MERA MIANWALI AUGUST  2023

MERA MIANWALI AUGUST 2023

MERA MIANWALI AUGUST  2023

منورعلی ملک کے    اگست 2023کے فیس  بک   پرخطوط

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گذر گیا وہ زمانہ جب سائیکل نوجوان نسل کی محبوب سواری ہوا کرتی تھی۔ شوقین مزاج من چلے نوجوان اپنی سائیکلوں کو دلہن کی طرح سجا کر گھر سے نکلتے تھے۔ خاص طور پر میانوالی میں سائیکلوں کی آرائش دیکھنے کے لائق ہوتی تھی۔ عیسی خیل میں ایک من چلے نوجوان نے سائیکل پر ہینڈل کی جگہ کار کا سٹیرنگ لگایا ہوا تھا۔
ہمارے بچپن کے دور میں برطانیہ کی بنی ہوئی ہرکولیس فلپس اور ریلے Hercules ‘ Phillips ‘ Raleigh سائیکلیں ہوا کرتی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد شاہدرہ لاہور میں رستم سائیکل فیکٹری نے پاکستان میں سائیکل سازی کا آغاز کیا ۔ بعد میں کمپنی کا نام رستم کی بجائے سہراب رکھ لیا گیا ۔ چند اور مقامی کمپنیاں بھی اپنے اپنے نام سے سائیکل بنانے لگیں ۔
سجی سجائی سائیکل پر سوار ہوکر شہر کا چکر لگانا نوجوانوں کی پسندیدہ عیاشی ہوا کرتا تھا ۔ داودخیل میں ملک دوست محمد اور امیرخان ولد مقرب خان کی دکانوں سے سائیکلیں ایک آنہ فی گھنٹہ کے حساب سے کرائے پر بھی ملتی تھیں۔ کرائے پر سائیکلیں عام طور پر سائیکل چلانا سیکھنے والے بچے لیا کرتے تھے۔
کیا زمانہ تھا ، سائیکل چلانا سیکھنے کے بعد بندہ خود کو جہاز کا پائلٹ سمجھنے لگتا تھا۔ سائیکل سے اترنے کو دل ہی نہیں چاہتا تھا۔
کدھر گیا وہ سادہ دور ، وہ معصوم خوشیاں۔۔۔۔۔ !۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔۔١  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گندم کے علاوہ بارانی زمینوں پر دوسری غذائی جنس باجرہ اسی موسم میں کاشت کیا جاتا تھا۔ باجرے کا پودا پانچ چھ فٹ لمبا اور اس کا سٹہ تقریبا ایک فٹ لمبا ہوتا ہے۔ فصل پکنے سے پہلے باجرے کے سٹے “تلی تے مروڑ” کر کچے دانے بھی بڑے شوق سے کھائے جاتے تھے۔
ہمارے گھر کے سامنے چونک سے سڑک تک دس کنال کا ایک پلاٹ دادا جی کی ملکیت تھا۔ اس پلاٹ میں ہمارے محلے کے چاچا بشیرن (بشیر احمد باجوہ) نصف پیداوار کے عوض باجرہ کاشت کرتے تھے۔
باجرے کے سٹوں سے کچے دانے نکال کر کھانے کے لییے ہم بچہ لوگ بار بار کھیت پر حملہ آور ہوتے تھے۔ چاچا بشیرن ہمیں دیکھ کر للکارتے تو ہم کچھ دیر کے لییے ادھر ادھر ہو کر پھر آجاتے۔ دن بھر چاچا بشیرن کے ساتھ یہ آنکھ مچولی چلتی رہتی تھی۔
فصل پکنے کے بعد باجرہ مختلف صورتوں میں بہت شوق سے کھایا جاتا تھا۔ اس کی روٹی کو پیاچہ کہتے تھے۔ پیاچہ اور نمکین لسی دوپہر کا بہترین کھانا سمجھا جاتا تھا ۔ خالص دیسی گھی اور سرخ پشاوری شکر ملا کر پیاچے سے چوری بھی بنتی تھی۔ یہ میری پسندیدہ غذا تھی۔ نہایت لذیذ چیز تھی یہ چوری۔ سکول سے واپس آکر میں دوپہر کو یہی چوری کھایا کرتا تھا۔
باجرے کے دانے بھٹی پر بھوننے سے ننھے منے پاپ کارن بن جاتے تھے۔ یہ بھی بہت لذیذ ہوتے تھے۔
باجرے کے دانے پانی میں اُبال کر بھی کھائے جاتے تھے۔ ان ابلے ہوئے دانوں کو بھنگور کہتے تھے۔ ابلتے پانی میں گڑ ملا کر میٹھے بھنگور بھی بنایا کرتے تھے۔
یہ سادہ سی غذائیں لذت اور غذائیت کے حساب سے آج کل کی کسی غذا سے کم نہ تھیں۔
گذر گیا وہ زمانہ، چلے گئے وہ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔٢  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلوں کے رشتے موت بھی نہیں مٹا سکتی۔ میرے محترم بھائی معروف شاعر سید انجم جعفری خود تو اس دار فانی سے رخصت ہو گئے مگر مجھ سے اپنی محبت اپنے سعادت مند بچوں کے سپرد کر گئے۔ بحمداللہ وقاص اور عامر بیٹا مجھ سے رابطے میں رہتے ہیں اور اپنی علمی و ادبی خدمات سے مجھے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
چند دن پہلے وقاص نے اپنی تازہ تصنیف ارسال کی۔ یہ کتاب 25 محترم شخصیات کا تاثراتی تعارف ہے۔
جیسا کہ وقاص نے اس کتاب کے آغاز میں لکھا ان تحریروں کو ہم خاکہ نہیں کہہ سکتے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تحریریں تاریخ نہیں تخلیق ہیں۔ وقاص کہتے ہیں:
میں نے یہ خاکے لکھے نہیں بلکہ مجھ سے سرزد ہوئے ہیں۔ ان خوبصورت لوگوں کی خدمات، ان کے ساتھ گذرے لطیف لمحات نے میرے دل کو مائل اور قلم کو متحرک کیا۔
کتاب میں متعارف زیادہ تر شخصیات سے وقاص کا تعلق جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلباء کے وسیلے سے استوار ہوا۔ اس لیئے یہ تعلق بے تکلف دوستی کی بجائے عقیدت و احترام تک محدود رہا۔ ہونا بھی یہی چاھیئے تھا کیونکہ اپنی دینی اور علمی خدمات کے لحاظ سے یہ تمام شخصیات محترم و ممتاز ہیں۔ ان کا کردار نظریاتی commitment اور dedication کا عمدہ نمونہ ہے۔
اس کتاب میں وقاص نے اپنے والدین کا بھی الگ الگ ذکر کیا ہے۔ یہ دو تحریریں دوسری تحریروں سے ذرا مختلف ہیں کہ ان میں والہانہ محبت کا رنگ عقیدت پر غالب ہے۔ یہ کسی قدر جذباتی تحریریں حاصل کتاب ہیں۔
وقاص کا انداز تحریر بھی منفرد ہے۔ ہر شخصیت کے تعارف کا عنوان کسی معروف شعر کا مصرع ہے۔ خود کتاب کا عنوان :
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
بھی ایک معروف مصرع ہے۔ ایک اچھی بات وقاص کے انداز تحریر کی یہ ہے کہ جہاں اردو کے ڈھیلے ڈھالے الفاظ و تراکیب سے مفہوم واضح نہ ہو سکنے کا خدشہ سامنے آیا وہاں وقاص نے بلا تکلف انگریزی کے الفاظ و تراکیب سے ابلاغ کے تقاضے پورے کر دیئے ۔ اردو فارسی اشعار اور کہیں کہیں آیات قرآن حکیم نے کتاب کو چارچاند لگا دیئے ہیں۔
یہ دیدہ زیب کتاب دور حاضر کے معتبر پبلشر بک کارنر جہلم نے شائع کی ہے۔ حسن اشاعت کے حساب سے بک کارنر جہلم اگر لاہور کراچی کے بڑے پبلشرز سے آگے نہیں تو کسی سے پیچھے بھی نہیں۔یہ حیات آموز کتاب وقاص کا ایک قابل قدر علمی و ادبی کارنامہ ہے۔———۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔٣  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے بچپن کے دور میں بچے بارش کی دعا کے لییے توے کی کالک سے منہ کالے کر کے گھر گھر جاکر یہ کہتے ہوئےاناج کی بھیک مانگتے تھے
کالی بکری کالا شینہہ ، گھتو دانڑیں وسے مینہ اللہ اللہ ہو بی اللہ ،
بچوں کی دعا خالی نہیں جاتی تھی۔ بارش ضرور ہوتی تھی۔
پھر اس تمام اناج کو پانی میں ابال کر گھنگھنیاں بنا کر کھایا کرتے تھے۔
پوسٹ پر لوگوں کے تبصرے

