MERA MIANWALI JULY 2017

میرا میانوالی

منورعلی ملک کی جولائی 2017 کی

فیس بک پرپوسٹ


 

میرا میانوالی

کل میرے محترم بھائی پروفیسر رئیس احمد عرشی تشریف لائے- خالی ھاتھ نہیں، تین بہت قیمتی کتابیں عنایت کر گئے-
پروفیسر عرشی صاحب گورنمنٹ کالج میانوالی کے شعبہ اردو کے سربراہ ریٹائر ھوئے- کالج میں تقریبا بیس سال میرے ھمسفر رھے- خالی پروفیسر ھی نہیں ، بہت صاحب علم بھی ھیں، صاحب قلم بھی- ان کی چار کتابیں منظرعام پر آچکی ھیں- پہلے دوشعری مجموعے شائع ھوئے، دونثر کی کتابیں حال ھی میں شائع ھوئی ھیں-Image may contain: 3 people, eyeglasses and text

الحمدکل جو تین کتابیں پروفیسر عرشی میرے لیئے لے کرآئے، یہ ھیں “ناطقہ سر بہ گریباں“ کے عنوان سے عرشی صاحب کے اداریوں اور کالموں کا مجموعہ ، “کوثرنیازی کی ادبی خدمات“ کے عنوان سے ایک جامع اور خوبصورت کتاب ، اور “شیرازہ حیات“ کے نام سے مرحوم سید انجم جعفری کی حیات اور ادبی خدمات کا تذکرہ – ایک دو دن ان قیمتی کتابوں کا ذکر رھے گا–“ناطقہ سر بہ گریباں“ عرشی صاحب کے لکھے ھوئے اداریوں اور کالموں کا مجموعہ ھے- یہ ادارٰئیے اور کالم ماہنامہ “نوائے پٹھان“ میں 2003 سے2007 تک شائع ھوئے- ماھنامہ نوائے پٹھان ، ھائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج مرحوم جسٹس عبدالجبار خان نے 1991 میں لاھور سے جاری کیا- پروفیسر عرشی 2003 سے 2007 تک اس کے مدیر (ایڈیٹر ) رھے٠ 2007 میں یہ بیش قیمت معلوماتی جریدہ نامساعد حالات کی وجہ سے بند ھو گیا- اس رسالے کی اھمیت کا ایک بہت بڑا ثبوت یہ ھے کہ اشفاق احمد خان، منیر نیازی، امیر نواز نیازی اور ڈاکٹر اجمل نیازی جیسے نامور اھل قلم بھی اس کے ایڈیٹر رھے ——– رھے نام اللہ کا– منورعلی ملک — 1 جولائی 2017-

 
 

میرا میانوالی

“کوثر نیازی کی ادبی خدمات “ پروفیسر رئیس احمد خان عرشی کا قابل فخر تحقیقی کارنامہ ھے- اس کتاب میں عرشی صاحب نے مولانا کوثر نیازی کی ادبی خدمات کے علاوہ ان کی زندگی اور سیاسی خدمات کے بارے میں بھی مستند معلومات فراھم کردی ھیں- اگر چہ مولانا کوثر نیازی اپنی مصروفیات کی وجہ سے زیادہ تر میانوالی سے باھر رھے، پھر بھی وہ ھمارے لیے قابل احترام بھی ھیں ، قابل فخر بھی- یہ حیات آموز کتاب پڑھنے سے بہت سے لوگوں کی زندگی آسان ھو سکتی ھے- عرشی صاحب نے تاریک راہ پر چراغ جلاکر رکھ دیا ھے- اس روشنی سے جو محروم رہ جائے، اس کی قسمت

مولانا کوثر نیازی کا ذکر چھڑا تو یاد آیا کہ جب ھم سنٹرل ٹریننگ کالج لاھور کے سٹوڈنٹ تھے، ان دنوں مولانا کوثر نیازی پیپلز پارٹی کے ھفت روزہ اخبار “شہاب“ کے ایڈیٹر تھے- الیکشن کی تیاریاں ھو رھی تھیں- مولانا سیالکوٹ / گوجرانوالہ سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی رکنیت کے امیدوار تھے- ھفت روزہ شہاب کا دفتر ھمارے کالج کے قریب داتا دربار مارکیٹ میں واقع تھا-Image may contain: 1 person, beard, eyeglasses and closeup

سیالکوٹ کی بجائے اپنے ضلع میانوالی سے الیکشن کیوں نہیں لڑتے- وھاں تو سب آپ کے اپنے لوگ ھیں- ھم نوجوان آپ کی انتخابی مہم چلائیں گے“-

مولانا نے ھنس کر کہا “نہیں بھائی ، وھاں بڑے نیازی صاحب (مولانا عبدالستارخان نیازٰی) االیکشن لڑتے ھیں— ھم چھوٹے نیازیوں کو ان کے مقابلے میں نہیں آنا چاھیے—- سیاسی اختلاف اپنی جگہ، میں انہیں اپنا بزرگ سمجھتا ھوں“
خود کو چھوٹا کہنے والا یہ شخص بلاشبہ ایک بڑا انسان تھا-

 

میرا میانوالی ——————- 2

(ان لوگوں کے لیے جو مولانا کوثر نیازی کو نہیں جانتے)

Image may contain: 1 person, beard and hat

مولانا کوثر نیازی فروری 1934 میں موسی خیل ضلع میانوالی میں پیدا ھوئے- ان کے والد کا نام فتح خان نیازی تھا- انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کانام محمد حیات خان رکھا- سکول کے زمانے میں محمد حیات خان کو شاعری کا شوق لاحق ھؤا تو انہوں نے اپنا قلمی نام کوثر نیازی رکھ لیا- موسی خیل میں ابتادئی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ ھائی سکول میانوالی سے میٹرک کیا- اپنے اردو ، فارسی کے ٹیچر مرحوم گل ھاشمی کی بہت تعریف کیا کرتے تھے-
میٹرک کے بعد کوثر نیازی کو لاھور کے سہ روزہ اخبار “کوثر“ میں ملازمت مل گئی تو وہ مستقل طور پہ لاھور مقیم ھوگئے- بقیہ دینی و دیناوی تعلیم وھیں مکمل کی- اخبار کوثر کی ملازمت کے دوران جماعت اسلامی سے وابستہ ھو گئے- مولانا مودودی کے بہت قریب رھے- کچھ حاسد لوگوں کی سازشوں کی وجہ سے جماعت اسلامی سے استعفی دینا پڑا- اس اثنا میں وہ چوٹی کے صحافی کی حیثیت میں ملک بھر میں مشہورومعروف ھو چکے تھے- بھٹو صاحب نے انہیں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی تو انکار نہ کر سکے ، پیپلز پارٹی سے وابستہ ھوگئے- بھٹو کی کابینہ میں چار سال تک وزیر مذھبی امور رھے- اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بھی رھے-

جناب کوثر نیازی نے لاھور میں شام نگر اور راج گڑھ کے سنگم پر اپنا گھر بنا لیا تھا- تقریبا بیس سال اس گھر میں رھے- جب وفاقی وزیر بنے تو اسلام آباد میں گھر بنا کر وھاں منتقل ھوگئے

کوثر نیازی کی شاعری کے تین مجموعے اور نثر کی چھوٹی بڑٰی چوبیس کتابیں شائع ھوئیں- ان کی سب سے مقبول کتاب “اورلائین کٹ گئی“ جنرل ضیاء کے مارشل لاء نافذ کرنے کی سنسنی خیز داستان ھے-
مرحوم زبردست خطیب بھی تھے-آخر میں ان کے یہ دوشعر دیکھ کر ان کے حق میں دعائے خیر کر دیجیئے،-

لے سانس بھی آھستہ یہ دربار نبی ھے
خطرہ ھے بہت سخت یہاں بے ادبی کا
دوسرا شعر دیکھئے —————-
کوثر مجھے اس جرم سے انکار نہیں ھے
شیدا ھوں دل و جاں سے میں اولاد علی کا
19 مارچ 1994 کو جناب کوثر نیازی زندگی کا سفر مکمل کرکے اسلام آباد میں اس دنیا سے رخصت ھوگئے-

کوثر نیازی کی نعت کے دوشعر—————————–
جتنا دیا سرکار نے مجھ کو اتنی مری اوقات نہیں
یہ تو کرم ھے ان کا وگرنہ مجھ میں تو ایسی بات نہیں

غور تو کر سرکار کی تجھ پر کیسی خاص عنایت ھے
کوثر تو ھے ان کا ثناخواں یہ معمولی بات نہیں
—- رھے نام اللہ کا –– منورعلی ملک –2 جولائی 2017-

میرا میانوالی

آج صبح پکی شاہ مردان سے سیدعاصم بخاری اپنے صاحبزادے اور راحت امیر تری خیلوی کے ھمراہ تشریف لائے اور مجھے مالامال کرگئے- اپنی دوتازہ کتابوں “مدح ختم الرسل“ اور “سیدعطامحمد شاہ کی علمی خدمات“ کے علاوہ عاصم بخاری نے مجھے سید ضمیر بخاری کے تحقیقی و تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب “آب اباسین“ بھی عنایت کی- معروف ناشر، شاعر اور ادیب راحت امیر نیازی نے اپنی شاعری کے دومجموعے “جرم وفا“ اور “ھاں —— ابھی زندہ ھوں“ عطا کر کے حق دوستی ادا کیا-

میانوالی کے ادبی منظرنامے میں یہ دونوجوان بہت سی قابل قدر کتابوں کے ساتھ بہت نمایاں ھیں- دونوں اپنی ذات کی نمائش سے زیادہ دوسرے اھل علم و قلم کو متعارف کرانے کا کارخیر سرانجام دے رھے ھیں- راحت میانوالی کے اھل قلم کی بےشمار کتابیں شائع کر چکے ھیں- عاصم اپنی تحقیقات اور تخلیقات کے علاوہ میانوالی کے شعراء کے منتخب کلام پر مشتمل پانچ کتابیں شائع کرا چکے ھیں-

راحت اور عاصم نہ ھوتے تو کئی اچھے شعراء چپکے سے مٹی اوڑھ کر سوجاتے اور کسی کو پتہ ھی نہ چلتا کہ یہ بھی شاعر تھے–

اللہ ان دونوں کو ھمت اور استقامت عطا فرمائے، بہت خوشی ھوتی ھے ایسے لوگوں سے مل کر— منورعلی ملک — 3 جولائی 2017-

میرا میانوالی

آج ذکر ھے سید انجم جعفری کا ——– تقریبا نصف صدی پر محیط بے تکلف دوستی کی داستان — دریا کو کوزے میں سمیٹنے کا ھنر مجھے نہیں آتا – حسب توفیق کچھ یادوں کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ھوں –Image may contain: 1 person

سیدرفیق حسین انجم جعفری تقریبا نصف صدی میانوالی کے علمی اور ادبی حلقوں کے سرکردہ رھنما شمار ھوتے رھے- میرا ان سے تعلق اس زمانے میں استوار ھؤا جب یہ گورنمنٹ مڈل سکول ماڑی انڈس میں ھیڈماسٹر تھے ، اور میں ٹھٹھی سکول میں->1972 میں جعفری بھائی نے ماڑی انڈس سکول میں ایک مشاعرہ منعقد کیا تو مجھے بھی بلالیا- شاعر کی حیثیت میں نہیں ، ھیڈماسٹر بھائی کی حیثیت میں- میرے شاعر ھونے کا تو اس وقت خود مجھے بھی علم نہ تھا- ایک آدھ سال پہلے ایک غزل لکھی تھی، مگر کسی کو سنانا یا دکھانا ضروری نہ سمجھا، کہ مجھے اس کام سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی- مشاعرے کی دعوت ملی تو یہ سوچ کرڈائری سے اپنی اکلوتی غزل والا ورق پھاڑ کر جیب میں ڈال لیا کہ پہلے جعفری بھائی کو سنا دوں گا، انہوں نے کہا تو مشاعرے میں پڑھ بھی دوں گا-;”>انجم بھائی غزل کا پہلا ھی شعر سن کر جھوم اٹھے- پوری غزل بار بار سن کر داد دیتے رھے- کہنے لگے “واہ ، یار تم تو بہت اچھے شاعر نکلے- صبح یہ غزل مشاعرے میں پڑھ دینا “

“مگر بھائی ——“ میں نے احتجاج کرنے کی کوشش کی تو انجم بھائی نے پیار سے ڈانٹتے ھوئے کہا
“ عجیب چغد انسان ھو تم ،— میں تمہاری کوئی دلیل نہیں سنوں گا، صبح مشاعر ے میں تمہیں یہ غزل پڑھنی ھوگی-“

حکم تھا۔ تعمیل کے سوا کوئی چارہ نہ تھا- صبح غزل پڑھی تو ھرشعر پرھر طرف سے داد سن کر اندازہ ھؤا کہ میں بھی شاعر ھوں——Image may contain: 1 person, text

سچ کہتا ھوں کہ اگر اس دن انجم بھائی مجھے دھکا دے کر میدان میں نہ لاتے تو میں شاعری کبھی نہ کرتا- — رھے نام اللہ کا —–– منورعلی ملک — 4  جولائی 2017-

میرا میانوالی

1977 میں جناب انجم جعفری نے ماڑی انڈس سکول میں نعتیہ مشاعرہ منعقد کیا- عیسی خیل کے اسسٹنٹ کمشنر توقیراحمد فائق صدرمحفل تھے ، وہ خود بھی صاحب طرز شاعر تھے-
مجھے انجم بھائی نے اس تقریب میں ایک دن پہلے بلا لیا- اس وقت تک میں نے کبھی نعت نہیں لکھی تھی- مگر دل مطمئن تھا کہ اللہ کریم عزت رکھ لیں گے- کچھ نہ کچھ عطا ھوھی جائے گا- میں نے رات انجم بھائی کے سکول میں بسر کی- فجر کے بعد سکول کے سامنے دریا کے کنارے جا کھڑا ھؤا- اچانک نعت کے شعر دل سے زبان پہ آنے شروع ھو گئے- پہلا شعرتھا

