Men aur Mera Mianwali

Men aur Mera Mianwali – میں اور میرا میانوالی

کتاب کے مصنف ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی

 

 کتاب کے مصنف ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی کا  اپنی کتاب کے بارے میں  جائزہ 

الحمد للہ..الحمد للہ..الحمد للہ.. “میں اور میرا میانوالی” شائع ہو چُکی. “میں اور میرا میانوالی” میری سرگزشت ہے. یہ میری آپ بیتی بھی ہے اور جگ بیتی بھی. بچپن اور لڑکپن کی حسین یادیں ہیں. سکُول اور کالج دور کے یادگار واقعات ہیں. آج سے تقریباً پچاس ساٹھ سال پہلے گاوں اور شہروں کی زندگی کیسی ہوتی تھی، لوگوں کے شب و روز کیسے گزرتے تھے، ہماری ثقافت کیسی تھی، کونسے رسم و رواج تھے، کونسی شاندار روایات تھیں، مقامی اور مذہبی تہوار کیسے منائے جاتے تھے. یہ سب کُچھ آپ کو اس کتاب میں میں ملے گا. سلطنت آف عمان میں ملازمت کے دور کے دلچسپ واقعات ہیں. ہمارے معاشرے کی بچیوں کا مقدمہ ہے. زندگی کے تلخ حقائق ہیں اور موجودہ ظالمانہ نظام کے خلاف بغاوت ہے. اپنے پیارے میانوالی کی پیاری، رس بھری اور میٹھی زبان کے اکھانڑ (ترجمہ اور تشریح کے ساتھ) ہیں تا کہ ہماری نئی نسل اپنی ماں بولی مادری زبان سے روشناس ہو سکے. اس کے علاوہ بھی بہت کُچھ….. اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حبیب کے صدقے اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ثم آمین الحمدُللہ “میں اورمیرا میانوالی “ اب أن لائن دستیاب ہونے کے علاوہ، میری أپ بیتی /سرگزشت “میں اور میرا میانوالی ” مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے۔ 1.مسٹر بُکس۔ایف۔6 مرکز۔اسلام آباد 1.Mr.books.F-6 markaz.Islamabad 2.بُکس این بُکس۔کمرشل مارکیٹ۔راولپنڈی۔ 2.Books n Books commercial Markeet Rawalpindi 3.وینگارڈبُکس۔گُلبرگ۔لاھور۔ 3.Vanguard Books Main Gulberg Lahore. 4.بُک اوشین۔ڈی ایچ۔اے۔5۔کراچی۔ 4.Book Ocean. DHA phase 5, Karachi 5.نیو نفیس بُک ڈپو مین بازار میانوالی۔ 5.New Nafees Book Depot Main Bazar Mianwali. دُعاوں کا طلب گار ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی نوٹ : گھر بیٹھے آن لائن منگوانے کے لئیے نیچے دیئے گئے لنک کو کلک کیجئے :

اپنے مُحسن،اپنے اُستاد،اپنے چچا,اور میانوالی کے نامور ماہر تعلیم اور لیجنڈ مُحترم جناب پروفیسر غُلام سرور خان نیازی کو اپنی کتاب “میں اور میرا میانوالی “پیش کرتے ہوئے ۔۔۔

۔اللہ تعالیٰ اُنہیں شفاۓ کاملہ عطا فرماۓ۔أمین ثم أمین

 

کتاب (میں اور میرا میانوالی   )کے بارے میں پروفیسر منور علی ملک کا جائزہ

 

کمال کر دیا ڈاکٹر صاحب نے —- ! ! !