Bahadur Janjua

استاد مکرم ! آپکے موضوعات یادوں کے ایسے تار چیھڑتے ہیں کہ کچھ کہے بنا رہ نہیں پاتا ۔ سوچتا ہوں کہ اپنا دیس کہاں ایسا تھا کہ لندن کیطرح صبح کا سورج بھی بادلوں کی اوڑھنی اوڑھ کے نکلے اور شام کا تن بدن بھی بھیگا بھیگا ہو۔ وہاں تو زمیں گھٹاؤں کی چھتر چھاؤں کو ترستی رہتی اور غریب کی بیٹی کی طرح آسماں بادلوں کی سندور کی راہ دیکھتے دیکھتے اک عمر گنوا بیٹھتا ۔ ایسے میں گاؤں کے کچھ معصوم بچے اکٹھے ہوتے ۔ بندوں کے در پر ہاتھ پھیلاتے تو بندوں کے رب کے سامنے جھولی ۔ کڑکتی دوپہر میں گاوں کی کچی راہوں پر انکے ننگے پیروں کی دھول اڑتی۔ وہ در دروازے کھڑکاتے اور
کالیاں گیٹیاں کالے شینہہ۔۔۔۔۔۔۔ گھتو دانڑیں وسے مینہہ۔۔۔۔۔۔۔ گلی گلی گاتے پھرتے ۔
کسی کے در سے پڑوپی ملتی ، کوئی بک بھر کے دیتی تو کوئی اپنے پوچھن کے پلو سے کب کے بندھے کچھ سکے اس اڑتی دھول پر قربان کرتی۔
دھول سے پاوں اٹ جاتے اور جھولیاں کسانوں کے بھڑولوں سے نکلی گندم سے بھر جاتیں ۔ یہ دانے کسی دکان کے کونے میں پڑی بوری کا پیٹ بھرتے اور دوسرے کونے میں چاولوں کی ادھ کھلی بوری جھولیوں کے دامن کو جا آباد کرتی ۔ معصوم ننگے پیر ونڑجھارا کے نام سے موسوم قبرستان کی راہوں کی راہ لیتے اور ونڑ کی چھاوں تلے سوئے ونڑ والا فقیر کے دربار کو جا آباد کرتے ۔ معصوم ہاتھ لکڑیاں چنتے ، پاوں میں کانٹے چبھتے اور تلووں سے خون رستا تو آسماں سے اترتے مرہم کا انہیں یقین سا ہونے لگتا ۔
گڑ کے خیراتی چاول تیار ہو جاتے تو ننگے پاؤں کا اک معصوم گاؤں کو جاتی پکی سڑک پر جا کھڑا ہوتا ۔ ہر آتے جاتے کو ” چاچا خریت کھادی ونج ” کی التجا کرتا ۔ کوئی رکتا تو کوئی رک کر پھر چل دیتا ۔
اک گھٹا اٹھتی اور معصوم قدموں کی اڑتی دھول بیٹھ سی جاتی ۔ آسماں زمیں کی جھولی بھر دیتا ۔ چہرے چمک اٹھتے ، چمکتا سورج ڈوبنے لگتا تو آسماں پر قوس قزح اپنے پر پھیلا دیتی ۔ قوس کے رنگ آنکھوں میں سماتے تو جھولی پھیلانے والے کی معصوم آنکھیں پھیل جاتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اک شور سا اٹھتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” خدا دی پینگھ ، خدا دی پینگھ”۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مٹی کو ماہ و سال کی پیاس سہنا پڑی ،ابن آدم کے ننگے پاوں نے در در کی مسافتوں کی خاک چھانی، زمیں پر رب کے خلیفہ نے خاکی پتلے کے سامنے جھولی پھیلائی تب جا کے خدا اپنی پینگھ پر بیٹھا ۔ اب کون کہے  خدایا تو وی خدایا ایں !!!  بہادر جنجوعہ ، لندن  –٣  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا زبردست بارشیں ہوتی تھیں اس موسم میں – ! اچانک شمال مغرب سے کالا سیاہ بادل اٹھتا، گرجتا اور فورا چھما چھم بارش برسنے لگتی۔ اس بادل کو لوگ چچالی والا بادل کہتے تھے کیونکہ یہ ضلع میانوالی کی پشتون بیلٹ کی سرحد پر واقع چچالی پہاڑ کے پار سے طلوع ہو کر ہمارے علاقے میں آتا تھا۔ یہ اتنی تیزی سے آتا اور برستا تھا کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملتا تھا ۔ اسی لییے کہتے تھے۔۔۔۔
چچالی بدل گجے، تریمت گاں چوینی بھجے۔
(چچالی والے بادل کی گرج سنتے ہی گائے کا دودھ دوہتی ہوئی عورت بارش کی بوچھاڑ سے بچنے کے لییے بھاگ کر کمرے میں چلی جاتی ہے)۔
لگاتار موسلادھار بارش دیکھتے ہی دیکھتے جل تھل ایک کر دیتی تھی۔ پانچ سات سال تک کی عمر والے بچے قمیضوں کو لنگوٹ کی طرح باندھ کر بارش میں نہایا کرتے تھے۔ اس عمر کے بچوں کو شلوار یا کچھا پہنانے کا تکلف نہیں کیا جاتا تھا۔ اس لیئے قمیض کے نیچے اور تو کچھ پہنا نہیں ہوتا تھا، قمیض ہی سے لنگوٹ کا کام لیا جاتا تھا۔
کاغذ کی کشتیاں بھی ہم نے بہت چلائیں۔
بپھرے ہوئے پہاڑی نالوں بھڑکی، جابہ وغیرہ کا شور دور دور تک سنائی دیتا تھا۔
رات بھر ہزار ہا مینڈکوں کی ٹراں ٹراں اور گیدڑوں کی ہو ہو کا بیک گراونڈ میوزک ماحول کو خاصا پُراسرار بنا دیتا تھا۔
چچالی والے بادل کی موسلادھار بارش سراسر رحمت ہوتی تھی۔ کبھی کسی جانی یا مالی نقصان کی خبر سننے میں نہ آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔٤  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوگوار یادیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد محمود احمد ہاشمی کی یاد میں تعزیتی اجلاس ۔۔۔۔ جناح ہال میانوالی
میری صدارت ۔۔۔۔۔
مہمانان خصوصی۔۔۔ ڈاکٹر آصف مغل اور لالا عیسی خیلوی
مہمانان اعزازی ۔۔۔۔۔ محمد مظہر نیازی اور مرحوم انوار حسین حقی

٥  اگست 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کالا سٹیم انجن ہمارے بچپن کا پہلا پیار تھا۔ میں اور میرا کزن غلام حبیب ہاشمی ان انجنوں کے عشق میں بہت عرصہ مبتلا رہے۔ ہمارا یہ عشق اتنا والہانہ تھا کہ گھر سے سکول کے لیئے تیار ہو کر نکلتے تو سکول کی بجائے سیدھے ریلوے سٹیشن کا رخ کرتے ۔ ڈیڑھ دو کلومیٹر پیدل چل کر سٹیشن پہنچتے اور دوپہر تک آتے جاتے انجنوں کی زیارت کرتے رہتے تھے۔ ایک دن واپس آتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ چچا ملک محمد صفدر علی نے خوب چھترول کی ، مگر باز ہم پھر بھی نہ آئے – البتہ سکول ٹائیم کی بجائے دن کے پچھلے پہر آنے جانے لگے۔
ان کالے سیاہ انجنوں میں اللہ جانے کیسی کشش تھی کہ ہمیں ان سے ایک قسم کی عقیدت سی ہو گئی۔ مسلسل مشاہدے سے ہمیں ان انجنوں کی اچھی خاصی پہچان بھی ہوگئی۔ ہمارے علاقے میں ٹرینوں کے ساتھ زیادہ تر SGS اور SGC , SP, XA – انجن آتے تھے۔ بھاری بھرکم اچے لمے XA انجن کی ایک اپنی شان تھی ۔ یہ انجن لاہور آنے جانے والی ٹرین کے ساتھ آتے جاتے تھے۔
اب تو انجن نام کی جو مونث سی چیز گاڑیاں کھینچتی نظر آتی ہے ہم تو اسے انجن سمجھتے ہی نہیں۔
ہمارے محبوب کالے انجن کے چلنے کی مخصوص چھک چھک کی آواز اور اس کی درد بھری سریلی کوک اب کہاں۔ اب تو قریب سے گذرتی ٹرین کو دیکھنے کو دل ہی نہیں چاہتا۔ریلوے انجنوں کے بارے میں بار بار لکھنا آپ کو اچھا لگے نہ لگے مجھے تو بہت اچھا لگتا ہے۔ بچپن کا پہلا پیار جو ہوا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔٦  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مہنگا سفر۔۔۔۔
لاہور سے ایک کزن کے ہمراہ میانوالی آنا تھا۔ اس زمانے میں لاہور سے میانوالی کی ڈائریکٹ بس سروس دستیاب نہ تھی۔ ماڑی انڈس ٹرین سے سفر کا فیصلہ ہوا۔
بھائی صاحب کو وی آئی پی بننے کا بہت شوق تھا۔ کہنے لگے رات بھر کا سفر ہے۔ بیٹھ کر رات کون بسر کرے۔ سلیپر ریزرو کرا لیتے ہیں۔ بڑے لوگوں کی طرح مزے سے سو کر سفر طے کریں گے۔ دس بارہ گھنٹے کے سفر کا پتہ ہی نہیں چلے گا۔تین چار گنا کرایہ دے کر ہم نے سلیپر ریزرو کروا لیا۔ اس میں صرف ہم دو ہی مسافر تھے۔
دسمبر کی شام تھی۔ ٹرین شیخوپورہ پہنچی تو بارش شروع ہو گئی۔ بارش سے بچنے کے لیئے ہم کھڑکی بند کرنے لگے تو معلوم ہوا کھڑکی کا شیشہ ہی غائب ہے۔ ادھر بارش مسلسل تیز ہوتی جا رہی تھی۔ سرد ہوا کے ٹھنڈے یخ جھونکوں نے ناک میں دم کردیا۔ سردی سے دانت بجنے لگے۔ سردی کا اثر کم کرنے کے لیئے ہم نے بغلوں میں ہاتھ دے کر کمرے کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تیز تیز چلنا شروع کردیا۔ مگر اس سے بھی کچھ فرق نہ پڑا تو ہم اگلے سٹیشن پر ٹرین سے اتر کر عام مسافروں کے ڈبے میں اچھے بچوں کی طرح سر جھکا کر بیٹھ گئے اور اسی حالت میں سفر تمام کیا۔
میں نے بھائی صاحب سے کہا اس پنگے کا فائدہ؟ تین چار گنا زائد کرایہ دے کر تھرڈ کلاس میں سفر — لعنت ہے تمہاری عقل پر۔
ہنس کر بولے اس قسم کے پنگے کو انگلش میں misadventure کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔٧  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچپن بھی کیا دلچسپ دور ہوتا ہے۔ انسان ایسی ایسی حرکتیں کرتا ہے کہ بڑے ہو کر سمجھ نہیں آتی ان باتوں پر روئیں یا ہنسیں۔
میرے ماموں زاد ممتاز حسین ملک اور میں نے دو دو آنے ڈال کر 4 آنے کا ایک بٹیرا خریدا۔ ۔مہندی لگا کر اس کی آرائش کی اور اسے اپنے محلے کے لڑکوں کے بٹیروں سے لڑانے لگے۔ بہت زبردست لڑاکا تھا وہ بٹیرا۔ اس کی دلیری کی بنا پر ہم اسے شیرو کہتے تھے۔ پورے محلے میں اس کی دھاک بیٹھ گئی۔
پھر ایک صبح ہم اٹھے تو پنجری میں اس کی لاش پڑی تھی۔ اس کی گردن کے گرد بندھا باریک ریشمی دھاگہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اسے قتل کیا گیا ہے۔ ہمیں ایک کزن پر شک بھی تھا کہ یہ حرکت اس نے کی ہوگی ، مگر وہ عمر میں ہم سے دوچار برس بڑے تھے اس لیئے ان سے لڑائی جھگڑا بھی ہم نہیں کرسکتے تھے۔
بٹیرے کے قاتل کو تو ہم کیفر کردار تک نہ پہنچا سکے مگر مقتول کو ہم نے پورے اعزاز کے ساتھ ممتاز بھائی کے گھر میں صحن کے ایک کونے میں دفن کر دیا۔ اس کی خوبصورت قبر بناکر اسے پھولوں سے آراستہ کیا اور روزانہ صبح سویرے اس قبر کے پاس بیٹھ کر رویا کرتے تھے۔ گھر کے لوگ ہماری ان حرکتوں پر ہنستے مگر ہمیں پروا نہیں تھی کہ کوئی کیا کہتا ہے۔
دوچار دن یہ سلسلہ چلتا رہا۔ پھر ایک صبح اٹھ کر دیکھا تو قبر کھلی پڑی تھی اور میت غائب — آثار سے پتہ چلتا تھا کہ کوئی بلی اسے نکال کر کھا گئی ہے۔ ارد گرد کے گھروں میں کئی بلیاں تھیں، یہ بھی پتہ نہ چل سکا کہ یہ حرکت کون سی بلی نے کی ہے۔ مجبورا رو دھو کر صبر کرنا پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔٨  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچوں کا پرندوں سے پیار دیہاتی ماحول کی عطا ہے۔ رفتہ رفتہ دیہات شہر بننے لگے تو ہمارے دوست پرندے بھی ہجرت کرگئے۔
پرندوں کی ہجرت کی ایک بڑی وجہ چاروں طرف پھیلی ہوئی بجلی کی چکاچوند روشنیاں ہیں۔ پرندے اندھیرے میں رات بسر کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ جس علاقے میں راتوں کو اندھیرا میسر نہ ہو وہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں۔
ہمارے بچپن کے دور کے بہت سے دوست ، ممولے ، جنہیں ہم شیخ ممولہ یا شیخو کہتے تھے ، پیچیاں، گھگھیاں، پیل غڑے، لاٹے، نیل چاں ، چڑی درکھان (ہد ہد) وغیرہ پتہ نہیں کدھر جا بسے۔؟ پچھلے سال داودخیل والے گھر میں ایک شیخو دیکھا تھا پتہ نہیں کہاں سے آیا تھا، چند منٹ بعد غائب ہو گیا، ننھا منا شیخو بھاگنے میں غالبا سب سے تیز رفتار پرندہ ہے۔
ہمارا ایک دوست تو تیس چالیس سال پہلے بالکل ہی غائب ہو گیا۔ شاید اس کی نسل ہی مٹ گئی۔ اس پرندے کو ہم چٹا ڈوڈر کہتے تھے۔ فارسی میں اسے زغن سفید (سفید چیل) کہتے ہیں۔ چیل اور گدھ کی طرح یہ بھی مردار خور مگر بہت صفائی پسند پرندہ تھا ۔ چیل سے ذرا بڑا ، دودھ جیسا سفید رنگ، پروں کے کناروں پر سیاہ حاشیہ ، پرندوں میں یہ سب سے باوقار شخصیت لگتا تھا۔ ہمارے گھر کے پچھواڑے ریلوے لائن تک وسیع و عریض میدان میں چٹے ڈوڈر اکثر پھرتے دکھائی دیتے تھے۔ پتہ نہیں کدھر چلے گئے سب کے سب ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منورعلی ملک۔۔۔۔۔٩ اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشخطی ایک بہت بڑی خوبی سمجھی جاتی تھی۔ بادشاہ اپنے بچوں کو خوشخطی سکھانے کے لیئے ٹیوٹرز کی خدمات حاصل کرتےتھے۔
ہمارے بچپن کے زمانے میں سکولوں میں بھی خوشخطی سکھانے کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا۔ کچی پہلی کلاس میں صرف خوشخطی ہی سکھائی جاتی تھی۔ اس لیئے یہ کلاس کسی خوشخط ٹیچر کے سپرد کی جاتی تھی۔ لکھائی لکڑی کی تختیوں پر سرکنڈے( کانے) کے قلم اور کالی سیاہی سے کی جاتی تھی۔ لکھائی کا آغاز حروف ابجد ( ا ب پ ت وغیرہ) سے کیا جاتا تھا۔ پھر دو اور دو سے زائد حروف والے الفاظ لکھنا سکھایا جاتا تھا۔
استاد محترم ہر بچے کی تختی پر پنسل یا کاربن کی سلاخ سے کچھ حروف یا الفاظ لکھ دیتے تھے۔ ہم لوگ انہیں دیکھ کر نچلی لکیروں پر قلم سے لکھ دیا کرتے تھے۔ ٹیچر ہماری لکھائی دیکھ کر مناسب اصلاح کر دیتے تھے۔
یہ عمل بار بار دہرایا جاتا تھا۔ ہر بار تختی سکول کے نلکے پر دھو کر اس پر گج آلی مٹی (گاچی) کا لیپ کر کے لیپ خشک ہونے کے بعد اس پر لکیریں لگا کر لکھائی کی جاتی تھی۔ گیلی تختی کو خشک کرنے کے لیئے تختی کو ہوا میں جھلا کر ایک گیت بھی گایا جاتا تھا جس کے بول کچھ یوں تھے۔۔۔۔
چوہا چوہا توں میڈی تختی سکا ڈے
وہ کاریگر چوہا سامنے تو کبھی نہ آیا لیکن ہماری گیلی تختیاں خشک کر دیتا تھا۔ کیا معصوم دور تھا۔۔۔۔۔۔!
تختیوں پر لکھنے کا رواج ختم ہوا تو پین سے کاغذ پر لکھنے کا زمانہ آگیا۔۔ اب تو نہ قلم نہ پین نہ کاغذ ، لکھنے کا زیادہ تر کام فون یا لیپ ٹاپ کے کی بورڈ keyboard کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب قلم ، پین ، تختیاں اور کاغذ صرف عجائب گھروں میں رکھے نظر آئیں گے۔ اور وہاں آنے والوں کو بتایا جائے گا کہ کسی زمانے میں یہ writing materials (لکھنے کا سامان) ہوا کرتا تھا۔
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی-
پوسٹ پر لوگوں کے تبصرے
  • Nadeem Chaudhry

