ABBA THEEK AH DA HIGH – OYE IKKA THEEK AH DA HIGH

 

ابا ٹھیک آہدا ہائی،  اوئے اکا ٹھیک آہدا ہائی

تحریر: محمد قمر الحسن بھروں زادہ

 

کل سوشل میڈیا پہ امجد نواز کارلو کی آواز میں ایک گانا سننے کا اتفاق ہوا جسکے ابتدائی بول کچھ یوں تھے۔

روندے ودے آں ڈے ڈے دہائی

ساڈے پلے کوئی شئے نہ رئی

کیڑھے شناء ، کیڑھی شنائی

ابا ٹھیک آہدا ہائی

اوئے اکا ٹھیک آہدا ہائی

سوشل میڈیا پہ اس گانے کو بہت مزاحیہ انداز میں لیا جا رہا ہے۔اس گانے کی شاعری کس درجے کی ہے یہ تو شاعر اور سرائیکی ادب پہ مکمل دسترس رکھنے والی ہستیاں بتا سکتی ہیں لیکن مجھے اس کے بول حقیقت پسندانہ معلوم ہوئے کہ بجائے اکثر گانوں کے جن میں شاعر صرف احساس محرومی کو فروغ دیتا ہے یہاں گا کر ہی سہی لیکن بتایا تو جا رہا ہے کہ کیسے ہماری نوجوان نسل نام نہاد دوستیوں کے پیچھے اپنا قیمتی وقت غارت کر دیتی ہے۔

دوستی بہت عظیم رشتہ ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر کسی بھی شخص سے نیک نیتی اور دیانتداری پہ مشتمل تعلق اللہ کی رضا کی خاطر رکھا جائے تو وہ تعلق اللہ تعالی کی خصوصی رحمت و اجر کا وسیلہ بن جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے کی اضافی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کے اکثر نوجوانوں میں پری چہروں کے ساتھ ساتھ گل چہروں پہ فدا ہو جانے کا بھی رحجان ہے۔پھر محبت کے اس رشتے میں رقابت ، حسد اور ملکیت جیسے جذبات بھی جنم لے لیتے ہیں۔پھر اس محبت میں اس شخص کو جس سے محبت ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے سماجی معاملات اور تعلقات منقطع کر نے پہ بھی مجبور کر دیا جاتا ہے۔اسطرح اس شخص کا خوبصورت اور پر کشش ہونا بھی اسکا جرم بن جاتا ہے اور بنا کسی قصور کے اسکو معاشرے میں قیدی بنا کر اس پہ جینا تنگ کر دیا جاتا ہے ۔پھر اس کے رد عمل کے طور پہ آپ کو اپنا قیمتی وقت اور وسائل جس پہ آپ کا، آپ کے والدین کا، آپ کے بہن بھائیوں اور دوستوں کا حق ہوتا ہےوہ اس دوست پہ لٹانا پڑتا ہے کیونکہ آپ نے اس کے سیاہ و سفید کے وارث بننے کا تہیہ کررکھا ہوتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ ایک انسان زبردستی کسی دوسرے انسان کی روح پہ قابض نہیں ہو سکتا اسلئے اس دوست پہ اپنا وقت، پیسہ اور محبت لٹا کر بھی اس کو کنٹرول کرنے اور دوسرے لوگوں سے میل جول سے باز رکھنے کے تمام حربے ناکام ہو جاتے ہیں تو قدرے سلجھے ہوئے لوگ رونے دھونے، نشہ اور احساس محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ الجھے ہوئے لوگ اسی محبت کی جھینا جپٹھی میں سے اکثر دنگا فساد اور حتی کہ قتل و غارت پہ اتر آتے ہیں۔ لیکن تمام تر صورتحال کا نتیجہ فریقین کی پشیمانی اور پچھتاوے اور ابا ٹھیک آہدا ہائی اوئے اکا ٹھیک آہدا ہائی  کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔

ہمارے معاشرے کا دوسرا المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے لائق ، پڑھنے والے سلجھے ہوئے گھرانے کے اکثر بچوں کی تربیت میں خود غرضی کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے جبکہ نہ پڑھنے والے اکثر نوجوان سکول و کالج میں قدرے زیادہ ملنسار اور ایثار کے جذبات کے حامل ہوتے ہیں اسلئے دوستی و گپ شپ کے متلاشی نوجوانوں کا ٹھکانہ یہی لوگ ہی ہوتے ہیں۔ جو وقت کی نزاکت کو سمجھ نہیں پاتے اور عملی طور پہ کچھ کرنے اور بننے کے وقت کو ان دوستیوں پہ صرف کر دیتے ہیں جنکا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔

پندرہ سال سے پچیس سال کی عمر کا حصہ جو شخصیت و مستقبل کی عمارت تعمیر کرنے کا موزوں وقت ہوتا ہے ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ہمارے بزرگوں اور بڑوں کا یہ خیال اور تجربہ ہے کہ نام نہاد دوستیوں میں خوار ہونے کی شرح پندرہ سال سے پچیس سال کی عمر میں پچاس فیصد ہے جو شادی اور گھر کے معاملات سنبھالنے کے بعد گھٹ کر نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے تو جب گل چہروں پہ مر مٹنے کا، وقتی دوستیوں کے بھرم نبھانے ، ایک دوسرے کی خاطر لڑنے جھگڑنے، مار کھانے کا جادو اور خمار سر سے خود ہی اتر جاتا ہے اور وقت کا استاد خود ہی اپنے شاگرد سے حقیقت منوا لیتا ہے تو ہمیں تردد کرنے کی کیا ضرورت ہے لیکن ہماری یہ خاموشی ہمارے معاشرے کو ادھ موا کر دیتی ہے۔اس دوران ہماری نوجوان نسل اپنا قیمتی وقت برباد کر چکی ہوتی ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ معاشرے میں پنپنے والے اس رحجان کو ہم نے حقیقت تسلیم کر لیا ہے اور ہم ساری صورتحال سے واقف ہونے کے باوجود جو شدید ترین صورتحال میں جنسی بے راہ روی اور  بلیک میلنگ پہ بھی منتج ہو سکتی ہے اس پہ لکھنے، بولنے اور اس مسئلے کو اجاگر کرنے سے کتراتے ہیں حالانکہ کھیل کے میدان،  اسلامی تربیت، نوجوانوں کو اعتماد میں لیکر ، مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے کر، معاشرے میں احساس اور شعور اجاگر کر کے اور بقول ڈاکٹر حنیف نیازی” کہ بگڑے ہوئے نوجوانوں کو ان کے حال پہ چھوڑنے کی بجائے ان کو کو گلے لگا  کر”  ہی ہم اس رحجان میں خاطر خواہ کمی لا سکتے ہیں۔

 

Leave a Comment

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.