تیرا چہرہ یہ تیری زلفیں ، یہ صبح آقا یہ شام آقا

درود آقا ، سلام آقا ، سلام خیرالانام آقا

آنکھوں سے آنسو برستے رھے ، اور ذرا سی دیر میں نعت مکمل ھو گئی ، اور میں نے کاغذ پہ لکھ دی- انجم بھائی کو سنائی تو خوشی سے اچھل پڑے- ایک ایک شعر باربار سنتے اور درود پاک پڑھتے رھے- اس نعت کا ایک شعر تھا-

خدا سے خائف نہ تجھ سے نادم ، زباں پہ اسلام کے قصیدے
یہ لوگ کیا اس زمیں پہ نافذ کریں گے تیرا نظام آقا

نرل ضیاء کو اقتدار میں آئے چند ھی دن ھوئے تھے- ھر طرف اسلامی نظام کے نفاذ کے نعرے لگ رھے تھے- اس پس منظر میں یہ شعر خاصا خطرناک شعر تھا- صدر مجلس نے یہ سن کر کہا “ملک صاحب ، ھاتھ ذرا ھلکا رکھیں- اس مشاعرے کی کارروائی اگر خفیہ ایجنسیوں کے ھاتھ لگ گئی تو نوکری آپ کی بھی چلی جائے گی ، میری بھی “
انجم بھائی نے کہا “ملک صاحب نے اس شعر میں جس سرکار کو مخاطب کیا ھے، وہ آپ کی سرکار سے بہت بڑی ھے- ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا “

یہی نعت بعد میں لالا عیسی خیلوی کی آواز میں دنیا بھر میں معروف و مقبول ھوئی- میں یہ کہوں تو غلط نہ ھوگا کہ اس نعت نے لالا کی قسمت سنوار دی-

مجھے یہ پہلی نعت لکھنے کا موقع فراھم کرنے کا اجروثواب انشاءاللہ انجم بھائی کو قیامت تک ملتا رھے گا-
—————– رھے نام اللہ کا ——————
×××××× ابھی کچھ دیر پہلے ارشد بیٹے نے یوٹیوب پراس نعت کی تازہ ترین ریکارڈنگ دکھائی- یہ ریکارڈنگ لالا نے رمضان المبارک کے دوران کروائی- اس میں کوئی ساز استعمال نہیں ھؤا، لیکن نعت خواں (لالا) کی آواز اور انداز سے صاف پتہ چلتا ھے کہ وہ ریکارڈنگ کے دوران رو رھا ھے- بحمداللہ اس ریکارڈنگ کو 17 لاکھ سے زیادہ لوگ لائک کر چکے ھیں —-– منورعلی ملک — 5 جولائی 2017-

میرا میانوالی

اس پوسٹ میں شامل پکچر انجم بھائی (مرحوم انجم جعفری) کے صاحبزادے سید وقاص انجم جعفری کی کتاب “شیرازہ حیات“ کا عکس ھے- وقاص بیٹے نے اپنے عظیم والد کی شخصیت، کردار اور ادبی خدمات کے بارے میں مستند معلومات اس دلکش کتاب میں فراھم کر دی ھیں- یہ ایک کار خیر ھے، کیونکہ یہ ایک صاحب کردار انسان کی کردار ساز داستان ھے-اس کتاب میں انجم بھائی کے بارے میں معاصرین کے تاثرات بھی شامل ھیں- ھر مکتب فکر کے اھل قلم نے انجم بھائی کو بھرپور خراج عقیدت و تحسین پیش کیا ھے- الحمدللہ اس میں چار مضمون میرے بھی ھیں- ایک مضمون ان کی وفات کے بعد لکھا، تین ان کی مختلف کتابوں کے تعارفی مضمون ھیں-Image may contain: 1 person
اس کتاب میں سب سے دلکش تحریر وقاص بیٹے کا تاثراتی مضمون “ابو جی کی یاد میں “ ھے- یہ مضمون پڑھتے ھوئے آنکھیں بھی بھیگتی ھیں، دل کے اندر بھی کچھ ھوتا ھے- وقاص بتاتے ھیں کہ قیام پاکستان کے وقت ھجرت کر کے آنے والے کئی خاندان یوں بکھرے کہ باپ کو بیٹے ، اور بھائی کو بھائی کا کچھ پتہ نہ تھا کہ کہاں ھے، اس دنیامیں موجود بھی ھے یا نہیں- انہی دنوں ایک صاحب نے ریلوے سٹیشن پر ایک چھوٹا سا بچہ دیکھا جو گنے فروخت کر رھا تھا- قریب جا کر دیکھا تو معلوم ھؤاکہ یہ ان کا چھوٹا بھائی رفیق حسین ھے- یہی رفیق حسین اللہ کے فضل و کرم سے آگے چل کر انجم جعفری کے نام سے علم وادب کا ایک درخشاں باب ثابت ھؤا-
انجم بھائی کی اس دنیا سے رخصتی کا ایمان افروز تذکرہ وقاص بیٹے کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے-ابو ھر سال ھمیں یاد دھانی کراتے کہ اللہ کے رسول علیہ ایسلام نے چاند رات کو لیلتہ الجائزہ قرار دیا ھے-یہ بقول رسول اکرم مزدور کو مزدوری ملنے کی رات ھے—— اللہ نے ٹھیک اسی رات اپنے مزدور(انجم جعفری) کو مزدوری دینے کے لیے اپنے پاس بلا لیا “
جگر کے کینسر کے آخری مراحل میں بھئ جناب انجم جعفری نے ایک روزہ بھی قضا نہ ھونے دیا- 28 جولائی 2014 کو رمضان المبارک کا آخری روزہ مکمل کرکے چاندرات اللہ کے حضور میں حاضر ھو گئے-
سبحان اللہ، کیا قابل رشک زندگی اور موت تھی میرے بھائی کی —– !!!-
————- رھے نام اللہ کا —

عزیز دوستو ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ————

ایک ٹیچر کی حیثیت میں بعض اوقات آپ کو ڈانٹنا بھی پڑجاتا ھے- بات یہ ھے کہ میں جن شخصیات کے بارے میں لکھتا ھوں وہ سب لوگ کسی نہ کسی حوالے سے میرے محسن ھوتے ھیں- اس لیے ان میں سے کسی کی اھمیت آپ کی نظر میں بھی کم نہیں ھونی چاھیئے- اکثر یہ دیکھنے میں آیا ھے کہ جن لوگوں کو آُ پ جانتے ھیں، ان کے بارے میں پوسٹس پر تو آپ لائیکس اور کمنٹس کی لائین لگا دیتے ھیں، جنھیں نہیں جانتے انہیں لائیک دینا بھی گوارا نہیں کرتے- مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی- یہ بھی دیکھا ھے کہ میانوالی کے دوست میانوالی سے باھر کے ناواقف لوگوں پر لکھی ھوئی پوسٹس کو اھمیت نہیں دیتے- یہ مناسب بات نہیں ، جو بندہ میری نظر میں اھم ھے اسے مناسب اھمیت دینا آپ کا اخلاقی فرض بنتا ھے-

عیسی  خیلوی ھی کے بارے میں لکھ کر روزانہ ڈھیروں لائیکس اور کمنٹس سمیٹتا رھتا- لیکن آپ کو پہلے کئی دفعہ بتا چکا ھوں کہ آپ میرے ساتھ رھیں گے تو میری انگلی پکڑ کر چلنا ھوگا— کہا تھا نا میں نے —- ؟؟؟—— منورعلی ملک — 6 جولائی 2017

میرا میانوالی

لوگ گذر گئے- ان کے ساتھ بہت سی اچھی روایات اور کلچر کے مظاھر بھی دنیا سے اٹھ گئے- غریبی اور سادگی کی جگہ دولت اور دکھاوے نے لے لی- پیسہ آگیا ، سکون اٹھ گیا اپنے بچپن کی یادوں میں پچھلے دنوں میں نے پہارے کا ذکر کیا تھا، جہاں محلے بھر کی خواتین چکی پر آٹا پیسا کرتی تھیں- اسی قسم کی ایک چیز “دانگی“ بھی ھؤاکرتی تھی ، جہاں لوگ چنے ، گندم، باجرا وغیرہ کے دانے بھنوایا کرتے تھے- دانگی پر آپ کا پاپ کارن Popcorn بھی بنتا تھا-

دانگی کو اردو میں بھٹی کہتے ھیں- یہ لوھے کی کڑاھی ھوتی تھی جس میں گرم ریت میں دانے ڈال کر بھونے جاتے تھے- لاھور اور دوسرے بڑے شہروں میں آج بھی افغانی گلیوں میں یہ کام کرتے دکھائی دیتے ھیں- دوپہر کے بعد بھنے ھوئے دانے کھانے کے عمل کوپچھائیں کہتے تھے-

رواج یہ تھا کہ دیہات کے لوگ دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے تھے- صبح دہی ، لسی ، گھی یا مکھن کے ساتھ ایک دو روٹیوں کا تگڑا سا ناشتہ کر لیتے تھے- پھر ظہر کے بعد تازہ بھنے ھوئے مٹھی بھر چنے ، گندم ، باجرا، یا مکئی کے گرماگرم دانے کھا لیتے تھے-
ھمارے محلے میں چاچا مسن (غلام حسن) پاؤلی کی بیوٰی ماسی مہراں دانگی پر دانے بھوننے کا کام کرتی تھی- دوپہر ھی سے چاچا مسن کے گھرمیں ٹاھلی کے چھتنار درٍخت کے سائے میں دانے بھنوالے کے لیے آنے والے بچوں کی لائین لگ جاتی تھی- ھر بچہ جھولی میں دانے لے کر آتا اور اپنی بار ی پر بھنوا کر چلاجاتا — بچیاں ، بچوں کی طرح بد تمیز نہیں تھیں- وہ پلیٹ یا چھکوری میں دانے ڈال کر لاتی تھیں-
جب تک دادا جی زندہ رھے ھمارے ھاں بھی پچھائیں کا رواج رھا- میں خود کئی دفعہ جھولی میں دانے ڈال کر ماسی مہراں سے بھنوا لاتا تھا- — دادا جی کہا کرتے تھے گھوڑا چلے تو زمین لرزتی ھے- گھوڑے کو یہ طاقت چنے کھانے سے حاصل ھوتی ھے- اس لیے دوپہر کے بعد تازہ بھنے ھوئے چنے ضرور کھانے چاہیئں-
———— رھے نام اللہ کا ——— منورعلی ملک — 7 جولائی 2017

میرا میانوالی

چاچا مسن (غلام حسن) پاؤلی کے گھر میں ایک طرف تو ماسی مہراں دانگی پر دانے بھونتی تھی- دوسری طرف چاچا مسن کھڈی پر کپڑا بنتا رھتا تھا-Image may contain: one or more people

کھڈی کپڑابننے کی سادہ سی مشین تھی- تقریبا تین فٹ لمبے لکڑی کے دو کنگھے سے تھے-یہ کنگھے ایک چھوٹے سے چوکور گڑھے کے ایک کنارے پر لکڑی کے فریم میں لگے ھوئے تھے- گڑھے کے دوسرے سرے پر چاچا مسن گڑھے میں پاؤں لٹکا کر بیٹھتا تھا- گڑھے میں کار کے بریک اور کلچ جیسے دو پیڈل لگے ھوئے تھے- کھڈی چلاتے ھوئے چاچا مسن باری باری ان پیڈلز کو بریک اور کلچ کی طرح دباتا رھتا تھا- ھاتھوں سے موبائیل فون جیسی شکل کی نال (Shuttle) کو دائیں بائیں اچھالتا رھتا تھا- اور یوں ھمارے دیکھتے ھی دیکھتے دھاگوں کے لچھے کپڑے کی شکل اختیار کر لیتے تھے—- چاچا مسن اس فن کا بہت بڑا ماھر تھا- کسی زمانے میں کالاباغ کے قریب ماڑی شہر بھی کھڈیوں کا مرکز ھؤا کرتا تھا- اب پتہ نہیں وھاں کیا حال ھے-؟ سب کچھ جو بدل گیا-چاچا مسن تین قسم کا کپڑا بنتا تھا- ایک تو سادہ سفید کھدر، دوسرا لحاف بنانے کا کپڑا، تیسرا بزرگ خواتین کے لیے سیاہ یا گہرے سرخ رنگ کی ریشمی کناروں والی کاٹن کی شال، جسے ٹکرا Tikra کہتے تھے- اس زمانے میں ھمارے علاقے کی بزرگ خواتین دوپٹے کی جگہ سر پہ ٹکرا ھی پہنتی تھیں- بہت باوقار پہناواتھا-

سکندرآباد میں چار کارخانوں کے قیام سے داؤدخیل میں جو انقلاب آیا اس کی زد میں آکر نہ ماسی مہراں کی دانگی بچی، نہ چاچا مسن کی کھڈی- لوگ “مہذب “ ھوگئے- کھدرکا لباس اور ٹکرا پہننے کا رواج ختم ھو گیا- آخری عمر میں چاچا مسن کو دووقت کی روٹی کے لیے سکندرآباد کے ھسپتال میں بیلدار (مزدور) کے روپ میں دیکھا- دھوتی کی بجائے شلوار میں ملبوس چاچا مسن بہت اداس سا لگ رھا تھا- پوچھا چاچا خیریت تو ھے ؟
چاچا کی آنکھیں بھیگ گئیں – آہ بھر کر بولا “ خیر کتھے- بس ساہ پور ے کرینا وتا —– رھے نام اللہ کا —–– منورعلی ملک —  8 جولائی 2017

میرا میانوالی

سادگی اور بے سروسامانی کے کچھ نقصانات بھی تھے- علم اور معلومات کی کمی کی وجہ سے ھم لوگ ھر افواہ کو سچ سمجھ کر ایکشن کردیتے تھے، جو اکثر اوقات غلط ھوتا تھا ، اور پھر بعد میں اس پر ھنستے یا روتے رھتے تھے-
قیام پاکستان کے وقت داؤدخیل میں نہ ریڈیو دستیاب تھا، نہ اخبار- ڈاک سے مولانا ظفر علی خان کا اخبار “زمیندار“ لاھور سے تین دن میں داؤدخٰیل پہنچتا تھا-

