MERA MIANWALI AUGUST 2019

MERA MIANWALI AUGUST 2019

MERA MIANWALI AUGUST 2019

میرا میانوالی—————-

Image may contain: 1 person

مری جانے کی تیاریاں ھو رھی ھیں – ان شاءاللہ کل صبح روانگی ھے- تقریبا ایک ھفتہ وھاں قیام رھے گا – مری میں رہ کر پوسٹس کا تسلسل باقاعدہ تو شاید نہ رہ سکے – بہر حال کسی نہ کسی صورت میں آپ کی محفل میں حاضری لگواتا رھوں گا کیونکہ مجھے دعاؤں کی ضرورت ھر وقت رھتی ھے – اللہ ھم سب کا حامی وناصر ھو-
– رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک–1 اگست 2019

 

میرا میانوالی—————-

اچھی ھے یا بری ۔ ان دوستوں کو یاد کرتے رھنا میری کمزری ھے جو یہ دنیا چھوڑ کر عدم آباد جابسے – فیس بک پہ ان کی یادیں اس لیے شیئر کرتا ھوں کہ ان کے کئی عزیز رشتہ دار ، انہیں جاننے اور چاھنے والے میرے فیس بک فرینڈز اور فالوورز میں بھی شامل ھیں – اس بہانے وہ بھی انہیں یاد کر لیتے ھیں –

گورنمنٹ کالج میانوالی کے میرے پروفیسر ساتھیوں میں سب سے پہلے پروفیسر کاظمی صاحب (آقبال حسین کاظمی) ھماری محفل سے اٹھ گئے – ان کی اچانک وفات ملازمت کے دوران ھی ھوئی – صبح انہوں نے کچھ ٹیچرز اور سٹوڈنٹس کے ھمراہ کہیں جانا تھا – سب نے ریلوے سٹیشن کے سامنے سے بس پہ سوار ھونا تھا – مگر قدرت کو کچھ اور ھی منظور تھا – عین روانگی کے وقت سٹیشن کی دوسری سائیڈ پہ ان کی نماز جنازہ اداکی گئی – پروفیسر کاظمی صاحب صرف ایک ٹیچر نہیں ، ایک ادارہ اور انجمن تھے – کالج کے اردو ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ بھی تھے, کنٹرولرامتحانات بھی ، کالج میگزین “سہیل“ کے چیف ایڈیٹر اور تقریبات کے انچارج بھی تھے – بہت خوش اخلاق اور مہربان ٹیچر تھے – اس لیے سٹوڈنٹس میں بھی بہت مقبول تھے –
دوران ملازمت یہ دنیا چھوڑ جانے والے ھمارے دوسرے پیارے دوست پنڈ دادن خان کے پروفیسراسلم خان تھے – بہت حسین اور خوش مزاج نوجوان تھے – سیاسیات کے لیکچرر تھے – یہاں سے ٹرانسفر ھوکر پنڈ دادن خان گئے – کچھ عرصہ بعد خبر آئی کہ وہ ان اس دنیا میں رھے –
یادوں کا ساون شروع ھؤا ھے تو دوچاردن چلے گا – کچھ دوستوں کا ذکر آج ھؤا کچھ کا کل اور پرسوں ھوگا – یہ سب وہ لوگ ھیں جن کی محبتوں نے میرئ شخصیت کی تعمیر میں حصہ لیا ، اس لیے انہیں یاد رکھنا میرا فرض بھی ھے ، مجھ پہ قرض بھی – اس قرض کی کچھ قسطیں پچھلے دو چار سال میں ادا ھو چکیں ، کچھ اب ادا ھو جائیں گی –
– رھے نام اللہ کا –
بشکریہ- منورعلی ملک-4  اگست 2019

میرا میانوالی—————-

پروفیسرسلطان محمود آعوان شعبہ ء انگریزی کے سربراہ تھے – بہت نفیس مزاج ، خوش اخلاق اور مہمان نواز تھے – کالج کی تاریخ انہوں نے اپنے سامنے بنتی دیکھی – 1950 میں جب یہ کالج سردارعبدالرب نشتر گورنر پنجاب کے حکم سے قائم ھوا تو ملک سلطان محمد اعوان اس کے اولیں سٹوڈنٹس میں شامل تھے – اس دور کے بہت دلچسپ واقعات سنایا کرتے تھے –
پروفیسر ملک سلطان محموداعوان تنظیم اساتذہ کے سینیئررھنما کی حیثیت میں ملک بھر میں پہچانے جاتے تھے – پاکستان کے تمام کالجز میں ان کے دوست موجود تھے – پنجاب یونیورسٹی کی سینیٹ کے رکن بھی رھے – اس لیے گورنمنٹ کالج میانوالی میں ایم اے کی کلاسز کا یونیورسٹی سے الحاق آسان ھوگیا –
ملک صاحب الصفہ کالج میانوالی کے بانی پرنسپل بھی تھے – سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے الصفہ کا لج میں ذمہ داریاں سنبھالیں اور تادم آخر یہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیتے رھے -شعبہ ء فارسی کے پروفیسرحافظ محمد عبدالخالق بھی ھمارے بہت پیارے ساتھی تھے – جب میں عیسی خیل سے ٹرانسفر ھو کر میانوالی آیا توحافظ صاحب نے یہاں مقیم ھونے میں میری بہت مدد کی – وہ ھر معاملے میں میرے سچے خیرخواہ اور ھمدرد تھے –

ذرا تیزمزاج تھے ، ھنسی مذاق میں دوستوں سے لڑبھی پڑتے تھے ، مگر میری ھربات ھنس کر برداشت کرلیتے تھے –

شعبہ فلاسفی کے اکلوتے پروفیسرنذیراحمد خان بھی بہت شگفتہ مزاج دلچسپ انسان تھے – فلسفہ کے پروفیسر تھے — فلسفہ کون پڑھتا ھے – کبھی ایک آدھ سٹوڈنٹ مل جاتا ، ورنہ اکثر سٹاف روم اور ٹی کلب میں دوستوں کی محفل لگائے رکھتے تھے – میں مذاق سے کہا کرتا تھا “یار، یہ عجیب فراڈ ھے ، ھم دن میں چارچار کلاسز پڑھاتے ھیں ، اور آپ سارا دن فارغ بیٹھے رھتے ھیں – تنخواہ پھر بھی ھمارے برابر لیتے ھیں “-
ھنس کر کہتے “ تمہاری جیب سے لیتا ھوں تو تم بند کردو میری تنخواہ – رب دے رھا ھے ، تم تو نہیں دیتے “
میانوالی سے ٹرانسفرھو کر لیہ گئے- وھاں پرنسپل بھی رھے – بہت سین حسین یادیں چھوڑگئے – رھے نام اللہ کا

