ISKANDERABAD

ISKANDERABAD

THE INDUSTRIAL ESTATE OF MIANWALI


 

 سکندرآباد -(بشکریہ-منورعلی ملک)

1955-56 میں جب داؤدخیل کےشمال میں ریلوے لائین کے پار پاکستان انڈسٹرئیل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن ( PIDC ) نے چار کارخانے ( پاک امریکن فرٹیلائیزر فیکٹری، پاک ڈائیز اینڈ کیمیکلز ، میپل لیف سیمنٹ فیکٹری اور پنسلین فیکٹری) قائم کیے تو ان کارخانوں کے ورکرز اور افسران کی رھائش کے لیے ریلوے لائین کے مشرق میں ایک شاندار، وسیع وعریض رھائشی کالونی بھی بنائی گئی- اس وقت کے صدرپاکستان ، میجر جنرل سکندرمرزا کے نام پر اس کا نام سکندرآباد ھاؤسنگ کالونی رکھا گیا-

جدید طرز کی اس کالونی میں زندگی کی تمام ضروری سہولیات فراھم کردی گئیں- سکول، ھسپتال، آفیسرزکلب ، پوسٹ آفس، بنک ، پولیس سٹیشن کےعلاوہ ایک شاپبگ سنٹر (مارکیٹ) بھی تعمیر ھوئی- پائیپ لائین کےذریعے دریائے سندھ سے صاف شفاف تازہ پانی کی چوبیس گھنٹے فراھمی اپنی مثال آپ ھے- گرمی کے موسم میں یہ پانی فریج کے پانی سے کم ٹھنڈا نہیں ھوتا- بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سوال ھی پیدا نہیں ھوتا تھا، کیونکہ فیکٹریز کے اپنے جنریٹرز بھی بجلی سپلائی کرنے کے لیے ھروقت تیاررھتےتھے- پنسلین فیکٹری کی دردناک داستان پچھلے سال لکھ چکا ھوں- اس فیکٹری کے سامنے اس کی اپنی ھاؤسنگ کالونی تھی-

سکندرآباد ایک پرسکون خوشحال بستی ھے- یہاں پاکستان بھر کے لوگ فیکٹریز کی ملازمت کے سلسلے میں آتے ھیں، اور ملازمت مکمل کرکے بہت سی حسین یادوں کے تحفے سمیٹ کر لے جاتے ھیں- کبھی کبھی تنہائی میں بیٹھ کر ان سہانے دنوں کی یاد میں آنسو بھی بہاتے ھیں- اردو کےشاھکار ناول 147اداس نسلیں 147 کے مصنف عبداللہ حسین بھی یہاں انجینئررھے- انہوں نے یہ ناول سکبدرآباد ھی میں بیٹھ کر لکھا- یہ ناول بیسویں صدی کا اردو کا سب سے بڑا ناول سمجھا جاتا ھے-

سکندرآباد ، ملک بھر کے دوسرے علاقوں اور داؤدخیل کے کلچر کا سنگم ھے- بہت کچھ ھم نے دوسرے علاقوں کے لوگوں سے سیکھا، بہت کچھ انہوں نے ھم سے سیکھا- شائستگی ، گفتگو ، کھانے پینے اور لباس کی تراش خراش کے بارے میں ھم نے ان سے سیکھا، محبت ، ھمدردی، مہمان نوازی اور تعاون انہوں نے ھم سے سیکھا- اس لیے ھمارے آپس میں بہت مضبوط رشتے استوار ھوئے- سکندرآباد سے رٰیٹائر ھونے والا ملازم پاکستان کے کسی بھی کونے میں رھتا ھو ، داؤدخیل کے آدمی کو سرآنکھوں پہ بٹھاتا ھے-

