افسانہ “دریا کندھی” – افسانہ نگار: لہر نیازی
“وقت پر لگایا گیا مرہم زخم کو ناسور بننے نہیں دیتا۔ بہتر ہوگا اگر اس کٹاؤ کو یہیں روک دیا جائے۔”
چاچا سلطان دریائے سندھ کے کنارے سے اچھلتے پانی کو دیکھ کر خطرے کو بھانپ چکا تھا۔ وہ کب سے جوان بیٹوں کو دریا کے کنارے میں پڑے شگاف سے خبردار کئے جا رہا تھا۔ مگر بیٹے تھے کہ اس کی بات پر دھیان نہیں دے رہے تھے۔ وہ سارے بھائی دریا میں بہہ کر آنے والے بڑے بڑے درختوں کے تنے پکڑنے کے لئے دریا کنارے ادھر ادھر منڈلا رہے تھے۔
باپ کو گھر کی فکر لاحق تھی۔ دریا کا بہاؤ کسی بڑے سیلاب کی چغلی کھا کر رہا تھا۔ کالاباغ کے پہاڑوں سے اتر کر آنے والے سیلابی ریلے بڑے بڑے درختوں کے تنے خس و خاشاک کی طرح بہا کر لا رہے تھے۔ چاچا سلطان نوے کی دہائی میں قدم رکھ چکا تھا۔ اس نے بیٹوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، “دیکھو! میں نے اپنی زندگی اسی دریا کنارے بکریاں چراتے گزاری ہے اور چار بڑے سیلاب دیکھ چکا ہوں۔ اس بار آنے والا سیلابی ریلا کچھ زیادہ ہی خطرناک معلوم ہو رہا ہے، ابھی وقت ہے سنبھل جاؤ۔”
چھوٹا بیٹا زیادہ جذباتی تھا۔ باپ کی بات سن کر نادانی سے ہنس پڑا اور بولا، “بابا! مٹی روڑے کی جھگی ہی تو ہے۔ رہی بات ریوڑ اور سامان کی تو دو کشتیاں ہیں جو سہی۔”
باپ ماتھے پر پڑے شکن سے پسینہ پونچھ کر دریا کے کنارے میں پڑے چھوٹے سے شگاف کو دیکھتا رہ گیا۔ اسی لمحے کالے بادلوں نے بل کھایا تو آسمانی بجلی کڑک کر دور فضاؤں میں بکھر گئی۔ بجلی کی کڑک نے بوڑھے بدن کو چونکا سا دیا۔ چاچا سلطان اپنے تجربے کی آنکھ سے جو کچھ دیکھ رہا تھا وہ اس کے بیٹوں کو نظر نہیں آ رہا تھا۔
سیلابی پانی کا ہر ریلا اس شگاف کو اور وسیع کیے جا رہا تھا۔ آسمان پر اڑتے پرندوں نے شاید فطرت کے بدلتے تیور بھانپ لیے تھے۔ بگلے اور کونجیں آسمان میں شور مچاتے ادھر ادھر بیتابی سے اڑ رہے تھے۔ دریا کے کنارے جنگلی گھاس میں چیونٹیاں اور دوسرے حشرات الارض بلوں سے نکل کر ادھر ادھر دوڑتے نظر آنے لگے۔ یہ دریا کے باسی جاندار فطرت کے بدلتے تیور سے خوب واقف تھے۔ جب بیٹوں نے ایک نہ سنی تو چاچا سلطان پریشانی میں سر سے پگڑی اتار کر گھر چلا آیا۔
چاچا سلطان پریشانی کے عالم میں کبھی اپنے کچے گھر کو دیکھتا تھا تو کبھی دریا کے کناروں سے اچھلتے پانی کو۔ اسے چارپائی پر ایک پل کو آرام نہ تھا۔ اس کی نگاہ آسمان پر پرندوں کی بیتابی پر کبھی ٹھہرتی تھی تو کبھی اپنی زخم خوردہ ہتھیلیوں کو غور سے دیکھنے لگتا تھا۔ آنے والی تباہی کا عکس اس کی نگاہوں میں اتر چکا تھا۔ سورج ڈھلنے کو آیا۔ چاچا سلطان سورج ڈھلنے سے چند لمحے پہلے دریا کو ایک نظر دیکھنے آیا۔ دریا پہلے کی نسبت کچھ زیادہ ہی بپھر رہا تھا۔ گدلے پانی پر سورج کا عکس بھی بگڑا ہوا تھا۔ چاچا سلطان کے بیٹے ابھی بھی سیلابی ریلے میں بہہ کر آنے والے درختوں کے تنوں کی تلاش میں دریا کنارے منڈلاتے پھرتے تھے۔ انھیں آنے والے حالات کا ذرا بھی ادراک نہ تھا۔ وہ خواب غفلت سے بیدار ہونا ہی نہیں چاہتے تھے۔
سورج ڈھلنے سے ذرا پہلے چاچا سلطان آخری بار بیٹوں سے مخاطب ہوا، “وقتی فائدے کو نظر انداز کرو اور آنے والے حالات کا سد باب سوچو۔ ابھی وقت مہلت دے رہا ہے۔ دریا کے اس شگاف کو رات کا اندھیرا چھا جانے سے پہلے بھر دو۔”
بیٹوں نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا، “ابھی وقت پڑا ہے بھر لیں گے یہ شگاف بھی۔”
بیٹوں کی اس غفلت اور کوتاہی پر باپ سر پیٹ کر رہ گیا۔ پریشانی کے عالم میں چاچا سلطان دریا کے کنارے اگی جھاڑیوں کو روندتا ہوا اپنے گھر سے باہر بنے مٹی کے چبوترے پر آ کر بیٹھ گیا۔ وہ بڑی حسرت سے اپنے گھر کے درو دیوار کو دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر آ کر ٹھہر گیا جب اس جگہ پر اس کے باپ نے گھر کی پہلی اینٹ رکھی تھی۔ اس کا باپ گارے مٹی سے بنائے گئے گھروندے کو کئی دن تعمیر کرنے میں مصروف رہا تھا۔ اس کے باپ نے کتنی محنت سے گھر بنایا تھا۔ اس نے بھی اس گھر کی دیکھ بھال میں جان کڑی کی تھی۔ مگر آج اس کے بیٹوں کی غفلت نے سارے خواب داؤ پر لگا دیئے تھے۔ آسمان پر اترتے سورج کی کرنوں کی لالی آنے والے سنگین حالات کا پرتو تھی۔ چاچا سلطان دن بھر کا تھکا ماندا لاچار ہو کر چبوترے پر بے سدھ پڑا تھا۔ جانے کس لمحے ایک مجبور باپ کی آنکھ لگ گئی۔
دریائے سندھ کے خونخوار سرخ گدلے پانی نے چھوٹے سے شگاف کو رات کے اندھیرے میں گہرا کردیا۔ آنے والے نئے سیلابی ریلے نے چاچا سلطان کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ رات کی تاریکی میں سیلابی ریلے کی رفتار میں کچھ حد سے زیادہ ہی اضافہ ہو گیا تھا۔ اب سنبھلنے کا وقت گزر چکا تھا۔ سیلابی ریلے کے سامنے مٹی کے گھروندے خوابوں کی طرح ٹوٹنے لگے۔ چاچا سلطان کا مٹی کا گھروندہ تنکوں کے آشیانے کی طرح تنکا تنکا ہو کر بہہ نکلا۔ پلک جھپکنے میں سارے خواب خس و خاشاک کی طرح ویرانوں میں جا گرے۔ چاچا سلطان سیلابی ریلے میں ہاتھ پاؤں چلاتا زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔ سیلابی ریلے میں بہہ کر آنے والی جھاڑیوں میں چاچا سلطان الجھا ہوا اگلی صبح مردہ حالت میں پایا گیا۔ ایک باپ کے خواب بیٹوں کی غفلت کی نظر ہوگئے۔
افسانہ نگار: لہر نیازی