بشکریہ- منورعلی ملک–5  اگست 2019

میرا میانوالی—————-

یادیں —————– 1982


کالج کی ایک تقریب میں پروفیسرمحمدسلیم احسن کے ساتھ

بشکریہ- منورعلی ملک–6 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

بحمداللہ تعالی کل شام مری سے واپسی ھوئی – وقت بہت خوب گذرا – قدم قدم پر حسن فطرت کے رنگا رنگ مناظر، موسم اتنا ٹھندا کہ اگست میں بھی سویٹر پہن کر چلنا پھرنا ، اور کمبل اوڑھ کر سونا پڑتا ھے –
مری میں ھم نے حسب معمول سب کچھ دیکھا – ایوبیہ ، گلیات ، کوھالہ ، پتریاٹہ – ھر جگہ کا اپنا حسن ھے ، اپنی دلکشی اب کی بارسیاحوں کا رش پہلے سے قدرے کم تھا ، شاید مہنگائی کی وجہ سے – مری ویسے بھی دوسرے شہروں کی نسبت مہنگا ھے – لوگ زبان کے بڑے پکے ھیں ، کسی چیز کی جو قیمت بتادیں ، مجال ھے اس میں ایک پیسے کی بھی رعایت کردیں – لیکن یہاں آنے والے لوگ ذھنی اور معاشی طور پر ان چھوٹی موٹی زیادتیوں کے لیے تیار ھو کرآتے ھیں – اس لیے سب کچھ ھنس کر قبول کر لیتے ھیں –
بچھڑے ساتھیوں کا ذکر ان شآءاللہ کل سے پھر رواں ھوگا – چند اھم نام باقی رہ گئے ھیں – ان کا ذکر میرے لیے بہت اھم ھے –
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ- منورعلی ملک–8  اگست 2019

میرا میانوالی—————-

تھیں جن کے دم سے رونقیں قبروں میں جا بسے
اردو کے پروفیسر محمد فیروز شاہ نفیس مزاج ، خوشبودار شخصیت تھے – بولتے تو زبان سے ، اور لکھتے تو قلم سے پھول جھڑتے تھے – ملک بھر کے ادبی حلقوں میں معروف و معتبر تھے – پاکستان کے ھر ادبی رسالے میں ان کی شعری اور نثری کاوشیں شائع ھوتی رھیں – نظم ، نثر دونوں میں ان کا اپنا ایک منفرد انداز تھا – ایسی معطر تحریریں اور کوئی نہ لکھ سکا –
شاہ جی بہت مہمان نواز اور دوستدار تھے – ان کا حلقہ ءاحباب پورے ملک پر محیط تھا – باھر سے کوئی شاعر یا ادیب میانوالی آتا ، تو شاہ جی ھی کے ھاں قیام کرتا – مہینے میں ایک دو بار اپنے گھر پہ کسی نہ کسی حوالے سے ادبی نشستیں منعقد کرتے رھتے تھے – میانوالی کے نامور قلمکار عصمت گل خٹک , شاہ جی کے حسن تعلیم و تربیت کی ایک تابندہ مثال ھیں – کئی اور چراغ بھی روشن کرکے شاہ جی جوانی ھی میں سرحدحیات کے اس پار جا بسے-شعبہءاردو کے پروفیسراحمدخان نیازی بھی بہت دلنشیں شخصیت تھے – ان کا دلآویز تبسم اب بھی ذھن کی سکرین پرجلوہ گر ھے – بہت مخلص ، سادہ، دھیمے مزاج کے انسان تھے – ھمارے بہترین دوست بھی تھے مشیر بھی – سٹوڈنٹس میں بھی بہت مقبول تھے – گورنمنٹ کالج میانوالی سے رٰیٹائر ھو کر کچھ عرصہ الصفہ کالج میں بھی پڑھاتے رھے – اچانک اس دنیا سے رخصت ھو گئے – ایسے مخلص انسانوں کا وجود زمین پر خدا کی رحمت ھوتا ھے – بہت یاد آتے ھیں –——- رھے نام اللہ کا –

پکچر —– محمد فیروزشاہ

پروفیسر احمد خان نیازی

بشکریہ- منورعلی ملک-9  اگست 2019

میرا میانوالی—————-

–یادیں —-


مری ————- 3 اگست 2019

بشکریہ- منورعلی ملک–9 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

عیدالاضحی اھمیت کے لحاظ سے بلاشبہ بڑی عید ھے ، کیونکہ یہ ابوالانبیا حضرت ابراھیم علیہ السلام کی سنت اور سیدالانبیا جناب محمد علیہ السلام کی ھدایت کے مطابق واجب ھے –
معاشرے کے عام رواج میں اس عید پر عیدالفطر جیسی خوشی اور جوش و خروش کا مظاھرہ دیکھنے میں نہیں آتا – بچے تو اپنے بیارے دوستوں ( دنبے ، بکرے وغیرہ) کے ذبح ھونے پر باقاعدہ روتے پیٹتے نظر آتے تھے – اب شاید ایسا نہ ھوتا ھو ، کیونکہ بچوں کو دلچسپی کے اور بہت سے سامان میسر ھیں – دنبے ، بکرے وغیرہ عید سے ایک آدھ دن پہلے خرید کر دوسرے یا تیسرے دن ذبح کر دیے جاتے ھیں- بچوں کو ان سے دوستی کرنے کا موقع ھی نہیں ملتا -ھم تو آٹھ دس دن اپنے دنبوں سے رج کے دوستی کرتے تھے – صبح شام انہیں چرنے کے لیے کھیتوں میں لے جاتے – ان سے باتیں کرتے ، انہیں نہلا دھلا کر مہندی ، اورطرح طرح کے رنگوں سے سجاتے – ان کے گلے میں ھار بھی ڈالتے – مزے کی بات یہ ھے کہ ھمارے یہ دوست ھماری باتیں سمجھ بھی لیتے تھے –

بڑے شہروں میں رواج اور ھے – لوگ قصابوں کے ھاں جا کر دنبہ یا بکرا منتخب کرتے ھیں ۔ اور پیسے دے کر واپس آجاتے ھیں – عید کے دن نمازعید اداکرنے کے بعد قصاب کے ھاں جاکر اپنے بکرے کے سر پہ ھاتھ پھیرتے ھیں , اور دعائے خیر کے بعد اسے اپنے سامنے ذبح کراکے واپس آجاتے ھیں – قصاب گوشت بنا کر چنگچی یا رکشے پر گھر پہنچا دیتے ھیں-

رھے نام اللہ کا -بشکریہ- منورعلی ملک-11 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

کوھالہ پل —– آزاد کشمیر کا دروازہ

بشکریہ- منورعلی ملک–11 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

عید مبارک — قربانی کا اجروثواب بے حساب بنانے کے لیے ان لوگوں کو ضرور شریک کریں جو کسی وجہ سے قربانی نہیں کرسکے-

بشکریہ- منورعلی ملک–11 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

سیلفیوں کے دور کی عید —-

آپ نے بھی ایسے ھی عید منائی —–؟؟؟?

بشکریہ- منورعلی ملک-12 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

مری ———————- سبحان اللہ العظیم

پتریاٹہ چیئرلفٹ پر بادلوں کے سنگ وادی کی سیر-6 اگست 2019

بشکریہ- منورعلی ملک–13  اگست 2019

میرا پاکستان —-میرا میانوالی–

آج یوم آزادی ھے –

اگر خدانخواستہ ھمیں آزادی نہ ملتی تو ھندو اکثریت کے باعث حکومت ھمیشہ ھندوؤں ھی کی رھتی ، اور ھمارا وھی حال ھوتا جو گذشتہ 72 سال سے کشمیریوں کا ھورھا ھے – جان ، مال ، عزت ، کچھ بھی محفوظ نہ ھوتا ایک دفعہ والٹن لاھور کے سکاؤٹنگ کیمپ میں پروفیسر محمداقبال قریشی نے لیکچر کے دوران ھمیں بتایا کہ جب پاکستان وجود میں آیا تو اس سے دو دن پہلے12 اگست کو ریڈیو پر قائداعظم کا یہ فرمان نشر ھؤا کہ دنیا بھر میں پاکستانی جہاں جہاں بھی رھتے ھیں ، 14 اگست کو اپنے اپنے گھروں پر پاکستانی پرچم لہرائیں –

