Headmaster Faiz Rasool Shah

ہیڈ ماسٹر فیض رسول شاہ — فرض شناسی، دیانت داری اور تعلیمی خدمت کی ایک روشن مثال

تحریر: امداد نیازی

گورنمنٹ پرائمری سکول ابراہیم خیل، مرکز ترگ — ایک کامیاب تعلیمی سفر

 

کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں استاد کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ استاد صرف کتابی علم منتقل نہیں کرتا بلکہ وہ نسلوں کی تربیت، کردار سازی اور مستقبل کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ استاد اور شاگرد کا رشتہ تعلیمی عمل میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ایک بہترین استاد اپنی رہنمائی میں طالب علم کو علم و آگہی، اعتماد اور کردار کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ ایسے شفیق، مخلص اور فرض شناس اساتذہ حقیقتاً قوموں کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں اور قومیں ان پر ناز کرتی ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی تعلیمی ادارے کو ایک فرض شناس، دیانت دار، انصاف پسند اور بہترین نظم و نسق رکھنے والا سربراہ میسر آ جائے تو وہ ادارہ وقت کے ساتھ نمایاں ترقی کرتا ہے۔ ایسا سربراہ ادارے کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہے اور قومی امانت میں خیانت کا تصور بھی ذہن میں نہیں لاتا۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں کی کامیابی میں سربراہ کی قیادت کے ساتھ ساتھ مخلص اور فرض شناس تدریسی عملے کا کردار بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی تناظر میں ہیڈ ماسٹر فیض رسول شاہ کا نام قابلِ ذکر ہے، جنہوں نے اپنی محنت، دیانت داری، فرض شناسی، انصاف پسندی اور بہترین انتظامی صلاحیتوں سے گورنمنٹ پرائمری سکول ابراہیم خیل، مرکز ترگ کو ایک نمایاں تعلیمی ادارہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

فیض رسول شاہ نے 18 مارچ 2008ء کو اس سکول کی سربراہی سنبھالی۔ جب انہوں نے ادارے کی ذمہ داری سنبھالی تو سکول میں طلبہ کی تعداد تقریباً 60 تھی، جو ان کی شبانہ روز محنت، بہتر نظم و نسق، تدریسی کاوشوں اور والدین کے اعتماد کے نتیجے میں بڑھتے بڑھتے 340 سے تجاوز کر چکی ہے۔ آج دور دراز علاقوں سے بھی طلبہ اس ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ادارے نے علاقے میں ایک مضبوط تعلیمی شناخت قائم کی ہے۔

فیض رسول شاہ — شخصیت، خاندان اور ابتدائی زندگی

ہیڈ ماسٹر فیض رسول شاہ 16 ستمبر 1972ء کو ماسٹر فدا رسول شاہ کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش پر والدین اور خاندان کی خوشی دیدنی تھی۔ والد نے اپنے پہلے بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں مٹھائی تقسیم کی، خصوصاً اس زمانے میں چونکہ کھجور کا موسم تھا، اس لیے کھجور بھی دوست احباب اور عزیز و اقارب میں بطور سوغات تقسیم کی گئی۔

ان کے والد ماسٹر فدا رسول شاہ خود بھی ایک اچھے استاد رہے۔ مضمون نگار کے مطابق وہ خود بھی ماسٹر فدا رسول شاہ سے چھٹی جماعت میں اسلامیات پڑھ چکے ہیں۔ ایک استاد کی حیثیت سے ان کی خدمات اور اپنے بیٹے کی تربیت میں ان کا کردار قابلِ ذکر رہا۔