ذکر ہے ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی شہباز خیل کی آپ بیتی “ میں اور میرا میانوالی“ کا جو ایک خوبصورت کتاب کے رُوپ میں اسی ماہ (اکتوبر 2021 ) میں اوراق پبلیکیشنز اسلام آباد نے شائع کی ہے – اپنی مٹی سے والہانہ محبت کی ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں – شہباز خیل سے ڈاکٹر صاحب کی محبت کا یہ عالم ہے کہ کتاب کے ٹائیٹل پر اپنے نام کے ساتھ شہبازخیل لکھنا بھی ضروری سمجھا –
“میں اور میرا میانوالی“ تین حصوں پر مشتمل ہے – پہلے حصے میں ڈاکٹر صاحب نے بچپن سے لے کر اب تک اپنی زندگی کا احاطہ کیا ہے – اس حصے میں شہباز خیل قبیلے کا مختصر تعارف ، بچپن کے واقعات ، ابتدائی تعلیم ، علامہ اقبال میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس ، ہاؤس جاب ، سنٹرل جیل میانوالی سے میڈیکل آفیسر کی حیثیت میں سروس کا آغاز, مختلف مقامات اور عہدوں پر تعیناتی —– ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر پسپتال میانوالی ، ایم ایس بے نظیر شہید ہسپتال راولپنڈی اور دوسرے اہم مناصب کا ذکر ہے –
کتاب کے اس حصے میں سب سے زیادہ دلچسپ تذکرہ اپنے کلچر کے اُن خُوبصورت پہلوؤں کا ہے جو وقت کی گرد میں گُم ہو کر منظر ِعام سے غائب ہوگئے – مثلا شادی بیاہ کے رسم و رواج کے بارے میں یہ عنوانات دیکھیئے —
1. گھڑولی کا فنکشن
2. کپی ٹُکی
3. کانڈھ (باراتیوں کی آمد)
4. لالہ جاگ
5. جنج ( بارات) کی روانگی
علاقائی تہواروں اور تقریبات کی اور بھی بہت سی تفصیلات اس کتاب کی زینت ہیں –
کتاب کا دُوسرا حصہ قومی اور مقامی اخبارات میں شائع ہونے والے آُن کے منتخب کالموں پر مشتمل ہے – اس حصے کا آغاز “ونی“ کے عنوان سے ہوتا ہے – ونی ایک ظالمانہ رسم ہوتی تھی جس کے تحت قاتل کا خاندان مقتول کے خاندان کو ان کی ڈیمانڈ کے مطابق دوچار بچیوں کے رشتے دے کر مقتول کے خاندان سے صُلح کر لیتا تھا – اس ظالمانہ رسم کے تحت بعض اوقات دس پندرہ سال عمر کی بچیوں کو ساٹھ ستر سالہ بُڈھوں کے پلے باندھ دیا جاتا تھا – قاتل کے خاندان کی بچیوں سے سُسرال میں جانوروں جیسا سلُوک کیا جاتا تھا – بہت المناک داستانیں ہمارے علاقے میں چاروں طرف بکھری پڑی ہیں – ڈاکٹر صاحب کے اس کالم میں “ونی“ کی رسم کا شکار ہونے والی ایک بچی کی اپنے والد سے فریاد ایک دلگُداز ، رقت انگیز نظم کی صورت میں شامل ہے –
بچیوں کے معاملے میں ڈاکٹر طارق نیازی بے حد حساس ہیں – کتاب کا انتساب ہی ونی ہونے والی مظلُوم بچیوں اور اُن بے بس و لاچار بچیوں کے نام ہے جن کو اُن کے والدین جائداد میں اُن کے حق سے محروم رکھتے ہیں – ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں :
“میری اس کاوش سے اگر ایک باپ نے بھی اپنی جائداد سے اپنی بیٹیوں کو
شرعی حصہ دے دیا ، اور اگر ایک شخص نے بھی ونی کے بارے میں اپنا
ذہن تبدیل کر لیا تو میں سمجھوں گا کہ میری کاوش کامیاب ہو گئی ہے “
کتاب کے اس حصے میں سیاسی کالم بھی ہیں – ان میں ڈاکٹر طارق نیازی نے بہت دلسوزی اور دیانت داری سے ملک کے سیاسی حالات کا تجزیہ کیا ہے –
کتاب کے اس حصے کے آخری مضمون “ اپنی عظیم والدہ ء مرحومہ کی قبر پر حاضری “ نے مُجھے تو رُلا دیا – والدہ کی قبر پر حاضری کے دوران ڈاکٹر صاحب والدہ سے بہت سی دِل کی باتیں کہنے کے بعد قبر سے لپٹ کر کہتے ہیں :
