Kalabagh ki andheri galiyon mein ruka hua waqt

کالاباغ کی اندھیری گلیوں میں رکا ہوا وقت

میرا جب بھی دل کرتا ہے میں وقت کا سفر نہیں کرتا بلکہ چند قدم چل کر کالاباغ کی ان پرانی گلیوں میں پہنچ جاتا ہوں جہاں وقت آج بھی رکا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ وہ خاموش گلیاں وہ مٹی لکڑی اور گارے سے بنے مکان وہ ٹھنڈی دیواریں اور وہ صدیوں پرانی فضا مجھے آہستہ آہستہ اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے وقت نے یہاں اپنی سانسیں روک رکھی ہوں اور بس کسی ایک آواز کے انتظار میں ہو
ان تنگ اور نیم تاریک گلیوں میں چلتے چلتے کبھی میری نظر ان چھوٹے چھوٹے مندروں پر جا ٹھہرتی ہے جہاں کسی زمانے میں مورتیوں پر پھول اور پرشاد چڑھایا جاتا تھا جہاں صبح و شام بھجن اور اشلوک کی آوازیں گونجتی تھیں وقت نے کروٹ بدلی لوگ بدل گئے عبادت کے انداز بدل گئے مگر عمارتیں اپنی خاموش گواہی دیتی رہیں آج وہی جگہیں پیروں کے نام سے پہچانی جاتی ہیں جہاں کبھی بھجن پڑھے جاتے تھے آج وہاں دعائیں مانگی جاتی ہیں جہاں کبھی مورتیوں کے سامنے چراغ روشن ہوتے تھے وہاں آج بھی ایک دیا جلتا ہے مگر اس کی روشنی تاریخ کے کئی ادوار کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے
میں ان گلیوں میں بھٹکتا رہتا ہوں کبھی کسی شکستہ دروازے کو دیکھتا ہوں کبھی کسی پرانی دیوار کو چھوتا ہوں کبھی کسی بند کھڑکی سے جھانکتی ہوئی گزری ہوئی صدیوں کی خاموشی کو محسوس کرتا ہوں پھر جب تھک جاتا ہوں تو واپس اس زمانے میں لوٹ آتا ہوں جہاں خود غرضی نمود و نمائش اور مکر و فریب نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے
کالاباغ کے آج دو چہرے ہیں ایک وہ جو ترقی یافتہ روشن کشادہ سڑکوں اور بلند و بالا عمارتوں والا ہے، اور دوسرا وہ جو انہی بڑی عمارتوں کی اوٹ میں کہیں چھپ گیا ہے وہ کالاباغ جس کی پہچان مٹی کے گھر لکڑی کے دروازے گارے کی دیواریں ٹھنڈی گلیاں اور محبت سے بھرپور لوگ تھے وہاں آج بھی وقت سسکیاں لیتا ہوا کھڑا ہے جیسے انتظار کر رہا ہو کہ شاید وہی لوگ وہی لمحے اور وہی رونقیں دوبارہ لوٹ آئیں
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ابھی کسی گلی سے ہاتھ کے پنکھے بنانے والے کاریگر کے بھاری ہتھوڑے کی ایک مخصوص ردھم میں پڑتی ہوئی دھم… دھم… دھم… کی آواز سنائی دینے لگے گی۔ کہیں سے ایک خاتون محبت بھرے انداز میں پکارے گی
اے فلاںڑے نی ما آج تساں کیشے پکائی سے تھوڑی باجی کیں نے ہتھ بھیج ڈیوں
کچھ فاصلے پر کسی گھر سے آواز آئے گی
فلاںڑے نی ما آج تنور کوئی نیا بالا بالیں تاں میڈا آٹا وی لاویں چا
پھر پانی بھرنے والا پانڑیں ہارا اپنی مخصوص صدا لگاتا گزرے گا
پردہ کر گنو، بینڑ ٹانگی آندھی کھلا ہاں
کسی نکڑ سے ایک ملنگ کی مانوس آواز ابھرے گی
دے جا سخیا راہِ خدا تیرا اللہ بوٹا لاوے گا سب دا بھلا سب دی خیر
ادھر سے کوئی خوانچہ فروش آواز دے گا
تازے مٹھے جموں لے… امرود لے… مٹھے آم لے…
شام ڈھلے بچے خوشی سے چیخ اٹھیں گے
روزہ کھل گیا نے…
اور پھر کسی گلی سے ایک فقیر دھیمی آواز میں کہتا ہوا گزرے گا
اے گلیاں ہن کے غاراں ہن
یہ آوازیں صرف آوازیں نہیں تھیں یہ کالاباغ کی روح تھیں۔ یہی وہ محبتیں تھیں جنہوں نے محلوں کو خاندان بنا رکھا تھا ہر گھر دوسرے گھر کا دکھ سکھ اور خوشی بانٹتا تھا کوئی کسی کے دروازے پر دستک دینے سے پہلے اجازت کا محتاج نہیں تھا
پھر ایک مانوس آواز کانوں میں رس گھولتی محسوس ہوتی ہے
ایا پتر منڈی آلے پاسے وینا پیا ایں تاں پنج روپے نا ماس گدی آویں واپسی تے
یہ صرف گوشت منگوانے کی بات نہیں تھی یہ اعتماد کی وہ دولت تھی جو آج شاید سب سے زیادہ نایاب ہو چکی ہے۔
کاش وقت ایک بار پھر پلٹ جائے۔ کاش کالاباغ کی وہی ٹھنڈی گلیاں پھر سے آباد ہو جائیں۔ مٹی کے وہی گھر، لکڑی کے وہی دروازے محبت سے بھرے وہی چہرے تنور کی وہی خوشبو ملنگوں کی وہی صدائیں خوانچہ فروشوں کی وہی آوازیں اور انسانوں کے درمیان وہی بے غرض محبت پھر سے لوٹ آئے
شاید زمانہ واپس نہ آئے، مگر یادیں کبھی نہیں مرتیں وہ کالاباغ آج بھی زندہ ہے مگر اینٹوں اور سیمنٹ کی نئی عمارتوں کے پیچھے خاموش کھڑا اپنے لوگوں کو پکار رہا ہے۔ جو بھی اس کی ان تاریک گلیوں میں دل کی آنکھ سے داخل ہوتا ہے وہ خالی ہاتھ واپس نہیں آتا بلکہ اپنے ساتھ محبت خلوص

