MERA MIANWALI MAY 23

منورعلی ملک کے  مئی 2023کے فیس  بک   پرخطوط

 

 

 

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یکم مئی ۔۔۔۔۔۔ یوم مزدور کے نام پر آج دنیا بھر میں چھٹی منائی جا رہی ہے۔ مزدوروں کو زبانی خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، مگر مزدور آج بھی چھٹی نہیں کر سکتے کہ شام کے کھانے کا خرچ کمانا ضروری ھے۔

١ مئی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سادگی میں سکون تھا – ضروریات بہت کم ، خواہشات مختصر – گندم ، دودھ ، گھی گھر کا ہوتا تھا – کھانے پینے کی بے فکری لوگوں کو غربت کا احساس ہی نہیں ہونے دیتی تھی –
اپریل مئی کسانوں کے لیئے عید کا موسم ہوتا تھا کہ اس موسم میں گندم کی پیداوار گھر میں آتی تھی – نقد پیسے کی بجائے گندم کے عوض چیزیں خریدی جاتی تھیں – بچپن میں ہم لوگ بھی گندم جھولیوں میں بھر کر چاچا محمد اولیاء کی دکان پر جاتے اور اس گندم کے بدلے میں اپنی پسند کی چیزیں خریدتے تھے – چاچا اولیا ء ترازو میں گندم تول کر بتاتے کہ اس کی قیمت اتنے پیسے بنتی ہے اور ہم پیسوں کی بجائے اتنی مالیت کی چیزیں ( کھٹی میٹھی چُوپنڑیاں، چاول کا مرُنڈا ، مونگ پھلی ، لاچی دانہ وغیرہ) لے لیتے تھے-
یہ موسم شادیوں کا موسم بھی کہلاتا تھا ، کیونکہ شادیوں کے اخراجات بھی گندم بیچ کر ادا کئے جاتے تھے – فصل گھر میں آتے ہی بچوں کی شادیوں کا سامان خرید کر یہ فریضہ ادا کر دیا جاتا تھا – جب فالتو گندم بیچنے کے لیئے نہ رہتی تو روزمرہ ضرورت کی چیزیں اُدھار خریدی جاتی تھیں – بڑا لمبا ادھار چلتا تھا۔ اگلے سال کی پیداوار سے سب سے پہلے اُدھار صاف کیا جاتا تھا –
اپنے کھیت کی گندم ہی سال بھر کے اخراجات کے لیئے کافی ہوتی تھی – زندگی بہت سادہ مگر پُرسکون ہوا کرتی تھی – اب نہ وہ سادگی ہے نہ سکون ———————- رہے نام اللہ کا —٢  مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گندم کی کٹائی ، مکان کی تعمیر، شادی بیاہ کے انتظامات میں تعاون کی روایت دیہی معاشرے کا حسن ھوا کرتی تھی۔ بعض علاقوں میں یہ روایت شاید آج بھی برقرار ہو۔
گندم کی کٹائی میں تعاون “مانگ” کہلاتا تھا۔ مانگ اس لیئے کہ کٹائی میں شرکت کے لیئے قریبی رشتہ داروں، ہمسایوں اور دوستوں کو باقاعدہ دعوت دے کر بلایا جاتا تھا۔
مانگیوں (مانگ میں شریک لوگوں) کا دوپہر کا کھانا دودھی والا مخصوص حلوہ ہوتا تھا۔ اس حلوے کو مانگ آلا حلوہ کہتے تھے۔ اس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں عام حلوے سے دوچار گنا زیادہ گھی ڈالا جاتا تھا۔ یہ ایک دلچسپ شرارت تھی۔ مٹی کے بنے ہوئے بڑے بڑے تھالوں (صحنکوں) میں حلوہ بھر کر مانگیوں کو چیلینج کیا جاتا تھا کہ یہ تمام حلوہ مکا کر (ختم کر کے) دکھائیں۔ خالص دیسی گھی میں تر بتر حلوہ پاو بھر سے زیادہ نہیں کھایا جا سکتا تھا۔ حلوہ بچ جانے پر مانگیوں کا مذاق اُڑایا جاتا تھا۔
مانگ کا حلوہ بہت بڑی مقدار میں بنایا جاتا تھا، کیونکہ ہمسایوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں بھی بھیجنا پڑتا تھا۔ نہایت لذیذ چیز ہوتا تھا یہ حلوہ۔ جنہوں نے کھایا ہو وہی جانتے ہیں کہ یہ کیا مزے دار چیز تھا۔
ہمارے داودخیل میں تو مانگ کہتے تھے، بعض علاقوں کے لوگ مانگھ یا ونگار بھی کہتے تھے۔ مانگ کی شہرت کا سبب مانگ کا حلوہ ہی تھا۔
منور علی ملک ہمارے علاقہ میں اس طرح گندم کٹائی کو ونگار کہتے تھے۔ علاقہ علاقہ کا لفظ جدا جدا بھی ہو سکتا ہے اردو میں شائد بیگار یا بگار اور انگریزی میں فٹیگ کہا جاتا ہے ۔ ونگارو زور شور سے نعرے لگاتے اور ایک دوسرے کے درمیان زیادہ سے زیادہ گڈیاں کنڑک کاٹنے کا مقابلہ ہوتا تھا
حلوہ میں دیسی گھی بیہ رہا ہوتا تھا اور چاروں انگلیوں سے اکٹھا کرکے منہ میں ڈال کر نگلا جاتا ۔ اسی طرح ہر روز کسی نہ کسی کی ونگار پر ونگاروؤں کو جانا پڑتااور یہ سلسلہ جاری رہتا
حلوہ کھانے والے برتن کو سانڑک کہتے تھے۔ پتہ نہیں آپ نے اس برتن کو صحنک کیوں لکھا ہے ،
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے
  • AFzal Malik

    مانگ منگالی بھی کہا جاتا ھے منگالی اور ونگار میں فرق یہ تھا کہ منگالی میں مخصوص لوگوں کو یا قریبی رشتہ داروں کی تھوڑی تعداد کو بلایا جاتا تھا جبکہ ونگار میں اڑوس پڑوس کے گاؤں کے لوگوں کو بھی بڑی تعداد میں بلایا جاتا ھے اور ھمارے ھاں (نمل ) اور وادی سون میں دوپہر کو دیسی گھی اور شکر کے ساتھ کھانا دیا جاتا تھا اور ساتھ میں کچی لسی اور سہہ پہر کو یا ونگار ختم ھونے پر حلوہ چاۓ دی جاتی تھی اب بھی تقریبا یہی رواج ھے لیکن دیسی گھی کی جگہ اب برائلر یا گوشت استمعال کیا جاتا ھے
    • Žâfâř Âbbãś

      سر جی ہمارے بھکر تھل میں ابھی تک دیہاتی علاقوں میں یہ روایات کچھ باقی ہیں مثلا ونگار ابھی بھی باقی ہے لوگ ایک دوسرے کی کام میں مدد کرتے ہیں اور سر جی اب تو وہ دیسی گھی کھانے والے لوگ بھی نہیں رہے 18 سال کا نوجوان بھی کھا لے تو بلڈ پریشر چڑھ جاتا ہے بلکہ آجکل گھی بیچا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔٤  مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادیں۔۔۔۔۔1961/62
جب میں گورنمنٹ ہائی سکول داودخیل میں انگلش ٹیچر تھا۔
پہلی صف۔۔۔ دائیں سے بائیں۔۔۔ بھائی فتح خان سالار، امیر خان لمے خیل، ملک عزیز گلن خیل ، ملک محمد انور علی ہیڈماسٹر(میرے بڑے بھائی)۔ امیر خان لمے خٰیل اور ملک عزیز گلن خیل ہمارے سکول کے سٹوڈنٹ اور سکول کے ڈراما “سومنات” کے مرکزی کردار تھے۔
دوسری صف۔۔۔۔ غلام سرور خان نیازی ڈرائنگ ماسٹر، منورعلی ملک، ماسٹر سید محمد رضا شاہ بخاری، ماسٹر ممریز خان ۔
تیسری صف میں سکول کے چند بچےہیں، نام یاد نہیں آ رہے۔
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے

