افسانہ۔ “یاد رفتہ”
شہرت، دولت اور جوانی سب ڈھلتی چھاؤں ہیں۔ سورج طلوع ہوتے ہی زوال کی طرف بڑھنے لگ جاتا ہے۔ چار دن کی چاندنی ہوتی ہے اور پھر اندھیری رات ہوتی ہے۔ کوئی کبھی محفل کی رونق ہوتا ہے تو کبھی وہی انسان تنہائی میں کسی گوشہ گمنام میں پڑا ہوتا ہے۔
شاہ میر فٹ پاتھ پر ایک کونے میں پرانے کٹے پھٹے سے کمبل میں لپٹا پڑا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ردی کا کوئی بڑا سا تھیلا پڑا ہو۔وہ بوسیدہ تھیلا جو کسی نے فالتو سمجھ کر ایک کونے میں پھینک دیا ہو تاکہ کمیٹی والے آئیں اور اس تھیلے کو اٹھا کر اس جگہ کو پاک صاف کر دیں۔
شاہ میر اسی طرح سست پڑا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اسے دن اور رات کی کچھ خبر نہیں ۔ وہ یونہی عمر کی گھڑیاں گزار رہا تھا۔ اسی لمحے آس پاس دو چار کوے آ کر لڑنے لگے۔ ان کی کائیں کائیں کے شور سے اکتایا تو پھٹے ہوئے کمبل سے ہاتھ نکال کر ان کی طرف جھٹک دیا تاکہ وہ ڈر جائیں لیکن کوے بھی اس کے اتنے عادی ہو چکے تھے کہ اس کے ہاتھ جھٹکنے کو انہوں نے ذرا برابر بھی محسوس نہ کیا۔ وہ کوے اسی طرح ہڈی پر لڑتے کائیں کائیں کرتے پھڑ پھڑاتے رہے۔ کبھی ایک کوا ہڈی اچکتا تو کبھی دوسرا اچک لیتا۔ یہ تماشا کافی دیر جاری رہا یہاں تک کہ ایک بلا دوڑتا ہوا کہیں سے آیا اور اس ہڈی پر جھپٹا۔اور پل بھر میں ہڈی کو اچک کر دکانوں کے پچھواڑے کو نکل گیا۔
سورج چڑھ آیا تھا اور آہستہ آہستہ سانچے والے، ریڑھی والے اور دکاندار اپنی دکان کی جھاڑ پونچھ میں مگن ہو گئے۔ کوئی جھاڑو لگا رہا ہے، تو کوئی پونچا۔ کوئی اپنی سبزی کو سجا رہا ہے تو کوئی اپنے ٹھیلے کے گرد پانی کا چھڑکاؤ۔
علی الصبح ہر دکاندار صفائی سجائی میں مگن ہوتا ہے۔
کوئی ریڑھی والا آ کے اپنی ریڑھی کو کسی ٹھکانے لگا رہا ہے تو کہیں کمیٹی والے جھاڑو دینے آ نکلے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے بازار جو رات کو سنسان پڑا تھا۔ کتوں کی بھاؤں بھاؤں اور بلیوں کی میاؤں میاؤں سے گونج رہا تھا اب سورج چڑھتے ہی انسانی چہل پہل سے آباد ہونے لگا۔ سبزی منڈی کے احاطے میں اچھلتے کودتے کتوں اور بلوں کی آوازیں کم ہو گئی تھیں۔ اب کوے اور لالیاں پھڑ پھڑاتے نظر آنے لگے۔ سبزی منڈی میں دکانداروں کے آنے جانے اور ان کی آپس میں مول تول کی آوازیں ابھرنے لگی تھیں۔ آہستہ آہستہ سبزی منڈی کی رونق بڑھ رہی تھی۔ ایک کمیٹی والا جھاڑو لیے شاہ میر کی طرف بڑھا۔ وہ ایک ادھیڑ عمر دبلا پتلا شخص تھا۔ اس نے شاہ میر کے پاؤں پر سے پھٹے پرانے کمبل کو کھینچتے ہوئے آواز لگائی، “ابے اٹھ جا! کب سے پڑا ہے. جگہ چھوڑ دے ہمیں صفائی کرنے دے۔”
کمیٹی والے کی کرخت آواز سن کر شاہ میر اوں۔۔ آں کرتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔ شاہ میر نے میلے کچیلے سر کو کجھایا، کمبل کو اپنے ٹھٹھرتے بدن کے گرد لپیٹا، اور گرتے لڑھکتے سردی سے بچتے بچاتے دوسرے کونے میں پڑے ردی کے ڈھیر پر جا پڑا۔ سورج سر پر آیا۔ سبزی منڈی کی سڑک پر سائیکل کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ لوگ آنے جانے لگے۔ کوئی دفتر جا رہا ہے تو کوئی سائیکل پکڑے صبح ہی صبح منڈی میں رک رہا ہے۔ دکاندار بھی اپنی اپنی سائیکلوں پر اپنے خالی بورے باندھے گھنٹیاں بجاتے یہاں پہنچ رہے تھے اور کچھ دکاندار علی الصبح سبزی منڈی پہنچے تھے۔ اپنی سائیکلوں پر سبزی اور پھلوں کے تھیلے لٹکائے اپنی دکانوں کی طرف نکل رہے تھے۔
