Rahat Ameer Khan Tari Khelvi  Bator Nashir, Adabi Munazzim, Murabbi-e-Ahl-e-Qalam aur Farogh-e-Adab ke Alam Bardar-Hissa Panjum

راحت امیر خان تری خیلوی

   بطور ناشر، ادبی منتظم، مربیٔ اہلِ قلم اور فروغِ ادب کے علم بردار

حصہ پنجم

اردو ادب کی تاریخ میں ایسے اہلِ قلم کم ملتے ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کی تخلیقات کو بھی زندگی عطا کرنے کا فریضہ انجام دیا ہو۔ ایک شاعر اپنی شاعری سے زندہ رہتا ہے، ایک ادیب اپنی نثر سے پہچانا جاتا ہے، مگر ایک ناشر اور مدیر درحقیقت پوری ادبی نسلوں کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں راحت امیر خان تری خیلوی کی شخصیت اپنے معاصرین سے ممتاز دکھائی دیتی ہے۔

اگر ان کی شاعری ان کی داخلی دنیا کی ترجمان ہے تو ان کی اشاعتی سرگرمیاں ان کے اجتماعی شعور کا اظہار ہیں۔ انہوں نے صرف اپنے لیے نہیں لکھا بلکہ دوسروں کو لکھنے، چھپنے، پہچانے جانے اور ادبی منظرنامے پر ابھرنے کے مواقع بھی فراہم کیے۔ یہی وصف انہیں صرف ایک شاعر یا صحافی نہیں بلکہ ایک ادبی معمار (Literary Institution Builder) کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اشاعت: ادب کی خاموش مگر بنیادی خدمت

تخلیقِ ادب کا سفر کتاب کی اشاعت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ بے شمار عمدہ کتابیں صرف اس لیے منظرِ عام پر نہیں آتیں کہ ان کے مصنف کو مناسب ناشر میسر نہیں آتا۔

پاکستان میں ادبی اشاعت ہمیشہ مالی مشکلات، محدود قارئین اور کم تجارتی امکانات کے باعث ایک مشکل میدان رہی ہے۔ ایسے حالات میں جو لوگ ادب کی اشاعت کو اپنا مشن بناتے ہیں، ان کی خدمات محض کاروباری نہیں بلکہ تہذیبی اور علمی سرمایہ تصور کی جاتی ہیں۔

راحت امیر خان تری خیلوی نے اسی شعور کے تحت اشاعت کے میدان میں قدم رکھا۔

 

ادارہ “صدق رنگ پبلی کیشنز” — ایک ادبی تحریک

راحت امیر خان کی اشاعتی خدمات میں ادارہ صد رنگ پبلی کیشنز، ملتان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

یہ ادارہ صرف کتابیں شائع کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے جنوبی پنجاب، سرائیکی وسیب، میانوالی، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، بھکر اور پنجاب کے دیگر علاقوں کے متعدد شعراء، ادباء اور محققین کو اپنی تخلیقات قارئین تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا۔

اس ادارے کے ذریعے مختلف اصنافِ ادب پر مشتمل کتابیں شائع ہوئیں، جن میں:

شعری مجموعے

نعتیہ مجموعے

سرائیکی شاعری

تحقیقی کتابیں

تنقیدی مضامین

شخصیات پر کتب

یادگاری مجموعے

مشترکہ انتخاب

خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

یوں صد رنگ پبلی کیشنز ایک ایسے ادبی مرکز کے طور پر سامنے آیا جہاں نئے اور سینئر اہلِ قلم یکساں اہمیت رکھتے تھے۔

ایم ارسلان پبلی کیشنز

ادبی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیے راحت امیر خان نے ایم ارسلان پبلی کیشنز کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔

اس ادارے کے ذریعے نہ صرف کتابوں کی اشاعت ہوئی بلکہ کتابوں کی ترتیب، پروف ریڈنگ، سرورق کی تیاری، ادبی رہنمائی اور مصنفین کی حوصلہ افزائی جیسے مراحل پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔

یہ کام اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کتاب کو صرف ایک مطبوعہ شے نہیں بلکہ تہذیبی دستاویز سمجھتے تھے۔

کتاب صرف کاغذ نہیں، تہذیب کا تسلسل

راحت امیر خان کا یہ یقین رہا کہ کتاب کسی فرد کی ملکیت نہیں بلکہ پوری قوم کی فکری میراث ہوتی ہے۔

اسی لیے انہوں نے اشاعت کے عمل میں معیار کو ہمیشہ ترجیح دی۔

ان کے نزدیک ایک کمزور کتاب ادب پر بوجھ بن سکتی ہے جبکہ ایک معیاری کتاب نسلوں کی رہنمائی کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ مصنفین کو کتاب شائع کرنے سے پہلے نظرثانی، اصلاح اور بہتر پیشکش کی تلقین کرتے تھے۔

