فوجی زندگی، ادبی سفر کا آغاز اور فکری تشکیل حصہ دوم
فوجی زندگی: نظم و ضبط سے تخلیقی شعور تک
راحت امیر خان تری خیلوی کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو، جس پر نسبتاً کم گفتگو ہوئی ہے مگر جس نے ان کی فکری اور تخلیقی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا، ان کی عسکری زندگی ہے۔ انہوں نے پاکستان آرمی کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں خدمات انجام دیں۔ بظاہر عسکری زندگی اور ادبی دنیا دو مختلف میدان دکھائی دیتے ہیں، لیکن تاریخِ ادب اس حقیقت کی گواہ ہے کہ فوجی نظم و ضبط، احساسِ ذمہ داری، قربانی، وسیع مشاہدہ اور انسانی نفسیات کا عمیق ادراک کسی بھی تخلیق کار کی فکری بلوغت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ راحت امیر خان تری خیلوی کی شخصیت بھی اسی تجربے سے گہرے طور پر متاثر ہوئی۔
عسکری ماحول نے ان کے اندر وقت کی پابندی، فرض شناسی، اجتماعی شعور، نظم و ضبط اور حالات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کی صلاحیت کو پروان چڑھایا۔ یہی اوصاف بعد ازاں ان کی شاعری، نثر، کالم نگاری اور ادارت میں نمایاں طور پر جلوہ گر ہوئے۔ ان کی تحریروں میں جہاں جذبے کی لطافت اور فکری گہرائی موجود ہے، وہیں زندگی کے عملی تجربات، سماجی شعور اور حقیقت پسندی کی جھلک بھی پوری قوت کے ساتھ محسوس کی جا سکتی ہے۔
پاکستان آرمی میں خدمات کے دوران انہیں ملک کے مختلف علاقوں، تہذیبوں، زبانوں اور ثقافتی روایات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس وسیع مشاہدے نے ان کی فکر کو علاقائی حدود سے نکال کر قومی سطح تک وسعت دی۔ بعدازاں ان کی شاعری، مضامین اور کالموں میں قومی یکجہتی، معاشرتی تنوع، انسانی اقدار، سماجی تضادات اور عوامی مسائل جیسے موضوعات نمایاں طور پر سامنے آئے، جنہوں نے ان کے ادبی اسلوب کو مزید پختگی اور وسعت عطا کی۔
عسکری سفر کا آغاز
ابتدائی تعلیم کے بعد جب ان کا خاندان دوبارہ اپنے آبائی گاؤں تری خیل واپس آیا تو انہوں نے دیوالی کے مقامی سکول میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ تاہم عملی زندگی کی جانب رجحان کے باعث انہوں نے جلد ہی تعلیم ترک کر دی اور پاک فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔
9 جنوری 1985ء کو انہوں نے پاکستان آرمی میں اپنی عسکری زندگی کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اگرچہ فوجی پیشہ ان کی عملی زندگی کا حصہ بن گیا، لیکن ان کا قلب ہمیشہ ادب، شاعری اور تخلیقی اظہار سے وابستہ رہا۔ عسکری ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان کے اندر کا ادیب مسلسل متحرک رہا اور قلم سے ان کا تعلق کبھی منقطع نہ ہوا۔
بالآخر انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی اصل شناخت ادب سے وابستہ ہے۔ یہی احساس انہیں دوبارہ ادبی دنیا کی طرف لے آیا، چنانچہ تقریباً دو برس کی فوجی ملازمت کے بعد 9 ستمبر 1987ء کو انہوں نے پاک فوج سے علیحدگی اختیار کر لی تاکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پوری یکسوئی کے ساتھ بروئے کار لا سکیں۔
ادب کی طرف بھرپور واپسی
