پاکستان میں زراعت کا زوال اور کسان کی بدحالی
کسان سال بھر محنت کرتا ہے مگر اپنی فصل کا جائز معاوضہ حاصل کرنے سے محروم رہتا ہے
پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں کی معیشت میں زراعت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور ملک کی بڑی آبادی کا روزگار کسی نہ کسی صورت میں کھیتی باڑی سے وابستہ ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کا کسان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے اور زراعت کا شعبہ مسلسل زوال کی طرف بڑھ رہا ہے
کسان وہ طبقہ ہے جو سال بھر دھوپ اور گرمی برداشت کرتا ہے سردی اور بارشوں کا سامنا کرتا ہے مہنگے بیج خریدتا ہے مہنگی کھاد استعمال کرتا ہے مہنگے ڈیزل اور بجلی کے ذریعے زمینوں کو پانی فراہم کرتا ہے فصلوں کی حفاظت کے لیے ادویات خریدتا ہے اور اپنی جمع پونجی کے ساتھ قرض لے کر بھی فصل تیار کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر جب اس کی محنت کا صلہ حاصل کرنے کا وقت آتا ہے تو اسے اپنی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا
یہ کیسی زرعی پالیسی ہے کہ کسان کو فصل اگانے کے لیے ہر چیز مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہے لیکن جب اس کی پیداوار مارکیٹ میں پہنچتی ہے تو اس کی فصل کی قیمت کم کر دی جاتی ہے کسان کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں مگر اس کی آمدنی میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہو رہا جس کے باعث ایک عام کسان کے لیے اپنے خاندان کی کفالت کرنا بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا علاج معالجے کی سہولیات حاصل کرنا اور اگلی فصل کی تیاری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے
مہنگی کھاد مہنگا بیج اور مہنگا پانی کسان کی کمر توڑ رہے ہیں
کسان کی بدحالی کی ایک بڑی وجہ زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں کھاد کی قیمتوں میں اضافہ بیج کی مہنگائی پانی کی قلت اور آبپاشی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے کاشت کاری کو ایک مشکل کاروبار بنا دیا ہے
ایک عام کسان جب گندم کی فصل کاشت کرتا ہے تو اسے زمین کی تیاری سے لے کر فصل کی کٹائی تک کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ٹریکٹر کے اخراجات بیج کی قیمت کھادوں کی خریداری آبپاشی مزدوری سپرے اور فصل کی کٹائی سمیت ہر مرحلے پر رقم خرچ ہوتی ہے
اگر موسم خراب ہو جائے پانی کی کمی پیدا ہو جائے یا فصل کو کسی بیماری کا سامنا کرنا پڑے تو کسان کے اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ فصل تیار ہونے کے بعد اسے منافع بھی حاصل ہوگا
بعض اوقات کسان اپنی سال بھر کی محنت کے بعد فصل فروخت کرتا ہے تو حاصل ہونے والی رقم اس کے مجموعی اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی کافی نہیں ہوتی ایسی صورت میں کسان کو اگلی فصل کا بیج خریدنے کے لیے دوبارہ قرض لینا پڑتا ہے اور یوں وہ قرض کے ایک ایسے چکر میں پھنس جاتا ہے جس سے نکلنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے
گندم کی قیمت کا مسئلہ اور کسان کے ساتھ ناانصافی
گندم پاکستان کی اہم ترین غذائی اجناس میں شامل ہے اور ملک کے کروڑوں لوگوں کی خوراک کا بنیادی حصہ ہے اس کے باوجود گندم کاشت کرنے والے کسان کو اپنی فصل کی فروخت کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہتا ہے
کسان جب گندم کاشت کرتا ہے تو وہ بیج سے لے کر کٹائی تک ہونے والے تمام اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرتا ہے مگر فصل تیار ہونے کے بعد اسے یہ یقین نہیں ہوتا کہ حکومت اس کی پیداوار خریدنے کے لیے مؤثر انتظامات کرے گی یا اسے کھلی منڈی میں اپنی فصل کم قیمت پر فروخت کرنا پڑے گی