نئے قلم کاروں کے سرپرست

راحت امیر خان کی ادبی زندگی کا سب سے روشن باب نوجوان اہلِ قلم کی سرپرستی ہے۔

اردو ادب کی تاریخ میں ایسے مدیر اور ناشر ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھے گئے ہیں جنہوں نے نئی نسل کو اعتماد دیا۔

راحت امیر خان بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں۔

انہوں نے ایسے متعدد شعراء اور ادباء کی پہلی کتابیں شائع کیں جنہیں اس سے قبل کسی ناشر نے قبول نہیں کیا تھا۔

انہوں نے نئے لکھنے والوں کو صرف اشاعت کا موقع ہی نہیں دیا بلکہ ان کی تحریروں کی اصلاح، رہنمائی اور فنی تربیت بھی کی۔

یہ خدمت کسی بھی ادبی انعام سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔

مشترکہ شعری مجموعے اور ادبی انتخاب

راحت امیر خان کی ایک اہم خدمت مختلف مشترکہ شعری انتخاب کی تدوین اور اشاعت بھی ہے۔

ان کی ادارت میں شائع ہونے والے انتخابوں میں شامل ہیں:

آبشار

صدائے دل

دیپ سے دیپ جلے

اکھیاں وچ سمندر

عشق دیاں سوغاتاں

سیک ہجر دے

روگ ہجر دے

رتبۂ حسینؑ

ارمان تاں لگدائے

سانجھیاں

یہ مجموعے صرف شعری انتخاب نہیں بلکہ اپنے اپنے عہد کے ادبی رجحانات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ان کے ذریعے مختلف شہروں اور علاقوں کے اہلِ قلم کو ایک ہی ادبی پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔

وسیب کے ادب کی خدمت

راحت امیر خان ہمیشہ اس حقیقت کے قائل رہے کہ پاکستان کا ادب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں۔

اصل تخلیقی قوت دور دراز علاقوں، قصبوں اور دیہات میں بھی موجود ہے۔

اسی سوچ کے تحت انہوں نے سرائیکی وسیب، میانوالی، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان اور دیگر علاقوں کے اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کی۔

ان کی یہ خدمات علاقائی ادب کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی ایک کامیاب کوشش قرار دی جا سکتی ہیں۔

ادبی تنظیم سازی

ایک کامیاب ادیب صرف کتابیں نہیں لکھتا بلکہ علمی ماحول بھی پیدا کرتا ہے۔

راحت امیر خان نے مختلف ادبی تنظیموں، انجمنوں اور ادبی اداروں کے ساتھ فعال کردار ادا کیا۔

انہوں نے ادبی نشستوں، مشاعروں، کتابوں کی تقریباتِ رونمائی، سیمینارز اور شعری نشستوں کے انعقاد میں بھرپور حصہ لیا۔

ان کا یقین تھا کہ ادب صرف کتابوں میں زندہ نہیں رہتا بلکہ اہلِ قلم کی باہمی نشستوں اور فکری مکالمے سے بھی فروغ پاتا ہے۔

غازی و نیازی فروغِ ادب سوسائٹی

راحت امیر خان کی ادبی تنظیمی سرگرمیوں میں غازی و نیازی فروغِ ادب سوسائٹی بھی قابلِ ذکر ہے۔

اس پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی، ادبی تقریبات کا انعقاد، مطالعے کی روایت کو فروغ دینا اور وسیب کے ادبی ورثے کو محفوظ کرنا تھا۔

اس نوعیت کی تنظیمیں کسی بھی خطے کی ادبی شناخت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

 

ادبی تقریبات اور مشاعرے

راحت امیر خان نے اپنی ادبی زندگی میں صرف قلم تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی میدان میں بھی مسلسل متحرک رہے۔

انہوں نے متعدد:

مشاعرے

ادبی کانفرنسیں

کتابوں کی تقریباتِ رونمائی

تعزیتی و یادگاری ریفرنس

ادبی مذاکرے

شعری نشستیں

منعقد کروانے یا ان میں شرکت کرنے کے ذریعے ادبی ماحول کو متحرک رکھا۔

ان کے نزدیک ادب صرف تحریر کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی سرگرمی ہے۔

ادبی خدمت یا ذاتی تشہیر؟

یہ سوال ہر فعال ادیب کے بارے میں پیدا ہوتا ہے کہ اس کی سرگرمیوں کا مقصد ذاتی شہرت ہے یا ادب کی خدمت؟

راحت امیر خان کی طویل ادبی زندگی اس سوال کا واضح جواب دیتی ہے۔

اگر ان کا مقصد ذاتی شہرت ہوتا تو وہ اپنا زیادہ وقت صرف اپنی کتابوں پر صرف کرتے۔

لیکن انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کی کتابیں شائع کرنے، رسائل کی ادارت کرنے، نوجوان اہلِ قلم کی رہنمائی کرنے اور ادبی تقریبات کے انعقاد میں صرف کیا۔

