MERA MIANWALI OCT 16

منورعلی ملک کی  اکتوبر  2016 کی فیس بک پرپوسٹ

فیس بک سے دوستی

پچھلے اتوار کو بری نظامی پر پوسٹ کے لیے میرے پاس بری کی کوئی پکچر نہ تھی- بہت سے دوستوں نے بری کی پکچرز بھیج دیں- سب کا شکریہ- مگر اصل کمال ظہیر نے کردکھایا – اس نے بری کی چند پکچرز کے علاوہ اس کی اکلوتی کتاب کی پکچر ، حتی کہ بری کی قبر کی پکچر بھی کہیں سے لے کر مجھے بھیج دی- حالانکہ میں نے براہ راست تو اس سے کوئی چیز مانگی بھی نہیں تھی- یہ سب کچھ انشاءاللہ آپ کل کی پوسٹ میں دیکھ لیں گے – اللہ کا شکر ھے کہ دنیا میں ایسے مخلص لوگ بھی موجود ھیں-

ظہیر کا دوسرا شعری مجموعہ “لکار“ اتنا مقبول ھؤا کہ اب اس کا دوسراایڈیشن شائع ھونے والا ھے-

ان دنوں ظہیر ایک مشہورو معروف دواساز کمپنی ایکٹو لیباریٹریز میں ڈسٹرکٹ سیلز مینیجر کے عہدے پر فائز ھیں- یہ کمپنی دل کی ادویات کے لیے مشہور ھے- کتنی دلچسپ بات ھے کہ ایک شاعر دل کی دواؤں کاکاروبار بھی کررھا ھے- ویسے دل کی چھوٹی موٹی بیماریوں کے علاج کے لیے تو اس کی شاعری ھی کافی ھے-1اکتوبر  2016

شعر میرا، آرائش ذکاء ملک-1اکتوبر  2016

میرا میانوالی ——


بری نظامی کے لکھے ھوئے نغموں نے نصرت فٹح علی خان کے فن کو نئی بلندیوں سے آشنا کیا- وہ خود تو غریب تھا، غریب ھیی مرا، لیکن اس کانام اس کے گیتوں کے باعث امر ھو گیا- اس کے دلگداز گیت
کسے دا یار ناں وچھڑے
نے تو سارے پاکستان کو رلا دیا تھا- نصرت صاحب کی آواز میں یہ گیت پی ٹی وی کے ایک ڈرامے ” دھؤاں ” میںں مرکزی کردار, پولیس آفیسر (اداکار نبیل) کی موت کے منظر میں پس منظر سے آتی ھوئی آواز کی صورت گونجتا ھے تو دیکھنے والوں کی آنکھیں بے اختیار برسنے لگتی ھیں- بے پناہ درد ھے اس کے الفاظ میں بھی اور نصرت صاحب کے انداز میں بھی- جن لوگوں نے یہ ڈراما دیکھا تھا وہ اس منظر ، ان الفاظ اور اس آواز کو کبھی نہیں بھلاسکیں گے-
لالا عیسی خیلوی کی آواز میں بھی بری نظامی کا ھر گیت بے پناہ مقبول ھؤا- یہ تمام گیت لوگوں کے دلوں پر لکھے ھوئے ھیںں ، اس لیے یہاں ان کے بول لکھنا ضروری نہیں-
بری اپنی زندگی میں تو اپنی لازوال شاعری کا کوئی مجموعہ شائع نہ کرا سکا- اس کی وفات کے بعد اس کے ایک شاعر دوستت نے “قدراں “ کے نام سے اس کا منتخب کلام شائع کرادیا- کتاب کے ٹائیٹل ، اور بری کی لوح مزار کی پکچرز بری کی اپنی پکچر کے ساتھ اس پوسٹ میں شامل ھیں- یہ سب چیزیں محمد ظہیراحمدمہاروی نے مہیا کردی ھیں
بری کا یہ شعر اس کی لوح مزار کی زینت ھے ————–
کدی کدائیں دنیا اتے بندہ کلہا رہ جاندا اے
اپنے غیر وی بن جاندے نیں بس اک اللہ رہ جاندا اے-
2اکتوبر  2016

فیس بک سے دوستی –

صابر بھریوں دیکھنے میں بھی شاعر ھی لگتے ھیں- یہ بھی میرے ابتدائی فیس بک فرینڈز میں سے ھیں- میری پوسٹس کے مستقل قاری بھی ھیں-
شاعری میں صابر کی وجہ شہرت ڈوھڑا ھے- ڈوھڑا سرائیکی شاعری کی ایک مخصوص صنف ھے- قطعہ اور رباعی کیی طرح ڈوھڑا بھی چار مصرعوں کا ھوتاھے- اس کے چاروں مصرعے ھم قافیہ ھوتے ھیں- اس کی ایک اپنی مخصوص بحر ھے- یہ بحر خاصی لچکدار ھے- مصرعے میں ایک دو لفظ ضرورت کے مظابق گھٹائے بڑھائے بھی جا سکتے ھیں- درد کے اظہار کا یہ ایک نہایت مؤثروسیلہ ھے- ذائقہ بدلنے کے لیے تو ھر شاعر ڈوھڑا لکھ دیتا ھے، لیکن بعض لوگوں کو قدرت ڈوھڑا ھی لکھنے کی صلاحیت عطا کر دیتی ھے- ایسے شعراء کا ھر ڈوھڑا پڑھنے یا سننے والے کے دل اور دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ھے- ایسے شعراء کے ڈوھڑوں کو میں خالص ڈوھڑا کہتا ھوں- اور اکثر یہ بھی کہتا ھوں کہ خالص ماھیا یا ڈوھڑا چاقو کی طرح دل میں اتر جاتا ھے-
خالص ڈوھڑا لکھنے والے شاعر بہت کم ھوتے ھیں- میانوالی میں سب سے پہلے مرحوم بھریم (ابراھیم) غریبب تھے، اسی دور میں چھدرو کے اکبر خان اور عیسی خیل کے یونس خان بھی کامیاب ڈوھڑا نگار تھے- بعد کے دور میں عیسی خیل کے ناطق نیازی اور ڈھیرامیدعلی شاہ کے سید خورشید شاہ نے بہت شہرت پائی- لالا عیسی خیلوی کے ابتدائی کیسٹس مین سے والیوم 14 کی بے پناہ مقبولیت کا بنیادی سبب جوگ میں گائے ھوئے خورشید شاہ کے ڈوھڑے ——

“تساں کنڈ کیتی میتھوں سنگتی پچھدن، ڈس کتھ گیا تیڈا سائیں ِ “ وغیرہ ھیں- لالانے اس انداز میں جوگ پھر کبھی نہیں گایا-

سوھناخان بے وس کو قدرت نے یونس خان کی طرح یہ خصوصی کمال عطا کیا ھے کہ وہ گیت اور ڈوھڑا دونوں یکساں مؤثر انداز میں لکھ لیتے ھیں-

میانوالی میں اس وقت صابر بھریوں ڈوھڑے کے اکلوتے معروف شاعر ھیں———-

تمہید بہت لمبی ھو گئی، مگریہ بھی ضروری تھی- صابر کا مفصل تعارف انشاءاللہ کل کی پوسٹ میں لکھوں گا—–2 اکتوبر  2016

میرا شعر، ذکاء ملک کی آرائش-2اکتوبر  2016

میرا میانوالی ——

پروفیسر صاحبان سے ڈاکٹرغلام سرور خان خوشگوار، دوستانہ شفقت کا برتاؤ کرتے تھے- کسی سے کوئی کام لینا ھوتا تو ہنس کر بے تکلفی سے کہہ دیتے تھے- چھوٹی موٹی غلطیاں نظرانداز کر دیتے تھے-

صرف ایک دفعہ انہیں غصے میں دیکھا- بھلوال کے علاقے کے ایک پروفیسر صاحب تھے، وہ مسلسل کئی کئی دن کالج سے غائب رھتے تھے- اتوار کو گھر جاتے تو کم از کم چار پانچ دن بعد واپس آتے تھے- پہلے تو ڈاکٹر صاحب برداشت کرتے رھے، ایک دن وہ آئے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا “بھائی صاحب، ملازمت سے روزی کمانی ھے تو قانون کی پابندی تو کرنی پڑے گی- اب مزید غیر حاضری برداشت نہیں ھوگی-“
وہ صاحب کچھ زیادہ ھی اتھرے قسم کے آدمی تھے- انہوں نے سخت بدتمیزی سے جواب دیا “ صاحب ، میں تو اپنیی مرضی سے آؤں گا- آپ جو کر سکتے ھیں کر لیں-“

ڈاکٹرصاحب غصے پر قابو نہ پا سکے- مجھے بلا کر کہا “ملک صاحب، فلاں صاحب نے مجھ سے سخت بدتمیزی کی ھے- یہ شخص ٹیچر رھنے کا اھل نہیں- مجھے اس کے خلاف سخت قسم کا ڈی او لیٹر لکھ دیں میں یہ آج ھی سیکریٹری ایجوکیشن کو بھیج دوں گا-

میں نے لیٹر لکھ کر دے دیا- پڑھتے ھوئے ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگئے- لیٹر پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ، اور آہ بھر کر بولے “ ٰیار مجھے اس کے بچوں پر ترس آگیا ھے- مارا جائے گا بے چارا- میں اسے معاف کرتا ھوں-“-3اکتوبر  2016

میرا میانوالی —————–

ٹیچرز کی اصلاح کا ڈاکٹرغلام سرورخان نیازی کا ایک اپنا بہت خوبصورت انداز تھا- وہ ھر ٹیچر کی کمزوریاں جانتے تھے، اور ھنسی مذاق کے طور پہ ان کا ذکر چھیڑ کر ھمیں ان کا احساس دلا دیا کرتے تھے-

ایک دفعہ کالج کے کنٹرولر امتحانات اپنے کچھ چھوٹے موٹے مسائل لے کر آئے تو ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر کہا
“ بھائی صاحب، میں نے آپ کو وھاں کے مسائل حل کرنے کے لیے بٹھایا ھؤا ھے- اگر وھاں کے مسائل میں نےے حل کرنے ھیں، تو آپ میری کرسی سنبھالیں، میں کنٹرولرامتحانات کی کرسی پہ بیٹھ جاتا ھوں ٠“

ھمارے ایک دوست ایک ھفتے کی چھٹی پر گئے، تو ان کی کلاس بی ایس سی کی انگلس ڈاکٹر صاحب نے مجھے دے دی- وہ صاحب واپس آئے تو میں نے کلاس ان کے سپرد کردی- چند دن بعد ایک دن میں ڈاکٹر صاحب کے آفس میں گیا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا – “ملک ، یار بی ایس سی کے لڑکے میرے پاس آئے تھے- کہتے تھے، دوسرے صاحب نے تین ماہ میں ھمیں اتنا کچھ نہیں سکھایا، جتنا منورصاحب نے ایک ھفتے میں ھمیں سکھا دیا- میں نے ان لڑکوں سے کہا “بیٹا، یہ تو میں مانتا ھوں کہ ملک صاحب اچھے ٹیچر ھیں، مگر یہ نہیں مانتا کہ انہوں نے مسلسل 6 دن آپ کی کلاس کو پڑھایا ھے- بہر حال، سٹوڈنٹ کہتے ھیں ھمیں یہی ٹیچر چاھیے- میں آپ کی تھرڈ ائیر کی آرٹس کی کلاس ان صاحب کو دے دیتا ھوں، بی ایس سی کو انگلش آپ ھی پڑھائیں-“

ڈاکٹر صاحب کی بات درست تھی، ان دنوں میرے والد محترم یہاں ھسپتا ل میں داخل تھے- ان کی دیکھ بھال میں خودھی کرتا تھا- اس لیے بعض اوقات کالج نہیں آسکتا تھا- ڈاکٹر صاحب کو بتایا تو انہوں نے کہا “اوھو، آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا- واقعی آپ کا وہ فرض یہاں کے فرائض سے زیادہ اھم ھے- یہاں تو آپ ھمیشہ کام کرتے رھے ھیں، مگر والد کی خدمت کا موقع شاید پھر نصیب نہ ھو- اس صورت حال میں آپ کو روزانہ حاضیری کا پابند میں نہیں کر سکتا-“

ڈاکٹر صاحب کے مجھ پر اور بھی کئی احسانات ھیں- کچھ باتیں انشاءاللہ کل کی پوسٹ میں بتاؤں گا–4اکتوبر  2016

