“WOH AIK LAGHZISH” AFSANA NIGAR: LEHR NIAZI

“وہ ایک لغزش” 

افسانہ نگار : لہر نیازی 

“جوانی کی بھول زندگی کا روگ بن جائے گی، کبھی سوچا بھی نہ تھا۔”
رانو زمیندار گھرانے کی لاڈلی بیٹی تھی۔ سردار اکرم خان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی 
سب سے چھوٹی رانو تھی۔ مگر گھر بھر میں اسی کا راج تھا۔ رانو سگھڑ بھی بہت تھی۔ ہر کام سلیقے سے کرتی تھی۔ اس کی حاضر دماغی سے والد بہت خوش ہوتا تھا۔ رانو کے ہوتے ہوئے ماں کو کسی قسم کی کوئی فکر نہیں تھی۔ گھر کی چار دیواری پر رانو نے پھولدار بیلیں چڑھا رکھی تھیں۔
گھر میں آنے والے مہمان ان بیلوں کی کانٹ چھانٹ سے بہت متاثر ہوتے اور تعریف کئے بغیر نہیں رہ پاتے تھے۔
گھر کے چوبارے کا رنگ و روغن اس کے حسنِ ذوق کا پتہ دیتا تھا۔ رانو بہت دور اندیش قسم کی لڑکی تھی۔
اچھے اچھے گھروں سے بانکے سجیلے نوجوانوں کے رشتے آۓ مگر رانو کو شادی کرنے کی جلدی نہ تھی۔ مقدر حالات کی طرح کبھی بہت بھیانک موڑ مڑ جائے گا، رانو کو پتہ ہی نہ چلا۔ ایک خوبصورت صبح کو برسات خوب برسی اور سارا موسم سحر انگیز ہوگیا۔ بارش تھم جانے کے بعد رانو باغیچے میں نکل آئی۔ اسی دوران سجاول بھٹک کر باغیچے میں آ گیا۔ رانو اسے دیکھ کر سحر زدہ ہو کر رہ گئی۔ اسے اس اجنبی پر سے نظر ہٹانا ہی بھول گیا تھا۔ آسمان پر بادل اچانک سے الٹنے پلٹنے لگے۔ اچانک سے بادلوں میں بجلی کوند گئی۔ رانو بجلی کی کڑک سے خوفزدہ ہو کر کمرے کی طرف بھاگی۔ سجاول اپنی جگہ پر مبہوت کھڑا تھا۔ اس کی نظریں رانو کا تعاقب کر رہی تھیں۔ رانو نے برآمدے میں سے ایک بار سجاول کو پلٹ کر دیکھا۔ اسی دوران طوفان میں شدت آئی اور کھڑکیاں دروازے تڑاخ سے آپس میں ٹکرائے۔ رانو کی زندگی میں طوفان برپا ہو چکا تھا۔ اس کی پرسکون نیند بے چین کروٹوں میں بدل چکی تھی۔
اگلے چند روز تک سجاول حویلی نہ آیا۔ وہ اسی حویلی کے منشی کریم کا بیٹا تھا جو حویلی میں باپ کے بلانے پر آیا تھا۔
رانو کے دل و دماغ پر سجاول کا چہرہ نقش ہو چکا تھا۔ وہ اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے اسی اجنبی چہرے کے حصار میں بند ہو چکی تھی۔ اسے اپنے ہاتھ سے اگائے ہوئے گلاب اب جھاڑی لگ رہے تھے۔ گھر بھر میں کیا ہو رہا ہے اسے کچھ خبر نہ تھی۔ اس کی ماں نے اس کی بدلی ہوئی حالت کو بھانپ لیا تھا۔ ماں نے جوان اولاد کے خیالات کو پڑھ لیا تھا اسے محسوس ہو گیا تھا کہ بیٹی اب بھرے گھر میں تنہائی کا شکار ہو گئی ہے۔
رانوں کے معمولات کا اچانک سے بدل جانا کسی اور کو نظر آئے نہ آئے مگر ماں کی نگاہیں بہت کچھ دیکھ رہی تھیں۔
مان اکیلے میں رانوں سے اس کے دل کے راز کریدنے کی کوشش کی مگر رانو کو تو جیسے چپ لگ گئی تھی۔
رانو بار بار اپنے باغیچے میں جاتی اور چمپا اور بیلا کی کلیوں کی مہک کو محسوس کرتی اور پھولوں کی پتیوں کو غور سے دیکھتی۔ وہ پھولوں کے اوپر اڑتے بھنوروں کو بڑے غور سے دیکھتی رہ جاتی۔  یہ سب کچھ اسے آج پہلی بار بڑی گہرائی سے دیکھ رہی تھی۔  اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے پھول پر منڈلاتے بھنورے نہیں بلکہ وہ خود بھنبھناتی پھرتی ہے۔ رانو نے تنہائی میں اپنے دل کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ اس کا دل ایک طرف کو کھڑا تھا تو دماغ دوسری طرف کو۔ یہ جنگ اتنی بھیانک تھی کہ نہیں معلوم اس دوران خواہشوں کے کتنے قتل ہوئے۔
اسے لگا جیسے اس روز آنے والے طوفان نے اس کے اندر کو بھی جھنجھلا کر رکھ دیا تھا۔ اس کی خواہشات اور سکون کا شیش محل تڑاخ سے بکھر کر ڈھیر ہو چکا تھا۔ کچھ دن گزرے تھے کہ منشی جی کا وہ بیٹا سجاول پھر سے اسی باغیچے میں نظر آ گیا۔ سجاول ہمت کر کے رانوں کے پاس آیا۔ رانو اور سجاول کافی دیر تک ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ ان دونوں کو ارد گرد کی کچھ خبر نہ تھی۔ وہ تو جیسے کچھ لمحوں کے لیے بت بن گئے ہوں۔ وہ منہ سے کچھ نہیں بول رہے تھے۔ درخت پر بیٹھے پرندے کی پھڑپھڑاہٹ سے دونوں نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا اور جاتے ہوئے سجاول نے فقط اتنا کہا، “رانو میں تیرے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا.” شاید یہ الفاظ رانو خود کہنا چاہتی تھی مگر سجاول نے پہلے ہی یہ الفاظ بول دیے تھے۔ سجاول تو دل کا بوجھ ہلکا کر کے چلا گیا مگر رانو کے دل میں کتنے ہی افسانے تھے جو ابھی سنانے تھے وہ اس کی دل ہی میں رہ گئے جو اس کے لیے بوجھ بن رہے تھے۔ رانا جو عقل و شعور کی دیوی تھی اب سحر زدہ ہو کر گم سم گڑیا بن گئی تھی۔ گھر کے باغیچے میں وہ کوئل کی کوکو سنتے سنتے خیالوں میں بہت دور، بہت دور نکل جاتی۔ اسے ایسا لگتا جیسے وہ پرستان میں کہیں کھو گئی ہے اور شہزادہ اس کی تلاش میں پیچھے پیچھے آوازیں دیتا مارا مارا پھر رہا ہے۔
رانوں کو آس پاس بکھری ہوئی راحتیں اور خوشیاں پھیکی پڑتی معلوم ہونے لگی تھیں۔ اسے ایسا لگتا تھا جیسے اتنی بڑی حویلی میں وہ قیدی بن کر رہ رہی ہے۔ وہ اس حویلی سے آزاد ہونا چاہتی تھی۔ وہ سجاول کے ساتھ وادی وادی گھومنا چاہتی تھی۔ وہ بلبل کا اداس گیت بن چکی تھی۔ کوئل کی کوکو اس کی روح تک اتر چکی تھی۔ ایک رات اس پر نیند کی دیوی مہربان نہ ہوئی اور بستر پر تڑپ تڑپ کر وہ کروٹیں بدل بدل کر تنگ آگئی۔ وہ رات کے آخری پہر باغیچے میں نکل آئی۔ شاید وہ جاگ رہی تھی مگر اس کی قسمت سونے لگی تھی۔ اگلے ہی روز دن چڑھتے ہی سجاول اسی باغیچے میں آگیا۔ ابھی رانو اس کی طرف لپکی ہی تھی کہ ایک ملازم نے دونوں کو دیکھ لیا اور وہ الٹے پاؤں بھاگا۔ اگلے ہی لمحے رانو کے بھائی دوڑتے ہوئے باغیچے میں آئے اور سجاول کو پکڑ کر لے گئے۔ نہیں معلوم سجاول کے ساتھ انہوں نے کیا سلوک کیا مگر رانوں اپنے ہی کمرے میں قیدی بنا دی گئی۔  دوسرے دن مولوی صاحب حویلی میں آئے اور چند گواہان کی موجودگی میں کسی اور اجنبی سے رانو کا نکاح کر کے رخصت بھی کر دیا گیا۔ لاہور کی تنگ و تاریک گلی میں رانو ادھیڑ عمر شخص کی رانی بن گئی تھی۔ مہینوں بیت گئے مگر رانو کو کوئی اپنا ملنے نہ آیا۔ وہ سسکتی بلکتی کال کوٹھری میں جوانی کی ویرانی کا ماتم کرتی رہ گئی۔
 اس کی جوانی کی وہ ایک لغزش اسے سہانے خوابوں کی دنیا سے نکال کر بھیانک موڑ پر لے آئی تھی۔ سوائے ہاتھ ملنے کے اب اس کے پاس کچھ نہ تھا۔ وہ اس تنہائی میں ہمیشہ سے مقفل کھڑکی سے تنگ گلی میں بچوں کے کھیلنے کی آوازیں سن کر اپنا بچپن یاد کر کر روتی رہتی اور فرش پر لکیریں کھینچتی رہ جاتی۔