فوج سے علیحدگی کے بعد راحت امیر خان تری خیلوی نے اپنی تمام تر توانائیاں ادبی سرگرمیوں کے لیے وقف کر دیں۔ یہ وہ دور تھا جب ان کی تخلیقی صلاحیتیں تیزی سے نکھرنے لگیں اور انہیں مختلف ادبی حلقوں میں شناخت ملنا شروع ہوئی۔
ابتدا ہی سے ان کا رجحان صرف شاعری تک محدود نہیں تھا بلکہ نثر، افسانہ نگاری، ادارت اور اشاعتی سرگرمیوں میں بھی ان کی دلچسپی نمایاں تھی۔ مختلف ادبی جرائد میں ان کی تحریریں باقاعدگی سے شائع ہونے لگیں، جس سے اہلِ قلم کے حلقوں میں ان کی شناخت مضبوط ہوتی گئی۔
ادارت کی جانب پہلا اہم قدم
ادبی دنیا میں ان کی سنجیدہ اور مسلسل کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1990ء میں انہیں لاہور سے شائع ہونے والے معروف ادبی جریدے “صد رنگ” میں بطور مدیر خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔
یہ ذمہ داری ان کی ادبی زندگی میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ ادارت کے دوران انہیں تحریر، تدوین، اشاعت، تخلیقی انتخاب، ادبی معیار اور اشاعتی نظم و نسق کے عملی تقاضوں کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ یہی تجربات آگے چل کر انہیں اردو ادب کے ممتاز دیران میں شامل کرنے کا سبب بنے۔
اسی عرصے میں ان کی وابستگی ماہنامہ “سلام عرض” لاہور سے بھی قائم رہی، جہاں ان کے افسانے اور کہانیاں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہیں۔ ان کا سلسلہ وار ناول “پیاسی روحیں” بھی اسی رسالے میں قسط وار شائع ہوا، جس نے انہیں بطور افسانہ نگار بھی ادبی حلقوں میں متعارف کرایا۔
ادبی اختلافات اور ایک نئے سفر کا آغاز
ماہنامہ “سلام عرض” میں شائع ہونے والا راحت امیر خان تری خیلوی کا سلسلہ وار ناول “پیاسی روحیں” قارئین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ تاہم ناول کی تکمیل کے بعد بعض انتظامی اور ادبی معاملات پر ان کے اور رسالے کے مدیرِ اعلیٰ جاوید قریشی کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔
اس زمانے میں مرزا شبیر بیگ ساجد رسالے کے مدیر تھے، جبکہ معروف ادیب اختر تابش اور ڈاکٹر پروفیسر باغی سردت بھی اسی ادبی حلقے سے وابستہ تھے۔ بعد ازاں یہ اہلِ قلم اس ادارے سے الگ ہو گئے اور اپنی ادبی سرگرمیوں کو نئے انداز میں جاری رکھا۔ اگرچہ یہ مرحلہ ان کی ادبی زندگی میں ایک اہم تبدیلی کا سبب بنا، لیکن اس نے ان کے تخلیقی سفر کو روکنے کے بجائے مزید وسعت عطا کی۔
فوج میں دوبارہ شمولیت
چند برس ادب، صحافت اور ادارت کے میدان میں بھرپور سرگرم رہنے کے بعد راحت امیر خان تری خیلوی نے اپنی عسکری زندگی پر ازسرِنو غور کیا۔ انہیں احساس ہوا کہ فوجی خدمات ان کی شخصیت کی تعمیر کا ایک اہم باب تھیں، جسے مکمل کرنا ضروری ہے۔
چنانچہ 1993ء میں انہوں نے دوبارہ پاک فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ خوش قسمتی سے ان کی سابقہ فوجی سروس بھی بحال ہو گئی، جس کے باعث وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا سلسلہ وہیں سے آگے بڑھانے میں کامیاب ہوئے جہاں وہ رکا تھا۔
یہ فیصلہ ان کی زندگی میں ایک نئے توازن کا آغاز ثابت ہوا۔ انہوں نے عسکری فرائض اور ادبی مصروفیات کو بیک وقت نہایت کامیابی، نظم و ضبط اور ذمہ داری کے ساتھ جاری رکھا، جو ان کی غیر معمولی صلاحیت، محنت اور وقت کی بہترین منصوبہ بندی کا مظہر ہے۔