Imran Malik

#بیڈ_فورڈ‬⁩ بسوں کے ہارن سے پتہ چل جاتا تھا کہ اس کا نمبر کیا ھے جب کبھی دوران کلاس ھارن بجتا تو ٹیچر کی موجودگی میں بھی کان میں سر گوشی کر دیتے 2766 آئی اے۔۔۔ہن 1785 بولی اے۔۔۔۔اس زمانے میں بس ڈرائیور کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور سب استاد جی کے نام سے بلاتے تھے علاقے میں چنیدہ لوگ ہی اس منصب پر فائز ھوتے تھے۔
‏استاد جی کے اپنے ٹشن ھوتے استری شدہ سوٹ ،کھلے بٹن بنیان نظر آتی تھی اگرچہ میلی ھوتی تھی چونکہ استاد جی کا زیادہ زور کپڑوں کی استری پر زیادہ ھوتا،کھلی چپل،کھلے پائنچے،انگلیوں کے درمیان سلگتا ھوا مارون کا سگریٹ جو بیڈ فورڈ کے ڈیزل کی بو کیساتھ ملکر الٹی کرنے اور سر چکرانے کیلئے اکساتا تھا۔
‏بس اسٹارٹ ھونے کے بعد 20 سے 25 ھارن بجانا استاد جی کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔کچھ بسیں ایسے جدید ھارن کی بھی حامل تھی کہ استاد جی کو بار بار ھارن کا بٹن پریس کرنے کی زحمت نہیں اٹھانا پڑتی تھی ایک ھی بار پریس کرتے تو کم از کم 5 منٹ تک خود بخود بجتا رہتا اور استاد جی داد طلب نگاہوں سے مسافروں کی طرف دیکھتے،
‏ فرنٹ سیٹ مخصوص افراد کیلئے مختص ھوتی بعض اوقات تو دو دو دن ایڈوانس فرنٹ سیٹ بک کروا دی جاتی لیکن استاد جی کے پاس ویٹو پاور بھی تھی کسی بھی منظور نظر کو کسی وقت بھی نواز سکتے تھے۔
‏⁧‫#استاد‬⁩ جی کا پورا علاقہ اس طرح قدر کرتا تھا جیسے ⁦‪#css‬⁩ کر کے ابھی ابھی چارج سنبھالا ھو۔عموما استاد جی غصے والے ھوتے تھے جو سواریوں کی موجودگی میں کنڈیکر کو ڈانٹنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔
‏کنڈیکر سے یاد آیا، کنڈیکر کی بھی تین اقسام ھوتی تھی ایک غریب نادار جو فقط مزدوری کیلئے آتے تھے دوسری قسم جو ہشیار ھوتے تھے مسافروں پر جگھتیں لگاتے اور ان کے تیور بھی بتا رھے ھوتے کہ آئندہ 15 سے 20 سال کی محنت شاقہ سے یہ بھی منصب استاد جی پر براجمان ہونگے ۔
‏تیسری قسم وہ کنڈیکر ہیں جن کی اپنی بس ھوتی یا مامے،چاچے کی بس ھوتی تھی ان کے نام کیساتھ نائیک جی کا لاحقہ بھی لگا ھوتا۔ہر کسے باشد انھیں نائیک جی کے نام سے پکارتا تو اس لمحے آدھا فٹ وہ فضا میں معلق ھو جاتے خواہ پکا سگریٹ نہ بھی لگایا ھو ان کیساتھ ایک سب کنڈیکر بھی ھوا کرتا تھا۔
‏بس کی گیلری میں 20/25 لوگ کھڑے ھوتے اتنے ھی پوہڑی اور سائیڈ پر ،طلباء کو خاص اہمیت حاصل تھی ان کیلئے بس کا چھت مختص ھوتا کیونکہ کرائے کی ادائیگی سے اکثر وہ مثتثنی با حکم از خود ھوتے تھے۔
‏رستے میں کوئی سواری ہاتھ دے اور استاد جی بس نہ روکیں سوال ھی پیدا نہیں ھوتا اگرچہ گنجائش پیدا کر ھی لی جاتی اگر خاتون مسافر ھوتی تو کنڈیکر با آواز بلند کہتا لیڈی سواری کیلئے جگہ خالی کرو تو ہر کوئی بلا توقف اپنی سیٹ چھوڑنے کو آمادہ ھو جاتا۔
‏استاد جی بس چلاتے ساتھ سگریٹ کے کش لگاتے کئی لوگ سگریٹ اور ڈیزل کی ملی جلی بو کی وجہ سے الٹیاں بھی کرتے لیکن کیا مجال کہ استاد جی کو تمباکو نوشی سے کوئی روکنے کی جسارت کرے۔
‏ اس کے ساتھ عطااللہ،لتا منگیشکر،رفیع اور صبح کا وقت ھو عزیز میاں و ہمنوا اودھم مچاتے رہی سہی کسر بیڈ فوڈ چڑھائی میں اپنے انجن کی صوت بالا سے پوری کر کے سماعتوں کو صبر جمیل عطا فرماتی۔
‏استاد جی سے تعلق اور واقفیت ایسے ھی بلند مرتبت سمجھی جاتی جیسے DCO سے شناسائی ھو استاد جی اگر کسے جاننے والے پر نظر التفات فرماتے تو وہ شخص پھولا نہ سماتا اسے اپنے پاس بیٹھنے کیلئے اشارہ کرتے تو موصوف باقی مسافروں کو پھلانگتے ھوئے استاد جی کے قریب پڑے ٹول بکس پر اپنی آدھی تشریف کیساتھ ھی براجمان ھو جاتے موڑ ملتے ھوتے اس توازن کو برقرار رکھنا خاصہ مشکل مرحلہ ھوتا لیکن موصوف نہ صرف توازن برقرار رکھتے بلکہ اپنی گردن لمبی کر عطااللہ کا گیت اور بیڈ فورڈ بس کے انجن کی تیز آواز کے استاد جی سے گپ شپ کی سعی کرتے پھر داد طلب نگاہوں سے مسافروں کی طرف دیکھتے یہ سلسلہ اختتام سفر تک جاری رہتا۔
‏جب مسافر کے اترنے کا وقت آتا تو بھی دو طریقے اختیار کیے جاتے اگر کوئی صاحب ثروت یا پھنے خان ھے تو استاد جی بریک کا پورا استعمال کرتے تا دم مسافر اتر نہ جائے اور اگر کوئی عام مسافر ھوتا تو استاد جی بریک کا تھوڑا آسرا کرتے باقی کسر کنڈیکر ان کو جگھتیں لگا کر گیٹ سے جلدی چھلانگ لگانے پر آمادہ کر لیتا اور پھر اونچی آواز میں کہتا۔۔۔چلے۔۔۔۔جان دے۔
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے
  • شاعر قیصر عباس شاعر

    شہنشاہ گیت نگار شاعر پروفیسر منور علی ملک صاحب او ویلے تاں محبتاں بھرے ویلے ھن سنگت سنگیت چوکاں تے بائے کے سراں بنڑاؤ ہا ھاسا مزاق کھلی گپ بھرم دا ٹائم ھائی لوک لج رکھیندے ھن کمال محبتاں سوھنٹا سئیں الللہ دی امان اللہ دی امان—
    7مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادیں۔۔۔۔۔ 2001
انگلش ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ کالج میانوالی کی ایک تقریب
دائیں طرف سے۔۔۔۔ پروفیسر محمد فیروز شاہ ، پروفیسر سرور نیازی ، منورعلی ملک اور ڈاکٹر غفور شاہ قاسم۔