پروفیسرقریشی صاحب نے کہا “اس وقت ھم برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس تھے – قائداعظم کے حکم کے مطابق اپنے کمرے پر پاکستان کا پرچم لہرانے کے لیے ھم ایک قریبی گارمنٹس ( ریڈی میڈ ملبوسات) کی دکان پر گئے – دکان کی مالک ایک فرانسیسی بیوہ خاتون تھیں- ان سے بات کی -پرچم بنانے کا 15 پاؤنڈ معاوضہ طے ھؤا- ھم نے نقد رقم ادا کردی –

اگلی صبح ھم پرچم لینے گئے تو ان خاتون نے ایک خوبصورت ٹرے میں سجایا ھؤا پرچم ھمارے سپرد کرتے ھوئے کہا “ کیا یہ آپ کا قومی پرچم ھے ؟“
ھم نے کہا جی ھاں – 14 اگست ھمارا پہلا یوم آزادی ھے – ھم اس دن یہ پرچم اپنے کمرے پر لہرائیں گے“
خاتون نے مسکرا کر کہا Then take it as a gift from me

یہ کہہ کر انہوں نے ھمارے 15 پاؤنڈ ھمیں واپس دے دیئے –

یہ ھوتی ھے آزادی کی قدر آزاد قوموں کی نظر میں – اللہ ھمیں بھی اپنی آزادی کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے —————————– رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک–14 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

باپ تو باپ ھوتا ھے نا

پچھلے ھفتے ایک بزرگ تیز رفتاری کے الزام میں گرفتار ھو کر عدالت میں پیش ھوئے -جج : آپ پر الزام ھے کہ آپ مقررہ حد رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلا رھے تھے –

بزرگ : جناب والا ، میری عمر 94 سال ھے – اس عمر میں انسان شوقیہ گاڑی تیز نہیں چلاتا –

جج : مجبوری کیا تھی آپ کو؟

بزرگ : میرا بیٹا کینسر کا مریض ھے – جب کبھی اس کی حالت نازک ھونے لگتی ھے ، اسے فورا ھسپتال پہنچانا پڑتا ھے –

جج : آپ کے بیٹے کی عمر کیا ھے ؟

بزرگ : 63 سال

جج کی آنکھوں میں آنسو آگئے – اس نے کہا ” سر، میں آپ کی عظمت کو سلام کرتے ھوئے آپ کو باعزت بری کرتا ھوں” –

واقعہ بالکل سچا ھے ، میں نے گذشتہ ھفتے ان بزرگ اور جج کی گفتگو کی ویڈیو دیکھی تھی – اس واقعے میں سمجھدار لوگوں کے لیے ایک بہت پیارا سبق بھی ھے ، اس لیے آپ کو بتانا ضروری سمجھا –
– رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک–15  اگست 2019

میرا میانوالی—————-

ابھی کچھ دیر پہلے ایک الماری کی صفائی کرتے ھوئے گھر والوں نے میری کچھ پرانی تصویریں اور تحریریں مجھے لا کر دیں – ان میں تقریبا 35 سال پہلے میانوالی میں منعقد ھونے والی تقریبات کی رپورٹس بھی شامل ھیں –

پہلی رپورٹ جو ایک قومی اخبار میں شائع ھوئی مرحوم پروفیسر محمد فیروزشاہ کی لکھی ھوئی ھے – یہ رپورٹ ضلع کونسل ھال میانوالی میں لالا عیسی خیلوی کے ساتھ ایک شام کی سرگذشت ھے -ھؤا یوں کہ میرے احباب ڈاکٹراجمل نیازی ، پروفیسرمحمد فیروز شاہ اور منصور آفاق وغیرہ اصرار کر رھے تھے کہ کسی دن لالا کو میانوالی بلائیں ، ھم ان کے ساتھ شام منانا چاھتے ھیں – ایک دن اتفاقا عوامی چوک کے قریب لالا سے ملاقات ھوئی تو میں نے بتایا کہ آپ کے ساتھ شام منانی ھے – لالا نے سنیچر کی شام آنے کا وعدہ کر لیا ، اور یہ وعدہ پورا بھی کر دیا

تقریب کی صدارت ڈاکٹراجمل نیازی نے کی – سٹیج سیکریٹری میں تھا – پروفیسر محمد سلیم احسن نے لالا کو منظوم خراج تحسین پیش کیا – جناب فیروز شاہ نے لالا کے فن اور شخصیت کے بارے میں “میانوالی کا شناختی کارڈ“ کے عنوان سے مضمون پڑھا ، نذیر یاد نے نظم ، منصورآفاق نے نثر میں لالا سے محبت کا اظہار کیا – صاحب صدر ڈاکٹراجمل نیازی نے “آوازوں کا منظر نامہ“ کے عنوان سے لالا کو عہد حاضر کی موسیقی کے تناظر میں دلوں مٰیں بسنے والی آواز قرار دیا –

تقریب کے اختتام کا ذکر کرتے ھوئے فیروز شاہ صاحب نے لکھا :

“رات بھر یہ خوبصورت محفل جاری رھی ، اور میانوالی کے اھل ذوق لالا کے فن کی رفعتوں کوحیرت ملی مسرت کے ساتھ دیکھا کیے – ابھی ان کے شوق کے پیمانے لبریز نہیں ھوئے تھے کہ شب کا جام بھر گیا -اور سحر کی اطلاع دیتے ھوئے مرغوں کی اذانوں کے ساتھ لالا نے یہ الوداعی گیت چھیڑ دیا —————

ککڑا دھمی دیا ۔ سویروں ڈتی ایئی بانگ- رھے نام اللہ کا

بشکریہ- منورعلی ملک–16  اگست 2019

میرا میانوالی—————-

-یادیں ——————-

لالا اور میں
مرحوم ناصر خان کے سٹی کلر لیب کے افتتاح کے موقع پر

بشکریہ- منورعلی ملک–17 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

انسان بہت کچھ بھول جاتا ھے ، مگر کچھ رشتے ایسے ھوتے ھیں جو کبھی نہیں بھولتے- ان نہ بھولنے والے رشتوں میں ایک رشتہ بچپن کے کلاس فیلو کا ھے- داؤدخیل سکول میں میرے کلاس فیلوز میں سے میرے ذاتی علم کی حد تک اس وقت صرف معروف ماھر تعلیم عبدالغفورخان امیرے خیل داؤدخیل میں موجود ھیں – اللہ انہیں سلامت رکھے پہلی سے دسویں کلاس تک میرے کلاس فیلو رھے – بہت نیک اور لائق انسان ھیں ، ھر کلاس میں اول آتے رھے – آج کل داؤدخیل ھی میں اپنا تعلیمی ادارہ چلا رھے ھیں –

میرے پہلی سے دسویں کلاس تک کے ساتھیوں میں سے میرے قریب ترین دوست اللہ داداخان کنوارے خیل ، گل جہان خان بہرام خیل ، سکندرخان شنے خیل ، محمد صدیق خان بہرام خیل ، حبیب الرحمن قریشی ، شیرمحمد خان المعروف شیرو شکورخٰیل اب اس دنیا میں موجود نہیں ، اللہ سب کی مغفرت فرما کر انہیں اپنی رحمت کی امان میں رکھے – بے شمارحسین یادیں ان سے وابستہ ھیں – میری شخصیت کی تشکیل میں ان کی محبتوں نے اھم کردار ادا کیا –

