ہیڈ ماسٹر غلام رسول خان کی تعلیمی خدمات  

تحریر و تحقیق   — امداد حسین خان

 کسی بڑے آدمی کی بڑائی کا تعلق اس کے بڑے کردار اور بڑے کارناموں سے ہوتا ھے،پیدائش کی جگہ،نسل،خاندان یا زبان سے نہیں۔ پھر بھی جو عقیدت،محبت،ہیڈ ماسڑ حاجی عالم خان کی ذات،صفات سے ھے اس کا تقاضا ہے کہ ہم یہ بھی معلوم کریں کہ مٹی کہاں کی تھی؟ یہ کوہ نور کہاں سے آیا تھا؟ یہ حاصل چمن کس شاخ پہ کھلا اور سب کو علم کی روشنی سے کیسے منور کر گیا۔وہ لوگ عظیم ھوتے ہیں جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں اور مرتے دم تک اسی مشن پر اپنی زندگی وقف کر دیتے ییں،ایسے ہی لوگ دھرتی پاک کے امینزگ پاکستان کہلاتے ییں۔ اللہ پاک نے ترگ کی دھرتی کو ہر قسم کے مال سے زرخیز بنایا،ہر قسم کی صلاحیتوں سے مالامال کیا ہے۔جن کو ان صلاحیتوں کا ادراک ہو جاتا یے وہ اپنی دھرتی پر درخشاں ستاروں کی ماند جگمگا نے لگتے ہیں۔یہ دھرتی تمام صفات سے مالامال ہے،ضروت ہے تو اپنی ان صلاحیتوں کو جاننے اور ان سے استفادہ حاصل کرنے کی۔ بقول اقبال رح۔ نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز یے ساقی ترگ کی دھرتی پر 1927 میں کاشتکار عمر خان کے گھر میں ایک بچہ پیدا ھوا،چھوٹی عمر میں ہی چست،چالاک تعلیم حاصل کرنے کی امنگ،دبلا پتلا جو پیدائش سے لے کر مرتے دم تک اللہ نے جو قد،کاٹھ دیا آخر وقت تک اسی حالت اور صحت میں رھے۔غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔اس دور میں علاقے میں تعلیم کی طرف رحجان نہ ہونے کے برابر تھا،خود ان کے گھر میں کوئی پڑھا لکھا نہ تھا،،مگر اسے علم کا شوق تھا،پرورگار جب کسی سے کوئی بڑا کام لینا ھو تو اسے اس جانب راغب کر دیتا ہے۔پھر خودبخود اس کے لئے دشوار گزار راستے،سہل ہونا شروع ہو جاتے ہیں،پھر شوق جزبہ لگن،جستجو اسے اس منزل تک پہنچا کر ہی دم لیتی یے ایسے ہی لوگوں میں حاجی عالم خان مرحوم تھے،جہنوں نے مشکل حالات میں علم حاصل کرنے کا سفر جاری رکھا،اس دور میں پرائمری اور مڈل پاس کر لینا بہت بڑے اعزاز کی بات سمجھی جاتی تھی۔ایک گھر کا فرد کوئی پرائمری یا مڈل پاس کر لیتا تو وہ گھرانہ پڑھا لکھا،تعلیم یافتہ شمار کیا جاتا،پھر لوگ دور دراز سے اپنے پیاروں کے لئے خط (چھٹی) لکھوانے کےلئے ان کے پاس جایا کرتے تھے۔ماسٹر عالم خان کے گھر میں بھی خط لکھوانے والے لوگوں کا آنا جانا لگا ریتا تھا۔بعض اوقات وہ خط طویل ھوتا تو دو تین قسطوں میں لکھا جاتا،اس طرح دو،تین دن لگ جاتے تھے،خط بھی تو اس وقت آدھی ملاقات تصور کی جاتی تھی ۔ خط کے جواب کا انتظار بھی بڑے چاہ کے ساتھ کیا جاتا۔مگر عالم خان مرحوم یہ کام باخوشی سر انجام دیتے تھے،۔ مڈل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حاجی عالم خان مرحوم محکمہ تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔اس وقت پرائمری اور مڈل پاس بھی استاد بھرتی ھو جاتے تھے۔۔۔ ۔اس دور میں لوگ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے کتراتے تھے۔ضلع بھکر کےتھل اور میانوالی شہر تحصیل عیسی خیل کے علاقے تبی سر،ٹولہ منگلی ،ترگ جہاں جہاں آپ ٹیچر رھے،ان علاقوں میں تعلیم عام کرنے کے لئے ایک تحریک کا کام کیا۔لوگوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے کے لئے ایک مشن کے طور پر کام کیا۔راستے میں کئی تکالیف آئیں مگر آپ نے ہمت نہ ہاری اور اپنا خدمت کا سفر جاری رکھا۔۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کی خوش قسمتی کہ ان کو ٹیم بھی فر ض شناس ملی۔جہنوں نے ادارے کو بام عروج تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جو اساتذہ کرام 1987سے ان کی ریٹائرمنٹ تک ان کے ہم سفر ریے،(جو دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں اللہ پاک ان کی مغفرت اور جنت میں اعلی و ارفع مقام عطا فرمائے،جو سلامت ہیں اللہ پاک ان کو صحت کے ساتھ شاد و آباد رکھے۔آمین۔) ان اساتذہ کرام کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں۔ سر ثناء اللہ خان مھار مرحوم،سر محمد شریف،سرسمیع اللہ خان،سر حبیب اللہ خان،سرمحمد مشتاق رضا،سر پی ٹی عبیداللہ،سر پی ٹی آحمد خان،سرحافظ محمد ہاشم شاہ مرحوم،سرامان اللہ خان مرحوم،سر عالم خان اکوال مرحوم،سرعالم خان جالندھر خیل مرحوم،سر شوکت عباسی مرحوم،سرعطاءاللہ کلور،سرجاید حسن خان مرحوم،سرلیاقت علی خان،سرغلام شبیر خان سینئر،سر غلام شبیر خان جونیئر،سر وزیر خان،سرناصر عام خان،سر عمرحیات خان،سر سید بشیر حسین شاہ،سرعلم دین خان مرحوم، سر حفیظ اللہ شاہ۔سر محمد شفیع اللہ،سرمحمد ذین العابدین شاہ،سر نصراللہ خان،سر ابوالحسن شاہ،سر عبدالستار خان،سر محمد نواز خان،سرنعیم اللہ خان،سر نثار احمد خان،سرقمر العباس خان،سرامداد خان سر سلیم چودھری،سر بہاول دین، یہ وہ درخشاں ستارے ہیں جو اہل ترگ اود گردو نواح کے بچوں میں ہیڈ ماسٹر کے شانہ بشانہ علم بانٹتے رہے، جنہوں نے گورنمنٹ E/S ترگ موجودہ گورنمنٹ ہائی سکول ترگ سٹی کو روشن اور مثالی سکول بنانے میں اہم کردار ادا کیا، ہیڈ ماسٹر صاحب کی علم سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔وہ اکثر سالانہ رزلٹ کے موقعہ پر یہ شعر بھی پڑھا کرتے تھے، محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند وہ کیڈٹ کالجز جن میں طالب علموں نے امتحانات پاس کیئے ان اعلی اداروں کے نام یہ ہیں، ایبٹ آباد پبلک سکول اینڈ کالج،پی اے ایف کالج سر گودھا، سکاوٹ کیڈٹ کالج بٹراسی،کوہاٹ گریثرن کالج کوہاٹ،ملٹری کالج جہلم، پی اے ایف لوئر ٹوپہ مری،کیڈٹ کالج سکردو، کیڈٹ کالج تربیلا وہ طالب علم جو سکول ہزا کے دوران فارغ التحصیل ہونے کے بعد ڈاکٹر بن کر ملک وقوم کی خدمت میں مصروف عمل ہیں ان کے نام یہ ہیں۔ ڈاکٹر امین الدین , ڈاکٹر شبیر احمد قاسم  · 

