محمد احسن قریشی
چشمِ سلاگر — قلم، کیمرے اور صحافت کے ذریعے کالا باغ کی آواز
کچھ لوگ اپنے علاقے کو صرف اپنا مسکن سمجھتے ہیں، مگر کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی مٹی کو دیکھتی بھی ہیں، محسوس بھی کرتی ہیں اور پھر اسے الفاظ اور تصاویر میں محفوظ بھی کر دیتی ہیں۔ محمد احسن قریشی بھی ایسی ہی شخصیت ہیں۔ کالا باغ کی گلیوں، دریائے سندھ کے کناروں، یہاں کے لوگوں کی زندگی اور مقامی مسائل کو انہوں نے کبھی محض ایک تماشائی کی نظر سے نہیں دیکھا؛ ان کے لیے یہ سب ان کے صحافتی سفر کا حصہ بھی ہے اور ایک ایسی داستان بھی، جسے وہ اپنے قلم اور کیمرے کے ذریعے دوسروں تک پہنچاتے رہے ہیں۔
محمد احسن قریشی ولد محمد اکرم قریشی 9 مارچ 1971ء کو پیدا ہوئے اور ان کا تعلق تاریخی شہر کالا باغ، ضلع میانوالی سے ہے۔ صحافت، فوٹوگرافی، ٹیلی ویژن رپورٹنگ، کیمرہ ورک اور کالم نگاری سے وابستہ ان کا سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ صحافتی دنیا میں وہ اپنے نام کے ساتھ ساتھ ’’سلاگر‘‘ کے قلمی نام سے بھی پہچانے جاتے ہیں، جبکہ ان کے کالم ’’چشمِ سلاگر‘‘ کے عنوان سے مختلف اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔
ان کی شخصیت کا خاص امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے صحافت کو صرف خبر رسانی تک محدود نہیں رکھا۔ ان کے لیے کیمرہ محض ایک آلہ نہیں بلکہ اپنے گردوپیش کو محفوظ کرنے والی آنکھ ہے، جبکہ قلم ان مشاہدات کو زبان دیتا ہے جنہیں ایک تصویر ہمیشہ مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتی۔
طالب علمی کا شوق، پیشے کی بنیاد
محمد احسن قریشی نے کالا باغ ہائی سکول سے تعلیم حاصل کی اور 1990ء میں میٹرک کیا۔ بعد ازاں گورنمنٹ کالج میانوالی سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کی۔فوٹوگرافی کا شوق انہیں طالب علمی ہی کے زمانے میں پیدا ہوا۔ کیمرے کے ذریعے مناظر، لوگوں اور روزمرہ زندگی کے مختلف رنگوں کو محفوظ کرنا انہیں ہمیشہ اپنی طرف متوجہ کرتا رہا۔ یہ شوق محض ذاتی دلچسپی بن کر نہیں رہا بلکہ رفتہ رفتہ ایک ہنر میں تبدیل ہونے لگا۔
انہوں نے مقامی خیال فوٹو سٹوڈیو سے فوٹوگرافی کی ابتدائی تربیت حاصل کی۔ بعد ازاں تجربہ کار اور نامور فوٹوگرافروں سے جدید فوٹوگرافی اور کیمرہ ورک کی عملی تکنیکیں سیکھیں۔ اس طرح ایک نوجوان کا شوق رفتہ رفتہ اس کے پیشہ ورانہ سفر کی بنیاد بنتا چلا گیا۔
1989ء — کیمرے کے ساتھ پہلا قدم
محمد احسن قریشی نے 1989ء میں مختلف اخبارات کے لیے فوٹوگرافی سے اپنے عملی سفر کا آغاز کیا۔ اس دور میں اخبارات کے لیے کسی مقامی واقعے، شخصیت یا عوامی مسئلے کی تصویر بنانا محض تصویر کشی نہیں بلکہ صحافتی عمل کا ایک اہم حصہ تھا۔
انہوں نے اپنے کیمرے کو صرف خوبصورت مناظر تک محدود نہیں رکھا۔ کالا باغ اور اس کے گردونواح میں ہونے والے واقعات، لوگوں کی سرگرمیاں، عوامی مسائل، سماجی زندگی اور علاقے کے مختلف پہلو ان کی توجہ کا مرکز بنتے رہے۔
یوں کیمرہ ان کے لیے صرف منظر محفوظ کرنے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اپنے علاقے کی زندگی کو دستاویزی شکل دینے کا وسیلہ بن گیا۔
پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک صحافت تک
وقت کے ساتھ ذرائع ابلاغ کی دنیا تبدیل ہوئی اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا نے اپنی جگہ بنائی۔ محمد احسن قریشی نے بھی اس تبدیلی کو قبول کیا اور اپنے تجربے کو نئے تقاضوں کے مطابق وسعت دی۔
