کالاباغ میں نمک کے ذخائر کی تباہی کا ذمہ دار کون؟؟
اللہ پاک نےپاکستان کوبہت سےمعدنیات کےخزانوں سےنوازرکھاہیےاوران معدنیات میں سے نمک ایک ایسی قیمتی چیزہیےجواللہ پاک نےدنیامیں واحدپاکستان کواس قیمتی خزانےسےنوازرکھاہیےجوڈبلیو ایچ او جیسےادارےنےکہاہوکہ ریڈسالٹ نمک کی ایسی کوالٹی ہیےجس میں وہ تمام منرل شامل ہیں جوانسانی صحت کےلیےضروری ہیں سب سے اہم بات یہ ہیےان کی تحقیق کےمطابق کالاباغ کےپہاڑوں میں لوہیےزخائرموجودہونےکیوجہ سےاس نمک میں قدرتی طورپرآئرن شامل ہیےآئرن کمی کےلیےمصنوعی طورپرادویات کھائی جاتی ہیں لیکن اس نمک میں قدرتی طورپراتنی مناسب مقدار جوخاص کرحاملہ خواتین کواستعمال کرنےسے بہت صحت مندبچےپیداہوتےہیں اورعام استعمال سےبہت سی بیماریوں سےبچانےمیں مدد دیتاہیے پوری دنیامیں کھانےاور صنعتوں اوردیگرشعبوں میں استعمال ہونےوالانمک پاکستان سےایکسپورٹ کیاجاتاہیے جس میں کالاباغ کےمشہورپہاڑسلاگرسےنکالےجانےوالاریڈکلرکےنمک کوخصوصی اہمیت حاصل ہیےاللہ کی دی ہوئی نعمت جوبہت قیمتی ہیے اس قیمتی خزانےکی رکھوالی بددیانت لوگوں کےہاتھ میں آجانےکی وجہ سےآج یہ قیمتی خزانہ تباہ ہوچکاہیے جس کےزمہ دار پی ایم ڈی سی کےافسران اور معدنیات کی پالیسی بنانےوالےوہ لوگ ہیں جواےسی لگےدفاتر میں بیٹھ کراپناحصہ تولیتےرہیےاورقیمتی نمک کےذخائرکوتباہ کرنےوالوں کھلی چھوٹ دیے رکھی
انیس سو ساٹھ1960 کی دہائی میں پی آئی ڈی سی پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ادارے سے پی ایم ڈی سی پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے نام سے ایک نیا ادارہ بنایا گیا اس وقت پی ایم ڈی سی کے پاس نمک کی کانوں سے نمک کی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے اپنی ٹرانسپورٹ ڈمپر وغیرہ موجود تھے وانڈا ککڑنوالا میں روپ وے سسٹم موجود تھا اس کے علاوہ گاڑیوں کی ایک بہت بڑی ورکشاپ جس میں بہت سے ملازمین کام کیا کرتے تھے انیس سو ستانوے1997تک تقریبا تیس سال گزرنے کے بعد پی ایم ڈی سی کا ادارہ کرپشن کی وجہ سے تباہی کے دھانے تک پہنچا دیا گیا بڑی ورکشاپ اور روپے سسٹم ختم ہو چکا تھا اور بڑے بڑے ڈمپر جو نمک اٹھانے کے کام آتے تھے وہ کباڑ بناکر بیچ دیا گیا اور بہت سے ملازمین کومحکمےنے جبری ریٹائر کردیا1997میں پی ایم ڈی سی کے پاس اتنی رقم موجود نہیں تھی کہ مائنروں کو ادائیگی کرسکتا اس وقت کےپی ایم ڈی سی کے چیئرمین نے محکمہ کو بچانے کے لیے تجاویز مانگی تو کالاباغ کے تمام مائنروں نے اتفاق کرتے ہوئے اپنے شیئر محکمے کو دے دیے اور نمک کی قیمت محکمہ کو دینے اور نمک کی مارکیٹنگ خودکرنےکی تجویز دی گئی جسے اس وقت کے پی ایم ڈی سی کے چیئرمین نے تجویز قبول کر لی یوں کالا باغ میں ایک بڑے بحران کے بعد پی ایم ڈی سی کا محکمہ ختم نہ ہواور پھر سے اپنے قدموں پرکھڑاہوسکے اور کالا باغ میں نمک کی کان کنی ایک نئے سرے سے شروع کی گئی اب پھرتیس سال ہونے