“Afsana: Gori Gai” By Lehr Niazi

افسانہ۔. گوری گائے

اپنوں کی یادیں تو کسی چیز کے ساتھ جب منسلک ہو جاتی ہیں تو وہ پھر یادیں ہمیشہ انسان کے دل و دماغ پر چھائی رہتی ہیں۔ جب جب وہ چیز سامنے آتی ہے تو انسان کو ایسا لگتا ہے جیسے اس کے پیارے اسے دیکھ رہے ہیں۔ ان کی روحیں آس پاس بھٹک رہی ہیں۔ احساس کی دنیا دراصل دل کی دنیا ہے۔ انسان کے احساسات و جذبات جب ایک مجموعی شکل میں آتے ہیں تو وہ کسی نہ کسی ٹھوس چیز میں رچ بس جاتے ہیں۔ جونہی وہ ٹھوس چیز سامنے آتی ہے تو ہمیں وہ تمام نظارے پھر سے یاد آنے لگتے ہیں۔ وہ حسین منظر جو کبھی ہماری نظروں کے سامنے رہے تھے وہ پھر سے متحرک ہو جاتے ہیں۔
“اللہ میاں اسے کچھ نہ ہونے دینا، میں بے بس ہوں۔ اس تاریک رات میں کچھ کر بھی نہیں سکتی.” عائشہ نے اپنے ڈوبٹے کے پلو سے اپنے آنسو خشک کرتے ہوئے دعا مانگی۔
وہ گائے کو بیٹھی دیکھے جا رہی تھی۔ اس کی گائے کو کوئی ایسی تکلیف تھی جس کی ابھی تک اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ یہ گاۓ اس کی کل کائنات تھی۔
اسے رہ رہ کر اماں کی یاد آ رہی تھی۔
یہ گائے وہ بچھیا تھی جسے اس کی اماں نے اپنے مرنے سے کچھ عرصہ قبل اس کے نام لگا دی تھی۔
اسے اماں کے الفاظ یاد آ رہے تھے۔ بچھیا کو دیکھ کر اماں نے کتنا خوش ہو کر کہا تھا، “یہ بچھیا تو میں اپنی عائشہ کو ہی دوں گی۔” وقت گزرتا رہا۔ اماں مر گئی اور بچھیا بڑی ہو کر بھوری رنگت کی گائے بن چکی تھی۔
ویسے تو عورت کو اپنے میکے کی ہر چیز پیاری لگتی ہے پر اماں ابا کے ہاتھ کا دیا تو اور بھی رومانیت سے بھرپور ہوا کرتا ہے۔ عائشہ کو بھی اپنی اس بھوری گائے سے کچھ ایسی ہی انسیت پیدا ہو چکی تھی۔ وہ کسی صورت بھی اس گاۓ کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ ” ہش۔۔۔ ہش۔۔۔۔ میری رانی۔۔۔ جلدی ٹھیک ہو جا۔۔۔ اللہ تیرا حامی ہو۔۔۔۔ ہش۔۔۔ ہش۔۔۔” عائشہ نے گائے کو شفقت بھرے لہجے میں پچکار کر دعا دی۔ گا گائے پہلو بدلنے کی بیکار سی کوشش کی۔ عائشہ کے لیے اماں کی طرف سے ملنے والی یہ واحد نشانی تھی جسے وہ بڑے لاڈوں سے پال پوس رہی تھی۔ اب اس کی خواہش تھی کہ اس کا کوئی بچہ ہو اور اس کی نسل آگے بڑھے۔ عائشہ کا میکہ چند میل دور نہر تھل کنارے واقع تھا۔ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ موچھ گاؤں میں رہ رہی تھی۔ رات کافی بیت چکی تھی۔ اسی لمحے بجلی چلی گئی۔ عائشہ واپڈا والوں کو کوستی دوسرے کمرے کی طرف گئ۔ اندھیرے میں گاۓ نے بیٹھے بیٹھے اپنا پہلو بدلنے کی پھر سے کوشش کی۔ مگر ٹانگیں ادھر ادھر مار کر پھر سے ایک طرف لڑھک کر بیٹھ رہی۔ عائشہ جلدی جلدی لالٹین اٹھا کر آگے بڑھی۔ لالٹین کی روشنی میں گاۓ کو سنبھالا۔ گاۓ جگالی نہیں کر رہی تھی مگر اس کے منہ سے جھاگ ٹپک رہی تھی۔ “ہائے ربا۔۔۔ یہ کیا؟ میری گوری۔۔۔۔ کیا ہوا تجھ بے زبان کو۔۔۔۔ “
گائے کی حالت دیکھ کر عائشہ کے پسینے چھوٹنے لگے۔ عجب قیمت اور وسوسے پیدا ہونے لگے۔
مگر اگلے ہی لمحے خود کو دل ہی دل میں تسلی دی کہ چلو گوری آرام سے بیٹھ رہی ہے۔ گائے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور پھر گائے کے کمرے کی اندرونی دیواروں پر لٹکے پرانے ٹاٹ کے پردے درست کیے۔ سامنے والی دیوار کے ساتھ باجرے اور جوار کے خشک گھاس کے بڑے بڑے گٹھے دیوار کے ساتھ کھڑے کیے گئے تھے۔ وہ ابھی تک اسی طرح جڑے کھڑے تھے۔ ان کو ہاتھ لگا کر معلوم کیا کہ کہیں ان میں سے سرد ہوا تو نہیں آرہی۔ وہ گٹھے اپنی جگہ پر مضبوطی سے جڑے تھے۔ عائشہ لالٹین اٹھا کر واپس پلٹی۔ اسے دھڑکا سا لگا ہوا تھا۔ یہ گاۓ اس کے لیے ایسے تھی جیسے ماں نے اپنی کل پونجی اس کے حوالے کر رکھی ہو۔ جس کی حفاظت اس پر لازم تھی۔ حالانکہ اس کے ابا آٹھ قلعے کے مالک تھا۔ ابا نے ساری جائیداد اس کے بھائیوں کے نام کر دی تھی۔ لیکن پھر بھی عائشہ کو یہ بچھیا جو اب گوری گائے بن چکی تھی بہت ہی پیاری لگتی تھی۔ اسے ایسا لگتا تھا جیسے اماں ابا نے اس کے لیے بہت بڑی جائیداد اس کو ورثہ کر دی ہو۔ عائشہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ بجلی آگئی۔ دھوئیں اور مکڑی کے جالوں میں لپٹا بلب روشن ہوا۔ جس کی سرخ پیلی مدھم سی روشنی میں گائے صاف دکھائی دینے لگی۔ عائشہ نے جلدی سے اپنی لالٹین پھونک مار کر بجھا دی اور گائے کو ایک بار پھر تسلی سے دیکھنے قریب گئی۔ گائے اب آرام سے بیٹھی تھی۔ اس نے جاتے جاتے ایک بار پھر گائے پر ہاتھ پھیرا اور کمرے میں جا کر آرام سے لیٹ رہی۔نیند اس سے کوسوں دور تھی۔