جب سرحد کے دونوں طرف قتل وغارت کا بازار گرم ھؤا تو ایک رات قریبی گاؤں ٹھٹھی سے فائرنگ کی آوازسنائی دی- داؤدخیل میں کسی نے افواہ اڑادی کہ سکھ حملہ آور آ رھے ھیں- لوگوں نے فورا اپنی اپنی بندوقیں نکالیں اور سکھوں کو ڈرانے کے لیے اندھا دھند ھوائی فائرنگ شروع کردی- شہر بھر میں رات بھر فائرنگ ھوتی رھی- ھمارے بزرگوں نے بھی کارتوسوں کے دو ڈبے پھونک دیے- محلے کے دوسرے لوگ بھی ھماری چوک پر آکر تڑاتڑ فائرنگ میں مشغول ھوگئے- رات بھر شہر میں خوف و ھراس کا عالم طاری رھا- خواتین بھی جانمازیں بچھا کر رات بھر سکھوں کی تباھی و بربادی کے لیے دعائیں کرتی رھیں- کچھ بزرگ خواتین چھریاں چاقو پتھر پر رگڑ کر تیز کرتی رھیں-

ھماری ان تمام تر تیاریوں کے باوجود سکھ نہ آئے- اور صبح سب لوگ ایک دوسرے کو مبارکیں دینے لگے کہ ھماری فائرنگ سے ڈر کر سکھوں نے ادھر کا رخ ھی نہ کیا-

رات بھر یہ بات کسی کے ذھن میں نہ آئی کہ سکھ امرتسر سے چل کر تین چار سو میل دور داؤدخیل کیسے پہنچ سکتے ھیں – راستے میں پہلے لاھور آتا ھے، پھر شیخوپورہ، آگے سرگودھا خوشاب ، میانوالی بھی ھیں- تقریبا ڈیڑھ سو شہر فتح کر کے ھی سکھ داؤدخیل پہنچ سکتے تھے- سکھ تو سرحد کے اس پار قدم بھی نہ رکھ سکے- اگر جراءت کرتےتو پاک فوج دھجیاں اڑا کے رکھ دیتی- ادھر ھی کام ختم ھو جاتا-
صبح یہ بات لوگوں کی سمجھ میں آئی ، تواپنی حماقت پر دن بھر ھنستے رھے-
ایسے واقعات اب نہیں ھو سکتے- لوگ سیانے ھو گئے ھیں- پھر بھی پتہ نہیں کیوں کبھی کبھی یہ خیال آتا ھے کہ ——-
اس ھوش سے اچھی تھی ظالم تری بے ھوشی
—————– رھے نام اللہ کا ———- منورعلی ملک –9 جولائی 2017

میرا میانوالی

بچپن میں اور کاموں کے علاوہ ھم بٹیر بازی بھی کرتے رھے- یہ داؤدخیل میں اس زمانے کا فیشن تھا- بٹیربازی داؤدخیل کی پہچان ھؤاکرتی تھی- مہینے میں ایک آدھ بار نہر کے پار بٹیروں کا ون ڈے میچ ھوتا تھا- اس میں ضلع بھر کے سینیئر بٹیر باز شریک ھوتے تھے- اکثرفتح داؤدخیل ھی کے حصے میں آتی تھی-

غلام مصطفی خان خانے خٰیل ، چاچا گھیبہ سنارکے ایک دو بیٹے، ماسٹردرازخان ، ھمارے بھائی محمد عظیم ھاشمی اور خان چاچا داؤدخیل کے سینیئر بٹیر باز تھے— یہ سب لوگ اپنے اپنے بٹیرتھامے دن بھر چاچا گھیبہ سنار کی دکان پر بیٹھ کر اپنے اپنے بٹیروں کے فضائل بیان کرتے ، پچھلے میچوں پر تبصرہ کرتے اور آئندہ میچوں کی منصوبہ بندی کرتے رھتے تھے-

بٹیروں کا شکار اگست سے اکتوبر تک کچے کے علاقے میں ھوتا تھا- چاچا گھیبہ سنار کے بیٹے اور چاچا صالح محمد درکھان بٹیروں کے شکاری تھے- وہ صبح سحری کے وقت باجرے کے کھیتوں سے جال کے ذریعے زندہ بٹیر پکڑ کر لایا کرتے تھے- ایک جال میں بعض اوقات پچاس ساٹھ بٹیر بھی پھنس جاتے تھے-

Image may contain: 1 person

ھر سال اس موسم میں مرغابیوں، کونجوں اور دوسرے مہاجر پرندوں کے ساتھ بٹیر بھی روس سے عارضی ھجرت کر کے ھمارے علاقے میں آیا کرتے تھے— جب ھمارے علاقے میں بجلی آئی تو بٹیر ھم سے روٹھ گئے- اب پتہ نہیں ھرسال کہاں جاتے ھوں گے ؟ –

کہانی کچھ زیادہ لمبی ھے، باقی انشاءاللہ کل — کچھ دوست ادھوری کہانیوں پر احتجاج کرتے ھیں- مگر میری مجبوری یہ ھے کہ لمبی عبارت مسلسل ٹائیپ کرتے کرتے انگلیاں سن ھونے لگتی ھیں- اس لیے صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں–کرتے کرتے انگلیاں سن ھونے لگتی ھیں- اس لیے صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں- رھے نام اللہ کا -Picture sent by Dastgir Khan Niazi.

Image may contain: 1 person, eyeglasses and closeup-آج احمد ندیم قاسمی کی ١١ ویں برسی ھے- اردو ادب کی تاریخ میں یہ واحد مثال ھے کہ ایک شخص بڑا شاعر بھی تھا، افسانہ نگار بھی- رب کی دین ھے جس کو جو چاھے دے دے-No automatic alt text available.
احمد ندیم قاسمی سکیسر کے علاقے کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں 20 نومبر 1916 کو پیدا ھوئے اور 10 جولائی 2006 کو راھئی ملک عدم ھوگئے- پچاس کتابوں کے مصنف، صف اول کے شاعر، افسانہ نگار صحافی اور ادبی رسائل کے مدیر تھے- ان کے بارے میں تفصیل سے پھر کبھی لکھوں گا ، انشاءاللہ —- آج ان کے چند شعر دیکھ کر ان کے لیے دعائے خیر کر دیجیے- پہلا شعر نعت کا ھے- باقی غزلوں کے-
لوگ کہتے ھیں کہ سایا ترے پیکر کا نہ تھا
میں یہ کہتا ھوں دوعالم پہ ھے سایا تیرا
———————
دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا
میں فقط ایک ھی تصویر کہاں تک دیکھوں ؟
—————
دورجب چاند افق میں ڈوبا
تیرے لہجے کی تھکن یاد آئی
————— یہ شعر بھی ندیم ھی کا ھے
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ھو===منورعلی ملک –10 جولائی 2017

میرا میانوالی

Image may contain: birdبٹیر دو آنے کا ملتا تھا (ایک روپے میں آٹھ) ، بٹیری ایک آنے میں – زیادہ تر لوگ ان کا گوشت کھانے کے لیے خریدتے تھے- اکثر بٹیر تو ھماری آپ کی طرح یتیم مسکین سے ھوتے تھے- لڑائی جھگڑے سے گریز کرتے تھے- دس میں سے ایک آدھ بٹیر ھی لڑاکا ھوتا تھا- گھرکے لوگ بٹیر خریدتے تو ھم ان میں سے لڑاکا بٹیر الگ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیتے تھے- اور دن بھر دوستوں کے بٹیروں کے ساتھ اسے لڑا تے رھتے تھے-Image may contain: 1 person, selfie and closeup
بٹیر بازی کے بھی کچھ اصول ھوتے تھے—- ھارا ھؤا بٹیر اول تو دوبارہ میدان میں آتا نہیں تھا، اگر کوئی بٹیر دوبارہ لڑنے کو تیار بھی ھو جاتا تو سینیئر بٹیرباز اسے بھگلی (بے غیرت) قرار دے کر لڑانے کی بجائے ذبح کر دیتے تھے-
بچے تو غیرت کے معنی ھی نہیں جانتے، اس لیے وہ بھگلی بٹیروں کو ھی بار بار لڑا کر اپنا شوق پورا کرتے رھتے تھے—- اس میں بڑا فائدہ یہ تھا کہ نیا بٹیر خریدنے کے لیے روزانہ دوآنے خرچ نہیں کرنے پڑتے تھے-
بٹیریاں کبھی لڑتی ھی نہیں تھیں- ان کی اس شرافت کی سزا ان بچاریوں کو یوں ملتی تھی کہ انہیں فورا ذبح کردیا جاتا تھا—–
جب ھم پانچ سات سال کے تھے تو ایک دن ھم نے دیکھا کہ ایک بٹیر ی نے پنجرے میں موجود بٹیروں کو مار مار کر ان کا حشر نشر کر دیا —— اپنی مشہورومعروف فلمی ھیروئین باجی انجمن کی طرح یہ بٹیری بھی خاصے قد کاٹھ والی اور بہت دلیر تھی—- ھم نے اسے فورا پنجرے سے نکالا اور لڑانے کے لیے لے گئے- اس کا نام ھم نے رانی رکھا تھا- شام تک رانی نے محلے کے سب بٹیروں کو شکست فاش دے دی- رانی کے کارناموں کی محلے بھر میں دھوم مچی رھی- — بزرگ بٹیر بازوں نے تو رانی کو کوئی اھمیت نہ دی ، محلے کے باقی لوگ اس کا باقاعدہ احترام کرنے لگے- مجھے اور ممتاز بھائی کو بھی اس نے وی آئی پی بنوادیا-
پھر ایک دن رانی ایک معمولی سے بٹیر کی دوچونچیں بھی برداشت نہ کر سکی اور میدان سے بھاگ نکلی- ھم نے بہت منت خوشامد کی مگر وہ پھر میدان میں آنے پر آمادہ نہ ھوئی- غیرت والی تھی نا—————————– رھے نام اللہ کا  —– منورعلی ملک — 11 جولائی 2017

میرا میانوالی

ایک دفعہ ممتاز بھائی اور میں نے دو دو آنے ڈال کر چار آنے کا ایک بھگلی بٹیرا خریدا — بہت خاندانی بھگلی تھا — جس بٹیر سے چارپانچ دفعہ ھارتا ، بالآخر اسی کو مار بھگاتا تھا — پورے محلے میں اس کی “دلیری” کی دھوم مچ گئی — ھم نے اس کا نام شیرو رکھ دیا- محلے کے بچے شیرو کے ساتھ اپنے بٹیر لڑانے سے ڈرتے تھے- ھم بڑے فخر سے اسے لے کر بڑھکیں لگاتے ھوئے محلے کے چکر لگایا کرتے تھے-
ھمارے کچھ کزن شیرو سے حسد کرتے تھے– ایک صبح ھم نے دیکھا تو شیرو پنجری (گتھی) میں مرا پڑا تھا —- اس کی گردن کے گرد لپٹا ھؤا باریک سا ریشمی دھاگہ اس بات کی گواھی دیتا تھا کہ شیرو کو گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا ھے- ھم دونوں دن بھر روتے رھے– ھم نے اعلان کیا کہ شیرو کے قاتل کے ٹکڑے کرکے نہر میں پھینک دیں گے-
تفتیش کے دوران ھماری ایک چھوٹی کزن نے بتایا کہ شیرو کو ھمارے فلاں کزن نے قتل کیا ھے — وہ فلاں کزن ھم سے چارپانچ سال بڑا، پہلوان قسم کا لڑکا تھا، اس لیے شیرو کے قاتل کے ٹکڑے کرنے کا پروگرام منسوخ کرنا پڑا-
ھم نے ممتاز بھائی کے گھر میں صحن کے ایک کونے میں شیرو کی چھوٹی سی , بڑی خوبصورت قبر بنا کر اسے دفن کر دیا — روزانہ صبح سویرے شیرو کی قبر پر آنسو بہایا کرتے تھے-
پھر ایک رات ایک نامراد بلی قبر کھود کر شیرو کی میت کو ھڑپ کر گئی —
————————– رھےنام اللہ کا —Image may contain: 1 person, sitting and screen

میں اکثر کہا کرتا ھوں کہ رب کا مطلب صرف رزق دینے والا نہیں- رب کا مطلب یہ ھے کہ اس نے جس شخص میں جو خوبی رکھی ھے، اسے اس کے مطابق عروج تک پہنچادیتا ھے- اپنے اندر اس خوبی کو پہچان کر اس پہ محنت کرنا ھمارا کام ھے- ھر بڑا آدمی اسی راستے پر چل کر بڑا آدمی بنتا ھے-
آج ذکر ھے میانوالی کی ایک اور قابل فخر شخصیت ، پروفیسر ڈاکٹر غفور شاہ قاسم کا- ڈاکٹر صاحب میانوالی کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ھوئے- وسائل نہ ھونے کی وجہ سے جوانی کے آغاز ھی میں واہ آرڈننس فیکٹری میں ملازمت کرنی پڑی- 16 سال وھاں ملازم رھے- اسی عرصے میں اپنی تعلیم کے کچھ مراحل طے کرنے کے بعد اپنی اھلیت کے میدان میں قدم رکھا- یہی وہ شعبہ تھا جس کے لیے قدرت نے انہیں صلاحیتوں سے مالامال کر کے دنیا میں بھیجا تھا-
شاہ جی پہلے گورنمنٹ کالج آف کامرس میانوالی میں اردو کے لیکچرر مقررھوئے- وھاں 12 سال ملازمت کرنے کے بعد 2002 میں پی اے ایف (عبدالرزاق فضائیہ کالج) میانوالی کے شعبہ اردو سے وابستہ ھوگئے- پانچ سال بعد ایف سی کالج یونیورسٹی لاھور میں اردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مقرر ھوئے، تاحال وھیں کام کر رھے ھیں-Image may contain: plant, nature and outdoor
ڈاکٹرغفور شااہ قاسم اعلی پائے کے محقق ھیں- اردو ادب پر تحقیق کے میدان میں وہ ایک نمایاں شخصیت ھیں- ان کی مطبوعہ کتابوں میں پاکستانی ادب —- شناخت کی نصف صدی 1947 تاحال (دوجلد) ، ملک منظور حسین منظور فن اور شخصیت، حجاب امتیاز علی فن اور شخصیت، کلیداردو، اور تنقیدی مضامین کا مجموعہ تعبیرحرف نمایاں ھیں- مستنصر حسین تارڑ کے فن اور شخصیت پر ان کی کتاب عنقریب شائع ھونے والی ھے—ان کی کتاب پاکستانی ادب —– شناخت کی نصف صدی دویونیورسٹیوں ( گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاھور اور پشاور یونیورسٹی ) کے ایم فل کے نصاب کے لیے مجوزہ کتب میں شامل ھے–
موسی خیل کے ممریز خان نے شاہ جی کی علمی و ادبی خدمات پر تحقیق کرکے حال ھی میں ایم فل کیا ھے- ممریز خان نیازی کی یہ کتاب شاہ جی کے بارے میں بہت قیمتی معلومات فراھم کرتی ھے-Image may contain: 1 person