عطاءاللہ خان داؤخیل المعروف عطاءاللہ خان ممبر ، بھی میرے بہت محترم دوست تھے – بہت عرصہ ھؤا ان سے ملاقات نہیں ھوئی – کچھ عرصہ پہلے کسی نے بتایا تھا کہ وہ اللہ کے فضل سے زندہ و سلامت ھیں – اللہ کرے یہ خبر درست ھو، ان شآءاللہ اگلی بار داؤدخیل جاؤں گا تو ان سے مل لوں گا –
رھے نام اللہ کا- بشکریہ- منورعلی ملک–18 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

ھم سات آٹھ کلاس فیلوز کے گروپ میں سے لائق صرف غفور خان ھی تھے ، جو شوق سے پڑھنے لکھنے میں مشغول رھتے تھے – ھم باقی لوگ گھروالوں کے ڈر اور فیل ھونے کے خوف سے تھوڑا بہت پڑھ لکھ لیتے تھے –

میٹرک میں صرف پانچ مضامین ھوتے تھے – انگلش ، ریاضی اور جنرل نالج (تاریخ جٍغرافیہ) لازمی مضامین تھے – اسلامیات تو میٹرک میں ھوتی ھی نہیں تھی – اردو’ سائنس کے مقابلے میں اختیاری مضمون تھا ، پھر اردو کون پڑھتا ، سب لوگ سائنس ھی پڑھتے تھے – ھماری کلاس میں اردو کا ایک سٹوڈنٹ بھی نہیں تھا -سائنس اس زمانے میں خاصی دلچسپ ھؤا کرتی تھی – بیالوجی کا تو ھم نے میٹرک میں نام ھی نہ سنا تھا -صرف فزکس کیمسٹری تھی ، وہ بھی کہانیوں کی طرح دلچسپ – سنگ مرمر پہ نمک کا تیزاب ڈالیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بنتی ھے ، جست (زنک) پر گندھک کا ھلکا تیزاب (سلفیورک ایسڈ) ڈالیں تو ھائیڈروجن بنتی ھے – اس طرح کی دلچسپ باتیں ھوتی تھیں – فزکس ، کیمسٹری دونوں میں مساواتیں (equations) ںہیں ھوتی تھیں – بس سیدھی سادی باتیں ھوتی تھیں –
جنرل نالج مجھے زھر لگتا تھا – ککھ سمجھ نہیں آتی تھی – صرف انگلینڈ کے بادشاہ ھنری ھشتم کی سات آٹھ شادیوں والا قصہ خاصا دلچسپ تھا ( اس زمانے میں انگلینڈ کی تاریخ بھی میٹرک کے کورس میں شامل تھی) – جغرافیہ تو ھمیشہ سر کے اوپر سے گذرجاتا تھا – امتحان سے چند دن پہلے تھوڑا بہت پڑھ لیتے تھے –

پانچواں مضمون فارسی ، عربی یا ڈرائنگ میں سے کوئی ایک رکھنا پڑتا تھا – سکول میں نہ ڈرائنگ ماسٹر تھا نہ عربی ماسٹر ، اس لیے ھم سب فارسی ھی پڑھتے رھے –

رھے نام اللہ-بشکریہ- منورعلی ملک–19 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

ذکر چھڑ ھی گیا تو اپنے بچپن کے ان سات آٹھ کلاس فیلوز کا تعارف بھی کرادوں ، جو پہلی سے دسویں کلاس تک میرے ھمسفر رھے – کلاس میں تو تیس پینتیس سٹوڈنٹس تھے ، مگر ھم سات آٹھ لوگ ایک دوسرے کے بہت قریب تھے –

عبدالغفور خان کے بارے میں یہ تو بتا چکا ھوں کہ موصوف ھماری کلاس میں ھمیشہ اول آتے رھے – بہت محنت کرتے تھے – غفورخان قبیلہ امیرے خیل کے یارن خیل خاندان کے چشم و چراغ ھیں – بچپن ھی میں والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا – ان کے چچا محمد عبداللہ خان تحصیلدار تھے – غفورخان اور ان کے بہن بھائیوں کی تعلیم وتربیت چچا کے زیر نگرانی ھوئی – یتیمی کے احساس کی وجہ سے غفور خان کے مزاج میں ایک معصوم سی سنجیدگی تھی – اسی سنجیدگی کی وجہ سے وہ کھیل کود میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ھمہ تن تعلیم پر محنت کرتے اور آگے بڑھتے چلے گئے – بہت عرصہ گورنمنٹ ھائی سکول تلہ گنگ میں انگلش ٹیچر رھے – پھر سنٹرل ماڈل ھائی سکول میانوالی آگئے – ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریٹائرھوئے -انگریزی کے زبردست ٹیچرھیں – اب داؤدخیل میں اپنا تعلیمی ادارہ چلا رھے ھیں – بہت بااصول ‘ اس لیے ذراسے سخت مزاج بھی ھیں – قبیلہ امیرے خیل سے میرے جذباتی قرب کی وجہ سے غفورخان بھی مجھ سے بہت محبت کرتے ھیں – اللہ سلامت رکھے ھمارے بچپن کے دور کی یہی ایک نشانی باقی رہ گئی ھے –

جوساتھی اس دنیا سے اٹھ گئے ان سب کا تعارف بھی ان شآءاللہ اگلی پوسٹس میں ھوگا – بہت پیارے لوگ تھے سب کے سب – میرے علم اور قلم پر ان کا حق مجھ پر قرض ھے —– رھے نام اللہ کا

بشکریہ- منورعلی ملک–20 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

 —ایک اچھی خبر ———————-


معروف شاعر اور ناشر راحت امیر تری خیلوی کے فن اور شخصیت کے بارے میں پشاور کے ضیاءالرحمن کا تحقیقی مقالہ کتاب کی صورت میں عنقریب منظرعام پر آ رھا ھے- تحقیق پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عباس کی نگرانی میں مکمل ھوئی –

بشکریہ- منورعلی ملک-20 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

میڑک کے امتحان سے دو تین ماہ پہلے میں ، سکندرخان شنے خیل ، شیرخان عرف شیرو بھرا اور گل جہان خان بہرام خیل روزانہ عصر کے بعد کتابیں لے کر کھلی فضا میں امتحان کی تیاری کے لیے اپنے اپنے گھروں سے نکل کر شہر سے باھر ریلوے لائین کا رخ کرتے – شام تک الگ الگ پڑھتے رھتے – شام کے قریب ھم چاروں ریلوے کے بیرونی سگنل کے پاس جمع ھوکر کچھ دیر گپ شپ لگاتے اور پھر واپس گھر لوٹ جاتے –

سکندرخان اور شیروبھرا کی دلچسپ باتیں اور شرارتیں ، اس محفل کی جان تھیں – سکندرخان بہت خوش مزاج تھے – ایک دن کلاس میں کہنے لگے “یار بڑی زبردست فلم آئی ھے – کسی دن میانوالی جاکر دیکھنی ھے “-

ایک ساتھی نے کہا “کون سی فلم ؟“
سکندر خان نے کہا “بختورے“

بختورے ھمارے اس ساتھی کی امی کا نام تھا – دونوں گتھم گتھا ھو گئے ، ھم نے بڑی مشکل سے انہیں چھڑا کر صلح صفائی کرا دی-

شیرو بھرا 6 فٹ سے اونچے قد کے بھاری بھرکم سیاہ فام ‘ پہلوان نما جوان تھے – کبڈی کے بہت اچھے کھلاڑی بھی تھے – ھم آٹھ دس دوستوں کے لیے وہ سیکیورٹی گارڈ کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے – کسی سے لڑائی ھوتی تو شیروبھرا مخالف کو مار مار کر اس کا حلیہ بگاڑ دیتے تھے-