٨  مئی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے داودخیل کے علاقے میں کوئی بڑا زمیندار نہ تھا۔ سو پچاس کنال بارانی زمین والوں کو بڑا زمیندار نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کی پیداوار سے صرف اپنی ضروریات ہی پوری ہو سکتی تھیں۔ لوگ جتنی زمین خود کاشت کر سکتے اس کے علاوہ باقی زمین آدھی پیداوار کے عوض بے زمین کاشتکاروں کو پٹے پر دے دیتے تھے۔ جن بے زمین کاشتکاروں کو اپنے علاقے میں آدھی پیداوار کے عوض زمین نہ مل سکتی وہ گندم کی کٹائی کے موسم میں نہری علاقوں میں جاکر اجرت پر گندم کی کٹائی کرتے تھے۔
اجرت دسویں گڈی (کاٹی ہوئی گندم کا دسواں حصہ) ہوتی تھی۔
مرد ، خواتین، بچے، پورے پورے ٹبر (کنبہ) گندم کی کٹائی کے لیئے مہینہ بھر نہری علاقوں میں رہتے تھے۔ “لوواں تے وینے پئے آں ” کا مطلب یہ تھا کہ ہم گندم کی کٹائی کے لییے دوسرے علاقوں میں جا رہے ہیں۔
کام ختم ہونے کے بعد اپنی سال بھر کی ضرورت سے زائد گندم یہ لوگ وہیں بیچ دیتے تھے۔ معاشرے میں ان رزق حلال کمانے والے لوگوں کو قابل احترام سمجھا جاتا تھا۔ اس زمانے میں غریبی کو جرم نہیں سمجھا جاتا تھا۔
لاؤ پر جانے کا بھی اپنا ھی مزہ ھوتا تھاھمارا گھر دریا کنارے تھا تقریبا دو کلومیٹر مغرب میں ھمارے ہاں گندم کی فصل کے علاقے کا نام تھل تھا ویاں ھم لاؤ پر جاتے تھے جس کے ساتھ ھی دنیا کی سب سے چھوٹی ریل گاڑی ماڑی سے غالبا بنوں تک چلتی تھی ھم صرف وھی دیکھنے کیلۓ ساتھ جاتے تھےجو دن میں صرف ایک گزرتی تھی
سر ہمارے ناناجان کے ڈیرہ پہ بڑی تعداد میں “”لہار”” آتے تھے۔ گھرنما بیٹھک مہینہ انھی کے لیے بک ہوتی تھی۔ جہاں وہ اپنے عارضی چولہے بناتے تھے۔ اور پھر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے چلے جاتے تھے۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔٩ مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادیں۔۔۔۔۔۔۔1994
شعبہ انگریزی گورنمنٹ کالج میانوالی۔
دائیں سے بائیں ۔۔۔۔۔ پروفیسر طاھر جہان نیازی، پروفیسر غلام سرور خان نیازی، پروفیسر ملک محمدانور میکن پرنسپل، پروفیسر ملک سلطان محمود اعوان، صدر شعبہ انگریزی اور منور علی ملک۔
دوسری صف کے درمیان میں ہمارے بہت پیارے سٹوڈنٹ فصیح السلام سی ایس پی افسر جو اب اس دنیا میں موجود نہیں۔

١٠  مئی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، جیب سے فون نکالو اور اپنی یا جس کی پکچر چاہو ایک سیکنڈ میں بنالو۔ لباس، پس منظر ، ہر چیز اپنے اصل رنگ میں سکرین پر آکر فون کی گیلری میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ بلکہ اب تو ہنستی، بولتی، ناچتی، گاتی موویز movies بھی بن رہی ہیں۔
ایک زمانہ وہ تھا جب ضلع بھر کے لوگ فوٹو بنوانے کے لییے میانوالی کے اکلوتے فوٹو گرافر ہاشمی صاحب کے سٹوڈیو میں حاضر ھوتے تھے۔ اس زمانے میں پکچرز صرف سیاہ و سفید Black and white بنتی تھیں۔ کیا جادو تھا ہاشمی صاحب کے ہاتھ میں…… بلیک اینڈ وائیٹ پکچر میں بھی جان ڈال دیتےتھے۔ پکچر فورا نہیں ملتی تھی بلکہ ایک آدھ دن بعد کی تاریخ دی جاتی تھی۔ 2×3 انچ سائز کی پکچر کی 4 کاپیاں 5 روپے میں ملتی تھیں۔
ہاشمی صاحب قیام پاکستان کے وقت بھارت سے میانوالی منتقل ہوئے۔ بہت نفیس مزاج، شائستہ اور صاحب ذوق انسان تھے۔ میانوالی کو انہوں نے کئی اچھے فوٹو گرافر دیئے۔ میاں نعیم الدین، ظفر گلفام بلوچ، ناصر خان ان کے شاگرد رشید تھے۔ تقریبا 40 سال میانوالی میں بسر کرنے کے بعد ہاشمی صاحب اپنے رشتہ داروں کے ہاں کراچی منتقل ھوگئے۔
کاش آج والی سہولتیں ہمارے بچپن میں دستیاب ہوتیں تو ہم بھی اپنے والدین اور دوسرے پیاروں کی پکچرز اور موویز دیکھ کر دل بہلا لیا کرتے ۔ طلعت محمود صاحب نے تو کہا تھا۔۔۔۔
تصویر تیری دل مرا بہلا نہ سکے گی،
طلعت کی بات اپنی جگہ درست، مگر کچھ نہ کچھ تسلی تو ہو جاتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے
گولڈن فوٹو ہاوس کے بانی عطا محمد زرگر داودخیل سے میانوالی منتقل ھوئے تھے۔ ان کا آبائی گھر داودخیل تھا۔
صویر اور ناصر خان میانوالی کی تاریخ میں لازم و ملزوم ہیں ۔
ناصر خان بہت ہی خوبصورت ، شائستہ ، محنتی انسان تھے۔
آرٹ ان کی شخصیت میں رچا بسا تھا۔
ان کی رحلت سے ایک یا دو سال پہلے ان کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ ان کا گھر باقاعدہ ایک آرٹ گیلری تھا ۔
اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائیں۔

