Darya-e-Sindh Ka Be-Reham Katao: Moza Muhammad Sharif Wali Tabahi Ke Dahanay Par

 

 

دریائے سندھ کا بے رحم کٹاؤ: موضع محمد شریف والی تباہی کے دہانے پر

 

ہزاروں جانیں، زرعی زمینیں اور تاریخی ورثہ خطرے میں

موضع محمد شریف والی، موچھ (ضلع میانوالی) دریائے سندھ کے شدید کٹاؤ کی زد میں۔ ایک تاریخی بستی، ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی اور ہزاروں افراد کا مستقبل خطرے میں ہے۔

اہم مسائل (Highlights)

 

  • شدید کٹاؤ: موضع محمد شریف والی دریائے سندھ کے خطرناک کٹاؤ کی زد میں ہے۔

  • زرعی نقصان: تقریباً 10 ہزار کنال زرعی زمین دریا برد ہو چکی ہے۔

  • بڑے پیمانے پر خطرہ: کم از کم 10 دیہات شدید خطرے سے دوچار ہیں۔

  • عوامی بحران: ہزاروں افراد کے گھر، زمینیں اور روزگار خطرے میں ہیں۔

  • سرکاری املاک: گورنمنٹ سکولز، پولیس چیک پوسٹ اور دیگر سرکاری املاک بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

  • تاریخی ورثہ: شہداء اور غازیوں کی یہ تاریخی سرزمین تباہ ہونے کے قریب ہے۔

  • عوامی جدوجہد: مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محدود وسائل سے دریا کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

  • ممکنہ تباہی: بروقت اقدامات نہ ہونے کی صورت میں یہ بحران پورے ضلع میانوالی کو متاثر کر سکتا ہے۔

 

ضلع میانوالی کی تحصیل موچھ میں واقع موضع محمد شریف والی ایک قدیم تاریخی گاؤں ہے، جس کی بنیاد تقریباً 1914ء میں رکھی گئی۔ یہ گاؤں صرف ایک رہائشی بستی نہیں بلکہ اس خطے کی تاریخ، ثقافت، زرعی معیشت اور سماجی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ یہاں کئی نسلیں پروان چڑھیں، بزرگوں کی قبریں موجود ہیں، خاندانوں کی یادیں بسی ہوئی ہیں اور یہ دھرتی پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والے شہداء اور غازیوں کی سرزمین بھی ہے۔

آج یہی تاریخی گاؤں دریائے سندھ کے مسلسل اور خطرناک کٹاؤ کی وجہ سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔

دریائے سندھ کا بڑھتا ہوا خطرہ

 

گزشتہ کئی برسوں سے دریائے سندھ مسلسل موضع محمد شریف والی کے کناروں کو کاٹ رہا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ دریا ہزاروں کنال زرعی زمین نگل چکا ہے اور اب اس کا رخ براہِ راست آبادی کی طرف ہو گیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق زیرِ کاشت تقریباً 10 ہزار کنال زرعی اراضی دریا برد ہو چکی ہے، جبکہ اب دریا گھروں، سڑکوں اور سرکاری املاک کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو پورا گاؤں اور اس کے گرد و نواح کی بستیاں دریائے سندھ کی بے رحم لہروں کی نذر ہو سکتی ہیں۔

صرف زمین نہیں، ایک پوری تاریخ مٹ رہی ہے

 

محمد شریف والی صرف ایک گاؤں نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب اور تاریخ کی علامت ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں:

  • بزرگوں کی قبریں موجود ہیں۔

  • کئی نسلوں کی یادیں وابستہ ہیں۔

  • لوگوں کی شناخت اور آبائی ورثہ محفوظ ہے۔

  • محبت، بھائی چارے اور خاندانی رشتوں کی روایت زندہ رہی ہے۔

آج جب لوگ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے آبائی گاؤں کو بکھرتا دیکھ رہے ہیں تو ہر زبان پر ایک ہی سوال ہے:

“اگر یہ گاؤں ختم ہو گیا تو ہم کہاں جائیں؟”

یہ صرف مکانات کے گرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری تاریخ، ثقافت اور شناخت کے مٹنے کا خطرہ ہے۔

شہداء اور غازیوں کی سرزمین

محمد شریف والی کی ایک اور بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ پاکستان آرمی کے متعدد شہداء اور غازیوں کی سرزمین ہے۔ اس دھرتی نے ایسے سپوت پیدا کیے جنہوں نے وطن عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ آج بھی اس علاقے کے بے شمار نوجوان پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں میں وطن کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ایسی سرزمین کا محفوظ رہنا قومی ذمہ داری بھی ہے اور اخلاقی فرض بھی۔

سرکاری ادارے بھی خطرے میں

 

