DAUD KHEL

DISTRICT.DAUD KHEL IS A TOWN OF MIANWALI DISTRICT IN THE PUNJAB . THE TOWN IS LOCATED AT 32°52’60N 71°34’0E AT AN ALTITUDE OF 207 METERS . IT IS ADMINISTRATIVELY SUBDIVIDED INTO TWO UNION COUNCILS, ONE FOR THE URBAN AREA AND ANOTHER FOR THE RURAL AREA.

[mappress mapid=”8″]

GULISTAN KHAN  FROM  DAUD KHEL WAS WELL KNOW  RADIO ARTIST  IN 1960 WHO,S PROGRAMME USED TO BE  AIRED FROM RADIO PESHWAR,AK,MULTAN AND RAWALPINDI.THE TOWN’S POPULATION IS APPROXIMATELY 1 LAC. MOTHER TONGUE IS SARAKI. MAJORITY OF THE POPULATION IS NIAZI BELONG TO PATHAN CLAN, WHO GOT SETTLED IN THE AREA AFTER THEIR INVASION IN THE AREA FROM GAZNI AFGHANISTAN DURING ANCIENT ERA.

MOREOVER AREA IS ENRICHED WITH MINERALS, IT IS ALSO ENJOYING THE STATUS OF AN INDUSTRIAL ZONE (ISKANDER ABAD COLONEY) IN THE DIST DUE TO DIFFERENT FACTORIES, I.E, MAPLE LEAF CEMENT FACTORY, PAK AMERICAN FERTILIZER FACTORY, CAUSTIC SODA MANUFACTURING FACTORY, DYING FACTORY ALSO SITUATED IN ISKANDER ABAD, DAUD KHEL.

  میرا   داؤدخیل – منورعلی ملک

سکندرآباد سے داؤدخیل میں داخل ھونے کےدوراستے ھیں- ایک تو ھاؤسنگ کالونی سکندرآباد کا جنوبی گیٹ ھے، جہاں سے سڑک مرحومہ پنسلین فیکٹری کے سامنے سے گذرتی ھوئی داؤدخیل ریلوے سٹیشن تک جاتی ھے- لیکن پیدل یا سائیکل / موٹرسائیکل پر آنے جانے والے زیادہ تر لوگ کالونی کے چھوٹے مغربی گیٹ سے آتے جاتے ھیں ، کیونکہ یہ راستہ شارٹ کٹ ھے- گیٹ سے نکل کر ریلوے پھاٹک کراس کرتے ھی آپ داؤدخیل میں داخل ھو جاتے ھیں-

لیجیے ھم ڈھکی ڈیرہ اسمعیل خان سے چل کر بلوٹ، کڑی خسور، کنڈل، کھگلانوالہ ، عیسی خیل ، کلوانوالہ ، کلور، ماڑی شہر ، پکی شاہ مردان اورسکندرآباد سے ھوتے ھوئے ایک بار پھر داؤدخیل آگئے- علامہ اقبال نے اپنے استاد محترم داغ دہلوی کے بارے میں کہا تھا-

آنکھ طائر کی نشیمن پر رھی پرواز میں

کچھ یہی حال اہنا بھی ھے ، جہاں بھی جاؤں ایک آنکھ داؤدخیل ھی پہ رھتی ھے- یہ میرا شہر، میرا گھر ھے- میرے خاندان کے جتنے لوگ گھرمیں موجودھیں، اتنے ھی میاں رمدی کے قبرستان میں بھی ھیں، اس لیے یہ قبرستان بھی میرا ھے-

داؤدخیل میں ھرقدم پر میرے بچپن اور جوانی کی یادیں میری راہ تکتی رھتی ھیں—- شہر کے شمال مشرقی سرے پر ریلوے سٹیشن ھے- بچپن میں میں اپنے کزن غلام حبیب ھاشمی کے ساتھ سکول سے فرار ھو کر یہاں آنے جانے والی ٹرینوں کو دیکھنے کے لیے آیا کرتا تھا- اپنے اس شوق کے جرم میں کئی دفعہ اپنے چچا ملک محمد صفدرعلی سے مار بھی کھائی- داؤدخیل کے لوگ سٹیشن کو ٹیشن (ٹی شن) کہا کرتے تھے- انتہائی آوارہ آدمی کو ٹیشن آلا کتا کہتے تھے- گھرکے لوگوں نے ھم دونوں کو بھی یہی نام دے رکھا تھا– 6 نومبر 2017-

داؤدخیل شہر ، ریلوے لائین اور میانوالی / کالاباغ روڈ کے درمیان واقع ھے – یہ شہر تقریبا دوکلومیٹر لمبا – ایک کلومیٹر چوڑا ھے- شہر مین روڈ سے تقریبا آدھا کلومیٹر مشرق میں سڑک سے پانچ سات فٹ بلند جگہ پر واقع ھے- اس بلند ی کی وجہ یہ ھے کہ یہ شہر کسی زمانے میں دریا کے کنارے واقع تھا- دوچارسو سال پہلے دریا تو رخ بدل کر یہاں سے پانچ سات میل مغرب میں چلاگیا، شہر اپنی جگہ موجود رھا- اس بلند جگہ کو آج بھی منڑں یا منڑیں (دریا کا کنارا) کہتے ھیں- محلہ علاؤل خیل اور لمے خیل اس منڑں کے عین کنارے پر واقع ھیں- اب سڑک کے قریب بھی خاصی آبادی ھو گئی ھے- اس آبادی کو منڑیں تلے والی آبادی کہتے ھیں-

پرانے زمانے میں لوگ پانی کی خاطر دریاؤں کے کنارے شہر بسایا کرتے تھے- لاھور کو دیکھ لیں ، دریائے راوی کےکنارے واقع ھے- پنڈی دریائے سواں کے کنارے پر ھے، کراچی سمندر کنارے—
ضلع میانوالی میں پپلاں، کندیاں، وتہ خیل ، بلوخیل، شہبازخیل، روکھڑی، موچھ ، داؤدخیل، ماڑی، کالاباغ، مندہ خیل، کمر مشانی، عیسی خیل وغیرہ سب دریا کے کنارے آباد ھوئے ، بعد میں دریا رخ بدل کر کچھ شہروں سے دور ھو گیا، کچھ اب بھی کنارے پر واقع ھیں-