کو ہیں پی ایم ڈی سی کی غلط پالیسی، محکمانہ کرپشن، اور نااہلی کی وجہ سے کالا باغ میں پہلے وانڈا ککڑنوالا کے وسیع ذخائر نمک کے تباہ کیے گئے اور اب کالاباغ میں بھی وسیع ذخائر نمک کے تباہ ہو چکے ہیں جبکہ یہاں اس علاقے میں نمک کے اتنے وسیع ذخائر موجود ہیں جو صدیوں تک نکالے جا سکتےہیں مگر پی ایم ڈی سی کی کرپٹ انتظامیہ نےبےدریغ اورکسی پلاننگ کےبغیرمائننگ کرکےسارےعلاقےکوتباہ کرکےرکھ دیاہیےکالاباغ میں انگریزدورکی ماۂن میں میٹھےپانی چشمے کےپانی کی وجہ سے خطرناک قراردےکر بندکی گئی مائن کودوبارہ کھول کرمائیننگ شروع کی گئی اور آج موجودہ صورت حال یہ ہیےکہ ہزروں گیلن میٹھاپانی مختلف چیمنبربھرجانےکےبعد مائن کے پلروں کےنیچےسےنمک پانی کےساتھ حل ہوکرزمین کےاندراتھاگہرائیوں میں اپناراستہ بناکرنہ جانہ کہاں سےجاکردیاۓ سندھ میں جاکرشامل ہواہوگا عام طورپرمائنوں کےاندرپانی کےبڑے بڑےنمکین پانی کےتالاب حوکئی سوفٹ گہرے ہوتےہیں ان میں سے مائنرپانی نکالتارہتاہیےجومائنوں میں بارش اوربرساتی نالوں یامیٹھےچشموں کاپانی رس رس کر تھوڑی تھوڑی مقدارمیں تالابوں میں جمع ہوتارہتاہیے مگرموجودہ میٹھاپانی بہت زیادہ مقدارمیں مائن میں داخل ہورہاہیے جوپانی کےچشمے کےنذدیک بلاسٹننگ کانتیجہ ہیے کہ چشمےکےپانی کامنہ مائن میں کھل گیااور کہیں اورجاتاپانی مائن اندرداخل ہوناشروع ہوگیااورمائن کےنچلےچیمبروں میں بھرگیااورزمین کےاندرراستہ بناتاگیاپہلےروایتی پیٹرپمنپوں سےپانی نکالنےکی کوشش میں کئی دن گزاردیےاوراسکےبعدکئی دن بعدٹربائن منگوانےکےانتظامات کیےگۓتب تک پانی نےپہلےسےخطرناک مائن اب اورزیادہ خطرناک ہوچکی ہیں کئی ہفتےگزرجانےکےبعدپانی کی مقدارکم ہونےمیں نہیں آرہی جبکہ دن رات ٹربائنیں لگاتارپانی نکالنےمیں مصروف ہیں پی ایم ڈی سی کےجی ایم بھی کچھ دن پہلےمائن کامعائینہ کرکےگۓہیں اورابھی لگاتارپانی نکالنےکاآرڈرکرگۓ ہیں کہ عیدالضحی کےبعد فیصلہ کیاجاۓکاکہ مائن کوچلاناہیےیابندکرناہیے
سوال یہ ہیے کہ مائن میں پانی کس کی غفلت سےداخل ہواہیے اور کیاجومائن کاروزانہ معائنہ کرتےہیں انہوں نےپانی کےخطرےکوجوپہلےسےمعلوم تھاکہ اس مائن میں پانی کاخطرہ موجودہیےجسےانگریزانجینئرنےبہت عرصہ پہلےمحسوس کرلیاتھا پی ایم ڈی سی کےانجینئرنےیاانسپکٹریٹ کےکسی انسپکٹرکومحسوس نہیں ہوایہ سب پتہ ہونےکےباوجود اس مائن میں پانی موجودہیےاس کودوبارہ کھولاگیااورپانی کےاتنےنذدیک بلاسٹننگ کی کئی کہ علاقےکےساتھ ساتھ قبرستان اللہ کےبزرگ المعروف چپ فقیرکےمزار کوبھی خطرات لاحق ہوگۓہیں اورجو ہزاروں گیلن نمکین پانی مائن سےنکل رہاہیےوہ دن رات دریاۓسندھ کےپانی میں شامل ہوکرآبی آلودگی کاسبب بن رہاہیےاور آبی مخلوق مچھلیوں اوردوسرےآبی جانوروں کےلیے نقصان دہ ہیے اس معاملےمیں تحفظ ماحولیات کامحکمہ مکمل خاموش ہیے اورسب سے بڑانقصان یہ ہیے کہ پاکستان کااربوں کھربوں کاقیمتی نمک کاخزانہ جواب پانی میں ڈوب جانےوالاہیے