Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”

افسانہ ۔۔۔ ماں
“میرے بچے آباد و شاد ہیں۔ بس دعا ہے وہ آباد رہیں۔”

جب بھی زینت خاتون اپنے بچوں کے بارے میں بات کرنے لگتی تو اسی وقت آنسو اسکی بوڑھی آنکھوں سے بہنے لگتے۔ اس کے جھریوں بھرے چہرے سے آنسو صدیوں کی حسرتیں سمیٹ کر کچے فرش پر جا گرتے۔ کچے فرش کو سرخ مٹی اور گوبر سے لیپا گیا تھا۔ جب ایک ماں کے آنسو اس فرش پر پڑے تو مٹی کا درد بھی جاگ اٹھتا۔
زینت خاتون اندر سے بہت ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے محلے کے گھروں کے برتن دھو کر بچوں کو پالا تھا۔
بڑا لڑکا احسن شادی کے بعد شہر جا بسا تھا۔ اس کا پہلا بچہ شہر میں پیدا ہوا تو ماں کو دو دن شہر لے کر گیا تھا مگر گھر میں جگہ تنگ پڑ گئی تو ماں کو واپس گاؤں بھجوا دیا تھا۔ چھوٹے بیٹے فیصل کی شادی ہوئی تو اس کی بیوی نے بھی شہر جانے کی ضد پکڑ لی۔ ایک دن فیصل نے گھر آکر پلاٹ خریدنے کی خوشخبری سنائی تو بیوی خوشی سے پھولے نہ سمائی مگر ماں کا دل بیٹھنے لگا۔ ماں نے دل پر پتھر رکھ کر مبارک باد دی۔ فیصل کی بیوی چہک چہک کر سب کو شہر میں پلاٹ خریدنے کا بتاتی پھرتی تھی۔ ماں کو خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ اب یہ آشیانہ بکھرنے والا ہے۔ تنکا تنکا کر کے جو آشیانہ جوڑا تھا اب اس کے اندر پلنے والے پنچھی پر نکال چکے ہیں۔ کچھ پنچھی پہلے ہی اڑ چکے تھے اور باقی پنچھی بھی اب اپنی پرواز کو تیار بیٹھے ہیں۔ ماں بیچاری اپنے آشیانے کو سنبھالنے کے لیے اکیلی رہ جائے گی۔ یہ سارے وسوسے اسے گھیرے ہوئے تھے اور اس کی بوڑھی ویران آنکھوں سے ہر پل آنسو نکلنے لگے تھے۔ کچھ دن اسی طرح بیت گئے۔ آخر وہ دن بھی آگیا جب فیصل نے آ کر گھر میں خوشخبری سنائی کہ گورنمنٹ نے اپنی چھت اپنا گھر سلیم سے اس کا قرضہ منظور کر لیا ہے۔ اب بہت جلد ٹھیکے دار اس کے پلاٹ پر گھر تعمیر کرنا شروع کر دے گا۔ یہ اس کی بیوی اور اس کے لیے تو خوشخبری تھی لیکن ماں کے سینے پر خنجر چل گیا۔ اس کو ایسا لگا کہ اس خوشخبری کے اندر ایسا خنجر چھپا ہے جس نے اس کے کلیجے کو چیر کر رکھ دیا۔ اسے شدت سے محسوس ہونے لگا کہ جب اس کے کلیجے کے ٹکڑے دور دور بکھر جائیں گے اور یہ اپنے بکھرے ہوئے جگر کے ٹکڑوں کو دیکھتی رہ جائے گی لیکن انہیں سمیٹ نہ پائے گی کیونکہ یہ اب اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔ گھر میں لگے درخت کی جھڑتی شاخوں میں ٹوٹے ہوئے چڑیوں کے آشیانے کے تنکوں کو دیکھتی رہ گئی۔
ماں کو شدت سے اپنے بڑے بیٹے کا انتظار تھا کہ شاید اگلے ہی لمحے وہ آ جائے۔ اسے بہت شدت سے اپنے پوتے کی یاد ستا رہی تھی۔ زینت خاتون نے اپنی باہوں میں اپنے پوتے کو ایک بار بھی نہیں اٹھایا تھا۔ اس کی باہیں پیاسی تھیں۔ وہ اپنے پوتے کو باہوں میں اٹھانا چاہتی تھی لیکن بیٹا اور پوتا میلوں دور شہر میں خوشی خوشی رہ رہے تھے۔ فیصل اور اس کی بیوی شہر جانے کے لیے پر تول رہے تھے۔ بہو نے تو اپنی خود غرضی کی حد ہی کر دی۔ اس نے اپنے میاں فیصل کو ابھی سے شہر میں کرائے پر مکان لینے کے لیے اکسانا شروع کر دیا تھا۔ وہ گھر کی تعمیر کے ہر مرحلے کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی۔ لیکن ماں کے لئے یہ ساری باتیں زہر میں بجھے ہوئے تیروں کی طرح چیرتی ہوئی روح تک اتر رہی تھیں۔
بہو ابھی سے اپنے سامان کو سمیٹنے میں لگ گئی تھی۔ اپنے تمام ضروری سامان کو مختلف صندوقوں میں بھرا جانے لگا۔ باورچی خانے کے ضروری سامان کو بھی بڑے صندوق میں احتیاط سے رکھ دیا گیا۔ ماں سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔ اسے بیٹے نے نہیں بتایا تھا لیکن وہ سمجھ گئی تھی کہ بیٹے نے شہر میں کہیں کرائے کا مکان ڈھونڈ لیا ہے اور جب وہ میاں بیوی جانے لگیں گے تب وہ ماں کو بتانے کی زحمت محسوس کریں گے۔ لیکن ماں اندر ہی اندر مر رہی تھی۔ ایک طرف بیٹے کی خوشی تھی تو دوسری طرف ایک ماں کی تنہائی تھی۔ مجبور ماں کی حسرتیں تھیں۔ اپنے پوتے پوتیوں کو اپنی گود میں کھلانے کے خواب تھے جو بکھرتے نظر آ رہے تھے۔ جب کسی انسان کی حسرتیں اور خواب بکھرتے ہیں تو وہ جس طرح ٹوٹ کر گرتا ہے ایسے تو کانچ کا برتن بھی نہیں ٹوٹتا۔