    سر جی
    پرائمری سکول ریلوے کندیاں اب مڈل میں ہمارے بھی ایک خوش خط استاد تھے شفاءاللہ خان میانوالی سے وہ ہمیں خوش خطی تختیوں پہ سکھاتے تھے قلم بھی تراش دیتے نڑکی نرسل سے

    Mazhar Shadia

    ❤️❤️❤️❤️پیارے سر جی اللہ پاک سلامت رکھے
    سر جی چھٹی کلاس میں ہولڈر سے انگریزی لکھنا سیکھانے تھے ہمارے پیارے استاد صاحب کہتے جی کی نب لےکر آؤ ساتھ میں ڈالر کی انک جس کو مس بھی کہتے تھے اور سیاہی بھی دوات جیب میں لے کر جانا اور واپسی پر قمیض کے ساتھ شلوار بھی نیلی ہو جاتی تھی اور پھر ماں سے 21 توپوں کی سلامی ملنا پیارے سر جی کیا خوبصورت اور مزے کا دور تھا یہ سب خواب لگتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔

١١ اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ذکر چلے گا گرم روٹی کا۔
روٹی سے مراد وہ چیز نہیں جو ہم روزانہ سالن کے ساتھ کھاتے ہیں۔۔ جس روٹی کا ذکر آج ہو رہا ہے وہ روٹی اب کہاں۔۔
وہ تھی رتی بارانی کنڑک(سرخ بارانی گندم) کے آٹے سے بنی ہوئی گرما گرم روٹی جس کی اپنی دلکش خوشبو اور لذیذ ذائقہ ہوتا تھا۔ اس خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے ہم کبھی کبھار شوقیہ ایک آدھ روکھی روٹی بھی کھا لیا کرتے تھے۔ اس کا اپنا ذائقہ ہی ایسا ہوتا تھا کہ اس کے ساتھ کچھ اور کھانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی ، حالانکہ گھر میں سالن کے علاوہ اللہ کا دیا اور بھی بہت کچھ ، خالص گھی، شکر، مکھن وغیرہ بھی ہوتا تھا لیکن دل کہتا تھا آج صرف روٹی ہی کھائیں۔
ہمارے داودخیل کے گھروں میں گرمیوں میں تنور کی روٹی اور سردیوں میں توے کی روٹی چلتی تھی۔ توے کی ہو یا تنور کی ، رتی کنڑک کے آٹے کی روٹی کا ایک اپنا مزا تھا۔ یہ روٹی ٹھنڈی ہو کر بھی پھولوں کی طرح نرم رہتی تھی۔
اب تو جو چیز ہم روٹی کے نام پر کھا رہے ہیں بس مجبورا پیٹ بھرنے والی بات ہے۔ ذائقہ صرف سالن کا ہی ہوتا ہے ورنہ تو اس روٹی کے دو چار نوالے بھی حلق سے نیچے نہیں اتارنا مشکل ہے۔
گذر گیا وہ زمانہ، چلے گئے وہ لوگ
پوسٹ پر لوگوں کے تبصرے

Muhammad Jamshaid

ڈیئر سر اس دور میں ہماری مائیں آٹے والی چکی پہ خود جایا کرتی تھیں اور چکی کے پڑوں کے درمیان کا فاصلہ خود ایڈجسٹ کیا کرتی تھیں تاکہ آٹا موٹا پیسا جائے۔اس موٹے آٹے کو پانی میں بھگو کے کچھ دیر گوندھنے کے بعد چھوڑ دیا جاتا تھا اور پھر آدھے گھنٹے بعد مکے دئے جاتے تھے اور گوندھا جاتا تھا۔اس موٹے آٹے کی دوپہر کی تندور کی روٹی کو اترتے ہی انگلیاں کھبو کھبو کے مکھن لگایا جاتا اور پھر چاٹی والی لسی کے ساتھ کھانے کا مزہ آتا تھا ۔اگر ساتھ کچے تربوز ( ٹیٹکا) یا بیگن کا بھرتا میسر ہوتا تو مزہ دوبالا ہو جایا کرتا تھا ۔آج کل کی خواتین تو شاید موٹا آٹا گوندنے کی نہ طاقت رکھتی ہیں اور نہ ہی صلاحیت۔Muhammad Waseem Sabtain

آہااااا کیا کہنے ۔کیا یاد کروایا ھے سرجی ۔
دادی اماں جب تندور پہ روٹیاں لگاتیں تو ان کی خوشبو ایسی ھوتی کہ بھوک چمک اٹھتی تھی ۔

میری فرمائش پہ آخری روٹی کو نیم گرم تندور پہ لگادیتی تھیں ۔آہستہ آہستہ وہ روٹی ھلکے ٹمپریچر پہ پکتی رہتی تھی ۔اس پہ کم سے کم پندرہ بیس منٹ لگتے تھے ۔پھر جب اسے باہر نکالتی تو اس کی رنگت براؤن ہوتی اور ٹھنڈا ھونے پہ کڑک ھوجاتی ۔جسے روکھی کھانے کا جو مزہ تھا وہ بتایا نہیں جاسکتا ۔وہ ذائقہ دار اور خوشبو والی روٹی اب کہیں نہیں رہی ۔کھاد والی گندم میں نہ طاقت رہی ھے نہ غذایت نہ ذائقہ ۔بس دوزخ ھی بھرنا رہ گیا ھے ۔Attaullah Niazi

سر جی! مجھے اچھی طرح سے یاد ھے کہ ہمارے بھی “بچپنہ” میں روٹیاں لگاتے وقت تنور کی اسی کڑک و مزیدار گرما گرم روٹی کا ایک ٹکڑا ہماری مرحوم و مغفور ” امی جان ” ایک چھوٹی سی لکڑی میں پرو کر دے دیتی تھیں اور ہم قلفی کی طرح مزے لے لے کر کھایا کرتے تھے!
اب تو امی رہی اور نہ ہی “وہ” ذائقہ دار روٹی رھی!