فیس بک سے دوستی ——–


غزل کے حوالے سے محمد ظہیراحمد، اور ڈوھڑے کے حوالے سے صابر بھریوں بلاشبہ ملک گیر سطح پر سرائیکی کےے شعراء کی صف اول میں شامل ھیں- ھمیں ان پر فخر اور ان کی مزید شہرت و مقبولیت کے لیے دعا کرنی چاھیے- یہ وہ شاعر ھیں جن کا کلام ایم اے سرائیکی کے نصاب میں بھی شامل ھونا چاھیے- ان کا کلام پر تحقیق اھل نقدونظر کا فرض ھے- بہت سی ایسی باتیں ان دونوں کی شاعری میں ملتی ھیں جو آج تک کوئی اردو، سرائیکی یا پنجابی شاعر نہیں کہہ سکا-
صابر کے ڈوھڑ ے کی زبان معصوم سادگی کا خوبصورت نمونہ ھے – مثال کے طور پر ایک ڈوھڑے کا یہ مصرع ملاحظہ کیجیے-

توں اج ودا پچھدئیں صابر نوں ، اساں کل شامی دفنا چھوڑئے

میرے پاس اس وقت صابر کی کوئی کتاب موجود نہیں ورنہ اور بہت سی مثالیں بھی دیتا-

ڈوھڑے کی بات چل رھی ھے تو یہ بھی بتا دوں کہ ڈوھڑا شاعر ی کی وہ قسم ھے جسے سازوں کے بغیر بھی مؤثر انداز میں گایا جا سکتا ھے- صرف آواز میں سوز کا ھونا ضروری ھے-

ایک اور نہایت اھم بات یہ کہ ڈوھڑا سانحہ کربلا کے حوالے سے ذاکری کا بنیادی جزو ھے- صابر کو اس طرف بھی توجہ دینی چاھیے، کیونکہ پاکستان کے سب سے بڑے ذاکر سید ریاض حسین شاہ آف موچھ اورسید خادم حسین شاہ آف مہر شاہ والی دونوں میانوالی کے تھے- مگر اس حوالے میانوالی کا کوئی بڑا شاعر ابھی تک منظرعام پر نہیں آیا-

صابر کی شاعری میں کہیں کہیں پینے پلانے کی بات بھی میری نظروں سے گذری ھے- مجھے امید ھے کہ میری طرح صابر بھی نلکے کاخالص تازہ پانی اور چائے ھی پیتا ھے- وہ جو ایک تیسری چیز ھوتی ھے، اس کا ثبوت ملا تو صابر سے اپنی زبان میں بات کروں گا-

صابر میانوالی میں واپڈا میں ملازم ھیں ، ان کی شاعری کے دو مجموعے “تھل جگراتے“ اور “چھاں داسیک“ منظر عام پر آکر معروف و مقبول ھو چکے ھیں- آگے کاسفر جاری ھے-

غزل کے حوالے سے محمد ظہیراحمد اور ڈوھڑے کے حوالے سے صابر بھریوں بلا شبہ قومی سطح کے معروف سرائیکی شعراء کی صف اول میں شامل ھیں- ان کے کلا م پر تحقیق اھل نقدونظر کا فرض ھے، کیونکہ ان دونوں نے کچھ ایسی باتیں بھی کہی ھیں، جو آج تک کوئی اوراردو، سرائیکی یا پنجابی شاعر نہیں کہہ سکا-
صابر کا ڈوھڑا زبان کی معصؤم سادگی کا عمدہ نمونہ ھے- ایک ڈوھڑے کا یہ مصرع دیکھیے-

توں اج ودا پچھدئیں صابر نوں، اساں کل شامی دفنا چھوڑئے

میرے پاس صابر کی کتاب اس وقت موجود نہیں ، ورنہ کئی اور مثالیں بھی دی جا سکتی ھیں- سانحہ کربلا کے حوالے سے ڈوھڑا۔ ذاکری کا بنیادی جزو ھے، صابر کو سرائیکی کلچر کے اس اھم پہلو کی طرف بھی توجہ دینی چاھیے-

(لائیٹ غائب ھو گئی ھے- کچھ باتیں انشاءاللہ کل شیئر کروں گا–4اکتوبر  2016

میری شاعری کے مجموعے “جو تم سے کہہ نہ سکا“ میں سے
انتخاب اور آرائش ——- ذکاءملک-4اکتوبر  2016

میرا میانولی —-

گورنمنٹ کالج میانولی میں میرا ٹرانسفر اسلامیات کی خالی پوسٹ پر ھؤا کیونکہ اس وقت یہاں انگلش کے لیکچرر کی کوئی خالی پوسٹ موجود نہ تھی- پڑھاتا میں انگلش ھی تھا، مگر پوسٹ اسلامیات کی تھی- یہ ایک عارضی بندوبست تھا، اگر اسلامیات کا کوئی لیکچرر یہاں آجاتا تو مجھے پنجاب کے کسی اور کالج میں انگلش کی خالی پوسٹ پر متعین کیا جا سکتا تھا-

جب ڈاکٹرغلام سرورخان نیازی صاحب پرنسپل مقرر ھوئے تو ایک دن مجھے بلاکر کہا “ملک صاحب، کتنے بادشاہ آدمی ھیں آپ –! اسلامیات کی پوسٹ پہ اطمینان سے بیٹھے ھیں، اگر کل کوئی اسلامیات کا لیکچرر یہاں آجائے، اور آپ کو میاں چنوں یا بہاولپور بھیج دیا جائے تو پھر کیا ھوگا؟یہ کہہ کر فورا اسلامیات کی پوسٹ کو انگلش کی پوسٹ میں convert کروانے کا کیس بنا کر محکمہ تعلیم کو بھجوا دیا، اور یوں میانوالی میں میرے مستقل قیام کا بندوبست کردیا-

ایک دن میں پہلے پیریئڈ میں دیر سے پہنچا- ڈاکٹر صاحب میری کلاس میں کھڑے تھے- مجھ سے پوچھا “ملک صاحب، آپ کی اس کلاس میں کتنے سٹوڈنٹ ھیں؟“

میں نے کہا “سر، آپ جانتے ھیں ، میں نے حاضری کا رجسٹر تو کبھی بنایا ھی نہیں- البتہ اللہ کے فضل سے یہ کہہ سکتا ھوں کہ میری کلاس میں جتنے سٹوڈنٹ آپ کے کاغذوں میں درج ھیں، ان سے کچھ زیادہ ھی میری کلاس میں بیٹھتے ھیں-

ڈاکٹر صاحب نے ھنس کر فرمایا ، یہ تو مجھے معلوم ھے- مذاق کے طور پہ آپ سے پوچھ لیا تھا،“

ایک دن مجھ سے کہنے لگے ملک مجھے یہ بھی پتہ ھے کہ آپ سٹوڈنٹس کی حاضری کبھی نہیں لگاتے- یہ بھی جانتا ھوں کہ آپ اکثر چند منٹ پہلے کلاس کو فارغ کر دیتے ھیں- مجھے یہ بھی معلوم ھے کہ آپ بعض اوقات اپنی مرضی سے چھٹی بھی کر لیتے ھیں- لیکن میں آپ کے خلاف ایکشن اس لیے نہیں لیتا کہ آپ کے سٹوڈنٹس ھمیشہ آپ سے مطمئن رھتے ھیں- کبھی آپ کی شکایت لے کر نہیں آئے- آپ کی کلاسز کے ریزلٹ بھی اچھے ھوتے ھیں-

آپ کے خلاف ایکشن اس لیے بھی نہیں لے سکتا کہ آپ انگلش بہت خوبصورت لکھتے ھیں- میں پروفیسر تو ھسٹری کا ھوں، مگر اچھی انگلش بڑے شوق سے پڑھتا ھوں-

ایک اور بات یہ بھی ھے کہ میرا بیٹا احمد (پروفیسراحمدحسن خان نیازی) بی اے میں آپ کا سٹوڈنٹ رھا ھے، وہ بھی اپ سے بہت متاثر ھے- یار یہ بتائیں کون سا جادو ھے آپ کے پاس؟“

میں نے کہا “سر۔ انگلش“

بہت ھنسے میرا یہ جواب سن کر –

اللہ سلامت رکھے بہت مہربان رھے مجھ پر- اب اپنے گھر میں ریٹائرڈ زندگی گذار رھے ھیں- کسی وقت جاکر سلام کر لوں گا- 5اکتوبر  2016

فیس بک سے دوستی ———–

صابر میانوالی میں واپڈا میں ملازم ھیں- ان کی شاعری کے دو مجموعے “تھل جگراتے“ اور چھاں دا سیک “ شائع ھو چکے ھیں- صابر کے چالیس سے زیادہ ڈوھڑے لالا عیسی خیلوی نے گائے ھیں- سسی کے حوالے سے صابر کے کچھ ڈوھڑے علی عمران اعوان نے بھی ریکارڈ کرائے، ان کے علاوہ میانوالی کے تقریبا ھر گلوکار نے صابر کے ڈوھڑے گائے ھیں- ڈوھڑا عام طور پر گیت کے شروع میں گایا جاتا ھے- یہ شاعری کی ایسی قسم ھے جسے سازوں کے بغیر بھی مؤثر انداز میں گایا جا سکتا ھے، صرف آواز میں سوز ھونا ضروری ھے- کئی ذاکروں کو شہرت ڈوھڑوں ھی سے ملی-

پچھلے دنوں صابر کے کچھ ڈوھڑے پینے پلانے کے بارے میں میری نظر سے گذرے ھیں- مجھے امید ھے کہ صابر بھی میری طرح صرف نلکے کاخالص تازہ پانی اور چائے ھی پیتا ھے- وہ جو پینے کی ایک تیسری چیز ھوتی ھے ، اس کا ثبوت ملا تو صابر سے اپنی زبان میں بات کروں گا-5اکتوبر  2016

فیس بک سے دوستی —

اس عنوان کے تحت پوسٹس کا تسلسل تقریبا ایک ماہ سے جاری ھے- میں صرف ان لوگوں کے بارے میں لکھ سکتا ھوں جن سے میرا فیس بک پہ آنے سے پہلے بھی کسی حوالے سے تعلق رھا- اور فیس بک پر بھی وہ ھمیشہ میرے قریب رھتے ھیں-کچھ ایسے لوگوں کا بھی ذکر میں نے ضروری سمجھا جو میری پوسٹس کی آرائش یا معلومات کی فراھمی میں میری مدد کرتے رھتے ھیں- ان میں سے بیشتر لوگ ایسے ھیں جن سے میری ابھی تک ملاقات بھی نہیں ھوسکی- ان کے بارے میں معلومات بھی بہت کم تھیں ، مگر ان کے بارے میں لکھنا میں نے اپنا اخلاقی فرض سمجھا- کچھ معلومات اور ان کی پکچرز لے کر ان کے بارے میں لکھ دیا-

اب صرف دوچار ایسے لوگ رہ گئے ھیں ، جو میرے فیس بک پر آنے سے لے کر اب تک روزانہ میری پوسٹ پڑھ کر اس پر کمنٹس دیتے ھیں- اور اس کام کے لیے تقریبا ھر وقت آن لائین رھتے ھیں- اللہ ان کو اس محبت کا اجر خیر عطا فرمائے- دوچار پوسٹس میں ان کا مختصر ذکر کرنے کے بعد پوسٹس کا یہ سلسلہ ختم کر دوں گا-

“میرا میانوالی“ چونکہ میرے ذاتی مشاھدات اور تجربات کی داستا ن ھے ، اس لیے وہ سلسلہ انشاءاللہ چلتا رھے گا-

ایک بات یاد رکھیے کہ جن لوگوں کا میں ذکر کرتا ھوں کسی سفارش یا جانب داری کی بنا پر نہیں، بلکہ ایمان داری سے ان کی محبتوں کا قرض ادا کرنے کے لیے کرتا ھوں –6اکتوبر  2016

میرا میانوالی —-

ڈاکٹرغلام سرورخان نیازی صاحب کے بعد ملک محمدانورمیکن صاحب ھمارے کالج کے پرنسپل مقرر ھوئے- یہ میرے آخری پرنسپل تھے- مجھ سے ایک دن پہلے ریٹائر ھوئے-


ملک صاحب نے ملازمت کا آغاز گورنمنٹ کالج لاھور سے کیا- فزیکل کیمسٹری کے لاجواب ٹیچر ٹھے- اس حوالے سے گورنمنٹ کالج لاھور میں بھی مشہور تھے- کندیاں کے رھنے والے تھے- گھریلوذمہ داریاں نبھانے کے لیے لاھور سے میانوالی آگئے-

