منورعلی ملک کے ستمبر 2025کے فیس بک پرخطوط
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی ایڈ کا امتحان ختم ہوا تو لوگوں نے گھروں کی راہ لی۔ تین سو سٹوڈنٹس کا ہنستا بستا ہاسسثل دو تین دن میں ویران ہو گیا ۔
پیپر ختم ہونے سے اگلے دن صبح سویرے خان چاچا بیگ کندھے سے لٹکائے ہوئے ہمارے کمرے میں آئے ۔ میں اورممتاز بھائی سامان باندھ رہے تھے۔ خان چاچا نے کہا ، اچھا
سجنو ، ہم جارہے ہیں۔ پشاور تک کا لمبا سفر ہے اس لیئے میں سویرے ہی چل پڑا ہوں۔
بہت اچھا وقت گزرا آپ کے ساتھ ۔ آپ لوگوں نے مجھے بہت عزت دی۔ اللہ کریم آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ۔ اگر مجھ سے کبھی کوئی غلطی ہو گئی ہو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے آگے نہ خان چاچا کچھ کہہ سکے ، نہ ہم۔۔۔۔۔ دونوں طرف آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ خان چاچا نے ہم دونوں کو بہت پیار سے گلے لگایا، اور آنسو پونچھتے ہوئے اللہ حافظ کہہ کر رخصت ہوگئے ۔
عجب دلربا شخص تھا۔ سب سے محبت، سب سے تعاون ، سب کا خیر خواہ ، بہت گہرے نقوش چھوڑ گیا ہمارے دلوں پر۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔منور علی ملک ۔1 ستمبر2025
والدین کے بعد میری شخصیت کی تعمیر میں سب سے اہم کردار ممتاز بھائی کا ہے۔ ممتاز حسین ملک میرے ماموں زاد بھائی تھے ۔ عمر میں مجھ سے دو سال بڑے تھے۔ ہم دونوں کا آپس میں پیار سگے بھائیوں سے بھی زیادہ تھا۔
ماموں جان گورنمنٹ ہائی سکول ہڈالی میں ہیڈماسٹر تھے۔ ہرسال گرمی کی چھٹیاں گزارنے کے لیئے فیملی سمیت داؤدخیل آتے تو ہماری عید ہو جاتی تھی ۔ ممتاز بھائی اور میں دن رات اکٹھے رہتے ۔ کھانا پینا کھیلنا سب کچھ مل کر کرتے تھے ۔چھٹیاں ختم ہونے سے ایک دن پہلے ماموں جان واپس ہڈالی چلے جاتے ۔ وہ دن ممتاز بھائی اور میرے لیئے بہت تلخ ہوتا تھا ۔ٹرین جونہی ریلوے اسٹیشن پر پہنچتی ہم آپس میں گلے لگ کر دھاڑ دھاڑ رونا شروع کر دیتے ۔ ٹرین روانگی کی سیٹی بجاتی تو بڑی مشکل سے ہمیں کھینچ کر ایک دوسرے سے الگ کر کے ممتاز بھائی کو ٹرین پر سوار کیا جاتا۔ جب تک ٹرین نظر آتی رہتی میں پلیٹ فارم پر کھڑا ٹرین کو دیکھ کر آنسو بہاتا رہتا۔3ستمبر2025
ممتاز بھائی نے میری صلاحیتوں کو پہچان کر مجھے ان کے استعمال پر آمادہ کیا۔
جب ہم سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں تھے تو ایک دن کہنے لگے اوئے کمینے ، قدرت نے تمہیں بے شمار صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ اردو اور انگریزی پر یکساں عبور ، شعر کہنے کی صلاحیت ، اچھی خاصی گلوکاری بھی کر سکتے ہو۔ اللہ کی ان نعمتوں سے لوگوں کو مستفید کرو تو عزت بھی ملے گی، شہرت بھی۔ مگر تم نے کبھی ان صلاحیتوں کے بارے میں سوچا بھی نہیں ۔ اب تو تمہیں اپنے محلے میں بھی کوئی نہیں جانتا۔ لکھنا شروع کر دو تو دنیا بھر میں تمہاری پہچان بن جائے گی ۔
یہ تقریر مجھے کئی بار سنسنی پڑی۔ بالآخر میں نے بھائی کی باتوں پر عمل شروع کر دیا ۔ اس لیئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں ممتاز بھائی کی ترغیب کی وجہ سے ہوں۔ میں تو بہت آوارہ مزاج تھا۔ بھائی مجھے مار پیٹ کر قلم نہ پکڑاتے تو میری پہچان صرف ٹیچر کی حد تک ہی محدود رہتی ۔ وہ بھی اس لیئے کہ ٹیچنگ ہی میرا ذریعہ معاش تھا ۔
کالج میں اردو انگریزی میں مضمون نویسی کے علاوہ گلوکاری میں بھی مجھے پہلا انعام ملا۔
ٹریننگ کالج سے فارغ ہونے کے بعد ہماری راہیں جدا ہو گئیں۔ میں نے ضلع میانوالی ہی میں سینیئر انگلش ٹیچر کی حیثیت میں ملازمت کا آغاز کیا۔ ممتاز بھائی کینٹ گیریزن سکول راولپنڈی سے وابستہ ہو گئے ۔کبھی کبھار فون پر رابطہ ہو جاتا تھا ۔ اس دنیا سے رخصت ہونے سے ایک دن پہلے فون پر مجھے کسی بات پر ڈانٹ رہے تھے ۔ اگلی صبح اطلاع ملی کہ بھائی صاحب عدم آباد جابسے – 4 ستمبر2025
ولادت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
حفیظ جالندھری کا کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرشتوں کی سلامی دینے والی فوج گاتی تھی
جناب آمنہ سنتی تھیں یہ آواز آتی تھی
سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب سبحانی
سلام اے فخر موجودات فخر نوع انسانی
اپنی نعت سرور کائنات ۔۔۔۔۔۔۔
اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دل کی باتیں۔۔۔