“نیازی تری خیلوی” — ایک منفرد قلمی شناخت
دوبارہ فوج میں شمولیت کے بعد پیشہ ورانہ تقاضوں کے پیشِ نظر انہوں نے اپنے اصل نام کے بجائے “راحت امیر خان نیازی تری خیلوی” کو قلمی نام کے طور پر اختیار کیا۔
یہ قلمی نام رفتہ رفتہ اردو اور سرائیکی ادبی حلقوں میں ان کی مستقل شناخت بن گیا۔ اسی نام سے ان کی شاعری، مضامین، کالم، اداریے اور دیگر ادبی تخلیقات ملک کے مختلف رسائل اور اخبارات میں شائع ہونے لگیں، اور یہی نام بعد ازاں ان کی ادبی شخصیت کی علامت بن گیا۔
عسکری خدمات کا اختتام اور نئی ذمہ داریاں
راحت امیر خان تری خیلوی نے 15 اکتوبر 2008ء تک پاک فوج میں نہایت دیانت، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ خدمات انجام دیں۔
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنی توجہ خاندانی اور سماجی ذمہ داریوں کی طرف مبذول کی۔ انہوں نے اپنے بھائیوں کے کاروبار کو مستحکم کرنے، ان کی عملی زندگی سنوارنے اور خاندانی معاملات کو منظم انداز میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اینٹوں کے بھٹوں کے کاروبار کی نگرانی بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل رہی۔
اگرچہ عملی زندگی کی مصروفیات بڑھتی گئیں، لیکن ادب سے ان کا تعلق کبھی کمزور نہیں ہوا۔ انہوں نے اشاعت و طباعت کے شعبے کو اپنی مستقل ادبی سرگرمی کا مرکز بنایا اور اسی میدان میں اپنی خدمات کا نیا باب شروع کیا۔
اشاعت و طباعت کی خدمات
ریٹائرمنٹ کے بعد راحت امیر خان تری خیلوی نے بطور ناشر اردو اور سرائیکی ادب کی خدمت کو اپنی ترجیح بنایا۔
انہوں نے متعدد نئے اور معروف شعرا، ادبا اور محققین کی کتابوں کو زیورِ طباعت سے آراستہ کیا اور انہیں قارئین تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی اشاعتی خدمات نے نہ صرف نئے قلم کاروں کو اپنی تخلیقات شائع کرانے کا موقع فراہم کیا بلکہ ادبی سرمائے کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
افسانہ نگاری: ابتدائی ادبی شناخت
اگرچہ راحت امیر خان تری خیلوی کو عمومی طور پر شاعر، مدیر اور کالم نگار کی حیثیت سے زیادہ جانا جاتا ہے، لیکن ان کی ابتدائی ادبی شناخت افسانہ نگاری سے بھی وابستہ ہے۔
انہوں نے اپنے افسانوں میں انسانی نفسیات، دیہی معاشرت، متوسط طبقے کی زندگی، محبت، محرومی، سماجی ناانصافیاں اور روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کیا۔
ان کی افسانہ نگاری کا سب سے نمایاں وصف حقیقت نگاری ہے۔ ان کے کردار مصنوعی یا خیالی محسوس نہیں ہوتے بلکہ معاشرے سے براہِ راست اخذ کیے گئے زندہ انسان دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نثر میں سادگی، فطری پن، روانی اور تاثیر نمایاں طور پر موجود ہے۔
مختار احمد ملک کی نظر میں
معروف ادیب مختار احمد ملک نے اپنی تحریر “ملنگ شاعر، ملنگ ادیب” میں راحت امیر خان تری خیلوی کی ادبی شخصیت پر نہایت اہم مشاہدات قلم بند کیے ہیں۔
ان کے مطابق راحت امیر خان کی نثر غیر معمولی روانی، سادگی اور فکری شفافیت کی حامل ہے۔ وہ مشکل الفاظ یا تصنع سے گریز کرتے ہیں اور عام فہم زبان میں ایسے خیالات پیش کرتے ہیں جو براہِ راست قاری کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
