MERA MIANWALI JUNE 2017

میرا میانوالی

منورعلی ملک کی جون 2017 کی

فیس بک پرپوسٹ

میرا میانوالی / میرا داؤدخیل ————–

الحمدللہ، ھماری نوجوان نسل میں آج بھی ایسے افراد موجود ھیں —-

چنددن پہلے کی بات ھے، داؤدخیل کے قبیلہ انزلے خیل کا نوجوان چنگ چی ڈرائیور سلیمان خان ‘ داؤدخیل بس ستینڈ جارھا تھا تو اسے ایک چھوٹی سی گٹھڑی سڑک کے کنارے پڑی نظر آئی- اس نے چنگ چی روک کر وہ گٹھڑی اٹھا لی- اسے کھول کر دیکھا تو اس میں دولاکھ چالیس ھزارروپے اور ایک آڑھتی کی رسید تھی-

سلیمان خان اس آڑھتی سے ملا، اور اسے یہ بات بتا کر اپنا فون نمبر دیتے ھوئے کہا، ان پیسوں کا مالک جب آپ سے رابطہ کرے تو اسے میرا فون نمبر دے دیں-

کچھ دیر بعد سلیمان کو پیسوں کے مالک کی کال موصول ھوئی- وہ بزرگ آدمی کچہ کے علاقے کا ایک غریب کاشتکار تھا- اس نے اپنے بیٹے کے گردوں کا آپریشن کروانے کے لیے ، گندم بیچ کر یہ رقم حاصل کی تھی- اب وہ آدمی اپنی گمشدہ رقم کی تلاش میں آڑھتی کے پاس آیا ھؤا تھا- اس نے روتے ھوئے یہ بات سلیمان کو بتائی تو سلیمان خان نے فورا آڑھتی کے ھاں جا کر رقم اس بزرگ کے سپرد کردی-

مجھے یہ واقعہ فرحان سلیم احمد خان نے بتایا- بعد میں داؤدخیل سے کچھ اور لوگوں نے بھی اس واقعے کی مزید تصدیق کر دی-

میرے لیے اس واقعے پر خوشی اور فخر کی ایک وجہ تو یہ ھے کہ سلیمان میرے داؤدخیل کا بچہ ھے، دوسری بات یہ کہ انزلے خیل قبیلہ سے ھمارے دیرینہ برادرانہ تعلقات ھیں- اس قبیلے میں بہت نامور لوگ پیدا ھوئے- سلیمان کے والد شفیع اللہ خان کو بھی میں ذاتی طور پر جانتا ھوں- سلیمان کے بڑے ماموں رحمت اللہ خان میرے بہت پیارے بیٹے (سٹوڈنٹ ) رھے- اور بھی سب لوگ میرے جانے پہچانے ھیں- اللہ ان سب کو سللمت رکھے٠

سلیمان بیٹا، ماشاءاللہ تم نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ ھو- ھمیں تم پر ھمیشہ فخر رھے گا- آگے بھی ایسے اچھے کام کرتے رھنا- ————– منورعلی ملک – 1 جون 2017

اداس ھیں درو دیوار تو خطا کس کی ؟ تمہارے کہنے پہ میں نے وہ شہر چھوڑا تھا 

میرا میانوالی/ میرا داؤدخیل ————————–اس موسم کے روزوں کی افطاری کا منظر بھی دیکھنے والا ھوتا تھا- ایک آدھ گھنٹہ پہلے صحن کو ٹھنڈا کرنے لے لیے پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا تھا- مرد حضرات اپنی افطاری کا سامان خود تیار کرتے تھے- دن بھر ان کا کوئی اور کام تو ھوتا نہیں تھا،اس لیے افطاری کاکام خود کرکے یہ بھی اپنے آپ کو کام کا آدمی ثابت کر لیتے تھے-

ایک بڑے پتیلے میں ٹھنڈا پانی ڈال کر سب اس کے گرد بیٹھ جاتے- پہلے اس میں چینی ڈال کر ایک بڑے چمچ سے چینی کو آھستہ آھستہ حل کیا جاتا- پھر اس میں لیموں کا رس نچوڑ کراسے حل کیا جاتا- لیموں کی خوشبو سے دل و دماغ معطر ھو جاتے- پیاس بھڑک اٹھتی- انتظارکے آخری چند منٹوں کا ایک اپنا لطف ھوتا تھا- ایک پلیٹ میں کھجور کے چند دانے بھی سامنے رکھ دئیے جاتے، مگر روزہ داروں کی اصل دلچسپی کھانے سے زیادہ پینے میں ھوتی تھی-

افطار کا اعلان مسجد میں نقارہ بجا کر کیا جاتا تھا ( اسے ھم نغارا کھتے تھے- زیادہ سیدھے سادے لوگ اسے ڈھمکڑی کہا کرتے تھے) نقارہ طبلے کی قسم کی ایک چیز ھوتی تھی- اسے ڈھول کی طرح دو لکڑیوں سے پیٹا جاتا تھا- افطار کے لیے لوگ نقارے کو گھڑیوں سے زیادہ معتبر سمجھتے تھے، حالانکہ نقارہ بھی ایک آدمی گھڑی دیکھ کر ھی بجاتا تھا— ھائے وہ سادگی – رھے نام اللہ کا — منورعلی ملک –2 جون 2017

حسن تخلیق خدا کرتا ھے داد انسان کو دی جاتی ھے

میرا میانوالی / میرا داؤدخیل —————–

رمضان المبارک اور شوال المکرم (عید الفطر) کا چاند نظر آنے یا نہ آنے کا اعلان ھمارے علاقہ میں کوٹ چاندنہ کے پیر صاحب کیا کرتے تھے- سرکاری رویت ھلال کمیٹی کا نام بھی ھم نے نہیں سنا تھا- اس زمانے میں شاید تھی ھی نہیں- ابھی داؤدخیل میں ریڈیو بھی نہیں آیا تھا- اس لیے ھمارے ھاں چاند کی تصدیق کا یہ نظام رائج تھا- اور یہ بڑا معتبر نظام تھا- پیر صاحب شرعی شرائط اور تقاضوں کے عین مطابق معتبر شہادتوں کی بنا پر فیصلہ کیا کرتےتھے-

29 شعبان المعظم اور رمضان المبارک کو داؤدخیل کے کچھ لوگ شام سے پہلے کوٹ چاندنہ پہنچ جایا کرتے تھے، اور وھاں سے چاند کے بارے میں پیر صاحب کا فٰیصلہ لے آتے تھے- پیر صاحب اپنے دستخط اور مہر کے ساتھ تحریری فیصلہ جاری فرمایا کرتے تھے-

اس زمانے میں خالص خورا ک کی وجہ سے لوگوں کی نظر بھی تیز ھوتی تھی، فضا میں گردوغبار بھی نہیں ھوتا تھا- اس لیے صاف موسم میں ھم اکثر اپنی آنکھوں سے ھی چاند دیکھ لیا کرتے تھے- ایک دفعہ رب کریم نے مجھے بھی اپنے محلے میں سب سے پہلے چاند دیکھنے کا اعزاز عطا فرمایا تھا- بال کی طرح بہت باریک سا چاند تھا-

—- رھے نام اللہ کا – منورعلی ملک -3 جون 2017

میرا میانوالی / میرا داؤدخیل ———–

لاؤڈسپیکر تو اس زمانے میں ھوتا نہیں تھا، اس لیے عید کا چاند نظر آنے کا اعلان بھی نقارہ بجا کر کیا جاتا تھا- نقارے کی آواز فضا میں گونجتے ھی شہر میں خوشی کی لہر دوڑجاتی تھی- رمضان المبارک میں ڈھول بجا کر لوگوں کو سحری کے لیے جگانے والے فن کار بھی پورے زوروشور سے میدان میں آجاتے- جدھر سے گذرتے گلی کے بچے ان کے آگے پیچھے ڈانس کرتے ھوئے دور تک ان کا ساتھ دیتے- ھر گھر سے ان فن کاروں کو کچھ نہ کچھ معاوضہ بھی مل جاتا تھا-

صبح عید منانے کی خوشی میں بچے رات بھر سو نہیں سکتے تھے- بار بار اٹھ کر اپنے کپڑوں اور جوتوں کو دیکھتے اور کچھ دیر اس تصور میں کھوجاتے کہ صبح یہ نئے کپڑے اور جوتے پہن کر میں کیسا لگوں گا- نئے کپڑوں اور جوتوں کو اتنی اھمیت دینے کی اصل وجہ غریبی تھی- اکثر بچوں کو سال بھر میں کپڑوں کے ایک دو جوڑے ھی نصیب ھوتے تھے-

کپڑوں پر بار بار نظر ڈالنے کے علاوہ ھم لوگ دل ھی دل میں صبح ملنے والی عیدی کا حساب کتاب جوڑ کر اس رقم سے عیاشی کے منصوبے سوچتے رھتے——-( ایک روپیہ گھر سے ملے گا، آٹھ آٹھ آنے دونوں چچا دیں گے ، ماموں اور مامی بھی آٹھ آٹھ آنے دے دیں گے- چار چار آنے دونوں پھوپھیوں سے ملیں گے ، اور ——– یونہی حساب کتاب رات بھر جاری رھتا )-

عید کے چاند کی خبر سن کر کچھ بزرگوں کو روتے بھی دیکھا- وہ کہا کرتے تھے، رو اس لیے رھے ھیں کہ رحمتوں کی یہ برسات تو اگلے برس بھی ھوگی، لیکن ھم شاید اس دنیا میں موجود نہ ھوں— رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک –4 جون 2017

