PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025

پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب سے ملاقات  –(10 ستمبر 2025ء)

 

ابتدائی زندگی

پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب کا اصل نام احمد خان نیازی ہے۔ آپ یکم اپریل 1949ء کو ضلع میانوالی کے تاریخی قصبے مٹھہ خٹک (سلطان خیل) میں پیدا ہوئے۔

آپ کے والد محترم لودھی خان سنجر خیل، قبیلہ سلطان خیل سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ محکمہ مال میں پٹواری کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے تھے۔ ملازمت کے سلسلے میں وہ میانوالی منتقل ہوئے اور بعد ازاں مستقل طور پر یہیں سکونت اختیار کر لی۔

تعلیم

پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب نے اپنی ابتدائی تعلیم مٹھہ خٹک میں حاصل کی، تاہم والد کے میانوالی منتقل ہونے کے بعد اپنی باقی ابتدائی اور ثانوی تعلیم ضلع میانوالی کے مختلف تعلیمی اداروں میں مکمل کی۔

آپ نے 1964ء میں گورنمنٹ ہائی سکول میانوالی سے میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا۔

بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے درج ذیل ڈگریاں اعزازی نمبروں کے ساتھ حاصل کیں۔

  • بی اے (B.A)
  • بی ایڈ (B.Ed)
  • ایم اے اردو
  • ایم اے معاشیات
  • ایم ایڈ (M.Ed)

عملی اور تدریسی خدمات

پروفیسر عرشی صاحب نے اپنی عملی زندگی کا آغاز یکم ستمبر 1967ء کو محکمہ استیصالِ ملیریا میں مائیکروسکوپسٹ (Microscopist) کی حیثیت سے کیا۔

بعد ازاں 1976ء میں محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوئے اور ضلع میانوالی کے مختلف تعلیمی اداروں میں بطور استاد خدمات سرانجام دیں۔ اس دوران آپ نے گورنمنٹ ہائی سکول سلطان خیل میں بھی تدریسی فرائض انجام دیے۔

1987ء میں آپ گورنمنٹ کالج شاہپور صدر میں بطور لیکچرار اردو مقرر ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد تبادلے کے ذریعے گورنمنٹ کالج میانوالی آگئے، جہاں آپ نے اپنی بقیہ تدریسی زندگی گزاری۔

آپ 31 مارچ 2009ء کو گورنمنٹ کالج میانوالی ہی سے باعزت ریٹائر ہوئے۔

خاندانی زندگی

پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب کے ہاں اللہ تعالیٰ نے تین بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا۔

کچھ عرصہ قبل آپ کی شریکِ حیات اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئیں، جس کا صدمہ آپ نے صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا۔

آج کل آپ مستقل طور پر شہر میانوالی میں مقیم ہیں، تاہم خوشی اور غمی کے مواقع پر اپنے آبائی گاؤں مٹھہ خٹک ضرور تشریف لے جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو عمرہ کی سعادت سے بھی نوازا ہے۔

شخصیت اور طرزِ زندگی

تقریباً 76 برس کی عمر میں بھی پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب نہایت چاک و چوبند، باوقار اور متحرک شخصیت کے مالک ہیں۔

آپ نماز، روزہ اور دیگر دینی فرائض کی پابندی کے ساتھ ایک سادہ، باوقار اور مطمئن زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ذکرِ الٰہی، تسبیح، ثنا خوانی اور مطالعہ آپ کے روزمرہ معمولات کا حصہ ہیں۔ علمی و ادبی حلقوں میں آپ ایک بااخلاق، منکسر المزاج، باوقار استاد اور اردو زبان و ادب کے مخلص خدمت گزار کی حیثیت سے احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب سے ملاقات -20 اکتوبر 2025ء

حصہ دوم

محلہ عادل شاہ، میانوالی

شاعری کا آغاز

پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے 1972ء میں فیصل آباد یونیورسٹی میں بی ایڈ کے لیے داخلہ لیا تو وہاں باقاعدگی سے ادبی نشستیں اور مشاعرے منعقد ہوا کرتے تھے۔

ایک ادبی مشاعرے کے دوران انہیں یقین تھا کہ ان کی غزل پہلی پوزیشن حاصل کرے گی، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور انہیں دوسری پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا۔ اس پر انہوں نے مشاعرے کے جج، معروف شاعر نثار احمد سے جذباتی انداز میں احتجاج کیا۔ نثار احمد صاحب نے نہایت شفقت سے ان کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے لفظ “ساغر” کے زیر و زبر کے تلفظ میں درست فرق ملحوظ نہیں رکھا، جس کی وجہ سے نمبر کم ہوئے۔

یہی واقعہ ان کی ادبی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس دن کے بعد انہوں نے شاعری کو سنجیدگی سے اختیار کیا، عروض، زبان اور تلفظ کے اصولوں کا باقاعدہ مطالعہ کیا اور یوں ان کا تخلیقی سفر باقاعدہ طور پر شروع ہوا۔

