PAS DEEWAR URDU PART 2

لگتا هے نواز شریف نے go nawaz go کے نعرے کا مطلب جی او نواز جی او سمجھ رکھا هے
نک کپی لیگ میں اگر کوئی انگلش جانتا هے تو وہ نواز شریف کو go کا مطلب سمجھا دے. اگر کوئی نہیں جانتا تو نواز شریف کی ٹیوشن رکھوا دیں. ???
 ظفر نیازی –1 مئی 2017

زندگی بھر اپنی راهوں میں پھٹتا رها بارود

زندگی بھر هم ظفر اپنے ٹکڑے چنتے رهے

لگتا هے رانا ثناءالله پھر اپنی مونچھیں منڈوانے کے چکر میں هے. ویسے اب کی باررانا جی کی ناک کاٹی جاۓ کیونکہ اس کی مونچھیں پہلے بھی اک بار کاٹی گئیں لیکن پھر اگ آئیں.
????
 ظفر نیازی –2 مئی 2017

بے شرمو :
پپی پارٹی والوں نے مسٹر ٹین پرسینٹ ،مچھ کپے آصف زرداری کو نیلسن منڈیلا کے برابر کھڑا کردیا هے. پپی پارٹی والوں کے ذهن میں مچھ کپے زرداری کے جیل میں گزارے گئے 9 سال هیں. اگر یہ نیلسن منڈیلا کے برابر هونے کا معیار هے تو پاکستان کی جیلوں میں اس وقت هزاروں نیلسن منڈیلے پڑے هیں. ان نیلسن منڈیلوں میں زانی، شرابی، سودخور، ڈاکو ،چور، بھتہ خور، اغوا کار، برده فروش، قاتل، منشیات فروش اور دوسرے کئی بدکار شامل هیں.
جہاں تک اصل نیلسن منڈیلا کا تعلق هے وہ تاریخ کے چند عظیم ترین اور عہدساز شخصیات میں سے ایک هیں. اصل نیلسن منڈیلا کی زندگی جنوبی افریقه سے نسلی امتیاز ختم کرنے اور گورے کالے کی تمیز ختم کرنے سے عبارت هے. اصل نیلسن منڈیلا کے جنازے میں دنیا کے هر ملک کے سربراہ نے شرکت کی اور دنیا بھر نے اسے آخری سلامی دی.
پپی پارٹی والوں کے نیلسن منڈیلا کی زندگی بدکاری کا شاهکار هے. اس بدکار نے اپنی اولاد کےڈی این اے تک جعلی درج کرواۓ هیں. اس کی رگوں میں خون کی بجاۓ بے شرمی اور بے حیائی دوڑتی هے. اس بدکار نے اپنی هی بیوی کو دن دهاڑے نگل لیا اور ڈکار تک نہیں دیا.
سچ هے کہ جب انسان شرم اور حیا سے خالی هو جاۓ تو وہ کچھ بھی کر سکتا هے اور پپی پارٹی والے یہی کررهے هیں.
بے شرمو! 
 ظفر نیازی –4 مئی 2017

آج ہی کے دن یعنی 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان میں غلام عباس نامی ایک بچے کا جنم ہوا۔ یہ بچہ غلام عباس سے محسن نقوی بنا اور پھر یہ محسن نقوی اردو شاعری کے آسمان پر دن کے وقت سورج اور رات کے وقت چاند بن کر چھایا رہا۔ محسن پر الفاظ خیال اور بندشیں الہام کی صورت وارد ہوتی رہیں اور وہ انہیں ضبط تحریر میں لاتا گیا۔ وہ ایک محیرالعقول ، سحر انگیز اور مافوق الفطرت روح تھی جو قدرت نے فرصت کے حسین لمحات میں تراشی اور سنواری۔ محسن اس بنجر اور بے رنگ دنیا کا زیور تھا، وہ سنسان بستیوں میں محبت کا شور تھا، وہ تاریک گوشوں میں جگمگاتا جگنو تھا۔
میری زندگی میں محسن ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند داخل ہوا ، ایسا جھونکا جو کسی خوشبو کی جھیل سے بھیگ کر آیا اور پھر یہ جھونکا میری سانس بن کر میرے اندر بس گیا۔ میرے اندر محسن رہتا ہے، میری نبض میں محسن کے الفاظ کی مٹھاس دوڑتی ہے، میری روح پر محسن کے اشعار کا رنگ چڑھا ہے۔محسن میرا محسن ہے کہ میں اسی محسن کے اشعار میں اپنا آپ دیکھتا ہوں۔ میں جب جب خود سے ملنا چاہتا ہوں، میں محسن کی کتاب لے کر کھول لیتا ہوں۔
تُو غزل اوڑھ کے نکلے کہ دھنک اوٹ چھُپے
لوگ جس روپ میں دیکھیں، تجھے پہچانتے ہیں

یار تو یار ہیں، اغیار بھی اب محفل میں

مَیں ترا ذکر نہ چھیڑوں تو بُرا مانتے ہیں

کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو؟

شہر والے مرا “موضوعِ سخن” جانتے ہیں –  ظفر نیازی –5 مئی 2017

میں نے سوچا تھا کوئی جگ سے پیارا
تو میری سوچ سے بڑھ کر پیارا نکلا
تیری دِید سے اتری آنکھوں میں ٹھنڈک
تُو ہاں تُو ہی میری آنکھ کا تارا نکلا