بچے ان کو قائد اعظم بھی کہ کر پکارتے تھے۔ترگ کے گرد ونواح میں جتنے گرلز اور بوائز پرائمری سکول اس وقت چل رھے ہیں یہ آپ ہی کی خصوصی کاوشوں کا صلہ ہے اور بھی بہت کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ترگ اور اس کے گرد ونواح میں،ڈور ٹو ڈور ہر گھر جا کر اس دور میں تعلیم کی اہمیت بیان کی،لوگوں کو تعلیم کی طرف موٹیویٹ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔آج بھی لوگ ان کی تعلیمی خدمات کو نہیں بھولے۔ان کی تعلیمی خدمات کی وجہ سے علاقہ کے لوگ تعلیمی میدان میں بلندیوں کو پہنچے۔پاک آرمی سے لے کراستاد ،وکیل،ڈاکٹر،بینکر، تک آج بھی اپنی خدمات ارض پاک میں سر انجام دے رھے ہیں اور بعض ریٹائر بھی ہو چکے ہیں اس وقت ترگ میں صرف پرائمری سکول،(گورنمنٹ ھائی سکول ترگ سٹی ) تھا۔ آپ پرائمری کے بعد کی تعلیم کے لئے بچوں کو ھائی سکول مکڑوال،عیسی خیل،اور میانوالی داخلہ کے سلسلے میں ساتھ جاتے تھے،ان کی فری تعلیم کا بندوبست کرتے،رہائش وغیرہ کا اگر کسی کا مسئلہ درپیش ہوتا حل کرا دیتے تھے۔اسی دوران ایک دن دماغ میں خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے خوبصورت ترگ میں لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں کے قیام کی ایک تحریک شروع کی جائے،اس تحریک کو اس وقت کے پرنٹ میڈیا کا سہارا لیا۔پنجاب بھر کے بڑے اخبارات میں سکولوں کے قیام کا مطالبہ کیا۔ ھائی سکول ترگ کے قیام کے لئے خصوصی مہم شروع کی۔اخبارات کے تراشے آج بھی ریکارڈ کے طور گھر میں محفوظ ہیں۔سکولوں کے قیام کے لئے ترگ کے لوگوں نے بھی ماسٹر عالم خان مرحوم کا بھر پور ساتھ دیا۔ ھائی سکول نہ ھونے کی وجہ سے ترگ کے بچے عیسی خیل پڑھنے جاتے تھے۔اس وقت ذرائع آمدو رفت نہ ھونے کے برابر ۔یہ ٹوٹی پھوٹی سنگل بنوں روڈ تھی،جس پر پیدل بھی مشکل سے چلا جاتا تھا دن بھرمیں بامشکل ایک دوبار بس یا ٹرک یہاں سے گزرتے۔بچے بائی سائیکل پر عیسی خیل جاتے تھے،گر میوں میں واپسی پر کہیں اگر کوئی ٹیوب ویل نظر آ جاتا تو نہا لیتے، اور شدید جاڑے کے موسم میں عیسی خیل جاتے ہوئے راستے میں جھاڑیوں سے لکڑیاں چن چن کر آگ جلاتے ،پھر اس کے ارد گرد بیٹھ کر آگ سیکتے تاکہ جسم کو حرارت ملے،جب جسم گرم ھوتا سردی میں کمی محسوس ھوتی پھر سفر پر نکل پڑھتے۔ یہ واضع ھوا کہ اس وقت کے اہل ترگ کے نوجوان کن مشکل مراحل سے گزر کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ان حالات کو دیکھتے ھوئے عالم خان مرحوم چین سے نہ بیٹھے ھائی سکول ترگ کے حصول کے لئے اپنی کوشش جاری رکھی۔اس وقت کی سیاسی قیادت کو بھی یہ مطالبے کرتے رھے،جب کبھی کوئی سیاسی پلیٹ فارم پر موقعہ میسر ھوا فورا سیاسی نمائندے سے ملاقات کی تویہ مطالبہ ھائی سکول کا پیش کر دیا،اس وقت میانوالی کا ڈویثرن راولپنڈی تھل ھوا کرتا تھا،وھاں جا کر ڈائریکٹر کے سامنے یہ مطالبہ پیش کرتے۔ لکھنے کو تو اس کام کے لئے وقت تھوڑا لگا مگر یہ ماسٹر حاجی عالم خان بھی بہتر جانتے تھے کہ اس کام کے لئے انھوں نے کتنا وقت صرف کیا۔ اور بالاآخر حاجی صاحب کی محنت رنگ لائی 1973 اس وقت کے ایم این اے نواب آف کالاباغ ملک مظفر خان نے ماسٹر حاجی عالم خان مرحوم کے شوق،محنت،لگن کو دیکھتے ھوئے ترگ ھائی سکول منظور کر لیا،1973 میں ہی یہ سکول آپریٹ ھو گیا۔ واضع رھے کہ حاجی عالم خان کے نواب آف کالاباغ کے خاندان سے نہایت قریبی تعلقات تھے،اس سیاسی خاندان سے مرحوم عالم خان نے کبھی اپنے اس تعلق کو ذاتی فائدے کے لئے استعمال نہیں کیا جو آج کل ایسا ھوتا ھے، بلکہ ہمیشہ ترگ کےلئے کام کیا۔جس کا واضع ثبوت ترگ ھائی سکول کا قیام ھے۔ اس مزید آگے بڑھے اور وھاں ھائی سکول کے ساتھ عالم خان مرحوم کی زمین تھی انھوں نے 6 کنال زمین بھی سکول کو عطیہ کے طور پر وقف کردی،یہ ان کی علم دوستی کا ثبوت ھے۔وہی زمین آج کل اس کی قیمت کروڑوں میں بنتی ھے۔جو آج کل گورنمنٹ گرلز ھائرسکینڈری ترگ چل رھا پہلے یہ لڑکوں کا ھوا کرتا تھا۔اس سکول کا ایک نام تھا تعلیم کے سلسلے میں،کمرمشانی،چاپری،برزی،مندہ خیل،کلور،کلونوالہ۔ مٹھہ خٹک،وغیرہ سے لڑکے اس سکول میں حصول تعلیم کے لئے آتے تھے۔ ھائی سکول ترگ مکمل ھونے کے بعد ماسٹر حاجی عالم خان آرام سے نہ بیٹھے ترگ کےہر محلے،وانڈھے میں لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں کے قیام کے لئے سر گرم ھوگے تھے۔۔ اسوقت ترگ کے گرد و نواح میں پرائمری،بوائز،گرلز،جنتے سکول فروغ تعلیم میں اہل علاقہ کی تعلیمی ضرویات پوری کر رھے ہیں۔یہ سب ماسٹر حاجی عالم خان مرحوم کی کاوشوں کا ثمر ہے۔تعلیمی خدمات کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے علاقے کے لئے زرعی یونیورسٹی کے قیام کے لئے بھی تحریک شروع کی،اس کا مقصد زراعت کو جدیدخطوط پر استوار کر کے علاقے میں زرعی پیداوار میں اضافہ تھا۔اور ساتھ ہی اپنے علاقے میں ایک اعلی ادارے کا قیام ۔۔۔ آپ محنت پر یقین رکھتے تھے۔زراعت سے خصوصی دلچسپی تھی۔اپنے علاقے میں سکول،کالج،مسجدوں تک پودے لگائے۔