Pakistan mein zaraat ka zawaal aur kisaan ki badhaali

پاکستان میں زراعت کا زوال اور کسان کی بدحالی

کسان سال بھر محنت کرتا ہے مگر اپنی فصل کا جائز معاوضہ حاصل کرنے سے محروم رہتا ہے
پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں کی معیشت میں زراعت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور ملک کی بڑی آبادی کا روزگار کسی نہ کسی صورت میں کھیتی باڑی سے وابستہ ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کا کسان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے اور زراعت کا شعبہ مسلسل زوال کی طرف بڑھ رہا ہے
کسان وہ طبقہ ہے جو سال بھر دھوپ اور گرمی برداشت کرتا ہے سردی اور بارشوں کا سامنا کرتا ہے مہنگے بیج خریدتا ہے مہنگی کھاد استعمال کرتا ہے مہنگے ڈیزل اور بجلی کے ذریعے زمینوں کو پانی فراہم کرتا ہے فصلوں کی حفاظت کے لیے ادویات خریدتا ہے اور اپنی جمع پونجی کے ساتھ قرض لے کر بھی فصل تیار کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر جب اس کی محنت کا صلہ حاصل کرنے کا وقت آتا ہے تو اسے اپنی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا
یہ کیسی زرعی پالیسی ہے کہ کسان کو فصل اگانے کے لیے ہر چیز مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہے لیکن جب اس کی پیداوار مارکیٹ میں پہنچتی ہے تو اس کی فصل کی قیمت کم کر دی جاتی ہے کسان کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں مگر اس کی آمدنی میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہو رہا جس کے باعث ایک عام کسان کے لیے اپنے خاندان کی کفالت کرنا بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا علاج معالجے کی سہولیات حاصل کرنا اور اگلی فصل کی تیاری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے
مہنگی کھاد مہنگا بیج اور مہنگا پانی کسان کی کمر توڑ رہے ہیں
کسان کی بدحالی کی ایک بڑی وجہ زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں کھاد کی قیمتوں میں اضافہ بیج کی مہنگائی پانی کی قلت اور آبپاشی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے کاشت کاری کو ایک مشکل کاروبار بنا دیا ہے
ایک عام کسان جب گندم کی فصل کاشت کرتا ہے تو اسے زمین کی تیاری سے لے کر فصل کی کٹائی تک کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ٹریکٹر کے اخراجات بیج کی قیمت کھادوں کی خریداری آبپاشی مزدوری سپرے اور فصل کی کٹائی سمیت ہر مرحلے پر رقم خرچ ہوتی ہے
اگر موسم خراب ہو جائے پانی کی کمی پیدا ہو جائے یا فصل کو کسی بیماری کا سامنا کرنا پڑے تو کسان کے اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ فصل تیار ہونے کے بعد اسے منافع بھی حاصل ہوگا
بعض اوقات کسان اپنی سال بھر کی محنت کے بعد فصل فروخت کرتا ہے تو حاصل ہونے والی رقم اس کے مجموعی اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی کافی نہیں ہوتی ایسی صورت میں کسان کو اگلی فصل کا بیج خریدنے کے لیے دوبارہ قرض لینا پڑتا ہے اور یوں وہ قرض کے ایک ایسے چکر میں پھنس جاتا ہے جس سے نکلنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے
گندم کی قیمت کا مسئلہ اور کسان کے ساتھ ناانصافی
گندم پاکستان کی اہم ترین غذائی اجناس میں شامل ہے اور ملک کے کروڑوں لوگوں کی خوراک کا بنیادی حصہ ہے اس کے باوجود گندم کاشت کرنے والے کسان کو اپنی فصل کی فروخت کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہتا ہے
کسان جب گندم کاشت کرتا ہے تو وہ بیج سے لے کر کٹائی تک ہونے والے تمام اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرتا ہے مگر فصل تیار ہونے کے بعد اسے یہ یقین نہیں ہوتا کہ حکومت اس کی پیداوار خریدنے کے لیے مؤثر انتظامات کرے گی یا اسے کھلی منڈی میں اپنی فصل کم قیمت پر فروخت کرنا پڑے گی