ھمارا واسطہ زیادہ تر سکندرآباد سکول اور ھسپتال سے رھا- سکول کے پہلے پرنسپل میانوالی کے مرزاغلام حسین انگریزی کے بے مثال ٹیچر اور بہترین ایڈمنسٹریٹر تھے- ان کے بعد فیصل آباد کے مختار صاحب آئے بہت شائستہ اور فراخ دل انسان تھے- ان کے بعد پکی شاہ مردان کے ملک موسی خان نے یہ منصب سنبھالا- ھمارے بہت اچھے دوست تھے- پھر اے ڈی عابد صاحب آئے، وہ بھی ھمارے بہت پیارے دوست تھے- ان کے بعد داؤدخیل کے حبیب اللہ خان نیازی اس سکول کے پرنسپل مقرر ھوئے- میرے سٹوڈنٹ رھے- اپنے دور کے مقبول ترین ٹیچر تھے- ان پر دو پوسٹس پچھلے سال لکھ چکا ھوں- ناقابل فراموش یادیں چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ھوگئے- ٹیچرز میں بہت سے میرے سٹوڈنٹس بھی تھے- میرے خیال میں سب ریٹائر ھو چکے ھوں گے- فیصل آباد کے ذوالفقار شاہ اور بھکر کے ملک غلام حسین بھی میرے بہت اچھے دوست تھے-

سکندرآباد ھسپتال کے پہلے ایم ایس ڈاکٹر سید اسحق شاہ ھمار ے فیملی ڈاکٹر بھی تھے- زبردست فزیشن تھے- تقریبا چالیس سال یہاں رھے- پھر اپنے صاحبزادے کے ھاں بیرون ملک جابسے- ایک دوسال پہلے وھیں اللہ کو پیارے ھو گئے- ان کے ساتھ ڈاکٹر باجوہ ھؤا کرتے تھے- بہت اچھے سرجن تھے- پھر ڈاکٹرابوالحسن زیدی آئے- میرے بہت مہربان دوست تھے- ان کی بچیاں میری سٹوڈنٹ تھیں-

سکندرآباد ھسپتال کے موجودہ ایم ایس ڈاکٹر محمد آصف مغل بہت معروف شاعر اور مقبول شخصیت ھیں- میرے بہت پیارے دوست ھیں- فیس بک پہ بھی ان سے اکثر ملاقات ھوتی رھتی ھے-

سکندرآباد کا ایک اعزاز یہ بھی ھے کہ یہ میرے انگلش ٹیچر سر گل خان نیازی کا مسکن ھے- اللہ انہیں سلامت رکھے، مجھ سے بہت محبت کرتے ھیں – ان پہ بھی دو پوسٹس پچھلے سال لکھ چکا ھوں – ان کے صاحبزادے اکرم نیازی سکندرآباد کے سینیئر صحافی ھیں- میرے کزن اختر علی ملک بھی وھیں رھتے ھیں- وھاں فیکٹری میں ملازم ھیں-
اللہ آباد رکھے، سکندرآباد کا میری زندگی سے بہت گہرا تعلق پہلے بھی تھا ، اب بھی ھے-

 ڈاکٹرمحمد آصف مغل

سر گل خان نیازی

پی آئی ڈی سی کی چار فیکٹریز کے آغاز ھی سے داؤدخیل کے ساتھ جو ناانصافیاں اور زیادتیاں ھوتی چلی آئی ھیں ، ان کی داستان بہت طویل بھی ھے، افسوسناک بھی- فیکٹریز کے لیے ھزاروں کنال زمین اصل قیمت سے بہت کم قیمت پر خریدی گئی- زمین کی خریداری چونکہ ایک سرکاری حکم کے تحت ھوئی اس لیے زمین دینے سے انکار کی گنجائش بھی نہ تھی-

ملازمتوں میں بھی داؤدخیل کے لوگوں کو منصفانہ حصہ نہ ملا — اللہ جنت میں جگہ دے میانوالی کے امان اللہ خان نیازی ایڈووکیٹ کو جنھوں نے فیکٹریز کے ورکرز کو ان کے حقوق دلوانے کے لیے دن رات جدوجہد کر کے یہاں لیبر یونین کا قیام عمل میں لایا—– مزدوروں کو ان کے حقوق کا شعور دینے سے لےکر لیبر یونین کے آئین کی تیاری اور عدالتوں میں مزدوروں کے کیسز کی مفت پیروی تک ھر مرحلے پر انہوں نے مزدوروں کا ساتھ دیا — ان کے پاس ذاتی گاڑی بھی نہ تھی، اپنے خرچ پر روزانہ ٹرین میں سفر کر کے داؤدخیل آتے جاتے رھے- چاچا دلاسہ خان شریف خیل ان کے دست راست تھے- امان اللہ خان ، عمران خان اور انعام اللہ خان کے چچا تھے- تحریک کے پاکستان کے وقت سے لے کر آخردم تک مسلم لیگ سے وابستہ رھے- بہت بااصول اور مقبول لیڈر تھے-