جب فصل کی قیمت کسان کے پیداواری اخراجات کو مدنظر رکھے بغیر مقرر کی جاتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشت کاروں کو ہوتا ہے جن کے پاس نہ تو فصل ذخیرہ کرنے کے لیے مناسب گودام ہوتے ہیں اور نہ ہی اتنی مالی طاقت ہوتی ہے کہ وہ کئی ماہ تک اپنی پیداوار فروخت کیے بغیر انتظار کر سکیں
انہیں قرض کی ادائیگی گھریلو ضروریات اور اگلی فصل کی تیاری کے لیے فوری رقم درکار ہوتی ہے چنانچہ وہ اپنی گندم کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں
دوسری طرف اگر مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھ جائے تو اس کا بوجھ عام صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے یوں ایک طرف کسان اپنی فصل کا مناسب معاوضہ حاصل نہیں کر پاتا اور دوسری طرف عوام کو آٹا مہنگا ملتا ہے اس پورے نظام میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسان اور صارف دونوں مشکلات کا شکار ہیں تو پھر اس صورتحال سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ گندم کی قیمتوں کے تعین میں کسان کے پیداواری اخراجات کو بنیادی اہمیت دے اور ایسی پالیسی بنائے جس سے کاشت کار کو مناسب منافع ملے اور عوام کو بھی آٹا مناسب قیمت پر دستیاب ہو
گندم کی مبینہ اسمگلنگ اور حکومتی نگرانی پر سوالات
پاکستان میں گندم کی پیداوار اور اس کی ترسیل کے معاملات بھی مسلسل توجہ کے متقاضی ہیں جب ملک میں پیدا ہونے والی گندم کی دستیابی کے باوجود بعض اوقات قلت اور قیمتوں میں اضافے کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کی وجوہات کا شفاف انداز میں جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے
اگر گندم کی غیر قانونی نقل و حمل یا سرحد پار اسمگلنگ ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف قومی غذائی تحفظ متاثر ہوتا ہے بلکہ ملکی منڈی میں رسد اور قیمتوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے
یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ اگر کسی دور میں گندم کی غیر قانونی ترسیل کے ذریعے ملک سے باہر منتقل ہونے کی شکایات سامنے آئیں تو اس کی روک تھام کے لیے ذمہ دار اداروں نے کیا اقدامات کیے اور نگرانی کے باوجود ایسی سرگرمیاں کیسے جاری رہیں
اس معاملے میں محض چند گاڑیاں یا چند ہزار ٹن گندم پکڑنے کی تشہیر کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ غیر قانونی تجارت کے پورے نظام کی تحقیقات کی جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ اگر بڑے پیمانے پر اسمگلنگ ہوئی تو اس کے ذمہ دار کون تھے
کسی بھی شخص یا ادارے پر بغیر ثبوت الزام لگانے کے بجائے شفاف تحقیقات اور قابل اعتماد اعداد و شمار کے ذریعے حقائق عوام کے سامنے لانا ضروری ہے اگر کسی سرکاری اہلکار یا بااثر شخص کی ملی بھگت ثابت ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ہونی چاہیے
پاکستان کو ایسا نظام درکار ہے جس میں کسان کی پیداوار کا تحفظ ہو ملکی ضروریات کے مطابق گندم کے ذخائر برقرار رکھے جائیں غیر قانونی نقل و حمل روکی جائے اور عوام کو مصنوعی قلت کے ذریعے مہنگی گندم خریدنے پر مجبور نہ ہونا پڑے
جعلی بیج جعلی کھاد اور غیر معیاری زرعی ادویات کا عذاب
پاکستانی کسان کو صرف مہنگائی اور فصل کی کم قیمت کا سامنا نہیں بلکہ اسے غیر معیاری زرعی مداخل کے مسئلے نے بھی شدید مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے
کسان جب مہنگے داموں بیج خریدتا ہے تو اس کی امید ہوتی ہے کہ بیج اچھے معیار کا ہوگا اور فصل بہتر پیداوار دے گی وہ فصل کو بیماریوں اور کیڑوں سے بچانے کے لیے مہنگی زرعی ادویات خریدتا ہے اور زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے کے لیے کھاد استعمال کرتا ہے لیکن اگر یہی اشیا جعلی یا غیر معیاری ہوں تو کسان کی ساری محنت اور سرمایہ خطرے میں پڑ جاتا ہے