ھم فقیروں کی طلب کو سمجھو بھیک نظروں سے بھی دی جاتی ھے

میرا میانوالی / میرا داؤدخیل ———

ھمارے بچپن میں عید کے دن داؤدخیل کے بچوں کی عیاشی محلہ امیرے خیل میں ماما حمیداللہ خان کی تروتازہ جلیبیوں، محلہ علاؤل خیل میں حاجی کالا کی جلیبیوں اور پکوڑوں یا ایک دو جگہ ٹھاہ کر کے کھلنے والی سوڈا واٹر کی بوتلوں تک محدود رھتی- کھانے پینے کو اور کچھ تھاھی نہیں- صبح سویرے نہا دھوکر نیا لباس اور نئے جوتے پہن کر ھم لوگ شہزادوں کی طرح اکڑ کر چلتے ھوئے اپنی شان شوکت کا مظاہرہ کرنے کے لیے پورے شہر کا چکر لگاتے تھے- بڑے تو ھماری شان و شوکت دیکھ کر ھنس دیتے تھے- بچے ھمیں ، اور ھم ان کو بڑے غور سے دیکھ کر ایک دوسرے کے لباس اور جوتوں کی قدروقیمت کا موازنہ کیا کرتے تھے-

ماما حمیداللہ خان اور حاجی کالا جلیبیاں کاغذ میں لپیٹ کر دیتے تھے – گرماگرم جلیبیوں سے ھاتھ جلنے لگتے تو ھم لفافہ گود میں ڈال کر وھاں سے چل دیتے – جلیبیوں کے شیرے سے ھمارے نئے نکور کپڑوں کا حشر نشر دیکھ کر ھماری مائیں سر پکڑ کر بیٹھ جاتیں- (بچاری اور کر ھی کیا سکتی تھیں) – ھمیں جی بھر کر کوسنے کے بعد ھمارے ستیاناس شدہ کپڑے اتروا کر ھمیں کوئی دھلا ھؤا پرانا جوڑا پہنا دیتیں، اور نیا جوڑا دوسرے دن پہننے کے لیے دھودیتیں-

عید کی عیاشیوں سے یاد آگیا، میرے بیٹے محمد اکرم علی ملک کو بچپن میں کولڈ ڈرنکس پینے کا بہت شوق تھا – چار پانچ سال کا تھا تو ایک دفعہ عید کی شام مجھ سے کہنے لگا “ابو ‘ میں نے آج 9 بوتلیں پی ھیں“ —— ماشاءاللہ —– ھے کوئی آپ میں ایسا جس نے میرے اس شیر جوان بیٹے جیسا کارنامہ سرانجام دیا ھو ؟؟؟

سادگی ااور معصومیت کی ایسی پیاری مثالیں اب کہاں- اب تو بچے والدین کوکھانا پینا سکھاتے ھیں- —— رھے نام اللہ کا —–منورعلی ملک –5 جون 2017

کیا طوفانی رات ھے مولا خیر کرے
وہ پاگل رستے میں ابھی بیٹھا تو نہیں ؟

میرا میانوالی / میرا داؤدخیل ———–

عید کی تیاریاں رمضان المبارک کے ساتھ ھی شروع ھو جاتی تھیں- یہ تیاریاں وقت گذارنے کا ایک خوبصورت وسیلہ بھی تھیں- کپڑوں کی خریداری اور تیاری مصروفیت کا ایک معقول بہانہ ھؤا کرتی تھی- مرد تو زیادہ تر کالاباغ کے پھیرے لگایا کرتے تھے- پسند کی چیز وھاں نہ ملیتی تو پھر میانوالی کا رخ کرتے تھے- بعض منچلے نوجوان کوھاٹ، اور پشاور تک کا چکر لگا آتے تھے- دوگھوڑا بوسکی کی قمیص اور چابی مارکہ لٹھے کی شلوار وی آئی پی سٹیٹس کا لباس ھؤا کرتا تھا- ململ، ویل اور آرکنڈی بھی موسم کے لحاظ سے مقبول کپڑا شمار ھوتی تھیں-

خواتین مقامی دکانوں سے اپنی پسند کا کپڑا خریدتی تھیں- داؤدٰخیل کے اکثر دکاندار کریانے کے ساتھ کپڑے کا کاروبار بھی کرتے تھے- ھمارے محلے میں چاچا اولیاء، محلہ علاول خیل میں ملک غلام محمد غزنی خیل- محلہ لمے خیل میں چاچا چمن خان، اور محلہ سالار میں محمد بخش خان کپڑے کے مشہور تاجر تھے- خواتین صرف چھینٹ کا لباس ھی خرید سکتی تھیں٠ چھینٹ پھولدار کاٹن کا سستا کپڑا ھؤا کرتا تھا- ریشمی کپڑا مورکین، دریانئی ، لنن وغیرہ بھی تھے ، مگر زیادہ تر خواتین نمائشی لباس پسند نہیں کرتی تھیں- سچی بات تو یہ ھے کہ غریبی کی وجہ سے افورڈ ھی نہیں کر سکتی تھیں-

اب تو ماشاءاللہ‘ اس درجے کی غریبی داؤدخیل میں کہیں بھی نظر نہیں آتی- غریبی کے ساتھ ھی اس سے وابستہ محبت، ھمدردی، تعاون، قربانی, رشتوں کا احترام وغیرہ جیسی خوبصورت روایات بھی دنیا سے رخصت ھو گئیں-

——– رھے نام اللہ کا —منورعلی ملک –6 جون 2017

منورعلی ملک –1 جون 2017

میرا میانوالی ————–

داؤدخیل کی عید کے بارے میں مفصل پوسٹس پچھلے سال لکھ چکا ھوں- مختلف حوالوں سے داؤدخیل کا ذکر تو انشاءاللہ آئندہ بھی ھوتا رھے گا، کیونکہ میرااصل گھر تو وھی ھے- شہر کو اللہ سدا آباد رکھے، شہر تو اپنا ھے ھی ، وھاں میاں رمدی، میاں کھچی اور موج علی شاہ کے قبرستانوں میں بھی میرے ماضی کے بہت سے باب محفوظ ھیں- بہت سے بزرگ، رشتہ دار ، مہربان دوست ‘ بہت پیارے سٹوڈنٹ ان قبرستانوں میں تہہ خاک آسودہ ھیں- اللہ ان سب کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھے- ان میں سے کچھ لوگوں کا ذکر پہلے کر چکا ھوں ، کچھ کا ذکر انشاءاللہ مختلف حوالوں سے بعد میں کرتا رھوں گا-

فی الحال آپ کو واپس لے چلتا ھوں میانوالی- یہ وہ میانوالی ھے جو آپ میں سے بہت سے لوگوں نے دیکھا ھی نہیں- کچھ لوگوں نے بچپن میں دیکھا ھوگا- بہرحال قصہ خاصا دلچسپ ھوگا —- سو ‘ آئندہ چند پوسٹس میں آپ دیکھیں گے میرے بچپن اور جوانی کے دور کا میانوالی-

رمضان المبارک کے بعد انشاءاللہ اپنی پوسٹس کی کتاب مرتب کرنے کا ارادہ ھے- بہت سے دوست بہت عرصے سے فرمائش کر رھے ھیں، الحمدللہ یہ کام میرے لیے مشکل نہیں ھوگا- اللہ بھلا کرے عیسی خیل کے شیر بہادر خان نیازی کا ‘ انہوں نے 31 مئی 2017 تک کی میری تمام پوسٹس اپنی ویب سائیٹ میں محفوظ کر لی ھیں- آپ کی دعاؤں اور مشوروں کا منتظر رھوں گا –منورعلی ملک –7 جون 2017

فیس بک سے دوستی ————–

Image may contain: 1 person

نجف بلوچ میرے اولیں فیس بک فرینڈز کی صف میں بھی شامل ھے، میرے بیٹے مظہرعلی ملک کے قریب ترین دوستوں کی فہرست میں بھی- بیٹے کےدوست کو بیٹا ھی کہا جاتا ھے- اس لحاظ سے نجف میرا بیٹا بھی ھے-

نجف میانوالی کے بلوچ قبیلے کا چشم و چراغ ھے- بچپن ھی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا- پھر پولیو کا حملہ ھؤا، اللہ نے جان بچالی، معمولی سی معذوری باقی رہ گئی- مگر نجف کی عظیم والدہ نے نہ تو اپنے بچے کو والد کے سائے سے محرومی کا احساس ھونے دیا، نہ ھی معذوری کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ھونے دیا ، بلکہ شہزادوں کی طرح پرورش کر کے اسے ایک صاف ستھری ، شائستہ شخصٰیت بنا دیا-

2008 میں قضائے الہی سے والدہ کا سایہ بھی نجف کے سر سے اٹھ گیا، مگر والدہ نے اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ھونا اور آگے بڑھنا سکھا دیا تھا- نجف بی اے کرنے کے بعد پی ٹی سی ایل (محکمہ ٹیلیفون) میں ملازم ھو گیا- کچھ عرصہ بعد اپنی پسند سے اپنے رشتہ داروں میں شادی بھی کرلی- اب خیر سے خوشحال زندگی بسر کر رھا ھے-

نجف کو قدرت نے بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ھے- وہ کمپیوٹر کا ماھر ھے- کبھی کبھی میں بھی اس سے سبق لیتا رھتا ھوں- پروفیسر سلیم احسن نے آثار قدیمہ پر جو ریسرچ کی، اس میں نجف ان کا دست راست رھا- ان کی تحریروں کو خوبصورت کمپوزنگ میں ملبوس کرنے کا تمام تر کام نجف ھی نے کیا-

نجف بہت اچھا شاعر بھی ھے- میانوالی میں رائج الوقت فیشن کے مطابق نجف بھی سرائیکی گیت نگاری کرتا ھے- بالخصوص ڈوھڑا بہت اچھا لکھتا ھے- مقامی گلوکاروں کے علاوہ معروف فلمی گلوکارہ شبنم مجید نے بھی نجف کے ایک دو گیت گائے ھیں-

نجف کے لیے بہت سی دعاؤں کے ساتھ یہ مشورہ بھی ھے کہ بیٹا اب اپنا مجموعہ کلام مرتب کرنے کا سوچو-منورعلی ملک –7 جون 2017

میرا میانوالی ——-

میں چوتھی جماعت Class Four کا سٹوڈنٹ تھا جب میں اپنے کلاس ٹیچر ماسٹر عبدالحکیم اور چند کلاس فیلوز کےساتھ پہلی بار میانوالی آیا- ماسٹر صاحب ھمیں وظیفے کا امتحان دلوانے کے لیے لائے تھے- اس امتحان میں کامیاب ھونے والوں کو سرکار تین سال تک 4 روپے ماھوار وظیفہ دیتی تھی-