وہ 2008ء سے اے آر وائی نیوز کے ساتھ بطور کیمرہ مین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ٹیلی ویژن کیمرہ ورک نے ان کے سابقہ فوٹوگرافی کے تجربے کو ایک نئی سمت دی۔ اب ایک لمحے کو صرف تصویر میں محفوظ کرنا کافی نہیں تھا بلکہ پورے واقعے کو متحرک منظر، آواز اور خبر کے ساتھ ناظرین تک پہنچانا بھی ضروری تھا۔
بعد ازاں انہیں آج نیوز کے ساتھ بطور رپورٹر کام کرنے کا موقع ملا اور فراہم کردہ معلومات کے مطابق 2012ء میں آج نیوز کی نمائندگی حاصل ہوئی۔ اس حیثیت میں انہوں نے کالا باغ اور گردونواح کے عوامی مسائل اور مقامی حالات کو الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے وسیع سطح تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
تجربے کا دائرہ وسیع ہوتا گیا
محمد احسن قریشی کی پیشہ ورانہ وابستگی ایک ہی ادارے تک محدود نہیں رہی۔ وہ ملٹی میڈیا انڈیپینڈنٹ اردو کے ساتھ بھی بطور کیمرہ مین منسلک رہے، جبکہ دیگر معروف بین الاقوامی میڈیا چینلز کے ساتھ کنسلٹنٹ کیمرہ مین کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ہیں۔
پرنٹ میڈیا کی فوٹوگرافی سے شروع ہونے والا یہ سفر انہیں ٹیلی ویژن، رپورٹنگ اور ڈیجیٹل میڈیا تک لے گیا۔ اس دوران انہوں نے صحافت کے بدلتے ہوئے انداز، ٹیکنالوجی کے ارتقا اور خبر کے نئے تقاضوں کو قریب سے دیکھا اور عملی طور پر ان کا حصہ بنے۔
یہی طویل تجربہ ان کے کام میں وہ پختگی پیدا کرتا ہے جو صرف کتابوں سے حاصل نہیں ہوتی؛ یہ میدانِ عمل، مشاہدے اور مسلسل وابستگی سے پیدا ہوتی ہے۔
’’چشمِ سلاگر‘‘ — مشاہدے سے تحریر تک
محمد احسن قریشی کی صحافتی شناخت کا ایک اہم حوالہ ان کی کالم نگاری ہے۔ وہ اپنے کالم ’’چشمِ سلاگر‘‘ کے نام سے لکھتے ہیں۔
’’چشمِ سلاگر‘‘ میں ایک ایسے شخص کی نظر دکھائی دیتی ہے جو اپنے علاقے کو باہر سے نہیں بلکہ اندر سے دیکھتا ہے۔ اس کی توجہ ان موضوعات پر رہتی ہے جو روزمرہ زندگی میں عام آدمی کو متاثر کرتے ہیں۔ کالا باغ، اس کے گردونواح، خٹک بیلٹ، عوامی مشکلات، بنیادی سہولیات، سماجی معاملات، مقامی حالات، امن اور باہمی ہم آہنگی ان کی تحریروں کے نمایاں موضوعات میں شامل رہے ہیں۔ان کے کالموں کی اہمیت اس حوالے سے بھی ہے کہ وہ مقامی مسئلے کو محض مقامی خبر کے طور پر نہیں چھوڑتے بلکہ اس کے پس منظر، اثرات اور عوامی زندگی سے تعلق کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ’’چشمِ سلاگر‘‘ محض ایک کالم کا عنوان نہیں بلکہ ان کے صحافتی مشاہدے کی شناخت بن چکا ہے۔
جب قلم پسماندہ علاقوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے
محمد احسن قریشی کی کالم نگاری میں ان علاقوں کے مسائل کو بھی جگہ ملتی ہے جو عموماً بڑے میڈیا مراکز کی توجہ سے دور رہتے ہیں۔
خٹک بیلٹ کے دشوار گزار اور نسبتاً پسماندہ علاقوں میں گندم اور آٹے کی دستیابی، نقل و حمل کی پابندیوں اور عوام کو درپیش مشکلات جیسے موضوعات پر ان کی تحریریں اسی رجحان کی عکاس ہیں۔
ایسے مسائل بظاہر معمولی محسوس ہو سکتے ہیں، مگر دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے یہی روزمرہ زندگی کے بنیادی سوال بن جاتے ہیں۔ ’’چشمِ سلاگر‘‘ میں ایسے معاملات کو سامنے لانا دراصل ان آوازوں کو جگہ دینا ہے جو اکثر بڑے شہروں کے شور میں دب جاتی ہیں۔
کالا باغ — موضوع نہیں، تعلق
