“صلیبِ وقت” — ایک تنقیدی جائزہ –شاعر: پروفیسر رئیس احمد عرشی
تحریر و تحقیق: لہرؔ نیازی
میانوالی کی ادبی فضا ہمیشہ سے تخلیقی رنگوں، فکری وسعتوں اور شعری خوشبوؤں سے معطر رہی ہے۔ یہاں جب بھی کسی شاعر کا نیا شعری مجموعہ منظرِ عام پر آتا ہے تو وہ اپنے ساتھ ایک نئی فکری جہت، تازہ احساسات اور منفرد اسلوب لے کر آتا ہے۔ سرائے تھل کی یہ زرخیز سرزمین صحرائے تھل کی وسعتوں سے جنم لینے والے ایسے ہی متعدد شعراء کی آماجگاہ رہی ہے، جن کا کلام مسلسل اہلِ ذوق تک پہنچتا رہا ہے۔
پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب بھی انہی ممتاز شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک قابلِ احترام استاد ہیں بلکہ میانوالی کی ادبی تاریخ میں اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں سادگی، فکری گہرائی اور معنویت اس انداز سے یکجا ہوتی ہے کہ قاری محض الفاظ نہیں پڑھتا بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کا شعور بھی حاصل کرتا ہے۔
ان کے شعری مجموعے “صلیبِ وقت” (اگست 2004ء) کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے زندگی، انسان، محبت، ظلم، وقت، امید اور روحانی کرب کو نہایت لطیف اور صوفیانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کے اشعار میں تصوف کی جھلک جگہ جگہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ شخصیت کا ٹھہراؤ، باطن کی گہرائی اور روحانی احساسات جب شعر کا قالب اختیار کرتے ہیں تو قاری کے دل میں براہِ راست اتر جاتے ہیں۔
منتخب اشعار
صفحہ نمبر 19
میری امیدوں کے سارے خیمے یزید موسم کی زد میں آئے،
ستم کی آندھی کا رخ ادھر ہے، میں اپنا مسکن بچاؤں کیسے۔
صفحہ نمبر 20
تیرے تصور میں گنگناتے ہیں راحتوں کے ہزار جھرنے،
میں اپنی یادوں کی بارگاہ میں تیرا تصور بٹھاؤں کیسے؟
صفحہ نمبر 23
ترے مرقد پہ تخیل نے یہ محسوس کیا،
دستِ شفقت مرے کاندھے پہ پڑا ہو جیسے۔
صفحہ نمبر 24
غموں کے دریا، ستم کے پربت، امید کا ایک طویل صحرا،
بٹی ہوئی ہے ہماری منزل، نجانے کتنی مسافتوں میں۔
زمانہ آیا، محبتوں نے لباس پہنا حقارتوں کا،
بغل میں خنجر، زباں پہ مدحت، عجیب منظر رفاقتوں میں۔
فکری و فنی جائزہ
پروفیسر رئیس احمد عرشی اپنی شاعری میں روح کے دکھ، باطن کی تنہائی اور انسان کے داخلی کرب کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کے اشعار پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر اپنی ذات کا نہیں بلکہ ہر اس انسان کا دکھ بیان کر رہا ہو جو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر تنہائی، محرومی اور بے یقینی کا شکار ہوا ہو۔
ان کے ہاں تصوف محض مذہبی یا فلسفیانہ اصطلاح نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا ایک وسیلہ ہے۔ وہ اپنے مشاہدات، تجربات اور احساسات کو ایسے الفاظ میں ڈھالتے ہیں جو قاری کے دل میں دیر تک گونجتے رہتے ہیں۔
عرشی صاحب کی شاعری کا بنیادی وصف یہی ہے کہ وہ ظاہری زندگی سے زیادہ انسان کے باطن کی دنیا کا سفر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں روحانی کیفیت، خود احتسابی، وقت کی بے ثباتی اور انسانی رشتوں کی حقیقت مسلسل نمایاں رہتی ہے۔
صفحہ نمبر 25
نہ جانے پھر کیوں بہار آئی، ہماری برسی منانے لوگو،
شباب آئے گا خار و گل پر، اٹھے گی آتش عداوتوں میں۔
صفحہ نمبر 29
روز پھیلی ہوئی ہتھیلی پر،
ایک سکہ کبھی کبھی رکھنا۔
شعری تجربات اور مشاہدات
پروفیسر رئیس احمد عرشی کا تعلق ایک پہاڑی علاقے سے تھا، لیکن عملی زندگی میں وہ میدانی علاقے، خصوصاً میانوالی، میں آ کر آباد ہوئے۔ اس طرح انہوں نے زندگی کے دو مختلف جغرافیائی اور سماجی رنگ قریب سے دیکھے۔
پہاڑوں کی سادگی، خاموشی اور فطری حسن، اور میدانی علاقوں کی سماجی پیچیدگیوں، انسانی رویوں اور بدلتے حالات نے ان کی شخصیت اور فکر پر گہرا اثر ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں فطرت، انسان، معاشرہ اور روحانیت ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔
“صلیبِ وقت” محض ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ ایک حساس شاعر کے داخلی سفر، روحانی تجربات اور زندگی کے تلخ و شیریں مشاہدات کی داستان ہے۔ اس مجموعے میں قاری کو تصوف، فلسفۂ حیات، محبت، انسانی رشتوں، سماجی رویوں اور وقت کی بے ثباتی جیسے موضوعات نہایت خوبصورتی اور فکری گہرائی کے ساتھ ملتے ہیں، جو پروفیسر رئیس احمد عرشی کو میانوالی کے اہم معاصر شعراء میں ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔
پروفیسر رئیس احمد عرشی کی شاعری