اللّٰہ ھو اکبر کبیرا!

  • Muhammad Yousuf Chheena

    اس روٹی کو تندور میں لگاتے وقت خشکا نہیں لگاتے تھے بلکہ گیلا ہاتھ استعمال کرتے تھے عصر اور مغرب کے درمیان پکی یہ روٹی دوسری صبح چاٹی کے مکھن سے نرانہڑھ کرتے تھے

    Haji Taj Muhammad Awan

    ماشاءاللہ ۔۔ روڈی کنڑک ۔۔ بعض علاقوں کی زمین کی تاثیر بھی ایسی ہوتی کہ روکھی روٹی ہی میٹھی لگتی تھی جیسا کہ خیر آباد اب جہاں سیمنٹ فیکٹری لگی ہے اس علاقے کو ۔۔ گھریڑہ کہتے ہیں یہاں کی گندم کی کیا بات
    • Azhar Shah

      سر تندور میں پکی دیسی گندم کی موٹی موٹی روٹیاں مزے کی ھوتی تھیں اور کبھی کبھی تندور میں لگی روٹی جو اتارنا بھول جایا کرتی تھی ۔۔۔ اسے مُرکڑنڑں کہتے تھے وہ بھی کھانے کو بڑے مزے کی ھوتی تھی ۔۔
      بھٹی یا لٶر پر بنی باریک دھراڑیوں کا دیسی مرغی کے سالن کے پتلے شورے سے ڈبو کر کھانے کا بھی اپنا الگ مزہ تھا ۔۔
      ہلکی آگ پر توۓ سے بنی سرخ سرخ روٹی بھی بہت مزے کی ھوا کرتی تھے
      سر اپ سلامت رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔١٢  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فروٹ کی دکانوں کا تو دور افتادہ دیہات میں تصور ہی نہ تھا ، مگر رب کائنات نے دورافتادہ لوگوں کو بھی فروٹ سے محروم نہ ہونے دیا۔ بعض خودرو پھل اپنے موسم میں ہر جگہ مفت دستیاب تھے۔ ان پھلوں کو نہ کوئی کاشت کرتا تھا ، نہ ان کے درختوں کی دیکھ بھال ۔ یہ سارا کام قدرت خود کرتی تھی۔
بہار کے موسم میں بیر ، پیلو اور ڈیہلے ہمارے تھل کے علاقے میں بہت ہوتے تھے۔ بیر کے درخت کو تو بیر یا بیری کہتے تھے، پیلو کا درخت جال اور ڈیہلے کا درخت کری کہلاتا تھا۔ کری کوئی باقاعدہ تناور درخت نہیں تھا پانچ سات فٹ اونچی جھاڑی سی ہوا کرتی تھی۔ پیلو کے درخت محلہ امیرے خیل میں بہت ہوا کرتے تھے۔ بیریاں تو کئی گھروں میں بھی تھیں۔
قدرت کے عطا کیئے ہوئے ان تحفوں کے یقینا بہت سے طبی فوائد بھی ہوں گے۔ ریسرچ کی جائے تو بہت قیمتی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ ہم تو صرف ان پھلوں کے لذیذ رسیلے ذائقے کے شیدائی تھے۔
پوسٹ پر لوگوں کے تبصرے

Malik Saif Awan

بابا جانی بہت خوبصورت تحریر
پرانی یادیں تازہ ہو گئیں
ہماری زمین میں بیر کے بہت زیادہ درخت ہیں جو دادا جان نے شوق سے لگائے ہوئے ہیں ان کے بقول (درخت زمین کا زیور ہوتے ہیں) بیر کے ہمیں بہت زیادہ فائدے ہیں بکریوں کیلئے بیر کی ٹہنیاں (لانگی)کاٹتے ہیں جو خشک ہونے کے بعد آگ جلانے کے کام آتی ہیں اس کے علاوہ چارپائیوں کیلئے لکڑی چھتوں کیلئے بالے (ورگے)اپنی بیریوں کے ہیں کری کے درخت بھی کافی تعداد میں ہیں ڈیلہے اچار کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں اور میری نانی اماں ڈیلہے چھت پہ رکھ کر خشک کر لیتی ہیں خشک ڈیہلوں کا سالن بہت مزے کا بنتا ہے بزرگوں کی باتیں بھی کمال کی ہوتی ہیں میں سکول کے زمانے سائیکل پہ سکول جایا کرتا تھا راستے میں صبح صبح روزانہ ایک بابا جی ملتے تھے جو اپنی زمین دیکھنے آتے تھے ایک دن میں نے پوچھا تو کہنے لگے بیٹا زمین سے میرا تعلق بہت گہرا ہے میں زمین کو دیکھ کر خوش ہو جاتا ہوں وہ مجھے دیکھ کر خوش ہو جاتی ہے کہ میرا مالک مجھے دیکھنے آتا ہے اتنا خیال رکھتا ہے

Muhammad Nawaz Malik

ہمارے شہر عیسیٰ خیل اور خاص کر ہمارے محلے میں پیلو اور ڈیہلے ہوتے تھے اور ہم کھاتے بھی تھے
پیلو زیادہ کھانے سے زبان پھٹ جاتی تھی
البتہ اب ہمارے علاقے میں پیلو اور ڈیہلے ناپید ہو چکے ہیں

Ahmad Nawaz Niazi

جال کا درخت اکثر قدیم مزاروں کے آس پاس اگا دیکھا و پایا گیا ہے۔ جس طرح گوتم بدھ نے پیپل کے نیچے زندگی گزاری بعینہ ممکن ہے کری و جال کے درختوں کے نیچے اللہ تعالی کے ولیوں نے دور افتادہ جگہوں کو عبادت کے لیے چنا ہو۔ حدیث رسول رحمت ہے کہ جال کا مسواک پانچ نمازوں کے ساتھ کیا کریں اور مسواک میں ستر 70 بیماریوں کا علاج ہے واللہ عالم بالصواب!

Aslam Niaz

پیلو کھانے کے بعد کیا تغیر ہوتا تھا وہ تو کسی نے لکھا نہیں۔۔پیلو کھا کے کسی محفل مین پہنچتے ہی سب کو پتہ چل جاتا کہ پیلو کھا کے ایا ہے روایت ہے کہ نواب کالاباغ کی محفل تھی نواب صاحب نے پوچھا جابہ سے کون أیا ہے ایک أدمی نے اٹھ کے کہا جی مین۔نواب صاحب نے کہا ہان اطلاع پہنچ گئ ہے

Bahadur Janjua

خوب است استاد مکرم ۔ بازار کا پھل نہ تو کل غریب کی دسترس میں تھا نہ آج ہے ۔ ہم خودرو پودوں کی طرح اگے غریب لوگوں کو اپنی ہی طرح کے اگےخودرو پھل ہی نصیب ہوتے تھے کچھ اسکے علاوہ کسی کو نصیب ہوتا بھی تو اسے جسے کوئی حکیم شکیم تجویز کرتا ۔ وہ بھی مقدر مارے کو یوں ملتا کہ سیب کھاتے وقت ساتھ کھڑے بچے ایسی بھوکی نظروں سے اسے دیکھتے کہ حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر اسے تقسیم کئے بنا کوئی چارہ نہ رہتا ۔
استاد مکرم ! آپ نے جن خودرو مقامی پھلوں کا ذکر کیا ان میں سے دیلہا ایک بہت ہی شاندار پھل تھا ۔ اس کچے پھل کا اچار ذائقہ میں لاجواب ہوا کرتا تھا۔ کم پانی کی ضرورت کے پیش نظر بارانی علاقوں میں کری ایک انتہائی لمبی عمر کے مقامی درختوں میں سے ایک ہے ۔ واں بھچراں کے قریب بنڈل کری کے نام سے موسوم ایک بہت بڑا دیو ہیکل کری ہے جس پر جنات کا ڈیرہ مشہور ہونے کیوجہ سے یہ انسانی دسترس سے باہر ہوکر ابھی تک موجود ہے ۔ اسکی بابت مشہور ہے کہ جب مشہور افغان ڈاکو محمود غزنوی لوٹ مار کا قصد لیکر ادھر سے گزرا تو اس نے اس کے نیچے قیام کیا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔١٣  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرچم کی قدر۔۔۔۔۔
محکمہ سکاوٹنگ کے اعلی افسر محمد اقبال قریشی صاحب نے ہماری کلاس کو ایک لیکچر کے دوران بتایا قائد اعظم نے 10 اگست کو یہ حکم صادر فرمایا کہ 14 اگست 1947 کو تمام پاکستانی اپنے گھروں پر پاکستان کا پرچم لہرائیں۔ پرچم کا ڈیزائین بھی بتا دیا گیا ۔
ہم اس وقت برطانیہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔قائد اعظم کے بتائے ہوئے ڈیزائین کے مطابق پرچم بنوانے کے لیئے ہم نے محلے کی ایک بزرگ انگریز خاتون سے درخواست کی جو درزی کا کام کرتی تھیں۔ کام کا معاوضہ 2 پاونڈ طے ہوا ۔ جو ہم نے ایڈوانس ادا کر دیا۔
13 اگست کو ہم پرچم لینے گئے تو ان خاتون نے پرچم ہمارے حوالے کرتے ہوئے کہا کیا یہ آپ کا قومی پرچم ہے ؟
ہم نے کہا جی ہاں۔
خاتون نے کہا کیا یہ آپ پہلی بار لہرانے جا رہے ہیں۔ ؟ ہم نے کہا جی ہاں ۔
یہ سن کر ان محترمہ نے پرچم کی قیمت ہمیں واپس دیتے ہوئے کہا
Then take it as a gift from me
۔۔۔۔۔ پھر یہ پرچم میری طرف سے تحفہ سمجھ کر قبول کر لیں۔
یہ واقعہ شاید کبھی پہلے بھی بیان کیا تھا، تاہم جتنی بار بھی بیان کیا جائے کم ہے کہ مقصد نئی نسل کو آزادی کی قدرو قیمت کا احساس دلانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔١٤  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلزار بخاری۔۔۔۔۔
پروفیسر گلزار بخاری، فاروق روکھڑی اور میں ایک ساتھ وادئ شعروسخن میں وارد ہوئے۔ ہم تینوں اردو غزل کے مترنم شاعر تھے اور ترنم کی بنا پر ہم مشاعرے لوٹنے والے شاعر شمار ہوتے تھے۔
عوامی سطح پر ہمارا تعارف 1960-70 کے عشرے میں ماڑی انڈس کے ایک مشاعرے میں ہوا۔ یہ ضلع میانوالی کا پہلا بڑا مشاعرہ تھا جس میں بھکر تک کے شعرا شریک ہوئے۔ مشاعرے کا اہتمام ماڑی انڈس سکول کے ہیڈماسٹر سید انجم جعفری نے کیا تھا۔ مشاعرے کی صدارت بزرگ شاعر میرے ماموں ملک منظور حسین منظور نے کی۔ گورنمنٹ کالج میانوالی کے پرنسپل پروفیسر سید محمد عالم اور علامہ انوار ظہوری مہمانان خصوصی تھے۔
گلزار بخاری نے جو غزل پیش کی اس کا یہ شعر حاصل غزل قرار پایا۔
میں سیپ ہوں مرا حاصل ہے پرورش ان کی،
خدا نصیب کرے آپ کو گہر میرے
اس وقت گلزار بخاری گورنمنٹ ہائی سکول داودخیل میں ٹیچر تھے۔ یہ مشاعرہ ہم تینوں مترنم شعرا نے لوٹ لیا۔ ہر شعر پر بے پناہ داد ملی۔
گلزار بخاری سادات نورنگہ کے مشہور و معروف علمی و ادبی خانوادہ کے فرد منفرد ہیں۔ ان کے تین بھائی پروفیسر شاہ علی اعظم، طاہر بخاری اور فیروز بخاری بھی بہت اچھے شاعر تھے۔ طاہر بخاری اور فیروز بخاری جوانی ہی میں اس دنیا سے رُخصت ہوگئے۔ پروفیسر شاہ علی اعظم گورنمنٹ کالج میانوالی کے شعبہ اردو سے ریٹائر ہو کر روکھڑی موڑ کے قریب سادات کی بستی میں مقیم ہیں۔
ایم اے پنجابی کرنے کے بعد گلزار بخاری گورنمنٹ کالج لاہور میں لیکچرر کے منصب پر فائز ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد وہاں سے دیال سنگھ کالج ٹرانسفر ہوا۔ وہیں سے ریٹائر ہوئے۔
شاعر کی حیثیت میں گلزار بخاری قومی سطح پر معروف و مقبول ہیں۔۔ گلزار کی غزل روایت اور جدت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی شاعری دانشورانہ منطق نہیں ، دل سے نکلی ہوئی صدا ہے جو تیر کی طرح دلوں میں اتر جاتی ہے ۔میری نظر میں گلزار بخاری کی اپنے والد محترم کی وفات پر لکھی گئی نظم کے یہ دوشعر گلزار کی شاہکار شاعری ہیں۔۔۔۔۔
شکست دل کا گلہ کریں کیا یہ سانحہ کب گمان میں تھا،
قضا نے گل کر دیا اسی کو چراغ جس کی امان میں تھا،
شکار ہونے سے کب مفر ہے مگر یہ گلزار سانحہ ہے،
ابھی اسے چاہیئے تھی مہلت ابھی پرندہ اڑان میں تھا
پوسٹ پر لوگوں کے تبصرے

