پیر میاں مبارک علی شاہ علیہ الرحمہ — دلے والی
پیر میاں مبارک علی شاہ علیہ الرحمہ، المعروف میاں مبارک شاہ، حضرت پیر میاں محبت شاہ علیہ الرحمہ کے فرزندِ ارجمند تھے۔ اپنے والدِ بزرگوار کی طرح آپ نے بھی زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت اور سلوک و تصوف کی راہ میں بلند مقام حاصل کیا۔ آپ کی بزرگی، روحانی فیوض و برکات اور کرامات کا چرچا دور دور تک پھیلا ہوا تھا اور اہلِ عقیدت آپ کو نہایت احترام و محبت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
آپ کا اصل نام مبارک علی تھا، تاہم عوام و خواص میں آپ میاں مبارک شاہ کے نام سے معروف ہوئے۔ دینی تعلیم سے بقدرِ ضرورت واقف تھے اور عملی زندگی میں زہد، تقویٰ اور ریاضت کو خاص مقام حاصل تھا۔ آپ کی طبیعت میں سادگی نمایاں تھی۔ سادہ لباس زیبِ تن فرماتے، نمود و نمائش اور ریاکاری سے سخت اجتناب کرتے اور ذکر و اذکار میں ہمیشہ مشغول رہتے۔ شب بیداری اور سحرخیزی آپ کی معمولاتِ زندگی کا حصہ تھی۔
روایات کے مطابق آپ نے خلوت و ریاضت کے متعدد چلے پہاڑوں کی کھوہوں اور دریاؤں کے کناروں پر کاٹے۔ عبادت اور مجاہدے میں ایسی استقامت اختیار کرتے کہ بعض اوقات کئی کئی روز بعد روزہ افطار کرنے اور معمولی خوراک پر گزارا کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ آپ کی زندگی کا نمایاں وصف دنیاوی آسائشوں سے بے نیازی اور روحانی مشاغل سے گہری وابستگی تھا۔
آپ کی دعاؤں کی قبولیت کے واقعات بھی عقیدت مندوں میں مشہور تھے۔ اسی طرح بعض روایات میں آپ کی بددعا کو بھی مؤثر قرار دیا گیا ہے۔ گھوڑوں سے آپ کو غیر معمولی محبت تھی اور ان کے ساتھ آپ کا تعلق تقریباً عشق کی حد تک بیان کیا جاتا ہے۔
بچھڑی کا واقعہ
میاں مبارک شاہ سے منسوب ایک واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ محمد یار، والد ملک غلام ہلہ خیل کے ہاں قیام فرما تھے۔ وہاں ایک بچھڑی بار بار میاں صاحب کی گھوڑی کے لیے رکھی ہوئی گھاس پر آ جاتی۔ اسے دو چار مرتبہ وہاں سے ہٹایا گیا، مگر وہ دوبارہ اسی جگہ آ جاتی۔
روایت ہے کہ میاں صاحب نے ناراضی کے عالم میں فرمایا:
“پِھٹی تھیویں، ہٹ پرے۔”
کہتے ہیں کہ اس کے بعد بچھڑی وہیں چکر کھانے لگی۔ ملک غلام نے اسے بیمار سمجھا اور اس کے علاج معالجے کی طرف توجہ کی۔ تاہم میاں صاحب نے فرمایا کہ اب اسے حلال کر دو، یہ نہیں بچے گی۔ روایت کے مطابق بچھڑی کو ذبح کر دیا گیا اور اس واقعے کو میاں صاحب کی کرامت کے طور پر بیان کیا جاتا رہا۔
حضور اکرم ﷺ سے والہانہ محبت
میاں مبارک شاہ علیہ الرحمہ کے حالات میں سب سے نمایاں پہلو حضور سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے بے پناہ محبت و عقیدت کا بیان کیا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ جب کسی دوسری زبان میں بھی رسولِ اکرم ﷺ کا اسمِ مبارک سنتے تو آپ کی آنکھیں اشک بار ہو جاتیں، جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سنتے تو آپ پر رقت طاری ہو جاتی اور ہچکیاں بندھ جاتیں۔
ایک مرتبہ آپ ڈیرہ ڈہرالانوالہ، علاقہ وان بھچراں میں قیام فرما تھے۔ گھر والوں نے اپنا چھپر اٹھانے کے لیے لوگوں کو جمع کیا۔ حاضرین میں سے بعض نے ازراہِ مذاق کہا کہ جب تک فقیر مبارک خود چھپر پر چڑھ کر دوہا نہ دیں گے، ہم چھپر نہیں اٹھائیں گے۔
روایت کے مطابق میاں مبارک شاہ چھپر پر چڑھے اور قبلہ رُخ ہو کر کھڑے ہو گئے۔ اچانک آپ پر رقت طاری ہوئی اور آنکھوں سے بے تحاشا آنسو جاری ہو گئے۔ آپ وجد کی کیفیت میں فرمانے لگے:
“لوگو! وہ روضۂ رسول ﷺ نظر آ رہا ہے۔”
یہ منظر دیکھ کر حاضرین بھی متاثر ہوئے اور ایک روحانی کیفیت میں آپ کے گرد جمع ہو گئے۔ عقیدت مندانہ روایات میں اس واقعے کو آپ کی محبتِ رسول ﷺ اور روحانی کیفیت کی ایک نمایاں مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
وباؤں کے زمانے میں لوگوں کا سہارا
میاں مبارک شاہ علیہ الرحمہ سے منسوب روایات میں وباؤں کے زمانے کے واقعات بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب کسی علاقے میں شدید وبا پھوٹ پڑتی تو عقیدت مند آپ کو وہاں لے جاتے۔ روایت کے مطابق آپ گاؤں کے گرد ایک حد یا کڑا قائم کرتے اور لوگ اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور آپ کی دعا و برکت کا وسیلہ سمجھتے۔ عقیدت مندوں کے بیان کے مطابق اس کے بعد وبا کے اثرات کم ہو جاتے یا ٹل جاتے۔
موسیٰ خیل، سمند والا، چھجریانوالہ، اباخیل اور سوانس وغیرہ میں پھیلنے والی وباؤں کے حوالے سے بھی ایسی روایات مشہور ہیں۔ ان واقعات میں آپ کے بڑے صاحبزادے میاں مریدن شاہ کے آپ کے ہمراہ ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔
یہ تمام واقعات مقامی روایات اور عقیدت مندانہ تذکروں میں میاں مبارک شاہ علیہ الرحمہ کی روحانی شخصیت اور عوام میں ان کے مقام کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان روایات نے علاقے کی مذہبی و روحانی تاریخ میں آپ کی شخصیت کو ایک نمایاں مقام عطا کیا۔
مزارِ مبارک
پیر میاں مبارک علی شاہ علیہ الرحمہ کا مزارِ مبارک دلے والی شریف میں اپنے والدِ بزرگوار حضرت میاں محبت شاہ علیہ الرحمہ کے پہلو میں واقع ہے۔ آج بھی عقیدت مند اس مقام پر حاضری دیتے ہیں اور اسے اپنے بزرگوں کی روحانی نسبت، محبت اور عقیدت کا مرکز سمجھتے ہیں۔
میاں مبارک شاہ علیہ الرحمہ کی زندگی کے تذکرے میں زہد و ریاضت، سادگی، ذکر و عبادت، محبتِ رسول ﷺ اور عوام سے روحانی وابستگی نمایاں خصوصیات کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ دلے والی کی روحانی روایت میں آپ کا نام اسی نسبت سے احترام و عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
تحریر-سید طارق مسعود کاظمی-مصنف کتاب سرزمین اولیا میانوالی
