
  • اشاعت: قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاہور

کلامِ آخر

“نامہ ہائے ناتمام” کی اشاعت میانوالی کے ادبی وقار میں اضافے کا باعث ہے۔ یہ مجموعہ مکتوب نگاری کے فن میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو آنے والے محققین اور ادب کے طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ محمد منشا خان کی یہ سعیِ جمیل اس بات کی گواہی ہے کہ اگر ارادہ صمیم ہو تو وقت کی دھول سے بھی درخشاں تاریخ نکالی جا سکتی ہے۔

یہ علمی شہ پارہ قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، والٹن روڈ، لاہور کینٹ کے دفتر سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top