صوفی محمدایوب خان چغتائی علیہ الرحمہ (میانوالی )
قبلہ صوفی محمد ایوب خان چغتائی بنیادی طور پر دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے پر دادا حضرت محمد نور علیہ الرحمہ حضرت خواجہ سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ کے خلفاء میں سے تھے اور ان کے بزرگ افغانستان سے ہجرت کرکے یہاں آئے تھے اور شجرہ نسب کے حوالے سے پٹھان النسل ہیں۔ آپ کے والد محترم حاجی غلام حسن خان آپ کے بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم میانوالی میں حاصل کی۔ کچھ عرصہ فوج میں بطور نائب صوبیدار ملازمت بھی کی اور بعد ازاں 1947 ء میں میونسپل کمیٹی میں بطور اکاؤٹنٹ تعینات ہوئے اور 1948 ء میں آپ کو سیکرٹری (چیف آفیسر) کے عہدہ پر ترقی دی گئی۔ 1964 ء میں لوکل کونسل سروس میں گزیٹڈ آفیسر کلاس سیکنڈ کی ترقی دی گئی۔ 1964 ء میں میونسپل کمیٹی ڈیرہ غازی خان اور ازاں مظفر گڑھ اور خانیوال میں بھی بطور چیف آفیسر خدمات سرانجام دیں۔ دوران سروس تصنیف اور تالیف کا سلسلہ جاری رکھا۔
آپ حضرت خواجہ خواجگان خواجہ احمد خان میروی علیہ الرحمہ (آستانہ عالیہ میرا شریف) کے ہاتھ پر بیعت تھے اور حضرت خواجہ احمد خان میروی کے خاص مریدین میں شامل تھے اور قطب الاقطاب حضرت خواجہ محمد اکبر علی علیہ الرحمہ (میانوالی) کے پیر بھائی تھے۔ آپ چونکہ درویش قسم کے آدمی تھے اور تصوف و معرفت سے آپ کو گہرا لگاؤ اور وابستگی تھی۔ پاکستان اور ہندوستان کے اکثر بڑے بڑے مزارات پر روحانی اور باطنی طور پر حاضریاں دیں اور ان مزارات سے فیوض و برکات حاصل کیں ۔ آپ خود صاحب کشف تھے۔ باطنی، روحانی تصوف و تصرف جیسے پوشیدہ اسرار و رموز کے جو مشاہدات کئے۔ ان کے تذکرے ان کی غیر مطبوعہ تصانیف میں موجود ہیں۔ آپ نے اسلامی موضوعات پر قریباً 35 چھوٹی بڑی تصانیف رقم کی ہیں اور 20 کے قریب مختلف عنوانات پر پمفلٹ اور کتابچے علیحدہ ہیں۔
امام اہل سنت مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت احمد رضا خان فاضل بریلوی (علیہ الرحمہ) کی شخصیت پر آپ نے 700 سے زائد صفحات پر کتاب رقم کی ہے۔ یہ 700 صفحات پر مبنی قلمی مسودہ اشاعت کے لئے ان کے بھتیجے معروف شاعر و ادیب محمد منصور آفاق (حالیہ مقیم انگلینڈ) کے پاس موجود ہے ۔ ان کا دوسرا 350 صفحات پر منبی قلمی مسودہ بعنوان ‘‘گیارہویں شریف کی دینی حیثیت’’ صاحبزادہ مظہر الحق بندیال شریف (ضلع خوشاب) کے پاس امانتاً اشاعت کے لئے موجود ہے۔
آپ اپنے نام کے ساتھ چغتائی قلمی نام کے طور پر استعمال کرتے تھے جو کہ آپ کے استاد بزرگوار تھے۔ آپ کافی عرصہ انجمن اسلامیہ میانوالی کے جنرل سیکرٹری بھی رہے اور اپنی خدمات فی سبیل اللہ انجام دیں ۔ آپ نے اپنے نام کے ساتھ مولانا، علامہ یا صوفی نہیں لکھتے تھے۔ آپ 1970 ء میں میونسپل کمیٹی خانیوال سے ریٹائرڈ ہو کر اپنے آبائی شہر میانوالی آ گئے اور پھر آپ نے تحریر و تالیف کا بھرپور سلسلہ شروع کیا اور ان کی زیادہ تصانیف 1970 ء تا 1980 ء کے دوران تحریر فرمائیں اس کے علاوہ آپ کے تحریر کردہ اسلامی موضوعات پرمتعددمضامین ملک بھر کے اخبارات و جرائد میں شائع ہوتے رہے۔۔ آپ کی اکثر غیر مطبوعہ تصانیف ایسے مرد قلندر کا انتظار کر رہی ہیں جو ان کی اشاعت کا بیڑا اٹھائے۔ آپ کے بیٹے محمد یوسف خان اور شیر بہادر خان بھی اس سلسلہ میں کوشاں ہیں اور امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی کی شخصیت پر ان کی تصنیف ‘‘عبقریت رضا’’ شائع کرا چکے ہیں اور مزید کوشش جاری ہے۔
آپ نے ماہ رمضان (1981 ء)کو اس دارفانی سے رحلت فرمائی ۔ آپ کا مزار حضرت میاں سلطان ذکریا علیہ الرحمہ کے مزار مبارک کی مشرقی دیوار کے ساتھ اور یہ حضرت میاں سلطان ذکریا صاحب کے ساتھ ان کا باطنی تعلق تھا جن سے وہ بذریعہ کشف کئی مرتبہ فیض یاب ہوئے۔
حضرت صوفی محمد ایوب خان چغتائی علیہ الرحمہ کی غیر مطبوعہ تصانیف کی فہرست (جن میں سے چند زیر طباعت ہیں)
۱۔ روح کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم (دو جلدیں)
۲۔ سیرت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم
۳۔ مقام رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم
۴۔ اعطائے کوثر درثنائے صاحب الاثر محمد مصطفی ﷺ
۵۔ واقعہ معراج
۶۔ حیات طیبہ فی ذکر الاولیاء
۷۔ دین کا مدار کتاب و حکمت پر ہے۔
۸۔ تقسیم موجودات عالمین
۹۔ حقانیت اسلام مادیت کے آئینہ میں
۱۰۔ مشاہدات
۱۱۔ بیاضِ ایوبی
۱۲۔ مجاہدین اسلام کا کردار
۱۳۔ گیارہویں شریف کی دینی حیثیت (دو جلدیں)
۱۴۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
۱۵۔ اولیاء اللہ
۱۶۔ طریقت
۱۷۔ کلید معرفت (دو جلدیں)
۱۸۔ دین کا مظلوم شعبہ ‘‘تصوف’’
۱۹۔ در سلطانی فی ذکر احسن التقویم المعروف بہ ذکر رحمانی
۲۰۔ حزب اللہ علی حب حبیب الل
۲۱۔ نوادرات ایوب
۲۲۔ مضامین اسلامیہ (دو جلدیں)
۲۳۔ ابدال کی ڈائری
۲۴۔ اجنبیت جدیدہ
۲۵۔ (حالاتِ زندگی) حضرت خواجہ احمد خان میروی علیہ الرحمہ (دو جلدیں)
۲۶۔ شیخ الحدیث حضرت مفتی سردار احمد علیہ الرحمہ
۲۷۔ اسلامی ممالک پسماندہ اور درماندہ کیوں؟
۲۸۔ درد کا مداوا
۲۹۔ نمازیں اور ان کی فضیلت (حقیقت نماز)
۳۰۔ عالمین
تحریر-سید طارق مسعود کاظمی-مصنف کتاب سرزمین اولیا میانوالی
