کالاباغ میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منسوب مزارات
عقیدت، مقامی روایات اور ایک تاریخی نسبت
تعارف
میانوالی کی سرزمین صرف قدرتی حسن، دریائے سندھ اور کوہِ نمک کے دل کش مناظر ہی کی وجہ سے اہم نہیں، بلکہ یہ خطہ اپنی قدیم تاریخ، مذہبی روایات، تہذیبی ورثے اور تاریخی آثار کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کالاباغ اس تاریخی خطے کا ایک نمایاں باب ہے، جہاں قدیم آبادیوں، مساجد، قلعوں، قبرستانوں اور مزارات سے متعلق متعدد روایات آج بھی اہلِ علاقہ کے حافظے میں محفوظ ہیں۔ انہی روایات میں بعض مزارات کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور بعض قدیم قبور کو شہداء سے منسوب کیا جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون کا مقصد ان روایات کو عقیدت کے ساتھ محفوظ کرنا اور کالاباغ کے اس مذہبی و تاریخی ورثے کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے؛ تاہم جہاں مستند تاریخی شواہد دستیاب نہ ہوں وہاں نسبت کو مقامی روایت ہی کے طور پر بیان کیا گیا ہے، تاکہ روایت اور مستند تاریخ کے درمیان فرق برقرار رہے۔
کالاباغ، ضلع میانوالی کا ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے جو دریائے سندھ کے کنارے کوہِ نمک کے دامن میں آباد ہے۔ اس خطے کی تاریخ میں اسلامی آثار، قدیم بستیاں، مساجد اور مزارات بھی ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق کالاباغ اور اس کے گردونواح میں بعض ایسے مزارات بھی موجود ہیں جنہیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منسوب کیا جاتا ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی آمد اور ان کی دعوت و تبلیغ سے برصغیر کے مختلف علاقوں میں اسلام کی روشنی پھیلی۔ ان مقدس ہستیوں کی قربانیوں، دعوت، کردار اور دینی خدمات نے آنے والی نسلوں کے لیے ہدایت اور ایمان کے چراغ روشن کیے۔ تاہم کالاباغ اور اس کے گردونواح میں موجود جن مزارات کو مقامی طور پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منسوب کیا جاتا ہے، ان کے بارے میں تاریخی شواہد اور مستند حوالہ جات الگ سے تحقیق کے متقاضی ہیں۔
کالاباغ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منسوب مزارات
کالاباغ شہر میں لوہاراں والا بازار کے قریب ایسے مزارات موجود ہیں جن کے بارے میں مقامی روایت چلی آ رہی ہے کہ یہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے مزارات ہیں۔ ان مزارات سے اہلِ علاقہ کو گہری عقیدت اور احترام وابستہ ہے۔
مزار پر نصب کتبے کے مطابق یہاں درج ذیل نام تحریر ہیں:
شہداء، اصحابِ رسول ﷺ
حضرت محمد یامینؓ
حضرت محمد یاسینؓ
حضرت محمد طلحہؓ
ان مزارات کے بارے میں مقامی لوگوں میں یہ روایت بھی پائی جاتی ہے کہ موجودہ شہر کی وسعت سے پہلے اس مقام پر ایک قبرستان ہوا کرتا تھا، جبکہ کالاباغ شہر کی ابتدائی آبادی ڈھکی پہاڑی کے پیچھے ایک نسبتاً چھوٹی بستی کی صورت میں موجود تھی۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کالاباغ شہر میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منسوب مزارات اور سلاگر پہاڑ پر موجود شہداء کے مزارات کا تفصیلی تذکرہ کسی معروف مصنف یا مورخ کی تحریر میں نمایاں طور پر سامنے نہیں آتا۔اس لیے ان مزارات کی نسبت کو تاریخی حقیقت کے طور پر بیان کرنے کے بجائے مقامی روایت کے طور پر محفوظ کرنا زیادہ محتاط اور تحقیقی طرزِ عمل ہوگا۔
دریائے سندھ کے کنارے مزارات کی روایت