ایک بہت اچھی خبر یہ ھے کہ شاہ جی آج کل اپنی آپ بیتی لکھ رھے ھیں- ایک سیلف میڈ self-made انسان کی یہ داستان حیات نوجوان نسل کے لیے یقینا مشعل راہ ثابت ھوگی، انشاءاللہ-
بڑے بڑے دریاؤں کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کامیاب تو کبھی نہیں کہلا سکتی، بہر حال حسب توفیق جو کچھ کر سکتا ھوں وھی قبول کر لیا کیجیے—-

 منورعلی ملک –12 جولائی 2017

میرا میانوالی

گھر میں کتا رکھنا بھی ھمارے دیہاتی کلچر کی ایک اھم روایت ھؤا کرتی تھی– لوگ کتا گھر کی رکھوالی کے لیے رکھتے تھے- داؤدخیل میں ھمارے بزرگ اس روایت کی یہ وجہ بتاتے تھے کہ جب بجلی نہیں تھی تو رات کے اندھیرے میں بعض اوقات قریبی پہاڑسے بھوکے بھیڑیئے شہر میں آ جاتے تھے- ویسے تو وہ ایک آدھ بھیڑ یا بکری کا بچہ اٹھا کر لے جاتے تھے، لیکن اگر کوئی انسان ان کی راہ میں حائل ھونے کی کوشش کرتا تو اس کو بھی چیر پھاڑ ڈالتے تھے- ھمارے بچپن میں تو کوئی ایسا واقعہ نہ ھؤا لیکن بزرگ کہتے تھے کہ ایسا ھوسکتا ھے- اس لیے حفاظت ضروری ھے-
گھروں میں پالے ھوئے کتے دن میں آزادانہ ادھر ادھر گھومتے پھرتے تھے ، لیکن رات کے وقت کسی انسان یا جانور کو گھر کے نزدیک نہیں آنے دیتے تھے-
ھمارے گھر میں بھی ایک کتا تھا، شیرکے رنگ کا، بڑے قد کاٹھ والا، بہت خوبصورت اوردلیر کتا تھا- اسے ھم پیار سے 147رتو147 (لال) کہا کرتے تھے- ھمارے چار کنال پر محیط گھر اور آگے دس کنال میدان میں آدھی رات کے بعد چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی- محلے کا کوئی کتا رتو کے ساتھ پنگا لینےکی جراء ت نہیں کرتا تھا—
ایک صبح رتو گھر میں داخل ھؤا تو اس کے منہ پر خون لگا ھؤا تھا- رتو برآمدے میں آکر ایک چارپائی کے نیچے لیٹ گیا- میں اسی چارپائی پر بیٹھا ناشتہ کر رھا تھا-
باھر کچھ لوگوں نے داداجی کو بتایا کہ رتو کل رات سے پاگل ھے- رات بھر محلے کے کتوں سے لڑتا رھا- کچھ مویشیوں کو بھی کاٹا ، مزید نقصان سے بچنے کے لیے اسے ماردینا چاھیے— بات معقول تھی اس لیے اس پر عمل کرنا ضروری تھا-
دادا جی گھر میں آئے – ادھر ادھر نظر دوڑائی- رتو کو میری چارپائی کے نیچے لیٹا دیکھ کر ادھر آئے، اور بھرائی ھوئی آواز میں کہا-“رتو، تو نے ھماری بہت خدمت کی- تو نے ھمارے گھر سے جو کچھ کھایا پیا وہ ھم نے تجھے بخش دیا- اب تیرا آخری وقت آگیا- جا ، باھر موت تجھے بلا رھی ھے”
یہ سن کر رتو اٹھا، چاروں طرف ایک الوداعی نظر ڈالی ، اور چپ چاپ سر جھکائے گھر سے نکل گیا – باھر اسے مارنے کے لیے لوگوں کا اچھا خاصا ھجوم جمع تھا- لوگ رتو کو دیکھ کر پیچھے ھٹ گئے- کچھ آگے جا کر ایک آدمی نے بندوق سے فائر کرکے رتوکاکام تمام کر دیا-
اس دن ھم سب لوگ بہت روئے تھے- کسی نے کہا اسے مرنا ھی تھا تو، گھرواپس کیوں آیا-
دادا جی نے آنسو پونچھتے ھوئے کہا “اجازت لینے آیا تھا ھم سے , اجازت مل گئی تو چلاگیا -”
———— رھے نام اللہ کا —–

Image may contain: 1 person

معروف سرائیکی شاعر سید خورشید الحسنین شاہ کی شاعری کا مجموعہ”تساں کنڈ کیتی” منظرعام پر آگیا ھے- یہ کتاب راحت امیر تری خیلوی نے اپنے ادارے صدق رنگ پبلیکیشنز ملتان سے شائع کی ھے- تفصیلات کے لیے راحت امیر تری خیلوی سے فون نمبر 0333-4504891 یا خورشید الخسنین شاہ سے0301-3955868 پر رابطہ کریں –

منورعلی ملک –13 جولائی 2017

میرا میانوالی

امجھے پرندوں سے ھمیشہ محبت رھی ھے- دیہاتی علاقوں کے سب بچے پرندوں سے پیار کرتے تھے- پرندے ھمارے علاقے کا حسن تھے- بہت ورائٹی تھی پرندوں کی ھمارے داؤدخیل کے علاقے میں- بجلی آنے کے بعد کچھ بہت خوبصورت پرندے یہاں سے ھجرت کر کے خدا جانے کہاں چلے گئے- ھجرت کی وجہ یہ تھی کہ پرندے تیز روشنی برداشت نہیں کر سکتے-
اب نہ کبھی ھم نے وھاں شیخو (ممولا) دیکھا ھے، نہ پیچی، نہ پدو، نہ چنڈوری، نہ کال کڑچی(کال کلچی)، نہ ھدھد (چڑی درکھان) ، نہ نیل چاں (نیل کنٹھ) ، کچھ بھی باقی نہیں رھا – ھمارے بچپن کے یہ سب دوست پتہ نہیں کہاں غائب ھوگئے- گرمی کے موسم میں صبح دس بجے کے قریب مشرقی پہاڑوں سے جنگلی کبوتروں کے بڑے بڑے جھار (غول) بھی شہر کے اوپر سے گذرا کرتے تھے-
پرندوں سے میراپیار اب تک برقرار ھے- دس بارہ سال پہلے کی بات ھے میں فجر کے بعد اپنے ھاتھوں سے چائے بنا کرگھر کے ایک خالی کمرے میں بیٹھ کر پیا کرتا تھا- چائے کے ساتھ Wheat کے ایک دو بسکٹ بھی لیتا تھا- ایک دن بسکٹ کا ایک ٹکڑا فرش پر گرا تو چھت کے شہتیر سے ایک چڑیا نیچے آکربڑے مزے سے بسکٹ کا وہ ٹکڑا کھانے لگی- بہت معصوم سی چڑیا تھی-
اس کے بعد روزانہ صبح فجر کے وقت میں اس چڑیا کے لیے ایک پورا بسکٹ چورا کرکے فرش پر ڈال دیتا، اور وہ آکر کھا لیتی تھی- بہت خوش ھوتی تھی- مجھ سے ذرا بھی نہیں ڈرتی تھی-
ھماری دوستی تقریبا ایک ماہ چلتی رھی- پھر ایک دن اچانک وہ چڑیا غائب ھو گئی- مجھے بہت دکھ ھؤا- اس کا انتظار کرتے ھوئے اس چڑیا کے حوالے سے ایک گیت بھی تخلیق ھو گیا – اس کے ابتدائی بول کچھ یوں تھے—

ھنڑں توں آویں یا ناں آویں ترٹ گئے مانڑں اساڈے یار
وہ گیت میں نے لالا کو دے دیا تھا- پتہ نہیں کہاں غائب ھو گیا -؟-رھے نام اللہ کا  منورعلی ملک — 14 جولائی 2017

میرا میانوالی

یہ قصہ اس زمانے کا ھے جب میں گورنمنٹ ھائی سکول داؤدخٰیل میں انگلش ٹیچر تھا- اس زمانے میں ضلع میانوالی ، ڈی آئی خان ڈویژن سے منسلک تھا- سرگودھا ڈویژن بعد میں بنا-
ڈی آئی خان ڈویژن کے انسپکٹر/ ڈائریکٹر آف سکولز کے ایم سرور (نام خان محمد سرور تھا ،کہلاتے کے ایم سرور تھے ) ایک پر اسرار شخصیت تھے- سرخ وسفید رنگت، مہنگے تھری پیس سوٹ میں ملبوس , کے ایم سرور صاحب دیکھنے میں انگریز لگتے تھے، لیکن اندر سے درویش تھے- ان کے بارے میں سنا کہ ایک نیل کنٹھ ( نیل چاں ) ھر جگہ ان کے ساتھ رھتا ھے- ان کی گاڑی میں نہیں بیٹھتا ، مگر وہ جہاں بھی جائیں یہ وھاں پہنچ جاتا ھے-
ایک دفعہ خان صاحب داؤدخیل سکول کے معائنے کے لیے آئے- کلاسز چیک کرنے کے بعد سٹوڈنٹس سے خطاب کرنے لگے، دو چار جملے ھی بولے تھے کہ فضا میں ایک نیل چاں اپنی مخصوص آواز میں چاں چاں کرتا نمودار ھؤا– خان صاحب نے اسے دیکھ کر کہا”وہ آگیا، یہاں سے آگے جانے کا وقت ھو گیا ” – یہ کہہ کر تقریر ختم کر دی-
خان صاحب کے لیے دوپہر کے کھانے کا انتظام نہر کاونی کے ریسٹ ھاؤس میں تھا- ھیڈماسٹر صاحب (میرے بھائی مرحوم ملک محمد انورعلی) نے مجھے گائیڈ کے طور پہ خان صاحب کے ھمراہ بھیج دیا—
ھم گاڑی میں نہر کالونی کی طرف جا رھے تھے تو اچانک ایک نیل چاں نظر آیا– خان صاحب نے کہا ” وہ دیکھو جارھا ھے- اب یہ کینال کالونی ریسٹ ھاؤس پہنچے گا ” ——Image may contain: bird
میں نے اس پرندے کے ان سے تعلق کی تفصیل پوچھی تو کہنے لگے ” اللہ جانے یہ کیا چیز ھے – کئی سال سے ھر جگہ میرے ساتھ رھتا ھے- مجھے صبح تہجد کی نماز کے لیے یہی اٹھاتا ھے- کئی دفعہ اس نے مجھے خبردار کرکے حادثات سے بچایا ھے— میرے قریب کبھی نہیں آتا لیکن میرے اردگرد ھروقت رھتا ھے—- شاید اللہ نے اس کی یہی ڈیوٹی لگا دی ھے- میں یہ نہیں جانتا مجھ پہ اللہ کی یہ عنایت کیوں ھوئی- میں تو گناہ گار سا انسان ھوں “—— یہ کہہ کر خان صاحب آنسو پونچھنے لگے———- رھے نام اللہ کا –

– 2
کچھ دن پہلے مولانا کوثر نیازی پہ پوسٹ لکھتے ھوئے جب میں نے یہ لکھا کہ مولانا مرحوم اپنے اردو فارسی کے ٹیچر مرحوم گل ھاشمی کی بہت تعریف کیا کرتے تھے، تو
یاد آیا کہ مجھے ایک قرض ادا کرنا تھا — قرض یہ تھا کہ محترم ھاشمی صاحب مجھ سے اپنی داستان حیات کتاب کی صورت میں لکھوانا چاھتے تھے-
یہ اس دور کی بات ھے جب میں میانوالی شہر کے محلہ موتی مسجد میں رھتا تھا- محترم گل ھاشمی روزانہ ھماری گلی سے گذرتے ھوئے کچھ دیر میرے پاس رکتے تھے- اس وقت ان کی عمر 80 برس سے کچھ اوپر تھی- میں ان دنوں 40 برس کے ھیر پھیر میں تھا-
محترم گل ھاشمی میرے داداجی کے شاگرد اور میرے والد کے دوست تھے- بہت صاحب علم انسان تھے- میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا- بہت شفقت فرماتے تھے مجھ پر- مجھے اپنی زندگی کے واقعات بتایا کرتے تھے- خاص طور پر اپنی اھلیہ مرحومہ کا ذکر کر کے بہت رویا کرتے تھے- کہا کرتے تھے میری اھلیہ نے غریبی اور خاندان کی دشمنی کے دوران مردوں کی طرح میرے شانہ بہ شانہ کھڑے ھو کر جس طرح میرا ساتھ دیا وہ میں کبھی نہیں بھول سکتا-
ایک دن کہنے لگے ” منور تم بہت اچھا لکھتے ھو، میری زندگی پر کتاب کیوں نہیں لکھ دیتے- یہ کتاب میری اھلیہ کے حوالے سے میری داستان عشق ھوگی- لوگ پڑھ کر حیران رہ جائیں گے ” –
میں نے وعدہ کر لیا- مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا- ھم اس گھر سے شہر کے ایک اور حصے میں منتقل ھوگئے- اور ھاشمی صاحب سے رابطہ ممکن نہ رھا- کچھ عرصہ بعد خبر ملی کہ شاہ جی کتاب لکھوانے اور چھپوانے کا انتظار نہ کر سکے، اور زندگی کی سرحد کے اس پار اپنی اھلیہ کے پاس جابسے- اور یوں ان کی داستان حیات لکھنے کا قرض مجھ پہ واجب رہ گیا — اللہ کے فضل وکرم سے کتاب لکھنا میرے لیے کوئی مسئلہ نہ تھا، اب بھی لکھ دیتا ، مگر داستان کا راوی اب اس دنیا میں موجود نہیں- کیا لکھوں ، کیسے لکھوں ؟؟؟———— رھے نام اللہ کا ——–منورعلی ملک — 15 جولائی 2017

