WAQAR AHMED MALIK

WAQAR AHMED MALIK

WAQAR AHMED MALIK

Waqar Ahmad Malik  is a English lecturer and well-known  Urdu fiction writer from Mianwali . He is having many famous afsana at his credit

Waqar Ahmed Malik was born on 19 July 1973 in Mianwali, Punjab. His father name is Sher Muhammad Shahid .His father name is Sher Muhammad Shahid . He is MA Urdu, MA English Literature and M.Phil. English .He is a English teacher by profession , He is a well-known writer and Novelist .He wrote his  first novel in 2000.

He completed his high school education from Government Central Model School Mianwali from 1986 to 1992, Mianwali and migrated to Lahore for further studies.. He was associated with educational institutes like Lahore Leads University. Government Postgraduate College-Mianwali, University of the Punjab, Lahore, Pakistan,

Waqar Ahmed Malik as writer is deeply in touch with the conditions of his people and can cut right to the heart of their interactions. The vastness of characters makes the novel kaleidoscopic. … The scenes are beautifully constructed to depict the society in which characters live but the narrative dominates the novel instead of the characters. … There is enough drama to embody emotions. …

Waqar Ahmed Malik afsana,s has been published in the country famous magazines and well-known in the circle of fiction writers in the country .

Waqar Ahmed Malik like this poem

My strength( Poem By Shahana Firdous from  Kundian)

I was tired from every thing.

Blindness or darkness was everywhere No one was there to give me a hand of sympathy.

No one was there.. I lost my senses like a mad person..

Every one was there to criticize me.

No one was there to give me a hand of sympathy .

No one was there..

Then,I heard a voice from myself..

A voice of Allah Allah you were there to give me your hand. Yes Allah you were there and you are there.. You give me strength to face everything To face troubles and fears.. Yes Allah you are there Yes Allah you are my strength

WAQAR CONTACT INFORMATION    –

Mobile Phone  Number -0300 6080361

Email –  waqar_malik1974@yahoo.com

House No. N53, Mohalla Sherman Khel Mianwali

وقار احمد ملک صاحب ایک باوقار افسانہ نگار

تحریر و تعارف آغا نیاز مگسی

شعر و ادب کی دنیا میں ہر دور میں ایسے ادیب اور شاعر و شاعرات نے جنم لیا ہے جنہوں نے جنہوں نے نہ صرف شعر و ادب اور تاریخ کو زندہ رکھا ہے بلکہ اس کے فروغ کے لئے بھی اپنا ہر ممکن کردار ادا کیا ہے ۔ تیز رفتار ترقی یافتہ اور سائنسی دور میں ادب کی ترویج و ترقی اور فروغ کا عمل بہت مشکل ہے جس میں لوگ کتاب اور کتب بینی سے دور اور انٹرنیٹ کی فضولیات سے وابستہ ہوتے جا رہے ہیں ایسے میں علم و ادب میں دلچسپی رکھنے والے لوگ بہت کم ہیں اور وہ ایسی صورتحال میں علم و ادب کی بہت بڑی خدمت کر رہے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک نامور افسانہ نگار اور ناول نگار محترم وقار احمد ملک صاحب بھی ایک ہیں ۔

وقار احمد ملک صاحب 19 جولائی 1973کو میانوالی پنجاب میں شیر محمد شاہد صاحب کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے پرائمری سے لے کر ایم اے اردو، ایم اے انگریزی ادب، اور ایم فل انگریزی تک اپنے آبائی شہر میانوالی میں ہی حاصل کی ۔ آج کے دور میں ناول اور افسانہ لکھنے اور پڑھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ لوگ جلدی اور عجلت میں ہیں ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ کئی کئی صفحات پر مشتمل طویل ناول اور افسانے پڑھ سکیں اور لکھنا تو اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے ۔ ایسے میں ناول اور افسانہ نگاری ایک غنیمت ہے ۔ جو لوگ معیاری افسانے اور ناول لکھتے ہیں وہ بھرپور داد و تحسین اور مبارک باد کے لائق ہیں ۔ وقار احمد ملک صاحب کا بھی کمال یہ ہے وہ نہ صرف افسانے اور ناول لکھ رہے ہیں بلکہ کتاب بھی چھاپتے ہیں اور قارئین کو پڑھنے پر مجبور بھی کرتے ہیں ۔ میں خود ان کے قارئین میں شامل ہوں ۔ وہ عوامی مزاج اور موسم کو مدنظر رکھ کر موضوع کا انتخاب کرتے ہیں اور اس میں دلچسپی کا تمام مواد اور معلومات بھی شامل کرتے ہیں ۔ آجکل کے انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا میں وقار صاحب کے افسانے خوب گردش میں اور قارئین کے زیر مطالعہ رہتے ہیں ۔