ایک سہہ پہر فیصل گھر لوٹتا ہے اور بڑی خوشی سے ماں کو بتاتا ہے کہ امی میں نے شہر میں بہت اچھا سا گھر ڈھونڈ لیا ہے اور کرایہ بھی مناسب ہے۔ یہ سن کر ماں اندر ہی اندر بکھر سی گئی اور منہ سے کچھ نہ بول پائی۔ بیوی نے سنا تو اچھل اچھل کر صحن میں ناچنے لگی۔ اس کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ ادھر ماں کے دل کے اندر اٹھے طوفان کا بھی کوئی کنارہ نہیں تھا۔
رات ماں کی آنکھوں میں کٹی۔ ماں نے شام کو نہ کھانا کھایا اور نہ ہی وہ اپنے بستر سے اٹھی۔ پہلے شوہر اس دنیا سے رخصت ہوئے پھر بڑا بیٹا اور بہو شہر چلے گئے۔ اب چھوٹا بیٹا اور بہو بھی شہر جا بسنے کو تیار بیٹھے تھے۔ اپنی خوشی میں بیٹے نے شاید ماں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا کہ دیکھیں تو سہی ماں کس حال میں ہے۔ وہ تو اپنی خوشی میں اڑ رہے تھے اور اونچی اڑان میں وہ زمین پر بیٹھی ماں کو ہی بھول گئے تھے۔ ماں تھی کہ بستر سے لگی پڑی تھی۔ صبح ہوئی تو تہجد کے وقت ماں اٹھی اور تہجد کی نماز آنسوؤں کے وضو کے ساتھ ادا کی۔ بہو علی الصبح اٹھی اور گھر کا سامان جو پہلے ہی سے باندھ رکھا تھا تسلی کی خاطر پھر سے سامان کو دیکھنے لگی۔ بیٹا بھی صبح صبح اٹھا اور ناشتہ کرنے کے بعد گاڑی کا انتظار میں ٹہلنے لگا۔ ماں نے ناشتے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ بس بہو اور بیٹے کو تیاری پکڑتے دیکھتی رہ گئی۔ کوئی اس سے کاش پوچھتا کہ اس کے دل کی تمنا کیا ہے۔ ماں تو چاہتی کیا ہے؟ مگر ماں تھی. اس نے بچوں کو پالا. ان کی کامیابی کے لیے دعائیں کیں مگر اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کی یہی دعائیں اس کے حق میں کیا نتیجہ لے کر آئیں گی. لیکن پھر بھی ماں تھی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی دیکھ رہی تھی اور خون کے انسو رو رہی تھی۔ ایسے میں وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ روتے روتے ماں کے آنسو اب تک خشک ہو چکے تھے۔ بیٹے اور بہو نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور جانے کی اجازت چاہی تو ماں کے ہونٹوں پر لفظ لرزاں تھے۔ وہ الوداع نہ کہہ سکی۔ بس بیٹے اور بہو کا دل رکھنے کے لیے اس نے فقط بوڑھا ہاتھ اٹھایا اور دروازے کی طرف دیکھتی رہ گئی۔ گاڑی فراٹے بھرتی چلی گئی اور ماں کی آنکھیں دروازے سے لگ کر رہ گئیں۔ 

   افسانہ نگار: لہر نیازی

PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER Professor Rais Ahmad Arshi — A Distinguished Scholar, Teacher, and Poet from Mianwali

PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025

Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”

Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr

Muhammad Ashfaq Chughtai
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS

Muhammad Ashfaq Chughtai

AMEERZADA AFSANA   -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

AMEERZADA AFSANA -AFSANA BY LEHR NIAZI

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI

YAAD-E-RAFTA  -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

YAAD-E-RAFTA -AFSANA BY LEHR NIAZI

UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN WRITERS CLUB POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works THE SOUL OF THE DESERT: EXPLORING THE POETIC JOURNEY OF LEHR NIAZI WRITERS & AUTHERS FROM MIANWALI

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top