داؤدخیل شہر دوحصوں پر مشتمل ھے- شمالی حصے کو اتلا (اوپروالا) شہر کہتے ھیں- یہ حصہ محلہ داؤخیل، سالار، شریف خیل ، سمال خیل ، کڑاخیل، کنوارے خیل اور ریلوے سٹیشن کے قریب کنوں خیل تک پھیلا ھؤا ھے-

شہر کا جنوبی حصہ تلواں (نچلا) شہر کہلاتا ھے- یہ حصہ محلہ لمے خیل، علاؤل خیل ، امیرے خیل، اسلام آباد (جی ھاں ، ایک اسلام آباد ھمارے داؤدخیل میں بھی ھے) انزلےخیل ، اللہ خیل ، مبارک آباد , شکور خیل اورڈیرہ خٹکی خیل پر مشتمل ھے-

بہرام خیل اور خدرخیل قبیلوں کا ذکر انشاءاللہ کل کی پوسٹ میں ھوگا- اس تقسیم کے حوالے سے کچھ اور دلچسپ معلومات بھی ھوں گی– 7 نومبر 2017-

داؤدخیل سٹیشن سے جو سڑک شہر کو جاتی ھے وہ سول ھسپتال کے سامنے سے گذرتی ھوئی بنک چوک میں دو شاخوں میں تقسیم ھو جاتی ھے-
داؤدخیل کا سول ھسپتال قیام پاکستان سے بھی پہلے کا ھے- عام طور پہ یہاں کوئی ڈاکٹر شاذونادر ھی رھتا تھا- آیک آدھ ڈسپنسر ھسپتال چلاتا تھا- ھمارے بچپن کے زمانے میں بیماریاں بہت کم اور علاج بہت سادہ ھوتا تھا- گولیوں اور کیپسولز کی بجائے مکسچر ھوتےتھے- شربت کی قسم کے یہ مکسچر کمپاؤنڈر ڈسپنسر خود بنایا کرتے تھے- ھاضمے کی ھر بیماری کا علاج 28 نمبر مکسچر تھا- ملیریا بخار کے لیے پانی کے رنگ کا کونین مکسچر ھوتا تھا- انکھوں کے امراض کے لیے دو قسم کے قطرے ھوتےتھے- زیادہ تر زرد رنگ کے قطرے چلتے تھے ،آنکھوں میں درد زیادہ ھوتا تو کالے رنگ کے ڈراپس آنکھوں میں ڈالا کرتے تھے- یہ دونوں قسم کے ڈراپس بھی ڈسپنسر ھی بناتے تھے- بازار سے کوئی دوا نہیں خریدنی پڑتی تھی- علاج بالکل مفت ھوتا تھا –
یہی دوچار سیدھی سادی بیماریاں ھوتی تھیں، اور یہی سادہ سے علاج – کینسر، بلڈ پریشر ، ھارٹ اٹیک کا کسی نے نام بھی نہیں سنا تھا- اکا دکا ٹی بی کا کیس ھوتا تھا- اس کا کوئی مستقل علاج تو اس زمانے میں نہیں ھوتا تھا- انجیکشنز سے مریض کی موت کو کچھ دن مؤخر کرلیا جاتا تھا-

ھمارے بچپن کے دورمیں یہاں صرف ایک ھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر آئے تھے- ان کا نام محبوب سبحانی تھا- دوچار سال یہاں رھے- بہت خوش اخلاق اور لائق ڈاکٹر تھے-

ڈسپنسر بھی بہت اچھے اور قابل ھوتے تھے- محمد رمضان ، ملک افضل ، حاجی خان محمد اور عنایت اللہ قریشی اپنے اپنے قیام کے دوران بہت مقبول رھے- اس سلسلے کی آخری کڑی عبدالرزاق شاہ ھمدانی تھے- ریٹائرمنٹ کے بعد یہیں مستقل طور پر مقیم ھو گئے ، آج کل ھمدانی میڈیکل سٹور کے نام سے اپنا میڈیکل سٹور چلارھے ھیں-
اس ساری کہانی میں اھم بات یہ ھے، کہ گذرے زمانے میں لوگ بہت غریب تھے- اس لیے اللہ کریم نے ان کے لیے بیماریاں بھی سادہ رکھی ھوئی تھیں، علاج بھی مفت ھوتا تھا– 8 نومبر 2017-

داؤدخیل کے بنک چوک سے جنوب کی طرف جانے والی سڑک میاں رمدی صاحب کے قبرستان سے آگے میانوالی عیسی خیل روڈ سے جا ملتی ھے- ھمارے گھر اسی سڑک کے بائیں جانب محلہ مبارک آباد میں واقع ھیں-
اس سڑک کو جرنیلی سڑک کہا جاتا تھا- سنا تھا یہ سڑک شیرشاہ سوری نے فوجی مقاصد کے لیے بنوائی تھی- اس لیے اسے شیرشاہ سوری روڈ بھی کہا جاتا ھے- شیر شاہ سوری کی بنوائی ھوئی جرنیلی سڑک کےبارے میں کچھ کنفیوژن سی لگتی ھے- کیونکہ ضلع میانوالی میں اب اس سڑک کے کچھ ٹوٹے ھی باقی رہ گئے ھیں- ان ٹوٹوں کو آپس میں ملانے کا تصور ھی کیا جاسکتا ھے٠ اور تصور میں غلطی کا امکان بھی ھو سکتا ھے-
داؤدخیل میں یہ جرنیلی سڑک محلہ شکور خیل سے شہر کے شمالی سرے تک تو واضح ھے- پختہ سڑک میاں رمدی کے قبرستان کے مغرب سے گذرتی ھے، لیکن جرنیلی سڑک ٹھٹھی کی جانب سے آکر میاں کھچی کے قبرستان کے مشرق سے گذرتی ھوئی داؤدخیل میں داخل ھو جاتی تھی- ان دوقبرستانوں سے آگے شہر کے اندر یہ سڑک بہت واضح ھے-
جنوب کی طرف ٹھٹھی سے یہ سڑک ریلوے لائین کراس کرکے پہاڑ کے کنارےکنارے پائی خیل ، سوانس، غنڈی ، موسی خیل ، چھدرو وغیرہ سے گذرتی ھوئی واں بھچراں جا پہنچتی تھی- واں بھچراں میں شیر شاہ سوری کی بنوائی ھوئی واں اسی سڑک کے کنارے واقع ھے-
داؤدخیل شہر سے شمال کی جانب اس سڑک کے آثار واضح نہیں ، اندازہ یہ ھے کہ بنک چوک سے شمال میں یہ سڑک شہر سے نکل کر گلن خیل سے ھوتی ھوئی ماڑی تک جاتی تھی- سڑک کا یہ حصہ کچھ کچا ھے کچھ پختہ –

