افغان مہاجرین کیمپ کوٹ چاندنہ
کوٹ چاند ( میانوالی)میں افغان مہاجرین کاقیام. یہ مارچ 1983 کے بہار کے دن تھے کہ کوٹ چانہ اڈے پر ڈھول کی تھاپ پر کوٹ چاندنہ کے لوگ ناچ کود رہے تھے ،اخوت کے جذبے سے سرشار یہ لوگ افغان مہاجرین کیمپ میں آنے والے افغان بھائیوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے افغانستان جہاں پہ روس نے فوجی یلغار کر دی تھی اور وہاں سے افغان قافلوں کی صورت میں پاکستان پناہ لینے کے لیے آ رہے تھے اور ان کا ایک کیمپ کوٹ چاندنہ میں بنایا گیا تھا ۔جہاں یہ کیمپ موجود ہے یہ ویران علاقہ تھا یہاں بڑے بڑے جال اور کہو کے درخت تھے اور یہ مقامی لوگوں کی چراہ گاہ تھی ، یہاں بکریوں اور بھیڑوں کے ریوڑ چرانے جایا کرتے تھے اور بزرگ کہتے ہیں کہ یہاں اتنی بڑے بڑے جال کے درخت تھے کہ بھیڑ بکریوں کا پورا پورا ریوڑ درختوں میں سما جاتا تھا ،دھوپ اور بارش کے وقت ہم ریوڑوں کو ان جال کے درختوں کے نیچے بٹھا دیتے تھے، اور جب سردیوں میں لوگوں کا بھوسہ ختم ہو جاتا تھا تو اس علاقے سے خشک گھاس کاٹنے کے لیے لوگ جاتے تھے،جو مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کی جاتی تھی ۔یہاں ایک نرم نرم گھاس اگتی تھی جسے مسجدوں کے فرش پر بچھانے کے لیے اور مکان کی چھت بنانے میں استعمال کیا جاتا تھا ۔یہ نرم نرم گھاس مسجدوں کے اندر کچے فرش پر بچھا دی جاتی تھی یہ اس زمانے کا فوم تھی ،نرم بھی تھی اور سردیوں میں یہ مسجد کو گرم بھی رکھتی تھی ۔علاوہ ازیں ایندھن کے لئے لکڑیاں بھی وافر مقدار میں میسر آ جاتی تھیں ۔لیکن جب حکومت پاکستان نے یہاں افغان مہاجرین کیمپ بنانے کا فیصلہ کیا تو بلڈوزر اور ٹریکٹر آ گئے اور انہوں نے زمین ہموار کرنا شروع کر دی، کوٹ چاندنہ سے افغان کیمپ تک پختہ سڑک بننے لگی، اور کوٹ چاندنہ کی زمینوں پہ افغان کیمپ کو پانی سپلائی کرنے کے لیے ٹیوب ویل لگنے لگے اور پائپ لائن بچھا دی گئی جو افغان کیمپ میں بنائی گئی پانی کی ٹینکیوں تک پانی پہنچاتی ۔ان ٹینکیوں میں ایک ٹینکی نے لال ٹینکی کے نام سے کافی شہرت پائی۔افغان کیمپ میں ہسپتال ،گرلز ،بوائز سکول بنا دیۓ گۓ ۔بلکہ کالاباغ سول ہسپتال کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا گیا جس میں افغان مہاجرین کو علاج معالجے کی جدید سہولیات میسر تھیں ۔افغان کیمپ سے مریضوں کو مفت سفری سہولیات دے کر ریڈ کراس ہسپتال پہنچایا جاتا تھا ۔کئ انگریز مرد وخواتین ڈاکٹر یہاں خدمات سر انجام دینے آۓ اسی ہسپتال میں ایک غیر ملکی ڈاکٹر کو اپنے ہسپتال کے عملے کے ایک رکن نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر قتل کردیا گیا تھا ۔جس کی لاش واپس اپنے ملک بھجوا دی گئی تھی ۔بالاج جیسل