اس کی تباہی کےزمہ داروں کاتعین ہوناچاہیے اور ان کےخلاف سخت قانونی کاروائی ہونی چاہیے جن کی غفلت اورسستی کی وجہ سےبہت بڑانقصان ہوااور سینکڑوں مزدورجوان مائنوں میں کام کرتےتھےان کے بےروزگارہونےکاخدشہ ہیے اس کےساتھ ساتھ مائنروں کےکروڑوں روپےجولگےہیں وہ ڈوب جانےکااندیشہ منڈلانےلگاہیےاورکالاباغ میں کروڑوں روپوں سےلگائی گئی نمک کی فیکٹریوں کامستقبل بھی داؤپرلگ چکاہیے جبکہ پہلے وانڈاککڑانوالا اوراب کالاباغ مائن کےبندہونےسے پروڈکشن بہت کم ہوجاۓگی اوراس وجہ سےنمک کی ایکسپورٹ میں نمایاں کمی ہوگی اور علاقےمیں بےروزگاری کی ایک لہرپیداہوگی کیوں کہ مائنوں میں نمک کی فیکٹریوں میں ہزاروں مزدورکام کرتے ہیں
مائنوں سےپانی نکالنےکےسلسلےمیں مائنروں سےلاکھوں روپے خرچ کراۓجارہیےہیں ذرائع کےمطابق جتنی مقدارمیں پانی آرہاہیےمسلسل اس کی کم ہونےکاامکان بہت کم ہیےاگرپانی رک بھی جاۓتوجونقصان پانی مائن کےاندرکرچکاہیے عام لفظوں میں یہ ہیے کہ مائن کے بیٹھ جانےکےبچاؤکےلیےبناۓگئے پلرزکی بنیادوں کومکمل کھوکھلا کرچکاہیے اگراس میں بلاسٹننگ کی گئی توبہت تباہی ہوگی جس کاہم سوچ بھی نہیں سکتےجبکہ پی ایم ڈی سی کوکچھ بھی سجھائی نہیں دےرہاکیاکیاجاۓ پہلے وانڈاککڑانوالامیں ریڈسالٹ کابہت بڑازخیرہ افسران کی رشوت خوری اور لالچ کی وجہ سےمکمل پانی میں ڈوب چکاہیےاورپی ایم ڈی سی کی آمدن میں بہت کمی آگئی ہیےاب کالاباغ میں بھی مائن بندہوتی ہیےتوپی ایم ڈی سی کواپنی تنخواہوں کےلالےپڑجائیں گے
کیوں کہ کالاباغ مائن ہی ایک آمدن کاواحدزریعہ ہیے جس کی پروڈکشن دوسری مائنوں سےزیادہ ہیے اور کالاباغ کی سب سے بڑی مائن ہیے جوتین سوفٹ سے زیادہ گہرائی میں نمک نکالاجاتاتھا یہ سب تباہی کےزمہ داروں کوکون کیفرکردارتک پہنچاۓ گاکیااس بڑے نقصان پر سپریم کورٹ سوموٹوایکشن لےگی کہ اربوں کھربوں کےاثاثوں کوچندحرام خوروں نےجونقصان پہنچایاہیے اور اپنےاثاثےبناۓہیں کیااحتساب بیوروان کےخلاف بھی کاروائی کرسکتاہیے یاصرف اپوزیشن پرہی بس چلتاہیے نیب یاکوئی دوسراادارہ ان ملک دشمنوں کوپکڑپاۓگا
وزیراعظم عمران خان کوچاہیےکہ پی ایم ڈی سی محکمےکوختم کرکےایک نیامحکمہ بنایاجاۓ جوصوبائی حکومت کےانڈرصوبہ پنجاب کےمعدنیات نکالنےکےلیےجدیدطریقوں سے مائننگ کرےاور پاکستان کےلیے زرمبادلہ کمائے جبکہ پی ایم ڈی سی کرپشن کاگڑبن چکاہیے حکومتی خزانےکی بجاۓ محکمہ کے آفیسران کےاثاثےبڑھتے جاریےہیں ان کےاثاثوں کی چانچ پڑتاکی جاۓ
جس طرح زمین کے اندر سے نمک نکال نکال کر علاقے کو کھوکھلا کردیاہیے اسی طرح محکمہ کو بھی کھوکھلا کر کے رکھ دیا گیا ہے کالاباغ مائن میں کیاکچھ ہورہاہیےزمین کی گہرائیوں میں عام آدمی کی آنکھ سےاوجھل ہیے ہی مگرمیڈیاکوبھی مائنوں جانےسےروکاجاتاہیےکہ کہیں ان تباہ کاریاں جودنیاسےپوشیدہ ہیں وہ سب دنیاکے سامنےنہ آجائیں اور وہ پکڑےنہ جائیں