١١ مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسافر پرندوں کی اپنے وطن کو واپسی کا عمل جاری ہے۔ یہ پرندے ہر سال روس کے علاقے سائیبیریا سے ستمبر اکتوبر میں ہمارے ہاں وارد ہوتے ہیں۔ اور مارچ اپریل میں واپس چلے جاتے ہیں ۔ ہجرت کی وجہ سائیبیریا کی قاتل سردی ھے۔ اس سے بچنے کے لیئے وہ ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ سردی کا موسم ختم ہوتے ہی اپنے وطن واپس چلے جاتے ہیں۔ اور ستمبر اکتوبر میں پھر ادھر آجاتے ہیں۔
ان پرندوں میں کونجیں ، کئی قسم کی مرغابیاں اور بٹیر شامل ہیں۔ صدیوں سے یہ آمدورفت جاری ھے۔ غیر متوقع موسمی تبدیلیوں کے باعث یہ آمدورفت پتہ نہیں کب ختم ہو جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔١٣ مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چار پانچ روز سے انٹرنیٹ سروس ڈانواں ڈول ہے۔ کل خبر تھی کہ انٹرنیٹ تو بحال ہو گیا مگر سوشل میڈیا (ٹویٹر، فیس بک ، انسٹاگرام وغیرہ) فی الحال بند رہیں گے۔
اس کا سرکار کو فائدہ ؟؟؟؟؟؟
ہمارے ہاں بدبختی یہ ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو جب اس پہ مشکل وقت آتا ھے تو کسی نہ کسی بہانے عوام کی زندگی مزید مشکل بنا دی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا تفریح، رابطے اور معلومات کا ایک آسان سا وسیلہ ھے۔ اس کا گلا گھونٹ کر کون سے مسائل حل ھو جاتے ہیں۔ ؟
درست کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال بھی بہت ہوتا ہے، مگر سب لوگ تو سوشل میڈیا انتشار اور نفرت پھیلانے کے لیئے استعمال نہیں کرتے۔ غلط استعمال روکنے کے لیئے ایک اچھی سروس مکمل طور پر بند کر دینا تو کوئی حل نہیں۔
VPN
سے کسی حد تک تو کام
چل جاتا ھے، مگر نارمل سوشل میڈیا کا یہ بھی مکمل نعم البدل نہیں ھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔١٤  مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
WELCOME BACK
آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی
شکر ہے فیس بک پر پابندی ختم ہوئی۔ کتنی محفلیں ویران پڑی تھیں۔ بہت سی باتیں ان کہی رہ گئیں۔ اب ان شآءاللہ آرام سے بیٹھ کر باتیں کریں گے، گئے زمانوں کی ، گذرے لوگوں کی ، جو خود تو اب اس دنیا میں واپس نہیں آئیں گے، مگر ہمیں جینا سکھا گئے۔ محبت، ہمدردی، خیرخواہی، تعاون کا وہ سبق ایک بار پھر دہرائیں گے جسے بھلا کر ہم نے دنیا کو جہنم بنا لیا۔
ان شآءاللہ کل سے ہمارا کارواں پھر رواں دواں ہوگا، سمت کا تعین میں کروں گا۔ آپ بس میری انگلی پکڑ کر چلتے رہیں۔ بہت مزے کا سفر ہوگا ان شآءاللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔١٦  مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
55 برس کی عمر تک میرے اکثر احباب اور سٹوڈنٹ میری عمر کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا رہے۔ ان سب کے حساب میں میری عمر دس پندرہ سال کم شمار ہوتی رہی۔ میں بتاتا بھی تو کہتے دیکھنے میں تو آپ اتنی عمر کے نہیں لگتے۔
پھر یوں ہوا کہ میرے محترم بھائی پروفیسر محمد سلیم احسن صاحب حج ادا کر کے واپس آئے تو کہنے لگے تمہارے لیئے میں نے روضہءرسول اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر صرف ایک ہی دعا کی ھے کہ یہ بندہ داڑھی رکھ لے۔
میں نے کہا اللہ کے بندے تم وہاں بھی میری شکایت لگا آئے ھو ؟؟
اب میری کیا مجال تھی کہ کلین شیو کرتا۔ داڑھی رکھ لی۔ سر کے بال تو سیاہ تھے، اب بھی ہیں، داڑھی کے سفید بالوں نے میری عمر کا راز فاش کر دیا۔
الحمدللہ یہ بھی اچھا ہوا ۔۔۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ جب کوئی سفید داڑھی والا مومن دعا کے لییے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کی دعا رد نہیں ہوتی، کیونکہ اللہ کریم کی رحمت اس کے سفید بالوں کا احترام کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔١٧  مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
آمدورفت کے تیز رفتار ہمہ وقت دستیاب ذرائع نے فاصلے سمیٹ کر رکھ دیئے ہیں۔ داودخیل سے میانوالی تک کا سفر صرف پچیس تیس منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔
ایک دور وہ تھا جب داودخیل سے میانوالی آنے جانے کا واحد ذریعہ ٹرین ہوا کرتی تھی۔ میانوالی کی عدالتوں میں تاریخ پہ حاضری دینے والے لوگ صبح 4 بجے پنڈی سے ملتان جانے والی ٹرین پہ سفر کیا کرتے تھے۔ واپسی کا سفر شام 5 بجے ملتان سے آنے والی ٹرین پہ ہوتا تھا۔ یوں عدالت میں چند منٹ کی حاضری کے لیئے پورا دن ضائع ہو جاتا تھا۔
ماڑی انڈس سے کندیاں تک ایک لوکل ٹرین بھی چلتی تھی جسے چھٹل shuttle یا ڈبے کہتے تھے۔ یہ ٹرین صبح دس بجے داودخیل پہنچتی تھی، اور ایک دوبجے کندیاں سے واپس ماڑی انڈس جاتی تھی۔ عدالتوں میں حاضری کے لییے تو یہ ٹرین موزوں نہ تھی، البتہ کاروباری طبقے کے لییے یہ بہت بڑی سہولت تھی۔
لاہور سے ماڑی انڈس بھی ایک ٹرین صبح سات آٹھ بجے آتی اور شام 5 بجے واپس جاتی تھی۔ انہی اوقات میں پنڈی سے ملتان کی ایک ٹرین بھی آتی جاتی تھی۔ لاہور اور پنڈی کی یہ ٹرینیں میانوالی آمدورفت کے لیئے موزوں نہ تھیں کہ شام کو میانوالی جا کر کسی نے کیا کرنا تھا۔
جب میانوالی ٹرانسپورٹ کمپنی نے بس سروس شروع کی تو آمدورفت کچھ آسان ہوگئی، ورنہ تو میانوالی تک کا سفر اچھا خاصا جہاد ہوا کرتا تھا۔
 
 
 
 
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے

Malik Saif Awan

بابا جانی بہت خوبصورت تحریر
پرانی یادیں تازہ ہو گئیں
ہماری زمین میں بیر کے بہت زیادہ درخت ہیں جو دادا جان نے شوق سے لگائے ہوئے ہیں ان کے بقول (درخت زمین کا زیور ہوتے ہیں) بیر کے ہمیں بہت زیادہ فائدے ہیں بکریوں کیلئے بیر کی ٹہنیاں (لانگی)کاٹتے ہیں جو خشک ہونے کے بعد آگ جلانے کے کام آتی ہیں اس کے علاوہ چارپائیوں کیلئے لکڑی چھتوں کیلئے بالے (ورگے)اپنی بیریوں کے ہیں کری کے درخت بھی کافی تعداد میں ہیں ڈیلہے اچار کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں اور میری نانی اماں ڈیلہے چھت پہ رکھ کر خشک کر لیتی ہیں خشک ڈیہلوں کا سالن بہت مزے کا بنتا ہے بزرگوں کی باتیں بھی کمال کی ہوتی ہیں میں سکول کے زمانے سائیکل پہ سکول جایا کرتا تھا راستے میں صبح صبح روزانہ ایک بابا جی ملتے تھے جو اپنی زمین دیکھنے آتے تھے ایک دن میں نے پوچھا تو کہنے لگے بیٹا زمین سے میرا تعلق بہت گہرا ہے میں زمین کو دیکھ کر خوش ہو جاتا ہوں وہ مجھے دیکھ کر خوش ہو جاتی ہے کہ میرا مالک مجھے دیکھنے آتا ہے اتنا خیال رکھتا ہے

Muhammad Nawaz Malik

ہمارے شہر عیسیٰ خیل اور خاص کر ہمارے محلے میں پیلو اور ڈیہلے ہوتے تھے اور ہم کھاتے بھی تھے
پیلو زیادہ کھانے سے زبان پھٹ جاتی تھی

البتہ اب ہمارے علاقے میں پیلو اور ڈیہلے ناپید ہو چکے ہیں

  • Ahmad Nawaz Niazi

    جال کا درخت اکثر قدیم مزاروں کے آس پاس اگا دیکھا و پایا گیا ہے۔ جس طرح گوتم بدھ نے پیپل کے نیچے زندگی گزاری بعینہ ممکن ہے کری و جال کے درختوں کے نیچے اللہ تعالی کے ولیوں نے دور افتادہ جگہوں کو عبادت کے لیے چنا ہو۔ حدیث رسول رحمت ہے کہ جال کا مسواک پانچ نمازوں کے ساتھ کیا کریں اور مسواک میں ستر 70 بیماریوں کا علاج ہے واللہ عالم بالصواب!