جب پہلا قافلہ افغان مہاجرین کیمپ میں آیا تو اس کا والہانہ استقبال کیا گیا، پھر قافلوں کی امد شروع ہوئی اور بڑھتے بڑھتے کیمپ کی ابادی ایک لاکھ 75 ہزار نفوس تک پہنچ گئی ۔اور یہ جگہ تنگ پڑ گئی تو درہ تنگ کے مقام پر ایک ذیلی کیمپ قائم کیا گیا جسے کوٹ چاندنہ کیمپ سے کنٹرول کیا جاتا تھا ۔ چند سال بعد اس آبادی کو بھی کوٹ چاندنہ منتقل کر دیا گیا۔ یہاں آنے والے افغان مہاجرین کا تعلق افغانستان کے مختلف ولایتوں یعنی صوبوں سے تھا۔ افغان کیمپ میں زیادہ تر بغلان، کندوز، ننگر ہار (جلال آباد) ، خوست ،گردیز، پکتیا اور مزار شریف کے علاقوں کے لوگ تھے اور ان کے مختلف قبائل تھے جن میں بڑے بڑے قبائل میں خروٹی ،ولی خیل، کندھاری پشائی ،مغل، عرب ،نورزائی، زدران ،اکا خیل، خدر خیل ،لوگری ،قابل، بلوچ ،صافی برنگئ ،ملکئ، وغیرہ شامل ہیں۔۔افغان مہاجرین کو راشن کی سپلائی کے لئے ماڑی انڈس میں ایک مین سٹور بنایا گیا جہاں سے نیشنل لاجسٹک سیل کے ٹرک سامان افغان کیمپ لاتے تھے ۔اور افغان کیمپ میں پندرہ سے بیس ہزار نفوس پر مشتمل ریفیوجی ٹینٹج ولیج ( RTV) بناۓ گۓ تھے جن کی تعداد سولہ تک تھی ،ہر ولیج میں پندرہ سے بیس تک مختلف عہدوں کا عملہ تعینات تھا جن کا سربراہ ایک ولیج ایڈمنسٹریٹر ھوتا تھا۔ھو عموماً پاک فوج سے ریٹائرڈ صوبیدار ھوتا تھا۔۔ان ولیج ایڈمنسٹریٹر میں چھب (جنڈ )کے علاقے سے تعلق رکھنے والے صوبیدار گل خان ساغری خٹک کو خاصا رعب و دبدہہ و انتظامی معاملات میں عمل دخل حاصل تھا۔باقی اپنے فرائض تک محدود تھے۔۔ ۔پورے کیمپ کا انچارج ڈسٹرکٹ ایڈ منسٹریٹر ھوتا بلکہ اب بھی ھے۔کلرک حضرات میں اچھی خاصی تعداد جھنگ کے علاقے سے تھی ۔میانوالی کے بھی زیادہ لوگ ملازم تھے ۔سکیورٹی ونگ پہلے ایک سپرٹنڈنٹ پولیس کی سربراہی میں تھی ،بعد ازاں ایک ڈپٹی ڈسٹرکٹ سپرٹنڈنٹ DSP کے زیر نگرانی دے دی گئی ۔اور ریٹائرڈ فوجیوں پر مشتمل ایک فورس بھرتی کی گئی جن کی تعداد دو سو کے لگ بھگ تھی ۔ بالاج
مین سٹور سے آنے والے راشن کو ان مہاجرین ٹینٹج ولیج میں پہنچایا جاتا جہاں سے افغان مہاجرین میں تقسیم کیا جاتا تھا راشن کی تقسیم میں بڑے آئٹم گھی،چینی ،مٹی کا تیل اور گندم تھے۔راشن کی تقسیم کے دنوں میلہ سا لگ جاتا اور کبھی کبھی راشن تقسیم کرنے والا عملہ سر پھرے افغانوں سے پٹ جاتا تھا،راشن کی تقسیم کے لیے کلرکوں نے پرائیویٹ افغان مزدور رکھے ہوتے تھے جن کی مزدوری اسی راشن میں ڈنڈی مار کر نکالی جاتی۔اور اپنے کلرک کو خوش رکھنے اور جیب بھرنے کے لئے یہ مزدور اپنے افغان بھائیوں کے راشن میں ڈنڈی مارتے تھے۔۔