“اماں! ہم کب قربانی کریں گے؟”
معصومہ نے حسرت بھرے لہجے میں ماں سے سوال کیا تو ماں کچھ دیر کے لئے لختِ جگر کو دیکھتی رہ گئی۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس سوال کا جواب اس کے پاس تھا ہی نہیں۔ معصومہ نے اس بار ماں کا دوبٹہ پکڑ کر پھر سے اپنا سوال دہرایا تو ماں نے صحن کی پرانی دیواروں کو غور سے
دیکھا جو کئی جگہوں سے دراڑیں پڑنے سے اندر کو جھکتی جا رہی تھیں۔ ماں نے دیوار سے نظریں ہٹا کر بیٹی کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا، “بیٹا ہماری دیوار جب نئی بن جائے گی تو اس کے بعد ہم بھی قربانی کریں گے۔”
بیٹی نے آگے بڑھ کر صحن کی دیوار کے پلستر کو جاکر ہاتھ لگایا تو پلستر کئی جگہ سے اکھڑ کر گر پڑا۔ اس کا پچپن تھا اپنے سوا کچھ بھی اہم نہ تھا۔ اسے کیا خبر اس جہاں میں غم اور بھی ہیں، جو والدین کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ رہے ہوتے ہیں۔ اس نے قربانی کے بکرے کو اہم سمجھا تو ضد کر ڈالی۔ اسے کیا خبر اس قربانی میں والدین کی کتنی قربانی ہوتی ہے۔ وہ روپیہ روپیہ جینے کے لیے جوڑتے ہیں۔ وہ ماں سے بولی، “امی دیوار کو رہنے دیں پہلے قربانی کریں گے۔”
ماں نے جی کڑا کر کے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، “جب اللہ چاہے گا تو ہم بھی قربانی کریں گے بیٹی۔”
ماں کی آنکھوں میں چھپے آنسو گھر کی مفلسی پر بین کرنے کو تیار تھے مگر بیٹی کے سامنے ان آنسؤوں کو چھپانا لازمی تھا۔ اسی لمحے معصومہ نے ماں کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا تو وہ ننھی پری کچھ لمحے خاموش رہی۔
کچھ دیر ماحول پر سکوت طاری ہو گیا۔ ان سنے سوال جواب ماں بیٹی کے درمیان ہونے لگے۔ اسی دوران پڑوس سے قربانی کے بکرے کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے بچوں کی آوازیں سنائی دیں۔ معصومہ کو ایک بار پھر قربانی کرنے کا خیال آیا۔ ننھی جان پھر گردشِ ایام سے بے خبر پہلے والا سوال دہرا بیٹھی، “امی ہم قربانی کا بکرا کب لیں گے؟ شانی لوگوں نے تو لے لیا ہے۔”
زینت صحن میں بکھرے خشک پتوں کو جھاڑو سے سمیٹتے ہوئے بیٹی سے بولی، “جب اللہ میاں ہمیں ڈھیر سارے پیسے دیں گے تو ہم بھی قربانی کا بکرا ضرور خریدیں گے۔” معصومہ نے ماں کا دامن جھٹک کر بے صبری سے پوچھا، “اللہ میاں ہمیں ڈھیر سارے پیسے کب دے گا؟ عید تو کل ہے۔” معصومہ کے اس معصوم سوال کا جواب اس کی ماں کے پاس نہیں تھا۔ وہ کچھ بولے بنا جھاڑو دیتی رہ گئی۔ اور اس کی آنکھوں میں چھلکتے چند آنسو ان خشک پتوں میں گر کر کہیں گم ہو چکے تھے۔
ماں کی خاموشی دیکھ کر معصومہ باہر دروازے کے پاس جا کھڑی ہوئی اور کواڑوں سے گلی میں قربانی کے بکرے کے ساتھ کھیلتے بچوں کو دیکھنے لگی۔
آج آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ دو دن پہلے اچھی خاصی گرمی پڑی تھی۔ زینت نے ابھی صحن سے خشک پتے سمیٹے ہی تھے کہ پھر سے ہوا کے جھونکوں نے پڑوسیوں کے درختوں کے پتے صحن میں اڑا کر ڈال دیئے۔ زینت نے آسمان پر سرمئی بادلوں کو غور سے دیکھا اور جھاڑو ایک کونے رکھ کر ایندھن کے لیے خشک لکڑیاں اٹھا کر باورچی خانے میں رکھنے میں مصروف ہو گئی۔ معصومہ دروازے کے کواڑوں سے گلی میں جھانک رہی تھی کہ دور سے بابا کو آتا دیکھ کر ماں کی طرف دوڑی آئی، “امی بابا آگئے، بابا آ گئے۔” زینت اس کی خوشی دیکھ کر مسکرائی اور فوراً دروازہ کھولنے چلی گئی۔ خادم ایک مومی لفافے میں پانچ کلو آٹا کے کر گھر داخل ہوا اور وہ مومی لفافہ زینت کو پکڑاتے ہوئے معصومہ کو گلے لگانے کے لیے جھکا۔ معصومہ نے بابا سے ایک سانس میں کئی سوال دہرا دیے۔ “ہم کب قربانی کریں گے؟ اللہ میاں ہمیں ڈھیر سارے پیسے کب دے گا۔ بابا تم میرے لئے قربانی کا بکرا کب لاؤ گے.”