بی ایڈ کا امتحان دینے کے بعد مجھے جاب کی فوری ضرورت تھی۔ مستقل جاب توتین چار ماہ بعد بی ایڈ کا ریزلٹ آنے کے بعد ہی مل سکتا تھا۔ مگر مجھے فوری طور پر جاب کی ضرورت تھی کیونکہ میرے تین بچے بھی تھے۔ اور میں بابا جی پر بوجھ
نہیں ڈالنا چاہتا تھا انہی دنوں ایک دوست نے بتایا کہ مکڑوال سکول میں سینیئر انگلش ٹیچر کی عارضی اسامی خالی ہے۔ انہوں نے مکڑوال سکول کے ہیڈماسٹر صاحب سے بات کر کے مجھے اس اسامی پر متعین کروا دیا ۔
سکول کے ہیڈماسٹر شفیق الرحمن منہاس صاحب بہت شفیق انسان تھے۔ انہوں نے ن مجھے رہائش کے لیئے اپنے آفس کے ساتھ والا کمرہ دے دیا اور سکول کے چپراسی چاچا عربستان خان کو میری خدمت پر مامور کر دیا ۔
سٹاف میں سے ترگ کے ماسٹر سردار علی عباسی صاحب سے ہمارے خاندانی مراسم تھے ۔
اس لیئے وہ بھی میرا بہت خیال رکھتے تھے ۔کھانے پینے کا بندوبست میں نے ایک قریبی ہوٹل پر کر لیا ۔
اس زمانے میں مکڑوال آنا جانا بھی خاصا مسئلہ تھا۔ میانوالی سے مکڑوال دن میں ایک ہی بس آتی جاتی تھی۔ وہ تین بجے میانوالی سے روانہ ہو کر پانچ بجے مکڑوال پہنچتی تھی اور صبح نو بجے میانوالی روانہ ہو جاتی تھی ۔میں نے ہر سنیچر کو سکول ٹائیم کے بعد داؤدخیل جانا ہوتا تھا۔ یہ مسئلہ عباسی صاحب نے حل کر دیا ۔ ہر سنیچر کو شام چار بجے ایک ٹرین کوئلہ لے کر بنوں جاتی تھی ۔ عباسی صاحب نے ٹرین کے گارڈ سے مجھے متعارف کرا دیا۔ میں اس ٹرین پر گارڈ کے ڈبے میں بیٹھ کر ترگ جاتا تھا اور وہاں سے میانوالی کی بس پر بیٹھ کر داودخیل پہنچ جاتا۔یوں میری زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ۔7 ستمبر2025
مکڑوال میں آمد کے دوتین دن بعد ایک صبح میں ناشتے کے انتظار میں ہوٹل پر بیٹھا تھا تو اچانک ماموں امیرقلم خان وہاں آگئے ۔
ماموں امیر قلم خان قبیلہ امیرے خیل کے بزرگ تھے ۔ ان کی بہن محترمہ عالم خاتوں میری امی کی منہ بولی بہن تھیں۔ اس لیئے میں ان تینوں بھائیوں کو ماموں کہتا تھا۔
میرا بچپن اسی خاندان میں گذرا۔
مجھے ہوٹل پہ بیٹھا دیکھ کر ماموں سیدھے میری طرف آئے اور مجھ سے پوچھا یہاں کیسے آنا ہوا۔
میں نے بتایا کہ میں یہاں سکول میں انگلش ٹیچر کی حیثیت میں آیا ہوں۔ رہائش کا بندوبست سکول ہی میں ہے۔ کھانا اسی ہوٹل سے کھاتا ہوں۔
یہ سن کر ماموں سخت ناراض ہوئے ۔ کہنے لگے تمہیں شرم نہیں آتی کہ یہاں اپنا گھر ہوتے ہوئے تم ہوٹلوں پر رلتے پھرتے ہو۔چلو میرے ساتھ
مجھے ساتھ لے کر ماموں اپنے کوارٹر پر آئے اور مجھ سے کہا آج سے تمہارا کھانا پینا ، ناشتہ سب کچھ ادھر ہی ہوگا۔ ان کے گھر کے سب لوگ بھی مجھے جانتے تھے ۔ مجھے دیکھ کر سب بہت خوش ہوئے ۔
یوں اللہ کے فضل سے مجھے مکڑوال کے اجنبی شہر میں گھر کا ماحول مل گیا۔8 ستمبر2025
مکڑوال سکول میں میں چار ماہ رہا۔ عارضی اسامی تھی اس لیئے مستقل قیام کا کوئی امکان نہ تھا۔انہی دنوں محکمہ تعلیم نے بعض پرائمری سکولوں کو مڈل سکول کا درجہ دے کر وہاں گریڈ 14 کے سینیئر انگلش ٹیچرز کو بطور ہیڈماسٹر متعین کرنے کا منصوبہ شروع کیا ۔ میرا بی ایڈ کا ریزلٹ آچکا تھا ، اس لیئے میں نے بھی درخواست دے دی ۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ہمارے بابا جی کے ماتحت رہ چکے تھے ۔ انہوں نے خاص مہربانی کرتے ہوئے مجھے میرے گھر داؤدخیل کے قریب ترین مڈل سکول ٹھٹھی میں متعین کر دیا ۔ میں نے 4 جنوری 1965 کو ہیڈماسٹر کےمنصب کا چارج سنبھالا ۔۔۔۔۔22 مئی 1965 کا سیلاب میرے لیئے بہت بڑی آزمائش تھا۔۔
11 گھنٹے کی مسلسل موسلادھار بارش سے سکول کے دو کمروں کی دیواریں اور چھتیں کریک ہو گئیں۔ گرمی کے موسم میں بچوں کو باہر بھی نہیں بٹھایا جا سکتا تھا۔ میں ڈپٹی کمشنر میانوالی قاضی احمد شفیع صاحب سے ملا۔ انہوں نے کہا مالی سال ختم ہونے کو ہے۔ میرے پاس سکولوں کی مرمت کی مد میں اس وقت صرف 2750روپے ہیں۔ آپ ڈسٹرکٹ انجینیئر سے مرمت کا estimateبنوا لیں۔ اگر 2750 روپےمیں کام ہو سکتا ہے تو میں آپ کو چیک دے دیتا ہوں ۔ میں ڈسٹرکٹ انجینیئر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ انہوں نے ایک اوورسیئر کو estimateبنانے کا کہا ۔
اوورسیئر صاحب عمارت کو دیکھے بغیر وہیں بیٹھ کر تخمینہ بنانے لگے۔ تقریباً 12000 روپے کا estimate بنا۔ میں نے کہا جناب زرا ہلکا ہاتھ رکھیں، ہمارے پاس کل رقم 2750 روپے ہے۔کہنے لگے جی estimate تو ایسے ہی بنتا ہے۔ 9ستمبر2025