جہادی نہیں کراۓ کے غنڈے:
امریکه اور روس نے اپنی حالیه تمام جنگیں اسلامی ملکوں کے جنگی محاذوں پر لڑی هیں.همارے بہت سے عقل سے پیدل لوگ افغانستان کی روسی جنگ کو جہاد اور اس میں خرچ هونے والے افغانیوں کو شہید سمجھ بیٹھے هیں. امریکه نے ویت نام میں روس کے هاتھوں هزیمت اٹھائی. اس هزیمت کے بدلے کے لئے جمی کارٹر نے روس کو افغانستان پر چڑھ دوڑنے کے جال میں پھنسایا. دسمبر 1979 میں روس امریکه کے دام فریب میں آگیا. چارلی ولسن کی سربراهی میں امریکی گولہ بارود پاکستان کے رستے افغانستان منتقل کرنے اور پاکستان کی سرزمین پر روس سے لڑنے کے لئے کراۓ کے غنڈوں کے تربیتی کیمپ لگاۓ گئے اور ان کیمپوں میں تربیت پانے والے ان غنڈوں پر جہادیوں کے لیبل چسپاں کردیے گئے. ان غنڈوں کی کمان پھر برهان ربانی ،حکمت یار، رسول سیاف جیسے ملاؤں کے هاتھ دے دی گئی. امریکه نے پاکستان اور افغانستان کو استعمال کرکے اپنا ایک فوجی مرواۓ بغیر روس سے ویت نام کا بدلہ لے لیا. امریکه نے اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی بیچ لیا اور جنگ بھی جیت لی.
یہ امریکه کی جنگ تھی جو امریکه نے کراۓ کے غنڈوں سے لڑی. جنگ ختم هوئی تو یہ کراۓ کے غنڈے امریکه کے لئے بے کار هوگئے .اب امریکه نے ان غنڈوں پر لگےجہادیوں کے لیبل پھاڑ کر ان پر دهشتگردوں کے لیبل چسپاں کردیے. اب یہ کراۓ کے غنڈے امریکی ڈرونز کا پسندیدہ شکار هیں.
آج کا مسلمان پاکستانی هو یا افغانی، سعودی هو یا عراقی محض کراۓ کا غنڈه هے جسے ڈالرز کا چیک ایشو کرکے اسے کسی بھی محاذ پر کسی کے خلاف بھی لڑایا جا سکتا هے.
جہادیوں کو سمجھنا هے تو بدر، احد، یرموک، قادسیه ،حنین ،تبوک اور کربلا میں شہید هونے والوں کو پڑھو. جہادی اپنی جنگیں خود لڑتے هیں ،امریکه یا روس کے فوجی بن کر نہیں- 
 ظفر نیازی –6 مئی 2017

امید ، ایک خطرناک اور مکار دشمن :
انسان کے جانی دشمنوں میں سے ایک انتہائی خطرناک دشمن امید کا هے. یہ دشمن انسان کے دل و دماغ میں ڈال دیا جاتا هے. اسے مسیحا کا لباس پہنا کر همارے سامنے پیش کیا جاتا هے. اس کی بے شمار خوبیاں هم سے بیان کی جاتی هیں اور هم میں سے بہت سے لوگ اس مسیحا کے دام فریب میں آ جاتے هیں.
لیکن اصل میں یہ امید کا دشمن هماری تمام ناکامیوں اور پریشانیوں کی جڑ هے. هم اس کے سہارے هاتھ پہ هاتھ رکھے بیٹھ جاتے هیں. همارے پاس اپنی ناکامی اور پریشانی کچلنے کے کئی دوسرے آپشنز موجود هوتے هیں لیکن هم امید کے انتظار میں بیٹھے ره جاتے هیں تاوقتیکه ناکامی اور پریشانی همارا بہت کچھ نگل لیتی هے. اسی امید کے هاتھوں کوئی ماں اپنے بچے سے هاتھ دھو بیٹھتی هے تو کوئی بچی اپنے باپ سے. کوئی عورت اپنی عزت گنوا بیٹھتی هے تو کوئی مرد اپنی جان گنوا بیٹھتا هے،کوئی مریض اپنے هاتھ کٹوا بیٹھتا هے تو بے گناہ پھانسی پر جھول جاتا هے. امید کا زھر همارا سب سے خطرناک اور مکار دشمن هے. اس دشمن کو پہچانئے اور اس کے آسرے پر مت رهئیے. اس سے پہلے کہ ناکامی یا پریشانی آپ کے گلے پڑ جاۓ اپنے ممکنہ آپشنز استعمال کرلیں، امید پر تکیہ مت کریں. 
 ظفر نیازی –7 مئی 2017