مختار احمد ملک یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے کہانی نویسی کے ابتدائی اسرار و رموز راحت امیر خان سے سیکھے۔ یہ بیان اس امر کا ثبوت ہے کہ راحت امیر خان نہ صرف خود ایک صاحبِ اسلوب تخلیق کار تھے بلکہ نئے لکھنے والوں کی تربیت اور رہنمائی میں بھی بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔
افسانہ نگاری سے تدریجی دوری
مختار احمد ملک نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے کہ راحت امیر خان نے بعد کے برسوں میں افسانہ نگاری تقریباً ترک کر دی۔
ان کے نزدیک اگر وہ اسی تسلسل کے ساتھ افسانے تخلیق کرتے رہتے تو اردو افسانے میں ایک ممتاز مقام حاصل کر سکتے تھے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ صحافت، ادارت، اشاعت، تنظیمی ذمہ داریوں اور دیگر عملی مصروفیات نے ان کی توجہ ادب کے دوسرے شعبوں کی طرف زیادہ مبذول کر دی۔
اگرچہ اس تبدیلی کے باعث اردو افسانہ ایک باصلاحیت قلم کار سے مسلسل فیض یاب نہ ہو سکا، لیکن دوسری جانب اردو ادب کو ایک فعال مدیر، کامیاب ناشر، سنجیدہ صحافی اور مؤثر کالم نگار ضرور میسر آ گیا، جس نے کئی دہائیوں تک ادبی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔
لاہور کا ادبی ماحول، ادارت اور صحافتی خدمات
لاہور: ادبی شخصیت کی فکری تشکیل
راحت امیر خان تری خیلوی کی ادبی زندگی میں لاہور ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ برصغیر کی ادبی روایت میں لاہور کو ہمیشہ اردو زبان، صحافت، اشاعت، تنقید اور علمی سرگرمیوں کا مرکز تصور کیا جاتا رہا ہے۔ یہی شہر ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے، فکری افق کو وسعت دینے اور ادبی حلقوں سے مضبوط تعلق استوار کرنے کا ذریعہ بنا۔
لاہور میں قیام کے دوران انہیں ملک کے ممتاز شعرا، ادبا، مدیران اور ناشرین کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ مختلف ادبی نشستوں، رسائل اور فکری مباحث میں شرکت نے ان کے مطالعے، تنقیدی شعور اور تخلیقی وژن کو مزید پختہ کیا۔ یہی ماحول ان کی شخصیت کو محض ایک شاعر سے آگے بڑھا کر ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت میں تبدیل کرنے کا سبب بنا۔
ادارت کی دنیا میں نمایاں مقام
راحت امیر خان تری خیلوی کی شناخت صرف ایک شاعر یا نثر نگار تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے بطور مدیر بھی اردو ادب میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کے نزدیک مدیر کا کردار صرف تحریروں کی اشاعت تک محدود نہیں بلکہ معیاری ادب کی ترویج، نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ادبی رجحانات کی مثبت رہنمائی بھی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسی نظریے کے تحت انہوں نے مختلف ادوار میں متعدد ادبی جرائد اور رسائل کی ادارت کی، جن میں درج ذیل نمایاں ہیں:
- ماہنامہ سلام عرض، لاہور
- دوماہنامہ صد رنگ
- ماہنامہ تسلیم عرض
- تعمیرِ ادب
- امید نو
- بدلتے رنگ
- قلم قبیلہ
- رنگ ہی رنگ
- روزنامہ جائزہ کا ادبی میگزین
- روزنامہ اوصاف ملتان کے ادبی صفحات