ماسٹر فدا رسول شاہ اپنے بیٹے فیض رسول شاہ کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ بچپن ہی سے شریف طبیعت کے مالک تھے، تعلیم کے سلسلے میں ان کا کیریئر اچھا رہا اور وہ ننھیال و ددھیال دونوں خاندانوں کی آنکھوں کا تارا رہے۔ والد نے محبت بھرے انداز میں ایک واقعہ بھی بیان کیا کہ ایک مرتبہ ملازمت کے دوران راولپنڈی میں فیض رسول شاہ بیمار ہوئے تو وہ انہیں ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ ڈاکٹر سے بچے کو چیک کرنے کی درخواست کی تو ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا کہ بچہ کہاں ہے؟ جب فیض رسول شاہ کی طرف اشارہ کیا گیا تو ڈاکٹر نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ یہ تو میری عمر کا لگتا ہے۔ والد نے جواب دیا کہ ماں باپ کے لیے اولاد ہمیشہ بچہ ہی رہتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو جائے۔ اس واقعے پر سب مسکرا دیے۔

والد کو اس بات پر فخر تھا کہ ان کا بیٹا محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہے اور جب لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں تو انہیں خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیض رسول شاہ کی پرورش بڑے چاؤ، محبت اور شفقت کے ساتھ کی گئی۔

فیض رسول شاہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ ان کے بھائیوں میں عطا رسول شاہ، صابر حسین شاہ اور سب سے چھوٹے محمد بلال ہاشمی شامل ہیں۔

تعلیم اور تدریسی سفر

فیض رسول شاہ نے میٹرک سابق گورنمنٹ ہائی سکول ترگ، نزد یونین کونسل ترگ سے پاس کیا۔ اس کے بعد ایف اے گورنمنٹ کالج عیسیٰ خیل سے مکمل کیا اور 1990ء میں ترگ سے ٹیچنگ کورس کیا۔

ان کی بطور استاد پہلی تقرری 7 فروری 1993ء کو گورنمنٹ پرائمری سکول کریانوالہ (ونجاری) میں ہوئی۔ کسی بھی انسان کے لیے پہلی ملازمت اور پہلی پوسٹنگ زندگی کے یادگار لمحات میں شمار ہوتی ہے۔ انسان جہاں بھی بعد میں ملازمت کے تجربات بیان کرے، پہلی تقرری کا ذکر خصوصی خوشی اور جذبات کے ساتھ کرتا ہے۔

بعد ازاں فیض رسول شاہ نے GES مرغانوالہ اور پھر GES مہر شاہ میں خدمات انجام دیں۔ مختلف اداروں میں تدریسی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد 18 مارچ 2008ء کو انہوں نے گورنمنٹ پرائمری سکول ابراہیم خیل، مرکز ترگ کی سربراہی سنبھالی۔

ابراہیم خیل سکول — ایک ادارے کی تبدیلی کی داستان

جب فیض رسول شاہ نے ابراہیم خیل سکول کا انتظام سنبھالا تو طلبہ کی تعداد صرف 60 تھی۔ آج یہی تعداد 340 سے زیادہ ہو چکی ہے اور ہر سال اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سکول کا کل رقبہ ایک کنال چھ مرلے ہے۔

یہ کامیابی صرف ایک فرد کی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ سربراہ کی بے لوث قیادت اور فرض شناس عملے کی مشترکہ کاوشوں کا ثمر ہے۔ فیض رسول شاہ کو ایسا اسٹاف بھی میسر آیا جس نے ادارے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

سکول کے عملے میں درج ذیل اساتذہ شامل رہے:

ہیڈ ماسٹر فیض رسول شاہ — ایم اے، ایم ایڈ

ماسٹر عصمت نواز خان — ایم اے، ایم ایڈ

ماسٹر محمد منیر شاکر — ایم اے، ایم ایڈ

ماسٹر نزیر نواز خان — ایم اے، ایم ایڈ

ماسٹر علی محمد — ڈپلومہ ہولڈر

ایک کامیاب ادارے کے لیے صرف اچھا سربراہ کافی نہیں ہوتا بلکہ اسے مخلص، محنتی اور فرض شناس ساتھیوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ابراہیم خیل سکول کی موجودہ شناخت اسی باہمی تعاون کا نتیجہ ہے۔

قومی امانت اور NSB فنڈز کا شفاف استعمال

فیض رسول شاہ کی انتظامی کارکردگی میں ایک اہم پہلو سکول کو ملنے والی NSB رقم کے استعمال میں شفافیت اور دیانت داری ہے۔ سرکاری طور پر سکول کو سالانہ جو رقم NSB کی صورت میں ملتی ہے، اسے سکول کی ضروریات پر خرچ کیا جاتا ہے اور اس عمل میں تمام اسٹاف کو اعتماد میں لے کر ان کی مشاورت شامل کی جاتی ہے۔