میرا میانوالی

اتیڈے کھو تے آئی آں- والا گیت تو آپ لوگ بڑے شوق سے سنتے ھیں، لیکن بڑے شہروں میں رھنے والے لوگوں ، بلکہ دیہات کی نوجوان نسل نے بھی- کھو- شاید دیکھا ھی نہ ھو-

آج کچھ ذکر ھمارے -کھو- کا —–Image may contain: outdoor
لفظ کھو کو زیاد ہ تر کھوہ لکھا جاتا ھے لیکن ھمار ے علاقے میں اسے کھو Khoo ھی کہا جاتا ھے—- اردو میں اسے کنؤاں، فارسی میں چاہ کہتے ھیں-
کھو بھی ھمارے کلچر کا ایک خوبصورت مظہر تھا —– جس زمانے میں داؤدخیل کا پانی جنت سے آتا تھا، لوگ کھو کا پانی ھی پیتے تھے– کچھ گھروں میں ھینڈ پمپ تھے، مگر زیادہ تر لوگ کھو کا پانی ھی پیتے تھے- صبح سویرے خواتین گھڑے لے کر کھو سے پانی بھر لاتی تھیں- شرم وحیا کا زمانہ تھا ، صبح مرد کنوئیں کا رخ ھی نہیں کرتے تھے-
دوپہر کے بعد کھو پر مردوں کا راج ھوتا تھا- کھوکے ٹھنڈے یخ پانی سے نہانے کا ایک اپنا مزا تھا- کچھ لوگ نہر پہ نہاتے تھے- لیکن نہر کے پانی میں مٹی ھوتی ھے، جوعام طور پر کانوں کے پیچھے جم جاتی ھے، اس لیے نہر پر نہانے کے بعد کنوئیں کے صاف شفاف پانی سے نہانا بھی ضروری سمجھا جاتا تھا-
++++ آج مرحوم آئی سرجن ڈاکٹر ملک محمد حسین کے چہلم میں گیا تھا، اس لیے پوسٹ لکھنے میں دیر ھوگئی- اب کچھ اور کام کرنے ھیں، اس لیے کھو کا باقی ذکر انشاءاللہ کل ھوگا —– ویسے بھی کلچر کی باتوں والی پوسٹ لکھنے میں مزا آتا ھے، اس لیے ایسی پوسٹ کو بارہ بور بندوق کا کارتوس بنانا اچھا نہیں لگتا کہ سب چھرے (گولیاں) ایک ھی بار پھونک دیئے جائیں-
—————————- رھے نام اللہ کا — منورعلی ملک — 16  جولائی 2017

میرا میانوالی

کھو سے صرف تازہ پانی ھی نہیں، تازہ سبزی بھی ملتی تھی- لوگ دکانوں کی بجائے کھو پر جا کر سبزی خریدتے تھے- بلکہ اپنے ھاتھوں سے اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق سبزی توڑ کر اس کی قیمت ادا کر دیتے تھے-
Image may contain: outdoor and textزیادہ تر کھوؤں پر کاشتکاری ملیار (ارائیں) کرتے تھے- ان کا ذریعہ معاش ھی یہی تھا- پیداوار کا نصف مالک کو ملتا تھا- کچھ کھوؤں کے مالک خود کاشتکاری کرتے تھے-
ھمارے محلے کا سب سے زیادہ آباد کھوہ شکور خیلوں کا کھوہ تھا- یہ چار بھائیوں حاجی محمد عبداللہ خان، عالم خان، محمدنواز خان اور مظفر خان کی ملکیت تھا- ان چاروں کا بہت وسیع و عریض رقبہ اس کھو سے سیراب ھوتا تھا- یہ  ڈوویہڑا  کھو تھا- ڈوویہڑا کا مطلب ڈبل سمجھ لیں- یعنی اس کھو سے بہ یک وقت دو سمتوں میں زمین کو سیراب کیا جا سکتا تھا-
چاروں بھائی باری باری اپنے حصے کا پانی لیتے تھے- ان میں سے حاجی محمد عبداللہ خان ھمارے محلے کی مسجد کے بانی بھی تھے، نمازوں کی امامت بھی کرتے تھے- ان کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے دو مفصل پوسٹس لکھ چکا ھوں——- چاروں بھائیوں نے کھوہ جوتنے کے لیے اپنے مویشی رکھے ھوئے تھے ، دو کی ڈاچیاں تھیں، دو کے بیلوں کے جوڑے—– بہت رونق رھتی تھی اس کھوہ پر-
پھر حاجی عالم خان کے بیٹوں نے ٹیوب ویل لگا لیا تو کھو اجڑ گیا- چاروں مالک ایک ایک کر کے رخصت ھو گئے- کھو کا باغ اجڑگیا —-
پھر چھوٹی نہر کے آنے سے ایک طرف تو داؤدخیل کے کھو ویران ھوگئے، دوسری طرف سیم کی وجہ سے زیر زمین پانی کھارا (کھاری) ھو گیا- کھوؤں سے پانی لانے والی مائیں بہنیں گھروں میں بیٹھ کر کمیٹی کے نلکوں سے آنے والے پانی کا انتظار کرنے لگیں- اس غیر یقینی بندوبست سے تنگ آکر لوگ ریہڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر بلال مسجد سے پانی لانے لگے-
کھو کا وجود ختم ھوگیا- ایک کلچررخصت ھؤا، کچھ رونقیں اجڑ گئیں ، کچھ سنگتیں ٹوٹ گئیں-
دل چاھتا ھے اپنے معروف شعر کا پہلا مصرع یوں لکھ دوں ——-
کلچر نے رخ بدلا تو اک گاؤں اجڑا——- رھے نام اللہ کا —منورعلی ملک –17  جولائی 2017

میرا میانوالی

کل کی پوسٹ میں داؤدخیل کی چھوٹی نہر کا ذکر ھؤا تھا- یہ نہر تقریبا چالیس سال پہلے داؤدخیل تھل کی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے نہر تھل پراجیکٹ سے نکالی گئی- یہ ایک لفٹ اریگیشن سکیم کے تحت جاری ھوئی-
تھل کے کسان تو نہال ھوگئے، مگر اس علاقے کے آباد کھو ویران ھوگئے- اس سے بھی بڑا نقصان یہ ھؤا کہ نہرکی سیم نے داؤدخیل شہر کا پانی آلودہ کر دیا ، وھی صاف شفاف صحت بخش پانی جسے ھم جنت کا پانی کہتے تھے، کھاری بلکہ کڑوا ھو گیا- یہ پانی انسان تو کیا، کوئی جانور بھی نہیں پی سکتا- کنوئیں تو اجڑے تھے، ھینڈ پمپ بھی زھراگلنے لگے- لوگ بڑی نہر کے پلوں پر لگے ھوئے ھینڈ پمپوں سے پینے کا پانی لانے لگے، کیونکہ وہ پانی اللہ کے فضل سے آلودگی سے محفوظ رھا-
میونسپل کمیٹی بنی تو اس نے بھی نہر کے کنارے ٹیوب ویل لگا کر واٹر سپلائی کی رسم ادا کردی، مگر یہ نظام ناکافی بھی ھے ، نامکمل بھی- لوگ اب بھی زیادہ تر بلال مسجد اوربڑی نہر کے کنارے والے دوسرے ھینڈ پمپوں سے پانی لانے ہر مجبور ھیں–
نہر تھل پراجیکٹ کی سیم نے میانوالی شہر کے پانی کا بھی یہی حشر کردیا- مگر یہاں کا واٹر سپلائی سسٹم داؤدخیل سے کچھ بہتر ھے-
جناب ظفر خان نیازی نے کل کی پوسٹ پر کمنٹ میں یاد دلایا کہ داؤدخیل ریلوے سٹیشن کے علاقے کا پانی ھمیشہ سے کڑوا ھی رھا ھے– جی ھاں ، اس کی وجہ یہ ھے کہ شہرسے پہاڑ کے درمیان کا علاقہ ; گاڑھ’ (پہاڑکی زیر زمین جڑ) پر واقع ھے- زمین کی سطح سے چند فٹ نیچے پتھریلی زمین ھے، جس میں قسم قسم کے نمکیات موجود ھیں- یہ نمکیات ایک سو فٹ سے بھی زیادہ گہرائی تک پائے جاتے ھیں- ظاھر ھے کہ زیر زمین پانی تو کڑوا ھی ھونا چاھیے-
بات چھوٹی نہر کی ھو رھی تھی— یہ بھی ترقی کی شاھراہ پر ایک قدم ھے، جس کی قیمت وہ جنت کا پانی تھا، جس کی یاد میں ھم اب آنسو ھی بہا سکتے ھیں- غریبوں کو ترقی بھی راس نہیں آتی — یا اللہ رحم –منورعلی ملک — 18 جولائی 2017

میرا میانوالی

کھو کی ٹیکنالوجی صدیوں پہلے ایران سے برصغیر میں آئی- انگریز تو اسے سیدھا سادہ
Persian Well (ایرانی کنؤاں) کہتے ھیں- فارسی میں کھو کو “چاہ” کہتے ھیں-
دلچسپ بات یہ ھے کہ میانوالی کے کئی دیہات کھوؤں کے نام سے موسوم ھیں ، مثلا چاہ میانہ، چاہ گل خان والا(مرحوم ڈاکٹرشیر افگن خان نیازی کا آبائی مسکن) چاہ ھاتھی خان والا، چاہ عباس خان والا، اور بھی کئی ھوں گے—-
چاہ کے لفظ سے ظاھر ھوتا ھے کہ کسی زمانے میں ایران سے ھمارے کتنے قریبی کلچرل تعلقات تھے- اور بھی بہت باتیں اس ضمن میں ھیں- انشاءاللہ پھر کبھی تفصیل سے لکھوں گا- برا ھو بین الاقوامی بدمعاشی کا کہ آج ایران ھمارا دوست بھی نہیں رھا، پہلے بھائی تھا-
میانوالی شہر میں بہت عرصہ پہلے تین کنوئیں دیکھے تھے- ایک تو نہر کالونی کے پل کے قریب نہر کے کنارے واقع تھا- بہت پڑا باغ تھا اس کا، ھر قسم کی سبزیوں سے مالامال— دوسرا کنؤاں میانوالی کے مشہورومعروف میانہ قبیلے کے بزرگوں کی ملکیت تھا- اسے میانہ اینٹھا کہتے تھے- ھم پہلے جس گھر میں رھتے تھے وہ میانہ اینٹھا کے قریب تھا- 1980 میں جب میں میانوالی آیا تو یہ کھو ویران تھا- صرف ایک پیٹر انجن سے تھوڑا بہت پانی کبھی کبھارنکال کر کچھ زمین سیراب کر لی جاتی تھی- کنوئیں کی زمین پر اب لوگوں نے گھر بنا لیے ھیں-
تیسرا کھو یارو خیل میں سمیع اللہ خان کے دادا جی کا تھا- یہ بھی میں نے ویران حالت میں دیکھا- کہتے ھیں کسی زمانے میں یہ کھو سماجی اور سیاسی رونقوں کا مرکز ھؤا کرتا تھا، شادی بیگ خان اپنے علاقے کے سردار تھے-
———————– رھے نام اللہ کا –

