Kalabagh ki nai aabadiyan aur bunyadi sahuliyat ki siyasat

 

کالاباغ کی نئی آبادیاں اور بنیادی سہولیات کی سیاست

 

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں جمہوریت کے نام پر عوام کو ہمیشہ ایسے نظام کا سامنا رہا ہے جس میں اقتدار کی شکل بدلتی رہی مگر عوام کے مسائل اپنی جگہ موجود رہے

کبھی وردی میں آمر حکمرانی کرتا رہا اور کبھی جمہوریت کے نام پر ایسے سیاستدان اقتدار میں آتے رہے جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے کے بعد بھی عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینے کے بجائے انہیں سیاسی وعدوں اور وقتی اقدامات کے ذریعے اپنے ساتھ وابستہ رکھنے کی کوشش کرتے رہے

ملک کے طول و عرض میں بنیادی سہولیات کو عوام کا حق سمجھنے کے بجائے اکثر سیاسی احسان بنا کر پیش کیا جاتا ہے

بجلی پانی سڑکیں سیوریج گلیاں اور دیگر بنیادی سہولیات کسی بھی شہری کا بنیادی حق ہیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے ان سہولیات کے حصول کے لیے بھی عوام کو سیاسی دروازوں پر دستک دینا پڑتی ہے

کالا باغ بھی اسی سیاسی رویے کی ایک واضح مثال بنتا جا رہا ہے

کالا باغ میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے

دوسرے علاقوں سے آنے والے بہت سے لوگوں نے یہاں اپنی رہائش اختیار کرنے کے لیے زمینیں اور پلاٹ خریدے اور اپنی جمع پونجی خرچ کرکے مکان تعمیر کیے

کئی نئی آبادیاں وجود میں آئیں

لوگوں نے اپنے مستقبل کے خواب ان نئی بستیوں سے وابستہ کیے

کسی نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر گھر بنایا تو کسی نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے یہاں زمین خریدی

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی آبادیاں آباد ہوئے کئی سال گزرنے کے باوجود آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں

کسی آبادی میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ہے

کہیں بجلی کے پول موجود نہیں

کہیں سیوریج کا نظام نہیں

کہیں گلیاں کچی ہیں

کہیں بارش کے پانی کی نکاسی کا کوئی مناسب انتظام نہیں

اور کہیں لوگ اپنے گھروں تک بنیادی سہولیات پہنچانے کے لیے برسوں سے سرکاری اداروں اور منتخب نمائندوں کے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی علاقے میں لوگوں نے اپنی زمین خرید کر گھر تعمیر کر لیے ہیں اور وہاں باقاعدہ آبادی وجود میں آچکی ہے تو پھر اس آبادی کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے

کیا بجلی کا پول لگانا کسی سیاستدان کا ذاتی احسان ہے

کیا صاف پانی فراہم کرنا کسی سیاسی جماعت کی طرف سے خیرات ہے

کیا سیوریج کا نظام دینا کسی منتخب نمائندے کی ذاتی سخاوت ہے

کیا پختہ گلیاں بنانا کسی امیدوار کی طرف سے ووٹ کے بدلے انعام ہے

یقیناً ایسا نہیں ہونا چاہیے

یہ سب عوام کے بنیادی حقوق ہیں

لیکن ہمارے ہاں سیاست کا ایک ایسا انداز پروان چڑھ چکا ہے جس میں بنیادی حقوق کو بھی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

پہلے نئی آبادیاں وجود میں آتی ہیں

لوگ اپنے گھر تعمیر کرتے ہیں

آبادی بڑھتی ہے

پھر ان آبادیاں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں

لوگ انتظار کرتے رہتے ہیں

درخواستیں دیتے ہیں

منتخب نمائندوں سے رابطہ کرتے ہیں

سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے ہیں

لیکن مسئلہ حل نہیں ہوتا

پھر جب انتخابات قریب آتے ہیں تو اچانک ان محروم آبادیوں کی یاد آجاتی ہے

کسی علاقے میں بجلی کے پول لگنے شروع ہوجاتے ہیں

کسی جگہ گلی بنانے کا وعدہ کردیا جاتا ہے

کہیں پانی کی فراہمی کا اعلان کردیا جاتا ہے

اور کہیں سیوریج کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے

عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کا منتخب نمائندہ ان کے مسائل کے لیے بہت فکر مند ہے

لوگ بھی یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید اب ان کے مسائل حل ہونے والے ہیں

بنیادی سہولیات میں سے ایک آدھ سہولت فراہم کردی جاتی ہے

اور پھر اس ایک کام کو اتنے بڑے سیاسی کارنامے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جیسے پورے علاقے کی تقدیر بدل دی گئی ہو

انتخابات گزر جاتے ہیں

ووٹ حاصل ہوجاتے ہیں

اقتدار کا مرحلہ مکمل ہوجاتا ہے

اور پھر وہی پرانا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا ہے

جو سہولیات باقی رہ گئی تھیں ان کے لیے عوام دوبارہ منتخب نمائندے کے ڈیرے پر پہنچنا شروع ہوجاتی ہے