یہ فہرست اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ ان کی خدمات کسی ایک رسالے یا ادارے تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے کئی دہائیوں تک مختلف ادبی پلیٹ فارمز کے ذریعے اردو اور سرائیکی ادب کی مسلسل خدمت کی۔
ادارت کا منفرد اسلوب
راحت امیر خان تری خیلوی نے ادارت کو محض انتظامی ذمہ داری کے بجائے ایک تخلیقی اور فکری عمل سمجھا۔ ان کے ادارتی اسلوب کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- نئے اور باصلاحیت قلم کاروں کی حوصلہ افزائی۔
- ادبی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنا۔
- علاقائی ادب کو قومی سطح پر متعارف کرانے کی مسلسل کوشش۔
- اردو اور سرائیکی دونوں زبانوں کو یکساں اہمیت دینا۔
- اختلافِ رائے کے باوجود ادبی رواداری کو فروغ دینا۔
- غیر معروف مگر باصلاحیت تخلیق کاروں کو اشاعت کے مواقع فراہم کرنا۔
اسی متوازن اور غیر جانبدار رویے کے باعث متعدد نوجوان شعرا، ادبا اور محققین انہیں اپنا ادبی رہنما اور مربی تصور کرتے ہیں۔ ان کی ادارت سے گزرنے والی بے شمار تحریریں بعد ازاں اردو ادب کا اہم حصہ بنیں، جبکہ کئی نئے قلم کار انہی کے ذریعے ادبی دنیا میں متعارف ہوئے۔
ادبی رسائل کی روایت کے امین
انیسویں صدی کے اواخر سے لے کر اکیسویں صدی کے ابتدائی برسوں تک ادبی رسائل اردو ادب کی فکری اور تخلیقی سرگرمیوں کا بنیادی مرکز رہے۔ یہی رسائل نئی شاعری، افسانے، تنقیدی مضامین، تحقیقی مقالات، ادبی مکالموں اور اہلِ قلم کے تعارف کا مؤثر ذریعہ بنتے رہے۔
راحت امیر خان تری خیلوی نے بطور مدیر اس روایت کو زندہ رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے زیرِ ادارت شائع ہونے والے رسائل محض اشاعتی جرائد نہیں تھے بلکہ اہلِ قلم، محققین اور قارئین کے درمیان فکری رابطے کا مضبوط ذریعہ بھی تھے۔ انہوں نے ادب کو محض تخلیق کا عمل نہیں سمجھا بلکہ اسے مکالمے، تحقیق اور فکری ارتقاء کا مؤثر وسیلہ بنایا۔
صحافت میں خدمات
ادارت کے ساتھ ساتھ راحت امیر خان تری خیلوی نے صحافت کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اخبارات کے ادبی صفحات کی نگرانی، ادبی شخصیات کے تعارف، کتابوں پر تبصرے، ادبی رپورٹس، تنقیدی مضامین اور سماجی موضوعات پر مبنی کالموں کے ذریعے انہوں نے صحافت اور ادب کے درمیان ایک مضبوط فکری رشتہ قائم رکھا۔
ان کی صحافتی تحریروں میں غیر ضروری جذباتیت کے بجائے متوازن تجزیہ، حقیقت پسندی اور معاشرتی شعور نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی خصوصیات بعد ازاں ان کی کالم نگاری کا بنیادی وصف بن گئیں، جس نے انہیں ایک سنجیدہ اور ذمہ دار قلم کار کے طور پر ممتاز کیا۔
اشاعتی خدمات اور ادبی سرپرستی
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی راحت امیر خان تری خیلوی کی ادبی سرگرمیاں محدود نہیں ہوئیں۔ انہوں نے اشاعت و طباعت کے شعبے کو اپنی عملی زندگی کا مستقل حصہ بنایا اور متعدد شعرا، ادبا، محققین اور نئے لکھنے والوں کی کتابوں کو زیورِ طباعت سے آراستہ کیا۔
انہوں نے نہ صرف معیاری کتابوں کی اشاعت کو فروغ دیا بلکہ ایسے تخلیق کاروں کی بھی حوصلہ افزائی کی جنہیں ادبی دنیا میں اپنی شناخت بنانے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم درکار تھا۔ اس اعتبار سے وہ صرف ناشر نہیں بلکہ ادب کے خاموش معمار اور نئے اہلِ قلم کے سرپرست بھی سمجھے جاتے ہیں۔
