Professor Ashraf Kalyar Ilm-o-Adab Ka Aik Roshan Chiragh

پروفیسر اشرف کلیار   –    علم و ادب کا ایک روشن چراغ

ضلع میانوالی کی مردم خیز سرزمین ہمیشہ سے ایسے اہلِ علم، صاحبانِ فکر اور باکردار شخصیات کی آماجگاہ رہی ہے جنہوں نے اپنی علمی، ادبی اور سماجی خدمات سے اس خطے کی شناخت کو جِلا بخشی۔ انہی درخشاں ناموں میں پروفیسر اشرف کلیار کا نام نہایت احترام اور وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ اُن معدودے چند اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تدریس کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ سمجھ کر ادا کیا، اور اپنی علمی بصیرت، اعلیٰ اخلاق، سادہ مزاجی اور ادبی ذوق کے ذریعے کئی نسلوں کی فکری و اخلاقی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔

آپ کی شخصیت علم، تہذیب، دیانت، وقار اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج ہے۔ ایک معلم، منتظم، ادیب، محقق اور صاحبِ قلم کی حیثیت سے آپ نے جو خدمات انجام دیں، وہ نہ صرف ضلع میانوالی بلکہ بالخصوص عیسیٰ خیل کی علمی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیمی سفر

پروفیسر اشرف کلیار کا تعلق تحصیل عیسیٰ خیل کی اس مردم خیز دھرتی سے ہے جہاں روایت، شرافت، مہمان نوازی اور علم دوستی نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔ بچپن ہی سے آپ میں حصولِ علم کا غیر معمولی شوق، مطالعے کی عادت اور فکری سنجیدگی نمایاں تھی۔

آپ نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول شکردرہ سے حاصل کی، جہاں 1958ء سے 1960ء تک تعلیم کے دوران آپ نے نہ صرف نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں بلکہ اپنے اساتذہ کی خصوصی توجہ اور اعتماد بھی حاصل کیا۔

بعد ازاں آپ نے اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ پنجاب کا رخ کیا، جو اس وقت بھی برصغیر کے ممتاز علمی مراکز میں شمار ہوتی تھی۔ یہاں سے آپ نے عربی، اسلامیات اور اردو میں ماسٹرز کی اسناد حاصل کیں۔ یہ تینوں علوم آپ کی فکری تشکیل میں بنیادی ستون ثابت ہوئے۔ عربی نے آپ کو اسلامی مصادر سے براہِ راست استفادہ کرنے کا موقع دیا، اسلامیات نے دینی بصیرت عطا کی، جبکہ اردو ادب نے آپ کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کو جِلا بخشی۔

یہی علمی سرمایہ بعد ازاں آپ کی تدریسی اور ادبی زندگی کی بنیاد بنا۔

تدریسی زندگی: علم کی شمع روشن کرنے والا معلم

تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے تدریس کے شعبے کو اپنا میدانِ عمل بنایا۔ 4 دسمبر 1975ء کو آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج عیسیٰ خیل میں بطور لیکچرار اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب اعلیٰ تعلیم کے وسائل محدود تھے، مگر اساتذہ کی علمی عظمت اور کردار طلبہ کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے تھے۔ پروفیسر اشرف کلیار انہی اساتذہ میں شامل تھے جنہوں نے درسگاہ کو محض کلاس روم تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے کردار سازی، فکری تربیت اور معاشرتی شعور کی آبیاری کا مرکز بنایا۔

آپ کی تدریس کا انداز تحقیق پر مبنی، شائستہ، مدلل اور طلبہ کی ذہنی استعداد کے مطابق ہوتا تھا۔ آپ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ علم صرف امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی شخصیت کو نکھارنے اور معاشرے کو بہتر بنانے کا وسیلہ ہے۔

گورنمنٹ ڈگری کالج عیسیٰ خیل میں خدمات

تقریباً اکتیس برس تک آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج عیسیٰ خیل میں مختلف ذمہ داریاں انجام دیں۔ اس دوران آپ لیکچرار، اسسٹنٹ پروفیسر اور بعد ازاں پرنسپل کے منصب تک پہنچے۔

9 فروری 2006ء تک جاری رہنے والی اس طویل ملازمت کے دوران آپ نے ہزاروں طلبہ کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا۔ آپ کے بے شمار شاگرد بعد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اعلیٰ مناصب پر فائز ہوئے، جن میں اساتذہ، سرکاری افسران، وکلا، ڈاکٹرز، انجینئرز اور سماجی رہنما شامل ہیں۔

بطور پرنسپل آپ نے کالج میں تعلیمی نظم و ضبط، تدریسی معیار، اساتذہ اور طلبہ کے باہمی احترام اور ادارہ جاتی ترقی پر خصوصی توجہ دی۔ آپ کا دورِ انتظام آج بھی کالج کی تاریخ میں ایک منظم، باوقار اور تعمیری دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

استاد کی حیثیت سے شخصیت

پروفیسر اشرف کلیار کا شمار اُن اساتذہ میں ہوتا ہے جن کے لیے طالب علم محض ایک رول نمبر نہیں بلکہ ایک امانت ہوتا ہے۔

آپ ہمیشہ طلبہ کو مطالعے کی عادت، تحقیق کے ذوق، تنقیدی فکر اور اعلیٰ اخلاق اختیار کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ آپ کے نزدیک تعلیم کا اصل مقصد ایک باکردار، باشعور اور ذمہ دار انسان کی تشکیل تھا۔

