Mutiullah Khan: Sahafat mein Nafasat aur Waqar ka Alam Bardar

مطیع اللہ خان: صحافت میں نفاست اور وقار کا علم بردار

مطیع اللہ خان کا شمار ضلع میانوالی کے اُن صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے صحافت کو محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک ذمہ داری، ایک شوق اور ایک اخلاقی فریضے کے طور پر نبھایا۔ موچھ کی مردم خیز سرزمین سے تعلق رکھنے والے مطیع اللہ خان نے اپنی عملی زندگی میں سادگی، شائستگی، خوش اخلاقی اور اصول پسندی کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ یہی اوصاف اُن کی صحافتی شناخت کو محض ایک عہدے یا ادارے سے بلند کرکے ایک شخصی حوالہ بناتے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلقِ سرزمین

مطیع اللہ خان 12 دسمبر 1981ء کو موچھ، ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے۔ موچھ کی اپنی ایک تاریخی، تہذیبی اور سماجی شناخت ہے۔ اس خطے کے عمومی مزاج میں سادگی، خودداری، تعلق داری اور اجتماعی زندگی سے وابستگی نمایاں رہی ہے۔ مطیع اللہ خان کی شخصیت میں بھی اپنے علاقے اور لوگوں سے قربت کا یہ وصف نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

آپ نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے بعد ایف۔اے تک تعلیم حاصل کی۔ رسمی تعلیم اگرچہ زندگی کا ایک حصہ ہوتی ہے، لیکن عملی زندگی میں انسان کی شخصیت کو اس کے تجربات، مشاہدات اور مسلسل جدوجہد مزید نکھارتی ہے۔ مطیع اللہ خان کے صحافتی سفر میں بھی یہی عملی تربیت نمایاں نظر آتی ہے۔

صحافت سے وابستگی

مطیع اللہ خان کو ابتدا ہی سے صحافت سے شغف تھا۔ یہی شوق آگے چل کر عملی وابستگی میں تبدیل ہوا اور 2008ء سے انہوں نے باقاعدہ طور پر میدانِ صحافت میں قدم رکھا۔

صحافت کا سفر شروع کرنا آسان ہے، مگر طویل عرصے تک اپنے اصولوں کے ساتھ اس شعبے میں قائم رہنا ایک الگ امتحان ہے۔ مطیع اللہ خان نے گزشتہ برسوں میں اسی تسلسل کے ساتھ ضلع میانوالی میں صحافتی خدمات انجام دیں۔ ان کی صحافت کا بنیادی میدان سٹی رپورٹنگ رہا، جہاں روزمرہ شہری زندگی، مقامی مسائل، عوامی سرگرمیوں اور علاقے کے حالات کو خبر کی صورت میں سامنے لانا ان کی ذمہ داری کا حصہ رہا ہے۔

وہ نوائے شرر، میانوالی سے بطور سٹی رپورٹر وابستہ ہیں اور اس ادارے کے صحافتی نظم میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

صحافت بطور ذمہ داری

اچھی صحافت کی اصل قدر صرف اس بات میں نہیں کہ خبر کتنی جلدی پہنچائی گئی، بلکہ اس امر میں ہے کہ خبر کس ذمہ داری، دیانت اور توازن کے ساتھ عوام تک پہنچی۔

مطیع اللہ خان کی صحافتی شخصیت کا نمایاں پہلو یہی اخلاقی شعور ہے۔ وہ صحافت میں شائستگی اور شخصی وقار کو اہمیت دیتے ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی بنانے کے بجائے اسے معاشرتی زندگی کا لازمی حصہ سمجھنا اور خبر کو ذاتی مفاد سے الگ رکھنا صحافتی کردار کی بنیادی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے ضلع میانوالی کے صحافتی اور عوامی حلقوں میں انہیں ایک بااخلاق، باوقار اور اصول پسند صحافی کے طور پر جانا جاتا ہے۔

نوائے شرر اور رانا امجد اقبال سے وابستگی

مطیع اللہ خان کی صحافتی زندگی کا ایک اہم حوالہ نوائے شرر ہے۔ وہ اس ادارے کے بانی اور سینئر صحافی رانا امجد اقبال کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

کسی بھی صحافتی ادارے کی مضبوطی صرف اس کے نام یا اشاعت سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے کام کرنے والے افراد کے باہمی اعتماد، تجربے اور ذمہ داری سے ہوتی ہے۔ مطیع اللہ خان نے اسی رفاقت میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے ادارے کے ساتھ اپنی وابستگی کو وقت کے ساتھ مضبوط کیا۔

یہ وابستگی اس امر کی بھی عکاس ہے کہ صحافت میں طویل رفاقت صرف پیشہ ورانہ تعلق کا نام نہیں، بلکہ اعتماد، کردار اور ذمہ داری کا نتیجہ ہوتی ہے۔

روایتی صحافت سے ڈیجیٹل صحافت تک

زمانہ بدلنے کے ساتھ صحافت کے ذرائع بھی تبدیل ہوئے۔ اخبارات اور روایتی رپورٹنگ کے ساتھ ڈیجیٹل میڈیا نے خبر رسانی کی دنیا کو بالکل نیا رخ دیا۔ آج خبر صرف اخبار کے صفحات تک محدود نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ جاتی ہے۔

مطیع اللہ خان نے اس تبدیلی کو بھی قبول کیا اور نوائے شرر ڈیجیٹل پیج کے ایڈمن کی حیثیت سے جدید ڈیجیٹل صحافت میں بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

یہ پہلو ان کے صحافتی سفر کو خاص اہمیت دیتا ہے کہ وہ روایتی سٹی رپورٹنگ کے تجربے کے ساتھ ساتھ جدید ڈیجیٹل ذرائع سے بھی وابستہ ہیں۔