    Aslam Niaz

    پیلو کھانے کے بعد کیا تغیر ہوتا تھا وہ تو کسی نے لکھا نہیں۔۔پیلو کھا کے کسی محفل مین پہنچتے ہی سب کو پتہ چل جاتا کہ پیلو کھا کے ایا ہے روایت ہے کہ نواب کالاباغ کی محفل تھی نواب صاحب نے پوچھا جابہ سے کون أیا ہے ایک أدمی نے اٹھ کے کہا جی مین۔نواب صاحب نے کہا ہان اطلاع پہنچ گئ ہے

    • Bahadur Janjua

      خوب است استاد مکرم ۔ بازار کا پھل نہ تو کل غریب کی دسترس میں تھا نہ آج ہے ۔ ہم خودرو پودوں کی طرح اگے غریب لوگوں کو اپنی ہی طرح کے اگےخودرو پھل ہی نصیب ہوتے تھے کچھ اسکے علاوہ کسی کو نصیب ہوتا بھی تو اسے جسے کوئی حکیم شکیم تجویز کرتا ۔ وہ بھی مقدر مارے کو یوں ملتا کہ سیب کھاتے وقت ساتھ کھڑے بچے ایسی بھوکی نظروں سے اسے دیکھتے کہ حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر اسے تقسیم کئے بنا کوئی چارہ نہ رہتا ۔
      استاد مکرم ! آپ نے جن خودرو مقامی پھلوں کا ذکر کیا ان میں سے دیلہا ایک بہت ہی شاندار پھل تھا ۔ اس کچے پھل کا اچار ذائقہ میں لاجواب ہوا کرتا تھا۔ کم پانی کی ضرورت کے پیش نظر بارانی علاقوں میں کری ایک انتہائی لمبی عمر کے مقامی درختوں میں سے ایک ہے ۔ واں بھچراں کے قریب بنڈل کری کے نام سے موسوم ایک بہت بڑا دیو ہیکل کری ہے جس پر جنات کا ڈیرہ مشہور ہونے کیوجہ سے یہ انسانی دسترس سے باہر ہوکر ابھی تک موجود ہے ۔ اسکی بابت مشہور ہے کہ جب مشہور افغان ڈاکو محمود غزنوی لوٹ مار کا قصد لیکر ادھر سے گزرا تو اس نے اس کے نیچے قیام کیا تھا-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔١٨  مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1950 میں میانوالی ٹرانسپورٹ کمپنی کی 4 بسوں نے میانوالی سے عیسی خیل سڑک پر آمدورفت کا آغاز کیا۔ اس سے پہلے عیسی خیل آمدورفت کا واحد ذریعہ ٹرین ہوا کرتی تھی وہ بھی ماڑی انڈس سٹیشن سے ملتی تھی۔ میانوالی سے عیسی خیل جانے کے لیئے ماڑی انڈس تک صبح لاہور ٹرین سے جانا پڑتا تھا پھر ماڑی انڈس سے عیسی خیل کی ٹرین پکڑنی پڑتی تھی ۔ خاصی خجل خواری ہوتی تھی۔
میانوالی ٹرانسپورٹ کی 4 بسوں میں سے 2 نواب کالاباغ کی ملکیت تھیں، 2 عیسی خیل کے رئیس خداداد خان کی ۔
پٹرول سے چلنے والی امریکی ساخت کی یہ شیورلیٹ اور فورڈ گاڑیاں نیلامی میں خریدی ہوئی فوجی گاڑیاں تھیں جن پہ بس کی باڈی لگا کر بس کی شکل دی گئی تھی۔ ڈرائیور بھی زیادہ تر ریٹائرڈ فوجی ڈرائیور تھے۔ ان پرانی بسوں کو لوہے کے ہینڈل سے سٹارٹ کیا جاتا تھا۔ ہینڈل گھمانا خاصا مشقت طلب کام تھا۔ یہ خدمت بس کا کلینر / کنڈکٹر سرانجام دیتا تھا۔ بعض اوقات ہینڈل سے کام نہ چلتا تو سواریوں سے بس کو دھکا لگوا کر سٹارٹ کیا جاتا تھا۔ اس موقع پر سواریوں اور ڈرائیور کے ڈائیلاگ خاصے دلچسپ ہوتے تھے۔
بس پچیس تیس کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جھومتی جھامتی شور مچاتی دو تین گھنٹے میں عیسی خیل پہنچ جاتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔١٩  مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم وطنی بہت اہم رشتہ ہے۔ اس کا احساس وطن سے باہر جا کر ہوتا ہے۔ ہم وطنی کا دائرہ اپنے شہر سے باہر شروع ہوتا ہے اور انسان اپنے وطن سے جتنا دور چلاجائے یہ دائرہ وہاں تک پھیل جاتا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان کے کسی بھی علاقے کے رہنے والے کو ہم وطن سمجھتے ہیں اور اس رشتے کی بہت قدر کرتے ہیں۔ وہاں پنجابی ، سندھی، پشتون ، بلوچ وغیرہ کا فرق باقی نہیں رہتا۔ پاکستانی خواہ کسی بھی علاقے کا ہو ہم وطن سمجھا جاتا ھے۔ یہاں سے جو لوگ کسب معاش کے لییے بیرون ملک جائیں وہاں رہنے والے پاکستانی ان سے بھائیوں کی طرح پیار اور تعاون کرتے ہیں۔ یوں تعلقات کے دائرے وسیع ہوتے رہتے ہیں۔ ان تعلقات سے بہت سے مسائل حل ھو جاتے ہیں۔ زندگی قدرے آسان ہو جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔٢٠ مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
 
زیادہ عرصہ نہیں گذرا ایک دور وہ بھی تھا جب اندرون شہر آمدورفت کے لیئے پبلک ٹرانسپورٹ تانگہ اور پرائیویٹ سواری سائیکل ہوا کرتی تھی۔ ریلوے سٹیشن اور لاری اڈہ پر تانگہ سٹینڈ سے تانگے ہر وقت دستیاب ہوتے تھے۔ شہر کے کسی بھی حصے تک تانگےکا کرایہ 4 آنے (1/4 روپیہ) فی سواری ہوتا تھا۔ تانگے میں 4 سواریوں کی گنجائش ہوتی تھی مگر کوچوان اوکھی سوکھی 6 سواریاں بھی بٹھا لیتے تھے۔ صاحب حیثیت لوگ ڈیڑھ روپے میں سالم تانگہ کرائے پر لے لیتے تھے۔ صبح سے رات گئے تک تانگوں کی ٹپ ٹپ کی آواز شہر کی سڑکوں پر گونجتی رہتی تھی۔
پھر وقت نے کروٹ بدلی اور تانگوں کی جگہ رکشا اور چنگچی نے لے لی۔ اب تو دورافتادہ دیہات میں کہیں ایک آدھ پھٹا پرانا تانگہ دکھائی دیتا ھے۔ وہ زمانہ گیا جب سڑکوں پر تانگوں کا راج ہوتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔٢١  مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
 
 
 