انٹرنیٹ کے علاوہ اخبارات اور رسائل میں بھی وقار احمد ملک صاحب کے افسانے اور ناول چھپتے رہتے ہیں جن میں ارردو ڈائجسٹ، فیملی میگزین، ،نوائے وقت، سنڈے میگزین، تسطیر، ادب دوست، بیاض اور فانوس وغیرہ شامل ہیں ۔

وقار صاحب کی افسانوں اور ناول کی 3 کتابیں علم و عرفان پبلشرز اردو بازار لاہور سے چھپ چکی ہیں جن میں رات، ریل اور ریستوران( ناول) جبکہ سرخ بتی( افسانوں کا مجموعہ ) اور جنگل میں گائوں ( افسانوں کا مجموعہ ہے

 

وقاراحمد ملک-منورعلی ملک

وقار احمد ملک میرے دیرینہ فیس بک فرینڈ بھی ھیں ، سٹوڈنٹ بھی – ایسے سٹوڈنٹ کہ میں جس وقت بھی کہوں فلاں جگہ جانا ھے، اپنے سارے کام چھوڑ کر میرے ساتھ چل پڑتے ھیں- 1993-95 میں میرے سٹوڈنٹ رھے ، پھر ایم اے اردو کیا، مگر میرٰ ی ھم نشینی کا نشہ باقی رھا، اس لیے بعد میں ایم اے انگلش بھی کر لیا- اس کے بعد ایم فل بھی-

وقاراحمد ملک گورنمنٹ کالج میانوالی میں میرے محترم بھائی حاجی محمد اسلم خان نیازی کے جانشین ھیں- ایم اے اردو کے دوران ھی افسانہ نگاری شروع کردی تھی- ان کے افسانوں کے دومجموعے شائع ھو چکے ھیں- “جنگل میں گاؤں “ ان کے افسانوں کا تازہ مجموعہ ھے- وقار کی افسانہ نگاری پر اپنی مفصل رائے توکچھ عرصہ بعد ایک الگ مضمون میں دوں گا- فی الحال یہ بتانا ضروری سمجھتا ھوں کہ ان کے افسانے معروف ادبی رسائل، تسطیر، ادب دوست، فنون اور اردو ڈائجسٹ میں بھی شائع ھوتے رھتے ھیں- روزنامہ نوائے وقت اور روزنامہ دنیا کی ادبی اشاعتوں میں بھی ان کے افساے شائع ھوتے ھیں- اس سے ان کی ادبی اھمیت کا اندازہ لگا لیں-

وقار انگلش کے مقبول ٹیچر بھی ھیں- اپنی اکیڈیمی کے ذریعے خاصے مشہورومعروف ھیں- میرے ساتھ وقار کا رابطہ فیس بک کے علاوہ موبائیل فون پر بھی رھتا ھے- ان کا اشعار کا انتخاب لاجواب ھوتا ھے- روزانہ اپنی پسند کا کوئی نہ کوئی شعر مجھے بھیجتے رھتے ھیں- ھر شعر لاجواب ھی ھوتا ھے ‘ اس لیے میں ان کے SMS کا منتظر رھتا ھوں-منورعلی ملک-

 

وقاراحمد ملک

“رات ریل اور ریستوراں ” کا وقار احمد ملک ____¡¡¡ حرف آشنا-عصمت گل خٹک

 