ان کی اشاعتی خدمات نے اردو اور سرائیکی ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا اور متعدد ادبی تخلیقات کو محفوظ صورت میں قارئین تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔
ادبی شخصیت، فکری ارتقاء اور مجموعی خدمات
ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت
راحت امیر خان تری خیلوی کا ادبی سفر اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ تخلیقی صلاحیت صرف شاعری تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ جب اس کے ساتھ مطالعہ، عملی تجربہ، نظم و ضبط اور سماجی شعور بھی شامل ہو جائے تو ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت وجود میں آتی ہے جو ادب کے مختلف شعبوں میں یکساں اثر چھوڑتی ہے۔
انہوں نے شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر، ناشر اور کالم نگار کی حیثیت سے متنوع خدمات انجام دیں۔ ان کی شخصیت کا نمایاں وصف یہ ہے کہ انہوں نے ہر میدان میں ادب کو محض اظہارِ ذات کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے معاشرتی شعور، فکری تربیت اور ادبی اقدار کے فروغ کا مؤثر وسیلہ سمجھا۔
نظم و ضبط اور تخلیقی شعور کا امتزاج
ان کی عسکری زندگی نے ان کے مزاج میں نظم، ذمہ داری، دیانت اور وقت کی قدر جیسے اوصاف پیدا کیے، جبکہ ادبی ماحول نے ان کی حساسیت، تخلیقی فکر اور جمالیاتی شعور کو جِلا بخشی۔ یہی امتزاج ان کی تحریروں میں بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
ان کی شاعری میں جذبے کی لطافت اور فکری سنجیدگی ساتھ ساتھ چلتی ہے، جبکہ نثر میں سادگی، روانی اور حقیقت نگاری نمایاں نظر آتی ہے۔ اسی طرح ان کی صحافتی تحریروں میں تجزیاتی انداز، سماجی شعور اور متوازن اظہار ان کی فکری پختگی کی عکاسی کرتا ہے۔
نئے اہلِ قلم کی سرپرستی
راحت امیر خان تری خیلوی کی خدمات کا ایک اہم پہلو نئے لکھنے والوں کی رہنمائی بھی ہے۔ بطور مدیر اور ناشر انہوں نے متعدد ایسے شعرا، ادبا اور محققین کو مواقع فراہم کیے جو ادبی دنیا میں اپنی شناخت بنانے کے ابتدائی مراحل سے گزر رہے تھے۔
ان کے ادارتی رویے میں گروہی وابستگی، ذاتی پسند و ناپسند یا علاقائی تعصب کے بجائے ادبی معیار کو بنیادی حیثیت حاصل رہی۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف فکری پس منظر رکھنے والے اہلِ قلم بھی ان کے ساتھ کام کرنے کو اعزاز سمجھتے رہے۔
اردو اور سرائیکی ادب کے درمیان ایک مضبوط پل
راحت امیر خان تری خیلوی نے اردو اور سرائیکی ادب کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کا تکملہ سمجھا۔ انہوں نے دونوں زبانوں میں لکھنے والے تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی کی اور اپنی ادارتی و اشاعتی سرگرمیوں کے ذریعے دونوں ادبی روایتوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی یہ خدمات صرف اشاعت تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے علاقائی ادب کو قومی سطح پر متعارف کرانے، سرائیکی زبان کے ادیبوں کو وسیع تر ادبی حلقوں تک پہنچانے اور مختلف زبانوں کے اہلِ قلم کے درمیان فکری رابطے کو مضبوط بنانے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