   افسانہ نگار: لہر نیازی

“WOH AIK LAGHZISH” AFSANA NIGAR: LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“WOH AIK LAGHZISH” AFSANA NIGAR: LEHR NIAZI

Ehsaas Tanhai – Afsana By Lehr Niazi
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Ehsaas Tanhai – Afsana By Lehr Niazi

Salagar Ki Raat (Afsane)
FICTION BOOKS BY MIANWALIAN LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Salagar Ki Raat (Afsane)

Afsana: Baba Jand Peer
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Afsana: Baba Jand Peer

Mutiullah Khan: Sahafat mein Nafasat aur Waqar ka Alam Bardar
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALI MEDIA LEGENDS & JOURNALISTS

Mutiullah Khan: Sahafat mein Nafasat aur Waqar ka Alam Bardar

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi)  Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb

“Darya Kandhi” Afsana
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“Darya Kandhi” Afsana

Saleeb-e-Waqt (Urdu Shaairi Majmua)
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI KI SHAYARI:

Saleeb-e-Waqt (Urdu Shaairi Majmua)

PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER Professor Rais Ahmad Arshi — A Distinguished Scholar, Teacher, and Poet from Mianwali

PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025

Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”

Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr

Muhammad Ashfaq Chughtai
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS

Muhammad Ashfaq Chughtai

AMEERZADA AFSANA   -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

AMEERZADA AFSANA -AFSANA BY LEHR NIAZI

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI

YAAD-E-RAFTA  -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

YAAD-E-RAFTA -AFSANA BY LEHR NIAZI

UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN WRITERS CLUB POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works THE SOUL OF THE DESERT: EXPLORING THE POETIC JOURNEY OF LEHR NIAZI WRITERS & AUTHERS FROM MIANWALI

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top