CULTURAL HISTORY OF MIANWALI

میانوالی کی ثقافتی تاریخ  

کچھ دوست کہتے ھیں میانوالی کی تاریخ لکھیں – تاریخ لکھنے کے لیے تاریخ کی کتابوں کامطالعہ اور تحقیق کا بہت سا کام کرنا پڑتا ھے- یہ کام مؤرخین کا ھے، ضلع میانوالی کی تاریخ پر کچھ کتابیں پہلے سے موجود ھیں – پہلی کتاب غالبا منشی محمد رمضان نےلکھی تھی-

سب سے مفصل اور مستند کتاب ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی کی “تاریخ میانوالی“ ھے ، ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی ریٹائرڈ سی ایس پی افسرھیں ، چکوال میں ڈپٹی کمشنر بھی رھے ، اور بھی بہت سے اعلی عہدوں پر فائز رھے- تاریخ اور دینی موضوعات پر ان کی متعدد تصانیف شائع ھو چکی ھیں – تاریخ پر تحقیق ان کا پسندیدہ موضوع ھے – اسی بنا پر وہ لاھور کے عجائب گھر کے ڈائریکٹر بھی رھے – “تاریخ چکوال“ اور “ تاریخ میانوالی“ ڈاکٹر صاحب کے شاندار علمی کارنامے ھیں – ان دونوں کتابوں میں ڈاکٹر صاحب نے علاقے کے مستند صاحب علم و قلم لوگوں کے تحقیقی مضامین بھی شامل کیے ھیں –

میانوالی کی تاریخ کی دوسری کتاب ضلع میانوالی کا سرکاری گزیٹیئر ھے- انگریزوں نے ھر ضلع کی تاریخ ، معیشت اور معاشرت کے بارے میں مستند معلومات اور اعداد و شمار کا مجموعہ شائع کرایا تھا – بعد میں اس پر نظرثانی کی زحمت سرکار نے گوارا نہ کی – تاھم 1985-90 میں یہ کام حکومت کو یاد آ ھی گیا – ضلع میانوالی کے گزیٹیئر کا نیا ایڈیشن نامور مؤرخ ، گورنمنٹ کالج میانوالی کے پرنسپل ڈاکٹر غلام سرور خان نیازی نے مرتب کردیا – یہ کتاب اپنی جگہ ایک مستند دستاویز ھے-

موچھ کے معروف ماھرتعلیم ، مرحوم حمیداللہ خان ضیاء نے نیازی قبائل کی مفصل تاریخ لکھی ، عیسی خیل کے صاحب علم بزرگ سرداراحمد خان نیازی بھی تاریخ کی ایک کتاب مرتب کررھے تھے ، مگر موت نے یہ کام مکمل کرنے کی مہلت نہ دی-

میں جو کام کر رھا ھوں وہ میرے اپنے تجربات اور مشاھدات پر مبنی ھے – اسے آپ میانوالی کی ثقافتی تاریخ ( Cultural History of Mianwali ) کہہ سکتے ھیں – اس کام کی اھمیت کا اندازہ آپ لوگوں کی لائیکس اور کمنٹس سے ھوتا ھے– آپ کو میری پوسٹس سے اپنے بزرگوں کے طرز زندگی اور کچھ اچھی روایات کا علم حاصل ھوتا ھے ، مجھے اس کام کے صلے میں آپ کی دعائیں ملتی ھیں ، اس سے زیادہ مجھے اور کیا چاھیئے — رھے نام اللہ کا — منورعلی ملک —–

 

Leave a Reply