Waqas Jafri

بلاشبہ گلزار بخاری صاحب ،اپنے عہد کے منفرد شاعر ہیں ۔دور طالبعلمی سے ہی ھم جیسے طلبہ ان کو follow کرتے تھے۔نفیس،خوش ذوق،خوش لباس ۔۔۔۔۔۔ادبی مقابلوں میں اکثر ان کے اشعار ھماری تقاریر کی قدر افزائی میں اضافہ کا،باعث ھوتے۔1985 کے دنوں میں ان کا یہ شعر تو آج بھی سماعتوں میں محفوظ ھے
شب کو اجالنے کا ھنر ھم پہ چھوڑدو
تم تھک چکے ھو،اب یہ سفر ھم پہ چھوڑدو
گلزار ھم چراغ نہیں آفتاب ہیں
ھنگامئہ طلوع سحر ھم پہ چھوڑدو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔١٥  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناشتہ دہی یا مکھن ، تازہ روٹی اور پتلی نمکین لسی پر مشتمل ہوتا تھا۔ ہمارے بچپن کےزمانے میں لسی کی بجائے چائے کا رواج چلا جو آج تک چل رہا ہے۔
سالن صرف شام کو بنتا تھا۔ دوپہر کا کھانا اچار ، چٹنی یا گھی شکر اور لسی کے ساتھ روٹی ہوا کرتی تھی ۔
تین چار بجے تازہ بھنے ہوئے گرما گرم چنے بھی کھائے جاتے تھے۔ اس کھانے کو پچھایئں کہتے تھے۔ پیشیں (بعد دوپہر) کی چائے بھی ہر گھر میں بنتی تھی ۔
شام کو دال ، سبزی یا گائے کے گوشت کا سالن بنتا تھا۔ بکرے کا گوشت ہفتے میں صرف ایک دن محلہ سالار میں چاچا رمضان قصائی بناتے تھے۔ زیادہ تر دال سبزی ہی چلتی تھی۔ گھر کے خالص گھی میں بنی ہوئی دال سبزی لذت اور توانائی میں گوشت سے کم نہیں ہوتی تھی ۔
دیسی مرغیاں ہر گھر میں ہوتی تھیں مگرصرف خاص مہمانوں کے لییے یا عید کے دن ایک آدھ مرغی ذبح کی جاتی تھی۔ عام حالات میں انڈوں کے سالن پر گذارہ کر لیا جاتا تھا۔
شام کا کھانا سر شام ہی کھا لیا جاتا تھا۔ نو دس بجے کھانا کھانے کا فیشن بہت بعد میں رائج ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔١٦  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معصوم بچیوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات میں اضافہ خطرے کی واضح گھنٹی ہے۔ ڈر لگتا ہے کہ کہیں اللہ کا قہر پوری قوم کو گرفت میں نہ لے لے۔ خدانخواستہ ایسا ہوا تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہمارا کیا حشر ہوگا۔
تازہ ترین واقعہ ضلع خیرپور کے قصبہ رانی پور میں ایک پیرزادہ(حرام زادہ کہنا چاہیئے) کے ہاتھوں 10 سالہ بچی کا قتل ہے۔ مقامی پولیس نے تو معاملہ دبا دیا تھا ۔ بچی کی لاش کا پوسٹ مارٹم بھی نہ ہونے دیا۔ تاہم سوشل میڈیا میں بچی کی تشدد زدہ لاش کی پکچرز وائرل ہوئیں تو قانون حرکت میں آیا۔ ڈی آئی جی سکھر نے ایس ایچ او رانی پور کو معطل کر کے ایس ایس پی کی سربراہی میں تفتیش کے لیئے 3 رکنی ٹیم بنا دی۔ حرام زادے قاتل کو گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش جاری ہے۔ پولیس حکام کا عزم ہے کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ پولیس حکام کے عزائم اور اقدامات بلاشبہ لائق تحسین ہیں۔ اللہ کرے مظلوم خاندان کو انصاف مل جائے۔ ہمارے ہاں رشوت ، سفارش، سیاسی پریشر ایسے واقعات کے منطقی انجام کی راہ میں قدم قدم پر رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
کاش۔۔۔۔ کاش ۔۔۔۔ کاش ہمارے ہاں سعودی عرب جیسا نظام انصاف ہوتا۔ دوتین سال پہلے سعودی عرب سے آئی ہوئی ایک ویڈیو دیکھی تھی۔ ایمان تازہ ہو گیا۔ تین قاتلوں کے ہاتھ پیچھے باندھ کر انہیں زمین پر بٹھا دیا گیا۔ لوگوں کا ایک ہجوم یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔جلاد تلوار لہراتا ہوا آگے بڑھا اور تلوار کے ایک ایک وار سے تینوں قاتلوں کے سر اڑا دیئے۔
وہاں رشوت سفارش اور سیاسی پریشر کا تصور ہی ناممکن ہے۔ جرم ثابت ہونے کے بعد اگلی جمعرات کو سرعام مجرم کا سر قلم کردیا جاتا ہے۔ لمبی چوڑی اپیلوں کا جھنجھٹ بھی وہاں نہیں ہوتا۔
یہ نظام انصاف اگر ہمارے ملک میں ہو تو ہماری قوم اتنی دلیر ہرگز نہیں کہ سر عام دو تین مجرموں کے سر قلم ہونے کے بعد کوئی شخص قتل یا زیادتی کا سوچ بھی سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔١٧  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترقی کی قیمت۔۔۔۔۔
آج سے تقریبا 40 سال قبل تک ہم داودخیل کے پانی کو جنت کا پانی کہا کرتے تھے۔ نلکے (ہینڈ پمپ) کا ہو یا کنوئیں کا، داودخیل کا صاف شفاف ٹھنڈا میٹھا پانی اپنی مثال آپ تھا۔ اس خالص پانی کی وجہ سے کئی بیماریوں کا ہمارے ہاں وجود ہی نہ تھا۔ اکثر گھروں میں نلکے لگے ہوئے تھے۔ جن گھروں میں نلکے نہ تھے وہ ساتھ والے گھروں کے نلکوں سے پانی کے گھڑے بھرلیتے تھے۔
پھر حالات نے کروٹ لی۔ تھل کی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیئے تھل کینال سے ایک چھوٹی سی نہر نکالی گئی جو ریلوے لائین کے ساتھ ساتھ شہر کے مشرق سے گذرتی ہے۔ تھل کی زمینیں تو آباد ہو گئیں لیکن اس نہر کی سیم نے زیر زمین پانی کا ستیاناس کردیا۔ جنت کے صاف شفاف ٹھنڈے میٹھے پانی کی بجائے کڑوا اور بد ذائقہ پانی زمین سے برآمد ہونے لگا۔ نلکے اور کنوئیں ویران ہو گئے۔
اب پینے کے لیئے پانی بڑی نہر کے کنارے بلال مسجد کے نلکے یا سکندرآباد کے واٹر سپلائی سسٹم سے لانا پڑتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے بڑی نہر کے کنارے ٹربائن لگا کر شہر کا واٹر سپلائی سسٹم بھی بنا تھا، مگر وہ ناکافی بھی تھا، ناقص بھی۔ شہر کے کچھ حصے میں کبھی کبھار اس سسٹم کا پانی آتا ہے۔ مگر اس کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اس لییے لوگ بلال مسجد کے نلکے یا سکندرآباد کے واٹر سپلائی سسٹم سے استفادہ کرتے ہیں۔
ترقی کی کچھ نہ کچھ قیمت تو بہر حال ادا کرنا پڑتی ہے۔ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے والا معاملہ ہوتا ہے۔ مگر چھوٹی نہر کی صورت میں ترقی داودخیل کے لوگوں کو خاصی مہنگی پڑ رہی ہے کہ اس نہر نے زیر زمین پانی کا کباڑا کر دیا۔ اب پینے کا پانی لانے کے لییے اچھی خاصی مشقت کرنا پڑتی ہے۔ رہی ہی کسر نواحی فیکٹریز سے پیدا ہونے والی آلودگی پوری کر رہی ہے۔۔۔۔ اللہ رحم کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔١٨  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غریبی بہت تھی مگر لوگ پھر بھی خوش اور خوشحال تھے، کیونکہ اخراجات بہت کم تھے ۔ نہ بجلی کے بل نہ پٹرول ، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں کی فکر ۔ اندرون شہر سفر کے لیئے سائیکل یا تانگہ، لمبے سفر کے لیئے ٹرین یا بس سروس ۔۔۔۔۔ نہ لباس کے نت بدلتے فیشن ۔ سال بھر میں ایک دو جوڑے خریدے جاتے تھے۔ ایک عید پر، دوسرا کسی اور موقع پر۔ شادی بیاہ کے اخراجات گندم بیچ کر پورے کر لیئے جاتے تھے۔
اللہ کا خاص فضل یہ تھا کہ کھانے پینے کو ہر گھر میں بہت کچھ ہوتا تھا۔ آٹا ، دودھ ، خالص گھی مرغیاں ، انڈے ، سب کچھ اپنے گھر کا ہوتا تھا۔ لہسن پیاز مرچ اور سبزیاں کنووں پر سستے داموں مل جاتی تھیں۔ ایک روپے میں ہفتے بھر کی سبزی آسانی سے مل جاتی تھی۔ پشاوری گڑ ، شکر، چینی ، چائے کی پتی گاوں کی دکانوں سے خرید لی جاتی تھی۔ پچیس تیس روپے میں مہینے بھر کا سودا آجاتا تھا۔ اتنے کم خرچ میں کھانے پینے کا مکمل بندوبست ہو جاتا تھا۔ پھر کیسی غریبی اور کہاں کی تنگدستی؟ لوگ خوش اور خوشحال تھے۔ ہم نے تو کبھی نہ سنا کہ کوئی بھوکا سویا ہو ۔۔
گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔١٩  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بزرگ لوگوں کے پاس فارغ وقت بہت ہوتا تھا۔ کچھ بزرگ اپنے مخصوص ہم عمر دوستوں کے ساتھ تاش کھیل کر وقت گزارا کرتے تھے۔ تاش کے بزرگ کھلاڑیوں کی ایک ٹکڑی (4 افراد کی ٹیم) دوپہر کے بعد محلہ لمے خیل میں سکول کے گیٹ کے سامنے بیٹھتی تھی۔ ماسٹر رب نواز خان ، حق داد خان ، چاچا بلوچ سنار اور ماسٹر عیسب خان اس ٹکڑی کے مستقل ممبر تھے۔ یہ لوگ تاش کا مشہور کھیل سپ sweep کھیلتے تھے۔ اس کھیل میں جوا نہیں ہوتا۔ اچھی خاصی ذہنی آزمائش ہوتی ہے۔ کھیل کے دوران ان بزرگوں کے بول اور قہقہے سننے کے لائق ہوتے تھے۔
اس طرح کی تاش کی ٹکڑیاں بعض بزرگ اپنی چونکوں پر بھی منعقد کرتے تھے۔۔
جو بزرگ تاش کھیلنا نہیں جانتے تھے وہ زمین پر چوکور شکل میں لکیریں لگا کر ایک کھیل کھیلتے تھےجسے 9 گیٹی کہتے تھے۔ اس کھیل میں 9 کھجور کی گٹھلیاں یا کنکریاں استعمال ہوتی تھیں۔ یہ دو بندوں کا کھیل ہوتا تھا۔ اس میں بھی اچھی خاصی ذہنی ورزش ہو جاتی تھی۔
یہ سب کچھ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے پاس فارغ وقت بہت ہوتا تھا۔ آج کل تو کسی کو سر کھجانے کی فرصت بھی نہیں ملتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔۔۔٢٠  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جو میں پرانے وقتوں کے قصے چھیڑ بیٹھتا ہوں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں آج کے دور سے بیزار ہوں۔ بلکہ آپ سب کی طرح میں بھی آج کے دور کی برکات اور سہولیات سے مستفید ہو رہا ہوں۔ اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ۔ یہ فیس بک کا دھندا بھی آج کے دور کی سہولت ہے۔ یہی ہمارے روزانہ رابطے کا وسیلہ ہے۔ لباس، زبان، خوراک کی جو ورائیٹی آج چل رہی ہے پہلے کہاں تھی۔
ہمارے بچپن کے دور میں ان سہولتوں کا نام و نشان تک نہ تھا۔ نہ بجلی نہ گیس نہ اپنی گاڑیاں نہ رنگارنگ لباس نہ قسم قسم کے کھانے لیکن دلوں میں سکون تھا، صبروتحمل ، محبت اور تعاون جیسی عمدہ روایات جن سے زندگی آسان تھی وہ اب کہاں۔ ؟ نفسانفسی کا عالم ہے، دوسروں کو راستہ دینے کی بجائے پیچھے دھکیل کر خود آگے بڑھنے کا رجحان، نفرت ، بغض، تکبر، غصہ، پریشانیاں، دنیا کی تمام نعمتیں میسر ہونے کے باوجود لوگ پریشان ہیں۔ ایسا پہلے تو نہ تھا۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ آج کے دور کی سہولیات کو ہم ضرورت سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ موبائل فون کو لیجیئے، کتنی اچھی سہولت ہے مگر ہم سارے کام چھوڑ کر اسی میں کھوئے رہتے ہیں۔ نہ کہیں آنا جانا، نہ گھر میں کسی سے بات کرنا، گھر کا ہر فرد اپنے اپنے موبائیل فون سے کھیلتا رہتا ہے۔ بیمار کی عیادت اور مرنے والوں کی تعزیت جیسی اہم سماجی ذمہ داریاں بھی میسیج کر کے بھگتا دی جاتی ہیں۔
جدید دور کی سہولتوں کے ساتھ ہم وہی سلوک کر رہے جیسا کہ کہا کرتے تھے ہیجڑوں کے گھر بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اسے چوم چوم کر مار ڈالا۔
کوئی نئی چیز ہاتھ لگ جائے ہم سارے کام چھوڑ کر اسی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ جن گئے وقتوں کا ذکر میں کرتا ہوں ان وقتوں میں ایسی نفسانفسی ، آپا دھاپی اور بھاگ دوڑ نہیں ہوتی تھی۔ لوگ اپنے حال سے مطمئن تھے۔ تعصب اور نفرت کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ اس دور کی اچھی روایات سے نئی نسل کو روشناس کرانا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس لییے اس دور کا ذکر میرا مرکزی موضوع رہتا ہے۔
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے

Muhammad Waseem Sabtain

پیارے سرجی !!
جیسا کہ آپ پرانے وقت کی سنہری یادوں کو اپنی خوبصورت اور شگفتہ تحریروں کے ذریعے ھمیں اپنے بچپن کی یاد دلاتے ہیں ۔آپکی۔تحریروں میں ھم اپنے بچپن کو یاد کرکے اس دور کی رعنائیوں میں کھوجاتے ہیں ۔
لیکن اگر دیکھا جاۓ تو اس موجودہ دور کی سب سے بڑی سہولت موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے ھم آپس میں بات چیت کرسکتے ہیں ۔ھم ایک دوسرے کے جذبات اور احساست جان سکتے ہیں ۔
مجھے فیس بک پہ آپ کا سٹوڈنٹ بننے سے پہلے صرف اتنا معلوم تھا کہ پروفیسر منور علی ملک انگلش کے پروفیسر ہیں اور لالہ جی کے گیت نگار ہیں ۔لیکن 2013ء میں فیس بک پہ آکر آپ سے زیادہ اُنسیت اور محبت بڑھی جو آج دس سال سے قائم و دائم ھے اور ھر گذرتے وقت کیساتھ ساتھ اس میں بتدریج اضافہ ھوتا جارہا ھے ۔فیس بک کی دنیا میں چند ایسے لوگ مل۔جاتے ہیں جن کیساتھ ھمارا دکھ سکھ سانجھا ھوجاتا ھے ۔اپنی خوشیوں کے لمحات ان سے شئیر کیے جاتے ہیں ۔
موجودہ دور کی یہ بہت بڑی سہولت ھے کہ ھم جو ھفتہ بھر خطوں کا انتظار کرتے تھے ۔اب ایک کلک پہ ان اے بات کرلیتے ہیں ۔بلکہ ھم انہیں دیکھ کر بھی بات کرسکتے ہیں ۔
اللہ پاک سے دعا ھے کہ ھمارا یہ سفر اسی طرح سے جاری رھے ۔اور اللہ آپکو صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرماۓ ۔تادیر آپ کا شفقت بھرا سایہ ھمارے سروں پہ قائم و دائم رھے ۔آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔

٢١  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم بھی چھوڑ جاو گے
یہ کبھی نہ سوچا تھا
الوداع بیٹا مہر زمان خان ، رب کریم آپ کو اپنی رحمت کا سایہ نصیب فرمائے ، اور آپ کے جملہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔۔ بہت حسین رشتوں کا ایک باب آج بند ہو گیا۔۔۔۔
انا للہ وانا الیہ راجعون