جب فصل کی قیمت کسان کے پیداواری اخراجات کو مدنظر رکھے بغیر مقرر کی جاتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشت کاروں کو ہوتا ہے جن کے پاس نہ تو فصل ذخیرہ کرنے کے لیے مناسب گودام ہوتے ہیں اور نہ ہی اتنی مالی طاقت ہوتی ہے کہ وہ کئی ماہ تک اپنی پیداوار فروخت کیے بغیر انتظار کر سکیں
انہیں قرض کی ادائیگی گھریلو ضروریات اور اگلی فصل کی تیاری کے لیے فوری رقم درکار ہوتی ہے چنانچہ وہ اپنی گندم کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں
دوسری طرف اگر مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھ جائے تو اس کا بوجھ عام صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے یوں ایک طرف کسان اپنی فصل کا مناسب معاوضہ حاصل نہیں کر پاتا اور دوسری طرف عوام کو آٹا مہنگا ملتا ہے اس پورے نظام میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسان اور صارف دونوں مشکلات کا شکار ہیں تو پھر اس صورتحال سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ گندم کی قیمتوں کے تعین میں کسان کے پیداواری اخراجات کو بنیادی اہمیت دے اور ایسی پالیسی بنائے جس سے کاشت کار کو مناسب منافع ملے اور عوام کو بھی آٹا مناسب قیمت پر دستیاب ہو
گندم کی مبینہ اسمگلنگ اور حکومتی نگرانی پر سوالات
پاکستان میں گندم کی پیداوار اور اس کی ترسیل کے معاملات بھی مسلسل توجہ کے متقاضی ہیں جب ملک میں پیدا ہونے والی گندم کی دستیابی کے باوجود بعض اوقات قلت اور قیمتوں میں اضافے کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کی وجوہات کا شفاف انداز میں جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے
اگر گندم کی غیر قانونی نقل و حمل یا سرحد پار اسمگلنگ ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف قومی غذائی تحفظ متاثر ہوتا ہے بلکہ ملکی منڈی میں رسد اور قیمتوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے
یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ اگر کسی دور میں گندم کی غیر قانونی ترسیل کے ذریعے ملک سے باہر منتقل ہونے کی شکایات سامنے آئیں تو اس کی روک تھام کے لیے ذمہ دار اداروں نے کیا اقدامات کیے اور نگرانی کے باوجود ایسی سرگرمیاں کیسے جاری رہیں
اس معاملے میں محض چند گاڑیاں یا چند ہزار ٹن گندم پکڑنے کی تشہیر کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ غیر قانونی تجارت کے پورے نظام کی تحقیقات کی جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ اگر بڑے پیمانے پر اسمگلنگ ہوئی تو اس کے ذمہ دار کون تھے
کسی بھی شخص یا ادارے پر بغیر ثبوت الزام لگانے کے بجائے شفاف تحقیقات اور قابل اعتماد اعداد و شمار کے ذریعے حقائق عوام کے سامنے لانا ضروری ہے اگر کسی سرکاری اہلکار یا بااثر شخص کی ملی بھگت ثابت ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ہونی چاہیے
پاکستان کو ایسا نظام درکار ہے جس میں کسان کی پیداوار کا تحفظ ہو ملکی ضروریات کے مطابق گندم کے ذخائر برقرار رکھے جائیں غیر قانونی نقل و حمل روکی جائے اور عوام کو مصنوعی قلت کے ذریعے مہنگی گندم خریدنے پر مجبور نہ ہونا پڑے
جعلی بیج جعلی کھاد اور غیر معیاری زرعی ادویات کا عذاب
پاکستانی کسان کو صرف مہنگائی اور فصل کی کم قیمت کا سامنا نہیں بلکہ اسے غیر معیاری زرعی مداخل کے مسئلے نے بھی شدید مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے
کسان جب مہنگے داموں بیج خریدتا ہے تو اس کی امید ہوتی ہے کہ بیج اچھے معیار کا ہوگا اور فصل بہتر پیداوار دے گی وہ فصل کو بیماریوں اور کیڑوں سے بچانے کے لیے مہنگی زرعی ادویات خریدتا ہے اور زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے کے لیے کھاد استعمال کرتا ہے لیکن اگر یہی اشیا جعلی یا غیر معیاری ہوں تو کسان کی ساری محنت اور سرمایہ خطرے میں پڑ جاتا ہے
جعلی بیج کی وجہ سے اگاؤ کم ہو سکتا ہے غیر معیاری ادویات فصل کو مطلوبہ تحفظ فراہم نہیں کرتیں اور ملاوٹ شدہ کھاد سے پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے نتیجتاً کسان کو ایک ہی فصل پر دوہرا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے پہلے وہ غیر معیاری اشیا خریدنے پر رقم خرچ کرتا ہے اور پھر کم پیداوار کی صورت میں اسے اپنی فصل کی فروخت سے بھی کم آمدنی حاصل ہوتی ہے
یہ معاملہ محض تجارتی بددیانتی نہیں بلکہ ملکی زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ سے جڑا ہوا مسئلہ ہے
متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ بیج کھاد اور زرعی ادویات کی تیاری درآمد تقسیم اور فروخت کے تمام مراحل کی مؤثر نگرانی کریں مارکیٹ میں دستیاب مصنوعات کے نمونے لے کر ان کا باقاعدہ معائنہ کیا جائے اور جعلی اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے
اگر کسان کو معیاری بیج مناسب قیمت پر اور مؤثر زرعی ادویات قابل اعتماد ذرائع سے دستیاب ہوں تو پیداوار میں بہتری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں لیکن جب اسے اپنی ہی فصل کی حفاظت کے لیے خریدی جانے والی اشیا کے معیار پر اعتماد نہ ہو تو زراعت کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے
بڑے زرعی فارم خوشحال اور عام کسان پریشان کیوں ہے
پاکستان میں بڑے بڑے زرعی فارم بھی موجود ہیں جن کے مالکان میں بعض بااثر سیاست دان اور سابق سرکاری افسران شامل ہیں ان فارموں کی معاشی صورتحال اور عام کسان کی مشکلات کے درمیان فرق کا جائزہ لینا ضروری ہے
بڑے زرعی فارم عموماً زیادہ رقبے پر کاشت کاری کرتے ہیں اور انہیں جدید مشینری ذخیرہ کرنے کی سہولیات مالی وسائل اور بہتر انتظامی ڈھانچے سے فائدہ پہنچ سکتا ہے جبکہ چھوٹے کسان کے پاس محدود زمین ہوتی ہے اور وہ اپنی زیادہ تر ضروریات کے لیے اپنی محدود آمدنی پر انحصار کرتا ہے
بڑے کاشت کار کے لیے کسی ایک فصل میں نقصان کو دوسری فصل یا دوسرے کاروبار کے ذریعے پورا کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے لیکن چھوٹے کسان کے لیے ایک فصل کا نقصان پورے خاندان کی معاشی حالت کو متاثر کر سکتا ہے
اگر زرعی پالیسیوں سے فائدہ اٹھانے کے مواقع صرف بڑے سرمایہ داروں تک محدود ہو جائیں اور چھوٹے کسان کو سستی مالی معاونت معیاری بیج جدید زرعی ٹیکنالوجی اور اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملے تو معاشی عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے
یہ صورتحال اس وقت زیادہ تشویش ناک ہو جاتی ہے جب کسان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لیتا ہے مگر فصل کی فروخت سے رقم واپس کرنے کے قابل نہیں رہتا اور بالآخر اپنی زمین فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے
زمین کسی کسان کے لیے محض جائیداد نہیں ہوتی بلکہ اس کی پہچان اس کے خاندان کی روزی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے جب ایک کسان اپنی آبائی زمین فروخت کرتا ہے تو اس کے ساتھ صرف ایک کھیت نہیں بکتا بلکہ اس کی خودمختاری اور معاشی تحفظ بھی کمزور ہو جاتا ہے
حکومت کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو بھی ترقی کے برابر مواقع حاصل ہوں اور زرعی وسائل چند بڑے زمینداروں یا سرمایہ داروں تک محدود نہ رہیں
کسان زمینیں بنجر رکھنے اور غیر روایتی فصلیں اگانے پر مجبور