ملک صاحب بہت سادہ مزاج اور زندہ دل انسان تھے- لباس، اندازگفتگو، اور ظرز عمل کے لحاظ سے میانوالی کے رویتی کلچر کا ایک عمدہ نمونہ تھے- اردو بھی یہیں کے لہجے میں بولتے تھے- بہت بے تکلف انداز میں گفتگو کرتے تھے- ٹیچر ھوں یا سٹوڈنٹ سب کو یار کہہ کر مخاطب کرتے تھے-

کلاس سے باھر پھرنے والے سٹوڈنٹس کو تو ڈاکٹر غلم سرورخان نیازی کی طرح ڈانٹ دیا کرتے تھے- ویسے سٹوڈنٹس سے دلچسپ ھنسی مذاق بھی کرتے رھتے تھے- سٹوڈنٹس ًمیں مقبولیت کے لحاط سے وہ اس کالج کے سب سے مقبول پرنسپل تھے- میرے بیٹے پروفیسر محمد اکرم علی ملک کے بھی وہ سب سے پسندیدہ ٹیچر تھے- ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ کل جب میں نے ان کی پکچر کا مطالبہ کیا تو ڈاکٹراشفاق احمد ، حسنین خان نیازی اور ملک مشتاق احمد کسر اور حبیب اللہ خان نیازی نے فی الفور ان کی کئی پکچرز بھیج دیں- سب سے بڑا ذخیرہ میرے ایک اور بہت پیارے بیٹے موسی خیل کے ممریز خان نیازی نے مہیا کردیا – اس میں کئی گروپ فوٹوز بھی شامل ھیں- باقی باتیں انشاءاللہ کل -7اکتوبر  2016

فیس بک سے دوستی —————-
نیچے دی ھوئی پکچرز میں  پگڑی والے جوان معظم عباس سپرا ھیں – بائیں طرف والے صاحب محمد ایان امیر- یہہ دونوں روزاول سے میرے فیس بک کے ساتھی ھیں-

معظم عباس سپرا کا گھر منڈی بہاؤالدین میں ھے- تعلیم سے دلچسپی نہ تھی – مڈل تک جا کر ھاتھ کھڑے کر دیئے- دس سال اپنی زمین پر کاشتکاری کرتے رھے-2008 سے مکہ مکرمہ میں مقیم ھیں- زیادہ تر وقت خانہ کعبہ میں گذارتے ھیں ( ماشاءاللہ کتنے خوش نصیب ھیں) کام بھی ادھر ھی کرتے ھیں- کہتے ھیں میں 2012 میں فیس بک پہ آیا – مجھے لالاعیسی خیلوی کے 1200 گیت اورغزلیں زبانی یاد ھیں- ان میں سے 1077 اب تک لکھ کر پوسٹ کر چکا ھوں- لالا سونا خان بے وس اور مجھے اپنا بزرگ مانتے ھیں-
بائیں جانب والے دوست محمدایان امیر واں بھچراں کے رھنے والے ھیں – اپنے بارے میں صرف اتنا بتایا کہ میںں پاک فوج میں ھوں ، اور کراچی میں خدمات سرانجام دے رھا ھوں- ایک سال سے مجھ سے ملنا چاھتے ھیں- قسمت کا کھیل ، کہ جب یہ گھر آتے ھیں ، میں لاھور میں ھوتا ھوں-
اللہ ان دونوں نوجوانوں کو سلامت رکھے، بہت محبت اوراحترام کرتے ھیں-
اگلی پوسٹ انشاءاللہ اتوار کو اسی وقت ھوگی-7
اکتوبر  2016

میرا میانوالی —

پرنسپل ملک محمد انور میکن کا دور اس لحاط سے تاریخی دور کہلائے گا کہ کالج میں دو اھم تعمیرات کا اضافہ اس دور میں ھؤا- ایک عمارت موجودہ ایم اے بلاک ھے، جہاں ایم اے انگلش اور ایم اے سیاسیات کی کلاسز منعقد ھوتی ھیں-

دوسری عمارت رحمتہ للعالمین آڈیٹوریم ھے ، جس کا نام بھی اس ادارے کے لیے دائمی خیروبرکت کا وسیلہ سمجھا جا سکتا ھے- رحمتہ للعالمین آڈیٹوریم اس مبارک نام سے منسوب تعمیرات کے اس سلسلے کی ایک کڑی ھے، جس کا آغاز سرگودھا ڈویژن کے نیک دل کمشنر شہید تجمل رضوی نے کیا تھا- سید تجمل رضوی اعلی سرکار ی عہدوں پر جہاں بھی رھے، وھاں کے ھسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں رحمت للعالمین بلاک اپنی خصوصی گرانٹ اور صاحب ثروت افراد کے تعاون سے تعمیر کرانا اپنا مشن سمجھ کر یہ کار خیر سرانجام دیتے رھے-

کتنے دکھ کی بات ھے کہ ایسے نیک دل افسر کو سرگودھا میں ایک شام کسی ملعون نے قتل کردیا- میری نظر میں یہ فرقہ وارانہ قتل نہیں تھا، بلکہ ابلیس زادہ قاتل کے لیے رحمتہ للعامین کے بابرکت نام سے عمارات کی تعمیر ناقابل برداشت تھی-

ملک انور صاحب کےحوالے سے باقی باتیں انشاءاللہ سوموار کی پوسٹ میں ھوں گی –نیچے دی گئی پکچر میں پرنسپل ملک محمد انور رحمتہ للعالمین آڈیٹوریم کا افتتاح کر رھے ھیں -8اکتوبر  2016

میرا میانوالی —–

آج ذکر ھوگا میانوالی کے نامور سینیئر شاعر ادیب، دانشور، صحافی اور ٹیچر سیدنصیر شاہ کا- سید نصیر شاہ وہ شخصیت تھے جس نے ھمیں فاروق روکھڑی اور منصورآفاق جیسے بلند پایہ شاعر ، دانشور اور صحافی دیئے- یہ دونوں سید نصیر شاہ کے شاگرد بھی تھے ، قریب ترین دوست بھی- دونوں نے قلم پکڑنا شاہ جی ھی سے سیکھا- دونوں کی شخصیت پر شاہ جی کی چھاپ واضح نظرآتی ھے- فاروق روکھڑی کی مستی میں جھومتی گھومتی شاعری اور منصورآفاق کا ترقی پسندی سے تصوف کی جانب خوبصورت رجوع، یہ سب کچھ شاہ جی ھی کی شخصیت اور تربیت کے کرشمات ھیں- شاہ جی خود تو ھمیشہ گوشہ نشین ھی رھے، مگر شاگرد ایسے چھوڑ گئے، جو ھر جگہ میرمجلس ثابت ھوئے-

سید نصیر شاہ میانوالی کے معروف خانوادہ تصوف , گانگوی خاندان کے منفرد فرد تھے- ان کی جوانی کا زمانہ ادب میں ترقی پسند تحریک کا عہد شباب تھا- اس دور کے ھر حساس پڑھے لکھے نوجوان کی طرح شاہ جی بھی اس تحریک کے سرگرم کارکن بن گئے، کیونکہ یہ تحریک جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت اور مزدور طبقے کے حقوق کے لیے فکری اور عملی جدوجہد کی تحریک تھی- سعادت حسن منٹو اور فیض احمد فیض جیسے بڑے تخلیق کار اس تحریک کے قائدین تھے- شاہ جی نے اپنی بساط سے بڑھ کر اس تحریک کے لیے خدمات سرانجام دیں- 1960 کی دھائی میں میانوالی سے “سوزوساز“ نام کا ماھوار ادبی رسالہ جاری کیا، -شاہ جی کے بارے میں مزید باتیں انشاءاللہ اگلے اتوار کو ھوں گی-

اس پوسٹ میں  پہلی پکچر وسیم سنطین کی ھے- دوسری عرفان حیدر کی- یہ دونوں نوجوان چکوال کی حسین سرزمین کے باشندے ھیں- فیس بک پر روزاول سے میراساتھ دے رھے ھیں-


وسیم سبطین 1990 میں FSc کرنے کے بعد آرمی انجینیئرز میں ملازم ھوگئے- اپریل 2016 میںں وھاں سے ریٹائر ھو کر اپنے گھر آگئے- اب پھر آرمی انجییئرز سروس میں کنٹریکٹ پر ملازمت کے لیے درخواست دے رکھی ھے- اللہ کرے ان کا تقرر جلد ھوجائے-

معظم عباس سپرا کی طرح یہ بھی لالا عیسی خیلوی کے وکھری ٹائیپ کے عاشق ھیں- کہتے ھیں 1982 میں پہلی بار لالا کا گیت “سچی ڈس وے ڈھولا کل کیوں نئیں آیا“ سن کر لالا کا پکا فین بن گیا- ان کے پاس لالا کے 518 آڈیو کیسیٹ، 113 وڈیو سی ڈیز، 4 موویز,اور 132 ٹی ؤی انٹرویوز کی ریکارڈنگ موجود ھے- کہتے ھیں مجھے لالا کے 1500 گیت زبانی یاد ھیں- ان میں سے 150 کی آرائش کر کے پوسٹ کر چکے ھیں- فاروق روکھڑی ,سونا خان بے وس اور میں ان کے پسندیدہ شاعر ھیں-

عرفان حیدر چکوال کے نوحی گاؤں کھارا میں رھتے ھیں- مجھ سے 4 سال پہلے کا فون پر رابطہ ھے- فیس بک پر بہت متحرک شخصیت ھیں- دوسال ابوظہبی میں رھے تو پھر بھی مجھ سے رابطہ رھا- میری کتاب “جو تم سے کہہ نہ سکا“ بھی ان کے پاس موجود ھے- آج کل اپنے ٹریکٹر کی مدد سے اپنی زمین کی کاشتکاری میں مشغول ھیں- یہ بھی لالا کے دیرینہ فین ھیں —9اکتوبر  2016

میرا میانوالی—–

پرنسپل ملک محمد انور میکن کا دور اس لحاظ سے بھی تاریخ ساز تھا کہ گورنمنٹ کالج میانوالی میں ایم اے انگلش اور ایم اے سیاسیات کی کلاسز کا آغاز اسی دور میں ھؤا- کالج کے اس اعزاز کا خواب تو سابق پرنسپل ڈاکٹر غلام سرورخان نیازی نے دیکھا تھا، اس کی تعبیر ملک انور صاحب کے دور میں سامنے آئی-

ملک صاحب بہت سادہ انسان تھے-اتنے سادہ کہ اپنی گاڑی لے لی مگر پھر بھی روزانہ ماڑی انڈس ٹرین سے میانوالی آتے تھے- گاڑی پہ ان کا صاحبزادہ سرفراز کالج آتا تھا- وہ اس وقت بی اے میں پڑھتا تھا- کالج ٹائیم سے کچھ دیر پہلے میرےے ھاں آکر مجھ سے انگلش پڑھتا تھا- پھر اپنی گاڑی میں مجھے کالج لے جاتاتھا- ملک صاحب ٹرین سے اتر کر , مین بازار میںں ملک ثناءاللہ اعوان کی دکان سے اپنی سائیکل لے کر, سائیکل ھی پہ کالج جاتے تھے- اکثر ھماری گاڑی جہاز چوک کے قریب انہیں کراس کرتی تھی- مسکرا کر ھمارے سلام کا جواب دیتے اور ھمیں اشارہ کرتے کہ آپ لوگ نکل جائیں-
ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ ملک صاحب یہ کیا بات ھوئی- اپنی گاڑی ھوتے ھوئے بھی آپ ٹرین پہ سفر کیوں کرتےے ھیں-

ھنس کر بولے “یار، اس ٹرین پہ میرے بہت سے دوست ملازمت کے سلسلے میں میانوالی اور سکندرآباد آتے جاتے ھیں- ھم بہت عرصے سے اکٹھے آتے جاتے ھیں- مجھے وہ لوگ نہیں چھوڑتے – کہتے ھیں یہ تو سراسر زیادتی ھے کہ آپ گاڑی کی خاطر ھماری سنگت چھوڑ دیں——- بہت نے تکلف دوست ھیں ھم سب- سفر کے دوران خوب گپ شپ لگاتے، ھنستے ھنساتے ھیں- ان پرانے ساتھیوں کو بھلا میں کیسے چھوڑ دوں ؟؟؟