سبزی منڈی کی رونق بڑھ چکی تھی۔ کہیں سائیکلوں کی گھنٹیاں بج رہی تھیں تو کہیں آوازیں لگ رہی تھیں، “ابے ہٹ جا۔۔ ارے بچ جا۔۔ جانے دے۔۔ راستہ چھوڑ دے”. یہ آوازیں روز کا معمول تھیں۔ جو شاہ میر کے کانوں میں پڑتی رہتی تھیں۔ لیکن ان آوازوں سے اس کی نیند میں ذرا بھی خلل نہیں پڑتا تھا۔ یہ اسی طرح بے سُدھ پڑا رہتا تھا۔ ارد گرد کیا ہو رہا ہے، کیا نہیں ہو رہا، اس سے بالکل اس کو کوئی سروکار نہیں تھا۔
دن کافی چڑھ گیا تھا۔ ایک کمیٹی والا ہاتھ ریڑھی لے
کر ردی اٹھانے آیا۔ اس نے شاہ میر کو ردی کے ڈھیر سے یوں کھینچ کر پرے کیا جیسے کوئی کسی مردہ کو ایک طرف پھینکتا ہے۔ وہ کچھ بڑ بڑاتے ہوۓ ردی اٹھانے لگ گیا۔ اس نے ساری ردی اپنے تھیلوں میں بھری اور اپنی ریڑھی پر رکھ کر چلتا بنا۔ شاہ میر اب جاگ چکا تھا۔ اس کو بھوک لگ رہی تھی۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر دوسری طرف لڑھک گیا۔ دوبارہ کوشش کی۔ اس بار ہانپتا کانپتا آٹھ بیٹھا۔
اسی دوران اس نے دیکھا کہ ایک پرانے اخبار کا ٹکڑا اس کے پاؤں کے نیچے ابھی بھی پڑا ہے۔ آنکھیں ملتے ملتے شاہ میر نے پرانے اخبار کے اس ٹکڑے کو اٹھا لیا۔ اس کی نظر ایک شہ سرخی پر پڑ گئی۔ اس شہ سرخی پر اس کی نظریں جمی کی جمی رہ گئیں۔ یہ شہ سرخی اسی شاہ میر کے بارے میں تھی۔ شاہ میر نے وہ خبر بڑے غور سے پڑھنا شروع کر دی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے جب اس نے کئ بار اخبار کے ٹکڑے پر اپنی پرانی خبر دیکھی تو اس کی آنکھوں سے آنسو نمودار ہوئے۔ اس نے پھٹے پرانے اس اخبار کے ٹکڑے کو اپنے پھٹے پرانے کمبل سے صاف کیا۔
پرانے اخبار کی شہ سرخی کو اس نے پھر سے دیکھا۔ جس پر واضح حروف میں لکھا ہوا تھا، “شاہ میر تھیٹر کی دنیا کا بادشاہ”
اس سرخی کے نیچے اس کی تعریف میں بہت کچھ لکھا گیا تھا۔ ماضی کی جھلکیاں اس کے ذہن میں ابھرنے لگیں۔ اسے یاد آیا کہ وہ کیسے بہت بڑے شہر کے ایک بہت بڑے تھیٹر میں کام کرتا تھا۔ اس کے بغیر وہ تھیٹر چل نہیں سکتا تھا۔ یہی مرکزی کردار تھا جو تھیٹر کو آگے ہی آگے لیے جا رہا تھا۔ تھیٹر کے باقی فنکار اس کی قسمت پر رشک کرتے تھے۔ شہر میں بہت سے تھیٹر کھلے ہوئے تھے لیکن ان کے ساتھ اس کا سخت مقابلہ تھا۔ وہ اس تھیٹر سے کوسوں پیچھے تھے۔ اس تھیٹر کی رونق شاہ میر کی وجہ ہی سے تھی۔ شاہ میر وہ اداکار تھا، جس کی آواز، ادائیگی اور کمال کی اداکاری شائقین کو جکڑ لیتی تھی۔ وہ ڈرامے میں ایسے ڈوب جاتے تھے کہ جیسے یہ انہی کی زندگی کا کوئی کردار ادا کر رہا ہو۔
سورج گرہن ایک حقیقت ہے۔ شاہ میر کی قسمت کو گرہن ایک لڑکی کے عشق میں لگا۔
اندھے عشق نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔ جب کام سے توجہ بٹ گئی تو ناکامی کا دور شروع ہوا۔ سب کچھ جاتا رہا۔
شاہ میر نے اخبار کا ٹکڑا تہ کیا اور پھٹے پرانے کوٹ کی جیب میں ڈال لیا۔ اسے اپنی جوانی کے وہ خوبصورت دن یاد آنے لگے جب یہ تھیٹر کا بے تاج بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ لوگ اس کی تعریفیں کرتے نہ تھکتے تھے۔ اداکارائیں اور ڈائریکٹر اس کے آگے پیچھے پھرا کرتے تھے۔ جب بازار میں نکلتا تو اس کے گرد رش لگ جاتا تھا۔ پھر زندگی نے ایک نئے موڑ پر اس کو لا کھڑا کیا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ اپنے غلط فیصلوں کی وجہ سے تھیٹر سے فارغ ہو گیا۔ ایک وقت آیا کہ کوئی اس کو تھیٹر میں لینے کو تیار نہ تھا۔ اور بہت جلد یہ زوال کے اندھیروں میں ڈوب گیا۔ سگریٹ کے دھوئیں میں پناہ لی۔ صحت اور قسمت دونوں کو ایسا زوال آیا کہ کوڑے دان میں جا پڑا۔ شاہ میر نے سر کو جھٹکا دیا اور جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور سگریٹ سلگا کر خود کو دھوئیں میں پھر سے گم کر دیا۔
افسانہ نگار: لہر نیازی