جعلی بیج کی وجہ سے اگاؤ کم ہو سکتا ہے غیر معیاری ادویات فصل کو مطلوبہ تحفظ فراہم نہیں کرتیں اور ملاوٹ شدہ کھاد سے پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے نتیجتاً کسان کو ایک ہی فصل پر دوہرا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے پہلے وہ غیر معیاری اشیا خریدنے پر رقم خرچ کرتا ہے اور پھر کم پیداوار کی صورت میں اسے اپنی فصل کی فروخت سے بھی کم آمدنی حاصل ہوتی ہے
یہ معاملہ محض تجارتی بددیانتی نہیں بلکہ ملکی زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ سے جڑا ہوا مسئلہ ہے
متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ بیج کھاد اور زرعی ادویات کی تیاری درآمد تقسیم اور فروخت کے تمام مراحل کی مؤثر نگرانی کریں مارکیٹ میں دستیاب مصنوعات کے نمونے لے کر ان کا باقاعدہ معائنہ کیا جائے اور جعلی اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے
اگر کسان کو معیاری بیج مناسب قیمت پر اور مؤثر زرعی ادویات قابل اعتماد ذرائع سے دستیاب ہوں تو پیداوار میں بہتری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں لیکن جب اسے اپنی ہی فصل کی حفاظت کے لیے خریدی جانے والی اشیا کے معیار پر اعتماد نہ ہو تو زراعت کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے
بڑے زرعی فارم خوشحال اور عام کسان پریشان کیوں ہے
پاکستان میں بڑے بڑے زرعی فارم بھی موجود ہیں جن کے مالکان میں بعض بااثر سیاست دان اور سابق سرکاری افسران شامل ہیں ان فارموں کی معاشی صورتحال اور عام کسان کی مشکلات کے درمیان فرق کا جائزہ لینا ضروری ہے
بڑے زرعی فارم عموماً زیادہ رقبے پر کاشت کاری کرتے ہیں اور انہیں جدید مشینری ذخیرہ کرنے کی سہولیات مالی وسائل اور بہتر انتظامی ڈھانچے سے فائدہ پہنچ سکتا ہے جبکہ چھوٹے کسان کے پاس محدود زمین ہوتی ہے اور وہ اپنی زیادہ تر ضروریات کے لیے اپنی محدود آمدنی پر انحصار کرتا ہے
بڑے کاشت کار کے لیے کسی ایک فصل میں نقصان کو دوسری فصل یا دوسرے کاروبار کے ذریعے پورا کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے لیکن چھوٹے کسان کے لیے ایک فصل کا نقصان پورے خاندان کی معاشی حالت کو متاثر کر سکتا ہے
اگر زرعی پالیسیوں سے فائدہ اٹھانے کے مواقع صرف بڑے سرمایہ داروں تک محدود ہو جائیں اور چھوٹے کسان کو سستی مالی معاونت معیاری بیج جدید زرعی ٹیکنالوجی اور اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملے تو معاشی عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے
یہ صورتحال اس وقت زیادہ تشویش ناک ہو جاتی ہے جب کسان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لیتا ہے مگر فصل کی فروخت سے رقم واپس کرنے کے قابل نہیں رہتا اور بالآخر اپنی زمین فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے
زمین کسی کسان کے لیے محض جائیداد نہیں ہوتی بلکہ اس کی پہچان اس کے خاندان کی روزی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے جب ایک کسان اپنی آبائی زمین فروخت کرتا ہے تو اس کے ساتھ صرف ایک کھیت نہیں بکتا بلکہ اس کی خودمختاری اور معاشی تحفظ بھی کمزور ہو جاتا ہے
حکومت کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو بھی ترقی کے برابر مواقع حاصل ہوں اور زرعی وسائل چند بڑے زمینداروں یا سرمایہ داروں تک محدود نہ رہیں
کسان زمینیں بنجر رکھنے اور غیر روایتی فصلیں اگانے پر مجبور
جب کسی فصل پر آنے والے اخراجات اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بڑھ جائیں تو کسان کے لیے اس فصل کو اگانا معاشی طور پر نقصان دہ بن جاتا ہے