 
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
22 مئی 1965 کا طوفان جس نے بھی دیکھا ہو کبھی نہیں بھول سکتا۔ 10 گھنٹے کی موسلادھار بارش صبح 7 بجے سے شام 5 بجے تک کسی وقفے کے بغیر برستی رہی۔ داودخیل کے پہاڑی نالوں کا پانی نہر کے اوپر سے گذر کر کچے کے علاقے میں میلوں دور تک نکل گیا۔ ایک دو جگہ سے نہر کا بند بھی ٹوٹ گیا۔ داودخیل سے میانوالی تک 22 میل کے علاقے میں حد نظر تک پانی ہی پانی دکھائی دیتا تھا۔ سڑک کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا تھا۔ کٹی ہوئی گندم کی گڈیاں کھلواڑوں سے پانی میں بہہ کر دور دور تک پھیل گئیں ۔ مال و متاع کا نقصان بہت زیادہ ھوا، شکر ہے جانی نقصان ہمارے علاقے میں نہیں ہوا۔
کئی جگہ سیلاب کی زد میں آکر ریلوے لائین کے نیچےسے مٹی نکل کر بہہ گئی۔
ہم اس طوفان کے دوران ٹھٹھی شہر میں پناہ گزین رہے۔ طوفان رکا تو داودخیل واپسی کا ارادہ کیا۔ چار پانچ فٹ پانی میں دو تین میل چلنا تو ممکن نہ تھا۔ واپسی کا اکلوتا ذریعہ ٹرین تھی۔ ٹرین پہ سوار ہوگئے۔ ریلوے کے مزدوروں کی گینگ ریلوے لائین کی مرمت کے لیئے ٹرین کے ہمراہ تھی۔ تین چارجگہ ٹرین روک کر مرمت کا کام کیا گیا۔ یوں ٹرین نے تین چار میل کا فاصلہ 5 گھنٹے میں طے کیا، اور ہم رات 10 بجے داودخیل پہنچ گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رہے نام اللہ کا۔٢٢  مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
 
1950۔۔۔1960 کے دوران صنعتی ترقیاتی کارپوریشن PIDC نے داودخیل میں کھاد، رنگسازی، سیمنٹ اور پنسلین کے چار کارخانے قائم کیئے۔ ان کارخانوں کے ملازمین کی رہائشی کالونی کو اس وقت کے صدر پاکستان سکندر مرزا کے نام سے منسوب کیا گیا۔ یوں سکندرآباد داودخیل کا جڑواں شہر بن گیا۔ کارخانوں میں ملازمت کے سلسلے میں ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ آکر یہاں رہنے لگے۔
رنگسازی کا کارخانہ پاک ڈائیز اینڈ کیمیکلز چند سال سے زیادہ نہ چل سکا۔ باقی تین کارخانے رواں دواں رہے۔ امونیم سلفیٹ کھاد کے کارخانے کو یوریا کھاد کا کارخانہ بنا دیا گیا، کیونکہ یوریا کھاد کی مانگ زیادہ تھی۔ میپل لیف سیمنٹ فیکٹری بہت کامیاب ثابت ہوئی ۔ اب اس کے چار پانچ پلانٹ کام کر رہے ہیں۔
پنسلین فیکٹری حکومت نے نجکاری پروگرام کے تحت ایک بڑے صنعت کار کے ہاتھ فروخت کردی۔ مارکیٹ میں پنسلین کی مانگ بہت کم تھی اس لیئے کاروبار میں خسارہ ہوتے دیکھ کر صنعت کار نے پنسلین فیکٹری کی عمارت گرا کر عمارت کا ملبہ بیچ دیا اور فیکٹری سے ملحقہ سینکڑوں کنال زمین بھی رہائشی پلاٹس کی شکل میں فروخت کر دی۔ فیکٹری کی خوبصورت عالیشان عمارات کی جگہ چٹیل میدان دیکھ کر دل بہت دکھتا ھے۔ وہ دوست یاد آتے ہیں جو یہاں ملازم تھے۔ ان میں سے اکثر اب اس دنیا میں موجود نہیں۔ کیا رونقیں ہوتی تھیں یہاں۔ اب تو کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ پنسلین فیکٹری داودخیل کی سب سے خوبصورت، صاف سٰتھری فیکٹری تھی۔ اب اس کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا۔ صرف یادیں رہ گئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔23 مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیکٹریز کے قیام سے قومی سطح پر داودخیل کو شہرت اور اہمیت نصیب ہوئی۔ اس سے پہلے تو داودخیل کا تعارف صرف اپنے ضلع تک محدود رہا۔
4 فیکٹریز کے قیام سے داودخیل کی معیشت اور معاشرت پر بہت خوشگوار اثرات مرتب ہوئے۔ ملک بھر سے لوگ آکر ان فیکٹریز میں کام کرنے لگے۔ مقامی لوگوں کو بھی ان کی اہلیت کے مطابق فیکٹریز میں ملازمت ملنے لگی۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس کا کوئی فرد ان فیکٹریز میں ملازمت سے محروم رہا۔ لوگوں کی معاشی حالت بہت بہتر ہوگئی۔ کچے گھروں کی جگہ پکے عالیشان گھر بن گئے۔ لوگوں کا معیار زندگی خاصا بلند ہو گیا۔ شہری علاقوں سے آئے ہوئے فیکٹری ورکرز سے داودخیل کے لوگوں نے بہت کچھ سیکھا۔ بول چال میں شائستگی، لباس میں تہذیب ، معاشرت میں ہمدردی اور تعاون جیسی اچھی روایات قائم ہوئیں۔
ترقی کے فوائد اپنی جگہ ، مگر کچھ نقصانات بھی دیکھنے میں آرہے ہیں، کارخانوں کے دھوئیں سے فضا میں آلودگی کا زہر تیزی سے پھیل رہا ہے جس سے لوگ قسم قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ آلودگی کو کم یا ختم کرنے کے طریقے تو بہت ہیں، ان پر عمل کا اہتمام کرنا حکومت کے فرائض میں شامل ھے۔ ابھی تک تو کسی حکومت نے ادھر توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی، آگے دیکھئیے کیا ہوتا ھے۔ ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔٢٤  مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب تعلیم عام نہ تھی، دیہات میں اکثر لوگ چٹے ان پڑھ ہوتے تھے، اس زمانے میں تو قتل و غارت اتنی عام نہ تھی جتنی آج کل علم اور ترقی کے دور میں ہو گئی ہے۔ شاعر نے ٹھیک ہی کہا تھا۔۔۔۔۔
اس ہوش سے اچھی تھی ظالم تری بے ہوشی
ہمارے بچپن میں داودخیل میں صرف ایک قتل ہوا تھا۔ انزلے خیل قبیلہ کے ایک نوجوان کو بہرام خٰیل قبیلہ کے ایک شخص نے برچھا مار کر قتل کر دیا تھا۔ دس پندرہ سال میں قتل کی یہی ایک واردات ہوئی تھی۔
اب تو حال یہ ہے کہ کوئی دن خالی نہیں جاتا۔ اس سال کے پہلے 5 مہینوں میں ضلع میانوالی میں 70/80 قتل ہو چکے ہیں۔
اس غارت گری کی بہت سی وجوہات ہیں، مگر سب سے عام اور اہم وجہ اسلحے کی دستیابی ہے۔ قتل اور ڈاکے کی زیادہ تر وارداتوں میں پستول استعمال ہوتا ہے۔ اگر کسی طرح پستول پر پابندی لگا دی جائے تو قتل کی وارداتوں میں 50 ، 60 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ لیکن پابندی لگائے کون اور کیسے ؟ بہر حال اگر مناسب قانون سازی کر کے اس پر سختی سے عمل کروایا جائے تو یہ کام ناممکن بھی نہیں۔
نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت میں بھی قتل و غارت سے پرہیز پر زور دیا جائے۔ علماء کرام بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اب وقت ہے کہ بے دریغ قتل و غارت کا سد باب کرنے کے لیئے تمام وسائل استعمال کیئے جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔25مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سادہ بیماریاں ، سادہ علاج۔۔۔۔۔۔ کینسر، ہارٹ اٹیک، ہیپاٹائٹس وغیرہ کا کسی نے نام بھی نہ سنا تھا۔ مہلک بیماری صرف ٹی بی ہوا کرتی تھی، وہ بھی بہت کم لوگوں کو۔ اور ابتدائی مراحل میں اس کا علاج بھی ممکن تھا۔
عام بیماریاں ملیریا اور ٹائیفائڈ تھیں۔ ان بیماریوں سے کسی کو مرتے نہ دیکھا۔ ملیریا کا علاج پانی کے رنگ کا کونین مکسچر، اسپرین پاوڈر کی پڑیاں اور لال اور سبز رنگ کی وٹامن کی گولیاں ھوا کرتی تھیں۔ یہ دوائیں سرکاری ہسپتال سے مفت ملتی تھیں۔ ٹائیفائڈ کے لیئے دودھ کے رنگ کا شربت اور اسپرین پاوڈر کی پڑیاں ہوتی تھیں۔ اس بیماری کے علاج کے دوران کھانے پینے کی بہت سی چیزوں سے پرہیز بھی بتایا کرتے تھے۔
ہاضمے کی تمام بیماریوں کا علاج لال رنگ کا خوش ذائقہ شربت Carminative mixture ہوتا تھا۔
یہ دوائیں برطانوی نسخہ British Pharmacoepia کے مطابق بنتی تھیں۔ میڈیکل سٹور تو دیہات میں ہوتے ہی نہیں تھے۔ دوائیں ہسپتال ہی میں بنتی اور مفت تقسیم ہوتی تھیں۔ دوائیں بنانے والا ہسپتال کا ملازم کمپوٹر(کمپاؤنڈر) کہلاتا تھا۔
کوئی بیماری دوچار دن سے زیادہ نہیں چلتی تھی۔ خالص غذا ، محنت مشقت کی وجہ سے لوگوں کے جسم میں بیماریوں کے خلاف مزاحمت کی قوت اور مناسب دوا مل کر بیماری سے جلد نجات دلا دیتی تھیں۔
اب تو اللہ معاف کرے ٹیسٹ اور علاج ختم ہونے میں ہی نہیں آتے، بہت سے لوگ مہنگے اور طویل علاج کے باوجود مر جاتے ہیں۔
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے
  • Awais Kazmi