یہی ان کی اصل ادبی شناخت ہے۔

شخصیت کا تنظیمی پہلو

راحت امیر خان کی شخصیت میں ایک منتظم، منصوبہ ساز اور رابطہ کار بھی موجود ہے۔

وہ مختلف شہروں، زبانوں اور ادبی حلقوں کے اہلِ قلم کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کی یہی خصوصیت انہیں صرف شاعر نہیں بلکہ ایک ادبی نیٹ ورک ساز (Literary Network Builder) کے طور پر بھی ممتاز کرتی ہے۔

پاکستانی ادب میں ان کا مقام

پاکستانی ادب میں راحت امیر خان تری خیلوی کی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں صرف شاعر یا کالم نگار کہنا ان کے کردار کو محدود کرنا ہوگا۔

ان کی شخصیت بیک وقت:

شاعر

غزل گو

نظم نگار

سرائیکی شاعر

نعت گو

افسانہ نگار

کالم نگار

صحافی

مدیر

ناشر

ادبی تنظیم ساز

نوجوان اہلِ قلم کے مربی

کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ تمام پہلو مل کر انہیں اپنے عہد کی ہمہ جہت ادبی شخصیات میں شامل کرتے ہیں۔

تنقیدی جائزہ

اردو ادب میں ایسے افراد کم دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے تخلیق اور تنظیم، دونوں میدانوں میں یکساں کامیابی حاصل کی ہو۔ راحت امیر خان تری خیلوی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ایک طرف شاعری، نثر، صحافت اور کالم نگاری کے ذریعے اپنی تخلیقی شناخت قائم کی، تو دوسری طرف ادارت، اشاعت، ادبی تنظیم سازی اور نوجوان قلم کاروں کی سرپرستی کے ذریعے ایک وسیع ادبی روایت کو آگے بڑھایا۔

ان کی اشاعتی خدمات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ادب کو کاروبار کے بجائے تہذیبی ذمہ داری سمجھا۔ ان کے قائم کردہ اداروں، مرتب کردہ انتخابوں اور سرپرستی میں شائع ہونے والی کتابوں نے متعدد اہلِ قلم کو وہ اعتماد اور پلیٹ فارم فراہم کیا جو شاید انہیں کسی اور ذریعے سے میسر نہ آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام صرف ایک شاعر کے طور پر نہیں بلکہ ادب کے خاموش معمار، فکری منتظم اور اشاعتی روایت کے امین کے طور پر بھی یاد رکھا جائے گا۔

(جاری ہے…)

حصہ ششم میں شامل ہوگا:

راحت امیر خان تری خیلوی کی شخصیت، اخلاق، مزاج، انسانی اوصاف، معاصر اہلِ قلم کی آراء، ڈاکٹر شفیق آصف، مختار احمد ملک، ڈاکٹر باغی مروت، ڈاکٹر اجمل بھٹی، عاصم بخاری اور دیگر ناقدین کی روشنی میں ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔

Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

راحت امیر خان تری خیلوی: ایک عہد،...
Read More
IBTIDAI ZINDAGI, KHANDANI PAS-E-MANZAR AUR ADABI TASHKEEL — HISSA AWWAL

IBTIDAI ZINDAGI, KHANDANI PAS-E-MANZAR AUR ADABI TASHKEEL — HISSA AWWAL

ابتدائی زندگی، خاندانی پس منظر اور ادبی...
Read More
Fauji Zindagi, Adabi Safar ka Aaghaz aur Fikri Tashkeel-Hissa Doem

Fauji Zindagi, Adabi Safar ka Aaghaz aur Fikri Tashkeel-Hissa Doem

فوجی زندگی، ادبی سفر کا آغاز اور...
Read More
Shaair-e-Ehsaas, Shaair-e-Insaniyat  –Hissa Soam

Shaair-e-Ehsaas, Shaair-e-Insaniyat –Hissa Soam

شاعرِ احساس، شاعرِ انسانیت -حصہ سوم راحت...
Read More
Rahat Ameer Khan Tari Khelvi Bator Column Nigar, Sahafi, Mudir aur Adabi Sahafat ke Mi’mar – Hissa Chaharum

Rahat Ameer Khan Tari Khelvi Bator Column Nigar, Sahafi, Mudir aur Adabi Sahafat ke Mi’mar – Hissa Chaharum

راحت امیر خان تری خیلوی- بطور کالم نگار،...
Read More
Rahat Ameer Khan Tari Khelvi  Bator Nashir, Adabi Munazzim, Murabbi-e-Ahl-e-Qalam aur Farogh-e-Adab ke Alam Bardar-Hissa Panjum

Rahat Ameer Khan Tari Khelvi Bator Nashir, Adabi Munazzim, Murabbi-e-Ahl-e-Qalam aur Farogh-e-Adab ke Alam Bardar-Hissa Panjum

راحت امیر خان تری خیلوی    بطور...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top