جب کسی فصل پر آنے والے اخراجات اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بڑھ جائیں تو کسان کے لیے اس فصل کو اگانا معاشی طور پر نقصان دہ بن جاتا ہے
یہی وجہ ہے کہ بعض علاقوں میں کسان روایتی فصلوں کی کاشت کم کرنے غیر روایتی فصلوں کی طرف منتقل ہونے یا اپنی زمین خالی چھوڑنے پر غور کرنے لگتے ہیں
کسی کسان کے لیے اپنی زمین پر فصل نہ اگانا کوئی شوق نہیں بلکہ اکثر حالات میں مجبوری ہوتی ہے کیونکہ زمین کی تیاری بیج کھاد پانی اور مزدوری کے اخراجات برداشت کرنے کے بعد اگر نقصان یقینی دکھائی دے تو وہ مزید قرض لینے سے خوف زدہ ہو جاتا ہے
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو زرعی زمینوں کا مؤثر استعمال متاثر ہو سکتا ہے اور ملکی پیداوار میں کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
حکومت کو چاہیے کہ کاشت کاری کے آغاز سے پہلے ہی فصلوں کی ممکنہ پیداوار ملکی ضرورت ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور متوقع منڈی کی طلب کا جائزہ لے کر واضح پالیسی مرتب کرے تاکہ کسان کو فصل کا انتخاب کرتے وقت غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے
اس کے ساتھ ساتھ ایسی فصلوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے جن کی ملکی منڈی میں حقیقی طلب موجود ہو اور جنہیں کاشت کرنے والے کسان کو مناسب معاوضہ مل سکے
پاکستان کی زرعی طاقت کو کمزوری میں کیوں بدلا جا رہا ہے
پاکستان کو قدرت نے زرخیز زمین دریاؤں کا وسیع نظام اور نہری آبپاشی کا ایک بڑا ڈھانچہ عطا کیا ہے اگر ان وسائل کو مؤثر منصوبہ بندی جدید ٹیکنالوجی اور کسان دوست پالیسیوں کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان خطے میں ایک مضبوط زرعی طاقت بن سکتا ہے
لیکن کسی ملک کا زرعی مستقبل صرف زمین اور پانی کی موجودگی سے محفوظ نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ کسان کو پیداوار بڑھانے کے مواقع حاصل ہوں پانی ضائع ہونے سے بچایا جائے کھاد اور بیج مناسب قیمت پر فراہم کیے جائیں زرعی تحقیق کو فروغ دیا جائے اور فصل کی فروخت کے لیے شفاف نظام قائم ہو
ہمارے پڑوسی ممالک میں زراعت کے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی آبپاشی کے بہتر طریقوں تحقیق اور منڈیوں تک رسائی پر توجہ دی جا رہی ہے پاکستان کو بھی اپنی زرعی پالیسیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا
اگر پاکستانی کسان مسلسل نقصان برداشت کرتا رہا تو آنے والے وقت میں سبزیوں پھلوں اور دیگر زرعی اجناس کی ملکی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے اور ملک کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے
زرعی اجناس کی درآمد بعض حالات میں ضروری ہو سکتی ہے لیکن ملکی پیداوار کو نقصان پہنچا کر درآمدات پر انحصار بڑھانا کسی صورت دانش مندانہ حکمت عملی نہیں ہو سکتی
اگر ہم اپنے کسان کو مناسب قیمت فراہم نہیں کریں گے تو وہ پیداوار بڑھانے کے بجائے کاشت کاری سے دور ہونے پر مجبور ہو سکتا ہے اور اس کا نقصان بالآخر پوری قوم کو برداشت کرنا پڑے گا
کسان دوست پالیسی وقت کی اہم ضرورت
پاکستان میں زراعت کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے حکومت کو محض اعلانات اور وقتی اقدامات سے آگے بڑھ کر ایک مستقل اور قابل عمل زرعی پالیسی اختیار کرنا ہوگی
سب سے پہلے کھاد بیج زرعی ادویات ڈیزل بجلی اور آبپاشی کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی حکمت عملی بنائی جائے جس سے کسان کی پیداواری لاگت کم ہو سکے
گندم اور دیگر اہم فصلوں کے لیے قیمتوں کا ایسا شفاف نظام ہونا چاہیے جس میں پیداواری اخراجات مناسب منافع اور ملکی غذائی ضروریات کو یکساں اہمیت حاصل ہو