مگر کالا باغ میں محکمہ پی ایم ڈی سی نے غلط پلاننگ غلط مائننگ کرنے سے اس نمک کے وسیع ذخائر کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے کہ میں نمک کی مائننگ ختم نہ ہو جائے جس طرح کے وانڈا ککڑانوالہ میں نمک کے وسیع ذخائر آج پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جو کئی سو سال تک نکالے جا سکتے تھے اگر وہاں بھی جدید طریقے سے مائننگ کا کام کیا جاتا تو آج وہ وسیع ذخائر پاکستان کو بہت فائدہ دے رہے ہوتے اور پاکستان بہت سا زر مبادلہ کما رہا ہوتا۔
کالا باغ میں اللہ تعالی نے بہت سے معدنیات کے ذخائر چھپا رکھے ہیں جن میں نمک جوسب سے زیادہ نکالاجاتاہیےاورایکسپورٹ ہونےوالی معدنیات میں نمبرایک پرہوگا کالاباغ میں جو نمک کے ذخائر موجود ہیں وہ سطح زمین کے نیچے موجود ہیں اور یہاں پر جو مائننگ کی جاتی ہے وہ بہت گہرائی میں کی جاتی ہے عمومی طور پر عام مائن جس کی گہرائی تین سے چار سو فٹ تک ہوتی ہے جؤ اوپر تلے چیمبر بنا کر کئی منزلوں پر مشتمل ہوتی ہے جو سطح زمین کے نیچے بہت گہرائی میں سے نمک نکالا جاتا ہے خدا کی قدرت ہے کہ جہاں پر پانی موجود ہوتا ہے وہیں پر ساتھ نمک کے ذخائر بھی موجود ہوتے ہیں میٹھا پانی جونمک کےساتھ وہی کام کرتا ہے جو چھری مکھن کے ساتھ کرتی ہے
سوچنے کی بات ہے کے کالا باغ میں جب عام گھروں میں جب پانی کا نلکا لگایا جاتا ہے تو 60 سے 80 فٹ تک گہرائی میں لگایا جاتا ہے جبکہ پانی 40 45 فٹ تک ملنا شروع ہو جاتا ہے
تو کالا باغ میں جو مائننگ دو سو سے تین سو فٹ گہرائی میں کی جاتی ہے اس مائن کے اندر پانی جمع ہونے کے خطرات کو بھی کبھی مد نظر رکھا گیا ہے یا پانی کو نکالنے کے لیے کوئی مستقل انتظامات کیے گئےہیں جیساکہ وانڈہ ککڑانوالا میں مائنوں کے اندرپانی داخل ہونےسے کئی بڑی مائنزبندہوگئی ہیں اور دومزدورجان سے ہاتھ دوبیٹھےتھےجوبمشکل ایک سال پہلے کاواقعہ ہیے اس اتنے بڑے حادثے سے بھی پی ایم ڈی سی نے کوئی سبق حاصل نہ کیا یہاں کالا باغ میں بھی جو نمک کے ذخائر ہیں وہ بھی برساتی نالے کے ساتھ موجود ہیں یہاں پر بھی وہی غلطی دہرائی جارہی ہے جو وانڈہ ککڑانوالامیں نمک کےوسیع ذخائرتباہ کرنےکاسبب بنی تھی یعنی بغیرکسی پلاننگ کےبےدریغ نمک کی غلط مائیننگ کرانااور کسی حفاظتی تدابیرکے نمک نکالواور پیسہ بناوپالیسی اپنائی گئی ہیے جونمک کےوسیع ذخائر کوتباہ کرنےکاسبب بن رہی ہیے جب وانڈاہ ککڑنوالا مائن میں حادثہ ہوا تھا ایک سال پہلے تو محکمے کے پاس کوئی بڑی ٹربائن نہیں تھی جو مائن میں سے پانی زیادہ مقدارمیں نکال سکے اور نہ ہی کوئی جنریٹر موجود تھا یہاں بھی آج تقریبا پندرہ دن ہو چکے ہیں پانی کی نکاسی کی جارہی ہے جو تاحال پانی ختم ہونے میں نہیں آرہا یہ پانی مائن میں آج تواچانک داخل نہیں ہواپانی کےاس خطرےکوکسی انجینئر کسی انسپکٹر کسی