شعری سفر

ابتدائی دور میں پروفیسر رئیس احمد عرشی نے مزاحمتی شاعری بالخصوص نظم کو اپنی مشقِ سخن کا ذریعہ بنایا۔

ان کا پہلا شعری مجموعہ “صلیبِ وقت” اگست 2004ء میں منظرِ عام پر آیا، جسے ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی۔

ہمہ جہت ادبی خدمات

پروفیسر رئیس احمد عرشی صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت ادیب ہیں۔ انہوں نے مختلف ادبی اصناف میں قابلِ قدر کام کیا، جن میں شامل ہیں:

  • شاعری
  • افسانہ نگاری
  • تاریخ نویسی
  • تحقیق
  • کالم نگاری
  • طنز و مزاح
  • ادارت

ہر صنف میں ان کی تحریروں نے ان کی علمی بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔

افسانہ نگاری

انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نویسی سے کیا، اور ابتدا ہی میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔

1982ء میں کراچی سے شائع ہونے والے معروف ادبی ماہنامہ “روپ” نے سال کے دس بہترین افسانوں کا انتخاب شائع کیا، جس میں پروفیسر رئیس احمد عرشی کے افسانے “ساکت لمحے” کو انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔

اس کامیابی نے ان کے اندر افسانہ نگاری کا جذبہ مزید مضبوط کیا اور وہ اس میدان میں مسلسل تخلیقی کام کرتے رہے۔

رسائل و جرائد میں تخلیقی خدمات

پروفیسر رئیس احمد عرشی کی تحریریں ملک کے متعدد معروف ادبی رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہیں، جن میں خصوصاً درج ذیل شامل ہیں:

  • ماہنامہ رابطہ
  • ماہنامہ سچی کہانیاں
  • آدابِ عرض
  • حکایت
  • ہفت روزہ فیملی میگزین

صحافت اور ادارت

پروفیسر رئیس احمد عرشی نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز مرحوم شرر صہبائی کے ہفت روزہ “میانوالی گزٹ” سے کیا، جہاں وہ بعد ازاں مدیر کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

بعد ازاں انہوں نے لاہور سے شائع ہونے والے ادبی و سماجی جریدے “نوائے پٹھان” کی ادارت بھی سنبھالی۔

کالم نگاری

کالم نگاری بھی ان کی ادبی شخصیت کا اہم حوالہ ہے۔

انہوں نے “کان پڑی باتیں” اور “بائی داوے” کے عنوان سے مستقل کالم تحریر کیے، جن میں معاشرتی، سماجی اور ثقافتی مسائل کو طنز و مزاح کے دلکش انداز میں پیش کیا۔

بعد ازاں نوائے پٹھان میں شائع ہونے والے ان کے اداریوں کو یکجا کرکے “ناطقہ سربہ گریباں” کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔

ادبی تنظیموں میں کردار

پروفیسر رئیس احمد عرشی میانوالی کی ادبی سرگرمیوں میں ہمیشہ متحرک اور فعال رہے۔

آپ نے مختلف ادبی تنظیموں میں اہم ذمہ داریاں ادا کیں، جن میں:

  • تحریک فروغِ ادب میانوالی کے معتمدِ اعلیٰ
  • انجمن تخلیقِ ادب میانوالی کے صدر

کے عہدے قابلِ ذکر ہیں۔

ہم عصر شعرا

پروفیسر رئیس احمد عرشی کے ادبی دور میں میانوالی کے متعدد ممتاز شعراء سرگرمِ عمل تھے، جن کے ساتھ انہوں نے طویل ادبی سفر طے کیا۔ ان میں خصوصاً درج ذیل نام نمایاں ہیں:

  • ابوالمعانی عصری
  • سالار نیازی
  • شرر صہبائی
  • انجم جعفری
  • تاج محمد تاج

یہ تمام شخصیات میانوالی کی ادبی فضا کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں، اور پروفیسر رئیس احمد عرشی نے انہی ہم عصروں کے ساتھ مشاعروں، ادبی نشستوں اور تخلیقی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔

   افسانہ نگار: لہر نیازی

PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER Professor Rais Ahmad Arshi — A Distinguished Scholar, Teacher, and Poet from Mianwali

PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025

Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”

Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr

Muhammad Ashfaq Chughtai
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS

Muhammad Ashfaq Chughtai

AMEERZADA AFSANA   -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

AMEERZADA AFSANA -AFSANA BY LEHR NIAZI

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI

YAAD-E-RAFTA  -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

YAAD-E-RAFTA -AFSANA BY LEHR NIAZI

UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN WRITERS CLUB POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works THE SOUL OF THE DESERT: EXPLORING THE POETIC JOURNEY OF LEHR NIAZI WRITERS & AUTHERS FROM MIANWALI

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top