بلا عنوان :
بدقسمت پاکستان کے خوش قسمت وزیر اعظم نواز شریف فرماتے هیں کہ پاکستان میں بے شمار گھپلے هیں اگر تحقیقات میں لگ گئے تو همارے کام ادھورے ره جائیں گے. یہ تاریخ ساز انکشاف اگر مہذب دنیا کا کوئی وزیر اعظم کرتا تو ایک طوفان اٹھ جاتا اور ایسے احمق وزیر اعظم کو سڑکوں پر کتے کی طرح گھسیٹ گھسیٹ کر اس کا حشر نشر کردیا جاتا. لیکن یہ پاکستان هے. یہ کم و بیش 20 کروڑ کرپٹ اور احمق لوگوں کا دیس هے. ان کرپٹ اور احمق لوگوں نے هی نواز شریف جیسے کرپٹ اور احمق کو منتخب کیا هے. یہ بیان نواز شریف کا نہیں بلکہ ان هی 20 کروڑ کرپٹ اور احمق لوگوں کی مشترک آواز هے. یہ دودھ میں کیمیکل ملانے والے گوالے، ملاوٹ شده دوائی بیچنے والے کیمسٹ ،2 نمبر سٹینٹ لگانے والے ڈاکٹرز، قلم بیچنے والے صحافی ، فتوے بیچنے والے مفتی، بیعت فروخت کرنے والے شیخ،سود کے پیسے مسجد میں لگانے والے مخیر،شراب بیچ کر حج کرنے والے حاجی کی آواز هے. اسی لئے نواز شریف کے اس بیان پر پاکستانیوں کے بے جان ضمیر میں ذره سی لرزش تک نہیں هوئی.
یہ دنیا کا واحد ملک هے جہاں آپ کپڑے اتار کر ننگے نہیں کہلاتے اور ماں یعنی اپنی دھرتی بیچ کر بے غیرت نہیں سمجھے جاتے.
ایسے معاشرے میں نواز شریف ، آصف زرداری ، جنرل ضیا ،ملا فضل ابلیسی ، مریم نواز جیسے خنزیر هی جنم لیتے هیں.یہاں ڈھنگ کے انسانوں کا جنم ابھی بہت دور هے.
 ظفر نیازی –8 مئی 2017

جو سنا ،جو دیکھا:
سنا کہ موسی’ کے دور میں 1000 قتل کرنے والے کو رحمت یزداں نے سیدھا جنت شفٹ کردیا، سنا کہ پیاسے کتے کو پانی پلانے والی فاحشہ کو رحمت یزداں نے پاک صاف کرکے جنت کی پرکیف گلی کوچوں میں بسا دیا، سنا کہ شراب کے نشے میں دھت بشر حافی کو بسم الله لکھے کاغذ کو اٹھانے پر رحمت یزداں نے تخت ولایت پر بٹھا دیا.
لیکن دیکھا کیا؟ دیکھا کہ حالات کے اندھے عقوبت خانے میں کسی نے اپنی کھوپڑی میں بارود اتار دیا، دیکھا کہ کسی ماں نے بھوک کی جنگ لڑتے لڑتے اپنے هی بچے چبا ڈالے، دیکھا کہ فٹ پاتھ پر مکھیوں سے اٹے لخت جگر کو تپتی زمین پر لٹا کر کوئی دوا کی بھیک مانگ رها هے، دیکھا کہ ننگے بدن ننگے پیر لئے کوئی معصوم پھل کی دکان پہ سجے پھل دیکھ کر اپنے خالی پیٹ اپنی بے بسی سے بھر رها هے.
یہ سب دیکھا تو سنی هوۓ سب قصے دماغ سے محو هو گئے اور دیکھے هوۓ اذیت ناک مناظر روح میں خاردار جھاڑیوں کی طرح الجھ کر ره گئے. اب یہی کانٹے نکالنے میں لگا هوا هوں اور یہ بھی سوچ رها هوں کہ سنے هوۓ قصے کہاں رکھوں؟ 
 ظفر نیازی –10 مئی 2017

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا هے
مجھے دشمن کے بچوں کو چھڑانا هے
مجھے دشمن کے بچوں کو بڑھانا هے
مجھے دشمن کے بچوں کو بہلانا هے
مجھے دشمن کے بچوں کو نہلانا هے
مجھے دشمن کے بچوں کو کھلانا هے
——-یہ پیغام انٹر نروس ریلیشنز کی طرف سے قومی مفاد میں شائع کیا جا رها هے
??????

بارات کے مراثی:
آپ سب نے بہت دفعہ بارات میں شرکت کی هوگی اور باراتی بنے هوں گے. بارات جیسے هی دولہے کے گھر پہنچتی هے چند بھانڈ نما مراثی ڈھولکی لے کر بارات میں پہنچ جاتے هیں. یہ مراثی دولہے ،اس کے شہ بالوں اور رشتہ داروں کے سامنے کھڑے هو کر ڈھولکی بجاتے هیں اور ساتھ هی دولہے ،شہ بالوں اور اس کے رشتہ داروں کے قصیدے بھی پڑھتے هیں. دولہے کے شہ بالے اور رشتہ دار ان مراثیوں کو چند روپے دے کر بارات سے روانہ کردیتے هیں اور یہ مراثی دعا دیتے هوۓ خوش هو کر چلے جاتے هیں.
پاکستانی عوام بھی یہی بارات کے مراثی هیں. یہ سویلین اور فوجیوں کی بارات میں بن بلاۓ شرکت کرتے هیں. بارات والے سویلین اور فوجی ان مراثیوں کے سینے پر عظیم اور غیرت مند عوام کا مکھن ملتے هیں اور یہ مراثی سچ مچ خود کو عظیم اور غیرت مند عوام سمجھ کر خوش خوش بارات سے چلے جاتے هیں.
جب تک پاکستان کے عوام اسی طرح بارات کے مراثی بنے رهیں گے سویلین اور فوجیوں کی باراتوں میں رونق لگی رهے گی اور ان کے گھر آباد هوتے رهیں گے.
اگلی بارات میں شرکت کے لئے آپ اپنی ڈھولکی تیار رکھئے! 