ان فیکٹریز اور ان کے مزدوروں پر ھر حکومت نے ظلم کیا- کسی کا نام لینا مناسب نہیں،- ھم داؤدخیل کے لوگوں کو سب کی ایک ایک مہربانی یاد ھے- جو کسر رہ گئی تھی وہ موجودہ حکومت نے پوری کردی- پنسلین فیکٹری کی ایک اینٹ بھی باقی نہ رھی- اس وقت سب سے بڑا مسئلہ سیمنٹ فیکٹریز اور کول پلانٹس کے دھوئیں سے پھیلنے والی مہلک بیماریوں کا ھے– خاص طور پر پہاڑ کے دامن میں واقع بستی خیرآباد کو شدید خطرات لاحق ھیں – قانون کے تحت آلودگی پر قابو پانے کی تدابیر پر عمل کرنے کی بجائے محکمہ ماحولیات کے افسران کو کھلا پلاکر قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارھی ھے – عوام اور صحافی مسلسل احتجاج کر رھے ھیں، لیکن مؤثر آواز تو لیبر یونین کی ھوتی ھے- یہ ان کا فرض ھے کہ انتظامیہ سے احتیاطی تدابیر پر عمل کروائیں- ملازمتوں میں داؤدخیل کے کوٹے سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے جدوجہد بھی ان کا فرض ھے- خدا جانے کیا کر رھے ھیں وہ لوگ — ؟؟؟

 سکندرآباد کی فیکٹریز کے حوالے سے دااؤدخیل کےعوام سے ھونے والی کچھ نا انصافیوں اوران کے کچھ نقصانات کا ذکر کیا تھا- لیکن یہ کہنا غلط نہ ھوگا کہ ان فیکٹریوں کےقیام سے مجموعی طور پر داؤدخیل کی معیشت اور معاشرت کو نقصان کم ، فائدہ زیادہ ھؤا-

( آلودگی سے پیدا ھونے والے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری سیاسی اور مزدور قیادت پر عائد ھوتی ھے- الیکشن میں تقریبا 6 ماہ باقی ھیں- جو بھی ووٹ مانگے آئے آپ صاف کہہ دیں کہ ووٹ اسی کو دیں گے جو الیکشن سے پہلے ھمارے یہ مسائل حل کردے )-

داؤدخیل کی نوجوان نسل نے یہاں کی غربت اور بےروزگاری کے وہ افسوسناک مظاھر نہیں دیکھے ، جو ھم نے دیکھے ھیں-
پورے شہرکی زندگی کا دارومدار بارانی زمینوں سے ھونے والی گندم کی فصل پر ھوتا تھا- نقد پیسہ بہت کم دیکھنے میں آتا تھا- لوگ اپنی ضرورت کی چیزیں گندم بیچ کر پوری کرتے تھے- اکثر لوگ دکان داروں سے سال بھر چیزیں اگلی فصل آنے تک کے وعدے پر ادھار لیتے رھتے تھے- دکان دار ادھار کا حساب کتاب لکھتے رھتے تھے- فصل اٹھانے کے بعد ادھار کی واپسی نقد رقم کی بجائے گندم کی صورت میں ھوتی تھی-

لوگ اس کوشش میں رھتے تھے کہ ادھارکم سے کم ھو- اس لیے کم سے کم چیزیں خریدتے تھے- بچے چھوٹی چھوٹی چیزوں کو ترستے رھتے تھے- پہلے ایک پوسٹ میں بتا چکا ھوں کہ لڑکوں کو شلوار اور جوتے پانچ سات سال کی عمر تک نصیب نہیں ھوتے تھے- ایک لمبے سے چولے میں ننگے پاؤں پھرا کرتے تھے- لوگ سال بھر میں بمشکل کپڑوں کے دو جوڑے بنا سکتے تھے- ایک جوڑا فصل کے بعد، ایک عید پر-
جن لوگوں کی اپنی زمین نہیں ھوتی تھی وہ اپنے بال بچوں سمیت نہری علاقوں میں جاکر فصل کاٹنے کی مزدوری کیا کرتے تھے- مزدوری میں نقد رقم کی بجائے گندم ملتی تھی- اسی گندم سے سال بھر کی ضروریات پوری کرتے تھے-