ایک جرنیلی سڑک وتہ خیل ، بلوخیل سے بھی گذرتی ھے ، اسے بھی شیرشاہ سوری سے منسوب کیا جاتا ھے- خدا جانے اصلی سڑک یہ ھے یا ھمارے والی، یا شاید دو سڑکیں تھیں- تاریخ جغرافیے میں ذرا کمزور ھوں – محترم ظفرخان نیازی سے اس سلسلے میں رھنمائی چاھوں گا-

 ھماری داؤدخیل کی سڑک جرنیلی سڑک توپہلے ھی کہلاتی تھی ، کیوں نہ اسے اپنے اصلی جرنیل شہید ثناءاللہ خان نیازی سے منسوب کردیں ، کہ ان کی آخری آرام گاہ اسی سڑک کے قریب واقع ھے- ان کی آخری آرام گاہ کے حوالے سے یہ کہنا ضروری سمجھتا ھوں کہ اس پر سائبان ضرور ھونا چاھئے- قبر بے شک سادہ ھو لیکن اس پر سائے کا بندوبست شہید کے احترام کا تقاضا ھے- امین اللہ خان توجہ فرمائیں–                                                                                                                                                                                                                                                                                                            جنرل ثناءاللہ نیازی شہید
مسجد شکور خیل کے قریب جرنیلی سڑک

 9 نومبر 2017-

مسجد شکور خیل سے شمال کی طرف جائیں تو سڑک کے دائیں طرف محلہ مبارک آباد ھے – یہ محلہ میرے داداجی مولوی ملک مبارک علی کے نام سے منسوب ھے- اس محلے میں بیس پچیس گھر ھماری فیملی کے ھیں، کچھ سنگوال اور باجوہ قوم کے اور چند گھر بہرام خیل، عرب زئی اور خانے خیل قبیلے کے ھیں –

اس محلے سے آگے دائیں طرف محلہ اللہ خیل اور بائیں جانب محلہ انزلے خیل ھے- اللہ خیل قبیلے کی سب سے نمایاں شخصیات باؤعزیزاللہ خان اور محمد اکرم خان ھیں- انزلے خیلوں میں مرحوم حبیب اللہ خان پرنسپل سکندرآباد ھائی سکول، انجینیئر حمیداللہ خان (یہ بھی میرے بہت لائق سٹوڈنٹ رھے) ان کے کزن امان اللہ خان اور لیبر لیڈر قدرت اللہ خان ھیں-

محلہ اللہ خیل اور انزلے خیل سے آگے محلہ امیرے خیل شروع ھو جاتا ھے- بہت بڑا محلہ ھے- امیرے خیل قبیلہ یارن خیل ، محمد اعظم خیل ، شنےخیل اور خانے خیل فیملیز پر مشتمل ھے-

میرا بچپن زیادہ تر اسی محلے میں گذرا- میری والدہ کی منہ بولی بہن محترمہ عالم خاتوں المعروف دیدے عالو مجھے اپنابیٹا سمجھتی تھیں- میری والدہ سے کہا کرتی تھیں، یہ لڑکا تمہارا کچھ نہیں لگتا، اسے میں نے امیرے خیل بنا دیا ھے- ان کی اس شفقت کی وجہ سے ان کے خاندان کے لوگ آج بھی مجھے اپنے خاندان کا فرد سمجھتے ھیں- معروف نوجوان صحافی ضیاءنیازی اسی خاندان کے چشم و چراغ ھیں- اس خاندان کی نوجوان نسل کے اور لوگ بھی مجھے اپنا بزرگ سمجھتے ھیں- اللہ سب کو سلامت رکھے-ا- میری بہت سی یادیں اس خاندان سے وابستہ ھیں-10 نومبر 2017–

صحافی ضیاءنیازی

محلہ امیرے خیل میں میرے دوتین اور گھر بھی ھیں- ایک میرے استاد محترم مرحوم عیسب خان نیازی کا- چھٹی کلاس میں وہ میرے ٹیچر تھے- بعد میں ٹھٹھی سکول میں میرے رفیق کار بھی رھے- ان کے صاحبزادے حاجی انعام اللہ خان اور نعیم اللہ خان میرے سٹوڈنٹ رھے- انعام اللہ خان پہلے ایک فیکٹری میں ملازم تھے ، ریٹائرمنٹ کے بعد داؤدخیل میں کلاتھ ھاؤس بنا لیا- نعیم اللہ خان ، انورعلی پبلک سکول داؤدخیل کے وائس پرنسپل ھیں- ان کے تیسرے بھائی حمید خان سول انجنیئر ھیں-

ماسٹر عیسب خان صاحب دیدے جی عالم خاتوں کے خالہ زاد کزن تھے- ان کے صاحبزادے بھی مجھ سے بہت محبت رکھتے ھیں- اللہ سب کو سلامت رکھے-
ان کے قریبی رشتہ دار مشہور ماھر تعلیم عبدالغفورخان پہلی سے دسویں کلاس تک میرے کلاس فیلو رھے- ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریٹائر ھوئے- آج کل داؤدخیل میں اسلامیہ ھائیر سیکنڈری سکول کے نام سے اپنا تعلیمی ادارہ چلا رھے ھیں – انگلش کے باکمال ٹیچر , اور میرے بہت قریبی دوست ھیں-

امیرے خیل قبیلے کی ایک شاخ برتھےخیل کے صوفی عبداللہ خان داؤدخیل میں میرے بچپن کے قریب ترین دوست تھے- والدین کے اکلوتے بیٹے تھے- تعلیم سے زیادہ کاشتکاری کا شوق تھا، والد کی بہت سی زمین تھی- عبداللہ خان کاشتکاری میں مشغول ھوگئے- پچھلے دنوں سنا بیمار ھیں – اللہ ان کو شفائے کاملہ عطا فرمائے- تبلیغی جماعت کے بہت سرگرم کارکن تھے- اب بھی یہی کام کر رھے ھوں گے-

محلہ امیرے خیل سے نکلنے کو جی تو نہیں چاھتا، لیکن قافلہ ساتھ ھے- کل انشاءاللہ یہاں سے جرنیلی سڑک پہ شمال کی جانب آگے چلیں گے —

داؤدخیل سے آپ لوگوں کو دلچسپی ھونہ ھو ، میرا تو یہ گھر ھے- مجھے تو اس کی خاک کے ایک ایک ذرے سے پیارھے، یہ سوچ کر میرے ساتھ چلتے رھیئے کہ داؤدخٰیل ھی وہ شہر ھے جس نے آپ کو منورعلی ملک دیا- اللہ میرے اس شہر کو اور آپ سب کو آباد رکھے– 13 نومبر 2017-

محلہ امیرے خیل سے جرنیلی سڑک پر شمال کو جائیں تو دائیں ھاتھ پہ محلہ اسلام آباد آتا ھے- آج کل اسے محلہ خدرخیل کہتے ھیں- کیونکہ اس میں زیادہ تر آبادی خدرخیل قبیلے کی ھے- خدر خیل خاصا بڑا قبیلہ ھے- پہلے یہ لوگ محلہ داؤخیل میں رھتے تھے، لیکن پھر آپس کے لڑائی جھگڑوں کے باعث اس قبیلے کی زیادہ تر آبادی یہاں منتقل ھوگئی- محلہ داؤخیل میں اب شاید ھی اس قبیلے کا ایک آدھ گھر باقی بچا ھو- خدر خیل قبیلے کے کچھ گھر ٹھٹھی میں بھی ھیں- اس قبیلے کے کچھ لوگ فوج اور پولیس میں ملازم رھے، کچھ داؤدخیل کی فیکٹریز میں ملازم ھیں- مشہور لیبر لیڈر محمدحیات خان ھمارے سٹوڈنٹ بھی رھے- اب تو ملازمت سے ریٹائرھو چکے ھوں گے- اس قبیلے کے فیض اللہ خان میرے دادا جی کے سٹوڈنٹ تھے- روشن خان میرے کلاس فیلو تھے، اب پتہ نہیں کہاں ھیں- میرے سٹونٹ تو بے شمار ھوں گے ، نام یاد نہیں آرھے-
محلہ اسلام آباد کے شمالی نصف حصے میں سالار قبیلے کے کچھ گھر ھیں- حبیب ایکٹرانکس والے مرحوم حبیب اللہ خان اور انورعلی پبلک سکول کے بانی پرنسپل عظمت اللہ خان نیازی، گلشیرخان ، جہان خان جماعت اسلامی والے، حفیظاللہ خان ,لیبرلیڈر مہرخان نیکوخیل اس علاقے کی معروف شخصیات ھیں-
ھمارے بچپن کے زمانے میں محلہ اسلام آباد / خدرخیل کی جگہ ایک وسیع و عریض میدان ھؤاکرتا تھا- ھر سال مارچ اپریل میں یہاں کبڈی کے بہت بڑے بڑے میچ ھؤا کرتے تھے- سڑک کے دونوں طرف آبادی کا نام نشان تک نہ تھا- صرف دائیں طرف بنک چوک کے قریب مرحوم ماسٹر نواب خان سالار کی فیملی کے چند گھر تھے- ماسٹر صآحب ، عظمت اللہ خان کے دادا تھے-
سڑک کے بائیں جانب محلہ امیرےخیل سے مسجد داؤخیل تک بھی کوئی آبادی نہ تھی- یہ ساراعلاقہ زرعی زمین تھا جسے بھورا کہتے تھے- محلہ خدرخیل آباد ھونے سے پہلے یہاں سے ریلوے سٹیشن کو ایک شارٹ کٹ بھی جاتا تھا –
آج ھم بنک چوک پہنچے ھیں – کل یہاں سے بقیہ شہر کے نقشے پر ایک سرسری نظرڈال کر سڑک کی بائیں شاخ پہ جنوب کو مڑجائیں گے- -انشاءاللہ – 14 نومبر 2017-

ایک ھی پھیرے میں پورے داؤدخیل کی سیر تو ممکن نہیں- فی الحال ھم اپنا دورہ مین روڈ تک ھی محدود رکھیں گے- بقیہ شہر کی سیر کبھی بعد میں کر لیں گے-
بنک چوک سے مغرب کو سڑک نئی آبادی محلہ سالار میں سے گذرتی ھے- اس محلے میں میرے استادمحترم ماسٹر شاہ ولی خان کا گھر بھی ھے- وہ پانچویں کلاس میں ھمارے ٹیچر تھے- بہت اعلی ادبی ذوق کے حامل تھے- ان کا پڑھانے کا انداز بھی بہت دلکش تھا-
میانوالئی کے معروف بزرگ شاعر جناب سالارنیازی بھی اسی قبیلے کے بزرگ تھے- ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد میانوالی میں گھر بنا لیا، مگر داؤدخیل اکثرآتے جاتے رھے- اپنے قبیلے سے ان کی محبت کا اظہار ان کے تخلص”سالار” کی شکل میں ان کی شخصیت کا مستقل جزو بن گیا–
داؤدخٰیل کی سیاسی تاریخ میں چاچا دوست محمد خان نمبردار کا نام بہت نمایاں ھے- آخردم تک کالاباغ گروپ سے وابستہ رھے- کالاباغ کے نواب امیرمحمد خان کے معتمد ساتھی تھے- ان کے بڑے صاحبزادے فتح خان نیازی میرے بڑے بھائی ملک ًمحمدانورعلی کے منہ بولے بھائی تھے- محکمہ نہر میں اکاؤنٹنٹ تھے- اربوں روپے کا حساب کتاب رکھتے تھے، لیکن کبھی ایک پیسہ بھی رشوت نہیں لی- ٹھیکیدار بھی ان سے ڈرتے تھے-

سڑک بائیں طرف مڑتی ھوئی داؤدخیل کی مشہور مسجد محلہ داؤخیل کے قریب سے گذرکر چاچا دوسا کے گھر کے سامنے پھر بائیں جانب مڑجاتی ھے-
چاچا دوسا لمےخیل قبیلے کی تاریخی شخصیت تھے- دیرینہ دشمنی کی بنا پر ان کے مخالفین نے ان کے دونوں بازو کاٹ دیئے تھے- گھر میں کریانے کی معمولی سی دکان عمر بھر ان کا وسیلہ رزق رھی – ان کے بارے میں داؤدخیل کےنامورھندو افسانہ نگار ھرچرن چاولہ نے “دوسا” کے عنوان سے ایک افسانہ بھی لکھا تھا، جو پورے برصغیر میں بہت مشہورھؤا- یہ افسانہ لاھور کے نامور ادبی جریدے “ادب لطیف” میں شائع ھؤا تھا-