میں نے کہا ” بیٹا، آپ پہ پوسٹ لکھنا چاھتا ھوں ، اپنی پکچر اور کچھ معلومات بھیج دو”-
بیٹے نے میری فرمائش کا جواب دینے سے پہلے میرے بارے میں بھرپور پوسٹ لکھ کراپنی فیس بک پہ لگا دی- میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ، سوچا کہ اب اگر پوسٹ لکھوں تو لوگ کہیں گے قرض واپس کر رھے ھیں- پوسٹ نہ لکھنے کا فیصلہ کرنے لگا تو ضمیر نے کہا” پوسٹ آپ نے ایک فرض ادا کرنے کے لیے لکھنی تھی، قرض کا بہانہ بنا کر فرض سے جان نہ چھڑائیں “-
بات درست تھی، یہ پوسٹ میں اس نوجوان کے بارے میں لکھ رھا ھوں جس کی داستان حیات نوجوان نسل کے لیے صحیح معنوں میں مشعل راہ ثابت ھوگی-
ذکر ھے میانوالی کے ایک قابل فخر نوجوان ، ڈینٹل سرجن ڈاکٹر حنیف نیازی کا- ڈاکٹر حنیف نیازی الصفہ کالج میں میرے بیٹے پروفیسرامجدعلی ملک کے سٹوڈنٹ رھے- آج کی پوسٹ میں ان کی داستان حیات کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرما ئیں-
١۔ روکھڑٰی میں پیدا ھوئے
٢۔ بگڑے ھوئے بچے تھے، سکول سے بھاگ گئے- بھاگنے کی ایک وجہ غریبی بھی تھی-
٣۔ 1992 سے 1996 تک ادھر مزدوری کرکے کچھ نہ کچھ کماتے رھے-
٤۔ 1993 میں تلاش معاش کے لیے فیصل آباد گئے- والدہ نے 1400 روپے خرچ کرایہ کے لیے ادھار لے کر دیے
٥۔ فیصل آباد میں یہ رقم اپنے کچھ 147خیرخواہ147 رشتہ داروں کے ھاتھ جوئے (منگ پتہ) میں ھاردی –
٦۔ 1993 میں پورٹ پر چوکیداری کرتے رھے- 1500 روپے ماھانہ ملتے تھے-
٧۔ 1994 میں فیصل آباد ڈرائی پورٹ پر چپراسی مقرر ھوئے-
٩۔ 1995 میں جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر بیچنے کا کام کیا-
١٠۔ 1996 میں والد محترم انہیں لے کر کیمیا گر سید عطامحمد شاہ سابق ھیڈماسٹر نورنگہ کے پرائیویٹ سکول میں پکی شاہ مردان پہنچے- ارادہ تھا، کہ بچہ میٹرک کر لے تو فوج میں سپاھی بھرتی ھوجائے گا-
١١۔ کئی لوگوں کی قست سنوارنے والے محترم استاد نے حنیف خان کی قسمت بھی سنوار دی- بگڑا ھؤا بچہ پڑھاکو بن گیا- پڑھاکو بھی ایسا کہ بالآخر ڈینٹل سرجن بن گیا-
١٢۔صفہ کالج میں داخلے کے وقت عظیم ماں نے اپنی گاے بیچ کر داخلے کی رقم فراھم کردی- کالج میں تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے اپنے کانوں کی بالیاں بھی بیچ دیں-
حنیف نیازی کے بارے میں مزید معلومات انشاءاللہ کل صبح کی پوسٹ میں لکھوں گا-منورعلی ملک —   19 جولائی 2017

میرا میانوالی

حسب وعدہ ڈاکٹر حنیف نیازی کے بارے میں کچھ مزید باتیں-Image may contain: 1 person, closeup
ڈاکٹر حنیف نیازی کچھ عرصہ داؤدخیل ھسپتال میں ڈینٹل سرجن رھے- اپنے حسن اخلاق اور فنی مہارت کی وجہ سے داؤدخیل میں بہت مقبول ھوئے- لوگوں کے اصرار پر سکندرآباد میں اپنا کلینک بھی بنا لیا- آج کل سرکاری فرائض موچھ ھسپتال میں سرانجام دے رھے ھیں، پرائیویٹ پریکٹس سکندرآباد میں اپنے کلینک میں کرتے ھیں- بہت سوشل نوجوان ھیں، داؤدخیل کے لوگوں سے ان کی تعریفیں سن کر خوشی بھی ھوتی ھے، فخر بھی محسوس ھوتا ھے-
حنیف نیازی کی سب سے پیاری خوبی اللہ کریم کی ذات پر مکمل ایمان ھے، جو ان کی گفتگو اور تحریروں میں ھیروں کی طرح جابجا جھلکتا نظر آتا ھے-
حنیف پہ رب کریم کا ایک خصوصی کرم یہ بھی ھے کہ یہ بہت خوبصورت نثر لکھتے ھیں- شاعری اگر کرنا بھی چاھیں تو میں پرھیز کامشورہ دوں گا- کیونکہ ھمارے ھاں شاعر پہلے ھی ضرورت سے زائد ھیں –
Image may contain: 1 person, smiling, stripes and indoorحنیف نیازی کی داستان حیات کی کچھ جھلکیاں آپ نے کل کی پوسٹ میں دیکھیں- بلاشبہ حنیف کی داستان , حیات آموز داستان ھے- اگر میرے بس میں ھوتا تو یہ داستان سکولوں کے نصاب میں شامل کر دیتا- حاصل بحث یہ ھے کہ حالات بیٹھ کر رونے سے نہیں ، اٹھ کر آگے بڑھنے سے بدلتے ھیں-
اللہ حنیف بٰیٹے کو سلامت رکھے، ھمیں ان پر فخر ھے- ان کے لیے بہت سی تالیاں اور دعائیں-

( پکچر———– ڈاکٹر حنیف نیازی اور ان کے استادمحترم پروفیسرامجد علی ملک )-منورعلی ملک — 20 جولائی 2017

میرا میانوالی

No automatic alt text available.ایک دو ماہ پہلے ضلع میانوالی کے اھم شہروں کے بارے میں اپنے ذاتی مشاھدات اور معلومات کے حوالے سے کچھ پوسٹس لکھی تھیں- جن شہروں کا ذکر ھؤا وہ سب پہاڑ (کوھستان نمک) کے مغرب میں واقع ھیں- پہاڑ کے پار آنا جانا تلہ گنگ ، پنڈی اسلام آباد اور جہلم آتے جاتے ھوتا رھا، ضلع کی حدود میں اپنی واقفیت اس علاقے میں صرف چکڑالہ تک محدود ھے-
پہلی بار چکڑالہ میں ایک دوست کی بارات کے ساتھ آنے کا اتفاق ھؤا- میں اس وقت میٹرک میں پڑھتا تھا- داؤدخیل سے ھم لوگ صبح تقریبا دس بجے ٹرین سے مسان پہنچے– مسان ، پنڈی / پشاور جانے والی ریلوے لائین پر داؤدخیل سے اگلا سٹیشن ھے- یہ پہاڑ کے پار داؤدخیل سے دس بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ھے- وھاں سے چکڑالہ تک تقریبا اتنا ھی پیدل سفر تھا-
ھمارا قافلہ پچیس تیس افراد پر مشتمل تھا- اس میں دس بارہ ھم لڑکے تھے- موسم بہار تھا، نہ گرمی تھی نہ سردی، اس لیے دس بارہ کلو میٹر کا پیدل سفر ھم لڑکوں کے لیے تو کوئی مسئلہ نہ تھا- ھم ھنستے کھیلتے دوڑتے چلے گئے– قافلے میں شامل باقی لوگ کہیں کہیں تھک کر بیٹھ جاتے تو ھمیں بھی ان کے پاس رکنا پڑتا ، ورنہ ھمیں رکنے کی کوئی خاص ضرورت نہ تھی-
چکڑالہ میں بارات کی خوب آؤبھگت کی گئی – کھانا بہت اچھا تھا- واپسی کے لیے دولہا کے باپ چاچا محمداولیا نے بس کرائے پر لے لی ، کیونکہ دلہن بچاری کوپہلے ھی دن مسان ریلوے سٹیشن تک دس کلومیٹر پیدل ٹورنا مناسب نہ تھا——

ساغرصدیقی —————

No automatic alt text available.
١٩ جولائ کو ساغر صدیقی کی 43 ویں برسی تھی- میں کچھ دوسری مصروفیات کی وجہ سے اس دن ان کے بارے میں کچھ نہ لکھ سکا- اب انشاءاللہ دوتین پوسٹس میں آپ کو ساغر کے بارے میں بہت کچھ بتاؤں گا- کہانی لمبی ھے، ایک پوسٹ میں نہیں سما سکتی- بہت بڑے شاعر تھے– سب سے پہلے ساغر کے دو شعر دیکھ لیجیے ——–
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ھوئی ھے
———————-
آؤ اک سجدہ کریں عالم مدھوشی میں
لوگ کہتے ھیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
———————–
ساغر تصویر میں جس حال میں نظر آرھے ھیں، اسی حال میں مرگئے- جب ھم سنٹرل ٹریننگ کالج لاھور میں پڑھتے تھے، ساغر اسی حال میں داتا دربار کے نواح میں، بھاٹی چوک، سرکلر روڈ، انارکلی، اور شاہ عالمی کے علاقے میں پھرتے نظر آتے تھے- کسی سے کچھ نہ مانگتے ، نہ بات کرتے تھے- آخری دنوں میں دربار داتا صاحب کے قریب پیر مکی کا مزار ان کا مسکن تھا-
قیام پاکستان کے بعد جب ساغر امرتسر سے لاھور آئے تو گھنگھریالے بالوں والے سمارٹ نوجوان تھے- پتلون اور بوسکی کی قمیض میں ملبوس ساغر مشاعروں کی جان تھے- دس سال بعد ملنگ بن گئے- چوٹ عشق کی نہیں تھی- عشق کی چوٹ سے انسان لالا عیسی خیلوی تو بن سکتا ھے، ساغر صدیقی نہیں- ساغر کی چوٹ یہ تھی کہ وہ معاشرے کا ظالمانہ رویہ برداشت نہ کرسکے-
١٩ جولائی کو ھر سال ساغر کے سینکڑوں چاھنے والے ملنگ بابا (ساغر) کی قبر پر ساغر میلہ منعقد کرتے ھیں——– آخر میں ساغر کا ایک اور شعر ——————-
یاد رکھنا ھماری تربت کو
قرض ھے تم پہ چار پھولوں کا
باقی باتیں انشاءاللہ کل اسی وقت ——— رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک –21 جولائی 2017

میرا میانوالی

Image may contain: text and outdoorدوسری بار چکڑالہ جانے کا اتفاق اس وقت ھؤا جب میرے ایک ساتھی پروفیسر حافظ عبدالخالق نے ایک دن مجھ سے کہا “ملک صاحب ، چکڑالہ میں میرا ایک مسئلہ ھے- وھاں میری کچھ زمین ھے- میں خود تو ادھر بہت کم جاتا ھوں ، اس لیے میری زمین کے ساتھ والی زمین کے مالکوں نے میری زمین کے کچھ حصے پرقبضہ کر لیا ھے- وھاں کچھ درخت موجود تھے، وہ بھی کٹوا دیئے ھیں – سنا ھے چکڑالہ کے ایس ایچ او ملک قربان صاحب آپ کے علاقے سے تعلق رکھتے ھیں ، آپ میرے ساتھ چل کر میرا مسئلہ حل کروا دیں-
ملک قربان حسین (مرحوًم) ڈھیر امیدعلی شاہ کے رھنے والے تھے- داؤدخیل سکول میں میرے سٹوڈنٹ رہ چکے تھے- میں فورا پروفیسر صاحب کے ھمراہ جانے کے لیے تیار ھو گیا- ھم تھانہ چکڑالہ پہنچے تو تھانے کے منشی نے بتایا کہ ملک قربان صاحب علاقے کے دورے پر گئے ھیں ، ابھی کچھ دیر میں آجائیں گے- اتفاق سے منشی صاحب بھی میرے داؤدخیل کے خدرخیل تھے- اپنے آدمی تھے- شام ھونے کو تھی، میں نے کہا ھم واپس چلتے ھیں، ملک قربان آئیں ، تو انہیں میرا یہ پیغام دے دیں کہ پروفیسر حافظ صاحب کا کام کردیں-
ھم جونہی چکڑالہ شہر سے نکلے، سامنے سے پولیس کی ایک گاڑی آتی دکھائی دی- ملک قربان خود ڈرائیو کر رھے تھے– مجھے پروفیسر صاحب کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٰیٹھا دیکھ کر ھمیں رکنے کا اشارہ دیا — ھم رک گئے، تھانے کے اے ایس آئی ملک اعجازحسین بھی ملک قربان کے ساتھ تھے- وہ بھی میرے سابق سٹوڈنٹ اور ملک قربان کے رشتہ دار تھے- ملک قربان نے کھانے وغیرہ کا کہا ، مگر میں نے کہا ھم نے جلد واپس جانا ھے- آپ بس ھمارا کام کردیں-
ملک قربان نے کہا”سرحکم بتائیں”- —- میں نے پروفیسر صاحب کی درخواست انہیں دے دی- انہوں نے کہا ” سر، ھم آج رات ھی کارروائی کر دیں گے- پروفیسر صاحب صبح آجائیں- جویہ چاھیں گے ، انشاءاللہ وھی ھوگا”-
اگلی صبح پروفیسر صاحب تھانے پہنچے تو ملک قربان نے ان کے مخالف فریق کو بلالیا —– ان لوگوں نے کہا “پروفیسر صاحب جو ھو گیا معاف کردیں- آپ اپنے ھاتھ سے جہاں لکیر لگا دیں ھمیں آپ کی وھی حد بندی منظور ھوگی- جو درخت کٹ گئے، ان کی جو قیمت آپ کہیں ھم ادا کر دیتے ھیں ” –
آج سے چند سال پہلے یہ خبر ملی کہ ملک قربان حسین یہ دنیا چھوڑ گئے- بہت دکھ ھؤا، پروفیسر صاحب ان سے چند سال پہلے عدم آباد جابسے تھے- اللہ دونوں کی مغفرت فرما کر انہیں اپنی رحمت کے سائے میں رکھے-