سوچ تقلید کے محاصرے میں هے، بصارت سماعت کے محاصرے میں هے،تحسین خوشامد کے محاصرے میں هے، عزت مفاد پرستی کے محاصرے میں هے، انا موقع پرستی کے محاصرے میں هے،محبت هوس کے محاصرے میں هے، رشتہ ضرورت کے محاصرے میں هے،اور سچ خام خیالی کے محاصرے میں هے.
اتنے محاصروں میں گھرا انسان بھی سمجھ بیٹھا هے کہ وه اشرف المخلوقات هے.
اور هاں دوزخ کا ایندھن سواۓ انسان کے کوئی اور مخلوق نہیں بنے گی. شرف اگر آگ کا نوالہ هے تو پھر شرف کیسا؟  ظفر نیازی –11 مئی 2017

اس سے حاصل کیا هوگا؟
تخلیق کار کے ذهن میں انسان کا نقشہ ابھرا، نقشہ مٹی کی مورت میں بدلا اور مورت میں سانس بھر کر کن کہه کر مورت کو رواں کردیا گیا. اس مورت کو برے اور اچھے کے کالموں میں بانٹ دیا گیا.مورت کے ماتھے پر جنتی اور دوزخی کے ٹھپے لگاۓ گئے اور حتمی فہرست پر تخلیق کار کے دستخط هوۓ اور یوں اس مورت کا سفر چل پڑا.
کہا گیا کہه دیجئیے کہ سب الله کی طرف سے هے، کہا گیا اور وه نہیں هوتا جو تم چاهتے هو بلکہ وه هوتا هے جو الله چاهتا هے، کہا گیا کہ هم نے هر انسان کے گلے میں اس کا مقدر لٹکا دیا هے.
اسی تقسیم کے نتیجے میں جنت اور دوزخ بانٹ دی گئی. میں کس کالم میں هوں مجھے نہیں معلوم. مجھے اتنا معلوم هے کہ میں جس رستے پر چلایا جا رها هوں اس کے آخری سرے پر میری جنت یا دوزخ هے.
میرا سوال یہ هے کہ اگر ازل میں مجھ پر دوزخی کا ٹھپا لگایا جا چکا هے تو کون مائی کا لال میرا هاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جاۓ گا؟ پھر تا ابد مجھے دوزخ کی بھٹیوں میں پگھلایا جاۓ گا، پگھلا کر اکٹھا کیا جاۓ گا اور پھر پگھلایا جاۓ گا اور یہ چکرویو تاابد جاری رهے گا؟ میرا سوال یہ هے کہ مجھے ان گناهوں کی اتنی وحشتناک سزا کیوں دی جاۓ جو گناه میرے گلے کا مقدر بنا کر میرے گلے لٹکا دیئے گئے ؟ اس سے کیا حاصل هوگا؟
 ظفر نیازی –12 مئی 2017

اسے پھانسی پر لٹکادو!
جنرل یحیی’ اور زیڈ اے بھٹو پاکستان کو چیر کر ایک حصه انڈیا کو هبه کردیں کوئی مسئلہ نہیں ، جنرل ضیا امریکه کی جنگ میں پاکستان کی بلی چڑھا دے کوئی مسئلہ نہیں ، جنرل مشرف کولن پاول کی ایک کال پر پاکستان کے هوائی اڈے اور زمین امریکه کی جھولی میں ڈال دے کوئی مسئلہ نہیں ، جنرل کیانی بھنگ پی کر سویا پڑا هو اور امریکی ایبٹ آباد میں آپریشن کرکے مکھن کے بال کی طرح نکل جائیں کوئی مسئلہ نہیں ، زرداری اربوں هڑپ کرے اور تھر میں بچے بھوکے پیاسے مارے کوئی مسئلہ نہیں ، نواز شریف اربوں تندوریوں، لیپ ٹاپوں، میٹرو میں جھونکے اور مریضوں کو هسپتالوں کے فرش پر لٹا دے اور پاکستانی فوج کے خلاف بیان لگواۓ کوئی مسئلہ نہیں. اسی لئے ان سب کو کھلی چھٹی مل گئی اور یہ سب آج بھی پاکستان کو لگڑبھگڑوں کی طرح چیر پھاڑ رهے هیں.
لیکن اگر طیفا پوڈری پوڈر پئیے، شیدا 1000 روپے کا جوا کھیلے ، مانا گامے کی انگلی توڑ دے، پپو لاؤڈ سپیکر پر نعت پڑھے، جیدی ٹریفک سگنل توڑے، گلیا بکری چرا لے تو ان سب کو پھانسی پر چڑھا دیا جاۓ کیونکہ یہ سب ریاست کے دشمن هیں.یہ سب پاکستان کی بنیادوں میں رکھے ایٹم بم هیں جنھیں ڈی فیوز کرنا پاکستان کی بقا کی ضمانت هے.

