محمد ضیاء اللہ قریشی (ضیاء قریشی)
میانوالی کے صاف گو شاعر، غزل گو، گیت نگار اور صاحبِ فکر ادیب
میانوالی کی ادبی روایت میں چند ایسے شعرا بھی موجود ہیں جنہوں نے شہرت سے زیادہ تخلیق کو اہمیت دی، محفلوں سے زیادہ تنہائی کو ترجیح دی اور لفظوں کے ذریعے اپنی شناخت قائم کی۔ محمد ضیاء اللہ قریشی، جو ادبی دنیا میں “ضیاء قریشی“ کے نام سے معروف ہیں، انہی معتبر شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں، تاہم نظم اور گیت نگاری میں بھی ان کی نمایاں خدمات موجود ہیں۔ ان کی شاعری میں سادگی، فکری گہرائی، تہذیبی شعور، صوفیانہ رنگ، انسانی محبت اور اخلاقی اقدار کا حسین امتزاج ملتا ہے۔
ضیاء قریشی ان شعرا میں شامل ہیں جو اپنی شاعری کے ذریعے قاری سے براہِ راست مکالمہ کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں تصنع، لفظی بازی گری یا غیر ضروری پیچیدگی کے بجائے سادہ مگر اثر انگیز اسلوب نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری سنجیدہ قارئین اور اہلِ ادب میں یکساں طور پر پسند کی جاتی ہے۔ ان کی شخصیت مشاعروں کی شہرت سے زیادہ تخلیقی وقار کی نمائندہ ہے، اور یہی وصف انہیں اپنے عہد کے کئی شاعروں سے ممتاز کرتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
محمد ضیاء اللہ قریشی 10 اکتوبر 1971ء کو میانوالی شہر میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی، ادبی اور تہذیبی ماحول رکھنے والے خاندان سے ہے۔ ان کے خاندان میں مطالعہ، تعلیم اور زبان و ادب سے دلچسپی ہمیشہ موجود رہی، جس کے اثرات ان کی شخصیت اور فکر پر بھی نمایاں طور پر مرتب ہوئے۔
والد: مرحوم عنایت محمد قریشی
ان کے مرحوم بھائی محمد شعیب فاروق قریشی انگریزی زبان و ادب کے صاحبِ ذوق قلم کار تھے، جن کی تحریروں کو بعدازاں ضیاء اللہ قریشی نے “خواب میں عکس“ کے عنوان سے مرتب کرکے محفوظ کیا۔ ان کے ایک اور بھائی محمد رفیع اللہ قریشی بھی انگریزی زبان کے ممتاز استاد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اس ادبی ماحول نے ضیاء قریشی کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیم
ابتدائی تعلیم میانوالی میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اردو زبان و ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
جامعہ میں اردو ادب کا گہرا مطالعہ، کلاسیکی شعرا کی روایت اور جدید ادبی رجحانات نے ان کی شعری فکر کو مزید نکھارا۔
شعری سفر کا آغاز
ضیاء اللہ قریشی نے 1998ء میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔
وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے کسی ایک استاد سے باقاعدہ اصلاح نہیں لی، تاہم میانوالی اور پاکستان کے متعدد سینئر شعرا کی صحبت سے بہت کچھ سیکھا۔
ان کی پہلی غزل کا مطلع آج بھی ان کے شعری سفر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
میں شاعری جو نہ کرتا تو اور کیا کرتا
شباب تم پہ بھی آیا تھا اک غزل کی طرح
یہ شعر ان کی رومانوی حساسیت، زبان کی روانی اور غزل کے روایتی حسن کا بہترین نمونہ ہے۔
شعری اسلوب اور فکری جہات
ضیاء قریشی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں، لیکن ان کی مختصر نظمیں اور گیت بھی ان کی تخلیقی وسعت کا ثبوت ہیں۔
ان کی شاعری میں نمایاں موضوعات درج ذیل ہیں۔
- محبت
- ہجر و وصال