٢٢  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچپن اور جوانی میں عجیب و غریب عادتیں، دلچسپیاں اور مشاغل تو سب لوگوں کے ہوتے ہیں لیکن اپنی عادتیں، دلچسپیاں اور مشاغل کچھ زیادہ ہی وکھری ٹائیپ کے تھے۔
ذکر ہے ان دنوں کا جب میں گارڈن کالج راولپنڈی کا سٹوڈنٹ تھا۔ باباجی راولپنڈی ڈویژن کے ڈائریکٹر سکولز تھے۔ جب میں نے داودخیل سکول سے میٹرک پاس کر لیا تو وہ مجھے اپنے ساتھ پنڈی لے گئے اور وہاں مجھے کالج میں داخل کروا دیا۔ گھر کے باقی لوگ داودخیل ہی میں رہے۔
پنڈی میں ہم کمیٹی چوک کے قریب مری روڈ پر ایک گھر کی بالائی منزل پر رہتے تھے۔ ایک کشمیری بزرگ ملازم چاچا جلال ہمارا کھانا وغیرہ بناتے تھے۔
میں صبح کالج جاتا- بارہ بجے کے قریب کالج سے فارغ ہو کر گوالمنڈی پل کے پار سڑک کے موڑ پر مزمل ہوٹل نامی ایک چھوٹے سے ہوٹل سے چائے پیتا۔ ہوٹل کیا تھا ایک ہی چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں ایک بنچ پر گاہک بیٹھتے تھے۔ جس وقت میں وہاں جاتا اس وقت کوئی اور گاہک میں نے کبھی نہ دیکھا ، شاید آگے پیچھے کچھ لوگ آتے جاتے ہوں ۔ اس جگہ میں صرف اس لییے رکتا تھا کہ چاچا جی چائے بڑی زبردست بناتے تھے۔
مزمل ہوٹل سے میرا اگلا سٹاپ سیڑھیوں والے پل کے پار ایک اور چھوٹا سا ہوٹل تھا۔ سیڑھیوں والے پل پر طوطا فال نکالنے والے ، انگوٹھیوں کے تھیوے (نگینے) بیچنے والے اور اسی قسم کی دوسری مخلوق بیٹھتی تھی ۔ میں پل کے درمیان کچھ دیر رک کر آتی جاتی ٹرینوں کے کالے انجنوں کی زیارت کرنے کے بعد پل کے پار اس چھوٹے سے ہوٹل پہ جا بیٹھتا۔ وہ ہوٹل بھی ایک چاچا جی چلاتے تھے۔ وہاں اچھی چائے کے علاوہ گراموفون پر انڈین فلمی نغمے بھی سننے کو ملتے تھے۔ لتا کی آواز میں فلم شیریں فرہاد کا شاہکار نغمہ۔۔۔۔۔۔
گذرا ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ۔۔۔۔ حافظ خدا تمہارا
میرا پسندیدہ نغمہ تھا۔ یہ گیت سنتے ہوئے اکثر آنکھیں بھیگ جاتی تھیں کیونکہ یہ گیت مجھے گھر کی یاد دلاتا تھا۔ امی بیمار رہتی تھیں، اس لییے مجھے ان کی بہت فکر رہتی تھی ۔ پتہ نہیں یہ گیت سن کر مجھے گھر اور امی کی یاد کیوں ستانے لگتی تھی ؟
چائے پینا اور فلمی نغمے سننا میرے پسندیدہ مشاغل تھے۔ یہ دونوں چیزیں پنڈی کے اکثر ہوٹلوں پر دستیاب تھیں۔ اس لیئے میں دن بھر انہی مشاغل میں منہمک رہتا تھا۔
یہ قصہ دوچار دن چلے گا۔ کسی کو اچھا لگے نہ لگے ، ان گئے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے مجھے بہت سکون ملتا ہے۔
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے

Muhammad Aqil Khan

Carry on Mr. Malik, your accounts, their literary worth aside, spur nostalgia and evoke the sweet memories of early youth. These really sharpen the poignant pain of the days that will never come back. I am not known to you and vice versa, but I reckon you are considerably influenced by Wordsworth who inimitably recorded his ‘soothing thoughts’ in the concluding stanza of the ‘Immortality Ode’:
And O, ye Fountains, Meadows, Hills, and Groves,
Forebode not any severing of our loves!
Yet in my heart of hearts I feel your might;
I only have relinquished one delight
To live beneath your more habitual sway.
I love the Brooks, which down their channels fret,
Even more than when I tripped lightly as they;
The innocent brightness of a new-born Day
Is lovely yet;
The clouds that gather round the setting sun
Do take a sober colouring from an eye
That hath kept watch o’er man’s mortality;
Another race hath been, and other palms are won.
Thanks to the human heart by which we live,
Thanks to its tenderness, its joys and fears,
To me the meanest flower that blows can give
Thoughts that do often lie too deep for tears.

Hopefully, I could pulled it off to ignite a flame of romanticism in the stout heart of an octogenarian Rtd. Professor of English Language & Literature

