Raja Salagar Ka Kala Bagh Maazi Ke Jharokon Se

راجہ سلاگر کا کالا باغ   –ماضی کے جھروکوں سے

 

ڈاکٹر کی دی ہوئی دوا کھانے کے بعد میں اپنی چارپائی پر لیٹا ہی تھا کہ نہ جانے کب آنکھوں پر نیند کا غلبہ طاری ہوگیا۔

پھر جب آنکھ کھلی تو میرے سامنے جو منظر تھا، اسے دیکھ کر میں چند لمحوں کے لیے بالکل ساکت رہ گیا۔

میں اپنی چارپائی پر نہیں تھا۔

میں دریائے سندھ کے کنارے پڑا تھا۔

سامنے دریا کے دوسرے کنارے پر ایک قدیم مندر دکھائی دے رہا تھا اور اچانک اس مندر کی گھنٹیوں کی آواز فضا میں پھیل گئی۔ گھنٹیوں کی آواز کے ساتھ ہی دریا کے پانی میں کھڑے چند پجاری اشلوک پڑھ رہے تھے۔

صبح کی پہلی کرنیں آسمان کے کناروں کو روشن کر رہی تھیں اور سورج مندر کے اوپر سے طلوع ہو رہا تھا۔ دریا کی لہروں پر سورج کی سنہری روشنی بکھری ہوئی تھی۔

ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پوری کائنات نے ایک ہی لمحے میں آنکھ کھول دی ہو۔

ملاح اپنی کشتیوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دکانوں کے دروازے کھل رہے تھے۔ کہیں سے بیلوں کی گھنٹیوں کی آواز آ رہی تھی۔ کہیں مزدور سامان اٹھا کر دریا کے کنارے جا رہے تھے اور کہیں دور کسی بھٹی سے دھواں آسمان کی طرف اٹھ رہا تھا۔

میں یہ سب کچھ ایک بت کی طرح حیرت سے دیکھ رہا تھا۔

میرے ذہن میں صرف ایک سوال گردش کر رہا تھا:

میں کہاں آ گیا ہوں؟

ایک اجنبی زمانے میں

میں نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا تو میرے جسم پر وہ لباس نہیں تھا جسے پہن کر میں سویا تھا۔ میرا حلیہ بھی بدل چکا تھا۔

ایسا لگتا تھا جیسے میں اپنی دنیا سے نکل کر کسی اور زمانے میں داخل ہو چکا ہوں۔

کچھ دیر تک میں اسی حیرت میں کھڑا رہا۔ پھر میرے ذہن میں خیال آیا کہ شاید یہ خواب ہے، یا شاید دوا کے اثر سے میری روح کسی ایسے سفر پر نکل گئی ہے جہاں وقت کی دیواریں ٹوٹ چکی ہیں؛ جہاں ماضی اور حال کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہیں رہا۔

میں نے دریا کی طرف دیکھا۔

کشتیوں میں ملاح جاگ چکے تھے۔ وہ اپنی روزمرہ زندگی کے کاموں میں مصروف ہو رہے تھے۔

میں نے قریب کھڑے ایک ملاح سے پوچھا:

“یہ کون سی جگہ ہے؟”

اس نے میری طرف عجیب نظروں سے دیکھا اور کہا:

“یہ کالا باغ ہے۔”

میں چونک گیا۔

کالا باغ!

وہی کالا باغ جسے میں جانتا تھا، مگر یہ کالا باغ تو بالکل مختلف تھا۔

ملاح نے بتایا کہ اس زمانے میں یہ بستی کسی اور نام سے بھی پکاری جاتی ہے اور یہاں راجہ سلاگر کی حکومت ہے۔

یہاں ہر طرف امن اور شانتی ہے۔ راجہ سلاگر کا خاندان نسلوں سے اس علاقے پر حکومت کرتا چلا آ رہا ہے۔

دریا کے کنارے بسا ہوا کالا باغ

میں نے حیرت سے اس بستی کو دیکھا۔

دریا اس وقت آبادی کے بالکل قریب بہہ رہا تھا۔ پانی کی لہریں گھروں کے قریب آ کر واپس لوٹ رہی تھیں۔

دریا کے کنارے بڑی بڑی کَڑھی ہوئی کشتیاں اور بیڑے کھڑے تھے۔ ان بیڑوں پر دور دور کے علاقوں سے لایا گیا سامان موجود تھا۔

کچھ سامان یہاں اتارا جا رہا تھا اور کچھ کالا باغ سے دوسرے علاقوں کی طرف بھیجا جا رہا تھا۔

مزدور کندھوں پر بوجھ اٹھائے کشتیوں تک جا رہے تھے۔ کچھ لوگ لکڑی کے تختوں پر سامان رکھ کر بیڑوں تک پہنچا رہے تھے۔