- انسان دوستی
- اخلاقی اقدار
- خود احتسابی
- انا اور تکبر پر تنقید
- سماجی رویوں کا تجزیہ
- روحانی فکر
- صوفیانہ اندازِ نظر
ان کے ہاں جذباتیت ضرور ہے مگر جذباتیت پر عقل غالب رہتی ہے۔ وہ غزل میں روایت سے وابستگی برقرار رکھتے ہوئے نئے دور کے احساسات کو بھی جگہ دیتے ہیں۔
لہر نیازی نے بجا طور پر انہیں “صاف گو شاعر“ قرار دیا ہے، کیونکہ ان کے ہاں اظہار میں غیر ضروری ابہام یا تصنع نہیں ملتا۔
پہلی کتاب
پہلی سانس محبت کی
2005ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ
“پہلی سانس محبت کی“
علم و عرفان پبلشرز، لاہور سے شائع ہوا۔
یہ مجموعہ غزلوں، چند نظموں اور محبت و انسان دوستی پر مبنی تخلیقات پر مشتمل ہے۔
یہ کتاب شائع ہوتے ہی ادبی حلقوں میں نہایت پسند کی گئی اور اسے متعدد ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا۔
ادبی اعزازات
اس شعری مجموعے پر انہیں متعدد اہم ادبی اعزازات حاصل ہوئے جن میں نمایاں ہیں۔
- سانول سنگت ادبی ایوارڈ (فتح پور)
- محمود ادبی ایوارڈ (میانوالی)
- سید نصیر شاہ ادبی ایوارڈ (لیہ)
- KISA اکیڈمی ادبی ایوارڈ
یہ اعزازات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی شاعری صرف عوامی نہیں بلکہ ادبی حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔
زیرِ طبع مجموعہ
ان کا دوسرا شعری مجموعہ
“رابطہ“
کے عنوان سے زیرِ طبع بتایا گیا ہے۔
ان کے منتخب اشعار سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مجموعے میں جدید انسان کی تنہائی، ڈیجیٹل دور کے فاصلے، تعلقات کی شکست و ریخت اور داخلی کرب جیسے موضوعات نمایاں ہوں گے۔
بطور مرتب
ضیاء اللہ قریشی نے صرف شاعری ہی نہیں بلکہ ادبی تدوین کے میدان میں بھی کام کیا۔
انہوں نے اپنے مرحوم بھائی محمد شعیب فاروق قریشی کی شخصیت، مضامین اور تحریروں کو
“خواب میں عکس“
کے عنوان سے مرتب کرکے محفوظ کیا۔
یہ کام ان کی خاندانی وابستگی کے ساتھ ساتھ ادبی ذمہ داری کا بھی اظہار ہے۔
ملازمت اور عملی زندگی
محمد ضیاء اللہ قریشی نے کئی برس پاکستان پوسٹ (محکمہ ڈاک) میں خدمات انجام دیں۔
بعدازاں انہوں نے نجی شعبے میں ایک معروف ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی سے وابستہ ہو کر اپنی پیشہ ورانہ زندگی جاری رکھی۔
ان کی ملازمت نے ان کے مشاہدے کو وسیع کیا، جس کی جھلک ان کی شاعری میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔
مشاعروں سے تعلق
ضیاء اللہ قریشی مشاعروں میں بہت کم شرکت کرتے ہیں۔
ان کا مؤقف یہ ہے کہ
مشاعرے کی فضا شاعر کو بعض اوقات فوری داد حاصل کرنے والی شاعری کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ سنجیدہ شاعر کو اپنی داخلی آزادی برقرار رکھنی چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے شہرت کے بجائے معیاری تخلیق کو ترجیح دی۔
گیت نگاری
غزل کے ساتھ ساتھ وہ ایک اچھے گیت نگار بھی ہیں۔
ان کے گیتوں میں مقامی تہذیب، محبت، انسانی رشتے اور نرم جذبات کا اظہار نہایت سادہ اور دل نشیں انداز میں ملتا ہے۔
فکری خصوصیات
ضیاء اللہ قریشی کی شاعری کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں۔
- سادہ مگر بامعنی زبان
- کلاسیکی غزل کی روایت سے وابستگی
- جدید احساسات
- صوفیانہ فکر
- اخلاقی شعور
- انسان دوستی
- داخلی مکالمہ
- خود احتسابی