اپنائیت اور ایک گزرے ہوئے سنہرے دور کی مہکتی ہوئی یادیں لے کر لوٹتا ہے۔

Muhammad Ahsan Qureshi —Chashm-e-Salagar

Muhammad Ahsan Qureshi —Chashm-e-Salagar

محمد احسن قریشی  چشمِ سلاگر — قلم، کیمرے اور صحافت کے ذریعے...
Read More
Kalabagh mein namak ke zakhaar ki tabahi ka zimmadar kaun??

Kalabagh mein namak ke zakhaar ki tabahi ka zimmadar kaun??

کالاباغ میں نمک کے ذخائر کی تباہی کا ذمہ دار کون؟؟ اللہ...
Read More
KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

کالا باغ میں گرلز کالج کا قیام — ہماری بچیوں کے روشن...
Read More
Raja Salagar Ka Kala Bagh Maazi Ke Jharokon Se

Raja Salagar Ka Kala Bagh Maazi Ke Jharokon Se

راجہ سلاگر کا کالا باغ   -ماضی کے جھروکوں سے   ڈاکٹر کی...
Read More
Kalabagh Tehsil Level Hospital: Eentein, Cement aur Be-hissi!

Kalabagh Tehsil Level Hospital: Eentein, Cement aur Be-hissi!

کالاباغ تحصیل لیول ہسپتال: اینٹیں، سیمنٹ اور بے حسی! بڑی عمارت، ناپید...
Read More
Maazi Ke Jharokon Se – Kalabagh key  Tang-o-Tareekhi Galiyon Ke Tham

Maazi Ke Jharokon Se – Kalabagh key Tang-o-Tareekhi Galiyon Ke Tham

ماضی کے جھروکے سے تنگ و تاریخی گلیوں کے تھم کالاباغ کی...
Read More
Pakistan mein zaraat ka zawaal aur kisaan ki badhaali

Pakistan mein zaraat ka zawaal aur kisaan ki badhaali

پاکستان میں زراعت کا زوال اور کسان کی بدحالی کسان سال بھر...
Read More
Kalabagh ki nai aabadiyan aur bunyadi sahuliyat ki siyasat

Kalabagh ki nai aabadiyan aur bunyadi sahuliyat ki siyasat

  کالاباغ کی نئی آبادیاں اور بنیادی سہولیات کی سیاست   پاکستان...
Read More
Kalabagh ki andheri galiyon mein ruka hua waqt

Kalabagh ki andheri galiyon mein ruka hua waqt

کالاباغ کی اندھیری گلیوں میں رکا ہوا وقت میرا جب بھی دل...
Read More

==================================

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top