ساغر صدیقی ——————2

کل کی پوسٹ پر کمنٹس میں کچھ دوستوں نے کہا کہ ایک نشئی کو پیرومرشد مان لینے والی قوم کا کیا بنے گا- آج کچھ باتیں اس موضوع پر-Image may contain: one or more people and people standing
ساغر نے تو کبھی خود کو پیرومرشد نہیں کہا- کسی کو مرید نہیں بنایا، نہ خلیفہ، نہ کوئی گدی بنائی- وہ انبالہ کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ھؤا- گھر پر ھی اپنے بزرگوں کے ایک دوست سے پڑھنا لکھنا سیکھا- ایک پرانے صندوق میں شاعری کی کچھ کتابیں پڑی تھیں وھی پڑھ کرشاعری کی طرف متوجہ ھؤا- 16 برس کی عمر میں شاعری شروع کردی- مشاعروں میں بہت مقبول ھؤا، اس کے پاس ڈگری تو کجا، میٹرک کی سند بھی نہ تھی- روزی کمانے کے لیے امرتسر چلاگیا- لکڑی کی کنگھیاں بنانے کا کام سیکھ لیا- دن بھر گلیوں ، بازاروں میں پھر کر کنھگیاں بیچتا رھا- مشاعروں میں بے حساب داد بھی وصول کرتا رھا-
قیام پاکستا ن کے بعد بہت سے خواب اور حسرتیں لے کر لاھور آگیا- بالکل تنہا تھا – ماں باپ بھائی بہن، کوئی دور کارشتہ دار بھی نہ تھا- کوئی سند بھی پاس نہ تھی کہ کہیں ملازمت کر سکتا- کچھ عرصہ کنگھیاں بنا کر لاھور کی گلیوں میں بیچتا رھا- کبھی کسی ادبی رسالے کو ایک آدھ غزل دے کر کچھ پیسے کمالیتا- سستے ھوٹلوں میں رھتا رھا- مشاعروں میں بھرپور داد ملتی رھی، کسی نے یہ نہ پوچھا کہ بیٹا کہاں رھتے ھو؟ کھاتے پیتے کہاں سے ھو-؟ آؤ میرے بھائی یا بیٹے بن جاؤ- میرے ھاں رھو-
پھر وہ دن بھی آگیا کہ ھوٹل والوں نے کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے باھر نکال دیا- اس کے بعد ساغر نے زندگی کے بقیہ پندرہ سال سڑکوں پر گذار دیئے- وہ دنیا سے روٹھ گیا – نشے کے ذریعے اپنی تنہائی کا علاج کرنے لگا- ————
کہا نی ابھی باقی ھے، آج کی پوسٹ تو دوستوں کو صرف یہ بتانے کے لیے لکھی کہ ایسے مظلوم لوگوں پر فتوے نہ لگایا کریں- اسے دینی تعلیم تو کجا، دنیاوی تعلیم بھی نصیب نہ ھوئی- اسے اپنے تقوے کے معیار پر نہ پرکھیں ، بس اس کے لیے مغفرت کی دعا کردیا کریں ——— رھے نام اللہ کا —منورعلی ملک –22  جولائی 2017

میرا میانوالی

بہت وقت ھوتا تھا لوگوں کے پاس- دن گذارنا بھی مشکل ھو جاتا تھا- کرنے کو کوئی کام جو نہ تھا- بارانی زمینیں تھیں- سال میں ایک ھی فصل دے سکتی تھیں- اکتوبر نومبر میں گندم کاشت کر کے لوگ فصل تیار ھونے تک چار پانچ مہینے فارغ ھوتے تھے- اپریل مئی میں فصل اٹھانے کے بعد اکتوبر تک پھر چار پانچ ماہ کے لیے فارغ — آبپاشی کے لیے آسمان پہ نظر رھتی تھی- برسات (مون سون) کی بارشیں گندم کی فصل کاشت کرنے کے لیے وتر فراھم کر دیتی تھیں-
فراغت کے دنوں میں کچھ بزرگ دن بھر چوکوں (چوپالوں یا بیٹھکوں) میں بیٹھ کر گپیں لگاتے رھتے تھے- ایک دفعہ ھماری چوک پہ ریڈیو پر قائداعظم کی تقریر چل رھی تھی- تقریر انگلش میں تھی، مگر کچھ چٹے ان پڑھ بابے بھی بڑے غور سے سن رھے تھے- ایک بابے سے پوچھا “چاچا، آپ سمجھ رھے ھیں قائداعظم کیا کہہ رھے ھیں- ؟”
چاچا نے کہا “اوئے، سمجھ آوے ناں آوے، ساکو یقین اے بابا (قائداعظم) ٹھیک آکھنا پیا اے”
کچھ بزرگ تاش کھیل کر وقت گذارتے تھے- کچھ زمین پر لکیریں لگا کر 9 گیٹی کھیلتے رھتے تھے— (9 گیٹی کی ٹیکنالوجی کسی بزرگ سے پوچھ لیں )- کچھ بٹیروں سے دل بہلاتے تھے، ایک شکاری کتوں والوں کا گروپ بھی تھا- نوجوانوں کے اپنے مشاغل تھے- زیادہ تر تو بےضررقسم کی آوارہ گردی کرتے ھنستے کھیلتے رھتےتھے- کچھ سہ پہر کو والی بال یا کبڈی کھیلتے تھے-
سب سے اچھی بات یہ تھی کہ بچے بوڑھے سب مطمئن تھے- –

ساغر صدیقی —————— 3

Image may contain: 1 person, drawing
جب ساغر سڑکوں پر رھنے پر مجبور ھوگیا، تو اس نے مشاعروں میں جانا چھوڑ دیا- جس فقیرانہ حال میں وہ رھتا تھا، اس حال میں مشاعروں میں کیسے جاتا-؟ لیکن اس نے شعرکہنا ترک نہ کیا- وہ ادبی رسالوں کو اپنا کلام دے کر کچھ پیسے کما لیتا تھا- سڑک پہ رھنے والے کا خرچا ھی کیا ھوتا ھے- ساغر کے لیے سگریٹ کے ایک دو پیکٹ اور چائے کے ایک دو کپ ھی کافی تھے- کھاتا بہت کم تھا- کبھی بھوک ستاتی تو داتا صاحب کے لنگر پہ لائین میں لگ کر کچھ نہ کچھ کھا لیتا تھا-
تنہائی اور بے قدری کے غم کا علاج نشے سے کرنے لگا تو نشے کا خرچ پورا کرنے کے لیے اپنا کلام بیچنا شروع کردیا- فضول قسم کے شاعر اپنی بکواس شاعری کی بجائے دس پندرہ روپے میں ساغر کی غزل خرید کر مشاعروں میں داد وصول کرنے لگے- کروڑپتی فلم ساز ساغر سے فلم کے گیت لکھواکر چند روپے اس کے ھاتھ پہ رکھ دیتے – کسی کے دل میں اتنا خوف خدا پیدا نہ ھؤا کہ اس کا علاج کراکے، اس کے لیے مستقل روزگار کا بندوبست کردے-
ساغر کبھی لہر میں ھوتا تو فٹ پاتھ پر موم بتی کی روشنی میں مشاعرہ سجا لیتا، مشاعرے کا اکلوتا شاعر وہ خود ھوتا- آواز میں بہت درد بھرا ترنم تھا- سننے والے جھومتے رھتے- مگر جیب سے کچھ نکال کر نہ دیتے-
ساغر کی موت کے بارے میں مختلف روایات سننے میں آتی ھیں- زیادہ قرین قیاس یہ ھے—————————–
نشے کے لیے ساغر خود کو کوکین کے انجیکشن لگایا کرتا تھا- ایک دن پیسے نہ تھے، نشے کی طلب نے بے تاب کر دیا تو چائے کا قہوہ سرنج میں بھر کر اپنی کلائی کی رگ میں چڑھا دیا —–
نتیجہ ———– فوری موت !!!
اس سلسلے کی کل کی پوسٹ انشاءاللہ بہت اھم ھوگی —– رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک – 23 جولائی 2017

میرا میانوالی

مارچ کے آخر یا اپریل کے اوائل میں گندم کی کٹائی کا آغاز ھوتا- ھارویسٹر اور تھریشر تو ھوتے نہیں تھے- سارا کام ھاتھوں سے کرنا پڑتا تھا– فصل کی کٹائی میں گھرکے تمام افراد شریک ھوتے تھے- پھر بھی اس کام میں ایک دو ماہ لگ جاتے — فصل کاٹنے کے بعد اس کی گہائی ( بھوسا اور دانے الگ کرنے کا عمل) بھی خاصا مشقت کا کام تھا–Image may contain: one or more people and outdoor
گھرکی ایک آدھ خاتون دوپہر کا کھانا بناتی تھی- باقی سب مردوں کے ساتھ مل کر فصل کی کٹائی اور گہائی میں مصروف ھوتی تھیں – دوپہر کا کھانا سادہ لسی کے ساتھ خالص دیسی گھی سے چپڑی ھوئی تندور کی روٹیوں پر مشتمل ھوتا تھا – محنت کش جسموں کے لیے یہ کھانا طاقت کا خزانہ ھوتا تھا-
جن لوگوں کی اپنی زمینیں نہیں تھیں وہ سرگودھا، خوشاب اور جنوبی پنجاب کے نہری علاقوں میں جاکر اجرت پر کٹائی کا کام کرتے تھے —— مزدوری گندم کی دسویں گڈی ( جتنی گندم کاٹتے اس کا دسواں حصہ) ملتی تھی– سارا کنبہ اس کام میں شریک ھوتا تھا- تب جا کر ایک ڈیڑھ مہینے میں سال بھر کی ضروریات کا سامان میسر آتا تھا — کئی غریب کنبے ھر سال یہ عارضی ھجرت اور مشقت کا کام کر کے اپنا رزق کماتے تھے-
گندم کی کٹائی کا موسم ختم ھوتے ھی شادیوں کا موسم شروع ھوجاتا تھا- گندم بیچ کر چار پیسے ھاتھ آتے ھی لوگ اپنے بچوں کی شادیوں کا بندوبست کر دیتے تھے-

ساغر صدیقی کی کہانی ختم کرتے ھوئے میں نے کل کہا تھا کہ میری آج کی پوسٹ بہت اھم ھوگی- ساغر کے بارے میں مزید معلومات کے لیے یونس ادیب کی کتاب 147شکست ساغر147 دیکھ لیں- رلا دینے والی کتاب ھے- کل کی پوسٹ پر کمنٹ میں ڈاکٹر اشفاق احمد نے یاد دلایا کہ ساغر پر ایک فرانسیسی مصنف کی کتاب نگارشات لاھور نے بھی شائع کی ھے- کتاب اردو میں ھے-
ساغر پندرہ سال لاھور کی سڑکوں پر رلتا ھؤا مرگیا- لوگ اس حال میں بھی اس کی شاعری سستے داموں خرید کر منہگے داموں بیچتے رھے- مگر کسی نے اس کے سر پہ ھاتھ نہ رکھا – اس کا ھاتھ نہ پکڑا–
ایک صبح مال روڈ پر الفلاح بلڈنگ کے قریب ایک دکان کے سامنے ساغر کی لاش دیکھ کر لوگوں نے آسمان سر پہ اٹھا لیا – اس کی خوبصورت قبر بنا کر اس پر مزار بھی بنا دیا — کتنے دکھ کی بات ھے !!! اس کی قبر پہ جو پیسہ خرچ ھؤا یہی اگر ساغر پر خرچ کر دیا جاتا تو وہ یوں بے بسی کی موت نہ مرتا — اب ھرسال اس کی قبر پر میلہ لگانے کا ساغر کو کیا فائدہ ؟
جس مقصد کے لیے آج یہ پوسٹ لکھ رھا ھوں وہ یہ ھے کہ ھمارے اردگرد بہت سے ساغر آج بھی پھر رھے ھیں — ھمارے وہ چاند جیسے بیٹے اور بھائی، جنہیں ھم “جہاز” (ھیروئنی) کہتے ھیں ، ھمارے سامنے سسک سسک کر مر جاتے ھیں- انہیں لاعلاج سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ھے– ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ھے- گلی گلی ھیروئن خریدنے کے لیے پیسے مانگتے پھرتے ھیں- کیا میرے فیس بک کے بٰیٹے اور سٹوڈنٹ ان کے لیے کچھ کر سکتے ھیں- ؟ ان کی بحالی کے لیے کوئی تنظیم بن سکتی ھے ؟؟؟
اس سلسلے میں میں اپنے بہت پیار ے عزیز, ماھرنفسیات ڈاکٹر لیاقت حسین گیلانی سے بھی آپ کی رھنمائی کی اپیل کرتا ھوں- اگر ڈی ایچ کیو میں پہلے ھی کوئی ایسا شعبہ ھے تو ڈاکٹر صاحب میسیج کے ذریعے مجھے مطلع کردیں – میں وہ معلومات اپنی فیس بک پہ پوسٹ کر دوں گا- اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ھو- — رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک – 24  جولائی 2017

میرا میانوالی

شادی عام طور پر اپنے خاندان میں کی جاتی تھی- اگر خاندان میں کوئی مناسب رشتہ نہ ملتا تو خاندان سے باھر کا رشتہ بھی لے لیا جاتا تھا- رشتہ لڑکے اور لڑکی کے والدین مل کر طے کرتے تھے- لومیرج Love marriage کا نام بھی کسی نے نہیں سنا تھا- والدین کی طے کی ھوئی شادیاں عمر بھر کی سنگت ھوتی تھیں- صبر، شکر اور برداشت کا دور تھا- طلاق یا دوسری شادی کا ھم نے بچپن میں نام بھی نہ سنا تھا — برطانیہ ، امریکہ میں تو خواتین بھی ھر سال چھ ماہ بعد نئی لو میرج کرتی ھیں-
شادی کی رسمیں بہت سادہ ھوتی تھیں- مہندی ، مائیاں اور رخصتی کا سارا عمل دوتین دن میں مکمل ھوجاتاتھا — دولہا والے گھر میں بارات روانگی سے ایک دن پہلے ڈھول بجنا شروع ھو جاتا تھا- داؤدخٰیل میں چاچا شیرو میراثی اور چاچا غلام محمد کی جوڑی سب سے زیادہ مقبول تھی- شیرو ڈھول بجاتا تھا، غلام محمد شرنا (شہنائی)- محلے اور خاندان کے لوگ شادی کے اخراجات میں حصہ ڈالنے کے لیے کچھ پیسے “ویل” کے طور پر چاچا شیرو کی معرفت دے دیا کرتے تھے- ویل کا باقاعدہ اعلان ھوتا تھا- لکھت پڑھت نہیں ھوتی تھی کہ لکھنے پڑھنے والا کوئی ملتا ھی نہیں تھا-
لڑکے ڈھول کے تال پر الٹے سیدھے ھاتھ پاؤں لہراکر رقص بھی کیا کرتے تھے- کئی بزرگ بھی اس فن کے اچھے خاصے ماھر تھے— رات کو ماؤں بہنوں کی فرمائش پر رقص کا ایک دور گھر کے اندر بھی چلتا تھا- ڈھول شہنائی والے تو چاچا شیرو اور چاچا غلام محمد ھی ھوتے تھے، رقص خواتین کرتی تھیں- صحن کا دروازہ اندر سے بند کر دیا جاتا، کوئی مرد ادھر جھانکنے کی جراءت نہیں کرتا تھا— ڈھولک/ ڈھولکی داؤدخیل میں نہیں ھوتی تھی-
رات کے پچھلے پہر گھڑے تھالی کے تال پر خواتین کے درمیان ماھیئے گانے کا مقابلہ بھی ھوتا تھا- اور پھر لالا جاگ والا گیت ،– یہ باتیں انشاءاللہ کل کی پوسٹ میں لکھوں گا-
سہرا بندی کا رواج بھی نہ تھا- بارات روانگی کے وقت دولہا کے سر پہ چند پھولوں کا ھار شناخت کے لیے لپیٹ دیا جاتا تھا-