فیس بک سے دوستی —–

اس پوسٹ میں دونوں نوجوان میری طرح داؤدخیلوی ھیں- دلچسپ بات یہ ھے کہ دونوں سے میرا تعارف فیس بک پر ھی ھؤا- یہ دونوں چونکہ بیرون ملک رھتے ھیں ، اس لیے میری پوسٹس کو گھر سے آنے والا خط سمجھ کر منتظر رھتے ھیں- جب سے میں فیس بک پہ آیا ھوں یہ میری ھر پوسٹ باقاعدہ پڑھ کر لائیکس یا کمنٹس دیتے رھتے ھیں- میں ان کے بزرگوں کو تو اچھی طرح جانتا ھوں ، ان سے تعارف فیس بک پر ھی ھؤا- یہ دونوں جنرل شہید ثناءاللہ خان نیازی کے قبیلے علاؤل خیل کے فرد ھیں-

پہلی پکچر فرحان سلیم اللہ خان کی ھے- یہ قطر فرٹیلائیزر فیکٹری کے آپریشنز ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے ھیں- اپنی فیملی کے ساتھ قطر ھی میں رھتے ھیں- ان کے داداحضور بہت عرصہ پہلے داؤدخیل سے میانوالی وانڈھی ھاشم شاہ میں منتقل ھوگئے تھے- فرحان کی پیدائش بھی میانوالی شہر ھی میں ھوئئ- یہ الصفہ کالج کے پہلے بیچ میں میرے بیٹے پروفیسرامجدعلی ملک کے سٹوڈنٹ تھے-

دوسری تصویر محمد فرحت اللہ خان کی ھے- یہ داؤدخیل میں میرے مہربان دوست ، ریٹائرڈ ھیڈماسٹر مرحوم غلام مرتضی خان کے صاحبزادے ھیں- ان کا گھر داؤدخیل میں ھمارے گھر کے سامنے ھے، ان کے بھائی عرفان کوتوجانتا ھوں، مگر انہیں پہلی دفعہ فیس بک پر ھی دیکھا- فرحت بیٹا کمپیوٹر آپریٹر ھیں- پاک آرمی اور اٹامک انرجی کمیشن میں بھی کام کرتے رھے- کچھ عرصہ سے مدینہ منورہ میں کام کر رھے ھیں- ان دونوں کے لیے بہت سی دعائیں- ——10اکتوبر  2016

میرا میانوالی —-

یہی موسم تھا – شدید بخار کی وجہ سے دو دن کالج نہ جا سکا-
تیسرے دن کالج پہنچا تو ملک صاحب نے کہا “ آپ دو دن کالج نہیں آئے“
میں نے بتایا کہ مجھے بخار تھا، تو ملک صاحب نے کہا “ پھر چھٹی کی درخواست بھیج دینی تھی -“
مجھے غصہ آگیا – میں نے کہا “ مجھے درخواست لکھنا نہیں آتا-“
یہ کہہ کر میں انگلش ڈیپارٹمنٹ آ گیا- اپنے کمرے میں بیٹھا چائے پی رھا تھا تو ملک صاحب ڈیپارٹمنٹ پہنچ گئے– میرے کمرے کے دروازے میں رک کر کہا :
” May I come in, sir ? ”
میں استقبال کے لیے اٹھا تو ملک صاحب نے مجھے گلے لگا لیا- کہنے لگے ،
” I’m very sorry, Malik Sahib.
میں کسی اور وجہ سے پریشان بیٹھا تھا – جب آپ نے کالج نہ آنے کی وجہ بتادی تھی تو مجھے کچھ اور کہنے کی ضرورت نہ تھی — خیال ھی نہ رھا کہ کس سے بات کر رھا ھوں- آپ تو میرے بھائی ھیں- آپ ھی کے دم سے تو میرا آفس چل رھا ھے-
” I’m really very sorryy.”

ریٹائرمنٹ کے بعد ملک محمد انور صاحب میانوالی میں ایک معیاری تعلیمی ادارہ قائم کرنا چاھتے تھے- اس کے لیے پلاننگ انہوں نے چند ماہ پہلے شروع کری تھی- گلی کلوریاں میں نیونفیس بک ڈپو کی عالیشان کوٹھی بھی کرائے پر لے لی- مجھ سمیت کچھ دوستوں نے اس ادارے میں کام کرنے کے وعدے بھی کرلیے- مگر–

بہت دکھ سے کہہ رھا ھوں کہ شاید ان دوستوں کی وفاداریاں پرنسپل کی کرسی سے وابستہ تھیں – تقریبا دو ھفتے ملک صاحب اور میں روزانہ صبح مجوزہ کالج کی عمارت میں حاضری دیتے رھے- کوئی دوست بھی نہ آیا- مایوس ھو کر ملک صاحب نے یہ منصوبہ ترک کر دیا اور کندیاں میں اپنے گھر میں بچوں کو پڑھانے لگے- دوستوں کی بے رخی نے میانوالی کو ایک معیاری تعلیمی ادارے سے محروم کردیا- کاش کہ یہ ادارہ قائم ھو جاتا- ملک صاحب جیسا ٹیچر میانوالی کو پھر کبھی شاید ھی نصیب ھو-

اللہ مغفرت فرمائے بہت اچھے بھائی تھے میرے- ان کی اچانک وفات کی خبر ملی تو میں اس وقت لاھور میں تھا- بہت دکھ ھؤا- بہت یاد آتے ھیں- کسی دن قبر پہ حاضری دے کر سلام کرلوں گا، انشاءاللہ -11اکتوبر  2016

خطاب آخر سے ——– سلام یا حسین
انتخاب و پیشکش —– شاھد انورخان نیازی

سلام علے بنت الحسین

(قطعہ میرا ، پیشکش ذکاء ملک )

تقریبا 1400 سال پہلے

یہی دن تھا ، تقریبا یہی وقت ——————–!!!!!

(انتخاب اور پیشکش ، شاھد انور خان نیازی، داؤدخیل)

میرا میانوالی —–

١١ اکتوبر کی پوسٹ “میرا میانوالی“ میں نے اپنے حساب سے ملک محمد انور میکن صاحب پر آخری پوسٹ سمجھ کر لکھی تھی- مگر ا سی دن پروفیسر عامر کاظمی نے ایک ایسا واقعہ یاد دلا دیا جس سے دو بزرگ پروفیسروں کے کردار کا ایک خوبصورت پہلو سامنے آتا ھے- ان بزرگ پروفیسر صاحبان میں سے ایک تو ملک محمد انور میکن تھے، دوسرے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین، پروفیسر ملک سلطان محمود اعوان-

تقریبا پچاس سال سے ھم پروفیسر حضرات بھی دو متحارب نظریاتی (سیاسی کہہ لیں) گروپس میں تقسیم ھیں- ایک گروپ تنظیم اساتذہ کہلاتا ھے دوسرا انجمن اساتذہ – سیدھے سادے لفظؤں ًمیں ٰیوں سمجھ لیجیئے کہ ایک گروپ جماعت اسلامی گروپ کہلاتا ھے، دوسرا پیپلز پارٹی گروپ-
جب میں گورنمنٹ کالج میانوالی آیا تو معلوم ھؤا کہ یہاں یہ گروپ بندی نہایت منظم اور شدید ھے- تنظیم اساتذہ کےے سربراہ پروفیسر سلطان محمود اعوان تھے، انجمن اساتذہ کے قائد پروفیسر ملک محمد انور میکن- ان دونوں شخصیات کے درمیان اختلافات اتنے شدید تھے، کہ جب میکن صاحب پرنسپل بن کئے تب بھی ان دوحضرات کے درمیان فاصلہ برقرار رھا- صرف تقریبات میں مجبورا ایک دوسرے سے رسمی سلام دعا کر لیتے تھے-

ریٹائرمنٹ کے بعد ملک سلطان محمود صاحبالصفہ کالج کے بانی پرنسپل مقرر ھوگئے- میکن صاحب رٰیٹائرمنٹ کے بعد ایک دن اچانک سلطان صاحب سے ملنے کے لیے الصفہ کالج جا پہنچے- یہ ایک بہت بڑا دھماکہ تھا- آج کی زبان میں بریکنگ نیوز کہہ لیں-

پروفیسر سلطان محمود اعوان نے کالج کے گیٹ پر میکن صاحب کا والہانہ استقبال کیا – اپنے آفس میں پہنچ کر میکن صاحب کو پرنسپل کی کرسی پیش کی مگر میکن صاحب نے اس پر بیٹھنے سے انکار کرتے ھوئے پروفیسر سلطان صاحب کو گلے لگا لیا ، اس کے بعد یہ دونوں بزرگ صؤفے پر بیٹھ کر کچھ دیر زاروقطار روتے رھے-

اس واقعے میں ھم سب لوگوں کے لیے کئی سبق ھیں- ھم نہ سیکھ سکیں تو ھماری قسمت-

(نیچے دی ھوئی تصویر میں دائیں سے بائیں طرف پروفیسر طاھر جہان خان نیازی ، پروفیسر سرور نیازی صاحب- پرنسپل پروفیسر ملک محمف انور میکن صاحب ، پروفیسر ملک سلطان محمود اعوان صاحب اور میں- یہ پکچر ھمارے بہت پیارے سٹوڈنٹ حبیب اللہ خان نیازی نے بھیجی ھے-

ھمارے پیچھے کھڑے لڑکوں میں درمیان والے سی ایس پی آفیسر مرحوم فصیح السلام ھیں- آہ !!! یہ بھی ھمارے بہت پیارے بیٹے تھے-)-14اکتوبر  2016

میانوالی شہر سے میرے بہت پیارے بیٹے اشفاق خان نیازی کا گفٹ
میرے شعر کی آرائش ، شعر کے مفہوم کے عین مطابق

محمد محمود احمد ھاشمی کی وفات پر فوری ردعمل
پہلا شعر محمود کے جنازے میں شرکت سے چند منٹ پہلے ھؤا، بقیہ نظم جنازے سے واپسی کے کچھ دیر بعد مکمل ھوگئی– اگے ھفتے محمود پہ پوسٹ بھی لکھوں گا ، انشاءاللہ
آرائش ، ذکاء ملک– 15اکتوبر  2016

میرا میانوالی ——-
آج سے 55 سال پہلے میانوالی سے ایک ماھوار ادبی جریدہ نکالنا بچوں کا کھیل نہ تھا- اس زمانے میں یہاں نہ تو کوئی پرنٹنگگ پریس تھا، نہ کوئی اور سہولت- اس زمانے میں کمپیوٹر سے کمپوزنگ کا تصور ھی ناممکن تھا- کمپیوٹر یہاں تھا ھی نہیں- خوشنویس (کاتب) ایک خاص قسم کے چکنے کاغذ پر ایک مخصوص سیاھی سے لکھتے تھے- اس کا عکس پرنٹنگ مشین سے کاغذ پر چھاپتے تھے- میانوالی میں کوئی کاتب بھی نہ تھا- داؤادخیل کے ھمارے دوست نورخان لمے خیل “سوزوساز “ کی کتابت کرتے تھے-
“سوزوساز“ کے پبلشر ھمارے محترم دوست غلام جیلانی جاس تھے- اس وقت لیاقت بازار میں ان کا بکک ڈپو“سوزوساز“ کا دفتر بھی تھا، اھل قلم کی بیٹھک بھی- سوزوساز ایک معیاری ادبی جریدہ تھا؛ اداریہ جیلانی جاس صاحب لکھتے تھے، “کڑوے گھونٹ “ کے عنوان سے طنزیہ مزاحیہ کالم شاہ جی لکھتے تھے- شاعری ، افسانے ، مضمون، خطوط سب کچھ سوزوساز میں ھوتا تھا- وسائل اور سہولتوں کے فقدان کے باعث یہ معیاری ادبی جریدہ ایک آدھ سال بعد ھمیشہ کی نیند سوگیا-

شاہ جی کے بارے میں اور بھی بہت سی اچھی باتیں کہنی ھیں- کچھ مہمانوں کی آمد نے ادھر مصروف کر دیا- ان کے بارے میں تیسر ی پوسٹ انشاءاللہ اگلے ھفتے کسی دن لکھ دوں گا–16کتوبر  2016

میرا ایک شعر
پیشکش ، شاھد انور خان نیازی ، داؤدخیل

میرا میانوالی ——————
چوھدری عبدالخالق ندیم معاشیات کے پروفیسر اور ھاسٹل سپرنٹنڈنٹ تھے- لباس تو پینٹ شرٹ پہنتے تھے- مگرر زندہ دلی، دریادلی اور بول چال میں خالص وسطی پنجاب کے دیہاتی چوھدری تھے- سینہ تان کر چلتے تھے- یاروں کے یار تھے- صرف حقہ ، پگڑی اور دھوتی کی کمی تھی، باقی ھرادا چوھدریوں والی تھی- ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رھنے والے تھے-