ادبی خدمات کی اہمیت
راحت امیر خان تری خیلوی کی ادبی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت محض ایک شاعر یا مدیر کے دائرے میں محدود نہیں رہتی۔ ان کی شناخت ایک ایسے ادبی کارکن کی بھی ہے جس نے تخلیق، ادارت، صحافت اور اشاعت کے ذریعے کئی دہائیوں تک اردو اور سرائیکی ادب کی مسلسل خدمت کی۔
ان کی کاوشوں کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ادب کو محض تحریر و اشاعت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک مسلسل علمی اور سماجی عمل کے طور پر فروغ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خدمات کا اثر صرف ان کی اپنی تصانیف تک محدود نہیں بلکہ ان بے شمار ادیبوں اور شعرا تک بھی پھیلا ہوا ہے جنہیں انہوں نے رہنمائی، اشاعت اور حوصلہ افزائی فراہم کی۔
تنقیدی جائزہ
راحت امیر خان تری خیلوی کی شخصیت کا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی ادبی خدمات کا بڑا حصہ تخلیقی ادب کے ساتھ ساتھ تنظیمی اور ادارتی میدان میں بھی نمایاں ہے۔ اگرچہ ان کی شاعری اور نثر نے انہیں ادبی شناخت عطا کی، لیکن ان کی دیرپا اہمیت ان کے اس کردار میں بھی مضمر ہے جس کے ذریعے انہوں نے ادبی رسائل، اخبارات، اشاعتی اداروں اور نئے قلم کاروں کے لیے مسلسل خدمات انجام دیں۔
ان کی افسانہ نگاری اگرچہ نسبتاً محدود رہی، تاہم اس مختصر دور میں بھی انہوں نے اپنی فنی صلاحیت کا بھرپور اظہار کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ادارت، صحافت اور اشاعت کو اپنی عملی ترجیح بنایا، جس کے نتیجے میں اردو ادب کو ایک فعال مدیر، باوقار ناشر اور صاحبِ فکر کالم نگار میسر آیا۔
راحت امیر خان تری خیلوی کی ادبی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کی عسکری زندگی، ابتدائی افسانہ نگاری، ادارت، صحافت اور اشاعتی خدمات کو یکجا دیکھنا ضروری ہے۔ یہی مختلف تجربات ان کی شخصیت کی فکری اور تخلیقی بنیاد بنے۔
فوجی نظم و ضبط نے انہیں ذمہ داری، استقامت اور عملی بصیرت عطا کی، جبکہ لاہور کے ادبی ماحول نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشی۔ افسانہ نگاری نے ان کے مشاہدے اور اظہار کو نکھارا، ادارت نے انہیں ادب کی تنظیم اور رہنمائی کا شعور دیا، اور صحافت نے ان کی فکر کو سماجی مسائل سے جوڑ دیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے ادب سے اپنا رشتہ منقطع نہیں کیا بلکہ بطور ناشر اور مدیر نئی نسل کے لکھنے والوں کی سرپرستی اور معیاری ادبی تخلیقات کی اشاعت کے ذریعے اپنی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔
یوں راحت امیر خان تری خیلوی کی شخصیت صرف ایک شاعر یا ادیب کی نہیں بلکہ ایک ایسے ہمہ جہت ادبی معمار کی صورت میں سامنے آتی ہے جس نے تخلیق، تحقیق، صحافت، ادارت اور اشاعت کے مختلف میدانوں میں اپنی گراں قدر خدمات کے ذریعے اردو اور سرائیکی ادب کے سرمائے میں نمایاں اضافہ کیا۔ ان کی ادبی زندگی اس امر کی روشن مثال ہے کہ مستقل مزاجی، فکری دیانت، علمی سنجیدگی اور ادب سے غیر مشروط وابستگی کسی بھی اہلِ قلم کو اپنے عہد میں ایک منفرد اور باوقار مقام عطا کر سکتی ہے۔