زمین کے اندر اللہ تعالی نے بہت سےپانی کے چشمے جاری کر رکھے ہیں جب اتنی گہرائی میں مائیننگ کی جاتی ہے تو انجینئر کو پتہ ہوتا ہے کہ کہاں پر پانی کی سیم شروع ہو رہی ہےاور کس جگہ پر مائننگ روک دینی چاہیے کیا یہ جو پانی اب نکل رہا ہے اس کے آثار کسی نے نہیں دیکھے کیا جو معائنہ کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں کیا انہوں نےبھی نہیں دیکھا کہ کہاں سے پانی کی حدودمیں مائن جارہی ہیے
کالاباغ میں نمک کے ذخائر تک پہنچنے کے لئے بہت گہرائی میں مائننگ کی جاتی ہے کیونکہ یہاں ذخائر گہرائی میں موجود ہیں اتنی گہرائی میں مائننگ کرنے کے لئے جدید طریقے بھی اپنانا ضروری ہیں کالاباغ نمک مائن میں اگر دیکھا جائے توایک سے دو سوکےلگ بھگ ٹریکٹر چلتے ہیں اس کےعلاوہ لوڈر اور دوسری مشینری بھی استعمال ہو رہی ہے ساتھ میں جب بلاسٹنگ ہوتی ہے تو ٹریکٹر اور دوسری مشینری کا دھواں بلاسٹنگ کے دھوئیں کے ساتھ مل کر مائنوں میں جمع ہو جاتا ہے اس دوھویں کی نکاسی کے لئے کوئی بھی انتظامات نہیں کیے گئے جب کہ گہرائی میں کام آکسیجن کی کمی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے دھویں کی نکاسی کے لئے کوئی بھی بلو سسٹم نہیں لگایاگیا جوزہریلےدھویں کوباہرنکالتااورنہ تازہ ہواپہچانےکاکوئی زریعہ استعمال کیاجارہاہیےجونیچےزمین کی گہرائیوں میں کام کرنےوالوں تک تازہ ہواپہنچاۓاورآکسیجن کالیول بنارہیے اور کئی بارزمین کی گہرائیوں میں کام کرتے ہوئے بے ہوش ہو جاتے ہیں اسی لیے زمین کی گہرائیوں میں کام کرنے والے اکثر مزدور 60 سال عمر ہونے سے پہلے ہی یا تو فوت ہو جاتے ہیں یا پھر دمے کے مریض بن جاتے ہیں زمین کی گہرائیوں میں کسی حادثےکی صورت میں جن کو طبی امداد بھی فراہم نہیں کی جا سکتی اور نہ کوئی ایسا انتظام ہے محکمے کی طرف سے کہ ان کو فوراً طبی امداد دی جا سکے فارمیلٹی پوری کرنے کے لیے ایک بندہ مختص کیا جاتا ہےجوعام زخم پر مرہم پٹی کر سکتا ہے اوراس کےپاس کوئی سامان بھی نہیں ہوتا جب محکمہ نے مائنوں کے اندر ٹریکٹر اور دوسری مشینری کے ساتھ نمک توڑنا اور نکالنا شروع کیا تو مشینری سے نکلے ہوئے دھویں کی نکاسی کا کوئی دین انتظام نہیں کیا گیا جبکہ مائنوں کی گہرائی زمین کے اندر سینکڑوں فٹ جا چکی ہے جہاں پر آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے بھی مزدوروں کے لیے کام کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے بلاسٹنگ اور مشینری کا دھواں مل کر زہریلا دھواں بن جاتاہیے جو مزدور وہاں کام کرتے ہوئے اپنے پھیپھڑوں میں اتار تے رہتے ہیں کیوں کہ بلاسٹنگ کے چندگھنٹوں بعد نمک کو چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل کرنےکاکام شروع کر دیا جاتا ہے اس کے بعد اس نمک کی نکاسی ہوتی ہے یعنی باہر نکالا جاتا ہے جو ٹریکٹروں کے ساتھ نکالا جاتا ہے اتنے سالوں یہاں کالاباغ میں مائنگ کرتے پی ایم ڈی سی ک ڈسپنسری ہوتی وھو چکے ہیں اربوں روپےکالاباغ نمک سے سے کماتاہیے اس کےعلاوہ اڈنٹ کی صورت میں کروڑوں روپےسالانہ مائنروں سےلینےوالامحکمہ اپنے مزدوروں کے لیے ایمبولینس