  • Munawar Ali Malik

    Salute your literary taste and knowledge.
  • Attaullah Niazi

    Dear! Firstly, I’m very much sorry for some inconvenience if any at my end please
    Because being an old student of my teacher, I couldn’t help without satisfying you that: you yourself admitted in your above extremely good comment that:
    “Neither you and even nor His Excellency Professor Sir, Munawar Ali Malik is known to you”!
    Well! It’s my pleasure to get my most favorite and ever kind Secondary School Teacher (His Excellency Professor Sir, Munawar Ali Malik of my home sweet home Mianwali Daudkhel introduced to you, provided you tender your good request please. (Smiles!!)
    Well! As far as both; the prose and poetry of my teacher named Sir, Munawar Ali Malik is concerned; he Never ever had been under the influence of the poetic teachings of one of the most famous English Poet William Wordsworth because
    Sir, Malik himself is many times a great poet, an authentic writer and even a recognized author of academic books even of an MA English classes please!
    Regards!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔۔٢٤  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیڑھیوں والے پل (پنڈی والوں کی زبان میں “پوڑی پل”) کے پار والے ہوٹل پر کچھ دیر بیٹھنے کے بعد میں واپس پل کے راستے سٹی صدر روڈ پر آتا اور سیدھا شمال کی جانب چلتے ہوئے فوارہ چوک پہنچ کر راجہ بازار میں داخل ہو جاتا ۔ راجہ بازار میں نذیر مسلم ہوٹل فلمی گیتوں کے شائقین کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ یہ خاصا بڑا ہوٹل تھا۔ یہاں معیاری انڈین اور پاکستانی فلمی گیتوں کا اچھا خاصا مجموعہ دستیاب تھا۔ ہوٹل کا ساونڈ سسٹم بھی بہت اچھا تھا۔پنڈی کے نوجوانوں کا موسیقی کا ذوق بہت اعلی تھا۔ یہاں کوئی لچے لفنگے گیت نہیں چلتے تھے۔ طلعت محمود، محمد رفیع ، مکیش ، سلیم رضا، عنایت حسین بھٹی، منیر حسین ، لتا ، شمشاد بیگم، آشا، گیتا دت ، زبیدہ خانم ، کوثر پروین وغیرہ کے بہترین نغمے یہاں سننے کو ملتے تھے ۔
کچھ دیر نذیر مسلم ہوٹل پہ بیٹھ کر میں بوہڑ بازار آکر واپسی کی راہ لیتا۔ بوہڑ بازار میں شیخ رشید کی لال حویلی کے سامنے سے گزر کر ٹرنک بازار کی جانب نکل جاتا۔ (شیخ رشید اس زمانے میں تیسری چوتھی کلاس میں پڑھتے ہوں گے اس لییے ان سے تعارف نہ ہو سکا)۔
ٹرنک بازار سے سیدھا کمیٹی چوک آکر میں اپنے گھر کی طرف مڑ جاتا ۔
بابا جی اپنے آفس سے تقریبا 4 بجے واپس آتے تھے۔ میں ان کے آنے سے پہلے گھر پہنچ جاتا تھا۔
میری روزانہ کی یہ آوارہ گردی تقریبا پانچ چھ کلومیٹر بنتی تھی۔ پنڈی میں رہنے والے بتا سکتے ہیں کہ گارڈن کالج سے پیدل گوالمنڈی ، سیڑھیوں والا پل ، ریلوے روڈ، سٹی صدر روڈ، راجہ بازار، بوہڑ بازار اور ٹرنک بازار سے ہوتے ہوئے کمیٹی چوک پہنچنا کتنا لمبا سفر ہو گا۔ شوق آوارگی میں مجھے فاصلے کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔٢٥  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنڈی میں آوارہ گردی کے انہی دنوں میں ایک دن مری روڈ پر جاتے ہوئے کمیٹی چوک پر پولیس کے ایک سپاہی نے میرا راستہ روک کر کہا ” جوان ، کہاں کے رہنے والے ہو ؟ “
میں نے کہا ضلع میانوالی کا ۔
چاچا سپاہی نے مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے ہنس کر کہا ” او تیری خیر۔ میں نے ٹور سے ہی پہچان لیا تھا کہ اس طرح سر اٹھا کر چلنے والا میانوالی کا بندہ ہی ہو سکتا ہے”۔
گفتگو کے دوران جب میں نے بتایا کہ داودخیل کا رہنے والا ہوں تو چاچا سپاہی نے مجھے گلے لگا کر کہا ” وت تاں اساں ہکے گھر نے بندے ہاں”۔
چاچا سپاہی نے بتایا کہ ان کا نام شہباز خان ہے اور وہ داودخیل کے قبیلہ بہرام خیل سے ہیں۔ بہت خوش ہوئے، قریبی ہوٹل پہ جا کر مجھے چائے پلائی اور کہنے لگے میں تھانہ صدر میں متعین ہوں ۔ کبھی کوئی کام ہو تو مجھے بتا دینا۔
اس کے بعد چاچا شہباز خان سے سر راہ کئی بار ملاقات ہوئی۔ جب بھی ملتے مجھے چائے پلاتے اور داودخیل کا حال احوال مجھ سے پوچھتے رہتے تھے۔
بہت عرصہ بعد جب میں انگلش کے لیکچرر کی حیثیت میں میانوالی آیا تو چاچا شہباز خان میانوالی کے تھانہ سٹی میں متعین تھے۔ یہاں بھی اکثر مجھ سے ملنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد ریٹائر ہو گئے ۔ پھر اس کے بعد ملاقات نہ ہو سکی۔ ایک دن خبر ملی کہ شہباز خان اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ حق مغفرت فرمائے ناقابل فراموش انسان تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔٢٦   اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاچا فقیرا۔۔۔۔۔۔
پنڈی میں ہمارے گھر کے عین سامنے مری روڈ کے پارلے کنارے پر چاچا فقیرا نامی ایک بزرگ بیٹھتے تھے۔ چاچا فقیرا موچی تھے۔ سڑک کے کنارے بیٹھ کر لوگوں کے پھٹے پرانے جوتوں کی مرمت کا کام کرتے تھے۔ سانولی رنگت، دبلے پتلے ، لمبے قد اور لمبی مونچھوں والے چاچا فقیرا خاصی پُراسرار شخصیت تھے۔
چاچا فقیرا اس بھری دنیا میں تن تنہا تھے۔ نہ بیوی نہ بچے ، نہ آگا، نہ پیچھا، لیکن انسان بہت اچھے تھے۔ اپنی اولاد تو تھی نہیں، یہ حسرت پوری کرنے کے لییے وہ ہم سے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے۔ ہم تین ہم عمر نوجوان تھے، میں، ہمارے مالک مکان کا بیٹا راجہ فرخ عنایت اور ہمارے ملازم چاچا جلال کا بیٹا محمد امیر المعروف “میرا”۔
شام کے بعد چاچا فقیرا کچھ وقت ہمارے ہاں گذارتے تھے۔ بہت دلچسپ ہنسنے ہنسانے والی باتیں کرتے تھے۔ بہت اچھا گا بھی لیتے تھے۔ اکتارا( ایک تار والا ساز) بھی بہت اچھا بجا لیتے تھے۔ پتہ نہیں کب سے یہ اکتارا ان کی تنہائیوں کا ساتھی تھا؟ وہ میرے ساتھ اکثر ولانویں (سوال جواب) ماہیوں کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔ ایک ماہیا چاچا فقیرا گاتے تھے اس کے جواب میں دوسرا ماہیا میں گاتا تھا۔ یہ شغل ہر شام کچھ دیر چلتا رہتا تھا۔
چاچا فقیرا ظفرالحق روڈ پر ایک جھونپڑی میں رہتے تھے۔ ان کے ماضی کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہ تھا۔ ایک آدھ بار ہم نے کریدنے کی کوشش کی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کہنے لگے چھوڑو ان باتوں کو، کوئی اور بات کرو۔
کہا کرتے تھے یہ جو میں جوتوں کا کام کرتا ہوں اس سے مجھے دو وقت کی روٹی مل جاتی ہے۔ اور کیا چاہیئے مجھے۔ ؟ میرا کون ہے جس کے لیئے پیسے جمع کرتا رہوں؟
کچھ عرصہ بعد میں پنڈی سےاپنے گھر داودخیل منتقل ہو گیا۔ باقی لوگ بھی اپنے اپنے کام میں لگ گئے ۔پتہ نہیں چاچا فقیرا کا کیا بنا۔؟
بہت عرصہ بعد ادھر سے گذر ہوا تو چاچا فقیرا وہاں نہیں تھے ۔ اب تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ رب کریم ان کی اگلی منزلیں آسان فرمائے۔۔۔۔۔۔ اچھے انسان تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔٢٧  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باباجی مہینے میں دوچار دن سکولوں کے معائنے کے لیئے پنڈی سے باہر جایا کرتے تھے ۔ پورے راولپنڈی ڈویژن کے ڈائریکٹر سکولز تھے، اس لیئے یہ دورے ان کے فرائض منصبی میں شامل تھے۔
راولپنڈی ڈویژن اس زمانے میں 6 اضلاع ( پنڈی ، جہلم ، گجرات ، سرگودہا ، اٹک اور میانوالی) پر مشتمل تھا۔ چکوال خوشاب اور بھکر کو ضلع کا درجہ بعد میں ملا۔
بابا جی کی عدم موجودگی میں میں اپنے دوست راجہ فرخ عنایت کے ساتھ شہر کے سینماؤں میں اپنی پسند کی فلمیں دیکھ لیتا تھا ۔ راولپنڈی میں اس وقت 9 سینما تھے۔ 6 شہر میں ، 3 صدر میں۔ صدر میں تو انگلش فلمیں چلتی تھیں، شہر کے سینماؤں میں انڈین اور پاکستانی اردو اور پنجابی فلمیں دیکھنے کو ملتی تھیں۔ ہم زیادہ تر شہر کے سینماؤں میں 3 بجے سے 6 بجے کا شو دیکھ کر سر شام گھر واپس آجاتے تھے۔
میں نے پہلی فلم فوارہ چوک کے روز سینما میں دیکھی۔ فلم کا نام تھا “پینگاں” ۔ مسرت نذیر اس فلم کی ہیروئین اور اسلم پرویز ہیرو تھے۔ اس جوڑی کی یہ پہلی فلم بہت مقبول ہوئی ۔ کئی ہفتے چلتی رہی۔
اس زمانے کی فلمیں سماجی مسائل کے بارے میں ہوتی تھیں۔ اس لیئے ان سے تفریح کے علاوہ بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملتا تھا۔ لچرپن ، فحاشی اور مارکٹائی ان فلموں میں نہیں ہوتی تھی ۔ دلچسپ واقعات، سریلے نغموں اور جان دار اداکاری کے باعث یہ فلمیں بہت مقبول ہوتی تھیں۔ بعض فلمیں کئی کئی مہینے چلتی تھیں۔
سنتوش کمار (سید موسی رضا)، سدھیر ( شاہ زمان خان) المعروف لالہ سدھیر اور اسلم پرویز اس دور کے مقبول ترین فلمی ہیرو اور صبیحہ خانم ، مسرت نذیر اور بہار بیگم مقبول ترین ہیروئینیں تھیں۔
جی اے چشتی، ماسٹر عنایت حسین ، خواجہ خورشید انور اور رشید عطرے جیسے بڑے موسیقاروں کی مرتب کی ہوئی دھنوں میں نغمے دلوں میں اتر جائے تھے۔
انڈین فلموں میں دلیپ کمار، راج کپور، دیوآنند اس دور کے پسندیدہ ہیرو اور مدھوبالا، نرگس اور نمی مقبول ترین ہیروئینیں تھیں۔ چوٹی کے موسیقار نوشاد، خیام ، شنکر جے کشن اور ایس ڈی برمن وغیرہ تھے۔ سرکردہ گلوکار طلعت محمود ، محمد رفیع، مکیش ، لتا منگیشکر ، آشا، شمشاد بیگم اور گیتادت تھے۔ پاکستان کے نمایاں فلمی گلوکار سلیم رضا ، عنایت حسین بھٹی ، منیر حسین ، زبیدہ خانم اور کوثر پروین تھے۔
گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔٢٨  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گارڈن کالج….GORDON COLLEGE …. ایک امریکی مشنری تنظیم نے 1893 میں قائم کیا۔ یہ پاکستان کے بہترین کالجوں میں شمار ہوتا تھا۔ جب ہم نے اس کالج میں داخلہ لیا وہاں پرنسپل صاحب پروفیسر جے بی کمنگز کے علاوہ سائنس کے ہر شعبے میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ امریکی پروفیسر صاحبان تھے۔ بیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ڈاکٹر آر آر سٹیوارٹ، کیمسٹری کے ہیڈ پروفیسر آر ٹیبی اور فزکس کے ہیڈ ڈاکٹر ڈی ایل ڈائی تھے۔
انگلش ڈیپارٹمنٹ میں پاکستانی پروفیسر صاحبان کے علاوہ چند امریکی پروفیسر صاحبان ، پروفیسر مکلاہ، پروفیسر گیلیئن، ہمارے مہربان استاد محترم پروفیسر جان وائلڈر اور مسز ایچ پی سٹیوارٹ بھی شامل تھے۔
تعلیمی اور انتظامی لحاظ سے گارڈن کالج ایک بہترین درسگاہ تھا۔
جب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تمام پرائیویٹ اداروں کو سرکاری تحویل میں لینے کا اعلان کیا تو گارڈن کالج بھی سرکاری تحویل میں آکر گورنمنٹ گارڈن کالج بن گیا۔ تمام امریکی پروفیسر صاحبان رخصت ہوگئے اور ان کی جگہ پاکستانی اساتذہ نے سنبھال لی۔ یوں گارڈن کالج کا سنہری دور ختم ہوا اور یہ ایک عام گورنمنٹ کالج بن گیا۔
ہم پاکستانی ماہرین تعلیم کوئی اور کام بھلے نہ کر سکیں تعلیم کا بیڑا غرق کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔
اب تو اس کالج کے قریب سے گزرتے ہوئے بھی دل دکھتا ہے۔
گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ     –۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے

Munawar Ali Malik

ہمارے زمانے میں پروفیسر جے بی کمنگز پرنسپل تھے۔ ڈاکٹر سٹیوارٹ پرنسپل کے منصب سے ریٹائر ہونے کے بعد رضاکارانہ طور پر اسی کالج میں ہیڈ آف بیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی حیثیت میں کام کرتے رہے۔
  • Tariq Farooq Niazi

    ملک صاحب میرے چچا احمد نواز نیازی بھی یہاں پڑھتے رھے ہیں۔۔ اور میری بھابھیوں کے بھائی اجمل نیازی بھی یہاں استاد رھے۔ انگریزی کے پروفیسر مرحوم سجاد شیخ میرے ہم زلف تھے۔۔ گورڈن کالج نہایت ہی شاندار ادارہ تھا اپنے وقت کا ۔

    • Shahid Mansoor

      Sir mazeed likhen Gordon College kay baray main, Agar main galat nhe to Tilok Chand Mehroom Sahib bhe ise college se wabasta rahay hain. Gordon College ki bhe series honi chaheay ya bhe jan’nay laik topic hay.
    • Sami Niazi Nayab Niazi

      Now educational institutions have become business centers . Their target is how to get high marks.
      Few days ago, I visited a college to get information about it. I was served with a cold water and they asked what can we do for you.
      I told them that I need some information about your college.
      The man sitting on reception picked up a register and asked me to tell student’s name.
      I said again I need some information about college but he resisted to tell student’s name.After registering student’s name ,he told me that admission fee is 10000 and monthly fee would be 5400.
      When I told him that I would like to visit class room ,he said that is not allowed.
      I got angry and said,why can I not visit a class room.?
      I said , when you buy melons you smell it to check wether it is sweet or not .
      When you buy watermelon you demand to have little cut just to check whether it is red or not.
      I am going to send my son in your college for study and have I no right to check your method how do you teach here in college.
      He said, sorry we are not allowed.
      Then I also said sorry for not getting admission here in your college.
      Now this is the standard of private colleges.
      I would suggest all educated parents to visit educational institution before admission of their children.

٢٩  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا پرانا شعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیمرے کی نظر میں
دریا نے رخ بدلا تو اک گاوں اجڑا ،
مل نہ سکے پھر دو ہمسائے اس سے کہنا
٣٠  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گارڈن کالج کے دو سینیئر سٹوڈنٹس محمد بلال اور ملک اورنگزیب کو کالج انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی بنا پر پرنسپل صاحب نے کالج سے نکال دیا۔ ان دو نوجوانوں نے پرنسپل کے اس اقدام کے خلاف عدالت میں کیس دائر کر دیا۔ کیس کی سماعت سول جج مس پرویز یوسفزئی نے کی۔
سماعت کا آغاز ہوا تو مدعی محمد بلال نے کہا جناب ہمیں وہ جرم بتایا جائے جس کی بنا پر پرنسپل صاحب نے ہمیں کالج سے نکال دیا۔
جج صاحبہ نے کہا دیکھیں بھئی، میری نظر میں تو ایک استاد کے خلاف آپ کا عدالت میں آنا بھی جرم ہے۔ افسوس کہ قانون میں اس جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں ورنہ میں ابھی آپ کو سزا سنا دیتی ۔ یہ کہہ کر جج صاحبہ نے کیس خارج کردیا۔
یہ فیصلہ سن کر پرنسپل صاحب کے وکیل نے کہا ” واہ واہ واہ۔ کیا بات ہے جناب۔۔۔۔”
جج صاحبہ نے وکیل کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔۔۔
Mind you please. It is a court, not a Mushaera.
(خبردار ، یہ عدالت ہے کوئی مشاعرہ نہیں)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔٣١  اگست 2023 –منورعلی ملک۔۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top