چاچا دوسا کے گھر سے ذرا آگے ، سڑک کے دائیں ھاتھ پہ باؤعنایت اللہ اتر خیل کا گھر ھے- کیا بتاؤں مرحوم عنایت اللہ میرے لیے کیا تھے- میرے سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر میری خدمت کرتے رھے- میری ھر فرمائش کو حکم سمجھتے تھے- یوں سمجھیے کہ انہیں مجھ سے عشق تھا- اچانک کینسر میں مبتلا ھو کرچل بسے- زندگی کے آخری دن پنڈی کے ھسپتال میں بسر کیے- انہی آخری دنوں میں کسی نے مجھے ان کا فون نمبر دیا – میں ان دنوں لاھورمیں تھا – میں نے نمبر ملایا، مگر پھر فورا بند کردیا- بات کرنے کی ھمت نہ کر سکا – مرتے ھوئے بھائی سے بات کرنے کی ھمت کون کر سکتا ھے – فون بند کر کے دیر تک آنسوبہاتا رھا-
– 15 نومبر 2017-

داؤدخیل میں طویل قیام سے آپ تنگ تو نہیں آگئے -؟ یاری تو نہ ھوئی، اگر آپ میرے شہر سے تنگ آجائیں- میری انگلی پکڑ کر چل رھے ھیں ، تو جہاں , اور جتنی دیر میں چاھوں رکنا بھی پڑے گا-

سفر کا روٹ تو آپ کو یاد ھو گا-

آج ذکر ھے داؤدخیل کی اھم شخصیات کا- چھوٹا سا شہر ھے، مگر یہاں کے لوگوں کو بھی رب کریم نے بے شمار صلاحیتوں سے ھمیشہ مالا مال رکھا ھے- پہلے ان نمایاں شخصیات کا تذکرہ جو اب اس دنیا میں موجود نہیں-

قبیلہ شریف خیل کے بابا صالح محمد نیازی ھؤاکرتےتھے- دبلے پتلے ، سرخ و سفید رنگت – ھمارے دوست ظفرخان نیازی سے ان کی شکل و صورت ملتی جلتی تھی- دونوں شریف خیل ھیں ، اس لیے یہ مشابہت تعجب کی بات نہیں-

بابا صالح محمد نیازی شعلہ بیان مقرر تھے- آل پاکستان ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے تاحیات چیئرمین رھے- بابا نیازی کی انگلی کے اشارے پر پاکستان بھر کی ٹرانسپورٹ رک جاتی تھی- بہت زبردست جدوجہد کی انہوں نے ٹرانسپورٹ ورکرز کے لیے- بہت سے حقوق دلوائےان کو ، بہت سے ما فیا ز کو شکست دی – کئی بار جیل گئے، مگر اپنے مؤقف پہ چٹان کی طرح ڈ ٹے رھے- اس دبلے پتلے انسان سے حکومتیں بھی ڈرتی تھیں- مولانا عبدالستارخان نیازی کو تو آپ نے دیکھا سنا ھوگا- سیاست اور خطابت میں بابا صالح محمد نیازی کا بھی وھی انداز تھا-

قبیلہ شریف خیل ھی کے بھائی محمد شریف خان بھی بہت صاحب کردار لیڈر تھے- داؤدخیل میں جماعت اسلامی کو انہوں نے متعارف بھی کرایا، منظم بھی- مخالفین بھی ان کی عزت کرتے تھے- بھائی محمد شریف خان مولانا مودودی کے معتمد ساتھیوں میں شمار ھوتے تھے- 20 نومبر 2017-

داؤدخیل کا محلہ لمے خیل اس لحاظ سے بہت اھم ھے کہ آج سے تقریبا سو سال پہلے شہر کا پہلا سکول اسی محلے میں قائم ھؤا- ابتدا میں یہ مڈل سکول تھا- سکول کے ساتھ طلبہ کی رھائش کے لیے ھاسٹل بھی تھا، جسے اس زمانے میں بورڈنگ ھاؤس کہا جاتا تھا- یہ سکول ڈسٹرکٹ بورڈ (ضلع کونسل) نے قائم کیا تھا- 1950 میں اسے ھائی سکول کا درجہ دے دیا گیا- جب گورنمنٹ کی تحویل میں آیا تو گورنمنٹ ھائی سکول کہلانے لگا- اب ھائرسیکنڈری سکول ھے–

میں نے پہلی سے دسویں کلا س تک تعلیم اس سکول سے حاصل کی ، بعد میں تقریبا چار سال یہاں انگلش ٹیچر بھی رھا- میرے بڑے بھائی ملک محمد انورعلی تقریبا تیس سال اس سکول کے ھیڈماسٹر رھے- جب یہ مڈل سکول تھا تو میرے دادا جان مولوی مبارک علی بہت عرصہ یہاں ھیڈماسٹر رھے- ھم نے ھوش سنبھالا تو وہ ریٹائر ھو چکے تھے، لیکن ان کا نام داؤدخیل میں آج بھی زندہ ھے-

محلہ لمے خیل کے حقنواز خان پولیس کے ریٹائرڈ ڈی ایس پی اور ھمارے بہت مہربان دوست تھے- ان کے صاحبزادے محمد نوازخان چئرمین اورنعمت اللہ خان میرے سٹوڈنٹ رھے-
ماسٹررب نواز خان میرے استاد محترم تھے- ان کے بڑے صاحبزادے مطیع اللہ خان پنسلین فیکٹری میں انجینیئر تھے- ان سے چھوٹے عطاءاللہ خان بھی انجینیر ریٹائر ھوئے- وہ میرے سٹوڈنٹ بھی رھے- ان سے چھوٹے عصمت اللہ خان بھی میرے سٹوڈنٹ رھے- ڈائریکٹر سپورٹس تھے- اب وہ بھی رٰیٹائر ھو چکے ھوں گے- ان کے سب سے چھوٹے بھائی میرے سٹوڈنٹ تو نہیں رھے، سنا ھے والی بال کے با کمال کھلاڑی ھیں-