ہوتی طبی امداد دینے والا عملہ ہوتا اپنا ہسپتال ہوتا یا کوئی شہر میں ڈسپنسری ہوتی جہاں سے مزدور کو اور اس کی فیملی کا علاج مفت ہو سکتا کالا باغ میں پی ایم ڈی سی نے کوئی سکول بناہوتا پارک بنا دیتی کوئی گراؤنڈ بنایا ہوتا نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے یہاں پر مائننگ کرتے ہوئے لیکن کالاباغ کے علاقے کواربوں روپے کا نمک نکالنے کے بدلے آج تک کچھ بھی نہیں دیاگیا زمین کی گہرائیوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی زندگی میں کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی وہ پہلے انگریزوں کی غلامی کر چکے تھے ان کی زندگی آج بھی غلاموں کی طرح گزررہیے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اتنی مقدار میں سے نمک نکال کردنیا بھرکے ملکوں میں ایکسپورٹ کیاجاتاہیے
پاکستان کے اندر بھی کروڑ ٹن انڈسٹریز زون میں استعمال ہوتا ہے اور کھانے میں بھی لاکھوں ٹن سالانہ استعمال ہو جاتا ہے کالا باغ میں تو خوشحالی ہونی چاہیے تھی کالاباغ میں نمک کی کانوں میں کام کرنے والے مزدور آج بھی اسی طرح غربت افلاس کی زندگی گزاررہیےہیں بہت سے مزدور کالا باغ میں نمک کی کانوں میں کام کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے مگر ان کے لواحقین کو چند لاکھ روپے دے کر اور بچوں کو بڑا ہوجانے پر مزدوری دینےکےوعدےتسلی کے چندجملے بول کر محکمہ اپنی ذمہ داری پوری کر دیتا ہےہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مزدور کے لواحقین کو ماہانہ راشن اور پنشن دی جاتی اور بچوں کے ان کے اخراجات محکمہ دیتا بہت سے مزدور ایی او بی کےحقوق ملنے کی آس میں قبروں میں جا سوۓ مگر مزدور کو ای او بی کے حقوق نہ مل سکے محکمہ معدنیات کے انسپکٹریٹ کے انسپکٹر آتے ہیں اور اپنا حصہ وصول کر کے چلے جاتے ہیں جور مائینر ان کوحصہ نہ دے اس کے چیمبر پر کوئی نہ کوئی اعتراض لگا کر دیا جاتا ہے اسی طرح کی نمک کےساتھ ساتھ دوسری معدنیات کی لیزوں میں محکمہ کے افسران اور انسپیکٹریٹ کےانسپکٹرز کے فرنٹ مین لیز حاصل کرتے ہیں یا لیز ددلائی جاتی ہیے وہ فرنٹ مین آفیسر یا انسپکٹر کو ماہانہ لاکھوں روپے اپناحصہ وصول کرتےہیں
محکمہ کےآفیسرسےلیکرعام ورکرحصہ بقدرجثہ یعنی حصہ بقدرپوسٹ اپنی پوسٹ کےمطابق مائنروں سے چاۓپانی وصول کیاجاناعام سی بات ہیےاورمائینردینےپرمجبورہیےکیوں کہ اس نےکروڑوں روپےانوسٹ کررکھےہوتےہیں نمک کی کان میں ورنہ چھوٹا سااعتراض لگاکراس کاچیمنبربندکردیاجاۓگا
