ماضی کے جھروکے سے
تنگ و تاریخی گلیوں کے تھم
کالاباغ کی تنگ و تاریخی گلیاں صرف راستے نہیں بلکہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک ایسی داستان ہیں جس کے ہر موڑ پر ماضی سانس لیتا محسوس ہوتا ہے
ان گلیوں کے قدیم گھروں کی چھتوں کو سہارا دینے والے لکڑی کے وہ تھم اور تھمیاں آج بھی کہیں نہ کہیں اپنی خاموش موجودگی کا احساس دلاتے ہیں جو کبھی ان گھروں کی تعمیر کا لازمی حصہ ہوا کرتے تھے
یہ تھم کہیں گول شکل میں ہوتے تھے اور کہیں چوکور تراشے ہوئے لکڑی کے ستونوں کی صورت میں چھتوں کا بوجھ اپنے مضبوط کندھوں پر اٹھائے کھڑے رہتے تھے
کالاباغ کا شاید ہی کوئی رہائشی ایسا ہو جو بچپن سے ان تھموں سے واقف نہ ہو
مرد ہو یا عورت بوڑھا ہو یا بچہ ان تھموں کی قطاریں اس شہر کی تہذیب اور یادوں کا حصہ رہی ہیں
یہ وہی تنگ گلیاں ہیں جہاں کبھی سکول جانے والے بچے بستہ اٹھائے اپنی منزل کی طرف بڑھتے تھے اور کبھی مسجد یا عیدگاہ میں سپارہ پڑھنے کے لیے جانے والے بچے راستے میں شرارتوں کے بہانے ڈھونڈتے تھے
بچپن بھی عجیب زمانہ ہوتا ہے
کبھی سکول جانے کو دل نہ چاہا تو کسی لکڑی کے تھم سے لپٹ کر کھڑے ہو گئے اور گھر والوں نے جب چلنے کے لیے کہا تو دونوں بازو اس قدیم لکڑی کے ستون کے گرد یوں لپیٹ لیے جیسے اس سے جدا ہونا دنیا سے جدا ہونے کے برابر ہو
ماں یا باپ ہاتھ پکڑ کر کھینچتے رہتے اور بچہ پوری طاقت سے تھم کو پکڑے رہتا
کبھی عیدگاہ میں سپارہ پڑھنے کی باری ہوتی اور چھٹی کرنے کا دل چاہتا تو یہی تھم پناہ گاہ بن جاتے
گھر والے آگے جانے کے لیے کہتے اور بچپن کی ضد اپنے عروج پر ہوتی
وہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ ان لکڑی کے تھموں کو مضبوطی سے تھام لیتے اور آنکھوں میں آنسو لیے ایسا محسوس ہوتا جیسے یہ تھم ہی ان کے سب سے بڑے ساتھی ہوں
کالاباغ کی ان گلیوں کے بارے میں کسی شاعر نے شاید اسی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے کہا تھا
اے گلیاں ہن کے غاراں ہن
واقعی یہ گلیاں کبھی بچوں کے لیے غاروں جیسی ہی تھیں
گرمیوں کی تیز دھوپ جب پتھریلی گلیوں پر آگ برسا رہی ہوتی تو یہی تنگ اور سایہ دار راستے ٹھنڈے غاروں کا منظر پیش کرتے
بچپن کے کھیل بھی انہی گلیوں میں پروان چڑھتے
چھپن چھپائی جسے مقامی زبان میں چھوت چھپری کہا جاتا تھا تو ان لکڑی کے تھموں کی آڑ سب سے محفوظ پناہ گاہ بن جاتی
ایک بچہ آنکھیں بند کرکے گنتا رہتا اور دوسرے بچے دوڑتے ہوئے کسی گول یا چوکور لکڑی کے تھم کے پیچھے چھپ جاتے
کسی کی ہنسی دب جاتی
کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی
اور کوئی بچہ اپنے آپ کو اس قدیم لکڑی کے تھم کے ساتھ اس طرح سمیٹ لیتا جیسے وہ تھم نہیں بلکہ اس کا اپنا کوئی رازدار ہو
ان تھموں نے صرف قدیم گھروں کی چھتوں کا بوجھ نہیں اٹھایا
انہوں نے نسلوں کا بچپن اٹھایا ہے
انہوں نے بچوں کی شرارتیں دیکھی ہیں
انہوں نے لڑائی جھگڑے دیکھے ہیں
انہوں نے ہنسی کی آوازیں سنی ہیں
انہوں نے آنکھوں سے بہنے والے آنسو دیکھے ہیں