“ماں ، صرف ایک دفعہ ، بس صرف ایک دفعہ مجھ سے بات کر،
پھر میں کبھی کوئی فرمائش نہیں کروں گا – ماں صرف ایک دفعہ۔۔۔۔ اپنے یتیم بیٹے کو مایُوس نہ کر ———“
دِل سے نکلی ہوئی ڈاکٹر طارق کی بے ساختہ ، بے تکلف باتیں کہیں ہنساتی ، کہیں رُلاتی ہیں – ڈاکٹر صاحب کا اندازِ تحریر بہت سادہ اور دلنشیں ہے –
فارسی کی ایک کہاوت ہے
“ولی را ولی می شناسد“ ( ولی کی قدرو قیمت ولی ہی جانتا ہے) – اسی طرح یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ “شہباز خیل را شہباز خیل می شناسد ( شہباز خیل شخص کی قدرقیمت ایک شہباز خیل ہی جانچ سکتا ہے) – اسی لیے ڈاکٹر طارق نیازی نے کتاب کا تعارف اردو اور انگلش ، دونوں زبانوں میں صاحبِ علم ، صاحبِ قلم دانشور پروفیسر سرور نیازی صاحب سے لکھوایا ہے- پروفیسر سرور خان شہبازخٰیل بھی ہیں ، اور ڈاکٹر صاحب کے رشتہ دار اور ٹیچر بھی – اُن کے قلم سے نکلا ہوا ڈاکٹر طارق نیازی کا تعارف بہت مؤثر ہے –
کتاب کا تیسرا حصہ ضلع میانوالی کے معروف اقوالِ زریں کا مجموعہ ہے – ہماری زبان میں ان کو اکھانڑں کہتے ہیں-
ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی کی کتاب “میں اور میرا میانوالی“ کا تیسرا حصہ مقامی زبان کی معروف کہاوتوں اور اقوال زریں پر مشتمل ہے – کہاوت یا اقوالِ زریں کو انگریزی میں Encapsulated folk wisdom کہتے ہیں — ہر زبان کی اپنی کہاوتیں ہوتی ہیں – ہمارے ہاں ان کو “اکھانڑں“ کہتے ہیں – یہ اکھانڑں بزرگوں کے تجربے اور مشاہدے ہر مبنی ہوتے ہیں – یہ دانائی کی باتیں ہوتی ہیں جن سے گفتگو آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے –
ہمارے ضلع میانوالی کی زبان میں بھی سینکڑوں اکھانڑں تھے جن میں سے زیادہ تر تو اب عام بول چال میں استعمال نہیں ہوتے – پھر بھی بہت سے اکھانڑں ایسے ہیں جو روزمرہ کی گفتگو میں استعمال ہوتے ہیں –
ایک دن کالج کے بیالوجی ڈیپارٹمنٹ ٹی کلب میں چائے پیتے ہوئے ہمارے محترم بھائی پروفیسر سرور خان نے کہا تھا میں اکھانڑوں کی ڈکشنری مرتب کرنا چاہتا ہوں – میں نے کہا بہت مشکل ہے بھائی – سرور خان نے کہا وہ کیوں , میں نے کہا ہمارے کم ازکم33 فی صد اکھانڑں تو گالیاں ہیں – وہ اگر لکھے جائیں تو فحاشی کے الزام میں گرفتار ہو سکتے ہیں – میں نے یہ کہہ کر مثال کے طور پر چند ایسے اکھانڑں دُہرا دیئے – کُچھ سرور خان نے سُنائے ، دیر تک محفل میں قہقہے گوُنجتے رہے – سرور خان نے کہا “یار یہ تو آپ نے درست کہا – اکثر اکھانڑں تو لکھے ہی نہیں جا سکتے – اس لیئے ڈکشنری لکھنے کا پروگرام کینسل –
سرور خان کے ارادے کی تکمیل بالآخر ایک شہباز خیل ہی نے کردی – ڈاکٹر طارق مسعود خان نے دوتین سو صاف سُتھرے اکھانڑں چھانٹ کر تقریبا 70 صفحات پر مشتمل خزانہ اپنی کتاب کی زینت بنادیا – صرف ایک اکھانڑں میں ذرا سی گڑبڑ ہے ، شاید ڈاکٹر صاحب کو خیال نہ رہا – بہر حال میں وہ اکھانڑں منظرِ عام پر نہیں لاؤں گا –
ڈاکٹر طارق نیازی نے مناسب الفاظ میں ہر اکھانڑں کی تشریح بھی کر دی ہے – کتاب کا یہ حصہ بہت دلچسپ ہے – یہ ڈاکٹر صاحب کا میانوالی کی زبان اور کلچر پر احسان ہے کہ انہوں نے دانش کے اس بیش قیمت سرمائے کو محفوظ کردیا –
 