میں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوساری صورت حال بتائی کہ سکول کی مرمت کے لیئے اس وقت ڈپٹی کمشنر صاحب کے پاس 2750 روپے ہیں ۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا ہے آپ ڈسٹرکٹ انجینیئر سےبنوا لیں۔ estimateاگر اتنی رقم میں آپ کے سکول کی مرمت کا کام ہو سکتا ہے تو میں ابھی چیک دے دیتا ہوں مگر ڈسٹرکٹ انجینیئر کےدفتر نے 12000 روپے کا estimateبنا دیا ہے ۔ اب کیا ہوگا ۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر صاحب مجھے ساتھ والے کمرے میں لے گئے جہاں دو امریکی انجینئر بیٹھتے تھے ۔اس زمانے میں امریکہ کی امدادی سکیم PL 480کے تحت تعمیراتی کام کی نگرانی کے لیئے ہر ضلع میں دو امریکی انجینئر تعینات تھے۔ہم نے انہیں تمام صورت حال سے آگاہ کرکے تعاون کی درخواست کی۔
اگرچہ ہمارا کام ان کے فرائض میں شامل نہ تھا پھر بھی انہوں نے ہم سے بھرپور تعاون کیا۔ پاکستانی انجینئر کی طرح وہیں بیٹھ کرestimateبنانے کی بجائے انہوں نے گاڑی نکالی اور پیمائش کے آلات ساتھ لے کر میرے ہمراہ ٹھٹھی سکول پہنچ گئے ۔ تقریبا دو گھنٹے عمارت کے تفصیلی معائنہ کے بعد انہوں نے مرمت کے اخراجات کے لیئے صرف 2250 روپے کا estimateبنا دیا ۔ یہ تخمینہ ہڈی سی صاحب کو دکھایا تو انہوں نے فوراً اس رقم کا چیک بنا دیا ۔ اور کہا کہ مرمت کا کام اپنی نگرانی میں کرائیں۔ میں نے مقامی ٹھیکیدار میاں فتح محمد کو اس کام پر مامور کر دیا ۔ امریکی انجینئرز کی ہدایات کے مطابق کام دوچار دن میں مکمل ہو گیا ۔10 ستمبر2025
دونوں امریکن انجینیئرز میرے اچھے خاصے دوست بن گئے ۔ ایک کا نام
Thomas Boydدوسرے کاAllan Deustchتھا۔
میں جب بھی میانوالی جاتا کچھ دیر ان کے پاس بیٹھ کر گپ شپ لگا لیتا تھا۔ گفتگو کا موضوع پاکستانی کلچر اور امریکی ادب ہوتا تھا۔ مجھ سے مل کر وہ لوگ بہت خوش ہوتے تھے۔ شاید اس لیئے بھی کہ میانوالی میں روانی سے انگریزی بولنے والے لوگ شاذ و نادر ہی ملتے تھے۔ایک دن کہنے لگے ہمارے یہاں تقرر کی میعاد ختم ہو رہی ہے ۔۔ہم کل پرسوں واپس امریکہ چلے جائیں گے۔ ہمارے پاس کچھ امریکی ناول اور افسانوں کے مجموعے پڑے ہیں۔ میونسپل کمیٹی کی لائبریری والے کہتے ہیں یہ کتابیں ہمیں دے دیں ۔ مگر وہاں انگلش ناول افسانے کون پڑھے گا ۔ آپ کو پڑھنے کا شوق ہے اس لیئے ہم چاہتے ہیں کہ آپ یہ کتابیں اٹھا لیں۔ میرے لیئے یہ بہت اچھی خبر تھی ۔ میں نے شکریہ کے ساتھ ان کی یہ آفر قبول کر لی ۔۔
پھر وہ مجھے اپنے ساتھ نہر کالونی میں اپنی رہائش گاہ پر لے گئے ۔ مجھے چائے وغیرہ پلائی۔ میں نے ہیمنگوئے ، مارک ٹوین ، او ہنری ، ایڈگر ایلن پو اور ملر کے بہت سے ناول اورافسانوں کے مجموعے لے لیئے۔انہوں نے مجھے اپنے امریکہ کے ایڈریس بھی لکھ کر دے دیئے کہ کبھی امریکہ آنا ہو تو ہم سے ضرور ملیں۔11 ستمبر2025
امریکی انجینئرز کی میانوالی سے امریکہ واپسی کے تقریبا ایک سال بعد میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا میں اعلی تعلیم کے لیئے امریکہ جانا چاہتا ہوں ۔۔مجھےاس سے متعلق کہیں سے معلومات دلوا دیں ۔میں نے اپنے دوست بائیڈ کے نام خط لکھ کر ڈاک سے بھجوا دیا ۔ بائیڈ امریکہ کی ریاست پنسلوانیا میں رہتے تھے ۔کوئی ایک مہینہ بعد مجھے ڈاک سے ایک پارسل موصول ہوا –اس پارسل میں بائیڈ نے امریکہ کی چار بڑی یونیورسٹیوں کے سلیبس اور فارم داخلہ بھیجے تھے۔ ساتھ خط میں یہ بھی لکھا تھاکہ آپ اپنے دوست کو ہمارا ایڈریس دے کر امریکہ بھجوا دیں۔ ہم ہر طرح سے ان کا خیال رکھیں گے۔۔ انہیں سرکاری وظیفہ بھی دلوا دیں گے ۔
خط میں بائیڈ نے یہ بھی لکھا
A person of your calibre will not always remain headmaster of a middle school. You will go high up.(آپ جیسا قابل آدمی محض ایک مڈل سکول کا ہیڈماسٹر نہیں رہے گا ۔ آپ بہت آگےجائیں گے
بائیڈ کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی ۔ میں انگلش کا پروفیسر ریٹائر ہوا ۔12 ستمبر2025
میں نے ایم اے انگلش تو 1970 میں کر لیاتھا، مگر 1971 کی جنگ کے باعث ملک کی مالی حالت اتنی کمزور ہو گئی تھی کہ 1974 تک ملازمتوں میں بھرتی پر پابندی عائد رہی ۔ میں بے روزگار تو تھا نہیں ۔ اس لیئے ٹھٹھی سکول میں ہی بطور ہیڈماسٹر کام کرتا رہا۔ 1974 کے آخر میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ پابندی ختم کردی تو پنچاب پبلک سروس کمیشن نے لیکچررز کی خالی آسامیوں پر بھرتی کے لیئے اشتہار دیا۔ میں نے بھی درخواست دے دی اور اللہ کے فضل سے سیلیکٹ ہو گیا ۔