یہی وجہ ہے کہ بعض علاقوں میں کسان روایتی فصلوں کی کاشت کم کرنے غیر روایتی فصلوں کی طرف منتقل ہونے یا اپنی زمین خالی چھوڑنے پر غور کرنے لگتے ہیں
کسی کسان کے لیے اپنی زمین پر فصل نہ اگانا کوئی شوق نہیں بلکہ اکثر حالات میں مجبوری ہوتی ہے کیونکہ زمین کی تیاری بیج کھاد پانی اور مزدوری کے اخراجات برداشت کرنے کے بعد اگر نقصان یقینی دکھائی دے تو وہ مزید قرض لینے سے خوف زدہ ہو جاتا ہے
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو زرعی زمینوں کا مؤثر استعمال متاثر ہو سکتا ہے اور ملکی پیداوار میں کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
حکومت کو چاہیے کہ کاشت کاری کے آغاز سے پہلے ہی فصلوں کی ممکنہ پیداوار ملکی ضرورت ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور متوقع منڈی کی طلب کا جائزہ لے کر واضح پالیسی مرتب کرے تاکہ کسان کو فصل کا انتخاب کرتے وقت غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے
اس کے ساتھ ساتھ ایسی فصلوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے جن کی ملکی منڈی میں حقیقی طلب موجود ہو اور جنہیں کاشت کرنے والے کسان کو مناسب معاوضہ مل سکے
پاکستان کی زرعی طاقت کو کمزوری میں کیوں بدلا جا رہا ہے
پاکستان کو قدرت نے زرخیز زمین دریاؤں کا وسیع نظام اور نہری آبپاشی کا ایک بڑا ڈھانچہ عطا کیا ہے اگر ان وسائل کو مؤثر منصوبہ بندی جدید ٹیکنالوجی اور کسان دوست پالیسیوں کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان خطے میں ایک مضبوط زرعی طاقت بن سکتا ہے
لیکن کسی ملک کا زرعی مستقبل صرف زمین اور پانی کی موجودگی سے محفوظ نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ کسان کو پیداوار بڑھانے کے مواقع حاصل ہوں پانی ضائع ہونے سے بچایا جائے کھاد اور بیج مناسب قیمت پر فراہم کیے جائیں زرعی تحقیق کو فروغ دیا جائے اور فصل کی فروخت کے لیے شفاف نظام قائم ہو
ہمارے پڑوسی ممالک میں زراعت کے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی آبپاشی کے بہتر طریقوں تحقیق اور منڈیوں تک رسائی پر توجہ دی جا رہی ہے پاکستان کو بھی اپنی زرعی پالیسیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا
اگر پاکستانی کسان مسلسل نقصان برداشت کرتا رہا تو آنے والے وقت میں سبزیوں پھلوں اور دیگر زرعی اجناس کی ملکی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے اور ملک کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے
زرعی اجناس کی درآمد بعض حالات میں ضروری ہو سکتی ہے لیکن ملکی پیداوار کو نقصان پہنچا کر درآمدات پر انحصار بڑھانا کسی صورت دانش مندانہ حکمت عملی نہیں ہو سکتی
اگر ہم اپنے کسان کو مناسب قیمت فراہم نہیں کریں گے تو وہ پیداوار بڑھانے کے بجائے کاشت کاری سے دور ہونے پر مجبور ہو سکتا ہے اور اس کا نقصان بالآخر پوری قوم کو برداشت کرنا پڑے گا
کسان دوست پالیسی وقت کی اہم ضرورت
پاکستان میں زراعت کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے حکومت کو محض اعلانات اور وقتی اقدامات سے آگے بڑھ کر ایک مستقل اور قابل عمل زرعی پالیسی اختیار کرنا ہوگی
سب سے پہلے کھاد بیج زرعی ادویات ڈیزل بجلی اور آبپاشی کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی حکمت عملی بنائی جائے جس سے کسان کی پیداواری لاگت کم ہو سکے
گندم اور دیگر اہم فصلوں کے لیے قیمتوں کا ایسا شفاف نظام ہونا چاہیے جس میں پیداواری اخراجات مناسب منافع اور ملکی غذائی ضروریات کو یکساں اہمیت حاصل ہو
کسانوں کو اپنی فصل فروخت کرنے کے لیے صرف چند خریداروں یا مقامی آڑھتیوں پر انحصار نہ کرنا پڑے بلکہ منڈیوں میں منصفانہ مقابلے کو فروغ دیا جائے اور کسان کو اپنی پیداوار کے حقیقی معیار کے مطابق قیمت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں
حکومت کو جدید گوداموں اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو فروغ دینا چاہیے تاکہ کسان فصل تیار ہوتے ہی کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور نہ ہو اور مناسب وقت پر اپنی پیداوار منڈی میں لا سکے
جعلی بیج کھاد اور زرعی ادویات کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور ان کی فروخت کی نگرانی محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے
زرعی قرضوں کی فراہمی کو آسان بنایا جائے اور قدرتی آفات یا غیر معمولی موسمی حالات سے متاثر ہونے والے کسانوں کے لیے مؤثر مالی معاونت اور فصلوں کے بیمے کے نظام کو فروغ دیا جائے
اسی طرح پانی کے بہتر استعمال جدید آبپاشی نظام زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے اور زرعی تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات کو کسان تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں
سب سے اہم بات یہ ہے کہ زرعی پالیسی بناتے وقت کسان کی نمائندگی یقینی بنائی جائے کیونکہ کھیت میں کام کرنے والا کسان ہی بہتر طور پر بتا سکتا ہے کہ اسے کن مشکلات کا سامنا ہے اور ان مشکلات کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے
کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا
پاکستان کی ترقی کا خواب اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس ملک کا کسان معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوتا
جو کسان پوری قوم کے لیے گندم اگاتا ہے وہ خود اپنے بچوں کے لیے مناسب خوراک اور تعلیم کے اخراجات پورے کرنے سے محروم ہو جائے تو یہ صرف ایک فرد کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے لمحہ فکریہ ہے
جو کسان اپنی زمین میں بیج ڈالتے وقت امید کرتا ہے کہ اس کی فصل اس کے خاندان کے لیے خوشحالی لائے گی اگر وہی کسان فصل تیار ہونے پر قرض دار بن جائے تو اس کی مایوسی کو سمجھنا ضروری ہے
حکومت کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ کسان کو مناسب معاوضہ دینا کوئی احسان نہیں بلکہ اس کی محنت کا بنیادی حق ہے اور زرعی پیداوار کو تحفظ فراہم کرنا ملکی معیشت اور غذائی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ کسان کی مشکلات کو سیاسی نعروں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے حل کیا جائے اور ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جن سے بڑے زرعی اداروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشت کار بھی فائدہ اٹھا سکیں
اگر آج کسان کی آواز نہ سنی گئی اور اس کی محنت کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو اس کے اثرات صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آٹے کی قیمتوں خوراک کی دستیابی روزگار اور ملکی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے
پاکستان کو زرعی ملک کہلانے پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کسان کو وہ مقام بھی دینا ہوگا جس کا وہ حق دار ہے
یاد رکھیے کہ کسان زمین میں صرف بیج نہیں بوتا بلکہ وہ پوری قوم کے مستقبل کے لیے امید بوتا ہے
اگر کسان خوشحال ہوگا تو کھیت آباد ہوں گے اگر کھیت آباد ہوں گے تو منڈیاں آباد ہوں گی اگر ملکی پیداوار بڑھے گی تو غذائی ضروریات پوری کرنے میں آسانی ہوگی اور اگر زراعت مضبوط ہوگی تو پاکستان کی معیشت بھی مضبوط ہوگی
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت کسان کو نقصان سے نکالنے کے لیے سنجیدہ اور مستقل اقدامات کرے کیونکہ کسان کی بدحالی دراصل ملکی معیشت کی بدحالی ہے اور کسان کی خوشحالی ہی پاکستان کی حقیقی خوشحالی کی بنیاد بن سکتی ہے-