کھیلوں میں محلہ لمے خیل ھمیشہ سرفہرست رھا ھے- سکول کے صحن میں دن کے پچھلے پہر والی بال کا میچ روزانہ بلاناغہ ھوتا چالیس سال تو میں نے دیکھا ھے- شاید اب بھی ھوتا ھو- والی بال لمے خیلوں کا آ بائی کھیل ھے- بچے ھوش سنبھالتے ھی والی بال کھیلنا شروع کر دیتے ھیں-
ایک دفعہ میچ پہ کچھ لوگ ڈھول والے چاچا غلام حیدر میراثی کو لے آئے- اچانک ھمارے استاد محترم ماسٹر عالم خان نے یہ کہہ کر غلام حیدر سے ڈھول چھین لیا 147 پرے ھٹ مردود- تجھے بجانا ھی نہیں آتا 147 پھر ڈھول اپنے گلے میں ڈال کر دھڑا دھڑ بجانا شروع کردیا- واقعی بہت کمال کا ڈھول بجا لیتے تھے- بہت زندہ دل لوگ تھے، اللہ سب کو اپنی رحمت کا سایہ نصیب فرمائے-(پکچر —– گورنمنٹ ھائی سکول داؤدخیل کی پرانی عمارت)- 21نومبر 2017-

گھر کے بعد انسان کے لیے سب سے پیاری جگہ وہ سکول ھوتا ھے جہاں سے اس نے تعلیم حاصل کی ھو- پرسوں کی پوسٹ میں گورنمنٹ ھائی سکول داؤدخیل کا ذکر ھؤا تو بہت سے لوگوں نے کمنٹس میں بڑے پیار سے اس سکول ، اپنے ٹیچرز اور دوستوں کی یادوں کا تذکرہ چھیڑ کر اپنا دل بہلا لیا- ان میں سے کچھ لوگ وہ ھیں جو اب بیرون ملک رھتے ھیں- کچھ بہت پرانے سٹوڈنٹس بھی ھیں ، مگرپیار تو وقت اور فاصلوں کی قید سے آزاد ھوتا ھے- وہ سٹوڈنٹ جو پڑھنے لکھنے میں دلچسپی نہیں لیتے ، سکول سے اکثر غائب رھتے ھیں ، وہ بھی اپنے سکول کے دور کو اپنی زندگی کا بہترین دور سمجھتے ھیں-
گورنمنٹ ھائی سکول داؤدخیل سے میرا تعلق چار نسلوں پر محیط ھے- داداجی یہاں ھیڈماسٹر رھے، پھر میرے بھائی ملک محمد انورعلی یہاں ھیڈماسٹر رھے، اسی دور میں میرے چچا ملک محمد صفدرعلی بھی وھاں ٹیچر رھے- میں بھی چارسال وھاں انگلش ٹیچر رھا، میرے کزن ملک ریاست علی اور ملک فرحت علی بھی یہاں رھے ، میرے چھوٹے بھائی مظفر علی ملک بھی یہاں ٹیچر رھے، اب بھائی مظفرعلی کے صاحبزادے رضوان علی ملک بھی اس سکول میں انگلش ٹیچر ھیں-
میرے کلاس فیلوز میں سے بہت سے تو رخصت ھو گئے، پتہ نہیں کتنے ابھی اس دنیا میں موجود ھیں- اللہ سلامت رکھےماھرتعلیم عبدالغفورخان امیرے خیل سے تو کبھی کبھی ملاقات ھوتی رھتی ھے- یہ پہلی سے دسویں کلاس تک میرے کلاس فیلو رھے- چند سال پہلے عطاءاللہ خان داؤخیل المعروف عطاءاللہ ممبر سے فون پر رابطہ ھؤا تھا- امید ھے وہ بھی زندہ و سلامت ھوں گے- کریم دادخان علاؤل خیل سر پہ طرہ لگائے اب بھی جوانوں کی طرح چلتے پھرتے نظرآتے ھیں- بانسری بجانے کے ماھر تھے- لیڈر بنے تو یہ شغل چھوڑنا پڑا- باقی ساتھیوں کا کچھ پتہ نہیں ، داؤدخیل جاکر سنبھالوں گا کہ کتنے باقی رہ گئے- — 23 نومبر 2017-

داؤدخیل کی شہرت کا ایک اھم سبب مسجد بلال بھی ھے- حسن تعمیر کا یہ شاھکار شہر سے باھر ، میانوالی / عیسی خیل روڈ اور نہر کے درمیان واقع ھے- ادھر سے گذرتے ھوئے کئی لوگ گاڑیاں روک کر اس خوبصورت مسجد کی پکچرز اپنی حسین یادوں کے خزانے میں محفوظ کر لیتے ھیں- سکندرآباد کی فیکٹریز کے دورے پر آنے والے غیرملکی انجینیئرز بھی اس مسجد کی پکچرز ضرورساتھ لے جاتے ھیں- چیز ھی ایسی ھے کہ اس پر نظر پڑتے ھی قدم بے اختیار رک جاتے ھیں-

یہ مسجد سڑک کے کنارے والی بال کھیلنے والے نوجوانوں نے تعمیر کی- محکمہ نہر اور محکمہ شاھرات نے اس تعمیر کو خلاف قانون قرار دیا ، مسجد کی انتظامیہ کے خلاف ھائی کورٹ میں مقدمہ چلا- عدالت نے یہ کہہ کر مقدمہ خارج کر دیا کہ مسجد جب ایک بار بن گئی ھے تو اسے مسمار نہیں کیا جا سکتا-

اس مسجد کی تعمیر میں ادھر سے گذرنے والی ٹریفک نےبھی بہت اھم کردار اداکیا- سیمنٹ اور کھاد فیکٹریز میں آنے جانےوالے سیکڑوں ٹرکوں اور میانوالی / عیسی خیل آنے جانے والی بسوں کے ڈرائیور حضرات اس کارخیر میں دل کھول کر حصہ ڈالتے رھے- شہر کے لوگ بھی حسب توفیق اس میں حصہ ڈالتے رھے- مسجد کی تکمیل کے بعد اس کی دیکھ بھال اور سہولتوں کی فراھمی کے لیے لوگ اب بھی اپنی خوشی سے چندہ دیتے رھتے ھیں-

مسجد بلال کے نلکے کا صاف شفاف ٹھنڈا پانی شہر بھر کے لوگ لے جاتے ھیں- گرمی کےموسم میں یہاں پانی لینے والے لوگوں کی قطاریں لگی ھوتی ھیں- لالا عیسی خیلوی بھی یہیں سے پانی لیتے ھیں-

اس مسجد کی شہرت و برکت کا اصل سبب سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ کا اسم گرامی ھے- سیدنا بلال سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم کے عاشق ھی نہیں محبوب بھی تھے- خلوص دل سے داؤدخیل کےنوجوانوں نے ان کے نام پر مسجد بنائی تو اللہ نے وسائل کے دروازے کھول دیئے –