سیلیکشن کے اطلاع نامے میں لکھا تھا کہ تقرر کے لیئے متعلقہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن سے رجوع کریں ۔
میں ڈائیریکٹر آف ایجوکیشن سرگودھا ڈویژن کے دفتر میں حاضر ہوا تو اسسٹنٹ ڈائریکٹر صاحب نے بتایا کہ گورنمنٹ کالج میانوالی میں انگلش کے لیکچرر کی دو آسامیاں خالی تھیں۔۔ہم نے سرور خان صاحب کو اور آپ کو ان آسامیوں پر تعینات کرنے کے آرڈر جاری کر دیئے تھے۔ مگر سیکرٹری ایجوکیشن نے فون پر حکم دیا کہ گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں فوری طور پر انگلش کے لیکچرر کا تقرر کیاجائے کیونکہ وہاں انگلش کا لیکچرر نہ ہونے کی وجہ سے لڑکوں نے ہڑتال کر رکھی ہے ۔ آپ کا گھر عیسی خیل کے زیادہ قریب ہے اس لیئے ہم نے آپ کا تقرر عیسی خیل کالج میں کر دیا ہے ۔
عیسی خیل جیسے چھوٹے کالج اور بے رونق شہر میں تقرر پر میں خوش تو بالکل نہ تھا مگر مجبورا بادل ناخواستہ یہ تقرر قبول کرلیا ۔ادھر سرور خان صاحب نے اسی دن گورنمنٹ کالج میانوالی میں تقرر کا آرڈر لے کر وہاں حاضری دے دی ۔ یوں وہ مجھ سے سینیئر ہو گئے ۔میں نے اس سے اگلے دن 30 دسمبر 1975 کو گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں لیکچرر کا منصب سنبھالا ۔ 13 ستمبر2025
جب ہمارا تقرر گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں ہوا اس وقت یہ کالج بس برائے نام ہی تھا۔ گورنمنٹ ہائی سکول عیسی خیل کی بالائی منزل کو کالج کا نام دے دیا گیا تھا۔ٹیچنگ اسٹاف میں صرف دو لیکچرر ، تاریخ کے چوہدری محمد رمضان اور سیاسیات کے محمد سلیم احسن تھے۔دسمبر 1975 میں ایک دو دن کے وقفے سے میرے علاوہ عربی کے لیکچرر اشرف علی کلیار ، اسلامیات کے منیر حسین بھٹی نفسیات کے حسین احمد ملک ، معاشیاتِ کے ملک محمد یوسف چھینہ کیمسٹری کےمحمد اکبرخان فزکس کے اکبر علی رندھاوا اور میتھس کے عبدالستار جوئیہ پر مشتمل ٹیم میدان عمل میں آگئی ۔
کالج میں اس وقت فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کے سٹوڈنٹس کی کل تعداد تقریبا تیس تھی۔ اشرف علی کلیار صاحب کے سوا کوئی بھی عیسی خیل میں تقرر پر خوش نہ تھا۔ کلیار صاحب کا گاؤں عیسی خیل کے قریب ہی واقع تھا اس لیئے انہیں تو خوش ہی ہونا تھا۔بہر حال
ملازمت کو بے روزگاری سے بہتر سمجھ کر سب لوگوں نے دل لگا کر محنت کی۔عیسی خیل ایک ویران سا شہر تھا۔ نام نہاد مین بازار صرف دس پندرہ دکانوں پر مشتمل تھا۔ ہم لوگ ضرورت کی اکثر چیزیں سلیم احسن صاحب سے کہہ کر میانوالی سے منگواتے تھے ۔سلیم احسن بس کے ذریعے روزانہ میانوالی سے عیسی خیل آتے جاتے تھے۔۔خاصا مشکل وقت تھا ۔14 ستمبر2025
گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں آمد کے پہلے دن میں کالج سے واپسی پر اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ مین بازار سے گذر رہا تھا تو دائیں جانب ایک دکان کے ماتھے پر الصدف لکھا دیکھ کر رک گیا۔ لالا عیسی خیلوی سے سرسری سا تعارف کچھ دن پہلے داؤدخیل میں ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ان کا ذریعہ معاش الصدف نامی جنرل سٹور ہے۔لالا بہت تپاک سے ملے ۔ پوچھا کیسے آنا ہوا ۔ میں نے بتایا کہ میں یہاں کالج میں انگلش کے لیکچرر کی حیثیت میں آیا ہوں ۔لالا بہت خوش ہوئے ۔ کہنے لگے رہائش کے لیئے میرا غریب خانہ حاضر ہے۔میں نے کہا غریب خانے کا بندوبست ہم نے کر لیا ہے۔ میں نے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر محلہ ںمبرانوالہ میں ایک مکان کرائے پر لے لیا ہے۔
لا لا نے کہا میرا گھر بھی اسی محلے میں آپ کے گھر سے اگلی گلی میں ہے۔ عیسی خیل میں اور تو کوئی شغل میلہ ہے نہیں۔ رات کو میری بیٹھک پر چند دوست جمع ہو جاتے ہیں ۔ تین چار گھنٹے موسیقی چلتی ہے ۔ مناسب سمجھیں تو عتیل عیسی خیلوی کے ساتھ آپ بھی آ جایا کریں ۔موسیقی کی محفل میرے لیئے تو مناسب ہی مناسب تھی ۔بچپن ہی سے موسیقی سننے کا شوق تھا ۔ یوں میں ہر شام عتیل صاحب کے ہمراہ لالا کی محفل میں حاضر ہونے لگا۔لالا تین چار گھنٹے اپنی پر سوز آواز کا جادو جگاتے۔ چاچا احسن خان ، ماسٹر وزیر ، شفا اللہ ملک المعروف شفا ہرایا، فدا حسین المعروف فدا ، نور محمد دیوانہ اور غلام شبیر خان بمبرا اس محفل کے مستقل رکن تھے ۔ ملازم حسین لالا کے ساتھ طبلہ نواز تھے۔ 15 ستمبر2025
اس زمانے ۔۔۔۔ 1975۔۔۔۔۔۔
میں لالاعیسی خیلوی کی پہچان عیسی خیل سے کندیاں تک محدود تھی ۔