مضمون نگار کے مطابق سکول کے دورے کے دوران ہیڈ ماسٹر کے دفتر میں NSB رقم کا باقاعدہ گوشوارہ چارٹ کی صورت میں دیوار پر آویزاں دیکھا گیا۔ خریداری اور اخراجات کی رسیدیں بھی ریکارڈ میں موجود ہیں۔ مضمون میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ سکول کا پیسہ سکول ہی پر خرچ کیا جاتا ہے اور اس میں خردبرد یا جعلی رسیدوں کا استعمال نہیں کیا جاتا۔

یہ طرزِ عمل اس اصول کی یاد دہانی کراتا ہے کہ سرکاری فنڈ دراصل قوم کے بچوں کی امانت ہیں اور ان کا درست استعمال تعلیمی ادارے کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

سکول کی تاریخ — ایک کمرے سے ایک نمایاں ادارے تک

گورنمنٹ پرائمری سکول ابراہیم خیل 9 اپریل 1971ء کو قائم ہوا۔ ابتدا میں یہ ادارہ صرف ایک کمرے پر مشتمل تھا۔

اس سکول کے ابتدائی سربراہِ مدرسہ جناب مدد خان مرحوم، ابراہیم خیل تھے، جنہیں اپنے وقت کے خوبصورت اساتذہ میں شمار کیا جاتا تھا۔ اس ادارے سے وابستہ رہنے والے اساتذہ میں ماسٹر عصمت اللہ خان اکوال شامل تھے جو بعد میں ہائی سکول ترگ کے ہیڈ ماسٹر بنے۔ ماسٹر نادر خان اکوال نے بعد میں ترقی کرتے ہوئے گورنمنٹ کالج عیسیٰ خیل کے پرنسپل کی ذمہ داری سنبھالی۔ اسی طرح ماسٹر شجاع اللہ خان اکوال، ماسٹر محمد اقبال خان مرحوم ابراہیم خیل اور ماسٹر فصیح الرحمن ہاشمی عیسیٰ خیل بھی اس ادارے سے وابستہ رہے۔

ان تمام اساتذہ نے اپنی بساط، صلاحیت، علم اور اخلاص سے اس ادارے میں علم کی شمع روشن رکھی۔ ان کے فرض، دعاؤں اور محبتوں کے نتیجے میں یہ ادارہ ترقی کی منازل طے کرتا رہا اور آج نمایاں سکولوں میں شمار ہوتا ہے۔

نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں

ابراہیم خیل سکول میں صرف نصابی سرگرمیوں ہی پر توجہ نہیں دی جاتی بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ہر سال ادارے کے طلبہ تقریری مقابلوں اور مضمون نویسی میں مرکز، تحصیل اور ضلع کی سطح پر نمایاں پوزیشنیں حاصل کرتے رہے ہیں۔

طلبہ کو مختلف مقابلوں میں چار، چار ہزار روپے تک کے نقد انعامات بھی ملتے رہے ہیں۔ کھیلوں میں بھی سکول کے طلبہ کرکٹ، لانگ جمپ اور دوڑ سمیت مختلف مقابلوں میں مرکز اور تحصیل کی سطح پر نمایاں پوزیشنیں حاصل کرتے رہے ہیں۔

ہیڈ ماسٹر فیض رسول شاہ کے مطابق بزمِ ادب کی تمام سرگرمیاں وہ خود اپنی نگرانی میں بچوں سے کرواتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ادارے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ادبی، تخلیقی، تقریری اور جسمانی صلاحیتوں کی نشوونما پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔

سابق طلبہ کی کامیابیاں

اس ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ آج مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ کئی سابق طلبہ وطنِ عزیز کے مختلف شعبوں، بالخصوص تعلیم، صحت اور پاک فوج میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ان میں ایک طالب علم واصف علی بھی شامل ہے جو راولپنڈی سے ایم بی بی ایس کر رہا ہے۔ کسی بھی استاد اور تعلیمی ادارے کے لیے اس سے بڑھ کر اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے تربیت یافتہ طلبہ آگے بڑھ کر مختلف شعبوں میں ملک و قوم کی خدمت کریں۔

سکول کے ماتحت دیگر ادارے

فیض رسول شاہ کی نگرانی میں درج ذیل سکول بھی شامل ہیں:

GPS رانجھے والا

GPS جنتی والا

GPS سمند والا

GPS اسحاق آباد

GPS میلی وال

GPS ناڑ خیلا نوالہ

GPS بوستان آباد

GPS چھنلانوالہ

GPS مانجھی خیل

GPS مدت خیلانوالہ

ان اداروں کی نگرانی اور انتظامی ذمہ داری بھی تعلیمی نظم و نسق میں ان کے کردار کو نمایاں کرتی ہے۔

افسران کے خصوصی دورے اور سکول کی کارکردگی

ابراہیم خیل سکول نے اپنی کارکردگی اور مقبولیت کی بنیاد پر ضلع میں ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔ سکول کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے مختلف افسران نے خصوصی دورے بھی کیے، جن میں جج، ڈی ای ایجوکیشن، ڈپٹی ڈی ای او اور اے ای او صاحبان شامل تھے۔

ان افسران نے سکول کا دورہ کرنے کے بعد وزٹ بک میں اپنے تاثرات قلم بند کیے اور ادارے کی کارکردگی کو سراہا۔

ترقی کی ضرورت اور اپ گریڈیشن کی تجویز

سکول کی عمارت خوبصورت اور انتظامی نظم و نسق عمدہ ہونے کے باوجود ایک اہم مسئلہ جگہ کی کمی ہے۔ موجودہ رقبہ ایک کنال چھ مرلے ہے، جو بڑھتی ہوئی طلبہ کی تعداد کے پیشِ نظر مستقبل کی ضروریات کے لیے ناکافی محسوس ہوتا ہے۔

اسی لیے مضمون میں متعلقہ حکام سے درخواست کی گئی ہے کہ سکول کو اپ گریڈ کرکے GES کا درجہ دیا جائے اور اس کے رقبے میں بھی اضافہ کیا جائے۔ ادارے کی کارکردگی اور طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز اس مقصد کے ساتھ پیش کی گئی ہے کہ مستقبل میں یہ سکول ضلع کا ایک مثالی تعلیمی ادارہ بن سکے۔

مختلف شخصیات کی نظر میں ہیڈ ماسٹر فیض رسول شاہ

فیض رسول شاہ کی شخصیت اور خدمات کے بارے میں مختلف شخصیات نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔

ماسٹر عمر خان ترگ، میانوالی

ماسٹر عمر خان ترگ کے مطابق فیض رسول شاہ ان کے بہت پیارے دوست ہیں اور دونوں نے تقریباً آٹھ سال اکٹھے گزارے۔ ان کے بقول فیض رسول شاہ انتہائی مخلص اور ایماندار انسان ہیں۔ ابراہیم خیل سکول کی عمارت ان کی دیانت داری اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکومت کی طرف سے ملنے والے فنڈز کو انہوں نے ایمانداری سے استعمال کیا اور ایک شاندار عمارت کی صورت میں مثال قائم کی۔ ان کی نگرانی میں سکول کا تعلیمی معیار بھی بلند ہوا، جبکہ اس سلسلے میں مخلص اور محنتی استاد عصمت نواز خان کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ انہوں نے فیض رسول شاہ کے لیے نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار کیا۔

فاروق عادل، صحافی و سماجی کارکن، عیسیٰ خیل

فاروق عادل نے بتایا کہ انہوں نے 2006ء سے 2010ء تک نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کے وفاقی ادارے میں کام کیا۔ ان کے مطابق فیض رسول شاہ ان چند اساتذہ میں شامل تھے جو Universal Primary Education کے وژن اور مشن کو سمجھتے تھے اور اس کے لیے بھرپور کام کرتے تھے۔ انہوں نے فیض رسول شاہ کے لیے کامیابیوں کی دعا کی۔

ماسٹر احمد خان صدیقی، صدر پنجاب ٹیچرز یونین میانوالی

ماسٹر احمد خان صدیقی کے مطابق فیض رسول شاہ ایک شگفتہ مزاج اور انسان دوست شخصیت ہیں۔ ٹیچر کاز کے لیے ان کے اخلاص کو پنجاب ٹیچرز یونین میانوالی کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے ان کے لیے ڈھیروں دعاؤں کا اظہار کیا۔

ماسٹر عبدالرحمن شاہ

ماسٹر عبدالرحمن شاہ کے مطابق فیض رسول شاہ ایک خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں اور ان کی کاوشوں کو ہمیشہ سراہا جاتا ہے۔ ان کے بقول وہ ایک اچھے ہیڈ ماسٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قابل استاد بھی ہیں۔

ہیڈ ماسٹر مسعود احمد خان، گورنمنٹ ہائی سکول ترگ

ہیڈ ماسٹر مسعود احمد خان نے فیض رسول شاہ کو ایک دیانتدار اور فرض شناس استاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سکول کی بہتری کے لیے زبردست کام کیا ہے۔

عدنان حامد صاحب

عدنان حامد کے مطابق فیض رسول شاہ ان کے بہت اچھے دوست اور قابل استاد ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ان کے والد بھی محکمۂ تعلیم سے وابستہ تھے۔ انہوں نے فیض رسول شاہ کی شخصیت کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے سلامتی کی دعا کی۔

احسان اللہ خان ترگ، سماجی شخصیت

احسان اللہ خان ترگ نے بتایا کہ فیض رسول شاہ ان سے صرف تیرہ دن بڑے ہیں اور دونوں مڈل سکول میں کلاس فیلو رہے ہیں۔ آج بھی وہ ان کے پڑوسی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیض رسول شاہ کے والد گرامی ان کے استاد رہے اور ان کے اپنے والد مرحوم ماسٹر ولی داد خان کے شاگرد تھے۔ انہوں نے فیض رسول شاہ کے چھوٹے بھائی کو بھی قابلِ تعریف قرار دیا اور پورے خاندان کے لیے دعائے خیر کی۔

ماسٹر فاروق احمد خان

ماسٹر فاروق احمد خان کے مطابق فیض رسول شاہ بہت اچھے استاد اور بہت اچھے ہیڈ ماسٹر ہیں۔ ان کے بقول سکول کو ترگ کے بہترین سکولوں میں شامل کرنے میں ان کی خدمات سے کسی کو انکار نہیں۔ اس کے علاوہ اساتذہ کے مفادات کے لیے پنجاب ٹیچرز یونین کے پلیٹ فارم سے بھی ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔

ہیڈ ماسٹر فیض رسول شاہ کی داستان دراصل ایک ایسے استاد اور تعلیمی منتظم کی داستان ہے جس نے اپنے منصب کو محض ملازمت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھ کر نبھایا۔ 1993ء میں بطور استاد عملی تدریسی سفر شروع کرنے والے فیض رسول شاہ نے 18 مارچ 2008ء کو ابراہیم خیل سکول کی سربراہی سنبھالی اور وقت کے ساتھ اس ادارے کو ایک نمایاں تعلیمی شناخت دلانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

ایک طرف سکول میں طلبہ کی تعداد 60 سے بڑھ کر 340 سے زیادہ ہوئی، دوسری طرف نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں طلبہ نے مرکز، تحصیل اور ضلع کی سطح پر پوزیشنیں حاصل کیں۔ ادارے کے سابق طلبہ مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں اور شعبہ ہائے زندگی میں آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ سکول کی انتظامی کارکردگی اور فنڈز کے استعمال میں شفافیت کا بھی ذکر ملتا ہے۔

کسی بھی ادارے کی کامیابی صرف عمارت، فنڈ یا سہولیات سے ممکن نہیں ہوتی؛ اس کے پیچھے ایک مخلص قیادت، فرض شناس اساتذہ، محنتی طلبہ اور والدین کا اعتماد ہوتا ہے۔ ابراہیم خیل سکول کے سفر میں یہ تمام عناصر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ دیانت داری، محنت، خلوص اور فرض شناسی اگر مسلسل عمل کا حصہ بن جائیں تو ایک محدود وسائل رکھنے والا ادارہ بھی اپنی الگ شناخت قائم کر سکتا ہے۔ ابراہیم خیل سکول کی موجودہ صورتِ حال اسی مسلسل جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہیڈ ماسٹر فیض رسول شاہ، ان کے ساتھی اساتذہ، طلبہ اور اس ادارے سے وابستہ تمام افراد کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس تعلیمی ادارے کو مزید ترقی، وسعت اور کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔

Imdad Hussain Khan

Imdad Hussain Khan

امداد حسین خان کی سوانح عمری میں امداد نیازی  ایک باصلاحیت اور پرجوش مصنف ہے جو اپنی مادر وطن کی...
Read More
HEADMASTER HAJI ALAM KHAN

HEADMASTER HAJI ALAM KHAN

ہیڈ ماسٹر  عالم خان مرحوم کی تعلیمی خدمات   تحریر و تحقیق   -- امداد حسین خان  کسی بڑے آدمی کی...
Read More
HEADMASTER AMANULLAH KHAN

HEADMASTER AMANULLAH KHAN

"' ہیڈ ماسٹر امان اللہ خان مرحوم کی تعلیمی خدمات"" تحریر=امدادخان ترگوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کی...
Read More
HEADMASTER HAJI OMAR HAYAT KHAN

HEADMASTER HAJI OMAR HAYAT KHAN

"سابق ہیڈ ماسٹر حاجی عمرحیات خان مرحوم کی تعلیمی خدمات"" تحریر= امداد خان ترگوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کائنات میں موجود ہر شے اپنی...
Read More
HEAD MASTER MUNSHI QADIR BAKHSH ABBASI

HEAD MASTER MUNSHI QADIR BAKHSH ABBASI

""سابق ہیڈ ماسٹر منشی قادر بخش عباسی مرحومS/O حافظ گل حسن عباسی مرحوم"" تحریر=امداد خان ترگوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ پاک کے فضل...
Read More
HEADMASTER AHMED KHAN NIAZI CHAVAN

HEADMASTER AHMED KHAN NIAZI CHAVAN

""سابق ہیڈ ماسٹر احمد خان نیازی چاونs/oعثمان خان نیازی مرحوم،"(1903--1980) تحریر= امداد خان ترگوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان جب کچھ لکھنے بیٹھتا ہے...
Read More
HEADMASTER GHULAM HUSSAIN NATIQ

HEADMASTER GHULAM HUSSAIN NATIQ

سابق ہیڈ ماسٹر شاعر وادیب غلام حسین ناطق مرحومS/Oجمعہ  (1896.97ء--1956) گورنمنٹ مڈل سکول ترگ(H/Sترگ سٹی) تحریر=امداد نیازی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ اپنی...
Read More
HEADMASTER SYED MUHAMMAD AKRAM SHAH

HEADMASTER SYED MUHAMMAD AKRAM SHAH

 ہیڈ ماسٹر محمد اکرم شاہ صاحب دورانیہ بطور ہیڈ شپ( 1975-1989)  تاریخ پیدائش و وفات(1934--2008) محکمہ تعلیم سے وابستہ اہل...
Read More
IMDAD HUSSAIN KHAN — LITERARY CONTRIBUTIONS AND INTELLECTUAL JOURNEY

IMDAD HUSSAIN KHAN — LITERARY CONTRIBUTIONS AND INTELLECTUAL JOURNEY

امداد حسین خان — ادبی خدمات اور فکری سفر امداد حسین خان (جو عموماً امداد خان ترگوی کے نام سے...
Read More
Headmaster Faiz Rasool Shah

Headmaster Faiz Rasool Shah

ہیڈ ماسٹر فیض رسول شاہ — فرض شناسی، دیانت داری اور تعلیمی خدمت کی ایک روشن مثال تحریر: امداد نیازی...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top