 
 
 
   

 
       
 
 
“میں اور میرا میانوالی”
حرفِ آشنا
عصمت گل خٹک
ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی شہباز خیل کی سرگزشت ” میں اور میرا میانوالی” پڑھی تو آج کے سرتاپہ کمرشل مسیحاؤں کے بارے میں قائم تاثر کے متعلق نہ صرف نظرثانی کرنا پڑی بلکہ شہباز خیل قبیلہ کے حوالے سے وُہ جو چار وانگ ” مشہُوری” زبانِ زدِ عام ہے اس کی بنیادی وجوہات جان کر جہاں افسوس ہوا وہاں خوشی اس بات کی ہوئی کہ اس قدر باصلاحیت لوگوں کی سرزمین پر کاررواں کے لُٹ جانے کا احساسِ زیاں نہ صرف باقی ہے بلکہ زیورِتعلیم سے آراستہ ہونے والے اِس کے بیٹے اپنے سابقہ خوبصورت و مُہذب شناخت کی سَروائیول کیلئے ہاتھ پاؤں بھی ماررہے ہیں ……… ڈاکٹر طارق نیازی کی مذکورہ سرگزشت اِسی کوشش کی ایک ایسی کڑی ہے جو یقیناً اس سفر کے مُسافروں کیلئے سنگِ میل ثابت ہوگی۔
ڈاکٹر نیازی کیمطابق 1980 کے بعد شہباز خیل گاؤں میں سیاستدانوں کا اثرورسوخ بڑھنے کے فوراً بعد ہی سماجی برائیوں نے بھی سَر اٹھاناشروع کردیا …… سیاسی چھتری میسر آنے کے بعد تھانہ کچہری کی مُعاونت سے جوئے و منشیات ‛ سود خوری اور قتل وغارت نے ایک محنتی و جفاکش اور پُرامن گاؤں کی شکل ہی بدل دی …. نتیجتاً ‛ نئی نسل نے جب یہ دیکھا کہ کالے دَھن والا ہی ” اُوتار” کے رتبے پر فائز ہو گیا ہے اور شریف ‛ پڑھا لکھا سُفید پوش محض کمی کموڑا بن کررہ گیا تو اِس نسل میں سے احساسِ جرم کیساتھ ساتھ احساسِ گناہ بھی ناپید ہوگیا ___ پیسہ ہی منزلِ مقصود بن گیا جس کیلئے سُودخوری ‛ بدمعاشی و بھتہ خوری ‛ جواء و ڈکیتی ‛ منشیات و سمگلنگ اور قتل وغارت کا ایسا بازار گرم ہوا جہاں اخلاقی اقدار کیساتھ قانون وغیرہ بھی موم کا ناک بن گئے ….. یوں ضلع کچہری سے صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر یہ خوبصورت گاؤں پولیس کیلئے نوگو ایریا بن گیا ..
کتاب کا یہ اقتباس …… جہاں گئے زمانوں کے پُرامن شہباز خیل کی موت کا پوسٹ مارٹم ہے وہاں درحقیقت ہماری ذاتی اغراض و مفادات کے اِردگرد گُھومتی غلیظ سیاست اور سیاستدانوں کے منہ پر کسی طمانچہ سے بھی ہرگز کم نہیں .
کتاب پڑھنے کے بعد ایک راز یہ بھی کُھلا کہ صرف انسانوں ہی میں عورت (مادہ) مَردوں کو ورغلا کر تباہ و برباد نہیں کرتی بلکہ پرندے بیچارے بھی اپنی اِسی مادہ کے ہاتھوں ہمیشہ سے مارے جاتے رہے ہیں …….. ایک جگہ ڈاکٹر طارق نیازی رقمطراز ہیں کہ ” کِرک” اس مادہ بٹیر کو کہتے ہیں جو اپنی مخصوص بولی بولتی ہے __ ہم لوگ کھیت کے ایک کونے پر جال لگا دیتے جس کیساتھ ” کِرک” رکھ دیتے وہ جب اپنی مخصوص بولی بولتی تو کھیتوں میں موجود بٹیر (نَر) اسکی آواز پر کھینچا چلا آتا اور یوں جال میں پھنس جاتا ..
” میں اور میرا میانوالی ” میں جگہ جگہ مقامی زبان کے محاورے و اصطلاح اور” اکھانڑ” کے استعمال سے جہاں لوک دانش کا یہ قیمتی خزانہ ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوگیا ہے ….. وہاں ورق گردانی کرتے وقت قاری محظوظ ہوئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا …. مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں ” اگر کسی مریض کو گیسٹرو انٹرانس ہوجاتا تو حکیم سے کہا جاتا کہ ” اُتو تلو چُھٹ گیا اے ” یعنی الٹیاں اور پیچس بھی لگ گئے ہیں۔”
ڈاکٹر طارق نیازی اپنی اس آپ بیتی میں کہیں بھی کسی طرح کے احساسِ کمتری یا برتری کا شکار نہیں ہوئے اور زمانہ طالب علمی اور دورانِ سروس جو کچھ اندر محسوس کیا اُس کوبھی پوری ایمانداری کیساتھ الفاظ کی صورت گری میں قارئین کیساتھ شئیر کیا _____
مجموعی طور پر یہ کتاب ایک کامیاب انسان کی انفرادی داستانِ حیات تو ہے ہی مگر اپنے عَہد کی یہ ایک ایسی جامع تصویر بھی ہے ….جِس میں رائٹر شہبازخیل سے میانوالی شہر ____ لاہور ___ سلطنت آف عمان اور راولپنڈی کے مختلف مناظر آپ کی انگلی پکڑ کر اس کمال کیساتھ دکھاتا ہے کہ کسی لمحہ بھی بوریت یا اُکتاہٹ کا احساس نہیں ہوتا _____میرا خیال ہے کہ ایک کامیاب لکھاری کی یہی خوبی اس کو تادیر زندہ رکھتی ہے مگر جس طرح ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی نے اپنی پہلی کاوش میں اپنے زمانے کو جس خوبصورتی کیساتھ پینٹ کیا ہے _____ وہ مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ اپنی آنیوالی نسلوں کیلئے انہوں نے سینہ گزٹ کی بجائے ایک مُستند اور جامع تاریخ مرتب کردی ہے جس پر نہ صرف یقیناً وہ فخر کیاکریں گیں بلکہ اِس سنگِ میل کی مدد سے اپنے آباؤ اجداد کی “گُم گشتہ جنت” کو تلاش کرنے کیلئے راہنمائی بھی حاصل کریں گیں۔
 