اس بہتی گنگا میں سے اکثر ملازمین غربت سے امارت کے معیار تک پہنچ گئے۔راشن کی تقسیم افغان ملکوں کے تعاون سے ھوتی تھی ہر قبیلے کا اپنا ملک ھوتا،جس کے پاس زیادہ راشن کارڈ ھوتے وہی بڑا ملک کہلاتا ،کچھ ہوشیار لوگ جو سماجی حیثیت سے ملک مشر نہیں تھے راشن کارڈ اکٹھے کر کے ملک بن گئے ۔یہ اپنے زیر سایہ افغان بھائیوں سے اپنی ملکی کا حصہ بھی وصول کرتے تھے ،افغان کیمپ میں بڑے اور مشہور مشر حاجی حکم خان،ملک سرور قندھاری ملک شہباز خروٹی،ملک ملوک عرف ملوکی،حاجی مہندس عرف حاجی مینڈس،ملک محمود، ملک خان شرین،ملک شراب بلوچ ، ملک ابراہیم ،ملک اصغر پشئ اور ملک ملک قابل خان سلیمان خیل اور غازی خان سلیمان خیل شامل ہیں ۔یہ ملک افغان مہاجرین کے بھائی تنازعات کے فیصلے جرگہ کے ذریعے کرتے تھے ۔اور یہ اپنے مشر یا ملک کا بہت احترام کرتے ہیں۔
افغان مہاجرین کیمپ کا قیام (حصہ دوم ۔)….افغان مہاجرین اپنے مشروں اور ملکوں سے زیادہ جس طبقے کی عزت وتکریم کرتے ہیں وہ ھے ان کے علماء کرام اور مذہبی رہنما ۔افغان مہاجرین نے اس کیمپ میں قیام کے ساتھ ہی اپنے اپنے علاقے میں کچی مساجد بنا لیں اور ان مساجد سے ملحق دینی مدارس بھی قائم کر لیۓ گیۓ ان مدارس کے علماء کرام کا روحانی و سماجی تعلق اپنے ملک میں مختلف جہادی تنظیموں کے ساتھ تھا جو روس کے خلاف مصروف جہاد تھیں ۔ان علماء کرام کی ترغیب وترہیب پر نعرہ تکبیر بلند کرتے مجاہدین کے قافلے اس کیمپ سے نکلتے جو علماء کرام کی دی گئی ترتیب کے مطابق اپنی جہادی تنظیموں کی صفوں میں جا شامل ھوتے ، روس کے افغانستان سے نکلنے تک یہ مناظر کبھی کبھار دیکھنے کو ملتے رہے لیکن مجاہدین کی آپس میں لڑائی ،امریکی حملوں یا طالبان کی جدو جہد شروع ھوئی تو افغان مہاجرین کیمپ سے اعلانیہ طور پر کسی قافلے کو جاتے نہیں دیکھا گیا ۔روس کے ساتھ جب افغان بر سرِ پیکار تھے تو یہاں دو تین بڑی جہادی تنظیموں کے دفاتر بھی تھے اور ان جہادی تنظیموں کے ماہانہ رسائل بھی تقسیم ھوتے تھے جو ان تنظیموں کے کارکن مفت دے جاتے تھے ۔راقم کے پاس اچھا خاصا ذخیرہ جمع تھا بعد میں پیدا ھونے والی صورت حال کے اندیشوں سے دریا برد کردیا ۔(جان ھے تو جہان ھے) ۔افغان کیمپ میں مشہور مدارس میں مدرسہ ترتیل القرآن ،مدرسہ مولوی عبد الحق ،مدرسہ بلوچ محلہ ۔ان مدارس کے علاوہ بھی دینی مدارس تھے ۔کیمپ کے مشہور علماء کرام میں مولوی محمد سرور صاحب، مولوی امیر حمزہ صاحب، مولوی فیض اللہ مغل صاحب،مولوی اسداللہ بلوچ صاحب،مولوی سلیمان شاہ برھانی صاحب ،مولوی حیات اللہ صاحب،مولوی دور محمد صاحب،مولانا عبد الحئی صاحب ،مولوی ملنگ صاحب ،مولوی رحمت اللہ طوفان صاحب ،مولوی عبداللہ فیضانی صاحب آور مولوی اللہ داد صاحب شمال تھے ۔ان میں سے چند فانی دنیا سے رخصت ھو چکے ھیں ۔ان علماء کرام نے ہزارو حافظ قرآن اور سینکڑوں علماء کرام تیار کۓ ۔افغان قراء کی ایک منفرد خاصیت یہ بھی ھے کہ قرآن کریم کی تلاوت اتنی خوش الحانی سے کرتے ہیں کہ روح تک معطر ہو جاتی ہے ۔