یہی کرپشن تھی جب1997میں محکمہ پی ایم ڈی سی کرپشن کی وجہ سے زوال پزیرہوچکاتھا مائینروں نے محکمےکوسہارادیاتھااور اپنےشیئرمحکمےکودیکر محکمےکونمک کی قیمت دےکراور مارکیٹنگ خودکرنےکےکی تجویزدی تھی تواسوقت کےچیئرمین پی ایم ڈی سی نےمنظورکی تھی مائینروں نے محکمےکوبچایاتھاآج اسی محکمےکےآفیسران ان مائینروں کاخون چوس چوس کرآفیسروں کےاثاثےبڑھتےجارہیےہیں اور محکمہ زوال پزیرہوگیا افسرشاہی نے اتنے بڑے محکمے کو تباہ کرکےرکھ دیا ہیےجب بھی کوئی حادثہ ہوتاہیےمائنوں میں توبڑی بڑی ٹربائن مائینرمنگواتاہیے مزدوروں کےکھانےپینےکابندوبست مائینرکرتاہیے جفاظتی سامان مائنرمہیاکرتاہیےاور محکمہ بھی اڈنٹ کی صورت میں مائینرسےوصول کرتاہیے کروڑوں روپے مائنروں نےانویسٹ کیےہوتےہیں قسمت اچھی ہوتواچھی کوالٹی کانمک نکلتاہیےورنہ عام اور ہلکی کوالٹی کانمک تومل جاتاہیے اور کوالٹی کےنمک ملنےتک مائنراپنانہت ساپیسہ لگاچکاہوتاہیے جب کوالٹی کانمک مل جاۓتومحکمہ کی کالی بھیڑیں اس کومختلف حیلےبہانوں سے تنگ کرناشروع کردیتی ہیں مائنریامجبورہوکرکچھ چاۓپانی دینےپرراضی ہوجاتاہیےیا کسی آفیسرکےفرنٹ مین کواپنے ساتھ شراکت داری دینے کامعاہدہ کرلیتاہیے محکمہ پی ایم ڈی سی کےآفیسران کرپشن میں میں ملوث نہ ہوتےتوکالاباغ میں اور وانڈہ ککڑانوالا کےوسیع نمک کےزخائر بارشی نالوں کےپانیوں میں نہ ڈوب چکےہوتے کریپشن کےخلاف محکمہ پی ایم ڈی سی میں ایک بڑے اپریشن کی ضرورت ہیے نیب کوبھی چاہیے کہ اس کرپشن کےگڑھ محکمہ کےافیسران کےاٹاثےچیک کریں کیوں کہ عام ورکرپی ایم ڈی سی کاکروڑوں کی جائیدادوں کےمالک بن چکےہیں کیایہ صرف تنخواہ میں ممکن ہیے ؟
اکثرمائنوں کاایک ہی راستہ ہیے اندرجانےکاکسی حادثےکی صورت میں اگرراستہ بلاک ہوجائےتومزدوروں کےباہرنکلنےکاکوئی دوسراراستہ بھی نہیں ہوتاجوایمرجنسی کی کسی صورت میں کام میں لایاجسکے یعنی درجنوں مزدورجونیچےکام کرتےہیں وہ اگرکسی حادثےکاشکارہوجائیں توان کےزندہ بچانےکاکوئی راستہ نہیں ہوتا کسی ضروری حفاظتی سامان کےبغیراور اتنی گہرائی میں کسی ٹریننگ کےسینکڑوں مزدوروں کی جان سےکھلنےکےمترادف ہیے مائنوں میں کام کرنےوالوں کوٹریننگ کےنام پر پندرہ سو دوہزار لیکرسرٹیفکیٹ دیاجاتاہیے جوحفاظتی انتظامات چیک کرنےوالے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکناہیے
محکمہ معدنیات کے انسپکٹریٹ کے انسپکٹرز اگر پوری ایمانداری سے ذمہ داری ادا کرتے تو آج کالا باغ اور وانڈا ککڑانوالا میں نمک کے وسیع ذخائر پانی سے تباہ نہ ہوتے کالا باغ میں نمک کی کانوں میں پانی کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں کیوں کہ جہاں پانی موجود ہوتا ہے ساتھ میں نمک بھی موجود ہوتا ہے یہاں پر بہت گہرائی میں نمک نکالا جاتا ہے لیکن اتنی گہرائی میں خطرناک زہریلے دھوئیں میں اور کم آکسجین والی جگہ پر بغیر کسی حفاظتی سامان کے اور حفاظتی انتظامات کے سینکڑوں مزدوروں کی جان خطرے میں ڈال کر خطرناک طریقے سے نمک کی مائیننگ کی جا رہی ہے نمک کے وسیع ذخائر جو صدیوں تک نکالے جاسکتے آج نمک کی مائیننگ تباہی کے دھانے تک جا پہنچی جہاں پر وانڈا ککڑا نوالا اور کالا باغ میں درجنوں چیمنبروں میں سینکڑوں مزدور روزانہ کام کرتے تھے آج چند مائنوں میں کام ہورہاہیے بجائے اس کے کالا باغ میں مائیننگ کا کام زیادہ ہوتا مگر غلط مائیننگ کرنے