ھم نے وانڈھی گھنڈ والی میں ریلوے لائین کے سامنے محمد عبداللہ خان تحصیلدار کے ھاں قیام کیا- محمدعبداللہ خان داؤدخیل کے قبیلہ امیرے خیل (یارن خٰیل) سے تعلق رکھتے تھے- ان کا بھتیجا عبدالغفور خان بھی وظیفے کے امیدواروں میں شامل تھا- (یہی عبدالغفور خان آگے چل کر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریٹائر ھوئے)- داؤدخیل کے امیدواروں میں سے مجھے۔ عبدالغفورخان، اور احمد خان سالار عرف احمد خان نکا کو وظیفہ کا مستحق قرار دیا گیا- احمد خان میٹرک کے بعد کراچی جا بسے- بہت نامور کاسٹ اکاؤنٹنٹ تھے- اب رٰیٹائر ھو چکے ھوں گے-

ھم آٹھ دس سال کے بچوں نے سیر کیا کرنی تھی- ماسٹر صاحب نے امتحان کے بعد ھمیں میں بازار کا ایک سرسری سا چکر لگوایا۔ جالندھریوں کی دکان سے لسی کا ایک ایک گلاس پلا کر ھمیں ریلوے سٹیشن لے گئے- ٹرین میں بیٹھ کر ھم واپس آگئے-

میانوالی کے اس پہلے دورے میں اھم واقعہ صرف ایک ھؤا- امتحان دینے کے لیے ھمیں ڈسٹرکٹ کونسل آفس کے لان میں گھاس پر بٹھایا گیا- امتحان کے دوران میں نےگھاس کا ایک پتہ توڑا تو اس میں سے دودھ سا بہنے لگا- میں نے وہ دودھ اپنی ناک کے ارد گرد لگا دیا- مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ کیا بلاھے- گھر پہنچے تو میری ناک کے دائیں طرف اچھا خاصا چھالا بن چکا تھا- امی روتے ھوئے بار بار کہتیں “ وے مردود، یہ کیا کردیا تونے؟ “

چھالے نے حلیہ ھی بگاڑدیا تھا- اس لیے چند دن سکول بھی نہ جا سکا- ( آپس کی بات ھے، یہ تو فائدہ ھی ھؤا اس چھالے کا) – داؤدخیل کے سول ھسپتال میں ڈاکٹر صاحب نے اس چھالے پر دوا لگا کر پلستر لگا دیا- دوتین دن میں چھالا غائب ھو گیا- ——– کیا پیارا زمانہ تھا –رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک -8 جون 2017

میں اکیلا نہیں ھوں تیرے بغیر
تو نے میرا خدا نہیں دیکھا ؟

میرا میانوالی ————–

بچپن میں دوسری بار میں میانوالی ایک بزرگ رشتہ دار خاتون کے ساتھ آیا- یہاں کے لیڈیز ھسپتال میں ان خاتون کا اپنڈکس کا آپریشن تھا- میں اور ان خاتون کی ایک بہن اٹنڈنٹ کی حیثیت میں ان کے ساتھ رھے-

میانوالی کا لیڈیز ھسپتال مین بازار میں پرانی سبزی منڈی کے سامنے واقع تھا- یہ ایک مکمل ھسپتال تھا، جہاں خواتین کو علاج معالجہ کی تمام سہولیات میسر تھیں- ھسپتال میں ضروریات کے مطابق لیڈی ڈاکٹرز ، نرسیں اور دوسرا سٹاف متعین تھا- جب ملک ترقی کرنے لگا تو اس ھسپتال کو بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ شمار کرتے ھوئے ختم کر دیا گیا-

عمارت کے ایک حصے میں پرائمری سکول قائم کردیا گیا، باقی حصہ آج کل میانوالی میں سب سے بڑاگندگی کا ڈھیر ھے- غلاظت اور بدبو کی وجہ سے ادھر سے گذرنا بھی مشکل ھے- آہ ، کبھی اسی جگہ خواتین کے ھسپتال کا پھولوں بھرا باغیچہ ھؤا کرتا تھا-

جب میں اپنی خاتون رشتہ دار کے ساتھ یہاں آیا، اس وقت میں چھٹی جماعت Class Six کا سٹوڈنٹ تھا- ھم تین دن اس ھسپتال میں رھے- ھسپتال کے عین سامنے ایک ھوٹل تھا- وہ ھوٹل آج بھی موجود ھے- ھم کھانا وھیں سے منگواتے تھے- ھسپتال کا تمام سٹاف بہت اچھا تھا- خواتین کا بہت خیال رکھا جاتا تھا-

میں نے یہ تین دن ھسپتال ھی میں گذارے- بازار میں زیادہ دور تک اس ڈر سے نہیں جاتا تھا کہ کہیں گم نہ ھو جاؤں- شام کے قریب کچھ لیڈی ڈاکٹرز ھسپتال کے لان میں بیڈ منٹن (چڑی چھکا کہتے ھیں نا آپ اس کو ؟) کیھلا کرتی تھیں- میں ان کا کھیل دیکھا کرتا تھا- چڑی ( shuttlecock ) کہیں دور جا گرتی تو میں بھاگ کر اسے اٹھا لاتا تھا- ایک دن ایک لیڈی ڈاکٹر صاحبہ نے ھنس کر کہا “بیٹا ، اور تو ھم آپ کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے، ذرا سا بیمار پڑ جاؤ تو دیکھنا ھم لوگ کیسے تمہاری خدمت کرتے ھیں”———–

گذر گیا وہ زمانہ وہ لوگ بھی نہ رھے– رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک –9 جون 2017

عمر بھر انتظار کرنا ھے
راستے میں بٹھا گیا کوئی

میرا میانوالی ——

میانوالی میں تیسری بار میں اس وقت آیا جب میں میٹرک کا امتحان دے رھا تھا- ھمارے امتحان کا سنٹر جناح ھال تھا- ڈیرہ اسماعیل خان کے بزرگ پروفیسر ابراھیم خان ھمارے امتحان کے سپرنٹنڈنٹ تھے- وہ قائد اعظم والا لباس ( سفید شلوار سوٹ، شیروانی اور جناح کیپ پہنتے تھے ) بہت بارعب شخصیت تھے، مگر سٹوڈنٹس کے ساتھ ان کا رویہ بہت مشفقانہ تھا٠ نقل کا تو اس دور میں نام و نشان بھی نہیں تھا- سب لوگ اپنی محنت اور اللہ کی رحمت پر انحصار کرتے تھے- اس لیے امتحان نہایت پرسکون ھوتے تھے- سٹوڈنٹس کے پس ماندگان سنٹر کی حدود میں قدم نہیں رکھتے تھے-

ھماری کلاس سٹی سٹریٹ میں مرحوم میجر سلطان اکبرخان کی گلی کے ایک مکان میں مقیم رھی- کلاس کے ھمراہ ھمارے سکول کے پی ٹی آئی صوبیدارریٹائرڈ مدت خان تھے— (پی ٹی آئی کا نام سن کر بہت سے دلوں کے تار جھنجھنا اٹھے ھوں گے، مگر وہ یہ والی پی ٹی آئی نہیں تھی- اس زمانے میں سکول کے پی ٹی ماسٹر/ ڈرل ماسٹر کو پی ٹی آئی کہتے تھے- یہ فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹر Physical Training Instructor کا مخفف تھا ) –

صوبیدار مدت خان صاحب نے یہاں بھی فوج والا ڈسپلن برقرار رکھا- ھماری آمدو رفت سنٹر سے رھائش گاہ تک محدود رھی- دس دن قیام کے باوجود ھم کبھی مین بازار کا چکر بھی نہ لگا سکے- شکر ھے امتحان اچھا ھو گیا- عبدالغفورخان، سید ناصر بخاری , احمد خان سالار اور میں فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ھوئے—— کیا اچھادور تھا— !!!!

سید ناصر بخاری اور احمد خان سالار تو عدم آباد جا بسے- عبدالغفور خان اور میں فی الحال ادھر ھی پھر رھے ھیں — رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک –10 جون 2017

کیوں وہ تنہائی یاد آتی ھے ؟
جب ھمیں جانتا نہ تھا کوئی

میرا میانوالی ————-

وہ بھی کیا عجب زمانہ تھا جب پورے دن میں صرف تین بسیں میانوالی سے عیسی خیل آتی جاتی تھیں- ان کے علاوہ اس سڑک پر دن بھر ٹریفک کا نام و نشان تک نظر نہیں آتاتھا- کبھی کبھار کالاباغ کی نواب فیملی یا عیسی خیل کے کسی رئیس کی کار ادھر سے گذرتی ھوئی نظر آجاتی تھی- ٹرک تو اس زمانے میں اس سڑک پہ ھم نے کبھی نہیں دیکھا- لکی مروت اور بنوں جانے کے لیے صرف چھوٹی ٹرین ھؤا کرتی تھی-

میانوالی اور عیسی خیل کے درمیان چلنے والی بسوں میں سے ایک بس میانوالی ٹرانسپورٹ کمپنی کالا باغ گروپ کی، ایک عیسی خٰیل گروپ کی اور ایک تلہ گنگ بس سروس کی تھی- تلہ گنگ بس سروس کی یہ بس صرف اسی روٹ پہ چلتی تھی- میں جب عیسی خیل سکول میں ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا تو ھر اتوار کو اسی بس پہ داؤدخیل آیا کرتا تھا- اس کے ڈرائیور کمر مشانی کے چاچا محمدخان کسی زمانے میں میرے والد صاحب کے سٹوڈنٹ رھے تھے- میرے لیے اس بس کی فرنٹ سیٹ وقف ھوتی تھی-

پرانے زمانے کی باتوں کو دھرانے کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے آج کے دور سے نفرت ھے- ھمارے آقا علیہ السلام کا ارشاد ھے “لا تسبوالدھر“ ، جس کا مطلب ھے زمانے کو برا نہ کہو- میں توآپ لوگوں کے ساتھ اسی دور میں چل رھا ھوں۔ اس دور کی خوبیوں کا تذکرہ بھی انشاءاللہ ضرور کروں گا- ایک خوبی تو اس دور کی یہی ھے کہ اس زمانے میں بھی آپ جیسے بے لوث محبت کرنے والے لوگ موجود ھیں- خوشامد نہ سمجھیں ، یہ ایک حقیقت ھے-

بہرحال ماضی کا ذکر ابھی مزید کچھ دن چلے گا– رھے نام اللہ کا — منورعلی ملک —11 جون 2017

میرا میانوالی ——

کل ذکر ھو رھا تھا اس زمانے کا جب میانوالی سے عیسی خیل دن بھر میں صرف تین بسیں آتی جاتی تھیں- ان میں سے ایک بس تلہ گنگ بس سروس کی تھی، جس پہ میں کمر مشانی کے ڈرائیور چاچا محمد خان کے ساتھ ھر ھفتے داؤدخیل آتا تھا- اس وقت میں عیسی خیل سکول میں ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا- دوسرے دن اسی بس پہ تین بجے واپس عیسی خیل چلا جاتا تھا- اسی بس پہ سفر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس بس کے ڈرائیور چاچا محمد خان اپنے آدمی تھے- والد صاحب ساتویں کلاس کے بچے کو کسی اجنبی ڈرائیور کے ساتھ بھیجنا مناسب نہیں سمجھتے تھے- چاچا محمد خان مجھے پورا پروٹوکول دیتے تھے- فرنٹ سیٹ پہ کوئی اور بیٹھا بھی ھوتا تو اسے کسی پچھلی سیٹ پر بٹھا کر فرنٹ سیٹ میرے لیے خالی کروادیتے تھے-

عیسی خیل سے میانوالی آنے جانے والی تمام بسیں ماڑی انڈس کے راستے , کالاباغ پل سے گذرتی تھیں- آنے جانے والی تمام بسیں کالاباغ اڈے پر چائے پانی کے لیے آدھ گھنٹہ رکتی تھیں- آتے جاتے ھوئے میں کالاباغ میں چاچا محی الدین کے ھوٹل پہ چائے ضرور پیتا تھا- بہت غضب کی چائے بناتا تھا چاچا — ایک آنے میں ایک کپ ملتا تھا- یعنی سولہ آدمی چائے پیتے تو دکاندار کی آمدنی ایک روپیہ بنتی تھی- پورے دن کی کمائی بمشکل پانچ روپے بنتی ھوگی- مگر اس زمانے میں زندگی اتنی سادہ تھی کہ اس تھوڑی سی رقم میں بھی لوگ آسانی سے گذارہ کر لیتے تھے-

یہ وہ زمانہ تھا جب ڈپٹی کمشنر کی تنخواہ دو ڈھائی سو روپے ھوتی تھی- جونیئر کلرک اور پرائمری سکول ٹیچر کو تیس چالیس روپے ماھوار ملتے تھے- پیسہ بہت کم ھوتا تھا ، اس لیے جیب سے دو آنے نکالتے ھوئے بھی ھاتھ کانپتا تھا- میٹرک پاس کرنے تک ھم نے پانچ سویا ھزار روپے کا نوٹ کبھی نہیں دیکھا تھا- ایک سو روپے کے اکا دکا نوٹ بزرگوں کے ھاتھوں میں کبھی کبھار دیکھنے میں آتے تھے- مگر ھمیں سو کا نوٹ جیب میں ڈالنا کبھی نصیب نہ ھؤا-

مزے کی بات یہ ھے کہ اس غریبی میں بھی لوگ مطمئن تھے- آج ھم لاکھوں میں کھیلتے ھیں ، مگر پھر بھی پریشان ھی رھتے ھیں———- رھے نام اللہ کا – منورعلی ملک –12 جون 2017

میرا میانوالی ————-

ٹریفک کے حوالے سے بات ھو رھی تھی- ھم نے وہ زمانہ بھی د یکھا ھے جب میانوالی کے موجودہ لاری اڈے اور ٹرک اڈے کا نام ونشان بھی نہ تھا- نہر کے پار ضلع کچہری اور دوسرے سرکاری دفاتر تھے- شہزاد ھوٹل تو اس زمانے میں نہ تھا، البتہ گلوخیل قبیلے کی آبادی یہاں تھی- گلوخیل، وتہ خیل کی ایک معروف شاخ ھے- مرحوم ڈاکٹر شیر افگن خان، شہزاد ھوٹل کے مالک امان اللہ خان ، پروفیسر عطاءاللہ خان گلو خیل قبیلے کی اھم شخصیات ھیں- بہت سے نام اور بھی ھیں ، اس وقت ذھن میں یہی چند نام آسکے –

شہر کا کوئی ایک بس سٹینڈ نہ تھا- کچری بازار میں میانوالی ٹرانسپورٹ کمپنی ، تلہ گنگ بس سروس ، سرگودھا سے آنے جانے والی دوچار مسلم بس سروس اور راجپوت بس سروس کی بسوں کے الگ الگ اڈے ھؤا کرتے تھے- اسی علاقے میں جی ٹی ایس (گورنمنٹ ٹرانسورٹ سروس) کا اڈہ بھی تھا- دن بھر میں شہر میں آنے جانے والی بسوں کی تعداد پندرہ بیس سے زیادہ نہیں تھی— میانوالی سے لاھور اور راولپنڈی کوئی ڈائیریکٹ بس نہیں جاتی تھی- لاھور کے لیے سرگودھا ، اور پنڈی کےلیے تلہ گنگ سے بس ملتی تھی- اس خواری سے بچنے کے لیے اکثر لوگ لاھور اور پنڈی ریلوے ٹرین سے آتے جاتے تھے-

ٹرک سٹینڈ محلہ ابراھیم آباد میں ریلوے پھاٹک کے قریب ھوتا تھا- سب سے معروف ٹرک سروس حیات اللہ خان پنوں خیل کی ھوتی تھی-

اکا دکا کار تو شہر کی سڑکوں پر نظر آجاتی تھی، موٹرسائیکل، رکشا، چنگچی، کھوتا ریہڑی وغیرہ ابھی اس دنیا میں وارد نہیں ھوئے تھے- تانگے ھوتے تھے- وہ بھی دس بارہ سے زیادہ نہ تھے- لوگ سکون سے آجا سکتے تھے-

اب آبادی بڑھ گئی ھے، لیکن آمدنی بھی بڑھی ھے- خوشحالی بہت ھے، خوشی کم ، وجہ یہ ھے کہ ھم اپنی خوشحالی اپنے غریب رشتہ داروں اور ھمسائیوں کے ساتھ شیئر نہیں کرتے- بس اپنی جیبیں بھرنے کی فکر میں گھلتے رھتے ھیں—رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک –13 جون 2017

میرا میانوالی ———— 2

Image may contain: 8 people, people smiling, people sitting and text

ابھی کچھ دیر پہلے عارف بھٹی صاحب نے یہ پکچر بھیجی ھے، اس میں کچھ بچوں نے منہ پر کالک لگا رکھی ھے- دوبچوں نے گلے میں کپڑا باندھ کر جھولی سی بنا رکھی ھے- یہ بچے اللہ تعالی سے بارش مانگنے کے مشن پر گلیوں میں یہ نعرہ لگاتے پھر رھے ھیں

“کالی بکری ، کالا شینہ ، گھتو دانڑیں وسے مینہ —- اللہ اللہ او بی اللہ “

نعرے کا مطلب تو اللہ ھی جانے، بچپن میں یہ کام ھم بھی کیا کرتے تھے- توے کی کالک منہ پر لگا کر یہ نعرہ لگاتے ھوئے گلی گلی پھرا کرتے تھے- جس دروازے پر بھی جاتے مٹھی بھر گندم ، چنا ، باجرہ وغیرہ خیرات میں مل جاتا تھا-

منہ کالا کرنا اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار اور اپنے گناھوں کا اقرار سمجھا جاتا تھا- پورے محلے کا چکر لگانے کے بعد ھم خیرات کا سب مال ایک بڑے دیگچے میں ڈال کر ابال لیتے تھے- اسے گھنگھنیاں کہتے تھے- ھم یہ گھنگھنیاں جھولیوں میں بھر کر خود بھی کھاتے تھے اور راہ چلتے لوگوں کو بھی کھلاتے تھے- نعرہ مسلسل جاری رھتا تھا-

اللہ تعالی کا اپنا شیڈول ھے، بہرحال اسی دن یا ایک آدھ دن بعد بارش ضرور ھو جاتی تھی- رھے نام اللہ کا-منورعلی ملک –13 جون 2017

میرا میانوالی ————-

1980 تک میں اور میانوالی شہر ایک دوسرے کے لیے تقریبا اجنبی ھی رھے- داؤدخیل سکول سے میٹرک کے بعد میں بقیہ تعلیم کے لیے راولپنڈی چلاگیا- واپس ایا تو داؤدخیل سکول میں انگلش ٹیچر کی حیثیت سے عملی زندگی میں قدم رکھا- پھر بی ایڈ کے لیے لاھور چلا گیا۔ وھاں سے واپس آکر کچھ عرصہ مکڑوال سکول میں انگلش ٹیچر رھا- پھر ٹھٹھی سکول میں ھیڈماسٹر متعین ھؤا- وھاں ملازمت کے دوران سرکاری کاموں کے سلسلے میں کبھی کبھار میانوالی آتا جاتا رھا، مگر یہ آنا جانا زیادہ تر بس سٹینڈ سے ایجوکیشن آفس تک ھی محدود رھا- شہر کا چکر لگانے کا نہ شوق تھا، نہ ضرورت- کوئی جاننے والا ھی نہ تھا- کبھی کبھار گورنمنٹ ھائی سکول کے ھیڈماسٹر (اپنے جگر لالو نور خان قتالی خیل) سے ملنے کے لیے سکول کا چکر لگا لیتا تھا-

گورنمنٹ کالج میانوالی میں میرے پہلے دوست محمد اسلم خان نیازی لائبریرین تھے- ان سے یاری اس زمانے میں ھوئی جب میں ٹھٹھی سکول میں ھیڈماسٹر تھا- پروفیسر سرور نیازی سے دوستی بھی اسی زمانے میں ھوئی، موصوف اس وقت فیملی پلاننگ آفیسر تھے- سفید رنگ کی نئی نکور سرکاری جیپ پر ایک بزرگ معاون خاتون کے ھمراہ اس علاقےکا دورہ کیا کرتے تھے-

جب میرا تقرر عیسی خیل کالج میں ھؤا تو وھاں پروفیسر محمد سلیم احسن سے تعارف ھؤا- اسی دور میں گورنمنٹ کالج میانوالی میں شعبہ انگریزی کے پروفیسر صاحبان ، ملک سلطان محمود اعوان، محمد حنیف شاہ کاظمی سے بھی متعارف ھؤا- تب تک سرور خان نیازی بھی اسی کالج کے شعبہ انگریزی سے وابستہ ھو چکے تھے— پڑھنے لکھنے کے حوالے سے ڈاکٹر محمد اجمل نیازی بھی میرے بے تکلف دوست بن چکے تھے- کالج میں میری جان پہچان کادائرہ بس انہی چند حضرات تک محدود تھا-

اللہ کی ذات کے سوا کون جانتا تھا کہ آگے چل کر میری آدھی زندگی اسی شہر میں گذرے گی—– رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک –14 جون 2017

فیس بک سے دوستی —————-

Image may contain: 1 person

داؤدخیل کے سینیئر صحافی ضیاء نیازی صرف میرے فیس بک فرینڈ اور ھم وطن ھی نہیں، ان سے میرا ایک اور بھی بہت پیارا رشتہ ھے، جو تین نسلوں سے بحمداللہ اب تک برقرارھے- ضیاء امیرے خیل قبیلے کے اس خاندان سے تعلق رکھتے ھیں ، جسے میں اپنا خاندان سمجھتا ھوں- اور اس خاندان کے افراد بھی مجھے اپنا سمجھتے ھیں- اس تعلق کی کچھ تفصیل پچھلے سال مکڑوال کے بارے میں اپنی پوسٹس میں لکھ چکا ھوں، ان پوسٹس میں میں نے ماموں امیرقلم خان نیازی کا ذکر کیا تھا- وہ ضیاء کے داداابو تھے- ضیاء کے والد الحاج امان اللہ خان اور چچا ظفراللہ خان اس وقت پرائمری سکول میں پڑھتے تھے- دونوں میرے بہت پیارے چھوٹے بھائی ھیں-

میرا بچپن زیادہ تر اسی گھر میں گذرا جس میں ضیاء اس وقت رھتے ھیں- اس زمانے میں تو یہ تقریبا چار کنال پر محیط سادہ سا دیہاتی گھر تھا- بعد میں امان اللہ خان نے یہاں ایک عالیشان کوٹھی تعمیر کردی-

ماشاءاللہ، ضیاء اب داؤدخیل کے سینیئر صحافی ھیں- اخبارات میں داؤدخیل کی بہت خوب ترجمانی کر رھے ھیں- انہیں اپنے شہر سے والہانہ پیار ھے، اس کی تعمیر وترقی میں بھرپور دلچسپی اور حصہ لیتے ھیں- شہر کے مفاد کی خاطر سوشل ورک بھی کرتے ھیں- نوجوانی ھی میں داؤدخیل کی ایک معروف شخصیت شمار ھوتے ھیں-

ضیاء فیس بک کے معاملات میں مجھ سے بھرپور تعاون کرتے ھیں- داؤدخیل کی پکچرز اور معلومات کے لیے میں اکثر ان سے رابطہ کرتا ھوں- میری پوسٹس میں بہت سی یادگار پکچرز ضیاء ھی نے فراھم کی ھیں- اللہ انہیں سلامت رکھے—- سب سے اھم بات یہ کہ ضیاء بھی اپنے بزرگوں کی طرح مجھے اپنے خاندان کا فرد سمجھتے ھیں-منورعلی ملک –14 جون 2017

میرا میانوالی ——————–

13 جون ھمارے مہربان بزرگ شاعر جناب سالار نیازی کی برسی تھی- میں جب میانوالی میں ھوتا ھوں تو اس تقریب میں ضرور حاضری دیتا ھوں- تقریب سے ایک آدھ دن پہلے سالار نیازی مرحوم کے بڑے صاحبزادے امیر عبداللہ خان سالار نیازی فون پر مجھ سے رابطہ کر کے بڑے مان سے کہتے ھیں “پتریر، والد صاحب کی برسی میں شامل ھونا ھے“-

لفظ پتریر (چاچے دا جایا) داؤدخیل میں کسی کو پیار سے مخاطب کرنے کے لیے استعمال ھوتا تھا- اب پتہ نہیں ھوتا ھے یا نہیں- میانوالی میں شاید مسیری (خالہ زاد) کہتے ھیں- امیر عبداللہ خان سالار تو اس لحاظ سے بھی میرے پتریر ھیں کہ مرحوم سالار نیازی میرے والد محترم کے بہت پیارے دوست تھے- سالار صاحب کے تمام صاحبزادے مجھ سے بہت محبت کرتے ھیں- خالد جاوید خان ایڈووکیٹ اور ان کے چھوٹے بھائی طاھر سالار نیازی سے بھی اس تقریب میں ملاقات ھوجاتی ھے-

یہ تقریب باقاعدہ ھر سال شہزاد ھوٹل میں منعقد ھوتی ھے- تقریب کا اھتمام امیرعبداللہ خان سالار اور ان کے دونوں بھائی مل کر کرتے ھیں——— امیر عبداللہ خان سالار میانوالی کے ادبی اور ثقافتی حلقوں کی ایک بہت معروف شخصیت ھیں- بہت دلچسپ اور زندہ دل انسان ھیں- ادبی تقریبات میں سالار صاحب کی برجستہ جملے بازی سے ماحول بہت خوشگوار ھوجاتا ھے- لیکن کبھی کبھی سالار بے باکی سے کوئی ایسا سوال بھی پوچھ لیتے ھیں کہ انسان کے پاؤں تلے سے زمین سرک جاتی ھے-

اس دفعہ بھی سالار صاحب نے حسب معمول فون کرکے مجھے اپنے والد مکرم کی برسی میں شمولیت کی دعوت دی، مگر میں حاضر نہ ھو سکا – بہت دکھ ھؤا مگر انسان کے نصیب میں مجبوریاں بھی ھوتی ھیں-

انشاءاللہ کل کی پوسٹ میں مرحوم سالار نیازی کا مفصل ذکر ھوگا— آپ کو یہ بتانا چاھوں گا کہ وہ کتنے عظیم انسان تھے-

— رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک –15جون 2017

مرحوم محمد اشرف خان ————-

ھمارے قریبی رشتہ دار محمد اشرف خان ولد حاجی احمد خان نیازی پائی خیل قضائے الہی سے فوت ھو گئے ھیں- مرحوم بہت خوش اخلاق اور ملنسار نوجوان تھے- ان کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا فرمائیں- رمضان المبارک کے عشرہ مغفرت میں موت بہت معنی خیز ھے-  

Image may contain: 1 person
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ھی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

میرا میانوالی ————

میانوالی کے بزرگ ٹیچر اور شاعر وزیر خان سالار نیازی داؤدخیل کے معروف قبیلہ سالار خیل سے تعلق رکھتے تھے- ابتدائی تعلیم داؤدخیل میں مکمل کرنے کے بعد ٹیچر کی حیثیت میں محکمہ تعلیم سے وابستہ ھو گئے- ملازمت کے آغاز میں بہت عرصہ ضلع اٹک کے سکولوں میں متعین رھے- گورنمنٹ ھائی سکول حسن ابدال سے اپنی خواھش پر ٹرانسفر ھوکر گورنمنٹ ھائی سکول میانوالی آگئے- یہاں علمی اور ادبی حلقوں میں بہت مشہورومعروف شخصیت شمار ھوتے تھے- شرر صہبائی اور انجم جعفری سکول میں ان کے سٹوڈنٹ رھے- ادب کی دنیا میں وارد ھونے کے بعد انہوں نے اپنے استاد محترم کو اپنی ادبی تنظیم کا سرپرست مقرر کر دیا- یوں مرحوم سالار نیازی تقریبا تیس سال میانوالی میں ادب کے قافلہ سالار رھے-

سالار نیازی صاحب نظم کے شاعر تھے- وہ بہت پرجوش نظریاتی قومی شاعری کرتے تھے- اسلام اور پاکستان سے ان کی وابستگی غیر مشروط تھی- بہت دلیری سے کلمہ حق شاعری میں بھی کہتے رھے، عملی زندگی میں بھی- اسلام اور پاکستان کے خلاف ذرا سی بات بھی برداشت نہیں کرتے تھے-

اگرچہ ملازمت کے سلسلے میں سالار صاحب ھمیشہ داؤدخیل سے باھر رھے- میانوالی کی وانڈھی روشن والی میں گھر بھی بنا لیا، لیکن داؤدخیل سے ان کی وابستگی آخردم تک رھی- اپنے قبیلے کے دکھ سکھ میں باقاعدہ شریک ھوتے رھے-

ریٹائرمنٹ کے بعد سالار صاحب زیادہ تر ضلع کچہری میں اپنے دوست سیدامیر خان وتہ خیل آیڈووکیٹ کے چیمبر میں بیٹھا کرتے تھے- ظہر کی نماز کے بعد شہر میں جاکر شام تک اپنے ادبی دوستوں کی محفلوں کی زینت بنے رھتے تھے-

سالار صاحب کو نماز سے عشق تھا- ھمیشہ باجماعت نماز ادا کرتے تھے- مشاعروں کے دوران جونہی کسی مسجد سے اذان کی آواز بلند ھوتی، سالار صاحب مشاعرہ چھوڑ کر مسجد کو روانہ ھو جاتے- اس اصول پر انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہ کیا-

سالار صاحب زیادہ تر نمازیں میانوالی کچہری پل کے قریب واقع مسجد میں ادا کرتے تھے- ایک دن مغرب کی نماز ادا کرکے نکلے تو دائیں طرف سے آنے والی ایک تیز رفتار کوچ کی زد میں آکر جاں بحق ھوگئے- کیا خوبصورت موت تھی،——– نماز پڑھ کر نکلے، موت منتظر تھی، گاڑی کی ٹکر لگی، گر گئے ، زباں پہ آخری الفاظ یہ تھے ————– “لآ الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ — رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک –17 جون 2017

کعبہ میں ولادت ، تربیت آغوش پیمبر میں پائی
مسجدمیں علی منبر پہ علی میداں میں علی بستر پہ علی

میرا میانوالی ————–

میں 30 دسمبر 1980 کو گورنمنٹ کالج میانوالی کے انگلش ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ھؤا- گورنمنٹ کالج عیسی خیل سے یہاں ٹرانسفر میں نے خود کرایا- اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے بہتر سہولیات ، زندگی کی بہتر آسائشوں اور ادبی ماحول کی کشش مجھے یہاں لے آئی- ملازمت کے بقیہ 20 سال میں نے یہیں بسر کیے- اللہ کے فضل و کرم سے یہاں جو محبت اور عزت مجھے ملی ، اس نے مجھے پابند کر دیا , ورنہ ایک آدھ سال بعد کہیں اور چلا جاتا-

میں کیسا ٹیچر تھا، یہ تو میرے سٹوڈنٹ ھی بتا سکتے ھیں، بہر حال اللہ نے عزت رکھ لی، پہلے ھی سال انٹرمیڈیئٹ کے امتحان میں میری کلاس کا انگلش کا ریزلٹ 90 فی صد رھا- اس کلاس میں آج کے ایم پی اے ڈاکٹر صلاح الدین خان بھی تھے- بلوخیل کے ایک نوجون جہانزیب نیازی بھی تھے- میانہ محلہ کے محمود تھے- اس وقت 80 میں سے صرف یہی نام یاد آرھے ھیں- وہ اس لیےکہ ڈاکٹر صلاح الدین خان اور محمود میرے بیٹے کے دوست تھے- جہانزیب خان ذرا سا شرارتی تھا- ایک دن میں نے پیار سے سمجھا دیا تو اچھا بچہ بن گیا- باقی لوگ بھی جہاں جہاں ھیں، اللہ ان کا حامی و ناصر ھو-

گورنمنٹ کالج میانوالی میں اپنے قیام کے بارے میں بیشتر باتیں پچھلے سال کی پوسٹس میں بتا چکا ھوں-

اپنے قریبی دوستوں کا ذکر بھی کر دیا تھا- کچھ واقعات اور شخصیات کا ذکر اس وقت رہ گیا تھا- انشاءاللہ آئندہ پوسٹس میں وہ بھی کردوں گا- اور بھی بہت سی باتیں ھیں—رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک -18 جون 2017

میرا پاکستان ——————– الحمدللہ

میں کرکٹ کا شوقین ھوں ، دیوانہ نہیں- چیمپیئنز ٹرافی کے میں نے صرف دو میچ دیکھے- پاکستان اور بھارت کا پہلا میچ ، اور پھر کل کا فائینل- سچی بات یہ ھے پہلا میچ تو صرف آدھا ھی دیکھ سکا- پورا میچ دیکھنے کی ھمت نہ کر سکا-

کل کا میچ میں نے بہت زیادہ دلچسپی سے دیکھا- اس کی ایک خاص وجہ بھی تھی- میچ سے دوتین گھنٹے پہلے کسی ٹی وی چینل پر یہ منظر دیکھا کہ بھارت میں کچھ لوگ اپنے بتوں کے آگے ھاتھ جوڑ کر اپنی ٹیم کی فتح کے لیے دعائیں کر رھے تھے- یہ منظر دیکھ کر ایک صاحب ایمان شاعر کی دعائیہ نظم کا یہ شعر یاد آگیا ، جس میں شاعر اللہ تعالی سے کہتا ھے —–

حق پرستوں کی اگر کی تو نے دلجوئی نہیں

طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں

کچھ ایسی ھی صورت حال ٹیم کے اندر بن گئی تھی- تبدیلی ٹیم کے دلوں میں آئی تھی- اپنے کیریئر کی پہلی سنچری مکمل کرنے پر فخر پاکستان ، فخرزمان کا سجدہ اور میچ کے اختتام پر پوری ٹیم کا اجتماعی سجدہ اس بات کا ثبوت تھا کہ مدد اوپر سے ھوئی ھے- مکمل اعتماد سے بیٹنگ ، باؤلنگ اور فیلڈنگ کا جو مظاھرہ کل دیکھنے میں آیا ، اس کے حوالے سے بھارتی کپتان بھی کہہ رھا تھا کہ پاکستان نے ھمیں ھر شعبے میں شکست دی —

میچ کے دوران کہیں بھی ھماری ٹیم کے کسی کھلاڑی نے خوف یا گھبراھٹ کا مظاھرہ نہیں کیا ——– ایسا سکون اور اعتماد صرف ایمان ھی سے حاصل ھوتا ھے-

ٹیم کا یہ جذبہ برقرار رھا تو انشاءاللہ اگلا ورلڈ کپ بھی ھمارا ھے——– رھے نام اللہ کا —منورعلی ملک –19 جون 2017

میرا میانوالی ————-

گورنمنٹ کالج میانوالی میں آنے سے پہلے یہاں کے جن لوگوں سے میری علیک علیک تھی، ان میں ڈاکٹر محمد اجمل نیازی بھی تھے- ان سے یاری اس وقت ھوئی جب وہ ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد کے ھمراہ عیسی خیل آئے- نام پہلے بھی بہت سنا تھا ، ملاقات اور دوستی ان کی عیسی خیل آمد کے بعد ھوئی- ویسے وہ لالا عیسی خیلوی کے حوالے سے مجھے کچھ نہ کچھ پہلے ھی سے جانتے تھے-

ڈاکٹر اجمل اس وقت گورنمنٹ کالج میانوالی میں شعبہ اردو کے پروفیسر تھے- بہت زندہ دل اور مقبول شخصیت اس وقت بھی تھے آج بھی ھیں- بہت پہلودار انسان ھیں ، اس لیے ان کا تعارف ایک پوسٹ میں نہیں سما سکے گا-

میانوالی میں ڈاکٹراجمل کا زیادہ تر وقت مرحوم پروفیسر محمد فیروز شاہ کے ساتھ گذرتا تھا- محمدفیروز شاہ اس زمانے میں ایم سی ھائی سکول میانوالی میں ٹیچر تھے- ڈاکٹراجمل اور محمد فیروز شاہ نظم و نثر میں ایک نئے اسلوب کے بانی تھے- یہ خوبصورت اسلوب ان کی پہچان بن گیا—- پروفیسر محمد فیروز شاہ کو شاعر اور ادیب کی حیثیت میں قومی سظح پر ڈاکٹر صاحب ھی نے معاترف کرایا-

اس زمانے میں موٹرسائیکل نہیں ھوتی تھی- اس لیے ڈاکٹر اجمل اور محمد فیروزشاہ ، شاہ جی کی سائیکل پر رواں دواں رھتے تھے—- اسی سائیکل پردونوں کالج سے محمد فیروز شاہ کے گھر آتے، اور کچھ دیر بعد اسی سائیکل پر محمد فیروزشاہ ڈاکڑ صاحب کو لاری اڈہ لے جاتے، اڈے سے ڈاکٹر صاحب موسی خیل کی بس پکڑ کر گھر کو روانہ ھو جاتے-

ایک فارسی شاعر نے کہا تھا —–

خدا شرے بر انگیزد کہ خیرما درآں باشد

(اللہ تعالی بعض اوقت ھمیں فائدہ پہنچانے کے لیے کسی مصیبت میں مبتلا کر دیتا ھے)

ڈاکٹڑ اجمل کے ساتھ یہی ھؤا- جنرل ضیاء کے دور میں پی پی پی سے وابستگی کے الزام میں ملک بھر میں ٹیچرز کی جو اکھاڑ پچھاڑ ھوئی، ڈاکٹر اجمل بھی اس کی زد میں آکر گورنمنٹ کالج سمندری جا گرے- دلچسپ بات یہ ھے کہ ان کا پی پی پی سے دور کا واسطہ بھی نہ تھا- بہر حال یہ ٹرانسفر ڈاکٹر صاحب کو وارے میں رھا- پہلی ھی اڑان میں سمندری سے لاھور جا پہنچے – کچھ باتیں انشاءاللہ کل ھوں گی- منورعلی ملک –20 جون 2017

میرا میانوالی ————-

Image may contain: 1 person, standing and beard

گورنمنٹ کالج میانوالی میں میری آمد پر ڈاکٹر محمد اجمل نیازی نے ایک استقبالیہ تقریب کا اھتمام کیا- مجھ سے بہت پہلے شاعر کی حیثیت میں میرا تعارف لالا عیسی خیلوی کے کیسیٹس کے ذریعے یہاں پہنچ چکا تھا- میری بقیہ خوبیوں خامیوں کا کسی کو کچھ پتہ نہ تھا- اس لیے تقریب میں مجھ سے زیادہ تر سوالات میری شاعری اور لالا سے دوستی کے حوالے سے پوچھے گئے-

فلاسفی کے پروفیسر (مرحوم) نذیر احمد خان نے کہا “ملک صاحب ، ھم نے سنا ھے لالا عیسی خیلوی کو کوئی چوٹ لگی تھی جس نے اسے اتنا بڑا فن کار بنا دیا- آپ ھمیں اس چوٹ کے بارے میں بتائیں “ –

میں نے کہا میرے بھائی، آپ یہ بتائیں ، کیا آپ کو کبھی کوئی چوٹ نہیں لگی ؟“

شرما کر بولے وہ تو خیر لگی تھی، آپ ھمیں لالا عیسی خیلوی کی چوٹ کے بارے میں بتائیں-

میں نےکہا بھائی صاحب اگر چوٹوں سے انسان عطاءاللہ خان عیسی خیلوی بن سکتا تو ھماری آدھی سے زیادہ قوم عطاءاللہ خان عیسی خیلوی ھوتی-“

قہقہوں کی گونج میں سب سے نمایاں قہقہہ ڈاکٹر اجمل کا تھا، کیونکہ میری طرح یہ بھی چوٹ پروف ھیں-

گورنمنٹ کالج میانوالی میں قیام کے دوران ڈاکٹر اجمل نیازی چکڑالہ کے مشہور صوفی بزرگ اللہ یار خان سے اکتساب فیض کرتے رھے- ان کے ھاں ذکر کی محفلوں میں باقاعدہ شریک ھوتے تھے- اللہ جل شانہ کے ذکر سے ڈاکٹراجمل کی نیازی کی شخصیت میں جلال و جمال کا حسین امتزاج پیدا ھؤا – یہی امتزاج ھر میدان میں ان کی کامیابی کا وسیلہ بن گیا-

صحافی، شاعر، ادیب اور ٹی وی کے اینکر پرسن کی حیثیت میں ڈاکٹر اجمل نیازی کے بارے میں کچھ باتیں انشاءاللہ کل ھوں گی-منورعلی ملک –21 جون 2017

وارد ھوئے خانہ کعبہ میں ، مسجد میں شہادت بھی پائی
جوآنکھ اللہ کے گھر میں کھلی، اللہ کے گھر میں بند ھوئی

میرا میانوالی ————–

Image may contain: 1 person, beard and hat

ڈاکٹر محمداجمل نیازی راوین ھیں- انہوں نے اعلی تعلیم گورنمنٹ کالج لاھور سے حاصل کی- گورنمنٹ کالج لاھور کے ادبی مجلہ (میگزین) “راوی“ کے ایڈیٹر بھی رھے- گورنمنٹ کالج میانوالی کے کالج میگزین “سہیل “ کے نگران مقرر ھوئے تو یہاں بھی انہوں نے “راوی“ کی روایت پرعمل کرتے ھوئے کالج میگزین کو ایک مکمل ادبی جریدہ بنا دیا- اس دور کے بہت سے نامور شاعروں اورادیبوں کی تحریریں “سہیل“ میں شائع ھوتی رھیں-

ڈاکٹر اجمل نیازی کو گورنمنٹ کالج لاھور میں تعلیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ھؤا کہ تمام بڑے شاعروں اور ادیبوں سے ان کا تعارف ھوگیا- تعارف کو یاری میں تبدیل کرنا میانوالی کے لوگوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ھوتا- ڈاکٹر صاحب لاھور میں اس وقت موجود تمام اھل قلم کے یار بن گئے- عطاءالحق قاسمی اور امجد اسلام امجد تو ان کے کالج فیلو یا شاید کلاس فیلو رھے- اس لیئے یہ دونوں حضرات ڈاکٹر اجمل کے خاصے بے تکلف دوست ھیں–بہت سے اور نامور لوگ بھی ھیں-

میانوالی میں قیام کے دوران ڈاکٹر اجمل نیازی کا ایک اھم علمی و ادبی کارنامہ میانوالی کے نئے پرانے شعراء کے تعارف پر مشتمل کتاب “جل تھل“ کی صورت میں منظرعام پر آیا- اس کتاب میں ھرشاعر کے کلام کا نمونہ بھی شامل ھے- مگر ڈاکٹر اجمل نے ھر شاعر کا جو تعارف لکھا ھے، وہ اپنی جگہ ایک خوبصورت ادب پارہ ھے- تنقیدی بصیرت اور خوبصورت نثر نگاری کا ایسا حسین امتزاج بہت کم دیکھنے میں آتا ھے-

ڈاکٹر صاحب میرے بہت پیارے دوست ھیں- جب بھی فون پر رابطہ ھوتا ھے، کہتے ھیں “یار ، تمہارے لیے میرے دل میں ایک خاص گوشہ ھے“-

کبھی ملے تو اس گوشے میں جھانک کر دیکھوں گا کہ وھاں کیا کچھ سجا رکھا ھے حضرت نے میرے لیے———– رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک –22 جون 2017———

آپ کا دل ، اور ھم توڑیں گے ؟
کیاھم ایسا کرسکتے ھیں ؟؟

میرا میانوالی ——————-

مرحوم رانا اقبال احمد خان شرر صہبائی میانوالی میں ادبی تنظیم سازی کی تاریخ میں آیک تاریخ ساز شخصیت تھے- ادبی تنظیمیں ادب کی نرسریاں ھوتی ھیں جو نوآموز اھل قلم کی تربیت گاہ بھی ھوتی ھیں، انہیں اپنی تخلیقات منظرعام پر لانے کے لیے پلیٹ فارم بھی مہیا کرتی ھیں، اور روایات کی امین بھی ھوتی ھیں-

تنظیم سازی کے حوالے سے مرحوم شررصہبائی کی خدمات ھماری ثقافتی تاریخ کا ایک اھم باب ھیں- شرر صہبائی شاعر بھی تھے، صحافی بھی- شاعری کی صلاحیت تو خداداد تھی، صحافت کی تربیت انہوں نے میانوالی کے نامور صحافی عبدالحمید خان نیازی سے حاصل کی- 

ان کی شاعری کی یادگار ایک ھی کتاب ھے- شرر صاحب کی ھربات منفرد ھوتی تھی- اپنی شاعری کے اکلوتے مجموعے کا نام انہوں نے “بے نام“ رکھا—- غزل بھی بہت اچھی لکھتے تھے لیکن ان کا اصل میدان نظم تھا- زیادہ تر قومی شاعری کی،- کچھ نظمیں ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی لکھیں- ان میں اپنی اھلیہ کی وفات پر لکھی ھوئی ان کی نظم جب بھی پڑھیں بے اختیار آنکھیں بھیگ جائیں گی- اس نظم کا یہ شعر تو ضرب المثل بن چکا ھے-

تم کو لازم ھےادب کاندھا بدلنے والو

یہ مرے پیار کی میت بھی ھے بارات بھی ھے

—— تھک گیا ھوں- باقی باتیں انشاءاللہ کل ھوں گی ————- رھے نام اللہ کا —منورعلی ملک –23 جون 2017

عزیز دوستو، السلام علیکم ورحمتہ اللہ —–

عید کی شاپنگ زوروشور سے جاری ھے- بازار رات گئے تک کھلے رھتے ھیں- آپ لوگ بھی یقینا شاپنگ میں مشغول ھوں گے- اس موقع پر یہ کہنا ضروری سمجھتا ھوں کہ اپنے لیے شاپنگ کرتے وقت کچھ نہ کچھ دوسروں کے لیے بھی ضرور خریدلیں- سب سے پہلا حق والدین کا ھے، اس کے بعد غریب رشتہ داروں ، غریب ھمسایوں، بالخصوص یتیموں کا—– یقین کریں جتنا آپ مستحق لوگوں کو دیں گے، اللہ اس سے کئی گنا زیادہ آپ کو اور دے دے گا-

خاص طور پر اپنی بیٹیوں سے یہ گذارش کرنا ضروری سمجھتا ھوں کہ اپنے لیے اور اپنی سہیلیوں کے لیے گفٹس خریدتے وقت پڑوس کی یتیم اور غریب بچیوں کے لیے بھی کچھ نہ کچھ ضرور خرید لیں ، بہتر تو ھے کپڑوں کا ایک آدھ جوڑآ، یا کم ازکم ایک آدھ کون مہندی، چوڑیاں یا پونیاں ھی خرید لیں- اللہ نے آپ کو جوکچھ دیاھے، تھؤڑا ھے یا بہت شیئر ضرور کریں-

یہ باتیں آپ سب لوگ پہلے ھی جانتے ھیں ، بہت سے لوگ ان پر عمل بھی کرتے ھوں گے- میں اس ٰخیال (خوش فہمی ؟؟؟) کی بنا پر یہ باتیں کہنا ضروری سمجھتا ھوں کہ آپ میری بات مانتے ھیں—منورعلی ملک –23 جون 2017

میرا میانوالی ——————-

میانوالی میں شعروسخن کے فروغ کے لیے مرحوم شرر صہبائی کی خدمات ناقابل فراموش ھیں- مرحوم انجم جعفری کے ساتھ مل کر انہوں نے میانوالی میں کئی یادگار مشاعرے منعقد کیے- ایک مشاعرے میں جناب احسان دانش بھی یہاں تشریف لائے تھے- عطاءالحق قاسمی اور امجداسلام امجد بھی ان کے ھمراہ تھے-

فاروق روکھڑی، پروفیسر گلزار بخاری اور میں ایک ساتھ وادئی سخن میں وارد ھوئے- ھمیں بھی جناب شرر صہبائی نے اپنے ھاں مشاعروں کی وساطت سے منظرعام پر متعارف کرایا- مرحوم سلمان آختر، تاج محمد تاج ، میاں نعیم، اسلم ظفر سنبل اور کئی دوسرے شعراء بھی مرحوم شرر صہبائی کے حلقہ احباب میں شامل ھو کر ضلع بھر میں متعارف ھوئے-

صحافت میں شرر صہبائی کا ایک اپنا انداز تھا- بہت دلیر اور بے باک صحافی تھے- اپنی صاف گوئی کی وجہ سے قیدوبند اور کئی دوسری مصیبتیں برداشت کرنی پڑیں، مگر شرر نے یہ سب کچھ ہنس کر برداشت کر لیا- صحافت کے حوالے سےوہ آج بھی روزنامہ “نوائے شرر“ کے روپ میں ھمارے درمیان موجود ھیں- ان کے صاحبزادے رانا امجد اقبال اور ان کے بھائیوں نے اس اخبار کی وساطت سے اپنے والد محترم کا نام جس طرح زندہ رکھا ھؤا ھے، یہ ایک قابل تقلید مثال ھے-

شرر بھائی بہت زندہ دل تھے- اپنے استاد محترم مرحوم سالار نیازی سے ان کی چھیڑ چھاڑ بہت دلچسپ ھوتی تھی- ایک دفعہ سالار صاحب بیمار پڑگئے- گھر پہ ڈاکٹر کے علاج سے افاقہ نہ ھؤا تو شرر صاحب نے ان کی منت خوشامد کر کے انہیں ھسپتال میں داخل کروا دیا–