چوھدری ندیم صاحب نے ھاسٹل میں ایک فیملی جیسا ماحول بنا رکھا تھا- بچوں کی ضرویات کا بہت خیال رکھتے تھے- اس لیے بچے بھی دل و جان سے ان کا بہت احترام کرتے تھے- کوئی مسئلہ ھوتا تو باقاعدہ چوھدریوں والی کچہری (پنچایت ) لگا کر مشاورت سے حل کرتے تھے-

پروفیسر سرور نیازی کے لکھے ھوئے ڈرامے غڑوبا ، بودلہ، اورمیرا لکھا ھؤا ڈراما گھر آیا مہمان ھاسٹل ھی میں سٹیج ھوئے- ریہرسل بھی ھاسٹل میں ھوتی تھی- کالج ٹائیم کے بعد اداکار ، ھدایت کار (مرحوم پروفیسر منصورالرحمان) سرور صاحب اور میں دن کا باقی حصہ ھاسٹل ھی میں گذارتے تھے- چائے پانی کا بندوبست ندیم صاحب اپنی جیب سے کرتے تھے- کھانے کا بندوبست دریادل پرنسپل چوھدری محمد نواز صاحب نے کر دیا تھا- ڈراموں کا سازوسامان بھی کالج نے مہیا کردیا-

ندیم صاحب نے یہ تمام ذمہ داریا ں بہت اچھے انداز میں نبھائیں- تینوں ڈرامے بہت سلیقے سے سٹیج ھوئے-

ندیم صاحب پروفیسروں کی بائیں بازو کی تنظیم کے لیڈر بھی تھے– اس سیاست میں بھی ان کا چوھدریوں والا انداز رھا- اپنے مؤقف پہ سختی سے ڈٹ جاتے تھے-

ھاسٹل کی تاریخ کا وہ سنہری دور تھا- عام طور پر سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور وارڈن کے سوا ھم پروفیسر لوگوں کا ھاسٹل سے کوئی تعلق نہیں ھوتا- ھماری آمدورفت اپنی کلاسز اور ٹی کلب تک محدود رھتی ھے- مگر ندیم صاحب کے زمانے میں بہت سے لوگ ندیم صاحب کی مجلس میں حاضرھو کر ان کے قہقہوں میں شریک ھوتے تھے –

فیس بک سے دوستی ———–
بحمداللہ ، ھماری دوستی کا سلسلہ خوب چل رھا ھے، 5000 دوست تو کب کے پورے ھوگئے تھے- فیس بک نےے ھاتھ کھڑے کردیئے ، تو فالوورز کی راہ سے لوگ آنے لگے- آج اس وقت تک 2024 لوگ اس سلسلے میں آچکے ھیں دوچار کا اضافہ روزانہ ھو رھا ھے- اللہ سے دعا کرتا ھوں کہ دوستی اور دعاؤں کے اس رشتے کو ھم سب کے لیے خیروبرکت کاذریعہ بنائے-

ظفرخان نیازی اور میں نے لوگوں کو نثر پڑھنے کا عادی بنا دیا ھے- کچھ اور لوگ بھی اس میدان میں آرھے ھیں- نثر پڑھنے سے لکھنا بھی آجاتا ھے ، علم میں بھی اضافہ ھوتا رھتا ھے- اور کچھ بھی حاصل نہ ھو، کم ازکم کچھ دیر کے لیے ذاتی پریشانیوں سے نجات مل جاتی ھے-

شاعری بہت کم کرتا ھوں- بہرحال میری شاعری کا ایک اپنا ذائقہ ھے، جو لوگوں کو اچھا لگتا ھے- پہلے تو میں شعر بھیج کر آرائش کی فرمائش کرتا رھا- ذکاء ملک کی مہربانی سے جب سے میری شاعری کا مجموعہ “جو تم سے کہہ نہ سکا “ آن لائین ھوئا ھے میرے کچھ بیٹے اپنی پسند کے میرے شعر آراستہ کر کے بھیج رھے ھیں- سب کا ممنون ھوں – جوبھی شعر آئے گا اپنے پیج پہ لگاتا رھوں گا- شکریہ —17اکتوبر  2016

میرا میانوالی —-

میرے یہاں انے سے کچھ عرصہ پہلے یہاں فلاسفی کے نوجوان لیکچرر فلک شیر صاحب ھؤا کرتے تھے- فیصل آباد کے صاحب جائیداد والدین کے اکلوتے بیٹے تھے- والد فوت ھوچکے تھے، والدہ زندہ تھیں- والدہ نے بیٹے کی خواھش کے مطابق فیصل آباد کے ایک کالج کی خاتون لیکچررسے رشتہ طے کرکے اس کا نکاح بھی کروا دیا تھا- رخصتی کچھ عرصہ بعد ھونی تھی-

فلک شیر صاحب جب کبھی گھر جاتے تو اپنی بیوی کے کالج جا کر ان سے مل لیا کرتے تھے- نکاح ھو چکا تھا ، اس لیے ایک دوسرے سے ان کی چند منٹ کی ملاقات ناجائز بات نہ تھی- خدا جانے کیوں اس کالج کا ایک جونیئر لیکچر اسسٹنٹ ان کی ملاقاتوں کی راہ میں حائل ھونے لگا- ایک دن فلک شیر صاحب وھاں گئے تو اس نے ان کی سخت توھین کردی- کچھ دیر بعد فلک شیر صاحب اپنے بھانجے کو ساتھ لے کر پھر وھاں گئے- ان کے بھانجے سے اس جونیئر لیکچر اسسٹنٹ کی تکرار کے دوران مشتعل ھوکر ان کے بھانجے نے اس کے پیٹ میں چاقو گھونپ کر اسے ھلاک کر دیا-

مقتول بھی اپنی والدہ کا اکلوتا بیٹا تھا- اس کی والدہ نے فلک شیر صاحب کو قاتل نامزد کردیا- راضی نامہ کے لیے فلک شیر صاحب کی والدہ نے اچھی خاصی جائیداد اور نقد رقم بھی پیش کی، مگر مقتول کی والدہ نہ مانی- فلک شیر صاحب کے بھانجے کا اقرار جرم بھی کام نہ آیا، اور انہیں سزائے موت کا حکم سنا کر انہیں میانوالی جیل بھجوا دیا گیا-

تمام اپیلیں بھی خارج ھونے کے بعد فلک شیر صاحب کو گورنمنٹ کالج میانوالی کے عین سامنے جیل میں پھانسی دے دی گئی- ان سے آخری ملاقات کرنے والے پروفیسر صاحبان بتاتے ھیں کہ فلک شیر صاحب نے اپنی تمام جائیداد اپنی منکوحہ بیوی کے نام کرتے ھوئے وصیت میں لکھا کہ میرے بعد کسی اچھی جگہ شادی کر لینا-

فیض صاحب کا شعر یاد آرھا ھے —

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رھتی ھے

یہ جان تو آنی جانی ھے ، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں–18اکتوبر  2016

میرا شعر ——– آرائش ، مناظر گوندل

میرا میانوالی —-

ڈاکٹر حافظ اشفاق احمد میرے بہت اچھے بیٹے ھیں- یہ میرے ان چند سٹوڈنٹس میں سے ھیں ، جنہیں میں اپنا خلیفہءمجاز کہا کرتا ھوں- وہ اس لیئے کہ یہ سکول یا کالج کسی بھی سطح پر انگلش پڑھا سکتے ھیں- یہ وہ لوگ ھوتے ھیں جو مسلسل میرے قریب رہ کر اتنا کچھ سیکھ لیتے ھیں ، جو کلاس روم میں چالیس منٹ کا لیکچر سن لینے سے کبھی حاصل نہیں ھو سکتا-
ڈاکٹر اشفاق 1990 کی دھائی میں پپلاں کے ایک نواحی گاؤں سے آکر گورنمنٹ کالج میانوالی کے سٹوڈنٹٹ بنے- بہت ذھین اور محنتی سٹوڈنٹ رھے- اب اس سے بھی زیادہ ذھین اور محنتی ٹیچر ھیں- لاھور کی مختلف یونیورسٹیوں میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر پڑھا رھے ھیں ، مگر اب انگلش نہیں وہ مضمون پڑھا رھے ھیں، جس میں پی ایچ ڈی کر کے ڈاکٹر بنے-
گورنمنٹ کالج میانوالی سے تعلیم مکمل ھوئی تو آگے کچھ کرنے کا سوال پیدا ھؤا- وہ جو فیض صاحب نے کہا تھا ——– مقام فیض کوئی راہ میں جچا ھی نہیں
اشفاق میانوالی سے نکلے تو سیدھے لاھور جا پہنچے- اب تک وھیں ھیں- میانوالی میں میرے بیٹے پروفیسر امجد علی ملکک کے قریب ترین احباب میں شامل رھے- اب بھی ھیں- کالج کے فیڈرل ھاسٹل کی مقبول ترین شخصیت رھے-

بہت سی باتیں باقی ھیں- جو شخص گذشتہ 25 سال سے مجھے “بابا جانی“ کہتا بھی ھے، سمجھتا بھی ھے ، اس کا قصہ ایک پوسٹ میں کیسے سما سکتا ھے ؟ بقیہ باتیں انشاءاللہ کل ھوں گی-19اکتوبر  2016

میرا میانوالی —–

ڈاکٹر اشفاق احمد اس وقت لاھور گیریژن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات میں اسسٹنٹ پروفیسر ھیں- کچھ اور یونیورسٹیز میں بھی وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت میں پڑھاتے ھیں-
میانوالی سے لاھور منتقل ھونے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے اسلامک سٹڈیز میں ایم اے کیا- گھر والوں کا بوجھ ھلکاا کرنے کے لیے اسی دور میں وحدت روڈ لاھور کے آبپارہ کے علاقے میں یونیک چین آف اکیڈیمیز میں انگلش پڑھانا شروع کیا- بہت جلد اس علاقے کے کامیاب انگلش ٹیچر شمار ھونے لگے- آبپارہ تعلیمی سرگرمیوں کا گڑھ ھے- وھاں بہت سی اکیڈیمیز کام کر رھی ھیں – خواجہ آرکیڈ کی وسیع و عریض عمارت کی بالائی منزل کا ھر کمرہ ایک الگ اکیڈیمی ھے-
پانچ سال تک یونیک اکیڈیمی میں کام کرنے کے بعد اشفاق صاحب دوسال ایچیسن کالج میں ٹیچر رھے- اس کے بعدد پنجاب کالج سے وابستہ ھوگئے- انہی دنوں خواجہ آرکیڈ میں اپنی اکیڈیمی بھی بنالی – انگلش پڑھانے میں شہرت پہلے سے مل چکی تھی ، اکیڈیمی بھی بہت اچھی چلتی رھی- پنجاب کالجز میں ڈاکٹراشفاق 14 سال رھے-
ھائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان سے اسلامک سٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے لیے میرٹ پر وظیفہ مل گیا- —English Commentaries of Qura’n کے موضو ع پر کامیاب ریسرچ کی بنا پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے اللہ کے فضل سے ڈاکٹر بن گئے-
ڈاکٹر اشفاق کے بڑے بھائی ڈاکٹر مشتاق نے بھی اسی سال ایجوکیشن میں پی ایچ ڈی کیا- یوں یہ دونوں بھائی ماشآءاللہہ ڈاکٹر ھیں- دونوں نے بی اے تک تعلیم گورنمنٹ کالج میانوالی میں مکمل کی- اس لیے یہ اس کالج کے لیے بھی ایک اعزاز ھے کہ اس کے دو طالب علم پی ایچ ڈی ڈاکٹر بن گئے-

ڈاکٹر اشفاق احمد جب سے لاھور منتقل ھوئے تب سے اب تک مجھ سے مسلسل رابطے میں ھیں- لاھور میں میرے بہت سے کام یہی سرانجام دیتے ھیں- اللہ انہیں سلامت رکھے، بہت دعائیں لیتے ھیں مجھ سے—-20اکتوبر  2016

میرا شعر ——– آرائش ، قدرت اللہ خان داؤد خیل

داؤدخیل سے میرے شعر پر شاھد انور خان کی خوبصورت آرائش

میرا میانوالی ——

گورنمنٹ کالج میانوالی کے شعبہ انگریزی اور شعبہ سیاسیات اس لحاظ سے ایک دوسرے کے جڑواں بھائی ھیں، کہ دونوں میں ایم اے کی کلاسز کا آغاز ایک ساتھ ھؤا- شعبہ سیاسیات کے پہلے سربراہ پروفیسر محمد سلیم احسن تھے- ان کا ذکر دو تین ماہ پہلے ھو چکا- موجودہ سربراہ پروفیسر محمد اشفاق خان نیازی بی اے میں میرے سٹوڈنٹ رھے-


آج ذکر ھوگا اس شعبے کے پروفیسر عارف نیازی کا- گورنمنٹ کالج میانوالی کے پروفیسر صاحبان میں سے میرے سب سے پہلے فیس بک فرینڈ عارف نیازی ھی ھیں – اپنی پوسٹس میں کالج کی جتنی پکچرز میں لگاتا ھوں وہ سب مجھے یہی فراھم کرتے ھیں- کچھ اور معلومات بھی میں انہی سے حاصل کرتا ھوں- اس تعاون کے لیے میں ھمیشہ ان کا ممنون رھتا ھوں- اللہ ان کا بھلا کرے یہ کبھی مجھے مایوس نہیں کرتے- جونہی میں فرمائش کروں ، مطلوبہ پکچرز اور معلومات مجھے مہیا کردیتے ھیں-
عارف نیازی ھمارے کالج کے سٹوڈنٹ بھی رھے، میرے colleague بھی- یہ زادے خیل قبیلہ کیی ایک معزز شخصیت ھیں – اس قبیلے کے بزرگ امیر حسین خان نیازی ( بانی سیفیہ پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹس ) اور معروف عوامی گلوکار ایوب نیازی بھی میرے بہت مہربان دوست ھیں-
عارف نیازی صاف ستھرے کردار کے سنجیدہ مزاج , باوقار نوجوان ھیں- اچھے ٹیچر ھونے کی وجہ سے طلبہ میںں بھی مقبول ھیں، ساتھیوں میں بھی نمایاں – بچوں جیسی معصومیت بھی ان کی شخصیت کا ایک دلکش پہلو ھے- فیس بک پر بھی بہت نمایاں رھتے ھیں- کیمرے کا ماھرانہ استعمال کرتے ھیں- اپنی زیادہ تر selfies اپنی دو ننھی منی بچیوں کے ساتھ بناکر پوسٹ کرتے رھتے ھیں- گرافکس کا کام خدا جانے خود کرتے ھیں ، یا ان کے بھائی خالد خان ، جو میانوالی میں اس کام کے معروف ایکسپرٹ ھیں-21اکتوبر  2016

معروف ماھر تعلیم ، شاعر اور ادیب ظفرنیازی کی میرے بارے میں تازہ ترین خوبصورت نظم- میری دعا ھے کہ اللہ تعالی مجھے ان کے اس خراج تحسین کا مستحق بننے کی اھلیت عطا فرمائے، اور ظفر نیازی کو بے حساب رحمتوں سے مالامال کر دے- —

ODE TO SIR MUNAWAR ALI MALIK
You Are My Colorful Spring,
Giving Me New Green Sprouts;
Making Them Dance And Sing,
Whenever They Start Withering Out.

You Are My Joyful Summer,
And Your Befitting Temperature;
Keeps enriched My Endless Pleasure,
And Makes Me Find My Treasure.

For Me You Are A Gorgeous Fall,
Having Your Own Charm And Splendor;
A Season Of Its Own Bewitching Colors
An Atmosphere Full Of Graceful Grandeur.

At Times You Become My Winter,
Being My Enchanting Sunniest Sunrise;
Full Of Warmth Filled With Surprise,
Making Me Always Rise And Rise.

Flower of four seasons you are,
Staying With Me Near And Far;
Guiding me always ,holding me
In the darkest times like North Star!
——- presented by: Zafar Niazi

میرا ایک اور پر اسرار شعر
آرائش ، ملک شعبان کسر، واں بھچراں

میرا میانوالی —

میانوالی کے ڈاکٹر صاحبان میں سے میرے سب سے پہلے فیس بک فرینڈ ڈاکٹر محمد ظہیرالدین ھیں – یہ بھی ان چند پہلے لوگوں میں سے ھیں جنہوں نے مجھے فیس بک پہ ویلکم کہا، اور ھمیشہ میرے ھمسفر رھے-


ڈاکٹرظہیر صآحب ایم بی بی ایس ڈاکٹر ھیں – گذشتہ 20 سال سے ھمارے فیملی ڈاکٹر بھی ھیں- بہت اچھے فزیشن ھیں- مریضوں کو لمبے چوڑے ٹیسٹوں کے چکر میں ڈالنے کی بجائے خود ھی ٹمپریچر ، نبض، بلڈ پریشر وغیرہ چیک کر کے درست تشخیص کر لیتے ھیں- بالکل سادہ سا علاج کرتے ھیں، اللہ کے فضل سے ان کا علاج ھمیشہ مؤثر ھوتا ھے- ذہین نیک دل اور سادہ مزاج انسان ھیں- ھمارے محلے دار بھی ھیں ،

ان کے والد محترم ملک صدرالدین صاحب محکمہ تعلیم کے نہایت لائق اور دیانت دار افسران میں شمار ھوتے تھے- میرے والد صاحب اور میرے بھائی مرحوم ملک محمدانورعلی کے colleague بھی تھے- اس لیے مجھ پر بہت شفقت فرماتے تھے- اکثر روزانہ مسجد نور کی گلی میں آتے جاتے ان سے ملاقات ھوتی رھتی تھی-

ڈاکٹر ظہیر کے بھائی ڈاکٹر منیر میڈیکل سپیشلسٹ ھیں- وہ چشمہ کالونی کے ھسپتال میں کام کرتے ھیں- بہت کامیاب فزیشن ھیں-

ڈاکٹر ظہیر نے اب پی اے ایف روڈ پہ نیا گھر بنالیا ھے- تاھم اھل محلہ کے اصرار پر وہ یہاں بھی پریکٹس جاری رکھیں گے- انہوں نے اس محلے والا گھر اپنے چھوٹے بھائی ضیاءالدین کو دے کر اس کے ایک حصے میں اپنا کلینک بھی بنا لیاھے-

ڈاکٹر ظہیر کی فیس بک پوسٹس بھی بہت دلچسپ ھوتی ھیں- ان کے بارے میں انشاءاللہ پھر کبھی بات ھوگی- ڈاکٹر صاحبان میں سے میرے دوسرے فیس بک فرینڈ ڈاکٹر لیاقت حسین گیلانی صاحب ھیں- ان کا ذکر انشاءاللہ دوتین دن بعد ھوگا-22اکتوبر  2016

عزیز دوستو ، السلام علیکم ——-
آپ کے لیے اچھی خبر یہ ھے کہ میرے بارے میں محترمہ پروفیسر نصرت نیازی کی کتاب عنقریبب 786mianwali.com سے آن لائین ھو جائے گی- اس کتاب پر محترمہ نصرت نیازی صاحبہ کو ایم فلل کی ڈگری مل چکی ھے- دوسو سے زائد صفحات کی اس کتاب میں میرے اور میری نظم ، نثر کی کتابوں کے بارے میں مکملل معلومات موجود ھیں- محترمہ نصرت نیازی صاحبہ اور 786mianwali.com کا ممنون ھوں——— منورعلی ملک –22اکتوبر  20160-(نصرت نیازی کی کتابب  786mianwali.com سے آن لائین ھو گی  ھے- )

mam-b-final

 

میرا میانوالی ——-

محمد محمود احمد کو میں تب سے جانتا ھوں جب میں گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں لیکچرر تھا، اور محمود میرے بیٹے امجد علی ملک کے ساتھ گورنمنٹ مڈل سکول عیسی خیل میں تیسری کلاس کا سٹوڈنٹ تھا- امجد بیٹا اور محمود دونوں اپنی کلاس کے سب سے لائق سٹوڈنٹ ، بھی تھے، بپترین دوست بھی-
محمود کے والد محترم رضا محمد قریشی اسی سکول میں فارسی کے ٹیچر تھے– محمود اور امجد بیٹے کی ابتدائی ادبی تربیت ان کےے کلاس ٹیچر ماسٹر ملک محمد صادق نےکی- وہ بہت اچھے ٹیچر تھے- ان دونوں بچوں کی صلاحیتوں پر انہوں نے خصوصی توجہ دے کر انہیں اپنی پہچان کروائی، اور اگلی منزلوں کی نشان دہی بھی کردی-

جب میں میانوالی کالج آیا تو مجھ سے کچھ عرصہ پہلے محمود کے والد بھی میانوالی منتقل ھوچکے تھے- محمود بی اے میں دوسال میرا سٹوڈنٹ رھا- ٹیچر کی حیثیت میں مجھ سے بہت متاثر تھا- جب خود ٹیچر بن گیا تو ایک دن کہنےلگا “ سر، میں آپ ھی کے انداز میں پڑھانے کی کوشش تو کرتا ھوں ، مگر وہ بات کہاں !“

کلج ھی کے زمانے میں محمود نے شاعری شروع کی- بہت اچھا آغاز تھا، بہت خوبصورت جدید لہجے کی غزل لکھتا تھا-اس کا ایک اپنا ویژن تھا، جواب ارتقاء کے مراحل طے کرکے آھستہ آھستہ نقطہ عروج کے قریب آ پہنچا تھا-

گیت نگاری میں “میڈا رانجھڑاں“ محمود کی پہچان بن گیا- یہ گیت لالا اور شازیہ خشک کی آوازوں میں بہت مقبول ھؤا- بہت سے دوسرے گلوکاروں نے بھی یہ گیت اپنے اپنے انداز میں ریکارڈ کرا کے شہرت حاصل کی- محمود کے گیتوں میں ایک والہانہ پن تھا جس کے باعث اس کے الفاظ دلوں میں اتر جاتے تھے-

محمود کا شعری مجموعہ “عورت، خوشبو اور نماز“ جدید شاعری کا ایک عمدہ نمونہ ھے-

بھی کچھ باتیں باقی ھیں- انشاءاللہ کل کی پوسٹ بھی محمود ھی کے بارے میں ھوگی —23اکتوبر  2016

میرامیانوالی ——-

محمود تھل کے علاقے کی ایک بے چین روح تھا- وہ پورے سرائیکی وسیب میں گھومتا پھرتا رھتا تھا- تقریبات کے علاوہ بھی دوستوں سے ملنے جلنے کے لیے دوردارزعلاقوں تک آتا جاتا رھتا تھا- ملازمت نے آنا جانا محدود کردیا، پھر بھی تقریبات میں ھر جگہ حاضری دیتا رھتا تھا- ھر جگہ معروف و مقبول تھا-

دوتین سال پہلے موبائیل فون پر اس کا ایک SMS موصول ھؤا – یہ تمام دوستوں اور ادبی تنظیموں کے نام تھا- اس میں یہ لکھا تھا کہ آج سے میرا نام محمد محموداحمد کی بجائے محمود ھاشمی لکھا جائے-
میں نے فورا فون پر رابطہ کر کے محمود سے کہا “بیٹا، لفظ “محمد“ اگر ایک بار نام میں شامل کر لیاجائے تو پھر اسے ھٹانا جرم ھےے جس کی سزا ضرور ملتی ھے” – یہ کہہ کر میں نے اسے اس جرم کی سزا کے دو چشم دید واقعات بھی بتا دیئے-

محمود کانپ اٹھا- اس نے فورا اپنا پہلااعلان منسوخ کرتے ھوئے اپنا مکمل نام “محمد محموداحمد“ برقرار رکھنے کا اعلان SMS کی صورت میں سب متعلقہ لوگوں کوبھجوادیا-

محمود کی شاعری ارتقاء کے مراحل سے گذر کر اب زلف و رخسار کی باتؤں سے آگے حیات و کائنات کے بارے میں بامعنی سوالات چھیڑنے لگی تھی-محمود دماغ سے زیادہ دل کی بات مانتا تھا- اسی لیے دوستوں کو اکثر سرپرائیز دیتا رھتا تھا— شاعری میں بھی، زندگی میں بھی— اس کا سب سے بڑا سرپرائیز اس کی موت تھی- ماڑی انڈس کے مدرسہ امام خمینی کی مجلس مسالمہ میں شرکت کے لیے گیا- جناب علی کرم اللہ وجہہ کی منقبت پڑھی , اور ——— بس !!! —– لوگوں نے دیکھا تو پنجرہ خالی پڑا تھا —

کسی شاعر نے محمود جیسے لوگوں ھی کے بارے میں کہا تھا—-

اپنے جینے کی ادا بھی ھےنرالی سب سے

اپنے مرنے کا بھی انداز نرالا ھوگا-24اکتوبر  2016

شعر میرا
پیشکش ، ذکاء ملک —- مری

شعر میرا ——–
انتخاب و پیشکش —— ملک شعبان کسر، واں بھچراں

میرا میانوالی —

میری 23 اکتوبر کی پوسٹ پر کمنٹ دیتے ھوئے حسن عباس صاحب نے لکھا :