کی وجہ سے مائینگ کاکام چند مائینوں تک محدودہوچکاہیے بہت سی معنی خطرناک ہو جانے کی وجہ سے اور پانی بھر جانے کی وجہ سے بند کی جا چکی ہیں کالاباغ مائن میں سینکڑوں مزدور روزانہ مزدوری کرتے ہیں لیکن محکمہ کی غفلت کی وجہ سے ان سیکنڑوں مزدوروں کےسروں پربےروزگاری کی تلوارلٹکتی نظرآرہی ہیے پہلے بھی وانڈا ککڑا نوالا میں بہت سی مائنیںں بند ہوجانے کی وجہ سے سینکڑوں مزدور بیروزگار ہو چکے ہیں اور روزگار کے سلسلے دوسرےشہروں میں ہجرت کرجانےپرمجبورہوچکےہیں
وزیراعظم عمران خان کا آبائی حلقہ ہونے کے ناطے ڈسٹرک میانوالی میں موسی خیل کالا باغ خٹک بیلٹ اور مکڑوال کے پہاڑوں میں موجودہ معدنیات سلیکہ سینڈ کوئلہ لوہا اور دوسرے معدنیات سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے اس علاقے کو ایک بڑا پروجیکٹ جو جو معدنیات کو پروسیس کرنے کے پلانٹ پر مشتمل ہو علاقے کی ترقی کے لیے اور بے روزگاری ختم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے جہاں خٹک بیلٹ میں پانی پینے کے صاف پانی کے لیے پروجیکٹ منظور کیا گیا ہے اس کے ساتھ صنعتی ترقی کے لئے اور معدنیات نکالنے کے لئے ایک بڑا صنعتی پروجیکٹ بہت ضروری ہے اس سے خٹک بیلٹ اور تحصیل عیسی خیل کی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے جو پچھلے ستر سال سے یہاں کی عوام کومعاشی ترقی اورصحت اورپینےکےپانی تعلیم کےشعبے کی سہولتوں سےمحروم رکھاجاتارہاہیے خٹک بیلٹ جووزیراعظم عمران خان نے اپنی آنکھوں سے علاقہ دیکھ رکھا ہے اور ان کی محرومیوں سے اچھی طرح واقف ہیں ان کے لیے کوئی ترقی کا بڑا اعلان ضرور کرنا چاہیے کیوں کہ خٹک بیلٹ سے بنیاد کے علاوہ تیل و گیس کے وسیع ذخائر بھی دریافت ہو چکے ہیں سے پورے ملک کو فائدہ حاصل ہوگا اس کے ساتھ ساتھ خٹک بیلٹ کو بھی فائدہ ملنا چاہیےکالاباغ سمیت پورے علاقے میں جہاں جہاں جو معدنیات موجود ہیں ان لاکھوں میں معدنیات کو پروسیس کرنے کے پلانٹ لگا کر بیروزگاری ختم کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے وزیراعظم عمران خان نے اپنےحلقے کے مسائل کے حل کرنےکےلیے کوآرڈینیٹر احمد خان نیازی کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے ان کو چاہئے کہ پورے ضلع میانوالی میں جہاں جہاں معدنیات موجود ہیں ایک مکمل پلاننگ کےساتھ پروسیسنگ پلانٹ لگاۓ جایں تحصیل عیسی خیل بھی وزیراعظم عمران خان کےآبائی حلقے کا حصہ ہے اور سب علاقہ ہیے ان محرومیوں کے ازالے کیلئے یہاں کی عوام وزیراعظم عمران خان کو ایک نجات دہندہ کی طرح بنتے ہیں کہ ان کی محرومیوں کا اگر کوئی ازالہ کر سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف عمران خان ہے الیکشن گزرے دو سال سے زیادہ ہونے والے ہیں وزیراعظم عمران خان کو تحصیل عیسی خیل کا دور ہ ضر ور کرنا چاہیے اور عوام کے لیے کوئی بڑے پیکج کا اعلان کرنا چاہیے جس سے عوام میں پھیلتی مایوسی ختم کی جا سکے .