منورعلی ملک — 25 جولائی 2017

میرا میانوالی

جس دن بارات روانہ ھوتی اس سے پہلی رات دولہا کے گھر میں رات بھر رونق لگی رھتی تھی– رات کے پچھلے پہر گھڑے تھالی کی تھاپ پر خواتین میں ماھیے گانے کا مقابلہ ھوتا تھا– یہ مقابلہ بیت بازی کی قسم کا ھوتا تھا– اس مقابلے کو ولانویں ( سوال جواب ) ماھیے بھی کہا جاتا تھا– ایک خاتون ماھیا گاتی ، دوسری اس کا جوابی ماھیا اسی لے میں گاتی– بلا کا حافظہ تھا ان بچیوں کا — بعض خود موقع پر نیا ماھیا بھی تخلیق کرلیتی تھیں — جو ماھیے کا جواب نہ دے سکتی وہ ھار جاتی– بچپن میں ھماری رشتے دار خواتین مجھے بھی زبردستی گھسیٹ کر مقابلے میں شریک کر لیتی تھیں– ھمیشہ میں ھی ھارتا تھا-
سحری کے وقت گبھرو (دولہا) کو جگا کر مہندی لگائی جاتی تھی– گبھرو کی بہنیں ، بھابھیاں اور کزنیں مہندی کا کٹورا لے کر”لالا جاگ” گاتی ھوئی آتیں اوربڑے پیار سے بھائی کے ھاتھ پاؤں پہ مہندی لگا دیتی تھیں-
“لالا جاگ” ایک قدیم لوک گیت ھے– پتہ نہیں کب اور کہاں سے آیا — ھم نے ھوش سنبھالا تو یہ شادی کی ایک مستقل رسم بن چکا تھا — بھائی سے بہن کی محبت کا اتنا خوبصورت اظہار میں نے اردو، انگریزی، فارسی شاعری میں کہیں نہیں دیکھا — اس کے ابتدائی بول کچھ یوں تھے ———–
تیکوں مہندی لاونڑں آئیاں وے
تیڈیاں بھینڑاں تے بھرجائیاں وے ———— لالا جاگ —–
جب سے لالا عیسی خیلوی کی بہن سیما فوت ھوئیں لالا کے لیے یہ گیت گانا مشکل ھوگیا — ایوب نیازی یہ گیت بہت خوبصورت انداز میں گایا کرتے تھے- جب ان کے جواں سال بھائی یوسف خان فوت ھوئے , ایوب کے لیے بھی یہ گیت گانا ممکن نہ رھا —- آھوں اور سسکیوں کے درمیان کون گا سکتا ھے؟
——— رھے نام اللہ کا –

الحمدللہ ————- ھمارے سفر کی دوسری سالگرہ مبارک –
2015 میں جولائی کے یہی آخری دن تھے جب مری سے لاھور واپس آکر میرے بیٹے پروفیسر محمد اکرم علی ملک نے مجھے یہ لیپ ٹاپ لا کر دیا اور کہا 147 ابو، آپ اتنا اچھا لکھ لیتے ھیں , پھر بھی گھر میں چھپ کر بیٹھے ھیں – فیس بک پہ آجائیں تو بہت سے لوگ آپ کو ویلکم کہیں گے- آپ کے ھزاروں سٹوڈنٹ ، چاچا عیسی خیلوی کے حوالے سے آپ کے ھزاروں فین، اور بہت سے اھل علم وقلم فیس بک کی دنیا میں آپ سے مل کر بہت خوش ھوں گے-
بیٹے کی بات درست تھی- ضعف سماعت (کم سنائی دینا ) کی وجہ سے میں نے 2010 میں پڑھانا چھوڑ دیاتھا- پڑھانا ھی میری زندگی تھا — کم سنائی دینے کی وجہ سے میری سوشل لائف بھی ختم ھو گئی تھی- کہیں آنا جانا دوسروں کے لیے مصیبت لگتا تھا — اچھی قسم کا آلہ سماعت Hearing Aid بھی تھا میرے پاس، مگر اس کے اپنے مسائل ھوتے ھیں ۔ پنکھا چل رھا ھو تو آدمی کی آواز سنائی نہیں دیتی , صرف پنکھے کی شاں شاں سنائی دیتی ھے-
فیس بک میری تنہائی کا علاج ھی نہیں، میری صلاحیتوں کے اظہار کا وسیلہ بھی بن گئی – اللہ نے مجھے قلم عطا کیا ھے- میری تحریریں پڑھ کر لوگ دعائیں دینے لگے تو میں دعاؤں کے لالچ میں روزانہ لکھنے لگا —
بحمداللہ بہت محبت ملی اس دنیا میں آکر– کئی بہت پرانے دوستوں , سٹوڈنٹس سے روزانہ ملاقات ھو جاتی ھے- دنیا کے ھر کونے میں میرے مہربان میری تحریریں پڑھ کر اپنے ماضی کی یادیں تازہ کرتے رھتے ھیں – اللہ کے فضل سے اس وقت میرے 5000 فیس بک فرینڈز اور آج اس وقت تک 3848 فالوورز ھیں – کچھ ایسے دوست بھی ھیں ، جو کسی وجہ سے میرا ساتھ چھوڑ گئے، تو کچھ دن بعد واپس آکر فالوورز کی لائین میں لگ گئے- بہت بڑا جلوس ھے میرے ساتھ – اللہ آپ سب کو سلامت رکھے- کچھ ایسے لوگ بھی ھیں جو خود میری پوسٹس نہیں پڑھ سکتے، مگر اپنے بیٹوں یا دوستوں سے پڑھوا کر سنتے ضرور ھیں-
اس سفر میں آپ نے بہت کچھ دیکھا، شاید کچھ سیکھا بھی ھو- کوشش یہی کرتا ھوں کہ کچھ دیر کے لیے آپ کو زندگی کی پریشانیوں سے دور لے جاکر کچھ اچھی باتیں بتا دوں-
میں پوسٹ کاغذ پہ کبھی نہیں لکھتا– صبح دس گیارہ بجے بیٹھ کر لیپ ٹاپ پہ جو جی چاھے لکھ دیتا ھوں- شکر ھے جیسا بھی لکھ دوں آپ پسند کر لیتے ھیں –
—— رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک –26  جولائی 2017

میرا میانوالی

شادی میں ایک مسکین مظلوم سی مخلوق بھی ھوتی تھی جسے “سبالے” کہتے تھے– سبالے دولہا کے دو تین ھم عمر کزن ھوتے تھے جو شادی کے دنوں میں سائے کی طرح اس کے ساتھ رھتے تھے– یہ بچارے بہنوں بھابھیوں کے ھنسی مذاق کا نشانہ بھی بنتے تھے، مار کٹائی بھی برداشت کرتے تھے اور جیبیں بھی خالی کرا بیٹھتے تھے- ویسے تو یہ ماشآءاللہ اچھے خاصے پھنے خان نوجوان ھوتے تھے ، ناک پر مکھی بھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے ۔ مگر بہنوں بھابھیوں کے آگے سر کون اٹھا سکتا ھے– اس لیے سبالے یہ سب کچھ ھنس کر برداشت کر لیتے تھے-
کبھی تو ان کو حلوے میں نمک مرچ ، اور سالن میں چینی ڈال کر کھلائی جاتی تھی- اس کے ساتھ پانی کے گلاس میں آٹھ دس چمچ نمک حل کرکے “شربت” بھی پلایا جاتا تھا- کبھی چائے کے ساتھ مٹی کے بنے ھوئے گلاب جامن کھلائے جاتے تھے– لالا جاگ والی رات کے پچھلے پہر ان کے جوتے چرا لیے جاتے تھے- لالا جاگ گانے والی ٹولی کی آواز سن کر یہ جاگتے تو دیکھتے کہ جوتے غائب — انہیں پتہ ھوتا تھا کہ یہ کارروائی بہنوں بھابھیوں نے کی ھے — منت ترلے کر کے جوتے واپس تو مل جاتے تھے لیکن کچھ شرائط پر- شرائط یہ ھوتی تھیں –
١۔ کانوں کو ھاتھ لگاؤ
٢۔ ناک سے زمین پر لکیریں لگاؤ
٣، جیب میں جو کچھ ھے نکال کر ھمیں دے دو
یہ سب کچھ کرنے کے بعد جوتے واپس مل جاتے تھے-
دلہن کے گھر میں جب دولہا چوری (choori) کھانے جاتا تو سبالے بھی ساتھ جاتے تھے- اندر قدم رکھتے ھی دلہن کی سبالیاں ان پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کردیتی تھیں- اور وہ یہ سب کچھ بھی ھنسی خوشی برداشت کر لیتے تھے– یہاں بھی جیب سے سب کچھ نکال کر دینا پڑتا تھا-
ایسے خوبصورت پیار کےرشتے اب کہاں ؟ شاید ھمارے دورافتادہ دیہات میں اب بھی ھوں-
اور آخر میں یہ دلچسپ بات بھی سن لیجیے کہ انگلش میں سبالے کو best man کہتے ھیں — شاید کسی زمانے میں ان کے ھاں بھی اس قسم کا کوئی رواج ھوتا تھا-
——————– رھے نام اللہ کا-منورعلی ملک — 27 جولائی 2017

Image may contain: 1 person, text

میرا میانوالی

شادی بیاہ کی رسمیں تفصیل سے لکھی جائیں تو ایک پوری کتاب بن سکتی ھے- میرے پاس پوسٹ لکھنے کے لیے دس پندرہ منٹ سے زیادہ وقت نہیں ھوتا- کوشش کرتا ھوں کہ کوئی اھم بات رہ نہ جائے- یہ بھی یاد رکھیں کہ میرا گھر داؤدخیل میں ھے- میں صرف وھی رسمیں بیان کر سکتا ھوں جووھاں رائج تھیں-
آج ذکررخصتی کا —- بارات دلہن کے گھرآتی ، دولھا لباس تبدیل کرتا- وہ منظر بیان نہیں کرسکتا — بس اتنا سمجھ لیں کہ سیکڑوں لوگوں کی موجودگی میں کھلے میدان میں لباس تبدیل کرنے والے پر کیا گذرتی ھوگی— پھر نکاح پڑھایا جاتا –
بارات کو کھانا دیا جاتا- گائے کے گوشت کا کٹوے کا سالن اور ساتھ بھٹی پہ بنائی ھوئی پتلی نرم روٹیاں ، اور کچھ نہیں ھوتا تھا- لیکن کٹوے کے سالن کا ایک اپنا مزا ھوتا تھا- جو آج کی کئی ڈشز سے بہت بہترتھا-
گھر کے اندر دلہن کے جہیز کی نمائش ھوتی تھی- جہیز کا بس نام ھی تھا ، غریبوں کا کیا جہیز- ایک ٹین کے بکس میں کپڑوں کے چند جوڑے، رنگین پایوں والے دو سادہ سے پلنگ، ایک دو بستر، کالاباغ کا بنا ھؤا لوھے کا سامان — توا ، کڑھائی، چھریاں، تین ٹانگوں والی چلھ (چولہا) – مسالہ کوٹنے کی دوری اور لکڑی کا رنگین ملھنڑاں (ڈنڈا)- دوچار سادہ سے ھلکے پھلکے سونے چاندی کے زیور، بس یہی کچھ جہیز ھوتا تھا –
اگر شادی کسی قریبی گھر میں ھوتی تو دلہن کو ایک رضائی یا کمبل پر بٹھا کر چار آدمی رضائی کا ایک ایک کونا پکڑ لیتے اور اس طرح دلہن کو اٹھا کر سسرال پہنچا دیتے- اگر بارات کسی دوسرے محلے سے آتی تو دلہن کو اونٹ پہ کچاوے میں بٹھا کر لے جاتے – یہ منظر انشاءاللہ پھر کبھی تفصیل سے بتاؤں گا-
رخصتی کا منظر بہت رقت انگیز ھوتا تھا — ایک بچی کے جانے سے گھر ویران سا لگتا تھا — دلہن کی والدہ ، والد اور بہن بھائیوں کو روتے دیکھ کر ھرآنکھ اشکبار ھو جاتی تھی- خاص طور پہ باپ بیٹی کی جدائی کا منظر دیکھ کر تو آسمان بھی رودیتا ھوگا-
———— رھے نام اللہ کا —منورعلی ملک —  28  جولائی 2017

میرا میانوالی

عزیز دوستو ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ ————-Image may contain: 1 person, beard
ابھی کچھ دیر میں انشاءاللہ ھم لوگ مری جا رھے ھیں- آپ جانتے ھیں کہ ھر سال جولائی کے آخر میں ھم کچھ دن کے لیے مری جایا کرتے ھیں- وھاں اگر وقت ملا تو “میرامیانولی” میں آپ سے ملاقات ھوتی رھے گی ، باقاعدہ روزانہ رابطہ چند دن بعد لاھورجا کر بحال ھوگا- دعاؤں کی ضرورت ھر جگہ ، ھروقت رھے گی – اللہ آپ سب کو سلامت رکھے——– منورعلی ملک — 29 جولائی 2017

 

Your words for Mianwali and Mianwalians