کبھی کبھار لاری اڈا سے بس اور ٹرک ڈرائیور ٹیپ ریکارڈر لے کر ہماری رات کی محفل میں میکدہ آیا کرتے ۔لالا کی بیٹھک کو میکدہ کا نام عتیل عیسی خیلوی نے دیا تھا۔
ڈرایئور صاحبان لالا کی محفل کیسیٹ میں ریکارڈ کر کے لے جاتے تھے۔ یوں ٹرکوں اور بسوں کی وساطت سے لالا کی آواز ملک بھر میں گونجنے لگی ۔
ایسا ہی ایک کیسیٹ فیصل آباد میں رحمت گراموفون کمپنی کے بانی چوہدری رحمت علی کے ہاتھ لگا۔ چوہدری رحمت علی صاحب نظر انسان تھے ۔ لالا کی آواز سے متاثر ہو کر وہ عیسی خیل آئے اور لالا کے گیتوں کے چند کیسیٹ ریکارڈ کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ کچھ دن بعد لالا کے پہلے چار والیوم منظر عام پر آ گئے۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا ساری دنیا جانتی ہے ۔ لالا اس دور کے مقبول ترین گلوکار بن گئے ۔لالا کی شہرت بیروں ملک بھی پھیل گئی ۔
ہر ماہ لالا کے ایک دو نئے کیسیٹ ریلیز ہونے لگے ۔دوستو ، لالا کی داستان حیات تو ایک مکمل کتاب درد کا سفیر کی صورت میں میں پہلے ہی لکھ چکاہوں۔ آج کل اپنی داستان حیات پوسٹس کی شکل میں لکھ رہا ہوں۔ اپنے عیسی خیل میں قیام کے ضمن میں لالا کا جتنا ذکر ضروری تھا کر دیا۔۔ کل سے کہانی آگے چلے گی
میری بطور لیکچرار 1973 میں گجرات میں تقرری ہوئ 1974 میں پبلک سروس کمیشن سے سلیکشن کے بعد مجھے انٹر کالج عیسی خیل میں تعینات کر دیاگیا میں دو سال اس کالج رہا یہاں۔کی سےبڑی خوبصورتی منور علی ملک تھے روزانہ کا آنا جانا تھا کالج آتے ہی ساری تھکاوٹ دور ہوجاتی اور ایک نئ زندگی کا آحساس ہوتا ۔۔دو سال بعد میرا میانوالی میرا تبا دلہ ہوا اور منور علی بھی میانوالی پہنچ کئے اور۔ 22 سال ہم ساتھ رہے کالج ایک ہی سوای پر آتے جاتے رہے میری زندگی کا بہترین زمانہ تھا۔ ۔۔منور علی ملک قدرت کا ایک عطیہ ہے
Saleem Ahsan زندگی بسر کرنے کا فن میں نے آپ سے سیکھا ۔۔رب العالمین آپ کو سدا شاد و آباد رکھے۔۔17 ستمبر2025
جب لیکچرر کی حیثیت سےہماری ملازمت کا آغاز ہوا اس وقت گریڈ 17 کی ابتدائی تنخواہ 500 روپے ماہانہ تھی۔ اس میں ہر سال 50 روپے اضافہ annual increment ہوتا تھا ۔
1976میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے گریڈ 17 کے تمام آفیسرزکی تنخواہ میں یکمشت پانچ انکرمنٹس کا اضافہ کر دیا۔ یوں ہماری تنخواہ 750 روپے ماہانہ ہو گئی۔ ہم لوگ ہنس کر کہا کرتے تھے اتنی بڑی رقم کا کریں گے کیا۔بات غلط نہ تھی۔ سستا زمانہ تھا۔چینی ایک روپے فی کلو ، ڈالڈا گھی بیس روپے کلو، آٹا ایک روپیہ کلو ملتا تھا۔ اسی حساب سے باقی چیزیں بھی بہت سستی تھیں۔ گھر کا ایک ماہ کا مکمل راشن تین ساڑھے تین سو میں مل جاتا تھا۔ خاصا خوشحالی کا دور تھا۔آگے چل کر جب تنخواہ ہزاروں روپے ہوگئی تب تک چیزوں کی قیمتیں بھی کئی گنا بڑھ چکی تھیں۔ 750 روپے ماہانہ جیسی خوشحالی پھر کبھی نصیب نہ ہوئی–18 ستمبر2025
شمالی پنجاب کا آخری کالج ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ کالج عیسی خیل سرکار کی نظر میں معتوب پروفیسر صاحبان کے لیئے سزا کا مقام ہوا کرتا تھا۔جنرل ضیا الحق کے دور میں پیپلز پارٹی سے وابستگی کی بنا پر اُردو کے لیکچرر افغانی صاحب کو ایم اے او کالج لاہور سے اٹھا کر عیسی خیل کالج بھیج دیا گیا اسی طرح گورنمنٹ کالج بھکر میں اساتذہ کرام کے دو نظریاتی گروپس میں تنازعہ بڑھ گیا تو ایک گروپ کے سربراہ پروفیسر ملک محمد اکرم کو بھکر سے عیسی خیل بھیج دیا گیا۔فیصل آباد کے لیکچرر سید افتخار حسین شیرازبخاری زیر عتاب آئے تو انہیں معطل کر کے عیسی خیل کالج ٹرانسفر کر دیا گیا۔اسی وجہ سے ہمارے بعض ساتھی عیسی خیل کو عیسی جیل کہا کرتے تھے ۔ 19 ستمبر2025
دسمبر 1976 کی چھٹیوں کے دوران پرنسپل ڈاکٹر عبد المجید قریشی صاحب کا ٹرانسفر گورنمنٹ کالج عیسی خیل سے گورنمنٹ کالج شاہ پور ہو گیا۔ موقع پر صرف میں ہی موجود تھا ۔ ڈاکٹر صاحب فورا جانا چاہتے تھے اس لیئے پرنسپل کے منصب کا چارج میرے سپرد کر دیا ۔۔
چونکہ تاریخ کے لیکچرر چوہدری محمد رمضان صاحب ہم سب میں سینیئر تھے اس لیئے میں نے ڈاکٹر صاحب کے فراغت نامے Relieving رپورٹ میں یہ لکھوا دیا کہ چھٹیوں کے بعد چارج چوہدری محمد رمضان صاحب کے سپرد کر دیا جائے۔