میٹرک پاس کرنے کے بعد ریلوے ورکشاپ ماڑی انڈس میں ملازم ھو گئے – والد دوست محمد خان انجن ڈرائیور تھے – وہ ریٹائر ھوئے تو ان کی جگہ شیروبھرا کو مل گئی – ملازمت پوری کر کے ریٹائر ھوئے ۔ ایک آدھ سال بعد اچانک یہ دنیا چھوڑ کر تہہ خاک جا سوئے – سکندرخان اور گل جہان خان بھی آج اس دنیا میں موجود نہیں – بہت یاد آتے ھیں یہ سب لوگ –
گذرگیاوہ زمانہ، چلے گئے وہ لوگ— رھے نام اللہ کا –

بشکریہ- منورعلی ملک–21 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

سکندرخان ھم سے تین چار سال سینیئر تھے – پڑھنے لکھنے کا شوق تھا نہیں ، بار بار امتحانوں میں فیل ھوتے رھے – جب ھم آٹھویں کلاس میں پہنچے تو ھمارے کلاس فیلو بن گئے – عمر میں چونکہ ھم سب سے بڑے تھے ، اس لیے مذاق کے طور پہ ھم لوگ انہیں کبھی بابائے سکول ، کبھی سکندراعظم کہا کرتے تھے – زندہ دل انسان تھے ، اس لیے مذاق ھنس کر برداشت کر لیتے تھے –

ایک دن شام کے قریب میں ، شیروبھرا، گل جہان خان اور سکندراعظم حسب معمول ریلوے سگنل کے قریب جمع ھوئے تو اچانک سکندراعظم نے کہا “ شیرو بھرا ، آؤ آج ایک تماشا دیکھیں “-

تماشا یہ تھا کہ ریلوے لائین کے قریب کچھ بھاری بھرکم پہاڑی پتھر پڑے تھے ، سکندراور شیروبھرا نے وہ پتھر اٹھا کر ریلوے لائین پر دونوں جانب رکھ دیئے- اس وقت ملتان سے ایک ٹرین آتی تھی – ھم سب تماشا دیکھنے کے لیے کچھ فاصلے پر چھپ کر بیٹھ گئے –

اگرٹرین ان پتھروں سے ٹکرا جاتی تو بڑا خوفناک تماشا بنتا – شکر ھے ٹرین کے ڈرائیور نے دور سے پتھر دیکھ کر گاڑی روک دی – ٹرین کے کچھ مسافروں اور ریلوے کے لوگوں نے پتھر ھٹا دیئے اور ٹرین بہ خیریت سٹیشن پہ پہنچ گئی – ٹرین پر موجود ریلوے پولیس کے ملازمین نے اس معاملے کی تفتیش بھی شروع کردی -رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک–22 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

ایک بڑی خوشخبری ——————-

فیس بک کی مشہورو معروف اورًمحبوب شخصیت ڈاکٹر حنیف نیازی کی فیس بک پوسٹس پر مشتمل کتاب “موساز“ منظرعام پر آگئی ھے – بے پناہ عزم و ھمت اور رب کریم کی بے پایاں عنایات کی یہ داستان ایک حیات آموز کتاب ھے – Impressionistic انداز میں لکھی ھوئی کتاب نوجوان نسل کے لیے یقینا ایک مشعل راہ ثابت ھوگی – جو لوگ کچھ نہ ھونے کے باوجود بہت کچھ کرنا چاھتے ھیں ، ان کے لیے یہ کتاب ایک مشفق راھنما ھے – بشکریہ- منورعلی ملک–22  اگست 2019

میرا میانوالی—————-

تفتیش کے دوران ریلوے کے ایک ملازم نے پولیس کو ھم چاروں کے نام بتا دیئے اور کہا کہ ریلوے لائین پر پتھررکھنے کی کارروائی ان لوگوں نے کی ھوگی ۔ کیونکہ یہ روزانہ سگنل کے آس پاس پھرتے نظر آتے ھیں – یہ ملازم ھر شام سگنل کی بتیاں جلانے کے لیے وھاں آتا تھا تو ھم وھاں موجود ھوتے تھے – اس نے پولیس کویہ بھی بتا دیا کہ ھم ھائی سکول داؤدخیل کی دسویں کلاس میں پڑھتے ھیں –

اگلے دن ایک تھانیدار صاحب دو سپاھیوں کے ھمراہ سکول پہنچے- تھانیدارصاحب نے ھیڈماسٹر صآحب کے دفتر کے سامنے بیٹھے چپراسی سے کہا “جاؤ، دسویں کلاس سے سکندرخان، شیرمحمد، منورعلی اور گل جہان کو بلا کر لاؤ -“

ھیڈماسٹرصاحب (کندیاں کے خدابخش ملک المعروف کے بی ملک صاحب) دفترمیں بیٹھے تھے – انہوں نے وھیں بیٹھے بیٹھے تھانیدارصآحب سے کہا “بھائی صاحب ، ادھر آئیں “-

تھانیدارصاحب دفترمیں داخل ھوئے تو ھیڈماسٹر صاحب نے کہا “ پہلی بات تو یہ ھے کہ آپ نے میری اجازت کے بغیر سکول میں قدم کیوں رکھا – ؟ دوسری بات یہ کہ آپ نے کس قانون کے تحت میرے چپراسی کو حکم دیا کہ لڑکوں کو بلا لاؤ – تیسری بات یہ کہ اگر سکول کے بچوں نے کوئی غلط کام کیا ھے تو سکول کی چاردیواری کے اندر ان کے خلاف صرف میں ھی ایکشن لے سکتا ھوں – یہاں ایکشن آپ کا آئی جی بھی نہیں لے سکتا“-

اس زمانے میں پولیس بھی قانون اور استاد کا احترام کرتی تھی – تھانیدار صاحب نے ھیڈماسٹر صاحب سے معذرت کر لی – ھیڈماسٹر صآحب نے انہیں چائے پلاکر رخصت کر دیا – پھر ھمیں بلا لیا – ان کی میز پر ڈیڑھ میٹر لمبا بانس کا ڈنڈا پڑا ھوتا تھا – آگے جو کچھ ھؤا ، آپ اچھی طرح جانتے ھیں ۔ کیونکہ سکول میں یہ سب کچھ آپ کے ساتھ بھی ھوتا رھا ھوگا –

لیکن مارپٹائی کے باوجود ھم خوش تھے کہ شکر ھے پولیس کی چھترول سے تو جان بچ گئی – اس دن سے ھم نے ریلوے لائین کی طرف جانا چھوڑ دیا – گھر میں بیٹھ کر ھی پڑھ لکھ لیتے تھے –
رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک–23 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

کل مرحوم ھیڈماسٹر کے بی ملک صاحب کا ذکر چھڑا تو ایسی ھی ایک اور لیجنڈ شخصیت یاد آگئی – میں ان کا سٹوڈنٹ نہیں رھا ، لیکن انہیں دیکھا ھے ، اور ان کے جاننے والوں سے ان کے بارے میں بہت کچھ سنا بھی ھے –