یحیی’ بھٹو زنده باد، شیدا گاما مرده باد! ظفر نیازی –13 مئی 2017

چوڑیاں پہن لو:
ایک خبر کے مطابق کوٹ مومن کے ایک کالج میں قائم امتحانی مرکز کے معائنے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر عفت نساء پرنسپل کی کرسی پر جا گھس بیٹھی. ایک ٹیچر کے منع کرنے پر اس رنڈی صفت اے سی نے پولیس بلوا لی اور ٹیچر کو گرفتار کروا دیا.
اس رنڈی صفت افسر نے وهی کیا جو اس کی اوقات هے کہ پاکستان کی سول بیوروکریسی ڈگری یافتہ جنگلیوں کا ریوڑ هے جس میں نہ تہذیب هے نہ تمیز. یہ کمی کمین لوگوں کا گروه هے اور ظاهر کمی کمین کوئی بھی گندی حرکت کر سکتا هے. لیکن مجھے غصه اس کالج میں موجود پروفیسرز پر هے. یہ سب بہادر اس وقت کدھر تھے؟ یہ سب تماشا دیکھ رهے تھے؟ ان پروفیسرز نے اے سی کو وهیں گھسیٹا کیوں نہیں ؟ ان پروفیسرز کو چاهئیے تھا کہ عفت نساء کا منہ جوتوں سے لال کردیتے کہ پھر اس رنڈی کی کبھی جرات نہ هوتی کہ وه حاضری چیک کرتی یا پرنسپل کی کرسی پر بیٹھتی. اگر کبھی ایسا افسر میرے سکول میں آیا اور پرنسپل کی کرسی پر بیٹھا یا حاضری رجسٹر منگوایا تو میں اسے بتاؤں گا کہ پرنسپل کی کرسی پر اس کے بیٹھنے کا انجام کیا هوتا هے. میں اسے بتاؤں گا اے سی کی اوقات کیا هوتی هے.
جو پروفیسرز مذکوره کالج میں یہ تماشا دیکھتے رهے وه چوڑیاں پہن لیں اور اگر ان کی مونچھیں هیں تو اپنی مونچھیں منڈوا لیں کیونکہ ان هیجڑوں کا یہی حلیه هونا چاهئیے.
پاکستان کی بیوروکریسی سے میں پھر کہتا هوں کہ تم ڈگری یافتہ جنگلیوں کا ریوڑ هو اور کمی کمین هو. کوئی اے سی یا ڈی سی میرے سکول میں پرنسپل کی کرسی پر بیٹھنے کا ارادہ کرکے آۓ تو یہ سوچ کر آۓ هر جگہ موچھوں والے هیجڑے نہیں هوتے. کئی جگہوں پر دانت توڑنے والے مچھندر بھی هوتے هیں.
 ظفر نیازی –14 مئی 2017

میرا برانڈ:
مجھے تیری پوشاک کی تراش خراش اور چمک دمک سے کوئی سروکار نہیں. مجھے تیرے جوتوں کے اندر جھانک کر اس کا برانڈ دیکھنے کی ضرورت نہیں. مجھے تیرے هاتھ میں تھامے هوۓ موبائل فون کے سائز اور سٹائل سے کچھ لینا دینا نہیں. مجھے تیرے مکان کو حسرت سے گھورنے کی عادت نہیں. مجھے تیرے گلے میں لٹکے تیرے کارڈ پر لکھے تیرے عہدے پڑھنے کی فرصت نہیں.
مجھے بس تیرے ارد گرد جمع لوگ دیکھنے سے کام هے. مجھے تیری گفتگو سے دلچسپی هے. مجھے بس یہ دیکھنا هوتا هے کہ تو آدمی سے ملتا کس طرح هے. مجھے بس تیرے دوست اور تیرے دشمن پرکھنے هوتے هیں. مجھے بس یہ تلاش کرنا هوتا هے کہ تو خوش کب هوتا هے اور اداس کب هوتا هے.
میرا برانڈ تیرے اندر بسی تیری روح هے. وہ روح جو منافقت ، دکھاوے، جھوٹ، کم ظرفی اور لالچ سے پاک هے. میرا برانڈ محبت اور مروت برساتا لہجہ هے. میرا برانڈ دوسرے کا درد محسوس کرتا دل هے. میرا برانڈ کسی کے چہرے پر لکھی غم کی تحریر پڑھ سکنے والی آنکھیں هیں. میرا برانڈ کسی کی پکار پر کھڑے هو جانے والے کان هیں. میرا برانڈ کسی کو مشکل میں تھام لینے والے هاتھ هیں. اور میرا برانڈ روٹھ کر جانے والے کا پیچھا کرنے والے قدم هیں. اگر یہ سب کچھ تجھ میں هے تو تو میرا آئیڈیل هے ، چاهے تیرے بدن پر چیتھڑے هیں، پاؤں میں ٹوٹی چپل هے اور سر چھپانے کو گھاس پھوس کی چھت اور دیواریں هیں. تو میری محبت اور احترام کا محور هے. میں تجھے سلام کرتا هوں!
 ظفر نیازی –15 مئی 2017