دریائی کٹاؤ اب صرف زرعی زمینوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اہم سرکاری ادارے بھی شدید خطرے کی زد میں آ چکے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • گورنمنٹ پرائمری سکول برائے بوائز

  • گورنمنٹ پرائمری سکول برائے گرلز

  • پولیس دریائی چیک پوسٹ

  • دیگر عوامی سہولیات اور سرکاری املاک

اگر دریا کا رخ مزید آگے بڑھا تو کروڑوں روپے مالیت کے قومی اثاثے بھی تباہ ہو سکتے ہیں۔

کسان اور مقامی آبادی شدید مشکلات میں

 

ہزاروں کنال زرعی زمین دریا برد ہونے سے سینکڑوں خاندانوں کا ذریعہ معاش ختم ہو چکا ہے۔ جن کھیتوں سے نسلوں کا روزگار وابستہ تھا، وہ آج دریائے سندھ کا حصہ بن چکے ہیں۔ متاثرہ خاندان بے یقینی کا شکار ہیں۔ لوگ پریشان ہیں کہ اگر دریا آبادی تک پہنچ گیا تو وہ اپنے اہل خانہ کو لے کر کہاں جائیں گے۔

اپنی مدد آپ کے تحت جدوجہد

 

حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث اہلِ علاقہ اپنی مدد آپ کے تحت دریا کے کٹاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقامی افراد درخت کاٹ کر انہیں مضبوط رسیوں سے کناروں پر باندھ رہے ہیں تاکہ پانی کے بہاؤ کا رخ کسی حد تک تبدیل کیا جا سکے۔ یہ کوششیں ان کی بے بسی اور اپنے گھروں سے محبت کا واضح ثبوت ہیں، مگر اتنے بڑے قدرتی خطرے کا مقابلہ عوام اپنے محدود وسائل سے زیادہ دیر تک نہیں کر سکتے۔

اگر آج اقدام نہ ہوا تو…

 

ماہرین اور مقامی افراد کے مطابق اگر فوری حفاظتی بند، اسپرز، پتھر بندی اور دیگر حفاظتی منصوبے شروع نہ کیے گئے تو:

  • محمد شریف والی مکمل طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔

  • کم از کم دس دیہات شدید خطرے میں آ سکتے ہیں۔

  • ہزاروں افراد بے گھر ہو سکتے ہیں۔

  • مزید ہزاروں کنال زرعی زمین تباہ ہو سکتی ہے۔

  • سرکاری املاک اور تعلیمی ادارے بھی دریا برد ہو سکتے ہیں۔

  • بڑے پیمانے پر نقل مکانی، معاشی نقصان اور سماجی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ صرف ایک گاؤں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ضلع میانوالی کے مستقبل کا سوال ہے۔

فوری توجہ کی ضرورت

 

اہلِ علاقہ حکومتِ پاکستان، حکومتِ پنجاب، ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:

  1. ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی بند تعمیر کیے جائیں۔

  2. دریا کے کناروں پر پتھر بندی اور اسپرز لگائے جائیں۔

  3. ماہرین کی ٹیمیں فوری سروے کریں۔

  4. متاثرہ خاندانوں کی امداد اور بحالی کا منصوبہ بنایا جائے۔

  5. سرکاری اداروں اور آبادی کو محفوظ بنانے کے لیے مستقل منصوبہ بندی کی جائے۔

اہلِ وطن اور متعلقہ حکام سے اپیل

 

یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ عملی اقدام کرنے کا ہے۔ ہم حکومتِ پاکستان، حکومتِ پنجاب، محکمہ آبپاشی، ضلعی انتظامیہ، منتخب عوامی نمائندوں اور تمام متعلقہ اداروں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ موضع محمد شریف والی اور گرد و نواح کے علاقوں کو دریائے سندھ کے تباہ کن کٹاؤ سے بچانے کے لیے فوری ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔

اسی طرح ہم تمام اہلِ میانوالی، سماجی تنظیموں، میڈیا اور سول سوسائٹی سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو ہر ممکن فورم پر اجاگر کریں تاکہ متاثرہ خاندانوں کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچ سکے۔

آج کیا گیا ایک بروقت فیصلہ ہزاروں جانیں، ہزاروں ایکڑ زرعی زمین، قیمتی سرکاری املاک، ایک تاریخی ورثہ اور آنے والی نسلوں کا مستقبل بچا سکتا ہے۔

خدارا! ابھی اقدام کیجیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

MIANWALI TEHSIL UNIONS

MIANWALI TEHSIL UNIONS

    تحصیل میانوالی کی انتظامی تقسیم: میونسپل کمیٹیاں اور یونین کونسلیں   تحصیل میانوالی، ضلع میانوالی کی سب سے...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top