یہ لیجنڈ شخصیت تھے گورنمنٹ کالج لاھور کے سابق پرنسپل ، ڈاکٹر نذیراحمد – صرف تعلیم ھی نہیں ادب اور تصوف کے میدانوں میں بھی ڈاکٹرصآحب بہت معروف و محترم تھے -1960 سے 1970 کے دوران گورنمنٹ کالج لاھور کے پرنسپل رھے – درمیانہ قد , سیاہ رنگت ، لمبے بال ۔ تن پر سفید کرتہ اور شلوار، پاؤں میں ملتانی جوتی ، دیکھنے میں بھی قلندر لگتے تھے ۔ اندر سے بھی قلندر تھے – ژوالوجی جیسے مشکل مضمون کے پی ایچ ڈی (ڈاکٹر) تھے – ٹیچرز اور سٹوڈنٹس کے ساتھ ان کا رویہ ھمیشہ دوستانہ رھا – سٹوڈنٹس تو ان پر جان دیتے تھے -یہ اس دور کی بات ھے، جب ھم سنٹرل ٹریننگ کالج لاھور کے سٹوڈنٹ تھے – سڑک کے پار گورنمنٹ کالج تھا – ممتاز بھائی کے کچھ دوست وھاں پڑھتے تھے – اس لیے ھم بھی وھاں آتے جاتے رھتے تھے –

صدرایوب کا دور عروج پر تھا – ملک امیرمحمد خان گورنر تھے – انہی دنوں حکومت نے یونیورسٹیز آرڈی ننس نام کا قانون پاس کر کے سٹوڈنٹس کی تنظیموں پر پابندی لگا دی – اس کالے قانون کے خلاف ملک بھر میں طلبہ نے شدید احتجاج کیا – پولیس نے کالجوں میں گھس کر سٹوڈنٹ لیڈرز کو مارپیٹ کر گرفتار کیا —

جب آئی جی پولیس بھاری نفری کے ھمراہ گورنمنٹ کالج لاھور کے گیٹ پر پہنچے تو پرنسپل صاحب ڈاکٹر نذیراحمد چند پروفیسرحضرات کے ساتھ گیٹ پر آئے اور آئی جی صاحب سے کہا “ خبردار، قدم آگے بڑھایا تو میرے دوھزار بچے آپ کی ٹانگیں توڑ دیں گے – ھم اس تعلیمی ادارے کا تقدس پامال نہیں ھونے دیں گے –
آئی جی صاحب کیا کرتے – چپ چاپ واپس چلے گئے –
رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک–24 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

یادیں ——————-
مری — 4 اگست 2019

بشکریہ- منورعلی ملک–24 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

آج لکھنا تو کچھ اور چاھتا تھا ، مگر صبح Notifications پر نظر پڑی تو جن دوستوں کی آج سالگرہ ھے ان میں ظفرخان نیازی کا نام دیکھ کر ———–
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

مشہورومعروف شاعر اور افسانہ نگار ظفرخان نیازی داؤدخیل کے قبیلہ شریف خیل کے حسن خیل خاندان سے تھے — فیس بک پر پوسٹس لکھنے کی ترغیب مجھے ان سے ملی – بہت دلچسپ اور معلوماتی پوسٹس لکھتے تھے – میرے بہت پیارے دوست تھے – داؤدخیلوی ھونے کی وجہ سے مجھ سے بہت پیار کرتے تھے ، کہ وہ خود بھی داؤدخیلوی تھے، مگر انہیں داؤدخیل میں رھنا نصیب نہ ھؤا – بچپن ھی میں والد کی وفات کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ میانوالی میں والدہ کے میکے گھر منتقل ھوگئے –
ریاضی (میتھس) میں ایم ایس سی کرنے کے بعد کچھ عرصہ یہاں کے ایک پرائیویٹ کالج میں پڑھاتے رھے – پھر ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر کی ملازمت مل گئی – تقرر کوئٹہ میں ھؤا – بہت عرصہ وھاں رھے – پھرآزادکشمیرریڈیو(راولپنڈی) میں پروگرام مینیجر مقرر ھوئے ، ترقی کرتے کرتے ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے سٹیشن ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ھو کر ریٹائر ھوئے — اسلام آباد ھی میں اپنا گھر بنا کر وھاں رھنے لگے-

ظفرخان بہت خوش مزاج ، دوست نواز انسان تھے – تمام تر شہرت و مقبولیت کے باوجود ان کے دل میں ایک گہرا زخم انہیں اکثر بے چین کیئے رکھتا تھا – یہ زخم تھا داؤدخیل سے جدائی کا زخم – وہ یہ دکھ صرف مجھ سے ھی شیئر کیا کرتے تھے – داؤدخٰیل کے بارے میں میری پوسٹس پر بہت خوبصورت کمنٹس دیا کرتے تھے – داؤدخیل میں رھنے کی حسرت ان کے ساتھ ھی زمین میں دفن ھوگئی – وھاں رھنا اس لیے نامکن تھا کہ ان کے خاندان کے لوگوں نے ان سے وفا نہ کی –

یہ دکھ اپنے سینے سے لگائے ، ظفرخان آج سے دوسال پہلے اچانک اس دنیا سے رخصت ھوگئے – مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کا شعر یاد آرھا ھے –
کتنا ھے بد نصیب ظفر، دفن کے لیے
دوگز زمین بھی نہ ملی کوئے یارمیں
رھے نام اللہ کا- بشکریہ- منورعلی ملک–25  اگست 2019

میرا میانوالی—————-

کل دوبجے بعد دوپہر وتہ خیل سی ڈیز کے بانی لیاقت خان میرے ھاں آئے اور کہا آج پانچ بجے لالاسے ملنے عیسی خیل جانا ھے – میں نے کہا آج طبیعت ٹھیک نہیں ، آپ چلے جائیں ، میں نہیں آؤں گا – لالا کو فون پر بتا دیتا ھوں – لیاقت نے کہا “سر، فون پہ بات نہ کریں – میں لالا سے وعدہ کر کے آیا ھوں کہ آپ کو لے کر آؤں گا “-

لیاقت خان بہت حساس آدمی ھے – جس سے پیار کرے وہ اگر اس کی بات نہ مانے تو وھیں بیٹھ کر رونا شروع کردیتا ھے – میں نے نوبت یہاں تک آنے سے پہلے ھی ان کے ساتھ جانے کاوعدہ کر لیا –

میرے اور لیاقت کے علاوہ ھمارے قافلے میں علی بیٹا (لیاقت کے صاحبزادے ساجدعلی خان) ، مظہر نیازی ، صابر بھریوں ، نذیر یاد , بیرم خان , محمد رمضان خان اور سمیع اللہ ملک شامل تھے – ایک گاڑی رمضان خان کی تھی ، دوسری سمیع اللہ ملک کی –

ھم مغرب کے قریب وھاں پہنچے – لالا گھر کے وسیع لان میں چند مقامی دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے – بہت خوش ھوئے – میں نے طبیعت کا پوچھا تو لالا نے بتایا کہ اللہ کے فضل سے کافی بہتر ھے – مزید مقامی ساتھیوں کی آمد شروع ھوگئی – حمید خان ، ملک فضل صاحب اور کچھ دوسرے ساتھی وارد ھوئے –

اچانک لالا نے سامنے اشارہ کر کے کہا “وہ دیکھو، کون آرھا ھے ؟“

پیاری سی سفید داڑھی ، سر پہ کپڑے کی ٹوپی ، ھاتھ میں تسبیح ، ٹخنوں سے اونچی شلوار، شفا بھرا کو اس روپ میں دیکھ کر میں بے ساختہ پکار اٹھا ,“واہ مولا تیری شان —!!!“

کیا انقلاب ھے —- شفا تو ھماری محفل کا سب سے بگڑا ھؤا بچہ تھا – گلے ملتے ھوئے میں نے کہا “ مبارک ھو شفا بھرا -““
شفا نے بڑی عاجزی سے آسمان کی طرف انگلی اٹھا دی –

میں نے لالا سے کہا “یارکمال ھے“-
لالا نے بھی سر جھکا کر آسمان کی طرف انگلی اٹھا دی –