نظام نہیں آدمی بدلو:
چُھری مخلتف اوقات میں مختلف لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور کام ایک ہی کرتی ہے یعنی کاٹنے والا۔ یہ چھری اگر قاتل کے ہاتھ میں ہو تو انسان کا گلا کاٹ لیتی ہے اور آلہ قتل کہلاتی ہے۔ یہ چھری اگر باورچی کے ہاتھ ہو تو پیاز یا سبزی کاٹتی ہے اور زندگی کی بنیادی ضرورت کہلاتی ہے۔ یہ چھری اگر کسی چھوٹے بچے کے ہاتھ ہو تو خطرے کی نشانی ہے اور بچے کے ہاتھ سے پیار سے چھڑا لی جاتی ہے۔ عید قربان کے دن اگر چھری ہاتھ میں نہ ہو تو سنت ابراہیمی کا پایہ تکمیل تک پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔
آج کل پاکستان میں لوگ اس بحث میں الجھے ہیں کہ پاکستان کا نظام کون سا ہونا چاہئے۔ کوئی پارلیمانی نظام کوکوس رہا ہے تو کوئی صدارتی نظام کی راہ تک رہا ہے، کوئی جمہوریت کو گالیاں دے رہا ہے اور خلافت کے قصیدے پڑھ پڑھ کر خلافت کی خوش خبریاں سنا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے مسئلہ نظام کا ہے ہی نہیں۔ اگر آصف رداری یا نواز شریف جیسے لوگوں کے ہاتھ خلافت دے دیں یا جمہوریت ، پارلیمانی نظام دے دیں یا صدارتی ، یہ لوگ نظام اور معاشرے دونوں کا ستیا ناس کردیتے هیں. او اگر فاروق اعظم یا نیلسن منڈیلا جسیے لوگوں کے ہاتھ دنیا کا کوئی نظام دے دیں یہ لوگ نظام اور معاشرے دونوں کو سنوار دیں گے. دنیا کا کوئی بھی نظام ہو اس کی شناخت اس کو چلانے والے دماغ اور دل ہوتے ہیں۔ یہ آدمی ہی کسی نظام کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتے ہیں۔ ڈاکو یا چور کے سر پر خلافت کا تاج رکھ دینے سے معاشرے میں امن اور سکون کا بول بالا نہیں ہوجاتا۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ چھری کہاں استعمال کرتے ہیں۔ قصور چھری کا نہیں ہوتا بلکہ اس کا استعمال کرنے والے کا ہوتا ہے۔ نہ جمہوریت اسلام کے خلاف ہے اور نہ خلافت عین اسلام ہے۔ فرق پڑتا ہے تو صرف اس بات سے کہ کسی نظآم کو چلانے والے کس کردار کس قبیل کے لوگ ہیں۔ فرق پڑتا ہے تو صرف اس بات سے کہ نظام چلانے والوں کا وژن کیا ہے، ان کا مقصد حیات کیاہے، ان کا نصب العین کیا ہے۔
لہذا نظام بدلنے کی رٹ چھوڑو اور نظام چلانے والے آدمی بدلنے کی کوشش کرو۔ چھریوں کو کوسنے کی بجائے یہ چھریاں قاتلوں اور بچوں کے ہاتھوں سے دور رکھو۔ وہ آدمی ڈھونڈو جو چھریوں کے صحیح استعمال سے پوری طرح واقف ہوں۔
 ظفر نیازی –16 مئی 2017

اپنی اولاد کو جھوٹ مت سکھاؤ:
ن لیگیوں میں سے بہت سوں کے بچے بھی هوں گے. ان کے یہ بچے اپنے والدین سے ضرور پوچھتے هوں گے کہ پاکستان کا وزیر اعظم کون هے. یہ بچے بھی پھر یہ بھی ضرور پوچھتے هوں گے کہ نواز شریف کیسا آدمی هے. یقیناً یہ والدین جواب دیتے هوں گے کہ نواز شریف بہت اچھا انسان هے.
نواز شریف کے جھوٹ اب نک ویلوٹ کی چوریوں کی طرح ضرب المثل کی حد تک معروف هو چکے هیں. یہ والدین جب اپنے بچوں سے اتنا بڑا جھوٹ بولتے هیں تو کیا ان کے ضمیر میں کوئی خلش نہیں هوتی؟ جب آپ اپنی اولاد کو جھوٹ سکھائیں گے تو آپ ان سے کسی بہتری کی امید کیسے رکھیں گے؟ کل کو یہی اولاد آپ سے کوئی بھیانک جھوٹ بولے گی اور اس جھوٹ کا خمیازه آپ کی آنے والی کئی نسلیں بھگتیں گی.
خدا کے لئے اپنی اولاد کی بنیادیں جھوٹ پر کھڑی نہ کریں. جھوٹ پر کھڑی یہ اولاد کل آپ پر گر کر آپ کا کام تمام کر دے گی. نواز شریف کی خاطر اپنی اولاد برباد نہ کریں کیونکہ نواز شریف اپنے بچوں کے کتوں کا ایک بال بھی آپ کو نہیں دینے والا. باقی آپ کی مرضی! 
 ظفر نیازی –17 مئی 2017

لچک ہو تو ایسی:
انگریزی کی ایک کہاوت ہے when in Rome, do as the Romans doo ۔ اس کہاوت پر جماعت اسلامی کے امیر حضرت امیر اہلسنت، پیکر توحید پرستی جناب سراج الحق پورا پورا عمل فرما رہے ہیں۔جناب نے کرپشن کے خلاف دھواں دھار مہم شروع کررکھی ہے۔ جناب کے پی میں عمران کے اتحادی ہیں، کشمیر اور جہلم میں نواز شریف کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں اور پھر آصف زردای کی صف میں کھڑے ہوکر کرپشن کا سر قلم کرنے کا حلف اٹھالیتے ہیں۔ جناب کی شخصیت کی یہ ہمہ گیری جماعت والوں کونیا ولولہ نیا جوش عطا کرتی ہے اور جماعت اسلامی والے گلے پھاڑ پھاڑ کر پاکستان سے کرپشن کے دیوقامت جن کی ٹانگوں اور پسلیوں کا سرمہ بنانے کا عہد کرتے ہیں۔ جناب پاکستان کے گرگٹ ہیں جو کہیں بھی کوئی بھی روپ دھار سکتے ہیں۔ یہ کعبہ میں امامت بھی کراسکتے ہیں اور مندر میں پرساد بھی چڑھا سکتے ہیں۔ جناب پاکستان کے قانون کی طرح ہر طرف مڑسکتے ہیں اور ایک ہی سانس میں اِس کے حق میں بھی ہوسکتے ہیں اور اُس کے حق میں بھی پھر سکتے ہیں۔ جناب کے اندرانتہا کی لچک ہے اور ان کی لچک کے آگے مادھوری ڈکشت کی سانپ کی طرح بل کھاتی لچکتی کمریا بھی شرما جائے۔ لچک ہو تو ایسی! 
 ظفر نیازی –18 مئی 2017

