افسانہ —ہائے غربت ۔۔۔۔
“پیٹ خالی ہو تو انسان کو اپنا بھرم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔” خالق ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سوچنے لگا۔ اسے ڈر تھا کہ کوئی اس ہوٹل پر بیٹھتے ہوئے اسے دیکھ تو نہیں رہا۔ شہر کے مشرقی کونے میں واقع چھپر ہوٹل تھا جہاں مزدور طبقہ روٹی کھانے آتا تھا۔ بھکاری اور مفلس لوگوں کا بھی جمگھٹا لگا رہتا تھا۔ یہ ہوٹل ایک امیر آدمی نے خیرات کے طور پر مفلس اور نادار لوگوں کے لیے ضلعی ہسپتال کے عقب میں بنا رکھا تھا۔ وہ امیر شخص تو شاید ہی یہاں آیا ہوگا۔ مگر اس نے اپنے علاقے کے لوگوں کو ایک وقت کی سستی روٹی کی نیت سے یہ ہوٹل کھول کر کسی کے سپرد کردیا تھا۔ خالق اپنی مفلسی کو چھپاتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر اس کی مالی حیثیت اس کے جاننے والوں پر ظاہر ہوگئی تو اس کے بچوں کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گی۔ خالق ایک پرائیویٹ کلینک پر اٹینڈنٹ تھا۔ اس کی ماہانہ تنخواہ کچھ زیادہ نہ تھی۔ اس کے گاؤں کے کچھ افراد اسی شہر میں معقول اجرت پر ملازم تھے۔ وہ سب اچھا پہنتے اور اچھے ہوٹلوں پر آتے جاتے۔ خالق نے ایک بہترین سوٹ رکھا ہوا تھا۔ وہ اس سوٹ کو تب زیب تن کرتا جب اپنے گاؤں والوں کی طرف جاتا۔ عید الفطر قریب آ رہی تھی۔ خالق ہر بار کی طرح اس عید پر بھی کچھ اضافی رقم گھر بھیجنا چاہتا تھا۔ بیٹے تو سمجھدار تھے مگر بیٹی چھوٹی تھی۔ بیٹی کی فرمائشیں کچھ زیادہ ہی تھیں۔ سردیوں کی آمد آمد تھی اور گھر والوں نے گرم کپڑے بھی لینے تھے۔
خالق انہی خیالوں میں مستغرق تھا کہ ویٹر نے آواز لگائی۔ خالق نے چونک کر اس کی دیکھا تو ویٹر نے سوال دہرایا، “جناب کونسا سالن لگا دوں؟” “دال ماش.” خالق نے پھیکا سا جواب دیا اور کنکھیوں سے اپنے اردگرد دیکھنے لگا۔ اس کی نظریں ہوٹل کے پھٹے کے نیچے پڑے پیاز کے خشک زرد پرتوں پر جمی رہ گئیں۔ اس کی عزت پیاز کے اوپر چڑھی پتلی سی تہہ کی سی تھی۔ جسے وہ بچائے رکھنا چاہتا تھا۔
ویٹر نے پھر سوال دہرایا تو اس نے آہستہ سے کہا، “دال ماش ہے؟” ویٹر نے کہا، “جی دال ماش ہے.” وہ بولا، “تو مجھے ایک پلیٹ دال ماش کی دے دیجیے۔” آرڈر لے کر ویٹر واپس چلا گیا اور وہ ادھر ادھر ایسے دیکھنے لگا جیسے ابھی ابھی اس سے کوئی بہت بڑا جرم سرزد ہو گیا ہو۔ وہ ٹوٹے ہوئے پھٹے کے ایک کونے میں دبکا بیٹھا تھا۔
خالق روٹی آنے تک سر جھکائے سوچوں میں گم ایسے بیٹھا تھا جیسے اسے دنیا کا کوئی غم نہیں تھا۔ لیکن جو غم تھا اس کا اپنا تھا، اپنے گھر کا غم تھا، اپنے بال بچوں کا غم تھا اور یہ غم تھا کہ ہائے غربت میں اپنے بچوں کو نہ اچھا پہننے کو دے سکتا ہوں نہ ان کو اچھا کھانے کو دے سکتا ہوں۔
سوچیں تھیں کہ اس کے ماتھے کی جھریوں کی طرح الجھتی جا رہی تھیں۔ اسے ارد گرد کی دنیا اپنے سے جدا محسوس ہو رہی تھی۔ وہ خود کو تنہا محسوس کر رہا تھا۔ وہ اپنا غم کسی کو سنا نہیں سکتا تھا۔ اگر وہ اپنا غم کسی کو سناتا تو لوگ اس کو بھکاری سمجھتے اور اس پر آوازیں کسنے لگتے۔ اور خالق نہیں چاہتا تھا کہ اسے کوئی بھکاری سمجھے اور یہی طعنہ جا کر اس کی اولاد کو کوئی دے دے۔ یہ اپنا بھرم رکھنا چاہتا تھا۔ اپنے بال بچوں کو اپنی غربت اور اپنے حالات سے بچانا چاہتا تھا۔ خالق بھی چاہتا تھا کہ اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے کچھ کرے اور یوں یہ اپنی سی کوشش کر رہا تھا۔
خالق سستے ہوٹل پر چھپ چھپ کر سستا کھانا کھانے آتا تھا۔ یوں وہ چار ٹکے بچا بچا کر گھر کو بھیج رہا تھا۔
عید جیسے بڑے تہوار دراصل امیروں کے لیے ہوتے ہیں۔ ایسے بڑے تہوار غریبوں کے لیے وبال جان ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ذہنی کوفت اور پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔
خالق عید کے آنے پر جس ذہنی کوفت سے گزر رہا تھا یہ وہ خود جانتا تھا یا اس کا رب جانتا تھا۔
گھر سے جب بھی موبائل پر کال آتی یہ ڈر جاتا کہ یا اللہ خیر، کہیں گھر والوں کو پیسوں کی ضرورت تو نہیں پڑ گئی۔ وہ موبائل پر بات کرنے سے پہلے اپنے رب کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتا کہ اے میرے اللہ کہیں پیسوں کی ضرورت نہ پڑ گئی ہو۔ جب کال اٹھاتا اور پیسوں کی بات نہ ہوتی تو وہ رب کا شکر ادا کرتا۔ گھر کی خیر و عافیت سے مطمئن ہو جاتا۔ لیکن اگلے ہی لمحے آنے والے تہوار اس کے دل و دماغ پر پرچھائیاں بن کر آسیب کی طرح چمٹ جاتے۔
خالق انہی سوچوں میں غرق تھا کہ اس کے عقب میں بیٹھے دو افراد آپس میں اونچی اونچی باتیں کرنے لگ گئے۔ اس نے کنکھیوں سے ان کی طرف دیکھا تو ان میں سے ایک شخص اسے دیکھا بھالا محسوس ہوا۔ ذہن پر زور ڈالا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ تو اس کے پڑوسی کے دور پار کا ایک رشتہ دار بیٹھا ہے۔ وہ فوراً منہ کو دوسری طرف موڑ کر بیٹھ رہا اور جب تک وہ شخص باتیں کرتا رہا یہ اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھا رہا۔ ویٹر تھوڑی دیر کے بعد کھانا لے آیا۔ خالق نے جلدی جلدی کھانا کھایا، پیسے دیے اور منہ لپیٹ کر وہاں سے روانہ ہو گیا۔ کیونکہ اسے ڈر تھا کہ وہ جو شخص بیٹھا تھا وہ اس کے پڑوسی کا رشتہ دار تھا یقینا اس نے اس کو پہچان لینا تھا اور یقینا وہ پھر اپنے رشتہ دار سے اس کی بات بھی کرتا۔ یوں اس کا بھرم کھل جاتا اور یہی تو وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے گھر والوں کو پتہ چلے کہ وہ کسی ایسے ہوٹل سے کھانا کھاتا ہے جو غریبوں کے لیے بنا ہے۔ جہاں پر غریب لاچار اور بھوکے لوگ آ کر کھانا کھاتے ہیں۔
خالق نے آج تک اپنی رہائش گاہ کا کسی کو نہیں بتایا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی اس سے ملنے آ جائے اور جس حال میں وہ چھوٹے سے کباڑ خانے میں رہ رہا ہے، کہیں اس کی کلی نہ کھل جائے۔ وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتا ایک تنگ سی گلی میں گھس گیا اور گندگی کے ڈھیر پھلانگتے ہوئے اپنے تنگ سے کمرے میں دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
افسانہ نگار: لہر نیازی