کالاباغ اور دریائے سندھ کے اطراف بعض قدیم قبور اور مزارات کے بارے میں بھی طویل عرصے سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ وہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان مقامات سے مقامی آبادی کی گہری مذہبی وابستگی اور عقیدت پائی جاتی ہے، لیکن بعض مقامات پر ان نفوسِ قدسیہ کے مستند نام اور تاریخی حالات معلوم نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان مقامات کے بارے میں تحقیق کرتے وقت مقامی روایات، کتبوں، قدیم دستاویزات اور مستند تاریخی و جغرافیائی ماخذ کو باہم ملا کر دیکھنا ضروری ہے۔
پیر پیائی کے قریب صحابی سے منسوب مزار
کالاباغ کے گردونواح میں پیر پیائی کے قریب بھی ایک مزار کے بارے میں مقامی روایت موجود ہے۔ پیر پیائی دریائے سوان اور دریائے سندھ کے سنگم کے قریب واقع ہے۔ روایت کے مطابق دریائے سوان کے کنارے ایک نسبتاً بلند ٹیلے پر واقع اس مزار کو بھی لوگ صحابیِ رسول ﷺ کا مزار قرار دیتے ہیں۔
یہ علاقہ اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے بھی اہمیت رکھتا ہے، تاہم اس مزار کی صحابیِ رسول ﷺ سے نسبت کے بارے میں مزید مستند تاریخی تحقیق کی ضرورت ہے۔
قلعہ کافر کوٹ کے قریب قدیم مزارات
دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع قدیم شاہراہ کے قریب قلعہ کافر کوٹ ایک اہم تاریخی مقام ہے۔ یہ قدیم قلعہ پہاڑوں پر واقع تھا اور اپنے دور میں شان و شوکت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ موجودہ انتظامی اعتبار سے یہ علاقہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود میں آتا ہے، تاہم یہ میانوالی کی حدود کے بالکل قریب واقع ہے۔
قلعہ کافر کوٹ کے ساتھ ایک قدیم مسجد بھی موجود ہے۔ مسجد کے قریب واقع قدیم قبور کے بارے میں مقامی طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے مزارات ہیں۔ تاہم اس نسبت کے بارے میں بھی قطعی تاریخی ثبوت سامنے لانے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔
روایت اور تاریخ کے درمیان ایک اہم فرق
کالاباغ اور اس کے گردونواح میں موجود ان مزارات کے بارے میں مقامی روایات صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہوں گی۔ عوامی عقیدت اور احترام اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن روایت، تاریخی شہادت اور مستند تحقیق تین الگ چیزیں ہیں۔
لہٰذا ان مزارات کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منسوب کرتے ہوئے جہاں مستند تاریخی ثبوت موجود نہ ہوں وہاں “مقامی روایت کے مطابق” یا “صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منسوب” جیسے الفاظ استعمال کرنا زیادہ مناسب ہے۔ اس سے نہ صرف مقامی روایت محفوظ رہتی ہے بلکہ تاریخی دیانت اور تحقیقی احتیاط بھی برقرار رہتی ہے۔
اختتامی کلمات
کالاباغ اور میانوالی کا خطہ اپنے اندر تاریخ، تہذیب، مذہبی روایات اور قدیم آثار کا ایک وسیع خزانہ سموئے ہوئے ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منسوب یہ مزارات بھی اسی مقامی تاریخی و مذہبی روایت کا حصہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مقامات کے بارے میں قدیم کتب، کتبۂ مزارات، مقامی روایات، تاریخی دستاویزات اور مستند محققین کے حوالہ جات جمع کیے جائیں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے کالاباغ کی اس روایت کو زیادہ مضبوط اور مستند تاریخی بنیادوں کے ساتھ محفوظ کیا جا سکے۔واللہ اعلم بالصواب
تحریر-سید طارق مسعود کاظمی-مصنف کتاب سرزمین اولیا میانوالی
