Walid (Inayat Muhammad Qureshi) Ki Yaad Mein Aik Qalami Khiraj-e-Aqeedat

والد کی یاد میں ایک قلمی خراجِ عقیدت

 

محمد ضیاء اللہ قریشی نے اپنے والد مرحوم عنایت محمد قریشی کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی غیر مطبوعہ تصنیف سے اقتباس پیش کیا

 

بعض رشتے وقت گزرنے کے ساتھ کمزور نہیں ہوتے بلکہ یادوں، محبت اور احترام کی صورت میں مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔ والد اور اولاد کا رشتہ بھی انہی لازوال رشتوں میں سے ایک ہے۔ 29 جولائی 2025ء کو اپنے والد مرحوم عنایت محمد قریشی کی پانچویں برسی کے موقع پر معروف شاعر، غزل گو اور گیت نگار محمد ضیاء اللہ قریشی نے نہ صرف اپنے والد کو محبت اور عقیدت کے ساتھ یاد کیا بلکہ ان کی علمی و ادبی خدمات کو بھی نئی نسل تک پہنچانے کی ایک خوبصورت کوشش کی۔

اس موقع پر انہوں نے اپنے والد کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مرحوم عنایت محمد قریشی میانوالی کی معروف سیاسی، سماجی اور صحافتی شخصیت تھے۔ وہ مولانا عبدالستار خان نیازی کے قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے اور “چشمِ نم” کے عنوان سے قومی و مقامی اخبارات میں مستقل کالم لکھتے رہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اصول پسندی، دیانت داری اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ گزاری اور 29 جولائی 2020ء کو تقریباً 80 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

اپنے والد کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے محمد ضیاء اللہ قریشی نے ان کی ایک اہم مگر غیر مطبوعہ تصنیف “سوانحِ مولانا نیازی” سے ایک تفصیلی اقتباس بھی احباب کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کیا۔ یہ صرف ایک کتاب کا اقتباس نہیں بلکہ پاکستان، خصوصاً ضلع میانوالی کی سیاسی تاریخ، مولانا عبدالستار خان نیازی کی جدوجہد، 1985ء اور 1988ء کے انتخابات، عوامی محاذ، ڈاکٹر شیرافگن، مقبول خان، محمد خان جونیجو، جنرل ضیاء الحق اور اس دور کی سیاسی صف بندیوں کے عینی مشاہدات پر مشتمل ایک تاریخی دستاویز کی جھلک ہے۔

اس اقتباس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ کسی ثانوی ذریعے سے نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کے قلم سے تحریر ہوا ہے جو ان سیاسی واقعات کا خود حصہ رہا، مولانا عبدالستار خان نیازی کے ساتھ عملی سیاست میں شریک رہا اور جن حالات کا ذکر کرتا ہے انہیں قریب سے دیکھا اور جیا۔

محمد ضیاء اللہ قریشی کا اپنے والد کی غیر مطبوعہ تحریر کو برسی کے موقع پر عوام کے سامنے پیش کرنا دراصل ایک بیٹے کی اپنے والد سے محبت، احترام اور ان کے علمی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔ اس سے یہ احساس بھی اجاگر ہوتا ہے کہ اہلِ قلم کی اصل میراث صرف ان کی اولاد نہیں بلکہ ان کی تحریریں، افکار اور تاریخ بھی ہوتی ہیں، جنہیں محفوظ رکھنا آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم علمی خدمت ہے۔

یہ اقتباس اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ میانوالی کی سیاسی اور ادبی تاریخ میں بہت سا ایسا قیمتی مواد موجود ہے جو ابھی تک غیر مطبوعہ ہے اور اگر اسے منظم انداز میں محفوظ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں اپنے مقامی تاریخی سرمائے کے ایک اہم حصے سے محروم رہ جائیں گی۔

مرحوم عنایت محمد قریشی کی یہ غیر مطبوعہ تصنیف “سوانحِ مولانا نیازی” نہ صرف مولانا عبدالستار خان نیازی کی زندگی اور جدوجہد کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے بلکہ میانوالی اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کے محققین کے لیے بھی ایک اہم حوالہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ محمد ضیاء اللہ قریشی کی جانب سے اس کتاب کے اقتباس کی اشاعت دراصل اسی علمی ورثے کو زندہ رکھنے کی ایک قابلِ قدر کوشش ہے۔

تحریر: محمد ضیاء اللہ قریشی

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi)  Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb

محمد ضیاء اللہ قریشی (ضیاء قریشی) میانوالی کے صاف گو شاعر، غزل گو، گیت نگار اور صاحبِ فکر ادیب میانوالی...
Read More
Ziaullah Qureshi Ki Shayari — Mohabbat, Riwayat, Insaan Dosti aur Fikri Waqar Ka Istiara

Ziaullah Qureshi Ki Shayari — Mohabbat, Riwayat, Insaan Dosti aur Fikri Waqar Ka Istiara

ضیاء اللہ قریشی کی شاعری — محبت، روایت، انسان دوستی اور فکری وقار کا استعارہ محمد ضیاء اللہ قریشی (ضیاء...
Read More
Marhoom Inayat Muhammad Qureshi — Aik Ba Usool Insaan, Sahafi, Siyasi Karkun aur Mehnat Kash Shakhsiyat

Marhoom Inayat Muhammad Qureshi — Aik Ba Usool Insaan, Sahafi, Siyasi Karkun aur Mehnat Kash Shakhsiyat

مرحوم عنایت محمد قریشی  ایک بااصول انسان، صحافی، سیاسی کارکن اور محنت کش شخصیت آج میرے والد عنایت محمد قریشی...
Read More
Walid (Inayat Muhammad Qureshi) Ki Yaad Mein Aik Qalami Khiraj-e-Aqeedat

Walid (Inayat Muhammad Qureshi) Ki Yaad Mein Aik Qalami Khiraj-e-Aqeedat

والد کی یاد میں ایک قلمی خراجِ عقیدت   محمد ضیاء اللہ قریشی نے اپنے والد مرحوم عنایت محمد قریشی...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top