کالج کھلا تو میں نے چارج چوہدری صاحب کو دے دیا ۔ مگر مکھی پر مکھی مارنے والی بیوروکریسی نے ڈاکٹر صاحب کے فراغت نامے کی پوری عبارت پڑھے بغیر مجھے ہی پرنسپل کی مسند پر فائز کرنےکا حکم جاری کر دیا ۔۔ یوں چوہدری صاحب نے کرسی ایک بار پھر میرے حوالے کر دی۔چھوٹے سے کالج میں پرنسپل کا کام کچھ مشکل نہیں تھا۔ میں نے جمہوری انداز میں معاملات چلانے ۔ہر قدم ساتھیوں کی مشاورت سے اٹھایا۔ اس لیئے انتظامی امور بخیرو عافیت چلتے رہے۔مارچ میں فرنیچر اور لائبریری کی کتابیں خریدنے کے لیئے سرکار نے ایک لاکھ روپیہ دیا۔میں نے قاعدے قانون کے مطابق سامان خرید لیا ۔مگر جب سامان کی قیمت کا بل اکاؤنٹ آفس کو بھیجا تو اعتراض پر اعتراض عائد ہونے لگے۔ مقصد کچھ وصول کرنا تھا۔ مگر میں نے کچھ دینے سے صاف انکار کردیا ۔مالی سال کے آخری دن 30 جون کو میں ایک بار پھر بل لے کر اکاؤنٹ آفس پہنچا ۔ اکاؤنٹ آفیسر صاحب نے کہا بل اب بھی نامکمل ہے ۔ اس کے ساتھ فلاں فلاں رسیدیں لگا کر لائیں۔میں اس سینہ زوری سے تنگ آ گیا۔ فائیل اکاؤنٹ آفیسر صاحب کی میز پر رکھتے ہوئے کہا یہ بل آپ رکھ لیں۔ میں چیزوں کی قیمت اپنی جیب سے ادا کر دوں گا ۔۔
اور اکاؤنٹینٹ جنرل پنجاب کو لکھ کر بھیج دوں گا کہ اکاؤنٹ آفس میانوالی کی بے جا ضد کی وجہ سے میرے بل زائدالمیعاد ہوگئے۔یہ کہہ کر میں وہاں سے اپنے گھر داؤدخیل آگیا ۔ شام کے قریب اکاؤنٹ آفس کے ایک ملازم نے منظور شدہ بل مجھے لا کر دیئے اور کہا بینک آج رات بارہ بجے تک کھلے رہیں گے ۔ آپ نیشنل بینک عیسی خیل جا کر رقم وصول کر لیں۔ 20 ستمبر2025
ایک دن ڈائریکٹر کالجز سرگودھا ڈویژن پروفیسر رفیع اللہ خان گورنمنٹ کالج عیسی خیل تشریف لائے۔ آمد کا مقصد میرے خلاف ایک انکوائری تھا۔حال ہی میں میں نے کالج میں دو لیبارٹری اٹینڈنٹ بھرتی کیئے تھے۔ کچھ بااثر لوگوں کی سفارشیں بھی تھیں۔ مگر میں نے سفارشوں کو نظر انداز کر کے میرٹ پر مستحق آدمی بھرتی کر لئیے ۔جن مہربانوں کی سفارشات نظر انداز ہوئی تھیں ان میں سے کسی نے سیکریٹری ایجوکیشن کو شکایت لکھ کر بھیج دی کہ پرنسپل نے مارشل لا,ء کی پابندی کے باوجود دو بندے ملازم رکھ لیئے ۔ سرکار کی نظر میں یہ خاصا سنگین جرم تھا۔ اس لیئےفوری کارروائی ضروری سمجھی گئی۔پابندی کا معاملہ یوں تھا کہ 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیا ء الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر کے اقتدار سنبھالا تو اسی دن سے تمام سرکاری ملازمتوں میں بھرتی پر پابندی عائد کردی ۔
پندرہ دن بعد پابندی ختم کر دی گئی اور اس کے دس دن بعد دوبارہ عائد کر دی گئی ۔ڈائریکٹر کالجز پروفیسر رفیع اللہ خان صاحب مجھ پر بہت مہربان تھے۔ وہ میری انگریزی کے مداح تھے ۔ خود بھی بہت اچھی انگریزی لکھتے تھے۔آتے ہی کہنے لگے ” پتر، مروا دتا
ای۔ اللہ دے بندے توں مارشل لاء دے بن دے دوران بندے ملازم رکھ لئے نیں۔ ہن تیری نوکری تے جاوے ای جاوے” ۔میں نے ہنس کر کہا “سر ، ایسی کوئی بات نہیں ۔ جس دن میں نے بندے ملازم رکھے اس دن ban
نہیں تھا” ۔ یہ کہہ کر میں نے خان صاحب کو متعلقہ ریکارڈ دکھایا۔ جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ جس دن میں نے بندے بھرتی کیئے اس دن پابندی عائد نہیں تھی۔ریکارڈ دیکھ کر خان صاحب خوشی سے اچھل پڑے۔ کہنے لگے ، ” اوئے میں تے پہلے ای کہندا سی میرا پتر بڑا پڑھا لکھا آدمی ہے، اوہ ایس طرحاں دی غلطی نئیں کر سکدا۔۔۔۔۔ اینہاں دی۔۔۔۔۔۔میں سیکریٹری صاحب نوں لکھ دیاں گا کہ شکایت بکواس سی” ۔چائے پی کر خان صاحب خوشی خوشی رخصت ہوگئے–21 ستمبر2025
علی بیٹا،
ہم تم کو نہیں بھولے
آج ہمارے لخت جگر محمد علی ملک کی 33 ویں سالگرہ ہے۔ وہ تو دسمبر 2010 میں 18 سال کی عمر میں عدم آباد جا بسا مگر ہم آج بھی 22 ستمبر کو اس کی سالگرہ مناتے ہیں۔
اللہ اولاد کی موت کا دکھ کسی کو نہ دے۔ یہ ایسا زخم ہوتا ہے جوکبھی نہیں بھرتا ۔
سیدالانبیا صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم کے ایک صاحبزادے جب فوت ہوئے تو آپ نے روتے ہوئے کہا
یا اللہ میں تو تیری رضا پر راضی ہوں ، مگر یہ آنسو میرے اختیار میں نہیں اس لیئے میرا غم کا یہ اظہار معاف کر دینا ۔
کچھ ایسی ہی صورت حال سے ہم بھی گذر رہے ہیں ۔
علی بیٹا ، رب کریم آپ کو اپنی رحمت کی امان میں رکھے ، آپ بھی ہمارے لیئے دعا کرتے رہنا۔23 ستمبر2025