    سر وہ ہاضمے والا لال مکسچر carminative mixture کہلاتا ہے جوکہ میٹھے سوڈے سے بنتا ہے اس لئے اپنی alkaline کوالٹی کی وجہ سے معدے کی تیزابیت فوری زائل کر کے ہاضمہ درست کر دیتا ہے،
    آج سے دو تین سو سال پہلے جب میڈیکل سائنس اپنے ابتدائی مراحل میں تھی تو مختلف کیمیکلز کو ملا کر سفوف بنائے جاتے تھے ۔ اینٹی بائیوٹک بھی پنسلین سے اوپر نہیں تھے اور ایلوپیتھک کی زیادہ دوائیں گندھک کے مرکبات سے بنتی تھیں ۔ اُس وقت زیادہ بیمار ہونے پر موت یقینی تھی ، سرجری اور جدید اینٹی بائیوٹک نہ تھی اس لئے شرح اموات بہت زیادہ تھیں ۔ پہلے لوگوں کی کئی کئی بیویاں اور درجنوں بچے بھی اس ہی وجہ سے ہوتے تھے کہ زیادہ خواتین زچگی کے دوران موت کا شکار ہو جاتی تھیں یا پھر بچے بچپن میں ہی اللہ کو پیارے ہو جاتے تھے ۔
    میڈیکل سائنس کی ترقی نے دنیا سے شرح اموات کم کر دیں ، پیچیدہ بیماریاں بھی اب آرام سے کنٹرول ہو جاتی ہیں ، مثلا میری نانی جان کا انتقال اُس وقت ہوا جب میری والدہ مرحومہ دو تین سال کی تھیں ، وجہ ہرنیا۔ اب ہرنیا کا آپریشن آپکے داؤدخیل میں موجود ہسپتال میں بھی دو گھنٹے میں ہو جاتا ہوگا مگر اُس وقت اس کا کوئی علاج ہی نہیں تھا ۔
    اب فارماسوٹیکل انڈسٹری آگئی جس میں US Pharmacopoeia کے تحت دوائیاں بنائی جاتی ہیں ۔البتہ پاکستان میں باوجود ہمارے دین کی واضح ہدایات کے کہ صفائی نصف ایمان ہے، گندگی ، پینے کا غیر صاف پانی ، اوپن ٹوائلٹ عام ہیں ، اس کی وجہ سے بیماریاں بہت زیادہ ہیں اور ان بیماریوں کی وجہ سے اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے جس سے جراثیم میں مدافعت پیدا ہو گئی اور اب اکثر جراثیم پر عام اینٹی بائیوٹک اثر نہیں کرتے ۔
    آسٹریلیا میں کیونکہ صفائی بہت زیادہ ہے ، پانی کے گندے پانی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہوٹلوں وغیرہ پر فوڈ ہینڈلنگ کی ڈگری لئے بغیر کوئی کھانے کا کاروبار نہیں کر سکتا۔ فوڈ ڈیپارٹمنٹ گندگی پر فوری ایکشن لے کر ہوٹل سیل کر دیتا ہے ۔ پاکستان میں عام لوگوں کا پیٹ ہر دس بارہ دن بعد خراب ہوتا رہتا ہے ، لیکن پچھلے دس سال میں مجھے آسٹریلیا میں کبھی پیٹ خراب ہونے کی کوئی بیماری نہیں ہوئی حالانکہ ہم یہاں پاکستان کی نسبت بازار سے زیادہ چیزیں خرید کر کھاتے رہتے ہیں ۔
    جہاں تک شوگر ، بلڈ پریشر وغیرہ جیسی بیماریوں کا تعلق ہے اُس کی وجہ sedentary lifestyle ہے جو کہ وقت کے ساتھ بڑھ رہا ہے ۔ پرانے وقتوں میں ہر انسان کو نہ چاہتے ہوئے بھی دو چار میل پیدل چلنا پڑتا تھا ، لیکن اب دہی لینے بھی موٹر سائیکل پر جاتے ہیں ۔ میں پچھلی بار جب پاکستان آیا تھا تو ٹائیفائڈ کی ویکسین لگوا کر آیا تھا ۔ آسٹریلیا میں ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کئے تو پتہ چلا کہ میرے خون میں H. Pylori نامی جراثیم کا toxin موجود ہے ، یہ جراثیم معدے میں السر کا باعث ہوتا ہے اور یہ نتیجہ ہے پاکستان کے contaminated پانی اور خوراک کا۔
    آنے والے دور میں ایسی شوگر بلڈپریشر یا کولیسٹرول ، کینسر وغیرہ جو آج اموات کی بہت بڑی وجہ ہیں ان کے لئے genetic medicine کی کوشش ہو رہی ہے ، شاید مستقبل میں کینسر ایک انجکشن سے ٹھیک ہوجائے جہاں دوائی سے ڈی این اے کی وہ پروٹین کوڈ ٹھیک کر دیا جائے جو آگے چل کر کینسر کا باعث بنے گا۔ تاہم ابھی یہ ایجادات بہت دُور کی بات ہیں—26  مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزادی کی قدر۔۔۔۔۔
اقبال قریشی صاحب آل پاکستان بوائے سکاوٹس ایسوسی ایشن کے اعلی عہدیدار تھے۔ ایک دفعہ ہماری کلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا قیام پاکستان کے وقت ہم لندن میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ قائد اعظم نے حکم جاری کیا کہ دنیا بھر میں پاکستانی سٹوڈنٹ اپنی رہائش گاہوں پر پاکستانی پرچم لہرائیں۔پرچم کا سائیز اور ڈیزائن بھی بتا دیا گیا۔ ہم نے پرچم بنوانے کے لیئے محلے کی ایک بزرگ انگریز خاتون سے رابطہ کیا جو درزی کا کام کرتی تھیں۔ پرچم بنانے کا معاوضہ 5 پاونڈ طے ہوا جو ہم نے ایڈوانس ادا کر دیا۔
مقررہ وقت پر ہم پرچم لینے کے لیئے گئے تو ان خاتون نے پرچم ہمارے حوالے کرتے ہوئے کہا کیا یہ آپ کا قومی پرچم ہے؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ خاتون نے کہا کیا آپ یہ پرچم پہلی بار لہرانے جا رہے ہیں۔ ؟ ہم نے بتایا کہ ہم یہ پرچم پہلی بار لہرائیں گے۔
یہ سن کر خاتون نے پرچم کی قیمت واپس دے دی اور کہا:
Then take it as a gift from me.
( پھر یہ پرچم میری طرف سے گفٹ سمجھ کر قبول کر لیں)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔27 مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
28 مئی ۔۔۔۔۔۔۔ یوم تکبیر
الحمدللہ ، 1998 میں آج کے دن دنیا کو پتہ چل گیا تھا کہ پاکستان کو چھیڑنا بہت مہنگا پڑ سکتا ھے۔ دشمنوں کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے۔
ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے
ڈاکٹر عبدالقدیر خان-٢٨ مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعر نے کہا تھا۔۔۔۔
