حضرت سید شاہ جلال کاظمی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ (کالاباغ)
کوٹ چاندنہ سے بذریعہ سڑک کالاباغ جاتے ہوئے کالاباغ اڈے سے پہلے شمالی جانب نواب امیر محمد خان کے باغ کے اندر سڑک کے بالکل کنارے پر حضرت شاہ جلال کاظمی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار ہے ۔ آپ سادات کاظمی میانوالی کے جدامجد ہیں۔ تاریخ نیازیاں میں محمد اقبال خان نیازی تحریر فرماتے ہیں کہ 1964-65 میں نواب ملک امیر محمد خان نے تمام قدیمی اور پرانے قبرستان کو مشینوں اور مزدوروں کی مدد سے مٹا ڈالامگر اللہ کے اس ولی کی قبر کو نہ مٹا سکا کیونکہ یہ حق پرست اللہ کے محبوب کی قبر مبارک تھی ۔ جس نے نواب صاحب کو بذریعہ وارننگ بتا دیا کہ تونے جو کچھ کیا اچھا نہیں کیا اب میرے آرام میں مخل نہ ہونا چنانچہ سارا قبرستان صاف ہوگیا لیکن آپ کا مزار اور ارد گرد کی چند قبریں چھوڑ دی گئیں۔
تذکرہ دوست محمد خیلاں میں حکیم عطا محمد کاظمی تحریر فرماتے ہیں کہ شاہ سید جلال بن شاہ محمد کا مزار کالاباغ میں ہے جہاں آپ کی قبر مبارک ہے وہاں ایک بڑا قبرستان تھا جسے سید جلال کے قبرستان کے نام سے پکارا جاتا تھا اور اب وہاں ملک امیر محمد خان نے قبرستان صاف کرا کر بڑا باغ لگوا دیا ہے اور صر ف سید جلال کے ساتھ چند قبریں باقی ہیں۔ جس پر ملک صاحب نے چوکھنڈی بنوا دی ہے اور پختہ چار دیواری کرادی ہے مزار پر برکات ہے مخلوق خدا کی مرجع ہے اور اس مزار کی خصوصیت بیان کی جاتی ہے کہ یہاں بھی دماغی مریض شفایاب ہوتے ہیں جیسا کہ ان کے جد امجد حضرت باباشمس غزنوی کے مزار پر دماغی امراض کے مریض شفا پاتے ہیں ۔ حضرت شاہ جلال رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے بیٹے شاہ حسن اور ان کے بیٹے شاہ آدم کی مزار نواب کالاباغ کے بنگلہ پیپل والہ میں بتائی جاتی ہے۔