قصہ ذرا لمبا ھے ، اور مجھے ایک اور کام بھی کرنا ھے – بقیہ داستان ان شآءاللہ کل — رھے نام اللہ کا-بشکریہ- منورعلی ملک–26 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

نذیر یاد کشمیر کے حوالے سے ایک خوبصورت ترانہ لکھ کر لے گئے تھے- دس بارہ بند پر مشتمل ترانہ لالا نے غور سے پڑھنے کے بعد مجھ سے کہا کہ ریکارڈنگ کے لیے اس میں سے چارانترے (بند) منتخب کر دوں – ویسے تو ترانے کے سب بند بہت اچھے تھے – میں نے اھمیت کے لحاظ سے چار بند منتخب کر کے ان پر نشان لگا دیئے –
لالا نے ملازم سے کہہ کر ھارمونیم منگوالیا اور ترانے کی دھن بنانے کی مشق شروع ھوئی – نذیر یاد کے ذھن میں دھن کا ایک آئیڈیا تھا – اس نے گنگنا کر سنایا، اس میں کچھ ترمیم مظہر نیازی نے ، کچھ لالا نے کردی اور تقریبا آدھ گھنٹہ ترانے کی ریہرسل ھوتی رھی – لالا نے مجھ سے تجویز طلب کی تو میں نے کہا موسیقی کے بارے میں تو میں کچھ نہیں جانتا ، میرا مشورہ یہ ھے کہ ریکارڈنگ کے وقت اس ترانے کے ساتھ فوجی بینڈ کی دھن بجائی جائے ، ترانے میں مردوں عورتوں کی ملی جلی آوازوں کا کورس بھی شامل کیا جائے -لالا کو یہ دونوں تجاویز پسند آئیں – ترانے کی مشق نذیر یاد اور مظہر نیازی کے تعاون سے کچھ دیر جاری رھی – مظہر نیازی اور صابر بھریوں نے بھی اپنا کچھ کلام لالا کی نذر کیا –
لالا کے چھوٹے بھائی (شنوبھرا) سے بھی بڑی مدت کے بعد ملاقات ھوئی – شکر ھے وہ بھی خوش اور مطمئن زندگی بسر کر رھے ھیں –

ماسٹر وزیر کے بارے میں لیاقت خان نے بتایا کہ وہ بھی لاھور سے عیسی خیل واپس منتقل ھو گئے ھیں – لالا سے پوچھا تو لالا نے بڑے نخرے سے کہا “کون ماسٹر وزیر ؟؟؟ “ -( یہ نخرے بھی پیار کا ایک انداز ھوتے ھیں )

اندازہ ھوگیا کہ آج کل تعلقات کشیدہ ھیں – یہ ھوتا رھتا ھے – چند سال پہلے بھی میں نے صلح صفائی کرادی تھی – مگر آج میرے پاس اتنا وقت نہ تھا کیونکہ گھر واپس جانا تھا – لالا سے واپسی کی اجازت چاھی تو لالا نے کہا کھانا تیار ھے ، میں نے کہا کھانا تو گھر میں بھی مل جائے گا – لالا نے کہا آپ بے شک نہ کھائیں ، ساتھیوں کو تو بھوکا نہ ماریں –
مقامی دوستوں کو ملاکر تیس پینتیس آدمیوں نے کھانا کھایا –

میں نے لا لا سے کہا آج آپ کو سگریٹ پیتے نہیں دیکھا — لالا نے کہا چھوڑدیا – میں نے کہا “سب کچھ؟“
لالا نے ھنس کر کہا “ھاں“ –
کچھ دیر بعد ھم واپس روانہ ھوئے, اور تقریبا بارہ بجے میانوالی پہنچ گئے –

پانچ سات گھنٹے کی اس محفل میں میری نگاھیں باربار ان چہروں کو ڈھونڈھتی رھیں ، جو اب کبھی اس دنیا میں واپس نہیں آئیں گے – وہ تھے تو محفل کا رنگ ھی کچھ اور ھوتا تھا – چاچااحسن خان ، عتیل صاحب ، چاچا اسلم نیازی ، موسی خیل کے لالا یوسف خان بینک مینیجر ، نورمحمد دیوانہ ، الحفیظ ھوٹل والے ملک انور ، ملازم حسین عرف ماجا ، استاد امتیازخالق ، سب بہت دور جابسے –

گذرگیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ– رھے نام اللہ کا

بشکریہ- منورعلی ملک–27 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

45 سال پہلے لالا کے گھر پہ ایک محفل کا احوال – یہ محفل ھر رات منعقد ھوتی تھی –
(میری کتاب “درد کا سفیر“ سے دو صفحات)


بشکریہ- منورعلی ملک–28 اگست 2019

 

میرا میانوالی—————-

آج کچھ ادھر ادھر کی باتیں ————-
چندروز پہلے بتایا تھا کہ بحمداللہ تعالی ھمارا یہ سفر پانچویں سال میں داخل ھو چکا ھے—– تھک تو نہیں گئے آپ ؟؟؟ —— کوئی مشورہ , کوئی تجویز ؟؟

دریا کا کام بہنا ھے ، کوئی مشورہ یا تجویز نہ بھی ھو میں تو لکھتا رھوں گا – کوشش یہی ھوتی ھے کہ ایسی باتیں لکھوں جن سے آپ کو کچھ نہ کچھ فائدہ ضرورھو- ٹیچر ھوں ، فیس بک پہ بھی ٹیچر کے لہجے میں بات کرتا ھوں ، مطلب یہ کہ زیادہ فری بھی نہیں ھوتا – صبح تقریبا پندرہ بیس منٹ آپ سے باتیں کرنے کے بعد دوسرے کاموں میں مشغول ھو جاتا ھوں – کمنٹس پر ری ایکشن ضرور دیتا ھوں ، اگر وقت مل جائے تو جواب بھی دے دیتا ھوں – مصروفیت کی وجہ سے جواب نہ دے سکوں تو برا نہ منایا کریں – جواب نہ دینے کی وجہ خدا نخواستہ تکبر نہیں – میرے لیے آپ سب اھم ھیں ، میری زندگی کا حصہ ھیں – آپ کا ممنون ھوں کہ میرے ساتھ چل رھے ھیں – اللہ ھم سب کا حامی و ناصرھو-

کل اویس کاظمی صاحب نے اپنے کمنٹ میں بتایا کہ کراچی سے “درد کا سفیر ، عطاءاللہ خان “ کے عنوان سے ایک کتاب کا اشتہار چل رھا ھے – مصنف کا نام رفیع اللہ خان لکھا ھؤا ھے – آپ میں سے کسی نے وہ کتاب شاید دیکھی ھو، ممکن ھے وہ اسی موضوّع پرایک الگ کتاب ھو – اگر میرے والی کتاب پر کسی نے اپنا نام لکھ کر شائع کروادی ھو تو یہ ایک اچھی خاصی واردات ھے – اللہ واردات کرنے والے کو ھدایت دے – کتاب کہیں سے مل جائے تو دیکھوں گا کہ معاملہ کیا ھے – کاظمی صاحب نے اگر وہ کتاب دیکھی ھے تو ان سے گذارش ھے کہ اس ضمن میں مجھے مطلع کریں کہ کتاب میں لکھا کیا ھے –