   افسانہ نگار: لہر نیازی

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN WRITERS CLUB POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works THE SOUL OF THE DESERT: EXPLORING THE POETIC JOURNEY OF LEHR NIAZI WRITERS & AUTHERS FROM MIANWALI

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)   Gulistan Khan, known widely by his pen...
Read More
UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI

     "اداس ککری"    افسانہ نگار: لہر نیازی جوں جوں ریل گاڑی آگے بڑھتی جاتی تھی منظر بدلتا جاتا تھا۔...
Read More
YAAD-E-RAFTA  -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

YAAD-E-RAFTA -AFSANA BY LEHR NIAZI

افسانہ۔ "یاد رفتہ" شہرت، دولت اور جوانی سب ڈھلتی چھاؤں ہیں۔ سورج طلوع ہوتے ہی زوال کی طرف بڑھنے لگ...
Read More
LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI   The literary contributions of Lehr Niazi have garnered deep...
Read More
AMEERZADA AFSANA   -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

AMEERZADA AFSANA -AFSANA BY LEHR NIAZI

  امیر زادہ   -  افسانہ نگار: لہر نیازی   جھاڑیوں میں الجھتا گرتا پڑتا امیر زادہ اندھا دھند دوڑے جا رہا...
Read More
Muhammad Ashfaq Chughtai
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS

Muhammad Ashfaq Chughtai

محمد اشفاق چغتائیؔ     احوالِ ملازمت و خانگی زندگی   مضمون نگار: لہرؔ نیازی محمد اشفاق چغتائیؔ کا اصل نام...
Read More
Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr

محمد اشفاق چغتائیؔ کی شاعری میں تصوف، فلسفۂ خودی اور وجودی فکر اشعار، رباعیات اور فکری و فنی جائزہ محمد...
Read More
Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”

افسانہ ۔۔۔ ماں "میرے بچے آباد و شاد ہیں۔ بس دعا ہے وہ آباد رہیں۔" جب بھی زینت خاتون اپنے...
Read More
PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER Professor Rais Ahmad Arshi — A Distinguished Scholar, Teacher, and Poet from Mianwali

PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025

پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب سے ملاقات  -(10 ستمبر 2025ء)   ابتدائی زندگی پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب کا اصل...
Read More
Saleeb-e-Waqt (Urdu Shaairi Majmua)
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI KI SHAYARI:

Saleeb-e-Waqt (Urdu Shaairi Majmua)

صلیبِ وقت (اردو شعری مجموعہ) از: رئیس احمد عرشی، میانوالی اشاعت: اول، اگست 2004ء ناشر: محمد عنصر خان کاکڑ (مدیر...
Read More
“Darya Kandhi” Afsana
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“Darya Kandhi” Afsana

 افسانہ "دریا کندھی"  - افسانہ نگار: لہر نیازی "وقت پر لگایا گیا مرہم زخم کو ناسور بننے نہیں دیتا۔ بہتر ہوگا...
Read More
Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi)  Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb

محمد ضیاء اللہ قریشی (ضیاء قریشی) میانوالی کے صاف گو شاعر، غزل گو، گیت نگار اور صاحبِ فکر ادیب میانوالی...
Read More
Mutiullah Khan: Sahafat mein Nafasat aur Waqar ka Alam Bardar
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALI MEDIA LEGENDS & JOURNALISTS

Mutiullah Khan: Sahafat mein Nafasat aur Waqar ka Alam Bardar

مطیع اللہ خان: صحافت میں نفاست اور وقار کا علم بردار مطیع اللہ خان کا شمار ضلع میانوالی کے اُن...
Read More
Afsana: Baba Jand Peer
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Afsana: Baba Jand Peer

افسانہ ۔۔۔بابا جنڈ پیر۔۔۔افسانہ نگار: لہر نیازی   داراں مائی گاؤں والوں سے چھپتی چھپاتی چادر کے نیچے بغل میں...
Read More
Salagar Ki Raat (Afsane)
FICTION BOOKS BY MIANWALIAN LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Salagar Ki Raat (Afsane)

سلاگر کی رات — وسیب، انسان اور زندگی کی کہانی کتاب:سلاگر کی راتصنف: افسانےمصنف: لہرؔ نیازیناشر: سرکار پبلشرز، ملتان لہرؔ...
Read More
Ehsaas Tanhai – Afsana By Lehr Niazi
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Ehsaas Tanhai – Afsana By Lehr Niazi

افسانہ ۔۔۔احساس تنہائی    -افسانہ نگار: لہر نیازی  "انسان کے اندر کی تنہائی آسیب کی طرح ہوتی ہے جو دن...
Read More
“WOH AIK LAGHZISH” AFSANA NIGAR: LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“WOH AIK LAGHZISH” AFSANA NIGAR: LEHR NIAZI

"وہ ایک لغزش"  افسانہ نگار : لہر نیازی  "جوانی کی بھول زندگی کا روگ بن جائے گی، کبھی سوچا بھی...
Read More
Afsana: Haaye Ghurabat
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Afsana: Haaye Ghurabat

افسانہ   --ہائے غربت ۔۔۔۔ "پیٹ خالی ہو تو انسان کو اپنا بھرم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔" خالق ادھر ادھر...
Read More
“Afsana: Gori Gai” By Lehr Niazi
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“Afsana: Gori Gai” By Lehr Niazi

افسانہ۔. گوری گائے اپنوں کی یادیں تو کسی چیز کے ساتھ جب منسلک ہو جاتی ہیں تو وہ پھر یادیں...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top