وقاراحمد ملک  میرے شہر کا زندہ اور چلتا پھرتا افسانہ ہے __جس نے گزرتے وقت کیساتھ ساتھ ایک اور زقند بھرتے ہوئے ناول نگاری کا چولہ بھی پہن لیا ہے _ وقار جو کچھ اپنے ارد گرد اور باہر دیکھتا ہے حیرت انگیز طور پر اس سے انساپئیر ہوتے ہوئے اپنے اندر اس سےجڑی کیفیات و جزئیات کو کچھ زیادہ ہی دیکھ لیتا ہے ___پھر اسکی یہ سخاوت ہے یا قدرت کی عطاکردہ نعمتوں کی زکوٰتھ __ کہ وہ ان انسانی جذبات واحساسات میں لتھڑے ہوئے مناظر میں دوسروں کو بھی ؛شریک نظر ؛کر نے کی نہ صرف کوشش کرتا ہے بلکہ کہیں کہیں ھمراز بھی بنا لیتا ہے __¡¡ No photo description available.زمانہ طالب علمی میں __میں نے بھی کچھ افسانے لکھنے کی کوشش کی تھی اور میری خوش بختی ہے کہ پروفیسر سلطان محمود ٰڈاکٹر اجمل نیازی ٰپروفیسر فیروز شاہ ٰپروفیسر منورعلی ملک ٰپروفیسر سلیم احسن اور پروفیسر سرور خان نیازی جیسے اساتذہ کی ہفتہ وار مجالس میں ان پر دھواں دار قسم کی گفتگو کی حامل مجالس بھی منعقد ہوتی رہی ہیں مگر میرا خیال ہے اس لحاظ سے میں بڑا بدقسمت رہا کہ اسطرح گھنے سائیہ دار اشجار کی موجودگی کے باوجود افسانہ مجھ سے روٹھ گیا اور میں نے شاعری میں منہہ مارنا شروع کردیا___شاعری نخرے دکھانے پر آئی تو قبلہ اجمل نیازی نے مجھے نثر کا بندہ قرار دیتے ہوئے اس راہ پر لگا دیا ___یوں میں ادھر کا رہا اور نہ ادھر کا ___مگر وقاراحمد ملک بڑا خوش نصیب رہا کہ اس نے پہلے اپنے آپ کو دریافت کیا اور پھر اپنا پہلا قدم ہی ؛صراط مستقیم؛ پر رکھتے ہوئے افسانے کو ہمراہ و ہمراز بنا لیا _جس کے نتیجہ میں ظاہر ہے افسانے نے بھی وقار کیساتھ کسی طرح کی “ہینکی پھینکی” کی بجائے بانہیں کھول کر گلے لگایا اور پھر چل سو چل ___¡¡¡¡ افسانے کی ہمسفری نے “رات؛ ریل اور ریستوراں” کی راہ دکھائی __جس پر وقار نےپورے ہوش وحواص کیساتھ قدم رکھا اور اپنے ہر قاری کو بھی ہمسفر و ہمراز بنانے کی کوشش کی __جس میں میرا خیال ہے کہ وہ بڑی حد تک کامیاب بھی رہا ہے. “رات ریل اور ریستوراں”میں صادق شاہ اگر ایک طرف اپنی داستان حیات سناتا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں ریل جیسے فینٹسی ذریعہ سفر کی نوحہ خوانی کرتا بھی دکھائی دیتا ہے__جس میں سفر کیساتھ ساتھ مسافر پر بہت سی کہانیوں _چہروں _داستانوں اور منظروں کے راز بھی کھلتے چلے جاتے ھیں۔ ناول کے اختتام پر صادق شاہ کی موت میں ___پتہ نہیں مجھے کتنی موتیں نظر آئیں ۔؟ایک عہد _ایک شاندار ذریعہ سفر _ایک کلچر _ایک نسل اور معلوم نہیں کیا کچھ مرتا دکھائی دیا ؟مگر جس باریک بینی کیساتھ وقار نے اس اترتی موت کو اپنے لفظوں میں “رات ریل اور ریستوراں” ک صورت میں پینٹ کیا ہے ____مجھے اطمینان ہےکہ افسانہ نگاری کے بعد میانوالی کی دھرتی پر وقار احمد ملک کی   صورت میں ایک ایسے ناول نگار نے جنم لیا ہے __جس کے روشن مستقبل کی پیشن گوئی کی جا سکتی ہے۔وقار احمد ملک نے بہت کھلی دل سے اس کی افسران ،

میانوالی. آرگ  کی ٹیم وقار احمد ملک   کے  تعاون  کی شکر گزار ہے -براہ کرم نیچے  آئیکن پر کلک کریں   اور  وقار احمد ملک   کے  افسانے  پڑھیں- شکریہ

 

1 thought on “WAQAR AHMED MALIK”

  1. ماشاء اللہ میانوالی کی مٹی سے چھپے موتی ڈھونڈ لانا اس ویب سائٹ کا خاصہ ہے. صحیح معنوں میں میانوالی کی واحد ویب سائٹ ہے جو نئ نسل کو میانوالی کے ہیروز سے متعارف کراتی ہے .
    شیر بہادر صاحب کا کام قابل دید اور قابلِ تعریف ہے.
    برصغیر پاک و ہند کے عظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کا تعلق اسی مٹی سے تھا انکی خدمات پر تفصیل سے لکھنا چاہیے. حریت پسند لیڈر بھگت سنگھ آزاد سنٹرل جیل میانوالی میں رہے جس نے برٹش راج کے سامنے بغاوت کا علم بلند کیا اسکے جیل میں ایام کی یاداشتیں قلمبند کرنی چاہیے.
    وکٹوریہ کراس پانے والے برٹش دور کے سولجر کی شجاعت کی
    تفصیل کو سامنے لانا چاہیے جنکا ذکر مٹتا جا .
    رہاہے. ذکاء ملک, چاہ میانہ میانوالی

Your words for Mianwali and Mianwalians

%d bloggers like this: