سیاحت کے لئے میانوالی میں پھیل جائیں۔
تحریر: قمرالحسن بھروں زادہ
میانوالی چونکہ مختلف پہاڑی سلسلوں، چار دریاؤں، کئی ثقافتوں، بہت سی زبانوں، لاتعداد برساتی نالوں، بےشمار زمینی خدوخال کا سنگم ہے تو یہاں سیاحت سے جڑی تمام اصطلاحات پکنک، ٹریکنگ، کیمپنگ، ہائیکنگ، بوٹنگ، فشنگ، ہنٹنگ، رائڈنگ، بائیکنگ ، اوپن کوکنگ اور سوئمنگ بدرجہ اتم دستیاب ہیں۔ بس آپ ہر سال نئی اختراع نکالیں اور عید کو نئے رنگ سے منائیں۔ میانوالی بہت خوب صورت ہے اگر آپ باہر نہیں بھی جانا چاہتے تو عید الفطر کے موقع پہ میانوالی میں ہی مختلف سیاحتی دلچسپی کے مقامات کی طرف پھیل جائیں۔
میں آپ کو اپنی مثال دوں کہ چشمہ بیراج و جھیلوں کے کنارے پہ رہائش پذیر ہونے کے باوجود عید الفطر کے موقع پہ پورے بیس سال بعد دوبارہ چشمہ بیراج پہ گیا ہوں۔
دوران سیاحت زندگی کی حفاظت، محفوظ گھر لوٹنے اور اخلاقی اقدار کی سلامتی کو پہلی ترجیح دیں۔ پھر جیب کو بھی حتی الوسیع ملحوظ خاطر رکھیں۔ آئیں مل کر تھوڑا سا جائزہ لے لیتے ہیں۔
چشمہ
کندیاں شہر کے کنارے سے کوہِ خیسور تک پھیلی نیلگوں پانیوں کی جھیل ، جھیلوں کو تقسیم کرتے جزیرہ نما بند، جھیلوں کے درمیاں بہتا سندھ دریا، دریا میں بنے خشکی کے پاٹ، دریا کے آگے چٹان بن کر کھڑا بیراج، بیراج سے بہتے پانیوں کا شور، بیراج سے شرقاً غرباً چنگھاڑتی دریا نما نہریں، نہروں اور جھیل کے درمیاں حدِ فاصل میانوالی ڈیرہ اسماعیل خان سڑک، بائیں جھیل کے کونے پہ جدید طرز کا گرین لیگون ریسٹورنٹ تو دائیں جھیل کے کونے میں چشمہ فیملی پارک اور ہر طرف پانی کی روانی اور روانی میں کشتی رانی تو زندگانی میں اور کیا چاہیے۔ وقت بچ جائے تو ایک نماز خانقاہ سراجیہ کی تاریخی مسجد، مسجد خانقاہ سراجیہ میں ادا کیجئے۔
کالاباغ
میانوالی کا سوئزر لینڈ، ہزاروں میل پہاڑی گھاٹیوں اور تنگ راستوں میں طے کر کے آنے والے شیر دریا کو میدانوں کی کشادگی میں خوش آمدید کہنے والا کالاباغ اور ایسی کشادگی کہ پھر دریائے سندھ کے پاٹ کو بحیرہ عرب تک کوئی مائی کا لعل تنگ نہ کر سکے، کوہِ نمک کی تہوں میں سرایت کر جانے والی نمک کی کانیں، ماڑی انڈس کی پہاڑی کی چوٹی سے دریا کو جھانکتی تاریخ، وکٹورین طرزِ تعمیر کا شاہکار ریلوے پل، دریاۓ سندھ کے شکم میں لہراتا علم عباس، پرانی ماڑی سے وانڈھا ککڑانوالہ تک جاتی کشتیاں، دریا کنارے نامی خوبصورت ترین پکنک ریزارٹ، کالاباغ کے تاریخی بازار سے خریداری، کالاباغ کی تنگ گلیاں، تنگ گلیوں پہ سائیہ فگن سلاگر کا پہاڑ، اور جناح بیراج، جناح بیراج سے نکلتی تھل کینال اور بیراج کے پہلو میں بنا خوبصورت پارک۔اور ہاں عبدالجلیل خٹک کے زیر انتظام سرکاری پارک کی فیئری بوٹس سے سندھ دریا کا نظارہ کریں اور محفوظ زپ لائن سے جھول جائیں۔
پیر پہائی کی راہ لیں، پہاڑی وسعتوں پہ پھیلا بنی افغان کا گاؤں، کالاباغ ڈیم سائٹ، سواں اور دریائے سندھ کا سنگم اور دریائے سواں کی ریلوے پل سے دل نشیں ایک تصویر محفوظ کیجئے۔
خٹک بیلٹ
کوٹ چاندنہ کے افغان مہاجرین کیمپ کا دورہ کیجئے، دو ممالک کی تہذیب ایک بستی میں، ایک طرف خٹک بیلٹ کے پانیوں کو سمیٹ کر لانے والے نالے کا خڑطوب پل پہ نظارہ، بل کھاتی سڑک، کوہِ تبی سر اور کمر سر کی سر سبز و شاداب پہاڑیاں، ان پہاڑیوں کی طرف جاتی کچی پکی پگڈنڈیاں، پہاڑیوں پہ رہنے والے مہمان نواز خٹک، کجھورو بابا کی طرف جاتا ایک آف روڈ کی مہم جوئی، کمر سر کی گھاٹیوں میں گزرنے والی ہواوں کا شور، تین ضلعوں کوہاٹ میانوالی اور کرک کا سنگم اور پھر پیالہ نما میٹھے پانیوں کی وادی شکر درہ تو دوسری طرف ٹولہ منگلی سرزمیں کی خاطر جان قربان کرنے والے شہداء کا قبرستان، کوهِ خٹک کی بے پناہ بھول بھلیوں میں بنا حیرت انگیز چاپری ڈیم اور خٹک قبائل کے منفرد گاؤں۔
عیسی خیل و کنڈل
جلالپور کا دریائی پارک، کمر مشانی میں آئے ٹولہ جات کے خربوزے، عیسی خیل کی تاریخی حویلیاں، دریاۓ سندھ و دریائے کرم کا سنگم، درہ تنگ کا تاریخی قبرستان، کنڈل کا میاں ملوک علی رحمتہ اللہ علیہ کا مزار، ہندوؤں کے مقدس تالاب اور راج کنڈ، چاچا دین محمد کے گرین پنچاب نامی ہوٹل کی کشمیری چائے اور کافر کوٹ شمالی کی مٹتی تاریخ کے آثار اور وہاں سے دریائے سندھ کی جھیلوں کا دلفریب منظر
وادی نمل و کوہ نمک
ڈھک کی پہاڑیوں میں گزر کر جھیل کا منظر، جھیل سے کشتی کے ذریعے نمل ڈیم، پانیوں میں محصور نمل گاؤں، سطح مرتفع پوٹھوہار کا نقطعہ آغاز چکڑالہ اور اس سے منسلک اعوانوں کی خوبصورت ڈھوکیں، بن حافظ جی سے سکیسر کی چوٹی تک جاتی ہوئی خوبصورت ترین سڑک، سڑک سے تین ملتے اضلاع چکوال میانوالی اور خوشاب، راجہ سری کپ کے دور کی باقیات، چھدرو کی سر سبز وادیوں تک جاتے ٹریک اور چکڑالہ و سوانس کے درمیان پوشیدہ خوبصورت وادی سونک۔ گھبیر نالہ کے کنارے شیخ طور بابا کی روحانی درگاہ اور کوہ نمک میں بکھرے کالاباغ داود خیل پائی خیل غنڈی بوری خیل اور سوانس کو آتے لاتعداد ٹریکس۔
تھل کے رنگ
ہرنولی سے واں بھچراں تک پھیلے تھل، تھل کی ریت میں لگے لاکھوں سفیدے کے درخت، تھل کینال کی ذیلی نہروں اور چشمہ جہلم رابطہ کینال میں جاری پانیوں کا رقص، سبزہ زار اور ہیڈ پکہ تک پھیلا کندیاں کا جنگل، کندیاں موڑ میں زیر تعمیر کندیاں فاریسٹ پارک، سرگودھا ریلوے ٹریک کے قریب فاریسٹ ویو پوائنٹ نامی پکنک و کیمپنگ سائیٹ، ہیڈ پکہ سے ہر سو جاتی نہریں اور ایک نہر کا علی والی کے مقام پہ لہرا کر بل کھا کر پونڈ ایریا میں گرنے کا منظر۔
واں بھچراں و ہرنولی کے مضافاتی چکوک میں مونگ پھلی اور تربوز کی فصلیں، واں بھچراں میں شیر شاہ سوری کی تاریخی باؤلی
دریائے سندھ سب پہ غالب ہے۔
میانوالی دریائے سندھ کے کنارے بسنے والے تمام اضلاع میں سب سے خوش قسمت ہے کہ میانوالی دریائے سندھ کے دونوں طرف آباد ہے۔ دائیں طرف کالاباغ سے بانگڑی تک اور بائیں طرف پیر پہائی و ماڑی انڈس سے ٹبہ مہربان شاہ تک۔ بس گھر بیٹھے دریا کی سمت کا تعین کیجئے۔ دوستوں کا گروپ بنائیں اور گھر سے قریب ترین جگہ سے دریائے سندھ کو پا لیں۔ کھانا پکائیں، مچھلی پکڑیں، آلودگی و شور سے بہت دور زندگی کا ایک دن منا لیں
QAMAR UL HASSAN BHARO’NZADA
CHACHA ORANGZAIB BHIDWAL AUR HUM
WOH CHALAY GAYE, MEIN ABHI WAHEIN KHARA HON
ABBA THEEK AH DA HIGH – OYE IKKA THEEK AH DA HIGH
BHARION WALA
SAFAR JO AMAR HOWA
NAYE QASBAY KI TAREEKHI MASJID – MASJID-E KHANQAH SRAJIH
Afghan Nationalism and Us
ZINDAGI KA MUMTAHIN
MIANWALI MEIN BASNAY WALA MIANWALI MITNE NA PAYE
SIDRA NASEEM- DIGITAL MARKETING SPECIALIST TUTOR
AAKHARI RILWAY STATTION-SOHAN BRIDGE
SIYAHAT KE LIYE MIANWALI MEIN PHAIL JAYEIN