میں یکم اکتوبر سے کل (22 اکتوبر ) تک آپ کی پوسٹس نہ پڑھ سکا- کیونکہ میرے والد محترم اسلام آباد میں اس دنیا سے رخصت ھوگئے تھے، اور ھم ان کی تدفین کے لیے انہیں اپنے آبائی شہر پائی خیل لے گئے تھے-آج فیس بک پہ آکر یکم سے 22 اکتوبر تک کی آپ کی تمام پوسٹس پڑھیں-
اب آپ کی پوسٹس کی میرے لیے ایک جذباتی اھمیت بھی بن گئی ھے، کیونکہ میرے والد مرحوم آپ کی پوسٹس کےے بہترین قدردان تھے–ان کی بیماری کے دوران میں روزانہ آپ کی پوسٹس پڑھ کر انہیں سنایا کرتا تھا- بہت خوش ھوتے تھے- پلیز آپ ان کے لیے فاتحہ پڑھ کر مغفرت کی دعا کردیں- “

حسن عباس صاحب کا یہ کمنٹ پڑھ کر آنکھوں میں آنسو آگئے- فورا فاتحہ پڑھ کر مرحوم کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا تو کردی، مگر اپنی تحریروں کے اس مہربان قدردان سے ملاقات نہ ھو سکنے کا دکھ ھمیشہ دل میں رھے گا- خدا جانے وہ بزرگ کب سے میری پوسٹس پڑھ رھے تھے- یہ تو نہیں جانتا کہ میرے وہ محترم بھائی کون تھے، کیا کام کرتے تھے، حسن عباس صاحب نے اپنے کمنٹ میں اتنا ضرور بتا دیا کہ میرے والد کو اللہ تعالی نے بے مثال خوبیوں سے نوازا تھا-

تین دن سے اس دکھ نے بے چین کر رکھا تھا- آج آپ کو بھی اس میں شریک کر لیا کہ شاید اس طرح یہ دکھ کچھ کم ھو جائے- حسن عباس صاحب سے اس پوسٹ کے ساتھ لگانے کے لیے مرحوم کی پکچر مانگی تھی- انہوں نے وعدہ بھی کیا تھا مگر شاید نہیں مل سکی- یہ سوچ کر کچھ اطمینان ھوتا ھے کہ میرے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میرے ایک مہربان بھائی کی زندگی کے آخری دن تک ان کے ھمسفر رھے- -25اکتوبر  2016

شعر میرا
فن ، شاھد انور خان نیازی کا

یرا میانوالی —

میری ریٹائرمنٹ سے کچھ دن پہلے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر عطاءاللہ کھوکھرصاحب نے مجھ سے کہا “ملک صاحب، اپنی پنشن کی منظوری کے لیے آپ کسی دفتر کے چکر نہ لگائیں ، یہ خدمت میں اور آفس سپرنٹنڈنٹ ملک عبالستار سرانجام دیں گے-“

اس کے بعد میرے ان دونوں مخلص ساتھیوں نے میرا پنشن کیس تیار کیا- متعلقہ کاغذات پر مجھ سے دستخط کروائے اور فائیل مکمل کر کے کارروائی کا آغاز کردیا- یہ کارروائی کوئی آسان کام نہیں ھوتا- ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس سے لے کر اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کے دفتر تک اور ڈائریکٹرآف ایجوکیشن سرگودھا ڈویژن کے دفتر سے لے کر سیکرٹری ھائیر ایجوکیشن کے دفتر تک کئی پھیرے لگانے پڑتے ھیں – اول تو اپنے ضلع کے اکاؤنٹ آفس والے ھی کمر سیدھی نہیں ھونے دیتے- خاصا طویل اور تکلیف دہ عمل ھوتا ھے، جو پانچ سات ماہ کی خواری کے بعد بڑی مشکل سے مکمل ھوتاھے-

اللہ بھلا کرے میرے ان دو ساتھیوں کا، انہوں نے یہ سب کچھ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں مکمل کر کے میری پنشن کی منظوری کا حکم نامہ مجھے دلوا دیا- مجھے ایک منٹ کے لیے بھی کسی دفتر میں نہ جانا پڑا- ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کی تمام کارروائی ملک عبدالستار نے دوتین دن میں نمٹا دی ، اس سے آگے کا سب کام پروفیسر عطاءاللہ کھوکھر صاحب نے ھر جگہ اپنے دوستوں کی مدد سے بخیرانجام کردیا-

ریٹائرمنٹ سے کچھ دن بعد میں لاھور میں لوئر مال روڈ پر سنگ میل پبلشرز سے کچھ کتابیں خریدنے گیا تو ان کے شوروم میں پروفیسر عطاءاللہ کھوکھر صاحب مل گئے- کہنے لگے “ملک صاحب، آپ یہاں پھر رھے ھیں ؟ یہ لیجئے اپنی امانت “ یہ کہہ کر انہوں نے میری پنشن کا حکم نامہ میرے ھاتھ پہ رکھ دیا-

یہ سب کچھ عرض کرنے کا مقصد آپ کو یہ بتانا ھے کہ دنیا میں اچھے لوگ اب بھی موجود ھیں- ان دو دوستوں کو مجھ سے کوئی غرض نہیں تھی، یہ کبھی میرے سٹوڈنٹ بھی نہیں رھے تھے، اس کے باوجود انہوں نے میرے ذاتی کام کو اپنا کام سمجھ کر مجھے بہت سی مسلسل زحمت سے بچا لیا- –( پروفیسر عطاءاللہ کھوکھر صاحب کی تصویر کے لیے پروفیسر عامر کاظمی صاحب کا شکریہ )-26 اکتوبر  2016

شعر میرا
آرائش ۔ مناظر گوندل، چک سیدا (ملکوال)

میرا میانوالی ——

نفسیات کے پروفیسر محمدکلیم صاحب گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں میرے سٹوڈنٹ رھے، گورنمنٹ کالج میانوالی میں میرے ساتھی (colleague ) بن کر آئے- یہ گورنمنٹ کالج عیسی خیل کے اولیں سٹوڈنٹس میں سے تھے- شاعری کا شوق بھی رکھتے تھے- ان کے ایک اور کلاس فیلو رفیع اللہ مغل بھی اچھے خاصے شعر کہہ لیتے تھے، مگر یہ دونوں نوجوان مجھے شعرسنانے سے شرماتے یا شاید گھبراتے ھے کہ آگے سے کہیں انگریزی کے سوالات کا سامنا نہ کرنا پڑجائے- اس لیے یہ دونوں عتیل صاحب سے شاعری کی اصلاح لیتے رھے-

کلیم صاحب بہت لائق سٹوڈنٹ تھے- انگلش میں بھی بہت اچھے تھے مگر انہوں نے اپنا آئیڈیئل نفسیات کے پروفیسر حسین احمد ملک صاحب کو بنا لیا ، اور اپنی تمام تر توجہ نفسیات پر مرکوز کر دی- حسین صاحب نے بھی انہیں اپنا بیٹا سمجھ کرخصوصی توجہ سے ان کی تعلیم ھی نہیں ، تربیت بھی کردی- کلیم صاحب کے شاندار تعلیمی کیریئر کا ثمر انہیں ایم ایس سی نفسیات کی ڈگری کی صورت میں مل گیا تو اپنے استاد محترم کے نقش قدم پر چلتے ھوئے یہ بھی نفسیات کے پروفیسر بن گئے-

گورنمنٹ کالج میانوالی میں یہ ھاسٹل سپرنٹنڈنٹ بھی رھے- گورنمنٹ کالج برائے خواتین میں ایم ایس سی نفسیات کی کلاسز کو بھی پڑھاتے رھے- ھاسٹل سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت میں کلیم صاحب پروفیسر عبدالخالق ندیم کے بعد مقبول ترین ھاسٹل سپرنٹنڈنٹ ثابت ھوئے- انہوں نے بھی ھاسٹل کوایک فیملی کا روپ دے کر بہت سی اچھی روایات قائم کیں-

چند سال پہلے کچھ عرصے کے لیے آسٹریلیا چلے گئے- پچھلے سال وھاں سے واپس آکر گورنمنٹ کالج اصغرمال راولپنڈی میں نفسیات کے پروفیسر کی اسی کرسی پہ جابیٹھے جس پر ان کے استاد محترم پروفیسر حسین احمد ملک صاحب کئی سال تشریف فرما رہ کر ریٹائر ھوئے–

پروفیسر کلیم صاحب کی سعادت مندی دیکھیے کہ یہ جہاں بھی رھے، مجھ سے رابطہ برقرار رکھا- میرے فیس بک کے اولیں ساتھیوں میں ایک نمایاں نام ان کا بھی ھے—(اپنی تصویر فراھم کرنے کے لیے پروفیسر محمد کلیم کا شکریہ)-

فیس بک سے دوستی —–
“لالہ جی“ نام کے ID سے ایک صاحب روزاول سے میری ھر پوسٹ پر لائیک اور اکثر پر کمنٹس دے رھےے ھیں- کمنٹ کے ساتھ چھوٹی سی پروفایئل پکچر دیکھنے میں تھل کے کسی دیہاتی بزرگ کی تصویر لگتی تھی- فیس بک سے دوستی کے عنوان سے ان کے بارے میں پوسٹ لکھنے کے لیے ان کا ID کھول کر دیکھا تو معلوم ھؤا کہ پکچر تو اصلی والے لالاجی عیسی خیلوی کی ھے، بھاری بھرکم سفید پگڑی کی وجہ سے اس پکچر میں لالا عیسی خیلوی کچھ زیادہ ھی بزرگ لگ رھے ھیں-


پروفائیل میں صرف گورنمنٹ ھائی سکول پپلاں اور اس کے نیچے لفظ engaged لکھا ھؤا ھے جس کے معنی ھیں “میری منگنی ھو چکی ھے“-
ان کا اصل نام ، اصل پکچر اور کچھ مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے میسیج کیا تو انہیوں نے پکچر ارسال کردی، اورر تعارف میں بس یہ لکھا کہ میرا نام آفتاب احمد ھے، گھر پپلاں میں ھے چارسال سعودی عرب میں رھا ھوں ، لالا عیسی خیلوی کا دیرینہ فین ھوں-

اللہ انہیں سلامت رکھے، اور ان کی منگنی نتیجہ خیزبناکر انہیں خوشیوں سے مالامال کردے- بہت دلچسپ شخصیت اور میرے بہت پیارے بیٹے ھیںِ-27اکتوبر  2016

ایک شعر، مظلوم کشمیری عوام کے نام ——
فن ، ذکاء ملک

میرا میانوالی —-

گورنمنٹ کالج میانوالی کے پروفیسر صاحبان کا ذکر کرتے ھوئے اچانک وہ دوست یاد آگئے جو اب اس دنیا میں نہیں رھے- بہت سے لوگ تھے جو اپنے اپنے مقررہ وقت پر یہ دنیا چھوڑ کر دوسری دنیا میں جابسے- ان کا ذکرکرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ھوں- کیامیں انہیں اس لیے نظرانداز کردوں کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رھے- میری پوسٹس پر لائیک یا کمنٹ کے ذریعے میرا شکریہ ادا نہیں کر سکتے؟

شعبہ سیاسیات کے پروفیسر محمد اسلم خان تھے، پنڈدادن خان کے خوبرو ، خوش اخلاق نوجوان تھے- ھاسٹل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بھی تھے- یہاں سے ٹرانسفر ھوکر گئے- اچانک خبرآئی کہ یہ دنیا چھوڑ کر چلے گئے- خدا جانے کیا ھؤا تھا-

تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر ملک اسلم گھنجیرہ تھے- پروفیسر سلیم احسن کے قریب ترین دوست ھونے کی وجہ سے میرے بھی بہت قریبی دوست تھے- بہت دلچسپ شخصیت تھے-تاریخ پر مسلسل ریسرچ میں مصروف رھتے تھے- اس حوالے سے ھم ان کا مذاق بھی اڑایا کرتے تھے ، بہت ھنستے تھے ھماری دوستانہ ، بلکہ جاھلانہ ‘ تنقید سن کر-

