Afghan Nationalism and Us

افغان نیشنلزم اور ہم
تحریر: محمد قمر الحسن بھروں زادہ
نیشنلزم (قوم پرستی)کی قدیم تاریخ ہے لیکن نیشنلزم کی تحریک کو باقاعدہ عروج و دوام بیسویں صدی کے آغاز اور پہلی جنگ عظیم سے حاصل ہوا اور اسکی عملی توثیق دوسری جنگ عظیم کے بعد ہو گئی۔یہ انھی اور انہی جیسی تحریکوں کا نتیجہ تھا کہ ترکی،عرب،چین،کوریا،

 وسطی ایشائی ریاستیں، پاکستان،یورپین ممالک، افریقی ممالک، اسرائیل، بھارت،بنگلہ دیش اور دیگر کئی ممالک معرض وجود میں آئے۔
ان میں کئی ممالک نسلی، جغرافیائی،لسانی اور ثقافتی تضادات کی بنا پہ قائم ہوئے اور اکا دکا ممالک جیسے پاکستان اور اسرائیل کی بنیاد مذہبی تھی۔
لیکن جنوبی ایشیاء اور وسطی ایشیاء کے سنگم پہ موجود ایک ملک افغانستان ہے جو ان لسانی و نسلی و گروہی تفرقات کے باوجود متحد رہا۔
اگرچہ افغانستان غالب اکثریتی مسلمان ملک ہے لیکن دنیا کے نقشہ پہ اس کے وجود رہنے کی وجہ یہاں کے باسیوں کا اپنے محل وقوع سے اپنے جغرافیہ سے بے انتہاء اور بے پایاں محبت ہے۔
افغانستان کی نسبت ایک اساطیری کہانی مشہور ہے کہ اللہ تعالی جب باقی دنیا تخلیق کر چکا تو اس نے دیکھا کہ ملبے کا انبار پڑا ہوا ہے۔اللہ نے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں اور ایسی چیزوں کو جو کسی اور کام نہیں آئی تھیں اٹھا کر زمین پر پھینک دیا اور یوں افغانستان بن گیا۔نعوذ باللہ
افغانستان کا بیسیوں بار نقشہ تبدیل ہوا،پرچم کا ڈیزائن بدلتا رہا، حکومتوں کےنظریات و افکار اور انکی ترجیحات بدلتی رہیں۔اردگرد طاقتور عالمی طاقتیں اور پڑوسی بدلتے رہے۔افغانستان کے دوست کون ہیں دشمن کون ہیں بدلتے رہے اور حتی کہ ان کو تعین کرنے کا میعار بھی بدلتا رہا۔لیکن موجودہ افغانستان کی مملکت پچھلے تین سو سالوں سے کسی نہ کسی صورت قائم ہے۔
افغانستان کے آئین کے مطابق افغانستان کا ہر باشندہ افغان ہے چاہے اسکا تعلق کسی بھی قومیت سے ہو۔افغانستان کے ملی ترانے میں بھی بارہ اقوام پشتون، تاجک، ہزارہ، ازبک، بلوچ، قزلباش، نورستانی،پامیری،ترکمن، گجر، ایماق اور براہوی کا باقاعدہ ذکر ہے جو ملکر ایک افغان قوم بناتی ہیں۔
مشہور بی بی سی رپورٹر احمد رشید لکھتا ہے کہ افغان بینی ایک پورا فن ہے۔
کیونکہ افغان بہادر ہیں، باوقار ہیں، ذیشان ہیں،فیاض ہیں،مہمان نواز ہیں، خوش خلق ہیں، وجیہ اور خوبرو ہیں لیکن ان میں ان سب کے برعکس کچھ خصلتیں بھی ہیں کیونکہ یہ اگر سختی پہ اتر آئیں تو خون آشام ہونے میں انھیں دیر نہیں لگتی اور اس حالت میں یہ کوئی بھی نا پسندیدہ حرکت کر سکتے ہیں۔
امیر تیمور نے افغانستان کے مشہور ثقافتی و تعلیمی مرکز ہرات کو تہہ تیغ کیا اور اسکے نوادرات کو ثمر قند منتقل کر دیا۔امیر تیمور کے جانشین شاہ رخ اور اسکی ملکہ گوہر شاد کو ہرات پسند آیا تو انھوں نے نہ صرف ہرات کو اپنا دارلحکومت بنایا بلکہ وہ سارے لوٹے ہوئے نوادرات ہرات منتقل کر دیے۔
تاریخ نے بار بار یہی دیکھا ہے کہ افغانستان کو بیرونی اور اندرونی طاقتوں نے کئی بار تباہ کیا لیکن وہ کونسا ملک ہے جس نے تباہی کے بعد اسکے انفراسٹرکچر بہتر کرنے کے لئے اپنے خزانوں کے منہ افغانستان کے لئے نہیں کھولے۔