محمد احسن قریشی کی صحافت میں کالا باغ کی موجودگی محض اتفاق نہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں ان کی زندگی گزری، جہاں انہوں نے اپنے کیمرے کو پہلی بار سنجیدگی سے سمجھا اور جہاں کے لوگوں اور حالات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔اسی لیے ان کے لیے کالا باغ صرف خبروں کی ایک جگہ نہیں بلکہ ایک زندہ معاشرہ ہے۔
وہ اپنے کیمرے کے ذریعے اس کے بازار، گلیاں، دریائے سندھ، قدرتی مناظر، مقامی سرگرمیاں اور لوگوں کی روزمرہ زندگی محفوظ کرتے ہیں۔ ان کی فوٹوگرافی میں خوبصورت مناظر کے ساتھ ساتھ محنت کرتے ہوئے لوگ، عام زندگی کے چھوٹے چھوٹے منظر اور معاشرتی حقیقتیں بھی نظر آتی ہیں۔
ایک تصویر کبھی کبھی ایک پورا مضمون بن جاتی ہے، اور محمد احسن قریشی کی فوٹوگرافی کی یہی خوبی ہے کہ وہ منظر کے ساتھ اس کے پیچھے چھپی کہانی کو بھی محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امن اور معاشرتی ہم آہنگی
کالا باغ اور گردونواح کے سماجی حالات بھی ان کی قلمی توجہ کا حصہ رہے ہیں۔ ’’سانحہ کالاباغ سے دائمی امن تک، اتحاد، بصیرت اور قیادت کی ایک تاریخی کامیابی‘‘ جیسے موضوعات کے ذریعے انہوں نے علاقے میں پیش آنے والے مشکل حالات، امن کی کوششوں، باہمی رابطوں اور صلح و مفاہمت کے پہلوؤں کو موضوع بنایا۔
اسی طرح ’’امن کے سفیر، معاشرے کے روشن چہرے‘‘ جیسی تحریروں میں ان افراد اور حلقوں کی کوششوں کو اجاگر کیا گیا جنہوں نے مشکل حالات کے بعد امن، رواداری اور بھائی چارے کی بحالی کے لیے کردار ادا کیا۔
یہ پہلو ان کی کالم نگاری کو محض شکایت یا مسئلے کی نشاندہی سے آگے لے جاتا ہے، جہاں مسئلے کے ساتھ حل، مفاہمت اور معاشرتی ذمہ داری بھی زیرِ بحث آتی ہے۔
صحافی، جو عام آدمی کی بات کرتا ہے
مقامی صحافت کی اصل آزمائش یہی ہے کہ صحافی اپنے علاقے کے ان مسائل کو کتنی جگہ دیتا ہے جنہیں شاید مرکزی میڈیا میں فوری اہمیت نہ ملے۔محمد احسن قریشی کی صحافتی سرگرمیوں میں عام آدمی اور مقامی مسائل نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ بنیادی سہولیات کی کمی ہو، دور دراز آبادیوں کی مشکلات ہوں، سماجی معاملات ہوں یا علاقے سے متعلق کوئی اہم مسئلہ، وہ انہیں رپورٹنگ، فوٹوگرافی اور کالم کے ذریعے سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہی مقامی صحافت کا حقیقی کردار بھی ہے: اپنے معاشرے کو خود اپنی آواز دینا۔
قلم، کیمرہ اور خبر — تین جہتیں، ایک سفر
محمد احسن قریشی کی پیشہ ورانہ شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے تین نمایاں حوالوں کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے:
فوٹوگرافر کے طور پر وہ لمحے کو تصویر میں محفوظ کرتے ہیں۔
کیمرہ مین کی حیثیت سے وہ واقعے کو متحرک منظر میں تبدیل کرکے ناظرین تک پہنچاتے ہیں۔
رپورٹر کے طور پر وہ واقعے کو خبر کی شکل دیتے ہیں۔
اور کالم نگار کی حیثیت سے اسی معاشرے، واقعے یا مسئلے کو اپنے مشاہدے اور الفاظ کے ذریعے ایک وسیع تناظر میں پیش کرتے ہیں۔
یہی امتزاج انہیں ایک ایسے میڈیا پروفیشنل کے طور پر نمایاں کرتا ہے جس نے صحافت کے مختلف شعبوں میں عملی تجربہ حاصل کیا۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دور