کچھ کم بخت لوگ مذاق کے طور پہ اس مسجد کو ھیروئنیوں والی مسجد کہتے ھیں، یہ اس مقدس نام کی توھین ھے جس سے یہ مسجد منسوب ھے– 24 نومبر 2017-

داؤدخیل کے لاری اڈا / بس سٹاپ کا نام و نشان بھی نہ تھا – لوگ نہر کے پل کے سامنے سڑک پر کھڑے ھو کر بس کا انتظار کیا کرتے تھے- داؤدخیل آنے والے لوگ اسی جگہ بس سے اترتے تھے-

قبیلہ انزلے خیل کے حاجی مدد خان پولیس کی ملازمت سے ریٹائر ھوئے تو انہوں نے پل کے سامنے سڑک کے مشرقی کنارے سے داؤدخیل شہر کو جانے والے راستے پہ مسجد کی تعمیر کا آغاز کردیا-

اس سے بس سٹاپ پر آنے جانے والے لوگوں کو نماز کے علاوہ پانی کی سہولت بھی فراھم ھو گئی- بارش اور دھوپ سے بچنے کے لیے سایہ بھی مہیا ھوگیا- حاجی مدد خان کا گھر تو یہاں سے دور شہرکے اندر تھا، مگر وہ اس مسجد کو آباد رکھنے کے لیے نمازیں اسی مسجد میں ادا کیا کرتے تھے- اس مسجد کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ھؤا کہ باھر سے آنے والے لوگوں کے لیے یہ مسجد داؤدخیل کی شناخت بن گئی— اب تو ماشاءاللہ یہاں کچھ گھر اور دکانیں بھی بن گئی ھیں- اچھی خآصی بارونق جگہ بن گئی ھے- مسجد کی تعمیر سے پہلے دور دور تک آبادی کا نام و نشان تک نہ تھا –

اسی قسم کا کارخیر اسی قبیلہ انزلےخیل کے بزرگ حاجی ارسلاخان نے بھی سرانجام دیا- ھمارے محلہ مبارک آباد کی مسجد کے ساتھ جنازہ گاہ کی تعمیر کے لیے حاجی ارسلاخان نے بہت محنت کی – ان کی اس محنت سے شہر کے تین چارمحلوں کی مشترکہ محفوظ جنازہ گاہ بن گئی –
حاجی مددخان اور حاجی ارسلا خان امیر آدمی نہیں تھے- انہوں نے بہت محنت سے لوگوں کو ان امورخیر میں تعاون پر آمادہ کیا- بہت لوگوں کی الٹی سیدھی باتیں برداشت کرنی پڑیں مگر انہوں نے اللہ کی رضا کے لیے جس کام کا آغاز کیا تھا، اسے مکمل کر کے ھی دم لیا- اب وہ دونوں اس دنیا میں موجود نہیں – اللہ دونوں کو اجر عظیم عطا فرمائے– 25 نومبر 2017

FAMOUS PERSONALITIES OF DAUD KHEL

HAJI AMEEN ULLAH KHAN NIAZI (NAZAM OF DAUD KHEL AND SON OF SSP KHAN KHALASS KHAN NIAZI)

PROFESSOR  MUNAWAR ALI MALIK

KHAN SARDAR KHAN NIAZI(LATE) LAMAY KHEL.

PRIDE OF DAUD KHEL & DAUD KHELVIES

Major General Sanaullah Khan Niazi was born in 1960 in Daud khel , Mianwali, Punjab. General joined the Pakistan Army in 1983 as a commissioned officer in 11 Baluch Regiment .On 15 September at 1230 hours near village Gatkotal, Upper Dir.  the vehicle of Major General Sana Ullah Khan, was attaked and,The General Officer embraced SHAHADAT .

SSP(RETIRED)KHAN KHALASS KHAN NIAZI(ALLAWAL KHEL)

DIG REHMAT ULLAH KHAN NIAZI(ALLAWAL KHEL)

POLICE OFFICER OF  DAUD KHEL

SP (RETIRED) KHADAM HUSSIAN KHAN NIAZI

DSP RAFI ULLAH KHAN NIAZI(ALLAWAL KHEL)

FAMOUS DOCTOR

DOCTOR NEMAT ULLAH KHAN NIAZI(LATE) LAMAY KHEL

DOCTOR NASRULLAH KHAN NIAZI (DAUD KHEL) HE IS WORKING IN UK AS DOCTOR.

FAMOUS LOCAL SPORTSMAN

SHAFQAT KHAN NIAZI LAMAY KHEL.HE IS A CRIKETER AND INTERNATIONAL PLAYER OF BASE BALL TEAM OF PAKISTAN.

PRESENTLY THE AREA IS UNDER DEVELOPING PHASE. TOWN IS BLESSED WITH NUMEROUS FACILITIES AT THE MOMENT E.G, SUI GAS, PTCL EXCHANGE, MOBILE PHONE COMMUNICATION, RAILWAY LINK WITH RAWALPINDI, LAHORE AND MULTAN, RD LINK WITH MIANWALI ESA KHEL AND MIANWALI KOHAT RD. AIR LINK IS AVAILABLE DUE TO AIRPORT LOCATION AT THE DISTANCE OF 30 KM IN MIANWALI CITY .

MOHALLA ALLAH KHEL IN DAUD KHEL

MASJID SHAHKOR KHEL DAUD KHEL

PICTORIAL VISIT TO DAUD KHEL JUNCTION

A BEAUTIFUL VIEW OF BILAL MASJID AFTER RAIN DAUD KHEL

DAUD KHEL IS HAVING VERY BEAUTIFUL UNIQUE FLOWERS IN SPRING SEASON WHEN SOIL OF DUAD KHEL IS FULL GUT BEE TAY FLOWERS WHICH ARE VERY USEFUL FOR ANIMAL VARIOUS DECEASES  ESPECIALLY FOR CAMELS

A SWEET SHOP IN MOHALLA AMEER-E-KHEL DAUD KHEL

NATURAL BEAUTY OF DAUD KHEL

TIN SMITH IN ACTION REAL WORK FORCE – DAUD KHEL

HABIB BANK CHOWK IN DAUD KHEL

ENTRANCE GATE OF GOVERNMENT DEGREE COLLEGE FOR WOMEN DAUD KHEL

MOHALLA SAMALL KHEL DAUD KHEL

RAILWAY ROAD DUAD KHEL

VIEW OF GOVERNMENT GIRLS PRIMARY SCHOOL MOHALLA SAMALL KHEL DAUD KHEL

DAUD KHEL IN PICTURES

45 thoughts on “DAUD KHEL”