لاوارث لمحوں کے مقتل میں:
زندگی دو انتہاؤں کے درمیان تقسیم هو گئی هے. ایک طرف عیش و آرام کے لہلہاتے نخلستان هیں اور ایک طرف لاوارث لمحوں کے مقتل میں زندگی کے بدن سے پھوٹتے خون کے فوارے هیں. ایک طرف لوگ خوشگوار موسموں میں معطر خواب گاهوں میں ریشمی بچھونوں پر کروٹیں بدلتے هیں تو ایک طرف لوگ بدحالی اور بدبختی کے دہکتے تندوروں پر روٹیوں کی طرح چپک کر ره گئے اور جلتے جلتے راکھ هو گئے.
یہ تقسیم کس نے کی یہ آپ بھی اچھی طرح جانتے هیں اور میں بھی جانتا هوں. میرے لاوارث لمحوں کے مقتل میں آزادی کا سورج کب جھانکے گا یہ مجھے معلوم نہیں کہ سورج کا رخ موڑنے پر میرا کوئی اختیار نہیں اور جس کا اختیار هے اس کے ارادے اور نیت میں نہیں جانتا. جب تک میری سانسوں کی گنتی پوری نہیں هو جاتی مجھے اس مقتل کے ننگے فرش پر بیٹھنا هے یا لیٹنا هے. ویسے میں اس مقتل میں تنہا نہیں بلکہ میرے جیسے اور بہت سے شکستہ بدن شکستہ روح بھی هیں اور یوں ایک انوکھی طرز کی رونق لگی رهتی هے.
—ایک هنگامے پہ موقوف هے گھر کی رونق

نوحه ماتم هی سہی نغمہ شادی نہ سہی –  ظفر نیازی –19 مئی 2017

اپنی پسند کے سچ سنتے رہئے:
ایک سچ وہ ہوتا ہے جو ہم سننا چاہتے ہیں اور ایک سچ وہ ہوتا ہے جو سچ ہوتا ہے۔ 14 اگست 19477 سے لیکر آج تک ہمارے کانوں میں وہی سچ انڈیلے جاتے رہے ہیں جو ہم سننا چاہتے ہیں۔ ہمارے کانوں میں سرگوشی کی گئی کہ ہم آزاد ہوگئے۔ ہمارے کانوں میں خبر چلائی گئی کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ بن گیا ہے۔ ہمارے کانوں میں بھر دیا گیا کہ ہم عالم اسلام کا قلعہ ہیں۔ پھر یہ سچ سنایا گیا کہ ہم ناقابل تسخیر ہیں۔ ہمیں یہ سچ بھی سنا کر بہلا دیا گیا کہ ہم اپنی طرف اٹھنی والی ہر میلی آنکھ نکال کر دشمن کے ہاتھ پر رکھ دیں گے۔ اس قسم کے ہزاروں سچ ہمیں سنائے گئے اور اب بھی سنائے جارہے ہیں اور پاکستانی قوم فخر اور احساس برتری سے پھولی جارہی ہے۔
لیکن وہ سچ ہے جو سچ ہوتا ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان نہ آزاد ہوا اور نہ مستقبل قریب میں ایسے کوئی آثار ہیں۔ ہم وہ غلام ہیں جو مختلف ہاتھوں بکتے آئے ہیں۔ پاکستان کس زاویے کس رخ سے اسلامی جمہوریہ دکھتا ہے؟ یہ تو ہندوؤں، یہودیوں ، عیسایوں اور لادینوں سے بھی گیا گزرا معاشرہ ہے جہاں ابھی تک انسانیت قدم نہیں جما سکی اسلام اور جمہوریت تو دور کی بات ہے۔ دشمن کی میلی آنکھیں نکالنے کی بجائے ہم دشمن کی آنکھوں کی بیانئی تیز کرنے کے لئے دشمن کی آنکھوں میں اپنی کمزوریوں کا سرمہ بھر رہے ہیں۔ وہ گیا اسلام کا قلعہ ہونا تو یہ وہ قلعہ ہے جس کی اپنی دیواروں اور چھتوں میں لوٹ مار کا دیمک لگ چکا ہے، یہ عالم اسلام کو کیا سہارا دے گا۔ ناقابل تسخیرہونے کے سچ کی 1971 میں دھجیاں اڑا دی گئیں۔
اپنی پسند کے سچ سنتے رہئے تاوقتیکہ اصل سچ ایک اور بھیانک روپ میں ہمیں تاریخ کے کوڑا دان میں پھینک کر ہمیں سنائے جانےوالے تمام سچ ہمارے ساتھ دفن کردے!