درخواستیں دی جاتی ہیں

یاد دہانیاں کرائی جاتی ہیں

مسائل بتائے جاتے ہیں

لیکن جواب پھر وعدوں کی صورت میں ملتا ہے

اور یوں عوام کے بنیادی حقوق اگلے انتخابات تک مؤخر کردیے جاتے ہیں

پھر جب اگلے انتخابات قریب آتے ہیں تو انہی حقوق کو دوبارہ سیاسی وعدوں کی شکل دے کر عوام کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے

یہ ایک ایسا سیاسی چکر ہے جس میں عوام ہر بار امید باندھتے ہیں

ہر بار ووٹ دیتے ہیں

ہر بار وعدے سنتے ہیں

اور ہر بار اپنی بنیادی سہولیات کے لیے دوبارہ انتظار کرتے ہیں

یہ صورتحال صرف کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک سیاستدان کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے مجموعی سیاسی رویے کا مسئلہ ہے

سیاست کا مقصد عوام کی خدمت ہونا چاہیے

عوام کے مسائل حل کرنا ہونا چاہیے

لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کرنا ہونا چاہیے

لیکن جب بنیادی سہولیات کو ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا جائے تو پھر عوام اور سیاست کے درمیان ایک ایسا تعلق قائم ہوجاتا ہے جس میں شہری اپنے حقوق مانگنے کے بجائے انہیں حاصل کرنے کے لیے سیاسی سفارش اور تعلق تلاش کرنے لگتا ہے

یہ طرز عمل جمہوریت کی روح کے بھی خلاف ہے

ایک حقیقی جمہوری نظام میں شہری کو بجلی کے پول کے لیے کسی سیاسی شخصیت کے دروازے پر نہیں جانا چاہیے

صاف پانی کے لیے کسی امیدوار سے سفارش نہیں کرانی چاہیے

سیوریج کے نظام کے لیے کسی سیاسی جلسے میں نعرہ نہیں لگانا چاہیے

اور پختہ گلی کے لیے ووٹ دینے کی شرط قبول نہیں کرنی چاہیے

یہ تمام سہولیات ریاست اور مقامی حکومت کی ذمہ داری ہیں

کسی بھی نئی آبادی کو آباد کرنے سے پہلے منصوبہ بندی ہونی چاہیے

سب سے پہلے یہ دیکھا جانا چاہیے کہ وہاں پینے کے صاف پانی کا انتظام کیسے ہوگا

بجلی کی فراہمی کا نظام کیا ہوگا

سیوریج اور نکاسی آب کا مناسب بندوبست کیسے ہوگا

سڑکیں اور گلیاں کس معیار کے مطابق تعمیر ہوں گی

بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے کیا انتظام ہوگا

لوگوں کے گھروں تک بنیادی سہولیات کیسے پہنچائی جائیں گی

اگر کسی جگہ پہلے سے آبادی قائم ہوچکی ہے تو پھر بھی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہاں بنیادی سہولیات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے

کالا باغ کی نئی آبادیاں بھی اسی توجہ کی مستحق ہیں

ان آبادیوں میں رہنے والے لوگ کوئی غیر متعلقہ لوگ نہیں

وہ اسی معاشرے کا حصہ ہیں

وہ بھی ٹیکس دیتے ہیں

وہ بھی اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں

وہ بھی بجلی کے بل ادا کرتے ہیں

وہ بھی ریاست کے قوانین کی پابندی کرتے ہیں

تو پھر ان کے بنیادی حقوق میں تاخیر کیوں

ایک شخص اپنی زندگی بھر کی کمائی خرچ کرکے گھر تعمیر کرتا ہے

وہ یہ سمجھتا ہے کہ اب اس کا خاندان ایک محفوظ اور بہتر زندگی گزارے گا

لیکن اگر اس کے گھر کے سامنے پختہ گلی نہیں

پینے کا صاف پانی نہیں

سیوریج کا نظام نہیں

بجلی کے لیے مناسب انتظام نہیں

تو پھر اس گھر کی تعمیر کے بعد بھی اس کی زندگی مشکلات سے باہر نہیں نکلتی

سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عوام ان مسائل کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں

وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید بنیادی سہولیات حاصل کرنے کے لیے بھی کسی طاقتور شخص کی حمایت ضروری ہے

یہ سوچ معاشرے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے

عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بجلی پانی سڑک سیوریج اور دیگر شہری سہولیات کسی سیاسی جماعت یا سیاستدان کی ملکیت نہیں

یہ عوام کا حق ہیں

اور حقوق مانگنے کے لیے عوام کو ہر پانچ سال بعد کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے

کالا باغ کی نئی آبادیوں کے مسائل کو بھی مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے

عارضی سیاسی اقدامات مسئلے کا حل نہیں

اگر کسی آبادی میں بجلی کے پول نہیں تو پورا بجلی کا نظام مکمل کیا جائے

اگر پانی کا مسئلہ ہے تو مستقل اور صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے

اگر سیوریج موجود نہیں تو باقاعدہ سیوریج نظام بنایا جائے

اگر گلیاں کچی ہیں تو انہیں پختہ کیا جائے

اور اگر بارش کے پانی کی نکاسی کا مسئلہ ہے تو اس کے لیے مستقل منصوبہ بندی کی جائے

یہ کام انتخابات کے قریب آکر نہیں بلکہ معمول کے حکومتی نظام کے تحت ہونے چاہئیں

عوام کو ہر الیکشن میں ایک سہولت دے کر باقی سہولیات کو اگلے الیکشن کے لیے محفوظ رکھنے کی سیاست ختم ہونی چاہیے

کیونکہ عوام کوئی سیاسی مہرے نہیں

وہ اس ملک کے شہری ہیں

ان کے بھی وہی حقوق ہیں جو ملک کے کسی بڑے شہر کے شہری کے ہیں

کالا باغ کی نئی آبادیاں آج ایک سوال بن کر کھڑی ہیں

یہ سوال صرف بجلی کے پول کا نہیں

صرف پانی کا نہیں

صرف سیوریج یا گلیوں کا نہیں

یہ سوال اس سیاسی سوچ کا ہے جس میں عوام کے بنیادی حقوق کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

وقت آگیا ہے کہ اس سوچ کو تبدیل کیا جائے

منتخب نمائندوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کی خدمت کا مطلب صرف انتخابات کے دنوں میں ان کے درمیان جانا نہیں

اصل خدمت یہ ہے کہ انتخابات کے بعد بھی ان کے مسائل حل کیے جائیں

اصل نمائندگی یہ ہے کہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے کسی ڈیرے کے چکر نہ لگانے پڑیں

اصل جمہوریت یہ ہے کہ ریاست شہری کو اس کا حق خود فراہم کرے

اور کالا باغ کی نئی آبادیاں بھی اسی حق کی منتظر ہیں

ضرورت اس بات کی ہے کہ ان آبادیوں کو انتخابی وعدوں کا حصہ بنانے کے بجائے باقاعدہ ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے

تاکہ یہاں رہنے والے لوگ ہر انتخابات میں نئے وعدوں کی امید لگانے کے بجائے اپنے گھروں میں بنیادی سہولیات کے ساتھ ایک باعزت اور بہتر زندگی گزار سکیں

کیونکہ جمہوریت صرف ووٹ لینے کا نام نہیں

جمہوریت عوام کے حقوق ادا کرنے کا نام بھی ہے

Muhammad Ahsan Qureshi —Chashm-e-Salagar

Muhammad Ahsan Qureshi —Chashm-e-Salagar

محمد احسن قریشی  چشمِ سلاگر — قلم، کیمرے اور صحافت کے ذریعے...
Read More
Kalabagh mein namak ke zakhaar ki tabahi ka zimmadar kaun??

Kalabagh mein namak ke zakhaar ki tabahi ka zimmadar kaun??

کالاباغ میں نمک کے ذخائر کی تباہی کا ذمہ دار کون؟؟ اللہ...
Read More
KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

کالا باغ میں گرلز کالج کا قیام — ہماری بچیوں کے روشن...
Read More
Raja Salagar Ka Kala Bagh Maazi Ke Jharokon Se

Raja Salagar Ka Kala Bagh Maazi Ke Jharokon Se

راجہ سلاگر کا کالا باغ   -ماضی کے جھروکوں سے   ڈاکٹر کی...
Read More
Kalabagh Tehsil Level Hospital: Eentein, Cement aur Be-hissi!

Kalabagh Tehsil Level Hospital: Eentein, Cement aur Be-hissi!

کالاباغ تحصیل لیول ہسپتال: اینٹیں، سیمنٹ اور بے حسی! بڑی عمارت، ناپید...
Read More
Maazi Ke Jharokon Se – Kalabagh key  Tang-o-Tareekhi Galiyon Ke Tham

Maazi Ke Jharokon Se – Kalabagh key Tang-o-Tareekhi Galiyon Ke Tham

ماضی کے جھروکے سے تنگ و تاریخی گلیوں کے تھم کالاباغ کی...
Read More
Pakistan mein zaraat ka zawaal aur kisaan ki badhaali

Pakistan mein zaraat ka zawaal aur kisaan ki badhaali

پاکستان میں زراعت کا زوال اور کسان کی بدحالی کسان سال بھر...
Read More
Kalabagh ki nai aabadiyan aur bunyadi sahuliyat ki siyasat

Kalabagh ki nai aabadiyan aur bunyadi sahuliyat ki siyasat

  کالاباغ کی نئی آبادیاں اور بنیادی سہولیات کی سیاست   پاکستان...
Read More

==================================

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top