  1. MURAD ALI KHAN NIAZI

    HEY, I BELONG TO DAUD KHEL MOHALLAH SMALL KHEL, I M BROTHER OF DEPUTY COMMISIONER ARBAZ ALI KHAN NIAZI, ASSISTANT POLITICAL AGENT MOHAMAND AGENCY NIAZ ALI KHAN NIAZI, ENGINEER NEMAT ULLAH KHAN NIAZI, ENGINEER QAMAR ALI KHAN NIAZI AND COUSIN OF MAJOR ZAFAR ISMAIL NIAZI, CAPTAIN ASLAM NIAZI AND COL RASHEED NIAZI.
    DEAR FRIEND ITS A GREAT EFFECT. I APPRECIATE. YOU HAVE LEFT HUNDREDS OF OFFICERS PERSONALITIES OF DAUD KHEL.
    NEED TO IMPROVE AND GAIN MORE KNOWLEDGE I MAY SHARE.
    REGARDS
    MURAD ALI KHAN NIAZI
    ASSISTANT DIRECTOR-COUNTER INTELLIGENCE TEAM
    HQ CIT RAWALPINDI

  2. MURAD ALI KHAN NIAZI

    HEY, I BELONG TO DAUD KHEL MOHALLAH SMALL KHEL, I M BROTHER OF DEPUTY COMMISIONER ARBAZ ALI KHAN NIAZI, ASSISTANT POLITICAL AGENT MOHAMAND AGENCY NIAZ ALI KHAN NIAZI, ENGINEER NEMAT ULLAH KHAN NIAZI, ENGINEER QAMAR ALI KHAN NIAZI AND COUSIN OF MAJOR ZAFAR ISMAIL NIAZI, CAPTAIN ASLAM NIAZI AND COL RASHEED NIAZI.
    DEAR FRIEND ITS A GREAT EFFECT. I APPRECIATE. YOU HAVE LEFT HUNDREDS OF OFFICERS PERSONALITIES OF DAUD KHEL.
    NEED TO IMPROVE AND GAIN MORE KNOWLEDGE I MAY SHARE.
    REGARDS
    MURAD ALI KHAN NIAZI
    ASSISTANT DIRECTOR-COUNTER INTELLIGENCE TEAM
    HQ CIT RAWALPINDI

  3. very very good and sooo nice and fixed more pic of daud khel and iskander abad thanks for pic ALLAH app ka hee nasir ho

  4. very very good and sooo nice and fixed more pic of daud khel and iskander abad thanks for pic ALLAH app ka hee nasir ho

  5. A.SLAM dear brothers ..me sajid khan salar …we live in islambad…my grand father told me we were camefrom daud khel…i belong to salar tribe….any one would like to tell me about salar’s of daoud khel

  6. A.SLAM dear brothers ..me sajid khan salar …we live in islambad…my grand father told me we were camefrom daud khel…i belong to salar tribe….any one would like to tell me about salar’s of daoud khel

  7. nasrullah khan lamay khel daud khel samlat

    slam g i.am nasrullah khan fathar name saif ullah khan we live in daud khel i say niazi is very honeste and paworful man thinks

    1. I am Abdul Ghaffar Khan Chairman zakat committee and honorary welfare officer daud Khel.no doubt the the efforts by u are appreciatiable.
      I hope u will leave no stone unturned to include more and more material concerning Daud Khel and the native of Daud Khel.
      Peoples from Daud are serving the country in all walk of life,an inventory must be prepared of all the notable peoples of Daud Khel.
      I hope u will go in the depth in field and make the things better.
      with these few lines.Adieu.

  8. nasrullah khan lamay khel daud khel samlat

    slam g i.am nasrullah khan fathar name saif ullah khan we live in daud khel i say niazi is very honeste and paworful man thinks

    1. I am Abdul Ghaffar Khan Chairman zakat committee and honorary welfare officer daud Khel.no doubt the the efforts by u are appreciatiable.
      I hope u will leave no stone unturned to include more and more material concerning Daud Khel and the native of Daud Khel.
      Peoples from Daud are serving the country in all walk of life,an inventory must be prepared of all the notable peoples of Daud Khel.
      I hope u will go in the depth in field and make the things better.
      with these few lines.Adieu.

  9. Malik Yasir Chhena

    I also love daudkhel
    please post all the schools and colleges pictures of daudkhel
    I like this site very much

  10. Malik Yasir Chhena

    I also love daudkhel
    please post all the schools and colleges pictures of daudkhel
    I like this site very much

  11. Irfan Khan Niazi

    Major General Sana Ullah Khan Niazi (ALLAWAL KHEL)
    SSP Khan Ikhlas Khan (ALLAWAL KHEL)
    DIG Rehmat Ullah Niazi (ALLAWAL KHEL)
    DSP Rafi Ullah Khan Niazi (ALLAWAL KHEL)
    DSP Ahsan Ullah Khan Niazi (ALLAWAL KHEL)
    COLONEL Sajid Ullah Khan (ALLAWAL KHEL)
    MAJOR Qamar Abbas (ALLAWAL KHEL)

  12. Irfan Khan Niazi

    Major General Sana Ullah Khan Niazi (ALLAWAL KHEL)
    SSP Khan Ikhlas Khan (ALLAWAL KHEL)
    DIG Rehmat Ullah Niazi (ALLAWAL KHEL)
    DSP Rafi Ullah Khan Niazi (ALLAWAL KHEL)
    DSP Ahsan Ullah Khan Niazi (ALLAWAL KHEL)
    COLONEL Sajid Ullah Khan (ALLAWAL KHEL)
    MAJOR Qamar Abbas (ALLAWAL KHEL)

  13. hafiz touqeer akhtar

    I became very happy after reading my home town’s history.
    since 1986 we are living in Islamabad.but I cannot forget my home town said khel.
    pur mohallah is Amity khel.
    shala wasda rahwy said khel.
    I love u Dkl.

  14. hafiz touqeer akhtar

    I became very happy after reading my home town’s history.
    since 1986 we are living in Islamabad.but I cannot forget my home town said khel.
    pur mohallah is Amity khel.
    shala wasda rahwy said khel.
    I love u Dkl.

  15. I was born in Rawalpindi but my father is from Daud Khel. Every year, I visit this land of my forefathers 3 – 4 times and I wish that some day I could shift to the land i feel i truly belong to.

Your words for Mianwali and Mianwalians