تاریخ ھی کے پروفیسر محمد اقبال قاسمی صاحب تھے- نہایت نفیس مزاج ، خوش ذوق آدمی تھے- سکیسر کے علاقے کے اعوان تھے-مشہورومعروف ادبی شخصیت احمد ندیم قاسمی کے قریبی رشتہ دار تھے- پروفیسرز کی بائیں بازو کی تنظیم کے سرگرم کارکن تھے- کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے ٹی کلب کے علاوہ زیادہ تر جغرافیہ کے پروفیسر عطاءاللہ خان نیازی کے ساتھ کالج کینٹین کے سامنے لان میں بیٹھا کرتے تھے- کالج ٹائیم کے بعد مین بازار میں لالا یاسین کا کلاتھ ھاؤس ان کی مستقل بیٹھک رھا-

کچھ اور دوستوں کا ذکر انشاءاللہ کل کروں گا- کسی اور کو ان لوگوں سے دلچسپی ھو نہ ھو میرے یہ سب لوگ بہت پیارے بھائی تھے- اپنے قلم سے ان کا ذکر کرنا میرے ضمیر کا تقاضا ھے- انشاءاللہ سب کے بارے میں لکھوں گا -چند سال پہلے کی ایک یاد ————


آپ حیران، پریشان نہ ھوں
اورنج جوس کی بوتل تو پکچر بنانے والے صاحب (محمد اکرم علی ملک) کی ھے-
میں چائے ھی پی رھا ھوں –28اکتوبر  2016

میرا میانوالی

شعبہ اسلامیات کے پروفیسر حافظ عبدالرسول صاحب تلہ گنگ کے نواحی گاؤں ونہار کے رھنے والے تھے- روزانہ 70 کلومیٹر (یکطرفہ) سفر بس پہ طے کر کے کالج آتے جاتے تھے- ان جیسا زندہ دل ‘ خوش مزاج عالم دین دیکھنا پھر نصیب نہ ھؤا – مجھ پہ ایک تو اس لیے مہربان تھے کہ گورنمنٹ کالج عیسی خیل سے میں لیکچرر کی جس خالی پوسٹ پہ گورنمنٹ کالج میانوالی آیا وہ پوسٹ حافظ عبدالرسول صاحب ھی کی پروموشن سے خالی ھوئی تھی- ان کی مجھ پہ خصوصی مہربانی کی دوسری وجہ یہ تھی کہ تلہ گنگ میرے سسرال کاعلاقہ ھے، میں حافظ صاحب سے انہی کی زبان میں بات کر سکتا تھا-
حافظ صاحب یہاں سے ٹرانسفر ھوکر راولپنڈی چلے گئے- ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ بعد دنیا سے رخصت ھوو گئے-
ڈاکٹر غلام حیدر بھی اسلامیات کے پروفیسر تھے- ایم اے اسلامیات میں گولڈ میڈلسٹ تھے- ایم اے عربی بھیی تھے- بعد میں اسلامیات میں پی ایچ ڈی کر کے ڈاکٹر بن گئے- میرے بہت مہربان دوست تھے- جب پی ایچ ڈی کررھے تھے تو ایک دن کچھ انگریزی کی کتابوں سے اقتباسات کا اردو میں ترجمہ کروانے کے لیے مجھے کالج سے اپنے گھر لے گئے- چائے کے ساتھ انڈوں کا ایک سپیشل حلوہ لے آئے- بے حد لذیذ حلوہ تھا- یہ صرف ان کے گھر میں ھی بنتا تھا- میں نے حلوے کی تعریف کی تو ھنس کر کہنے لگے، ملک صاحب یہ مجھے بھی بہت پسند ھے- ھفتے میں ایک آدھ بار ھمارے ھاں ضرور بنتا ھے- آئندہ جب بھی بنے گا آپ اس دن میرے مہمان ھوں گے“-
ڈاکٹڑ صاحب یہ وعدہ باقاعدہ نبھاتے رھے- ایک آدھ دفعہ میں ان کے ھاں نہ جا سکا تو خود آکر میرا حصہ میرے گھر دےے گئے-
پی ایچ ڈی کے بعد ڈاکٹر غلام حیدر صاحب کو گریڈ 19 میں ترقی مل گئی، جس کے نتیجے میں انہیں یہاں سے گورنمنٹٹ کالج بھکر ٹرانسفر کردیا گیا- کچھ عرصہ بعد وھیں داعیئ اجل کو لبیک کہہ کر دوسری دنیا میں جابسے-
اللہ میرے ان دونوں بھائیوں کو مقام اعلی عطا فرمائے ، بہت یاد آتے ھیں-
ابھی کچھ اور ھمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے ساتھیوں کا ذکر باقی ھے- یہ سلسلہ مزید ایک دودن چلتا رھے گاا –
29اکتوبر  2016

میرا میانوالی —
فارسی کے پروفیسر حافظ محمد عبدالخالق صاحب بھی ھمارے بہت اچھےدوست تھے- تصوف کے موضوع پرر پروفیسر محمد حنیف شاہ صاحب اور ان کی دلچسپ چھیڑچھاڑ سے میں بہت لطف اندوز ھوتا تھا- کبھی کبھی حافظ صاحب غصے میں بہت سخت باتیں بھی کہہ جاتے تھے۔ مگر شاہ صاحب برا نہیں مانتے تھے ، وہ جانتے تھے کہ حافظ صاحب کا غصہ دیر پا نہیں ھوتا-

میں مذاق میں شاہ صاحب سے کہا کرتا تھا کہ شاہ جی ، میرے پیر سائیں (حافظ صاحب) کو ناراض نہ کیا کریں- یہ جلالی پیر ھیں، غصے میں آکر مرید کے نیچے والے دو نقطے اٹھا کر اوپر رکھ دیتے ھیں ، اور “مرید“ کو “مرتد“ (کافر) بنا دیتے ھیں- دونوں حضرات میری اس بات پر بہت قہقہے لگایا کرتے تھے-

حافظ صاحب دوستوں کے بہت خیرخواہ تھے- ایک دفعہ میرا بیٹا محمداکرم علی اسی موسم میں بیمار ھؤا- موسمی ملیریا تھا- ڈاکٹروں کے علاج سے افاقہ نہ ھؤا، حافظ صاحب کو پتہ چلا تو مجھے بہت برا بھلا کہا- فورا اپنی گاڑی لے آئے اور ھمیں محلہ میانہ کے ایک حکیم صاحب کے پاس لے گئے- حکیم صاحب کی دوا کی پہلی ھی خوراک سے بچے کا بخار اتر گیا-

پروفیسر سلیم احسن صاحب کی پرو موشن ھوئی تو وہ ٹرانسفر ھو کر میونسپل ڈگری کالج فیصل آباد چلے گئے- تقریبا ایک سال وھاں رھے- میں انہی کے ساتھ کالج جایا کرتا تھا- وہ فیصل آباد چلے گئے تو حافظ صاحب روزانہ اپنی گاڑی پہ مجھے کالج لاتے لے جاتے رھے- اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، بہت مخلص دوست تھے-

فیس بک سے دوستی —


اس پوسٹ میں بائیں جانب والی پکچر سید محمد شعیب شاہ کی ھے- یہ بھی میرے اولیں فیس بک فرینڈز میں سے ھیں– وادئی سون کے گاؤں پیل پیراں ضلع خوشاب کے معروف پیر گھرانے کے فرد ھیں- آج کل ابوظہبی میں رھتے ھیں- میری پوسٹس خودبھی پڑھتے ھیں دوستوں سے بھی شیئر کرتے ھیں- بتا رھے تھے کہ ان کے ایک بزرگ ماموں جان حال ھی میں فوت ھوئے- مرحوم بہت نیک اور محترم بزرگ تھے- وہ بھی میرے پوسٹس میں دلچسپی لیتے تھے- اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے- میری تحریروں میں ان کی دلچسپی میرے لیے ایک اعزازھے-
دائیں جانب والی پکچر میرے بہت پیارے بیٹے رسول بخش میتلا کی ھے- یہ گھوٹکی (سندھ) کے معروف زمیندار بھیی ھیں ٹرانسپورٹر بھی- بتاتے ھیں کہ لالاعیسی خیلوی کی آواز میں میرے گیت سن کر میرے بارے میں جاننا چاھتے تھے- فیس بک پہ تلاش کرتے رھے ، مگر اس وقت میں فیس بک پہ نہیں آیا تھا- میں نے جونہی اس راہ پر قدم رکھا ، یہ میرے مستقل شریک سفر بن گئے- مجھے باباجان کہتے ھیں- میری اردو ، انگلش کی تمام پوسٹس پڑھتے اور ان کے بارے میں اپنی رائے دیتے رھتے ھیں- اللہ انہیں سلامت رکھے، یوں سمجھیے کہ ان کی وجہ سے سندھ میں بھی میرا ایک گھر موجود ھے–
30اکتوبر  2016

میرا شعر ————–
آرائش ، مناظر گوندل ، چک سیدا، ملکوال

میرا میانوالی —-
شعبہ اسلامیات کے پروفیسر منصورالرحمان ، گورنمنٹ کالج لیاقت آباد (پپلاں) سے ٹرانسفر ھو کرآئے- اسس سے پہلے بھی وہ ھمارے کالج میں بہت آتے جاتے رھتے تھے، ان کا گھر میانوالی میں تھا، پروفیسر سرورنیازی صاحب اورمحمد انور میکن صاحب کے بہت قریبی دوست تھے- کسی زمانے میں فلمی دنیا سے بھی وابستہ رہ چکے تھے، اس لیے اداکاری اور ھدایت کاری کے رمزآشناتھے- ان کا یہ اضافی علم سرورنیازی صاحب کے لکھے ھوئے ڈراموں کی ھدایت کاری میں کام آگیا-بہت سوشل آدمی اور مخلص دوست تھے-

جغرافیہ کے پروفیسر ملک محمد اسلم بھی اچانک یہ دنیا چھوڑ گئے- بیالوجی کے پروفیسر مقصودصاحب کے کزن تھے- بہت خوش مزاج اور زندہ دل انسان تھے-

فزکس کے ھیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ملک غلام محمد (جی ایم صاحب) بھی ھمارے بہت پیارے ساتھی تھے- بچوں جیسی معصومیت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھی- یہ بھی ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ بعد اس دنیا سے رخصت ھوگئے- ان کے صاحبزادے ملک عارف ایم اے انگلش میں میرے سٹوڈنٹ رھے ھیں- عارف بیٹا فیس بک کی ایک مقبول شخصیت ھیں-

اللہ تعالی ھمارے ان تمام ساتھیوں کی مغفرت فرماکر انہیں بلند درجات عطا فرمائے- ھم پرانے ساتھی جب بھی کہیں مل بیٹھتے ھیں ، ان دوستوں کو یاد کرتے رھتے ھیں- ان میں سے ھر ایک کا اپنا اپنا مقام اور کالج کے لیے خدمات تھیں – ان کے ذکر کے بغیر گورنمنٹ کالج میانوالی کی داستان ادھوری لگتی تھی ، اس لیے ان کاذکر ضروری سمجھا-

فیس بک سے دوستی —

میرے ایک اور بہت پیارے بیٹے اور اولیں فیس بک فرینڈ خیبر پختونخوا کے رومان خان ہیں- رومان خان بنوں کے ایک معزز خاندان کے چشم و چراغ ہیں- پنجاب گروپ آف کالجزاسلام آباد سے ایف ایس سی کرنے کے بعد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں سے پزنس ایڈمنسٹریشن میں بی بی اے آنرز کر رھے ھیں- میری اردو انگلش کی پوسٹس بڑے شوق سے پڑھتے ھیں- بتاتے ھیں کہ پنجاب گروپ آف کالجز میں ان کے انکلش کے پروفیسر عمران صاحب نے میری انگلش پوسٹس اپنے سٹوڈنٹس میں متعارف کرائیں اوروہ انگلش سیکھنے کے لیے میری ان پوسٹس سے استفادہ کرتے رھے- یاد رھے کہ میں نے پوسٹس لکھنے کا آغاز Teaching of English کے حوالے سے انگلش پوسٹس لکھنے سے کیا تھا- اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میرے لیے انگلش پوسٹس لکھنا آسان تھا، اس میں کاپی اور پیسٹ کے مراحل نہیں ھوتے- بعد میں اردو کمپوزنگ سیکھ لی تو اردو میں بھی پوسٹس لکھنا شروع کردیا–

ایف ایس سی کرنے کے بعد رومان خان بنوں یونیورسٹی آگئے تو اب بھی میری انگلش اردو پوسٹس بڑے شوق سے پڑھتے اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرتے رھتے ھیں- اللہ انہیں سلامت رکھے، میرے بہت اچھے بیٹے ھیں -31اکتوبر  2016

Your words for Mianwali and Mianwalians