سعودیوں اور پاکستانیوں کے روحانی پیشوا ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب پہنچ چکے هیں.عزت مآب ،شیخ الاسلام ،لسان العصر جناب شیخ ٹرمپ دنیا کے بھٹکے هوۓ لوگوں کو راه راست پر لانے کا وعظ دیں گے.
آپ سب اس وعظ کو سن کر ثواب دارین حاصل کریں.
یہ اعلان پاک سعودی علماء کونسل کی طرف سے آپ کے ایمان کے مفاد میں شائع کیا گیا.  ظفر نیازی –20 مئی 2017

الله کرے ایوانکا ٹرمپ سعودی شاهی خاندان کے بڈھے ٹھرکیوں سے بچ کر امریکه واپس هو! ویسے جس طرح یہ ٹھرکی ایوانکا کے ارد گرد منڈلا رهے هیں ایوانکا آئنده شاید کبھی سعودی عرب نہ آۓ.
ویسے ایوانکا کے ساتھ خادم حرمین شریفین کے خاندان والوں کے رقص پر جماعت اسلامی اور جمعیت علماۓ اسلام اور سعودی شاهی خاندان کے دوسرے معتقد کیا کہتے هیں؟ کیا یہ رقص شرعی رقص تھا؟ اگر یہ شرعی رقص تھا تو یہ بڑھک باز مادھوری ڈکشت اور دیپکا پڈکون کے رقص کو کیوں حرام کہتے هیں؟ کیا اگر مادھوری یا دیپکا سعودی شاهی خاندان والوں کے ساتھ رقص کریں تو پھر یہ رقص شرعی طور پر جائز هو جاۓ گا؟

—تم اپنے چہروں پر رنگ چڑھاتے جاؤ گے

میں اپنی انگلیوں کے ناخن بڑھاتا جاؤں گا!

 ظفر نیازی –21 مئی 2017

هم کب سدھریں گے؟
کل سعودی عرب میں امریکی سربراهی میں امریکه کے بیعت شده مریدوں کا اجتماع هوا. اس اجتماع میں امریکی ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے خلیفه اعظم سعودی شاه سلمان نے ایران کو بدی کا محور قرار دے کر اس شیطانی اتحاد کی سمت واضح کردی. اس شیطانی اتحاد کا ملٹری ونگ بنایا گیا هے اور اس ونگ کا سربراہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل کو بنایا گیا هے.
ایران وہ ملک هے جس نے پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا اور پاکستان کا جھنڈا سب سے پہلے ایران میں لہرایا گیا تھا. اس اتحاد کے ملٹری ونگ کا سربراہ بن کر پاکستان کیا حاصل کرنا چاهتا هے؟ ایران کی تباهی ؟ جی ایران کی تباهی. عقل مند غلطیوں سے سیکھتا هے اور احمق غلطیاں دهراتا جاتا هے. همارے فیصلہ ساز انتہا کے احمق هیں اور ایک بار پھر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا پلان یہ احمق تیار کر چکے هیں. کیا جنرل راحیل کی تنخواہ اور سعودی شاهی خاندان کی خوشی پاکستان کے امن اور سکون سے زیادہ اهم هے؟ کیا هم ساری عمر امریکه کے کراۓ کے غنڈے بن کر اپنے بھائیوں اور همسایوں کے گھر جلاتے رهیں گے؟ کیا هم نے سعودی شاهی خاندان کی عیاشی کے باڈی گارڈ بننے کا ٹھیکہ لے رکھا هے؟ هم پاکستان کے بچوں کے بارے کب سوچیں گے؟ هم ایک خوددار اور عزت دار قوم کب بنیں گے؟ هم پیسوں کے ساتھ اپنی ماؤں کو تولنا کب بند کریں گے؟ هم کب سدھریں گے؟ آخر کب؟
 ظفر نیازی –22 مئی 2017

هنسی میں اڑا دیجئیے یا… :
زندگی کے دکھ سکھ همارے قبضے میں نہیں. کب کوئی سکھ همارا هاتھ تھام لے یا کب کوئی دکھ همارے پاؤں سے لپٹ جاۓ یہ هم نہیں جانتے. ایک بات طے هے اگر هم دکھ میں رونا دھونا شروع کردیں تو زندگی عذاب بن جاتی هے کہ پھر زندگی بزدل دشمن کی طرح هم پر مزید دکھ کے کوڑے برسانا شروع کردیتی هے. دشمن پر هنسنا دشمن کی جیت کا مزه کرکرا کردیتا هے اور همیں زندگی کے ساتھ یہی رویه رکھنا چاهئیے. کوئی دکھ آۓ یا کچھ کھو جاۓ تو ایک زوردار قہقہہ لگائیے یا اس دکھ یا نقصان کو چرس بنا کر سگریٹ میں بھریئے، سگریٹ سلگائیے اور دکھ یا نقصان کو دھوئیں میں اڑا دیجئیے. اپنی آنکھوں کی طرف جانے والے پانی کا رستہ زندگی سے بے رخی کے پتھروں سے بند کردیجئیے. رونے دھونے سے آپ کے سر سے زندگی کے عذاب نہیں ٹلنے والے تو وقت برباد کرنے کا کیا فائدہ! فریاد کرنا چھوڑ دیں، هنسنا شروع کردیں .نہ کوئی آپ کے لئے لازم هے اور نہ آپ کسی کے لئے لازم هیں. زندگی آپ کو سنجیدگی سے نہیں لے رهی تو آپ بھی زندگی کو سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیں. جیسا منہ ویسا تھپڑ والا رویه اپنائیں!
 ظفر نیازی –23 مئی 2017

Your words for Mianwali and Mianwalians