آپ کے شاگرد آج بھی آپ کے علمی وقار، شفیق مزاج، نرم گفتگو، اصول پسندی اور غیر معمولی تدریسی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہیں۔

ادبی شخصیت اور قلمی خدمات

پروفیسر اشرف کلیار صرف ایک کامیاب استاد ہی نہیں بلکہ ایک صاحبِ مطالعہ ادیب، سنجیدہ کالم نگار اور تاریخ سے گہری دلچسپی رکھنے والے محقق بھی ہیں۔

آپ کی تحریروں میں زبان کی شائستگی، فکر کی گہرائی، استدلال کی مضبوطی اور تاریخی شعور نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ آپ ادب کو معاشرتی اصلاح، قومی شعور اور تہذیبی بیداری کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

آپ کی تحریروں کا اسلوب سادہ ہونے کے باوجود علمی وقار کا حامل ہے۔ آپ جذباتیت کے بجائے دلیل، تحقیق اور حقیقت پسندی کو ترجیح دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحریریں قارئین پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔

ملاحظاتِ اشرف کلیار

آپ کے قلم سے نکلنے والے مضامین اور کالم ملاحظاتِ اشرف کلیار کے عنوان سے اہلِ علم میں خاصے مقبول ہیں۔

ان مضامین میں تاریخ، ادب، سماج، مذہب، قومی اقدار، مقامی تہذیب، شخصیات، ثقافت اور انسانی رویوں پر نہایت متوازن انداز میں اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔

آپ کی تحریروں کا امتیاز یہ ہے کہ ان میں علمی تحقیق اور عملی مشاہدے کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ہر مضمون قاری کو صرف معلومات ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ سوچنے، غور کرنے اور اپنے معاشرے کو بہتر انداز میں سمجھنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔

سادہ طرزِ زندگی اور ذاتی اوصاف

پروفیسر اشرف کلیار کی نجی زندگی بھی اُن کی علمی شخصیت کی طرح سادگی، وقار اور اعتدال کی آئینہ دار ہے۔

آپ کی شادی 4 اگست 1972ء کو ہوئی۔ آپ ایک خوشحال اور باوقار خاندانی زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ کے صاحبزادگان شاہد اشرف کلیار اور طاہر آپ کی تربیت اور خاندانی روایات کے امین ہیں، جبکہ آپ کے بھائی مظہر کلیار بھی خاندان کی ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

زندگی بھر اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود آپ نے سادگی، انکساری اور عوامی روابط کو کبھی ترک نہیں کیا۔ یہی اوصاف آپ کی شخصیت کو مزید باوقار بناتے ہیں۔

مشاغل اور ذاتی دلچسپیاں

علمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آپ فطرت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

کاشتکاری آپ کا محبوب مشغلہ ہے۔ آپ زمین سے وابستگی کو رزقِ حلال، محنت اور فطری سکون کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

شکار بھی آپ کے پسندیدہ مشاغل میں شامل رہا ہے، تاہم آپ اسے روایت، برداشت اور فطرت سے قربت کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

روحانی اعتبار سے آپ کی سب سے بڑی خواہش اور محبت حرمین شریفین سے وابستہ ہے، جہاں حاضری کو آپ اپنی زندگی کی سب سے بڑی سعادت تصور کرتے ہیں۔

خوراک کے حوالے سے آپ سادہ مگر روایتی ذوق رکھتے ہیں۔ مقامی پکوانوں میں پاورے مچھلی اور سٹاپری آپ کی پسندیدہ غذاؤں میں شامل ہیں، جو اس خطے کی ثقافتی شناخت بھی ہیں۔

علمی و سماجی ورثہ

پروفیسر اشرف کلیار کی زندگی اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ ایک مخلص استاد اپنی قوم کا خاموش معمار ہوتا ہے۔ آپ نے نہ صرف درسگاہ میں علم بانٹا بلکہ کردار، اخلاق، دیانت اور فکری بالیدگی کی ایسی روایت قائم کی جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آپ کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ آپ کی تحریریں، آپ کے شاگرد، آپ کی انتظامی خدمات اور آپ کا علمی ورثہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حقیقی عظمت شہرت سے نہیں بلکہ کردار، علم اور اخلاص سے حاصل ہوتی ہے۔

پروفیسر اشرف کلیار ضلع میانوالی، خصوصاً تحصیل عیسیٰ خیل کی اُن ممتاز علمی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم، ادب اور معاشرتی شعور کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ وہ ایک ایسے معلم ہیں جن کی شخصیت میں علم کی سنجیدگی، ادب کی لطافت، تحقیق کی گہرائی، انتظامی بصیرت اور انسانی ہمدردی یکجا نظر آتی ہے۔

ان کی زندگی نئی نسل کے لیے اس حقیقت کا عملی نمونہ ہے کہ علم صرف کتابوں میں محفوظ معلومات کا نام نہیں، بلکہ کردار، بصیرت، دیانت اور خدمتِ انسانیت کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا نام ہے۔ بلاشبہ پروفیسر اشرف کلیار اس خطۂ میانوالی کے علمی و ادبی افق پر ایک ایسا روشن چراغ ہیں جس کی روشنی آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتی رہے گی۔

Mulahizaat-e-Ashraf Kalyar – Part 1

Mulahizaat-e-Ashraf Kalyar – Part 1

  ملاحظاتِ...
Read More
Professor Ashraf Kalyar Ilm-o-Adab Ka Aik Roshan Chiragh

Professor Ashraf Kalyar Ilm-o-Adab Ka Aik Roshan Chiragh

پروفیسر اشرف...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top