اس چالیس سالہ رفاقت میں ہم نے دیکھا کہ افغان
مہاجرین نے اپنی ثقافت ،خودداری اور قومی حمیت کو گلے لگاۓ رکھا۔ کبھی بھی کسی افغانی کو بھیک مانگتے نہیں دیکھا یہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر سے خس و خاشاک اور کباڑ چن لیتے لیکن کسی کے آگے ہاتھ پھیلا نا گوارا نہیں کرتے ۔ اس کے علاوہ عورتیں انتہائی سختی سے پردہ کرتی تھیں اور کبھی نہیں دیکھا کہ افغان مہاجرین کیمپ میں کوئی بوڑھی عورت بھی راشن لینے آئی ہو، مرد حضرات راشن لینے آتے تھے ،عورت کے پردے کو اپنی غیرت اور عزت کی علامت سمجھتے۔ اور اس اس معاملے میں اتنی سختی کرتے تھے کہ اگر کسی پہ عورت پہ الزام ثابت ہو جاتا تو پھر اسے مرد کے ساتھ گولی سے بھی اڑا دیتے تھے اور اس افغان مہاجرین کیمپ میں تین چار ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔ ان کے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ مقامی ملک و مشران کر دیتے ۔لیکن جب مقامی آبادی کے ساتھ تنازعہ ھو جاتا تو پورا کیمپ متاثر ھوتا تھا ۔اولین وقتوں میں سب سے پہلا تنازعہ درخت کاٹنے پہ کچھ تندر خیل کے لوگوں کے ساتھ ھوا ،جس میں سے ایک افغانی کو مقامی پشتون نے قتل کر دیا تھا جس کی دیت دینے پر صلح ھو گئ تھی اور اور یہ دیت دینے کے لیے کو ٹ چاندنہ کے لوگوں نے بھی حصہ ڈالا تھا۔کیونکہ مقامی آبادیوں نے یہ غیر رسمی معاہدہ کر لیا تھا کہ افغان مہاجرین کے ساتھ جھگڑے کی صورت میں سب اکٹھے ھو جائیں گے۔لیکن یہ اتحاد دیرپا ثابت نہ ھوا البتہ کوٹ چاندنہ کے لوگ باہمی مخالفت کے باوجود ایسے موقع پر ایک ھو جاتے۔اور تیسرا وقوعہ یہ ہوا تھا جب افغان مہاجرین کیمپ میں ایک جلال خان عرف جلالہ نامی شخص کی خلاف قانون وارداتیں کرنے لگا اور آئے روز روڈ پہ کھڑے ہو کر ڈاکے ڈالتا تھا اور اس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا ، 1991 ء کی ایک شام ماڑی انڈس کی فٹبال کی ٹیم مکڑوال سے فٹبال کا میچ کھیل کر واپس آ رہی تھی کہ عشاء کے وقت جلال پور اور کوٹ چاندنہ کے درمیان چپھڑ والی وانڑی کے مقام پر اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی اور اس میں سے چار کھلاڑی محمد اسرار ، اظہار الحق ،محمد سعید اور ممتاز خان شہید ہو گئے تھے ڈرائیور پنکچر ٹائروں کے ساتھ ڈاٹسن بھگا کر اڈہ کوٹ چاندنہ پر لے آیا تھا اور خون آلود اجسام دیکھ کر عوام مشتعل ہوگئی اور روڈ بلاک کر دیا اس سانحے کا فیصلہ ھونے تک افغان مہاجرین کو بہت زیادہ تکالیف کا سامنا کرنا پڑا اور اسی دن اسسٹنٹ کمشنر عیسیٰ خیل جو اتفاقاً یہاں سے گزر رہے تھے اس کی کار پر بھی فائرنگ کی گئی تھی لیکن اس کو اللہ تعالی نے بچا لیا تھا ۔ اس وقوعہ کے بعد کئی دن افغان مہاجرین کیمپ سے نہ نکلنے دیا گیا ،افغان کیمپ کی واٹر سپلائی ٹیوب ویل پر زیادہ تر ملازمین کوٹ چاندنہ کے تھے جنہوں نے مقامی ھونے کے ناطے بجلی کے کنیکشن کاٹ دیئے تھے اور افغان کیمپ کو پانی کی سپلائی بند ہو گئی بعد ازاں اس تنازعے کی صلح ہوئی تو افغان مہاجرین انتظامیہ نے کوٹ چاندنہ کے ملازمین کو فارغ کر دیا تھا، کہ یہ پھر ہمارے لیے مسئلے پیدا کریں گے۔ اس وقوعہ کے بعد کچھ تندرخیل کے علاقے میں عزت کے معاملے پہ افغان مہاجرین کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا اور کئی دن افغان مہاجرین کو کیمپ میں مقامی لوگوں نے محصور رکھا تھا مقامی لوگوں اور پولیس کی گرفتاریوں نے افغان مہاجرین کو کسی قدر محتاط کر دیا اور اس کے بعد کبھی بڑا تنازعہ پیدا نہ ھوا ۔اس تنازعہ کا بھی فیصلہ اور صلح ہو گی تھی ۔
افغان جب یہ یہاں آئے تھے تو انہیں رہائش کے لئے خیمے دیۓ گۓ جلد ہی انہوں نے کچے کچے جھونپڑے بنا لۓ ، اور بعد میں یہ کچے جھونپڑوں کی جگہ کچے مکان بن گئے اور پچھلے چند سالوں سے پختہ مکان بننے شروع ہو گئے تھے اور آہستہ آہستہ کیمپ سے یہ نکل کر مقامی آبادیوں میں رہائش پذیر ھونے لگے اب صورتحال یہ ھو گئ کہ پنجاب بلکہ پاکستان کے ہر کونے میں افغان مہاجرین نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ٹرانسپورٹ، کپڑے اور دیگر کاروباروں پہ اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ کیونکہ یہ محنتی لوگ ہیں اور اپنے ہاتھ سے کام کرنا عار نہیں سمجھتے تو بہت جلد انہوں نے کاروبار میں کامیابیاں حاصل کر لی اور مقامی کاروباری اور تاجر حضرات سے یہ اگے نکل گئے ۔یہی وجہ تھی کہ پاکستانی کاروباری حضرات اور مقامی لوگ انہیں مخاصمت کی نظر سے دیکھنے لگے ۔
افغان کیمپ کے افغانوں کی ثقافت کا الگ رنگ ہے شادی سے پہلے ان کی منگنی کی تقریب ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس میں زیادہ تر یہ رشتے پیسوں پہ کرتے ہیں کچھ قبیلے اپس میں تبادلے یعنی وٹہ سٹہ کے رشتے بھی کرتے ہیں اورمنگنی والے دن لڑکی والوں کی طرف سے رنگین دھاگوں سے کشیدہ کاری والے کپڑے میں لپٹا ایک تحفہ نما پیکٹ بن کر آتا ہے جسے مردانہ حصے میں کھولا جاتا ھے اور خوب ناچ گانا کیا جاتا ھے ۔ پشتو اور فارسی موسیقی پہ یہ نوجوان لہرا لہرا کر رقص کرتے ہیں ۔ جب کبھی جنازہ ہو جاتا تھا تو جنازے کے بعد یہ کافی دیر قبرستان پہ بیٹھے رہتے ہیں ۔غرباء اور بچوں میں پیسہ تقسیم کیا جاتا ہے ۔ہر ہفتے جمعرات پر ختم قرآن پڑھانے کے بجائے تیسرے دن حسب توفیق خیرات کرتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ان کے کھانے انتہائی سادہ اور لذیذ ہوتے ہیں ۔مرچ مصالحہ جات پسند نہیں کرتے ان کا افغان پلاؤ بہت مشہور ہے ۔چپاتی کے بجائے نان کھاتے ہیں ۔چاول اور گوشت ان کی مرغوب غذا ھے۔۔بالاج جیسل
اب حکومت کی طرف سے ان کو 31 اگست پاکستان سے انخلاء کی آخری تاریخ دی گئی ہے اور انخلاء جاری ہے۔کیمپ سے پچاس فیصد افغان مہاجرین اپنے غیر ضروری سامان بیچ کر افغانستان روانہ ہو چکے ہیں،اور باقی یہاں سے نکلنے کو تیار ہیں انہوں نے اپنے گھر گرا دیے ہیں اور افرا تفری کا سا عالم ہے۔ میں ایک دو دوستوں کو الوداع کرنے گیا تو ساتھ ساتھ گاڑیاں نکل رہی تھیں اور کوئی الوداع کہنے والا نہیں تھا کیونکہ وقت کم ھے اور ہر خاندان اپنی روانگی کی تیاریاں کر رہا ہے ۔ قریبی دوست احباب بھی اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے اور یہ سفر کی دعا پڑھ کر روانہ ہو جاتے ہیں تو جب میں نے اپنے دوست کو الوداع کیا تو وہاں اور کوئی نہیں تھا سوائے میرے اور ایک ان کا بھائی اور باپ کھڑے تھے میں نے پوچھا کہ دوست کہاں گئے تو اس نے کہا کہ سب اپنے اپنے مکانات گرانے میں لگے ہوئے ہیں۔واقعی مہاجرت انسانی المیۓ جنم دیتی ہے .
بالاج جیسل (محمد اقبال حجازی) راجپوت بھٹی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار استاد، حساس قلمکار، اور تہذیبی ورثے کے سچے محافظ ہیں۔ انہوں نے تین دہائیوں تک تدریس سے وابستہ رہتے ہوئے علم کی روشنی پھیلائی، اور ساتھ ہی ساتھ کالاباغ، کوٹ چاندنہ اور میانوالی کی ثقافت، یادیں اور تاریخ اپنے سادہ مگر پُراثر انداز میں قلمبند کیں۔ ان کی تحریریں خلوص، سچائی اور دیہی زندگی کے جذبے سے لبریز ہوتی ہیں۔ وہ فیس بک پر فعال ادیب ہیں اور اپنی زمین، لوگوں اور ماضی سے جڑے تجربات کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل لکھ رہے ہیں۔۔ اُن کا قلم مقامی زبان، محبت اور روایت کا ترجمان ہے
KAMAR MUSHANI
KHAGLAN WALA
Sultan Khel, Isa Khel Mianwali — Tareekh, Tehzeeb aur Maujooda Halaat
KOT CHANDNA
TOLA BHANGI KHEL
TEHSIL ISAKHEL KE DIHH O QSBAT KA TAARUF. BALAJ JISL KE QALAM SE
The Khattak Belt A Comprehensive Profile -Isa Khel Tehsil
TOLA MANGALI
KOTKI BAIRONI -ISA KHEL – Historical Background & Overview
MOHABBAT KHEL .TOLA MANGLI . KHATTAK BELT
Chapri Ki Mukhtasar Tareekh-o-Taaruf