بیٹی کے معصوم سوالات کا جواب باپ کے پاس نہیں تھا۔ اس کے چہرے سے مسکراہٹ اڑ چکی تھی۔ بس خاموشی سے بیٹی کو اٹھا کر سینے سے لگائے برآمدے میں چلا آیا۔ خادم نے حسرت بھری نگاہوں سے آٹے کے تھیلے کو دیکھا اور زینت سے کہا، “میری بٹیا رانی کو ٹافی لادے جو کل میں نے لا کر چینی والے مرتبان میں رکھی تھی۔” ٹافی کا سن کر معصومہ کو سارے سوالات بھول گئے۔ وہ ماں کے پیچھے باورچی خانے کو لپکی اور تلخی حالات بھول گئی۔
خادم نے اپنے چہرے سے پسینہ صاف کیا اور بیٹی کے معصوم سوالات سے کڑھنے لگا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ بھی ہر باپ کی طرح سارے زمانے کی خوشیاں لا کر بیٹی کی جھولی میں ڈال دے۔ انہی سوچوں میں گم تھا کہ بیٹی گلاس میں پانی لے آئی۔
خادم نے پانی پیا اور بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، “بیٹا تمھاری گڑیا کہاں ہے؟ جاؤ اس سے کھیلو۔” باپ نے شاید بیٹی کی آنکھوں میں اترا ہوا سوال پڑھ لیا تھا۔ باپ کو خدشہ تھا کہ بیٹی قربانی نہ کرنے کی وجہ نا پوچھ لے کہیں، اسی ڈر سے بیٹی کی توجہ ہٹانے کے لیے اسے گڑیا لانے کو کہہ دیا۔
بیٹی اپنی گڑیا کے ساتھ کھیلنے میں مشغول ہو گئی تھی۔ زینت نے شوہر سے آج رات بازار کی چوکیداری کا پوچھا تو وہ رنجیدہ ہو کر بولا ، “غریب روٹی کمائے یا عید کرے۔ عید پر بھی چھٹی نہیں ملتی۔ مسلم بازار کے سب چوکیدار پہلے کی طرح عید کے روز بھی چوکیداری پر ہوں گے۔” زینت شوہر کی بات سن کر خاموش ہو گئی۔ میاں بیوی کچھ دیر کے لئے خاموش ہو گئے شاید دونوں کے پاس ایک دوسرے کو حوصلہ دینے کے لیے الفاظ تک نہ تھے۔ خاموشی کے اس لمحے معصومہ اپنی گڑیا سے باتیں کرتی سنائی دی۔ “میرے بابا عید کا بکرا لائیں گے تو میں تمھیں وہ بکرا دکھاؤں گی۔ تم دیکھو گی نا ہمارا بکرا۔۔۔۔۔”
دونوں میاں بیوی نے بیٹی کی معصومانہ باتیں سنیں تو دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرانے لگے۔ دونوں غربت کی اس لکیر پر جی رہے تھے جس پر شاید خواب دیکھنا بھی مشکل تھا۔
خادم برآمدے سے نکل کر آسمان پر اڑتے بادلوں کو غور سے دیکھنے لگا۔ صحن میں ہوا کے جھونکوں نے خس و خاشاک اڑا رکھے تھے۔
انہی خس و خاشاک میں خادم کی حسرتیں بھی ٹھوکریں کھا رہی تھیں۔ کبھی کبھی بچوں کی فرمائش والدین پر بہت بھاری پڑ جاتی ہے۔ معصومہ پڑوس میں قربانی کا بکرا دیکھ کر معصوم سی خواہش کرتی رہ گئی اور مفلسی مسکراتی رہی۔ پڑوس کے بچے سارا دن قربانی کے بکرے کے گرد منڈلاتے رہے اور معصومہ سارا دن اپنی گڑیا سے اگلی عید پر بکرا لانے کے وعدے کرتی رہ گئی۔ بادل بنا برسے اگلی منزلوں کو روانہ ہو گئے اور زینت کا صحن پھر سے خس و خاشاک سے اٹا پڑا رہ گیا۔ شام ہونے کو تھی۔ خادم رات کا کھانا روٹی دان میں باندھے بازار کی چوکیداری کرنے نکل پڑا۔ معصومہ کچھ دیر خاموشی سے بابا کو جاتا دیکھتی رہی۔ صحن کی طرف پلٹنے سے پہلے اس نے آخری بار دروازے کے کواڑوں سے بابا کو
گلی میں جاتا دیکھ کر آواز لگائی، “بابا قربانی کا بکرا لیتے آنا۔”
افسانہ نگار: لہر نیازی
THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)
UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI
YAAD-E-RAFTA -AFSANA BY LEHR NIAZI
LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI
AMEERZADA AFSANA -AFSANA BY LEHR NIAZI
Muhammad Ashfaq Chughtai
Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr
Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”
PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025
Saleeb-e-Waqt (Urdu Shaairi Majmua)
“Darya Kandhi” Afsana
Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb
Mutiullah Khan: Sahafat mein Nafasat aur Waqar ka Alam Bardar
Afsana: Baba Jand Peer
Salagar Ki Raat (Afsane)
Ehsaas Tanhai – Afsana By Lehr Niazi
“WOH AIK LAGHZISH” AFSANA NIGAR: LEHR NIAZI
Afsana: Haaye Ghurabat
“Afsana: Gori Gai” By Lehr Niazi
Qurbani Ka Bakra AFSANA BY LEHNIAZI