ہر طرف ایک عجیب سی چہل پہل تھی۔

یوں لگتا تھا جیسے کالا باغ اس دور میں دریائے سندھ کی تجارت کا ایک اہم مرکز ہو۔

مشرقی علاقوں سے آنے والے بڑے بڑے بیڑے دریا کے بہاؤ کے ساتھ مغرب کی طرف سفر کرتے تھے۔

ان بیڑوں پر مختلف قسم کا سامان لایا اور لے جایا جاتا تھا:

نمک، مٹی کے برتن، کپڑا، گھریلو استعمال کی اشیا، تیر، کمانیں، تلواریں اور نہ جانے کتنی چیزیں۔

یہ سامان ان بیڑوں کے ذریعے دور دراز علاقوں تک پہنچایا جاتا تھا۔

میں نے ایک بار پھر دریا کی طرف دیکھا۔

پانی اپنی پوری شان سے بہہ رہا تھا۔

وہ دریا، جو صدیوں سے اس بستی کی زندگی کا گواہ تھا۔

اس کے کنارے ملاحوں کی آوازیں تھیں۔ کشتیوں کی لکڑی پانی سے ٹکراتی تو ایک خاص سی آواز پیدا ہوتی اور دور کسی کشتی سے کوئی ملاح بلند آواز میں اپنے ساتھیوں کو پکار رہا تھا۔

بازار کی رونق اور زندگی کی چہل پہل

میں دریا کے کنارے کنارے آبادی کی طرف چل پڑا۔

کچھ ہی دیر میں مجھے ایک چھوٹا سا بازار دکھائی دیا۔

بازار میں کئی چھوٹی چھوٹی دکانیں بنی ہوئی تھیں۔ کہیں سبزیاں رکھی تھیں، کہیں تازہ پھل سجائے گئے تھے، اور کہیں مٹھائی کی دکانیں تھیں جہاں مختلف رنگوں کی مٹھائیاں مٹی اور دھات کے برتنوں میں سجی ہوئی تھیں۔

لوگ آ جا رہے تھے۔

خرید و فروخت ہو رہی تھی۔

بازار میں زیادہ تر ہندو خاندان دکھائی دے رہے تھے، مگر ہر طرف ایک دوسرے کے ساتھ میل جول اور معمول کی زندگی کا منظر تھا۔

کہیں کاریگر تیر اور کمانیں بنانے میں مصروف تھے، کہیں لوہے کی بھٹی دہک رہی تھی اور کہیں لوہار آگ میں گرم کیے ہوئے لوہے کو ہتھوڑے سے پیٹ رہا تھا۔

چنگاریاں ہوا میں بکھرتیں اور چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوتا جیسے زمین پر چھوٹے چھوٹے ستارے اتر آئے ہوں۔

کالا باغ کی تلواریں اور ہنرمند کاریگر

کالا باغ کی تلواریں مشہور تھیں۔ تیر، کمان اور جنگی سامان بنانے والے کاریگر اپنی مہارت کی وجہ سے دور دور تک جانے جاتے تھے۔

میں نے ایک کاریگر کو تلوار بناتے دیکھا۔

وہ سرخ انگاروں میں دہکتے لوہے کو نکالتا، پھر اسے بھاری ہتھوڑے سے ضرب لگاتا۔

ہر ضرب کے ساتھ چنگاریاں نکلتی تھیں۔

اور مجھے محسوس ہوا جیسے اس زمانے کی پوری تاریخ ان چنگاریوں میں لکھی جا رہی ہو۔

سلاگر پہاڑ — راجہ سلاگر کی نسبت

آبادی کی ایک طرف دریائے سندھ تھا اور پیچھے بلند و بالا پہاڑ تھے۔

ان پہاڑوں میں سب سے نمایاں سلاگر پہاڑ تھا۔

مقامی لوگ اسے راجہ سلاگر کے نام سے منسوب کرتے تھے۔

پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر صبح کی روشنی پڑ رہی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پہاڑ بھی اس قدیم سلطنت کی حفاظت پر مامور ہوں۔

کالا باغ کا دفاعی حصار

آبادی کے مغربی جانب ایک مضبوط دیوار بنی ہوئی تھی۔

یہ دیوار صرف دیوار نہیں تھی بلکہ اس بستی کی حفاظت کا حصار تھی۔

باہر سے آنے والے حملہ آوروں کو روکنے کے لیے اسے مضبوط بنایا گیا تھا۔

چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں اور ٹیلوں پر چوکیاں قائم تھیں۔ ان چوکیوں پر سپاہی کھڑے تھے۔

ان کے ہاتھوں میں تلواریں تھیں۔ سورج کی روشنی تلواروں پر پڑتی تو ان کی دھاریں دور سے چمکتی ہوئی نظر آتیں۔

مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے پورا کالا باغ ایک خاموش قلعہ ہو۔