دسمبر 1980 میں میں گورنمنٹ کالج عیسی خیل سے ٹرانسفر ہو کر گورنمنٹ کالج میانوالی آگیا ۔یہ ٹرانسفر میری خواہش پر ہوا۔ عیسی خیل بھی اپنا گھر تھا، مگر وہاں انٹر کالج تھا ، صرف دو کلاسیں تھیں ۔ دونوں کلاسز میں سٹوڈنٹس کی کل تعداد پچاس سے بھی کم تھی۔ میں چاہتا تھا بی اے، ایم اے کی کلاسز کو بھی پڑھاؤں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ میرے علم سے مستفید ہو سکیں ۔
عیسی خیل کو خیر باد کہنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ بہت چھوٹا سا شہر تھا۔ کئی سہولتیں وہاں دستیاب نہ تھیں۔ اپنے بچوں کی تعلیم کی تکمیل کے لیئے بھی کسی بڑے کالج میں جانا ضروری تھا ۔گورنمنٹ کالج میانوالی خاصا بڑا کالج تھا۔ بی اے کے علاوہ کچھ عرصہ بعد ایم اے کی کلاسز بھی شروع ہوگئیں ۔میں بی اے ، ایم اے دونوں کی کلاسز کو پڑھاتا رہا ۔ بیس سال کے عرصے میں میرے بے شمار سٹوڈنٹس ڈاکٹر ، انجینیئر ، پروفیسر اور وکیل بن گئے۔ دو سیشن جج اور دوچار فوجی افسر بھی بنے۔الحمد للّہ مجھے اپنے ان سب بچوں پر بہت فخر ہے۔ سب میرا بہت احترام کرتے ہیں ۔ مختصر یہ کہ میرا عیسی خیل سے میانوالی ٹرانسفر کا فیصلہ بہت مناسب تھا۔24 ستمبر2025
گورنمنٹ کالج میانوالی میں اپنے ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے آنکھیں بھیگ رہی ہیں ۔ اللہ کریم مغفرت فرمائے اب ان میں سے بہت سے لوگ اس دنیا میں موجود نہیں ۔
پرنسپل صاحبان میں سے ڈاکٹر رشید احمد ، ڈاکٹر غلام سرور خان نیازی اور ملک محمد انور میکن ، شعبہ اردو کے پروفیسر اقبال حسین کاظمی ، ڈاکٹر اجمل نیازی محمد فیروز شاہ ، انوار العزیز شاہ کاظمی ، احمد خان نیازی اور لالا رب نواز خان شعبہ انگریزی کے سلطان محمود اعوان ، محمد حنیف شاہ اور غلام حسین اعوان ، فارسی کے حافظ محمد عبد الخالق ، سیاسیات کے اسلم خان، معاشیاتِ کے عبد الخالق ندیم ، اسلامیات کے مظفر شاہ ، ڈاکٹر غلام حیدر اور منصور الرحمن ، تاریخ کے ملک محمد اسلم گھنجیرہ اور محمد اقبال قاسمی ، جغرافیہ کے شمیم احمد خان اور ملک محمد اسلم ، فلسفہ کے نزیراحمدخان، بیالوجی کے پیر محمد اقبال شاہ اور ملک مقصود احمد ، ریاضی کے شیر گل خان اور کالج کے لائبریرین محمد اسلم خان غلبلی ، سب کے سب سرحد حیات کے اس پار جا بسے۔
کیا لوگ تھے ۔ محبت اور احترام کے خوبصورت رشتوں میں گندھے ہوئے لوگ ۔ ان لوگوں میں سے کچھ کے ساتھ دوستانہ چھیڑ چھاڑ ، قہقہے ، ٹی کلب میں دنیا جہان کے موضوعات پر دلچسپ گفتگو ، بہت سی حسین یادیں آج بھی باقی ہیں ، ان میں سے ہر شخص اپنے مضمون کاماہر تھا۔ ان لوگوں کا دور گورنمنٹ کالج میانوالی کی تاریخ کا سنہری دور تھا۔25 ستمبر2025
میری آمد سے پہلے گورنمنٹ کالج میانوالی کے شعبہ انگریزی میں تین لیکچرر تھے، ملک سلطان محمود اعوان , صاحب ، محمد حنیف شاہ صاحب اور سرور نیازی صاحب ۔ میں چوتھا تھا۔ میرے آنے سے ان کا کام کا بوجھ کچھ کم ہو گیا۔ پہلے سال مجھے سیکننڈ ایئر میڈی کل گروپ، فرسٹ ایئر کا ایک ملاجلا گروپ اور تھرڈ ایئر آرٹس کی کلاس دی گئی۔میں ریٹائرمنٹ تک بیس سال اسی کالج میں رہا۔ یہ تو میرے سٹوڈنٹس بتا سکتے ہیں کہ میں کیسا ٹیچر تھا۔ اچھا یا برا۔ البتہ اتنا کہہ سکتا ہوں
کہ الحمدللہ میں کالج کے مقبول ترین ٹیچرز میں شمار ہوتا تھا۔ انگریزی کی تدریس کا میرا ایک اپنا انداز تھا جس کی وجہ سے دوسرے گروپس کے کئی سٹوڈنٹس بھی میرے گروپ میں آ بیٹھتے تھے ۔میں نے کلاس کی حاضری کبھی نہیں لگائی۔ ایک دفعہ پرنسپل ڈاکٹر غلام سرور خان نیازی نے مجھ سے کہا ملک صاحب آپ کی سیکنڈ ایئر کلاس میں کتنے سٹوڈنٹس ہیں۔میں نے کہا سر ٫ میں نے حاضری تو کبھی نہیں لی صرف اتنا بتا سکتا ہوں کہ آپ کے کاغذات میں اس گروپ کے جتنے سٹوڈنٹس درج ہیں ان سے کچھ زیادہ ہی اس کلاس میں بیٹھتے ہیں۔پرنسپل صاحب ہنس کر بولے یہ تو میں بھی جانتا ہوں۔ بس ویسے ہی پوچھ لیا۔ 26 ستمبر2025
ہمارے زمانے میں پروفیسر صاحبان کے چار ٹی کلب ہواکرتے تھے۔ کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ میں لیبارٹری اٹینڈنٹ مولوی احمد خان چائے بنانے پر مامور تھے ۔ کیمسٹری کے اساتذہ کرام کے علاوہ ڈاکٹر غلام سرور خان نیازی ، ان کے صاحب زادے احمد حسن خان ، تاریخ کے پروفیسر اقبال قاسمی، جغرافیہ کے عطا اللہ خان نیازی اور اسلامیات کے ڈاکٹر غلام حیدر اس کلب کے ممبر تھےبیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں چائے بنانے کی خدمات لیبارٹری اٹینڈنٹ محمد اقبال خان سرانجام دیتے تھے ۔ بیالوجی کے پروفیسر صاحبان کے علاوہ ہم انگلش ڈیپارٹمنٹ کے لوگ، سیاسیات کے پروفیسر سلیم احسن ، اردو کے محمد فیروز شاہ اور رئیس احمد عرشی اور ایجوکیشن کے پروفیسر عبدالقیوم خان بھی بیالوجی ٹی کلب کے ممبر تھے۔