شخصیت کا امتیازی پہلو

صحافت میں بعض لوگ اپنی آواز سے پہچانے جاتے ہیں، بعض اپنے قلم سے اور بعض اپنی شخصیت کے وقار سے۔ مطیع اللہ خان کا حوالہ ان لوگوں میں آتا ہے جن کی شناخت میں شائستگی، خوش اخلاقی، معاملہ فہمی اور شخصی وقار بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

ان کے بارے میں دستیاب تعارف میں اخلاقی اقدار کی پاسداری کو خصوصی طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو کسی صحافی کو محض خبر دینے والے فرد سے ایک معتبر سماجی شخصیت میں تبدیل کرتا ہے۔

صحافی معاشرے کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے اور سوال اٹھانے والا بھی۔ اگر اس کے ہاتھ میں قلم ہو مگر کردار میں توازن نہ ہو تو صحافت اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ مطیع اللہ خان کی صحافتی شناخت میں اصول پسندی اور اخلاقی رویے کا ذکر اسی لیے اہم ہے کہ صحافت کے میدان میں کردار بھی خبر جتنا ہی اہم ہوتا ہے۔

میانوالی کی صحافتی تاریخ میں ایک حوالہ

ضلع میانوالی کی صحافت کی تاریخ مختلف ادوار، اخبارات، صحافیوں اور مقامی رپورٹنگ سے مل کر تشکیل پاتی ہے۔ اس تاریخ کو مکمل طور پر محفوظ کرنے کے لیے اُن صحافیوں کے حالاتِ زندگی بھی قلم بند کرنا ضروری ہے جنہوں نے برسوں تک مقامی سطح پر عوامی مسائل، شہری سرگرمیوں اور معاشرتی حالات کو ریکارڈ کیا۔

مطیع اللہ خان اسی صحافتی روایت کی ایک کڑی ہیں۔

2008ء سے صحافت سے وابستگی ایک ایسے دور کی نمائندگی کرتی ہے جس میں روایتی اخباری صحافت بتدریج الیکٹرانک اور پھر ڈیجیٹل میڈیا کی طرف منتقل ہو رہی تھی۔ اس تبدیلی کے دوران مقامی صحافیوں نے اپنے تجربے اور مشاہدے کے ذریعے نئی صحافتی دنیا میں جگہ بنائی۔

مطیع اللہ خان کا سفر بھی اسی تبدیلی کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

موچھ سے میانوالی تک

مطیع اللہ خان کی زندگی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق موچھ سے ہے جبکہ وہ حال مقیم میانوالی ہیں۔ اس طرح ان کی شخصیت میں دیہی و مقامی سماجی زندگی اور شہری صحافتی ماحول، دونوں کا تجربہ شامل ہے۔

موچھ نے انہیں اپنی مٹی، اپنے لوگوں اور مقامی معاشرت سے جوڑا، جبکہ میانوالی میں قیام نے انہیں شہری زندگی اور صحافتی سرگرمیوں کے وسیع تر دائرے سے وابستہ کیا۔

یہی وجہ ہے کہ ان کا تعارف صرف ایک صحافی کے طور پر نہیں بلکہ میانوالی کی مقامی سماجی و صحافتی زندگی کے ایک فعال فرد کے طور پر بھی کیا جا سکتا ہے۔

ایک صحافی کا اصل سرمایہ

صحافت میں عہدے بدلتے رہتے ہیں، اخبارات کے نام بدلتے رہتے ہیں اور خبر رسانی کے ذرائع بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ایک صحافی کا اصل سرمایہ اس کا اعتماد اور کردار ہوتا ہے۔

مطیع اللہ خان نے اپنے صحافتی سفر میں جس شائستگی، مستقل مزاجی اور اخلاقی رویے کو اپنی شناخت بنایا، وہی ان کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔

وہ اُن مقامی صحافیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی عملی زندگی کو شور و غوغا کے بجائے مسلسل کام، تعلقات میں وقار اور صحافتی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا۔

مختصر تعارف

نام: مطیع اللہ خان
تاریخِ پیدائش: 12 دسمبر 1981ء
جائے پیدائش: موچھ، ضلع میانوالی
موجودہ سکونت: میانوالی
تعلیمی قابلیت: ایف۔اے
شعبۂ صحافت: سٹی رپورٹر، نوائے شرر، میانوالی
صحافت سے وابستگی: 2008ء سے
ڈیجیٹل ذمہ داری: ایڈمن، نوائے شرر ڈیجیٹل پیج
نمایاں شناخت: بااخلاق، باوقار، شائستہ اور اصول پسند صحافی

اختتامی کلمات

مطیع اللہ خان کی صحافتی زندگی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ صحافت کا وقار صرف بڑے عہدوں، شہ سرخیوں یا بلند آواز دعووں سے قائم نہیں ہوتا۔ اس کے لیے برسوں کی محنت، خبر کے ساتھ دیانت، لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

موچھ کے مطیع اللہ خان اور میانوالی کے صحافی مطیع اللہ خان دراصل ایک ہی شخصیت کے دو جغرافیائی حوالوں کا نام ہیں؛ ایک ایسی شخصیت جو 2008ء سے صحافت کے میدان میں موجود ہے اور جس نے اپنی شناخت شور سے نہیں بلکہ اپنے طرزِ عمل سے قائم کی۔

اسی لیے انہیں “صحافت میں نفاست کا علم بردار” کہنا محض ایک خوب صورت عنوان نہیں بلکہ ان کی صحافتی شخصیت کے ایک نمایاں پہلو کی ترجمانی ہے۔

 

                                                      تحریر:لہر نیازی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top