ایک دن ھم سالار صاحب کی عیادت کے لیے ھسپتال گئے، تو شرر بھی وھاں بیٹھے تھے- ھنس کر کہنے لگے “ بھائی میں نے تو اپنی طرف سے استاد محترم کا پکا بندوبست کردیاھے- ڈاکٹرصاحبان سے بھی بات ھو گئی ھے— اب اگر یہ یہاں سے زندہ بچ نکلیں تو اللہ کی مرضی-“

سالار صاحب نے قہقہہ لگا کر کہا “ دیکھ لو، کتنا منافق ھے میرا یہ شاگرد“ —– شرراور ھم سب دیر تک اس بات پر قہقہے لگاتے رھے—

کیا خوش مزاج لوگ تھے——!!!—— رھے نام اللہ کا –منورعلی ملک –24 جون 2017

عزیز دوستو، السلام علیکم ورحمتہ اللہ ———–

عید شاپنگ کے حوالے سے میری کل کی پوسٹ پر آپ کے لائیکس اور کمنٹس دیکھ کر دل خوش ھو گیا- بہت سے دوستوں نے میری تجویز کا خیر مقدم کرتے ھوئے اس پر عمل کا وعدہ کیا- اللہ آپ سب کو بے حساب جزائے خیر عطا فرمائے-

کل کی پوسٹ کے بعد آج اسی موضوع پر دوسری پوسٹ لکھنا اس لیے ضروری سمجھا کہ کہتے ھیں کسی کو کوئی نیکی کرتے دیکھو تو لوگوں کو ضرور بتاؤ تاکہ ان کو بھی نیکی کرنے کی ترغیب ملے-

آج بتانا یہ ھے کہ میرے نہایت محترم بھائی معروف تاجر اور سیاسی رھنما مرحوم ملک عنایت اللہ اعوان کے صاحبزادے ملک اسد اعوان نے میری کل کی پوسٹ پر کمنٹ میں یہ اعلان کیا ھے کہ وہ آج سے چاند رات تک اپنے جنرل سٹور (امانت جنرل سٹور مسلم بازار میانوالی) سے اپنی مستحق بہنوں کو مفت مہندی فراھم کریں گے- اللہ انہیں اس نیک عمل کا اجر خیر عطا فرمائے-

میرے بیٹے پروفیسر امجد علی ملک کی بچی علیزہ Class Five کی سٹوڈنٹ ھے- اس نے آج صبح مجھ سے کہا “ دادو، اس عید پر میں عیدی نہیں لوں گی- میری عیدی آپ غریبوں کو دے دیں “—– صرف یہی نہیں علیزہ بیٹی نے اپنے جو پیسے بچا رکھے تھے، ان سے اپنی غریب سہیلیوں کو گفٹ بھی لے کر دے دئیے-

کیا یہ ممکن ھے کہ ھم سب اس عید کو غریبوں کی عید بنادیں —– ؟؟؟ ——- اللہ کرے –منورعلی ملک –24 جون 2017

یادیں – – – – – – –
آج کے بعد تو بے شک مجھے پھر یاد نہ کر
روٹھنے والے مری عید تو برباد نہ کر

منورعلی ملک –25جون 2017

عزیز دوستو، السلام علیکم ورحمتہ اللہ —-

عید کے موقع پر میری پوسٹس پر لائیکس، کمنٹس، فیس بک میسیجز اور موبائیل فون ایس ایم ایس کی صورت میں آپ کا اظہار محبت میرے لیے بہت بڑااعزاز ھے- اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں ‘ کم ھے کہ اس رب کریم نے مجھے آپ جیسے بے لوث ساتھی عطا فرمائے- اللہ کریم آپ کو بے حساب اجر خیر عطا فرمائے- بے شمار دعائیہ پیغامات موصول ھوئے- تین دن تک سب کو فردا فردا جواب دینے کی کوشش کرتا رھا،– عید کی مصروفیات اورفیملی کے مہمانوں کی آمدورفت مسلسل جاری ھے- جن دوستوں کو جواب نہ دے سکا ان سے معذرت – ضمیرکو مطمئن کرنے کے لیے اس پوسٹ کے ذریعے سب کا شکریہ ادا کررھا ھوں-

عید کے تین دن تو ھم سب مصروف ھوں گے، اس کے بعد پھر وھی ھم ھوں گے اور وھی وطن عزیز کی گلیاں- “میرا میانوالی“ کے عنوان سے حسب معمول آپ کو بہت سی گلیوں کے چکر لگواؤں گا , اور بہت سے پیارے پیارے لوگوں سے بھی ملواؤں گا، انشاءاللہ—-منورعلی ملک –26 جون 2017

یادیں ————

Image may contain: one or more people and outdoor

آج سے 20 / 25 سال پہلے تک ھرسال آج کے دن (عیدالفطر سے تیسرے دن) یہی حال ھوتا تھا لاھور سے ماڑی انڈس آنے والی ٹرین کا —– انجن بھی نظر نہیں آتا تھا، کیونکہ اس سے بھی لوگ مکھیوں کی طرح چمٹے ھوتے تھے- بھکر سے لے کر داؤدخیل تک ‘ بلکہ ضلع کے ھرکونےسے ھزاروں لوگ اس دن ماڑی انڈس ریلوے سٹیشن کے قریب دریا کے کنارے پیر شاہ گل حسن کے میلے پر موج میلہ کرنے کے لیے آتے تھے—- اس میلے پر مفصل پوسٹ پچھلے سال لکھ چکا ھوں- ریڈیو پاکستان میانوالی کے رسالے میں ایک مضمون بھی لکھا تھا———- اب تو وہ کلچر ھی باقی نہیں رھا —- گردونواح کے کچھ لوگ وھاں حاضری دے کر رسم نمٹا دیتے ھیں —- رھے نام اللہ کا —منورعلی ملک –28 جون 2017

یا د یں ——— 2015 کی ایک پوسٹ

Image may contain: 3 people, people sitting and indoor

ایک دن میں نے لالا عیسی خیلوی سے کہا “یار ، یہ درد کا سفیر لکھ کر تو میں مصیبت میں پھنس گیا- جو بھی ملتا ھے پوچھتا ھے اگلا ایڈیشن کب آ رھا ھے —- ھر نئے ایڈیشن میں کچھ اضافہ بھی کرنا پڑتا ھے– میرے پاس اتنا فارغ وقت کہاں ھے کہ ——

“ پنگا لے جو لیا ھے تو اب لکھتے رھو“- لالا نے ھنس کر کہا

“ ٹھیک ھے “ میں نے کہا “ لکھتا رھوں گا ، مگر—– جا میکدے سے میری جوانی اٹھا کے لا “— رھے نام اللہ کا

منورعلی ملک –29 جون 2017

میرا میانوالی ——–

— اک چراغ اور بجھا ، اور بڑھی تاریکی

آج صبح اخبار میں معروف ماھر تعلیم شیر عباس خان غورنی کی وفات کی خبر دیکھ کر دل بجھ سا گیا- ابھی پچھلے دنوں میری ایک پوسٹ پر کمنٹ میں ایک دوست نے ان کا ذکر کیا تو میں نے جواب میں کہا تھا کہ شیر عباس خان میرے بہت پیارے بھائی ھیں ، ان کے بارے میں انشاءاللہ عنقریب پوسٹ لکھوں گا- کیا خبر تھی کہ میری پوسٹ ان کی نظر سے کبھی نہ گذر سکے گی-

1960-1970 کے دوران سینیئر انگلش ٹیچرز کا جو گروپ ضلع میانوالی کے مختلف سکولوں میں متعین ھؤا اس میں میر ے ساتھ لالو نورخان قتالی خیل، چھدرو کے محمد شیر خان، موسی خیل کے محمد عظیم خان اور شیر عباس خان غورنی پر مشتمل پانچ افراد اپنی جگہ ایک الگ گروپ تھے- ھم آپس میں بہت بے تکلف دوست تھے- سب ایک دوسرے کو لالا کہتے تھے- بھائی نورخان قتالی خیل سب کو لالو کہتے تھے اور ھم بھی انہیں لالو ھی کہتےتھے-

شیر عباس خان بہت وجیہہ شخصیت تھے- سرخ و سفید رنگت، چھ فٹ سے نکلتا ھؤا قد ، بھری ھوئی سیفد داڑھی، بھاری بھرکم مردانہ آواز، مرحوم مولانا عبدالستارخان نیازی جیسی باوقار وجاھت والے شیرعباس خان نیازی ایک بہت منفرد شخصیت تھے- یاروں کے یار، دوستوں کی خدمت کے لیے ھر وقت تیار، اپنی پسند ناپسند کا بلند آواز میں اظہار ان کی نمایاں خصوصیات تھیں- بہت باغ وبہار مزاج والے زندہ دل انسان تھے — اور بہت کامیاب سکول ایڈمنسٹریٹر بھی تھے-

جب شیر عباس خان گورنمنٹ ھائی سکول کلری میں ھیڈماسٹر تھے تو میری بیٹی وھاں کے گرلز سکول میں ٹیچر کی حیثیت میں متعین ھوئی- میں نے لالا شیر عباس خان کو پیغام بھیجا کہ بیٹی کا خیال رکھنا ھے- شیرعباس خان بچی کے ھمراہ خود گرلز سکول گئے اورھیڈمسٹریس صاحبہ سے کہا “یہ میری بیٹی طاھرہ ھیں- ان کا ھر طرح سے خیال رکھنا ھے- اس علاقے میں ٹریفک کا مسئلہ رھتا ھے- کبھی یہ سکول نہ آسکیں ، تو آپ نے ان سے باز پرس نہیں کرنی “-

لالا شیر عباس خان کا یہ اندازگفتگو درخواست نہیں حکم جیسا لگ رھا ھے- ان کا انداز ھی یہی تھا ——- بہت مخلص بھائی تھے ھمارے- اللہ ان کی مغفرت فرما کر اپنی رحمت کا سایہ نصیب فرمائے-

——- رھے نام اللہ کا —–منورعلی ملک –30 جون 2017

Your words for Mianwali and Mianwalians