انہوں نے محبت کی سرگوشیاں بھی سنیں اور جدائی کے دکھ بھی اپنے سینے میں دفن کیے ہیں
کتنے بچے ان تھموں سے لپٹ کر روئے ہوں گے
کتنے بچوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشیں انہی تھموں کے سائے میں پوری ہونے کی دعائیں مانگی ہوں گی
کتنی ماؤں نے اپنے بچوں کو انہی گلیوں میں آوازیں دی ہوں گی
کتنے باپ اپنے بچوں کو ہاتھ سے پکڑ کر انہی تھموں کے درمیان سے گزرتے ہوئے مسجد اور سکول تک لے گئے ہوں گے
اور کتنے بزرگ آج بھی ان تھموں کو دیکھ کر اپنے گزرے ہوئے بچپن کی طرف لوٹ جاتے ہوں گے
وقت مگر کسی کے لیے نہیں رکتا
وہی گلیاں آج بھی موجود ہیں
وہی موڑ ہیں
وہی دیواریں ہیں
وہی چھتیں ہیں
مگر ان گلیوں میں کھڑے لکڑی کے تھموں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے
جن تھموں کے ساتھ کبھی بچے لپٹ کر چھپتے تھے وہ اب ایک ایک کرکے وقت کی گرد میں گم ہوتے جا رہے ہیں
کچھ دیمک اور موسموں کی سختیوں سے کمزور ہو چکے ہیں
کچھ شکستہ ہو گئے ہیں
کچھ نئی تعمیرات کی نذر ہو گئے ہیں
اور کچھ اپنی آخری طاقت کے ساتھ آج بھی قدیم گھروں کی چھتوں کا بوجھ اٹھائے کھڑے ہیں
شاید صدیوں سے چھتوں کے ساتھ ساتھ یادوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے یہ تھم بھی تھک گئے ہیں
شاید ان کے لکڑی کے جسم میں محفوظ کہانیاں بھی اب خاموشی اختیار کر چکی ہیں
اور شاید وہ جانتے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ان کے سامنے سے گزرنے والی نئی نسل انہیں صرف ایک پرانی لکڑی سمجھ کر آگے بڑھ جائے گی
نئے زمانے کے بچے شاید ان تھموں سے لپٹنے کا ہنر نہ سیکھ سکیں
وہ شاید کبھی کسی گول یا چوکور لکڑی کے تھم کے پیچھے چھپ کر چھپن چھپائی نہ کھیلیں
وہ شاید سکول سے بچنے کے لیے کسی قدیم تھم کو مضبوطی سے پکڑ کر کھڑے نہ ہوں
وہ شاید اس بات کو محسوس نہ کر سکیں کہ لکڑی کے یہ بے زبان ستون بھی انسان کے بچپن کے ساتھی بن سکتے ہیں
لیکن کالاباغ کی ان گلیوں میں اگر کوئی پرانا لکڑی کا تھم آج بھی کسی چھت کو سہارا دیے کھڑا ہے تو اسے صرف ایک ستون نہ سمجھا جائے
یہ ایک خاموش تاریخ ہے
یہ ایک نسل کا بچپن ہے
یہ کئی نسلوں کی ہنسی ہے
یہ آنکھوں کے آنسوؤں کا امین ہے
یہ ان بچوں کی ضد کا گواہ ہے جو سکول نہیں جانا چاہتے تھے
یہ ان ماؤں کی آوازوں کا محافظ ہے جو بچوں کو گھر بلایا کرتی تھیں
اور یہ اس شہر کے اس ماضی کی آخری نشانیوں میں سے ایک ہے جس میں گلیاں صرف راستے نہیں بلکہ زندگی ہوا کرتی تھیں
کالاباغ کی تنگ و تاریک گلیاں آج بھی کھڑی ہیں
مگر ان کے درمیان کھڑے وہ لکڑی کے تھم جو کبھی بچوں کے سب سے پیارے ساتھی ہوا کرتے تھے خاموشی سے کم ہوتے جا رہے ہیں
گلیاں شاید قائم رہیں گی
مگر اگر یہ تھم ختم ہو گئے تو ان گلیوں سے صرف لکڑی کے ستون نہیں جائیں گے
ایک پورا بچپن چلا جائے گا
ایک پوری یاد چلی جائے گی
اور شاید پھر آنے والی نسلیں کبھی سمجھ ہی نہ سکیں کہ کسی قدیم لکڑی کے تھم سے لپٹ کر سکول نہ جانے کی ضد میں بھی ایک پوری دنیا آباد ہوا کرتی تھی