جہاں ہر گلی، ہر دیوار، ہر چوکی اور ہر پہاڑ اپنی جگہ ایک محافظ تھا۔

تنگ گلیاں — دفاع کی ایک عجیب حکمتِ عملی

میں بازار سے آگے بڑھا اور ایک گلی میں داخل ہوگیا۔

شروع میں گلی کچھ کشادہ تھی، مگر آگے جا کر اس کی چوڑائی کم ہونے لگی۔

کچھ ہی فاصلے پر وہ اتنی تنگ ہوگئی کہ دو آدمیوں کا ایک ساتھ گزرنا بھی مشکل دکھائی دینے لگا۔

اوپر لکڑی کی چھت تھی، جس کی وجہ سے دن کے وقت بھی گلی میں نیم تاریکی چھائی ہوئی تھی۔

میں کچھ آگے بڑھا تو اچانک گلی کی اونچائی بھی کم ہوگئی۔

مجھے جھک کر چلنا پڑا۔

چند قدم مزید آگے گیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ سب اتفاق نہیں تھا۔

یہ ایک جنگی حکمتِ عملی تھی۔

اس زمانے کے لوگ جانتے تھے کہ بیرونی حملہ آور گھوڑوں پر سوار ہو کر آبادیوں میں داخل ہوتے تھے۔ وہ لوٹ مار کرتے، لوگوں کو قتل کرتے، گھروں کو آگ لگاتے اور گھوڑوں پر سوار ہو کر تنگ گلیوں میں گھس آتے۔

مگر کالا باغ کے لوگوں نے اپنی بستی کی گلیوں کو ہی دفاع کا ہتھیار بنا دیا تھا۔

اونچی چھتوں والی گلیوں کے بعد اچانک ایسی جگہ آ جاتی جہاں گھوڑے پر سوار سپاہی کو جھکنا پڑتا۔

اگر وہ رفتار سے آ رہا ہوتا تو اسے اندازہ ہی نہ ہوتا کہ سامنے چھت اتنی نیچی ہے۔

اس کا سر لکڑی سے ٹکرا سکتا تھا، وہ گھوڑے سے گر سکتا تھا اور اسی لمحے اندر چھپے محافظ اسے قابو کر سکتے تھے۔

میں حیرت سے اس قدیم حکمتِ عملی کو دیکھتا رہا۔

یہ صرف ایک گلی نہیں تھی۔

یہ ایک ایسا جال تھا جسے وقت کے معماروں نے حملہ آوروں کے لیے بچھایا تھا۔

مشعلوں کی روشنی میں قدیم شہر

گلی کی دیواروں پر جگہ جگہ مشعلیں لگی ہوئی تھیں۔

میں نے سوچا، ہوگا رات کے وقت یہی مشعلیں روشن ہوتی ہوں گی، اور جب پورا شہر اندھیرے میں ڈوب جاتا ہوگا تو ان کی روشنی ان تنگ گلیوں میں زندگی کی واحد علامت بن جاتی ہوگی۔

میں نے ایک بار پھر پیچھے مڑ کر دیکھا۔

دریائے سندھ اپنی پوری شان سے بہہ رہا تھا۔

بازار کی آوازیں اب بھی سنائی دے رہی تھیں۔

مندر کی گھنٹیاں دور کہیں بج رہی تھیں۔

پہاڑ خاموش کھڑے تھے۔

چوکیوں پر سپاہی پہرہ دے رہے تھے۔

اور کالا باغ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ میرے سامنے ایک ایسے زمانے کی داستان بن کر کھڑا تھا جو صدیوں پہلے گزر چکا تھا۔

خواب، حقیقت یا وقت کا سفر؟

میں سوچ رہا تھا:

کیا واقعی میں ماضی میں آ گیا ہوں؟

یا یہ صرف ایک خواب ہے؟

کیا دوا کے اثر نے میری آنکھوں کے سامنے تاریخ کے وہ صفحات کھول دیے ہیں جو وقت کی گرد میں کہیں دفن ہو چکے ہیں؟

یا واقعی میری روح نے ایک لمحے کے لیے وقت کی سرحد پار کر لی ہے؟

میں ابھی انہی سوالوں میں الجھا ہوا تھا کہ اچانک دور سے کسی نے میرا نام پکارا۔

میں نے چونک کر پیچھے دیکھا۔

مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔

صرف ایک لمبی، تنگ گلی تھی، جس کے آخر میں مشعل کی ہلکی سی روشنی کانپ رہی تھی۔

میں اس روشنی کی طرف بڑھنے لگا۔

اور پھر جو کچھ میرے سامنے آیا۔۔۔۔

[bdp_post grid=”5″ media_size=”thumbnail, medium” show_date=”false” show_tags=”false” show_category=”false” content_words_limit=”12″ category=”2923″ order=”asc

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top