Ehsaas Tanhai – Afsana By Lehr Niazi

افسانہ ۔۔۔احساس تنہائی    –افسانہ نگار: لہر نیازی 

“انسان کے اندر کی تنہائی آسیب کی طرح ہوتی ہے جو دن رات انسان کا خون پیتی رہتی ہے۔” ماں نے شہر سے آنیوالے بیٹے کے حال پوچھنے پر کہا۔ تو بیٹا حوصلہ دیتے ہوئے بولا، “اماں آپ پریشان نہ ہوا کریں۔ میں آپ کو ہر ہفتے فون کرتا رہوں گا۔ پہلے بھی تو فون کرتا رہتا ہوں۔”
ماں نے بیٹے کو چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، “او ہو بیٹا میں بھی کیا غم لے بیٹھی۔ آؤ بیٹھو بیٹا۔ بہو تم بھی آ جاؤ۔ عمر بیٹے تم کرسی پر بیٹھ جاؤ اور عائشہ فاطمہ تم میرے پاس آ جاؤ۔” ماں نے بیٹے بہو اور پوتے پوتی کو بیٹھنے کو کہا اور خود کچن میں چائے بنانے چلی گئی۔ بہو اور پوتا پوتی گھر میں داخل ہوتے ہی اپنے موبائل فون پر مصروف ہوگئے تھے۔ بیٹے نے ماں کی باتوں کو غور سے سنا اور اگلے ہی لمحے وٹس ایپ پر وائس میسج سننے میں مصروف ہوگیا۔
سارا سال بچوں کے آنے کا انتظار کرتی ماں عید الفطر کے آنے پر باغ باغ تھی۔ آخر کار انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ اتوار کی صبح گھر کو خوب صاف کیا۔ پانی کی ٹینکی تازہ پانی سے بھر دی۔ سہ پہر تک بیٹا اپنے بیوی بچے کے ساتھ گھر پہنچ گیا۔ ماں کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ بیٹے، بہو، پوتے اور پوتی پر واری واری جا رہی تھی۔ اپنے پوتے پوتی کو دیکھ کر اس کے دل خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ بیٹا ماں سے مختصر سے الفاظ میں خیریت پوچھ کر موبائل فون پر مصروف ہو گیا۔ بہو نے بھی بالشت بھر موبائل فون نکالا اور اپنی دوست سے باتوں میں مصروف ہو گئی۔ والد بازار سے گوشت اور پھل لے کر گھر پہنچا۔ بیٹے، بہو اور پوتے پوتی سے مل کر وہ وضو کرنے چلا گیا۔ دادی کا دل چاہ رہا تھا کہ پوتا اور پوتی دادی سے باتیں کرتے مگر وہ تو آتے ہی موبائل گیم میں مگن ہو گئے۔ ماں نے کچن میں شام کا کھانا بنانے چلی گئی۔ اسے امید تھی کہ بہو ہاتھ بٹانے آئے گی مگر بہو کا فون نمبر بند ہونے کو نہیں آ رہا تھا۔ بوڑھے ہاتھوں نے گھر بھر کے لیے شام کا کھانا تن تنہا تیار کیا۔ دادا جی مسجد سے مغرب کی نماز پڑھ کر آئے۔ ماں نے کھانے کے میز پر کھانا سجا دیا۔ ماں کی حسرت تھی کہ کافی عرصہ بعد بچے ایک میز پر کھانا کھائیں گے مگر ماں کی حسرت تب لہو لہان ہوئی جب بہو اور پوتا پوتی کھانا اٹھاکر کونے کھدروں میں جا گھسے اور کھانا کھاتے ہوئے موبائل فون پر بھی مصروف ہوگئے۔ بیٹے نے ماں اور باپ کے ساتھ سمی جملے بولے ہی تھے کہ فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ باپ تو کھانا کھا کر مسجد کو نکل گیا مگر ماں فون کال کے ختم ہونے کے انتظار میں رہی۔ فون بند ہوا اور ماں نے بات شروع کی ہی تھی کہ پھر فون بج اٹھا۔ ماں نے دل ہی دل میں موبائل فون کو کوسنا شروع کر دیا۔ ماں کے زیر لب شکایت کو بیٹے نے محسوس کرلیا اور فون کال منقطع کر کے کھانا کھانے لگا۔
ماں نے بیٹے سے مخاطب ہو کر کہا، “بیٹا کھانا سکون سے کھاتے ہیں۔ کھانا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔” بیٹے نے ایک نظر موبائل فون کی سکرین پر ڈالتے ہوئے کہا، “جی امی، سچ کہا آپ نے۔”
بیٹے نے وٹس ایپ پر وائس میسج سننے کے بعد پھر سے ماں سے مخاطب ہوکر کہا، “امی جی اپنی صحت کا خیال رکھا کیجئے۔ پہلے کی نسبت زیادہ کمزور لگ رہی ہیں آپ۔” ماں نے آہ بھر کر کہا، “بیٹا جب دل میں بسنے والے نظروں سے اوجھل ہو جائیں تو صحت تو بگڑتی ہی ہے۔” بیٹے نے ماں کے الفاظ کی گہرائی معلوم کرنے کی کوشش ہی نہ کی۔ ماں کو اپنے لخت جگر کی یہ ادائے غافلانہ بہت تکلیف دہ محسوس ہوئی۔ مگر ماں نے دل کو یہ سوچ کر مطمئن کر لیا کہ بیٹا تھکا ہوا آیا ہے۔ اس لئے وہ پوری طرح ماں کی بات سمجھ نہیں پا رہا۔
ماں نے اپنی کھانسی چھپاتے ہوئے منہ دوسری طرف موڑ لیا مگر بیٹے نے نوٹ کر لیا۔ بیٹے نے موبائل فون سے توجہ ہٹاتے ہوئے کہا، “امی آپ بیمار ہیں کیا؟” ماں نے بیٹے کو تسلی دیتے ہوئے کہا، “نہیں بیٹا بس جھاڑ پونچھ سے گرد حلق تک اتر آئی تھی۔ میں ٹھیک ہوں۔” بیٹے نے ماں کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی موبائل فون پر مصروف ہو گیا۔
ماں نے بہو سے بات کرنا چاہی مگر بہو وٹس ایپ پر کسی کا وائس میسج سننے میں مصروف ہو گئی۔ ماں کچھ سوچ کر اپنی پوتی عائشہ کی طرف بڑھی۔ پوتی اور پوتا موبائل فون پر گیم میں مگن تھے بس رسمی ہوں ہاں کرتے رہے۔ ماں نے بچوں کے چہروں پر ناگواری کے تاثرات دیکھے تو جی کڑا کر کے کچن میں لوٹ آئی۔ کچن کی چھت کے ساتھ لٹکے ہوئے جالوں کو غور سے دیکھا اور اسے ایسا لگا جیسے اس کی روح کو یہ جالے چمٹ گئے ہوں۔ اتنے مہینوں بعد بیٹا گھر لوٹ رہا تھا مگر ماں کے لیے اس کے پاس اتنا وقت نہ تھا۔ بیٹے اور بہو نے آتے ہی چند رسمی کلمات کہے اور اپنے موبائل فون پر مصروف ہو گئے۔ ماں اس مشینی دور سے خفا تھی جس نے اپنوں کو بیگانہ کر دیا تھا۔ کچن کی چھت کو گھورتے ہوئے ماں سوچ رہی تھی کہ بیٹے کے آنے کا انتظار اس کے آنے سے بہتر تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کم از کم بیٹے کے ساتھ چند بے کیف لمحے تو نہ گزارنے پڑتے۔ بیٹے کے آنے پر کتنی ہی باتیں تھیں جو کرنا تھیں مگر بیٹے نے جی بھر کر کچھ کہنے ہی نہ دیا۔ بیٹا اپنی دنیا میں مگن رہا اور ماں چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کہہ سکی۔ ماں تھی اپنے بچوں کے لئے خود کو سمجھانے لگی کہ بچے تھکے ہوئے ہیں، چلو رات کو جی بھر کر باتیں کریں گے۔ شام کا کھانا بنا سب نے کھایا۔ ماں نے برتن سمیٹے اور بہو فون پر کسی سہیلی سے حال احوال دریافت کرنے میں مصروف ہو گئی۔ برتن وغیرہ سے فارغ ہو کر ماں بیٹے کے پاس آ کر بیٹھی۔ بیٹے نے کچھ رسمی سی گفتگو کی اور فون پر چینل لگا کر دنیا بھر کی خبریں سننے لگ گیا۔ ماں کے دل میں ہزاروں ہی باتیں تھیں جو بیٹے کے ساتھ بیٹھ کر کرنا تھیں مگر بیٹے کو فرصت ہی نہ تھی۔ بیٹے اور بہو نے ماں کے گھر میں اجنبیوں کی طرح ایک آدھ دن گزارا اور   

ماں کی تنہائی تھی کہ بڑھتی ہی چلی گئی۔

   افسانہ نگار: لہر نیازی

Ehsaas Tanhai – Afsana By Lehr Niazi
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Ehsaas Tanhai – Afsana By Lehr Niazi

Salagar Ki Raat (Afsane)
FICTION BOOKS BY MIANWALIAN LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Salagar Ki Raat (Afsane)

Afsana: Baba Jand Peer
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Afsana: Baba Jand Peer

Mutiullah Khan: Sahafat mein Nafasat aur Waqar ka Alam Bardar
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALI MEDIA LEGENDS & JOURNALISTS

Mutiullah Khan: Sahafat mein Nafasat aur Waqar ka Alam Bardar

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi)  Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb

“Darya Kandhi” Afsana
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“Darya Kandhi” Afsana

Saleeb-e-Waqt (Urdu Shaairi Majmua)
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI KI SHAYARI:

Saleeb-e-Waqt (Urdu Shaairi Majmua)

PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER Professor Rais Ahmad Arshi — A Distinguished Scholar, Teacher, and Poet from Mianwali

PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025

Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”

Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr

Muhammad Ashfaq Chughtai
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS

Muhammad Ashfaq Chughtai

AMEERZADA AFSANA   -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

AMEERZADA AFSANA -AFSANA BY LEHR NIAZI

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI

YAAD-E-RAFTA  -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

YAAD-E-RAFTA -AFSANA BY LEHR NIAZI

UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN WRITERS CLUB POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works THE SOUL OF THE DESERT: EXPLORING THE POETIC JOURNEY OF LEHR NIAZI WRITERS & AUTHERS FROM MIANWALI

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top