فیکٹریز کے قیام سے لوگ خاصے خوشحال بھی ھو گئے، مہذب بھی- نقد پیسہ عام ھو گیا- شاید ھی کوئی گھر ایسا ھو جس کا ایک آدھ فرد ملازم

نہ ھو- ان پڑھ لوگوں کو مزدوری ملنے لگی، میٹرک پاس اکثر نوجوان ٹائیم کیپر، کلرک یا ھیلپرکے طور پہ فیکٹریز میں بھرتی ھوگئے- اس ملازمت میں تنخواہ کے علاوہ کچھ اور سہولیات بھی ملتی تھیں- بونس کی شکل میں ایک ماہ کی زائد تنخواہ ، رعائیتی نرخوں پرکپڑا اور کھانے پینے کی چیزیں بھی ملتی تھیں-
اس انقلاب کا کچھ ذکر انشاءاللہ کل بھی ھوگا –

 

ISKANDERABAD THE INDUSTRIAL ESTATE OF MIANWALI AND IS LOCATED IN DAUD KHEL UNION COUNCIL OF MIANWALI. AS MIANWALI IS A MINERAL RICHED DISTRICT OF PAKISTAN SO IN THE EARLY DAYS AFTER INDEPENDENCE MIANWALI WAS GIVEN DUE IMPORTANCE AND SAME IS EVIDENT FROM THE AMOUNT OF WORK IN THE DISTRICT.

IN 1952 FIRST STEP TOWARD INDUSTRIATION IN MIANWALI WAS TAKEN BY CONSTRUCTION OF CEMENT AND FERTILIZER INDUSTRIES. MAPLE LEAF CEMENT FACTORY WORK WAS STARTED IN 1955 WITH THE COOPERATION OF GOVERNMENT OF CANADA. PAK AMERICAN FERTILIZER FACTORY WAS COMPLETED IN 1956.

ON 23 FEB 1956 THE FIRST PRESIDENT OF PAKISTAN  SAHIBZADA SAYYID ISKANDER ALI MIRZA CAME ON INAUGURAL CEREMONY  DUE TO WHICH AREA WAS GIVEN THE NAME OF ISKANDERABAD AND NOW KNOWN AS  ISKANDER ABAD COLONEY .IN THIS AREA MANY OTHER FACTORIES ALSO BUILT AND EXIST LIKE CAUSTIC SODA DESCON ARE ITS FAMOUS INDUSTRIES. PAKISTAN PENCILINE FACTORY AND DYING FACTORY.

 

INDUSTRIES IN ISKANDERABAD  MIANWALI

MAPLE LEAF CEMENT FACTORY LIMITED ISKANDERABAD  MIANWALI CEMENT 1958 GREY CEMENT , WHITE CEMENT 450000 M.TONS, 30000 M.TONS
ANTIBIOTIC (PVT)LTD,. ISKANDARABAD  MIANWALI DRUGS & PHARMACEUTICAL 1959 SYRUPS , CAPSULES , INJECTIONS , OINTMENT , SPIRIT 36 TH. LITRES , 5400 TH.NOS. , 18660 TH.NOS. , 900 TH.NOS. , 28 TH. LITRES
PAK AMERICAN FERTILIZERS LTD ISKANDERABAD  MIANWALI FERTILIZER 1958 UREA 346500 M.TONS
MAPLE LEAF ELECTRIC CO. LTD. ISKANDARABAD  MIANWALI POWER GENERATION 1999 ELECTRICITY

23.84 MW

————-

MAPLE LEAF CEMENT IS A PART OF KOHINOOR MAPLE LEAF GROUP(KMLG).THE GROUP COMPRISES OF COMPANIES, WHICH ARE RANKED AMONGST THE TOP COMPANIES IN THE CEMENT AND TEXTILE SECTOR. MAPLE LEAF CEMENT FACTORY LIMITED (MLCFL) IS ONE OF THE PIONERS OF CEMENT INDUSTRY IN PAKISTAN. MLCFL OWNS AND OPERATES THREE PRODUCTION LINES FOR GREY AND THE PRODUCTION LINES FOR WHITE CEMENT. THE PLANTS ARE LOCATED AT DAUDKHEL. DISTRICT MIANWALI. TOTAL ANNUAL CLINKER CAPACITY OF THE COMPANY IS RECORDED AT3,690,000TONS.