میں جانتا ھوں کہ آپ میں سے بہت سے لوگ صرف لالا کی باتیں ھی مجھ سے سننا چاھتے ھیں – مگر آپ کو پہلے بتا چکا ھوں ، ایک بار پھر بتا دوں کہ میری انگلی پکڑ کر چلنا ھوگا ، میری مرضی آپ کو جدھر لے جاؤں – یہ فیصلہ میں نے کرنا ھے کہ لالا کی گلی میں کب جانا اور کتنی دیر ٹھہرنا ھے —

رھے نام اللہ کا -بشکریہ- منورعلی ملک–29  اگست 2019

میرا میانوالی—————-

کیا اچھا وقت تھا جب تعلیم تجارت نہیں خدمت خلق ھؤا کرتی تھی – ٹیچرز سکول ٹائیم کے بعد ، اور چھٹیوں میں بھی پوری کلاس کو مفت پڑھایا کرتے تھے –

ھمارے زمانے میں چوتھی کلاس پرائمری کی آخری کلاس ھؤا کرتی تھی – ھمارے ماسٹر عبدالحکیم صاحب سکول ٹائیم کے بعد گھر پہ بھی پوری کلاس کو دوتین گھنٹے پڑھاتے تھے – غیرحاضری پہ سزا بھی ملتی تھی –

آٹھویں کلاس میں ماسٹر رب نواز خان امتحان سے دو تین مہینے پہلے گھر پہ کلاس لگاتے تھے —– ھم دسویں میں پہنچے تو امتحان سے دو مہینے قبل ھیڈماسٹر(کے بی ملک صاحب) نے فرمایا ” آج سے آپ لوگ اپنے بستر اور چارپائیاں یہاں لے آئیں – شام کے بعد حمیداللہ خان آپ کو سائنس اور غلام مرتضی خان آپ کو انگلش پڑھایا کریں گے”

ھم لوگ روزانہ شام کا کھانا کھا کر لالٹین (مٹی کے تیل کا لیمپ) اور کتابیں اٹھا کر سکول روانہ ھو جاتے – بجلی نہیں تھی اس لیے پڑھنے لکھنے کا کام لالٹین کی روشنی میں کرنا پڑتا تھا – ھر لڑکے کا اپنا لالٹین ھوتا تھا – صبح سویرے گھر واپس آکر ھم ناشتہ کرتے ، اور پھر سکول روانہ ھو جاتے –
انہی دنوں شدید سردی کے باعث شہر میں کتے پاگل ھونے لگے – پاگل کتا بہت خطرناک ھوتا ھے – اس کے کاٹے کا بروقت علاج نہ ھو تو بہت اذیت ناک موت ھوتی ھے – ھمیں ٹیچرز نے کہا کہ اب شام کے بعد خالی ھاتھ سکول نہ آیا کریں ، پاگل کتوں سے بچنے کے لیے لاٹھی یا ڈنڈا بھی ساتھ لایا کریں –

ھماری امیوں نے بہت شور مچایا کہ ان حالات میں بچوں کو سکول جانے پہ مجبور نہ کیا جائے – ٹیچرز کو بہت بد دعائیں دیں – مگر بددعائیں ٹیچرز کا کچھ نہیں بگاڑتیں ٠ ھم بدستور شام کے بعد سکول جاتے رھے –
کچھ دن بعد شاید ھماری لاٹھیوں یا ھماری ماؤں کی بددعاؤں کے ڈر سے ، کتوں نے بھی پاگل ھونا چھوڑ دیا –

❤️❤️احمد خان نیازی صاحب کے کمنٹ نے اس پوسٹ کو چار چاند لگا دیئے ھیں – کلچر کی بہت سی حسین روایات کو نیازی صاحب نے بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا ھے – یہ پورا کمنٹ ضرور پڑھیں – نیازی صاحب کو میرا مشورہ ھے کہ باقاعدہ پوسٹس لکھنا شروع کردیں – بہت پیارا انداز تحریر رب کریم نے آپ کو عطا کیا ھے – اس نعمت کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہی ھے کہ لکھتے رھیں –
رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک–30 اگست 2019

میرا میانوالی—————-

جب ھم خود ٹیچر بن گئے تو اپنے محترم ٹیچرز کے نقش قدم پر چلتے ھوئے ھم بھی سکول ٹائیم کے بعد اور گرمی کی چھٹیوں میں اپنی کلاسز کو کسی ٹیوشن فیس کے بغیر فری پڑھاتے رھے –

میں سروس کے پہلے چار سال گورنمنٹ ھائی سکول داؤدخیل میں انگلش ٹیچر رھا – گرمی کی چھٹیوں میں میں اپنی کلاس کو صرف دس پندرہ چھٰٹیوں کی اجازت دیتا تھا – اس کے بعد سکول ھی میں کلاس لیتا رھا – میرے بڑے بھائی ملک محمد انور علی ھیڈماسٹر تھے- وہ بھی چھٹیوں میں روزانہ کلاس لگاتے تھے – وہ دسویں کلاس کو انگلش پڑھاتے تھے ، میں آٹھویں کلاس کو – ان کی کلاس دفتر کے سامنے ھوتی تھی ۔ میری کلاس سکول کے صحن میں کیکر کے ایک چھتنار درخت کے سائے میں – اللہ کے فضل سے ھم دونوں بھائی جب تک وھاں رھے ھم چھٹیوں میں یہ خدمت خلق کاکام باقاعدہ کرتے رھے -ھمیں یہ جذبہ اپنے داداجی مولوی ملک مبارک علی سے ورثے میں ملا – دادا جی بھی بہت عرصہ داؤدخٰیل سکول میں ھیڈماسٹر رھے – وہ ھم سے بھی زیادہ محنت کرتے تھے – ان کو اس دنیا سے رخصت ھوئے تقریبا 60 سال ھو گئے ، مگر لوگ آج بھی ان کا احترام کرتے ھیں – ان کے نام پر ھمارا قبیلہ آج بھی مولوی جی خیل کہلاتا ھے –

جب میں ٹھٹھی سکول میں ھیڈماسٹر متعین ھؤا تو وھاں بھی چھٹیوں میں باقاعدہ اپنی کلاس کو پڑھاتا رھا – میرے ایک بہت پیارے بیٹے کسٹمزآفیسر ملک رفیع اللہ نے کل کی پوسٹ پر کمنٹ میں اس دور کی یادیں تازہ کی ھیں –

ٹھٹھی سکول سے جب میں انگلش کا لیکچرر بن کر گورنمنٹ کالج عیسی خیل گیا تو وھاں ماحول کچھ اور تھا – نہ سٹوڈنٹس کوتعلیم سے ذرا سی بھی دلچسپی تھی ، نہ ان کے والدین کو- بس ایک رسم کے طور پر لوگ بچوں کو کالج میں داخلہ دلوا دیتے تھے – بچے بھی بس رسم پوری کرتے تھے – انہیں اگر ھم اپنی جیب سے پیسے دے کر بھی پڑھانا چاھتے تو وہ کالج ٹائیم کے بعد حاضر نہ ھوتے – میں اکثر کہا کرتا تھا کہ مجھے نہیں لگتا آئندہ 90 سال میں عیسی خیل کا کوئی آدمی ایم اے انگلش کر سکے –
یہ حالات دیکھ کر ھم لوگوں نے کالج ٹائیم ھی میں اس طرح پڑھایا کہ بچے امتحان میں پاس ھو جاتے تھے — اللہ نے عزت رکھ لی –
رھے نام اللہ کا –بشکریہ- منورعلی ملک–31  اگست 2019

میرا میانوالی—————-

غریب و سادہ و رنگیں ھے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ، ابتدا ھے اسمعیل
—————- اقبال —————

بشکریہ- منورعلی ملک-31 اگست 2019

Your words for Mianwali and Mianwalians