جو آج کل بلین ٹری،شجر کاری مہم کا ہر سال چرچا ہوتا ہے۔حاجی عالم خان مرحوم نے کئی دہائیاں پہلے اس کی افادیت اور اس سلسلے میں مہم چلائی تھی،خود اس پر عملی طور پر کام بھی کیا تھا۔۔ مستقبل پر گہری نظر رکھتے تھے۔جس وقت ترگ کے تھل بارانی علاقوں میں پانی کی کمی اور،فصلوں کا بارشوں پر ہی انحصار ہوتا تھا تو آپ نے پیشنگوئی فرمائی تھی ایک وقت ایسا آئے گا تھل میں پانی کی فروانی ہو گی،تھل کی زمین بارانی نہیں کہلائے گی،لوگ اس کی باتوں پر ہنستے تھے کہ یہ کیسے ہو گا کہ تھل کے چاروں طرف پانی ہی پانی ھو گا؟۔آج دیکھیں تھل پر جگہ جگہ ٹربائین لگی ھوئی ہیں۔جس کی پندرہ سے بیس کنال زمین یے اس نے بھی اپنا ٹیوب ویل لگا رکھا ھے۔. آپ اخبار بینی کے بھی شوقین تھے۔اپنے علاقے کے مسائل کے حل کے لئے اخبارات کو کئی خطوط بھی لکھے۔نوائے وقت میں نور بصیرت کے عنوان سے کالم بڑے چاہ کے ساتھ پڑھتے،نور بصیرت،عنوان کے کالم نگار نے آپ کی خدمات پر تبصرہ بھی لکھاتھا۔ صوم صلواہ کے پابند تھے،ریٹائر منٹ کے بعد آپ نے خانہ کعبہ کے ساتھ ساتھ روضہ رسول ص پر حاضری کا شرف حاصل کیا۔لباس میں سفید رنگ بہت پسند کرتے،کہتے سفید لباس مرد کی زینت ھوتا ہے۔ شیروانی،جناح کیپ،بند جوتے پہنتے،جاڑے میں براوں رنگ کی چادر استعمال کرتے۔آپ سے محبت کرنے والے جناح کہ کر پکارتے، اپنے شاگردوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے،شاگرد بھی عالم خان مرحوم کی عزت کرتے، کئی شاگرد تو آپ کے لئے تحائف بھی لاتے،آپ کے ایک دو، شاگرد کا یہاں ذکر کرتا چلوں،جب وہ پہلی جماعت میں داخل ہونے آیا،ہیڈ ماسٹر صاحب ان کے گھر میں بیٹھا ہواتھا تو آپ نے اس وقت بچے کو دیکھ کر پیار سے ماہیا کہ کر پکارا،گھر والوں کو ماہیا نام اتنا پیارا لگا کہ یہی نام سکول کے بچوں تک زبان زد عام ہو گیا۔سبھی ماہیا کہ کر پکارنے لگے،یہ تھے بینک آفیسر عبدالغفور خان پنجے خیل،۔ایک شاگرد غلام قاسم خان راجے خیل فوج کی گاڑی چلا رہے تھے حاجی عالم خان مرحوم کلونوالہ سکول سے پیدل ترگ کی جانب آرہے تھے،جیسے ہی قاسم خان نے اپنے استاد کو سڑک پر دیکھا فورا گاڑی روک کر حاجی عالم خان مرحوم کو سیلوٹ کیا۔چند منٹ تک۔ کھڑا رہا پھر اپنے استاد کو گاڑی میں بیٹھایا۔ آپ نے مانجھی خیل(G.P.S) سکول پر ایک مضمون لکھا تھااس میں ایک طالب علم کاذکر کیا تھا کہ یہ بڑا ھو کر ملک میں کسی اعلی پوسٹ پر پہنچ جائے گا۔آپ کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی۔یہ ہیں جناب ڈاکٹر دوست محمد خان محمد خیل ان کی اولاد کو اللہ پاک نے اعلی پوسٹیں عطا فرمائیں۔۔اور ترگ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top