PAK AMERICAN FERTILIZER LIMITED

ISKANDERABAD

 HISTORY AND TECHNICAL DATA OF PAK AMERICAN FERTILIZER LIMITED

THE PLANT IS LOCATED AT ISKANDERABAD, DISTRICT MIANWALI. IT WAS THE FIRST NITROGENOUS PLANT BUILT IN PAKISTAN. THE PROJECT WHEN COMMISSIONED IN 1957 WAS DESIGNED TO PRODUCE 40 METRIC TONES PER DAY OF AMMONIA TO BE FULLY CONVERTED INTO 150 METRIC TONES PER DAY OF AMMONIUM SULPHATE. THE UNIT UNDERWENT EXPANSION IN 1968 WHEN THE CAPACITY WAS INCREASED TO 273 METRIC TONES PER DAY I.E. 90,000 METRIC TONES PER ANNUM OF AMMONIUM SULPHATE.

THE AMMONIUM SULPHATE PLANT WAS CLOSED IN JUNE, 1997 AND A NEW AMMONIA /UREA COMPLEX HAVING CAPACITY OF 600 METRIC TONE PER DAY OF AMMONIA AND 1050 METRIC TONE PER DAY OF UREA, STARTED COMMENCED PRODUCTION IN NOVEMBER, 1999. THE ANNUAL PRODUCTION CAPACITY OF THE PLANT IS 346,500 METRIC TONE OF UREA.



TOTAL COMPLETION COST OF THE PROJECT WAS RS.9, 700.060 MILLION, OUT  OF WHICH RS.6, 878.119 MILLION WAS IN FOREIGN CURRENCY. THE AUTHORIZED AND PAID UP CAPITAL OF THE COMPANY IS RS.3, 000 MILLION, WHICH IS SUBSCRIBED BY NFC. THE RAW MATERIAL USED IS NATURAL GAS FROM SNGPL NETWORK. TODAY THE PLANT IS RUNNING AT 1176 TONE PER DAY WHICH IS THE 112% OF THE DESIGNED CAPACITY 1050 TONE PER DAY OF UREA AND 650 TONES PER DAY OF AMMONIA. BOTH PLANTS HAVE BEEN DESIGNED BY TOYO ENGINEERING JAPAN. AMMONIA PLANT IS UNDER LICENSE FROM KELLOGG INTERNATIONAL, USA, WHILE UREA PLANT IS TEC’S OWN. THE PLANTS ARE LATEST IN DESIGN AND MOST MODERN. THE COMPANY POSSESSES OVER 11,481 KANALS OF LAND, COMPRISING 6,432 FOR FACTORY, 2,818 FOR HOUSING COLONY AND 2,230 FOR EXPERIMENTAL FARM.



12 thoughts on “ISKANDERABAD”

  1. mitha khan niazi

    Kindly tell me is there any hr deparment in maple leaf ?? as i m doing bba hons frm NUML islamabad after completing my degree i will go for this factory…. plz help me by putting your kind comments

  2. mitha khan niazi

    Kindly tell me is there any hr deparment in maple leaf ?? as i m doing bba hons frm NUML islamabad after completing my degree i will go for this factory…. plz help me by putting your kind comments

  3. i love my home town mianwali but people of this area are too idiot and dufer they just know how to break hearts of others and ruined their life that it but i love it too much

    1. sorry to say but pls dnt use such words against brave people of mianwali..so sad to see that u love mianwali and ur using rubbish language against its people

  4. i love my home town mianwali but people of this area are too idiot and dufer they just know how to break hearts of others and ruined their life that it but i love it too much

    1. sorry to say but pls dnt use such words against brave people of mianwali..so sad to see that u love mianwali and ur using rubbish language against its people

Your words for Mianwali and Mianwalians