پروفیسر اقبال حسین کاظمی صاحب شوگر کے مرض کی وجہ سے چینی کے بغیر چائے پیتے تھے ۔ اس لیئے ان کا الگ ٹی کلب تھا جہاں چاچا یارن خان ساقی کے فرائض سر انجام دیتے تھے ۔ وہ بیالوجی ٹی کلب کے ملازم اقبال خان کے والد تھے۔اقبال خان مرگی کے مرض میں مبتلا ہو کر جوانی ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے تو بیالوجی ٹی کلب کا کام بھی چاچا یارن خان نے سنبھال لیا ۔جب کالج میں ایم اے انگلش کی کلاسز کا آغاز ہوا تو ہمارے انگلش ڈیپارٹمنٹ کا اپنا ٹی کلب بھی بن گیا۔ مگر ہم نے بیالوجی کلب کی رکنیت بھی جاری رکھی۔ ہمارا نظریہ یہ تھا کہ چائے جتنی بھی مل جائے، جہاں سے بھی مل جائے موسٹ ویلکم ۔ انگلش ڈیپارٹمنٹ کے ٹی کلب میں چاچا حبیب اللہ خان چائے بنانے پر مامور تھے ۔
چائے کی کشش اپنی جگہ ، ان ٹی کلبز میں ہونے والی گفتگو ہنسی مذاق اور چھیڑ چھاڑ کا ایک الگ مزا تھا۔ سرور خان صاحب کے خالص مردانہ لطیفے ، پروفیسر لالا فاروق اور پروفیسر پیر اقبال شاہ کی دلچسپ نوک جھونک ، پیر اقبال شاہ کمرے میں قدم رکھتے تو لالا فاروق علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھتے تھے-مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب ،خدا کرے کہ ملے پیر کو بھی یہ توفیق جواب میں پیر صاحب جو کچھ کہتے وہ بھی سننے کے لائق ہوتاتھا۔۔۔۔۔۔اب وہ رونقیں کہاں – 27 ستمبر2025
اکثر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے کچھ اور بنانے کی بجائے ٹیچر بنایا۔ جو سچی محبت ، عزت اور سکون یہاں ملتا ہے اور کہیں بھی نصیب نہیں ہوتا ۔ عزت افسروں کو بھی بہت ملتی ہے مگر صرف ملازمت کے دوران ۔ کہتے ہیں تحصیلدار صاحب کی گائےفوت ہوگئی تو پوری تحصیل کے لوگ تعزیت کے لئے تحصیلدار صاحب کے ہاں حاضر ہوئے۔ مگر جب تحصیلدار صاحب خود فوت ہوئے تو جنازے میں حاضرین کی ایک صف بھی مشکل سے بنی۔ٹیچر کی عزت اتنی ناپائدار نہیں ہوتی۔ ٹیچر کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عزت ملتی ہے۔سٹوڈنٹس زندگی بھر اس کی عزت کرتے ہیں۔ جہاں بھی مل جائیں سر السلام علیکم کہہ کر جھک کر ملتے ہیں۔ٹیچر کو عزت اس کی قابلیت کردار اور مشفقانہ روئیےکے حساب سے ملتی ہے ۔ ہم ٹیچر لوگ فرشتے نہیں، انسان ہیں۔ ہماری بھی کمزوریاں ہوتی ہیں ، مگر ان کمزوریوں کو سٹوڈنٹس کی نظر سے اوجھل ہی رہنے دیا جائے ۔
میں اپنے ٹیچر ساتھیوں سے اکثر کہا کرتا تھا دوستو سٹوڈنٹس کی قدر کیا کرو۔ ہم انہیں پڑھاتے ہیں تو ان پر کوئی احسان نہیں کرتے۔ اس کام کی ہمیں تنخواہ ملتی ہے۔ اس کے باوجود یہ بچے عمر بھر ہمارا احترام کرتے ہیں۔ ہماری خدمت کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔
28 ستمبر2025
کالج میں انٹرمیڈیٹ اور بی اے کی سطح پر انگلش کے دو پیپرز ہوتے ہیں۔ پہلا پیپر کورس کی کتابوں سے متعلق سوالات پر مشتمل ہوتا ہے۔ دوسرا پیپر گرامر کمپوزیشن کا ہوتا ہے جس میں مضمون نویسی , خطوط نویسی ، غلط فقرات کی درستی ، خالی جگہ پر مناسب لفظ لگانے اور محاورات کو جملوں میں استعمال کرنے کے سوالات ہوتے ہیں ۔اکثر ٹیچر حضرات ساری توجہ پیپر اے پر دیتے ہیں ۔ کتابیں پڑھانے کے بعد سٹوڈنٹس کو اسباق کی سمریاں اور نوٹس یاد کرنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ پیپر بی میں سے بھی صرف مضمون اور خطوط یاد کرلینے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
اس طرح انگلش کی تمام تر تیاری رٹے سے کرائی جاتی ہے ۔سٹوڈنٹس کو اپنے الفاظ میں لکھنا سکھانے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی۔ یوں سٹوڈنٹس ایف اے ، بی اے تو کر لیتے ہیں مگر اپنے پاس سے انگریزی کے دو جملے بھی نہیں لکھ سکتے ۔ اللہ معاف کرے اب تو اس طرح ایف اے ، بی اے کرنے والے کئی لوگ سکولوں میں انگریزی پڑھا بھی رہے ہیں ۔میرا طریقہ کار مختلف تھا۔ میں کورس کی کتابیں تو پڑھا دیتا تھا مگر زیادہ توجہ پیپر بی پر دیتا تھا۔اس طرح سٹوڈنٹس امتحان میں پاس ہونے کے علاوہ کچھ نہ کچھ انگریزی بول اور لکھ بھی لیتے تھے ۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔منورعلی ملک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 29 ستمبر2025
بدنصیبی انہیں نہیں دیکھا
خوش نصیبی کہ ان کی امت ہیں