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
وہی ہو رہا ہے۔ جدید تہذیب نے ہمیں جو سہولتیں فراہم کی ہیں ہم ان کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرکے اپنے ذہنی ، جسمانی، سماجی اور معاشی مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں۔ چار قدم پیدل چلنے کی بجائے گلی کے موڑ پر واقع دکان تک بھی موٹرسائیکل پہ جاتے ہیں۔ یوں پیدل چلنے کے فوائد سے محروم ہو کر صحت کا ستیاناس کر رہے ہیں۔
موبائیل فون بہت کارآمد چیز ھے، مگر اس کا بے تحاشا استعمال ہرگز مناسب نہیں۔ ہمارے ہاں یہ حال ہے کہ گھر کا ہر فرد اپنے اپنے فون سے چمٹا رہتا ہے۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے گھر کے افراد آپس میں بات چیت کرنے کی بجائے اپنے اپنے فون پر مصروف رہتے ہیں ۔ بیمار دوستوں اور رشتہ داروں کی عیادت کے لیئے جانے کی بجائے فون پر ہی حال پوچھا جاتا ھے، وہ بھی بات کرنے کی بجائے میسیج کے ذریعے۔
سکولوں کالجوں کے سٹوڈنٹ ٹیچر کا لیکچر سننے کی بجائے فون گود میں رکھ کر چیٹنگ میں مصروف رہتے ہیں۔
کہتے ہیں ایک نوجوان رات کے پچھلے پہر گا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
کبوتر جا، جا، جا
اس کی ماں نے کہا کیوں پتر تیری او ماء فون نئیں اٹھا رہی ؟ فیر بندے دا پتر بن کے سو جا۔
اللہ معاف کرے ہم جدید تہذیب سے فائدے کی بجائے نقصان ہی اٹھا رہے ہیں۔ خودکشی والی بات ٹھیک ہی لگتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔٢٩ مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرمی کے چند مہینے داودخیل ، اور نہر کے کنارے واقع دوسرے شہروں کے نوجوان اور بچے دوپہر سے شام تک نہر میں نہاتے رہتے تھے۔ صرف نہاتے ہی نہیں نہر میں الٹی سیدھی چھلانگیں اور کئی دوسرے کرتب بھی کرتے رہتے تھے۔ نہر کے یخ بستہ پانی میں کچھ دیر رہنے کے بعد سردی سے دانت بجنے لگتے تو کنارے پر گرم ریت میں لت پت ہو کر جسم کو گرم کرنے کے بعد پھر نہر میں چھلانگ لگا دیتے تھے۔
نہر پر یہ رونق اب بھی لگتی ہوگی۔
نہر میں تیرتے ہوئے تھک کر کئی جوان ڈوب بھی جاتے تھے۔ اس لیئے بزرگ اس نہر کو خونی نہر کہتے تھے کیونکہ یہ ہر سال دو چار بندوں کی جان کا نذرانہ زبردستی لے لیتی تھی۔
بچپن میں ہم بھی بزرگوں کے سختی سے منع کرنے کے باوجود چوری چھپے نہر پہ جا پہنچتے تھے۔ ہم جیسے کم عمر بچے بڑی نہر سے تو ڈرتے تھے، اس نہر کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی نہر بھی تھی جسے راج واھیا (راجباہ) کہتے تھے۔ اس میں پانی کی گہرائی چار پانچ فٹ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی ، مطلب ، ڈوبنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ ہم لوگ اسی چھوٹی نہر میں نہا کر شوق پورا کر لیتے تھے۔
کئی دفعہ پکڑے بھی گئے چچا ملک محمد صفدر علی سے مار بھی کھائی مگر اس عیاشی سے پھر بھی باز نہ آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔30 مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیہاتی کلچر میں کنوئیں کا ایک اپنا مقام تھا۔ زمین کی سیرابی کے علاوہ پینے کا پانی بھی کنوئیں سے حاصل ہوتا تھا۔ خواتین پانی کے گھڑے کنوئیں سے بھر کر لاتی تھیں۔ تازہ سبزیاں بھی کنوئیں پر ملتی تھیں۔ گرمی کے موسم میں کنواں پبلک باتھ public bath کا کام بھی دیتا تھا۔ بچے اور بزرگ نہر پہ نہانے کی بجائے کنوئیں کے پانی سے دن میں دوچار بار نہا لیتے تھے۔
داودخیل میں ہمارے محلے میں بہت سے کنوئیں تھے۔ سب سے مشہور اور بارونق کنواں شکور خیلوں کا تھا۔ یہ کنواں چار بھائیوں کی مشترکہ ملکیت تھا۔ ہمارے گھر کے شمال مشرق میں دادی ذرو (خانے خیل) کا کنواں، مشرق میں خوج محمد خان المعروف خوجہ بھرا کا کنواں، جنوب میں ربزئیوں کا کنواں، یہ کنواں چاچا نورباز خان اربزئی کی ملکیت تھا، اس کے جنوب میں گنیش رام ہندو کا کنواں جو گھنڑیاں والا کھوہ کے نام سے مشہورتھا۔ ہمارے گھر کے جنوب مغرب میں شکور خیلوں والے کھوہ کے علاوہ چاچا ھدایت خان نمبردار کا کھوہ اور شمال مغرب میں یاسین خان لمے خیل کا کھوہ ہوا کرتا تھا۔ اب ان میں سے کوئی بھی کنواں آباد نہیں رہا۔ شکور خیلوں والے کنوئیں کی جگہ ٹیوب ویل لگ گیا۔ باقی کنوئیں ویران پڑے ہیں۔ ویرانی کی وجہ یہ ہے کہ زیرزمین پانی کڑوا ہوگیا۔
کیا رونقیں ہوا کرتی تھیں ان کنووں پر، اب وہ سب کچھ ختم۔ بس کچھ حسین یادیں باقی رہ گئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔31 مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الحمد للہ الکریم۔۔
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے۔
مدینہ منورہ سے میرے مہربان دوست ڈاکٹر ابوبکر صدیق صاحب کا پیغام۔۔۔۔
آج میں نے نماز فجر کے بعد بارگاہ سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم میں آپ کی طرف سے درود و سلام پیش کردیا، اور معافی کی درخواست بھی کر دی۔
جزاک اللہ الکریم ڈاکٹر صاحب آپ کا یہ احسان میرا سرمایہء حیات ھے۔

31 مئی 2023 –منورعلی ملک۔۔۔

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top