سوویت یونین کی یلغار کے دوران حکمت یار گلبدین (پشتون) ،احمد شاہ مسعود (تاجک) اور رشید دوستم ( ازبک) جیسے سپہ سالاروں نے سیسہ پلائی دیوار بن کر اپنی سرزمیں کا دفاع کیا۔
حالانکہ ان میں نسلی اختلافات موجود تھے لیکن انھوں نے افغان بن کر ملک کی حفاظت کی۔
لیکن جب طالبان اٹھے تو انھوں نے اسلام کا نعرہ بلند کیا لیکن اپنے نسلی تفاوت کو راستے سے ہٹا نہ پائے جسکی وجہ سے افغانستان میں مسلکی و نسلی اختلاف نے شدت پکڑ لی۔
بار بار یلغار کے باوجود افغان متحد رہے اور وہاں پہ کوئی علیحدگی کی تحریک نے جنم نہیں لیا لیکن جب طالبان نے مذہب کو استعمال کیا لیکن قومیت کا لبادہ بھی اوڑھے رکھا تو
طالبان کا دوسرا حریف شمالی اتحاد کی صورت میں بن گیا۔
ہمارے ہاں عرف عام میں شمالی اتحاد کو شیعہ و لبرل اکٹھ سمجھا جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اسکے خیر خواہ سنی ازبک ہیں سنی تاجک ہیں سنی قبائلی پشتون سردار ہیں اور ہزارہ شیعہ مسلمان ہیں۔محض شیعہ یا لبرل کا لیبل استعمال کرنا شمالی اتحاد کے لئے غلط ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو افغان نیشنلزم کے حامی ہیں۔حالیہ سروے میں افغانستان کی پچھتر فیصد لوگوں نے خود کو کسی ذیلی گروہ کا حصہ بتانے سے پہلے افغان ڈکلیئر کیا حالانکہ پشتون آبادی تو کل آبادی کاچالیس فیصد ہے۔
افغان قوم تین سو سال سے متحد رہی اور رہے گی لیکن ان میں دراڑ اسوقت پڑی جب انھوں نے اسلام کو استعمال کیا جبکہ ذیلی قومیتوں کو بھی مدنظر رکھا۔
یہ ہر گز نہیں ہے کہ اسلام نے افغان قوم کو منقسم کر دیا بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ اسلام بہت بڑی چھتری ہے لیکن اگر آپ اس بڑی چھتری کو تان لیں لیکن اسکے نیچے اپنی علاقائی و نسلی چھتریاں بھی اٹھائے رکھیں تو پھر نظام درہم برہم ہو جاتا ہے یا اسطرح کہہ لیں کہ اسلام ایک مضبوط تلوار ہے جسکے میان میں نسلی و لسانی تلواریں نہیں سما سکتیں۔
یہ سارا لکھنے کا مدعا یہ ہے کہ پاکستان بطور اسلامی ملک بھی دنیا کے نقشے پہ بھرم و وقار کے ساتھ رہ سکتا ہے اور پاکستان، پاکستانی نیشنلزم کے اصول کے ساتھ بھی دنیا کے
سنگ چل سکتا ہے لیکن جب یہاں کے مکیں و امیں اسلام کو بھی استعمال کریں اور پھر اپنے صوبائی، لسانی،علاقائی و مسلکی اختلافات کو بھی استعمال کریں تو میرے وطن کا امن ہمیشہ داؤ پہ لگا رہے گا۔
کشمیر کا ایشو اسلامزم اور پاکستانزم کے اصول کے مطابق بہت مضبوط اور ناگزیر ہے لیکن یہی ایشو صوبائیت و لسانیت کے فورم پہ نہائیت کمزور ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح جیسے مدبر لیڈر نے بھی یہی بھانپ لیا تھا کہ اسلام اور پاکستان دونوں ساتھ ہوں گے تو ملک چلے گا لیکن جب ان بڑی چھتریوں کے ہونے کے باوجود کسی اور چھتری کا سہارا ڈھونڈیں گے تو پھر سقوط ڈھاکہ جیسے واقعات ہوں گے۔
پاکستان کو اسلام بھی چلا سکتا ہے پاکستان کو پاکستانیت بھی چلا سکتی ہے لیکن جب ہم کسی موقع پہ اسلام اور پاکستانیت استعمال کریں اور کسی موقع پہ صوبائیت، لسانیت استعمال کریں تو میرے وطن کا امن ہمیشہ خطرے میں رہے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top
%d bloggers like this: