محمد اشفاق چغتائیؔ
احوالِ ملازمت و خانگی زندگی
مضمون نگار: لہرؔ نیازی
محمد اشفاق چغتائیؔ کا اصل نام اشفاق احمد خان تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے محمد اشفاق چغتائی کے نام سے ادبی اور علمی شناخت اختیار کی۔ آپ 5 مئی 1958ء کو محلہ شیرمان خیل، میانوالی کے مکان نمبر B/141 میں پیدا ہوئے۔
خاندانی پس منظر
محمد اشفاق چغتائیؔ اپنے بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھے۔ ان سے بڑے ایک بھائی اور تین بہنیں تھیں، جبکہ معروف شاعر منصور آفاق بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔
تعلیمی سفر
ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے 1982ء میں گورنمنٹ کالج میانوالی میں داخلہ لیا۔ زمانۂ طالب علمی میں آپ نہ صرف ایک ذہین طالب علم تھے بلکہ طلبہ سرگرمیوں میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ آپ:
- بزمِ اقبال کے صدر رہے۔
- طلبہ یونین کے نائب صدر منتخب ہوئے۔
بعد ازاں آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں داخلہ لیا، تاہم کچھ عرصے بعد یونیورسٹی چھوڑ دی۔ اس کے بعد آپ نے ایل ایل بی میں داخلہ لیا، مگر اسے مکمل نہ کر سکے۔
تعلیم سے اپنی وابستگی برقرار رکھتے ہوئے 1987ء میں پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے:
- ایم اے اردو
- ایم اے علومِ اسلامیہ
کی ڈگریاں حاصل کیں۔
تدریسی خدمات
اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے آپ لیکچرار اردو منتخب ہوئے۔
آپ کی پہلی تعیناتی گورنمنٹ کالج سرگودھا میں ہوئی، جہاں آپ نے 15 مئی 1987ء سے 31 جنوری 1988ء تک تدریسی خدمات انجام دیں۔
بعد ازاں یکم فروری 1988ء کو آپ کا تبادلہ گورنمنٹ ڈگری کالج میانوالی میں ہوگیا۔
میانوالی میں آپ کی ملازمت کا پہلا دور:
- فروری 1988ء تا مئی 1990ء
پر محیط ہے۔
مئی 1990ء میں آپ نے پروفیسر محمد فیروز شاہ کے ساتھ باہمی تبادلے کے تحت گورنمنٹ کالج بھکر میں تقرری حاصل کی، جہاں آپ اپریل 1993ء تک خدمات انجام دیتے رہے۔
ازدواجی زندگی
26 دسمبر 1987ء کو آپ کی شادی ہوئی۔
آپ کی تیرہ سالہ ازدواجی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ بچوں سے نوازا، جن میں:
- تین بیٹیاں
- دو بیٹے
شامل ہیں۔
وفات
محمد اشفاق چغتائیؔ ایک نہایت صوفی منش، شائستہ اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ یہ درویش صفت انسان 18 جولائی 2000ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوگیا، مگر اپنی علمی، ادبی اور اخلاقی خدمات کی بدولت آج بھی اہلِ علم و ادب کے دلوں میں زندہ ہے۔
افسانہ نگار: لہر نیازی