ابلاغ کے ذرائع تبدیل ہوئے تو صحافت کا انداز بھی بدل گیا۔ محمد احسن قریشی نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی اپنے کام کی توسیع کے لیے استعمال کیا۔مقامی واقعات، سماجی معاملات، تصاویر اور کالا باغ سے متعلق مختلف موضوعات کو ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے وسیع حلقے تک پہنچانا ان کی موجودہ صحافتی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔خاص طور پر ان کی فوٹوگرافی کالا باغ کی زندگی کے ایسے مناظر کو محفوظ کرتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ماضی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے ان کا تصویری کام صرف صحافتی ضرورت نہیں بلکہ مقامی معاشرت کی بصری دستاویز بھی بن سکتا ہے۔
اعزازات اور پیشہ ورانہ اعتراف
کئی دہائیوں پر محیط صحافتی خدمات کے دوران مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے محمد احسن قریشی کو شیلڈز اور اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
ان اعزازات سے بڑھ کر ان کے سفر کی اصل پہچان وہ طویل عرصہ ہے جس میں انہوں نے بدلتے ہوئے میڈیا کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ وابستگی برقرار رکھی اور کالا باغ اور گردونواح کے حالات کو مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے لاتے رہے۔
چار دہائیوں کی روداد
1989ء میں اخبارات کے لیے فوٹوگرافی سے شروع ہونے والا محمد احسن قریشی کا سفر اب تقریباً چار دہائیوں پر پھیل چکا ہے۔
اس عرصے میں میڈیا کی دنیا نے کئی بڑی تبدیلیاں دیکھیں۔ اخبارات کے روایتی دور سے الیکٹرانک میڈیا، پھر ڈیجیٹل صحافت اور سوشل میڈیا تک ابلاغ کے ذرائع بدلتے رہے، مگر محمد احسن قریشی کا بنیادی حوالہ تبدیل نہیں ہوا: اپنے علاقے کو دیکھنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا۔
کبھی یہ کام ایک تصویر کے ذریعے ہوا، کبھی خبر کے ذریعے، کبھی ٹیلی ویژن کیمرے سے اور کبھی ’’چشمِ سلاگر‘‘ کے الفاظ میں۔
’’سلاگر‘‘ — ایک نام جو قلم سے شناخت بنا
محمد احسن قریشی کے لیے ’’سلاگر‘‘ صرف ایک قلمی نام نہیں بلکہ ان کی صحافتی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ اسی نام سے وابستہ ’’چشمِ سلاگر‘‘ ان کے مشاہدے، تجربے اور اپنے علاقے سے تعلق کی نمائندگی کرتا ہے۔
ان کے قلم کی خاص توجہ اپنے اردگرد کی دنیا ہے؛ وہ دنیا جس میں کالا باغ کے لوگ بستے ہیں، جہاں دریائے سندھ بہتا ہے، جہاں خوبصورت مناظر کے ساتھ مسائل بھی موجود ہیں اور جہاں عام آدمی کی زندگی میں چھوٹی سی سہولت بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
ایک کیمرہ، ایک قلم اور اپنے علاقے کی کہانی
محمد احسن قریشی کی زندگی کو صرف ’’صحافی‘‘ کے ایک لفظ میں سمیٹ دینا ان کے سفر کے کئی اہم پہلوؤں کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ وہ فوٹوگرافر، کیمرہ مین، رپورٹر اور کالم نگار کی حیثیت سے مختلف میدانوں میں کام کرتے رہے ہیں، مگر ان سب حوالوں کو جو چیز ایک دوسرے سے جوڑتی ہے وہ ہے اپنے علاقے اور اس کے لوگوں سے وابستگی۔ان کا کیمرہ کالا باغ کے مناظر کو محفوظ کرتا ہے، ان کی رپورٹنگ مقامی واقعات کو خبر بناتی ہے اور ان کا قلم ان مسائل کو الفاظ دیتا ہے جنہیں وہ اپنے اردگرد محسوس کرتے ہیں۔
شاید یہی کسی مقامی صحافی کی سب سے بڑی خدمت ہے کہ وہ اپنے علاقے کی زندگی کو صرف اپنے عہد تک محدود نہ رہنے دے بلکہ اسے تصویر، خبر اور تحریر کی صورت میں آنے والے وقت کے لیے محفوظ بھی کرے۔محمد احسن قریشی ’’سلاگر‘‘ کا صحافتی سفر اسی مسلسل عمل کی ایک تصویر ہے۔
کالا باغ ان کی نظر کا مرکز ہے،
کیمرہ ان کی آنکھ ہے،
قلم ان کی زبان ہے،
اور ’’چشمِ سلاگر‘‘ ان کے مشاہدے کی شناخت۔