- تہذیبی شائستگی
- غیر ضروری جدت سے گریز
ان کے بارے میں اہلِ قلم نے لکھا ہے کہ وہ “جدت کے شور میں روایت کی روشنی سے نیا آسمان تعمیر کرنے والے شاعر ہیں“—یعنی وہ کلاسیکی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے مسائل اور احساسات کو بھی اپنی شاعری میں سمو دیتے ہیں۔
منتخب اشعار
تو بانٹتا ہے ہر اک سمت روشنی لیکن
چراغ تیرے تلے آج بھی اندھیرا ہے
میں نے خوشیوں کے موسموں میں بھی
تیرے دکھ کو سنبھال رکھا ہے
نکل گیا ہوں میں اپنے ہی دھیان سے باہر
کہ جب سے آیا ہے وہ میرے دھیان کے اندر
رابطہ ایسا کہ اک کمرے میں دنیا آگئی
فاصلہ ایسا کہ میں کمرے میں تنہا رہ گیا
ایسی چیزیں دور سے اچھی لگتی ہیں
چاند کو اپنے پاس بلانا ٹھیک نہیں
دشمن کا بھی ہو جائے تو دکھ ہوتا ہے صاحب
نقصان کسی کا بھی ہو نقصان ہے آخر
عشق کرنے کی چیز تھوڑی ہے
عشق تو میری جان ہوتا ہے
تکبر میں تباہی کا سدا امکان ہوتا ہے
گرے اونچی عمارت تو بڑا نقصان ہوتا ہے
مرا شعار نہیں ہے کسی کی حق تلفی
جہاں مقام ہے میرا وہیں کھڑا ہوں میں
ادبی مقام
میانوالی کی معاصر شاعری میں ضیاء اللہ قریشی کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے خاموشی سے مگر مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری میں نہ صرف محبت اور جمالیات کا احساس موجود ہے بلکہ سماجی شعور، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی درد بھی پوری قوت سے جلوہ گر ہوتا ہے۔
ان کی غزلیں کلاسیکی روایت سے رشتہ استوار رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کی داخلی تنہائی، بدلتے معاشرتی رویوں اور انسانی تعلقات کی نزاکت کو بھی مؤثر انداز میں بیان کرتی ہیں۔ یہی اعتدال ان کے کلام کو دیرپا بناتا ہے۔ ان کے بارے میں دستیاب ادبی مواد اور سماجی ذرائع سے بھی یہی تاثر سامنے آتا ہے کہ وہ شہرت سے زیادہ معیاری تخلیق کو اہمیت دینے والے سنجیدہ شاعر ہیں۔
محمد ضیاء اللہ قریشی ان تخلیق کاروں میں شامل ہیں جنہوں نے ادب کو اظہارِ ذات کے بجائے اظہارِ انسانیت کا وسیلہ بنایا۔ ان کی شاعری میں محبت، درد، اخلاق، تصوف، انسان دوستی اور تہذیبی شعور ایک دوسرے میں اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ قاری محض اشعار نہیں پڑھتا بلکہ ایک باوقار، مہذب اور حساس شخصیت سے مکالمہ کرتا ہے۔ میانوالی کی ادبی تاریخ میں ضیاء قریشی کا نام ایک ایسے غزل گو اور گیت نگار کے طور پر محفوظ رہے گا جس نے خاموشی سے مگر پوری دیانت کے ساتھ اردو شاعری کی روایت کو آگے بڑھایا۔ ان کی تخلیقات نہ صرف ان کی فنی صلاحیت کی گواہ ہیں بلکہ میانوالی کی ادبی شناخت کا بھی اہم حصہ ہیں۔
اظہارِ تشکر
اس تحقیقی و تعارفی مضمون کی تیاری میں معروف شاعر، ادیب اور محقق لہر نیازی کی فراہم کردہ معلومات، تحریروں اور ادبی معاونت سے خصوصی استفادہ کیا گیا ہے۔
ٹیم میانوالی ڈاٹ آرگ (Team Mianwali.org) لہر نیازی صاحب کی علمی و ادبی معاونت، خلوص اور تعاون پر دلی طور پر شکر گزار ہے۔ ان کی فراہم کردہ معلومات نے محمد ضیاء اللہ قریشی کی شخصیت اور ادبی خدمات کو جامع، مستند اور منظم انداز میں پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی میانوالی کی ادبی، ثقافتی اور تاریخی شخصیات کو محفوظ کرنے اور نئی نسل تک پہنچانے کے اس سفر میں اہلِ قلم اور محققین کا یہی تعاون جاری رہے گا۔