 mianwali.org -ویب سائٹ
 
ٹیم کا ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی کی کتاب “میں اور میرا میانوالی” کے بارے میں جائزہ،  –  
 
 

ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی میانوالی میں پیدا ہونے والے میڈیکل ڈاکٹر ہیں لیکن ان کی کتاب “میں اور میرا میانوالی” کی اشاعت کے بعد وہ میانوالی کے لوگوں کی فطرت اور آبائی ثقافت کے گہرے مطالعے کے مصنف بن گئے ہیں –

ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی نے اپنی انسانیت کی وجہ سے بہت سے لوگوں اور خاص کر میانوالی کے لوگوں کی بہت مدد کی۔ ان کی تحریر ہلکی پھلکی ہے، بنیادی طور پر ان کی حقیقی زندگی کے تجربات پر مبنی ہے۔ انہوں نے بنیادی طور پر میانوالی کے لوگوں اور ان کے مزاج کے بارے میں لکھا۔ اس کی تحریر ہمیں انسان بننے کے طریقے تلاش کرنے میں مدد کرتی ہے، ہمیں دوسروں کی زندگیوں میں جھلک دیتی ہے، ہمارے شعور کے دائروں کو وسیع کرتی ہے کیونکہ

طبی پیشہ انہیں اپنے جذبات اور تنازعات کو حل کرنے میں مدد کرتا ہے، لیکن میانوالی کی ثقافت کے بارے میں لکھنا ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی کی ادبی دعوت ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ لکھتے رہیں گے اور اپنی تحریر سے لوگوں کو فائدہ پہنچائیں گے-

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.