کسانوں کو اپنی فصل فروخت کرنے کے لیے صرف چند خریداروں یا مقامی آڑھتیوں پر انحصار نہ کرنا پڑے بلکہ منڈیوں میں منصفانہ مقابلے کو فروغ دیا جائے اور کسان کو اپنی پیداوار کے حقیقی معیار کے مطابق قیمت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں
حکومت کو جدید گوداموں اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو فروغ دینا چاہیے تاکہ کسان فصل تیار ہوتے ہی کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور نہ ہو اور مناسب وقت پر اپنی پیداوار منڈی میں لا سکے
جعلی بیج کھاد اور زرعی ادویات کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور ان کی فروخت کی نگرانی محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے
زرعی قرضوں کی فراہمی کو آسان بنایا جائے اور قدرتی آفات یا غیر معمولی موسمی حالات سے متاثر ہونے والے کسانوں کے لیے مؤثر مالی معاونت اور فصلوں کے بیمے کے نظام کو فروغ دیا جائے
اسی طرح پانی کے بہتر استعمال جدید آبپاشی نظام زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے اور زرعی تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات کو کسان تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں
سب سے اہم بات یہ ہے کہ زرعی پالیسی بناتے وقت کسان کی نمائندگی یقینی بنائی جائے کیونکہ کھیت میں کام کرنے والا کسان ہی بہتر طور پر بتا سکتا ہے کہ اسے کن مشکلات کا سامنا ہے اور ان مشکلات کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے
کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا
پاکستان کی ترقی کا خواب اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس ملک کا کسان معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوتا
جو کسان پوری قوم کے لیے گندم اگاتا ہے وہ خود اپنے بچوں کے لیے مناسب خوراک اور تعلیم کے اخراجات پورے کرنے سے محروم ہو جائے تو یہ صرف ایک فرد کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے لمحہ فکریہ ہے
جو کسان اپنی زمین میں بیج ڈالتے وقت امید کرتا ہے کہ اس کی فصل اس کے خاندان کے لیے خوشحالی لائے گی اگر وہی کسان فصل تیار ہونے پر قرض دار بن جائے تو اس کی مایوسی کو سمجھنا ضروری ہے
حکومت کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ کسان کو مناسب معاوضہ دینا کوئی احسان نہیں بلکہ اس کی محنت کا بنیادی حق ہے اور زرعی پیداوار کو تحفظ فراہم کرنا ملکی معیشت اور غذائی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ کسان کی مشکلات کو سیاسی نعروں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے حل کیا جائے اور ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جن سے بڑے زرعی اداروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشت کار بھی فائدہ اٹھا سکیں
اگر آج کسان کی آواز نہ سنی گئی اور اس کی محنت کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو اس کے اثرات صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آٹے کی قیمتوں خوراک کی دستیابی روزگار اور ملکی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے
پاکستان کو زرعی ملک کہلانے پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کسان کو وہ مقام بھی دینا ہوگا جس کا وہ حق دار ہے
یاد رکھیے کہ کسان زمین میں صرف بیج نہیں بوتا بلکہ وہ پوری قوم کے مستقبل کے لیے امید بوتا ہے
اگر کسان خوشحال ہوگا تو کھیت آباد ہوں گے اگر کھیت آباد ہوں گے تو منڈیاں آباد ہوں گی اگر ملکی پیداوار بڑھے گی تو غذائی ضروریات پوری کرنے میں آسانی ہوگی اور اگر زراعت مضبوط ہوگی تو پاکستان کی معیشت بھی مضبوط ہوگی
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت کسان کو نقصان سے نکالنے کے لیے سنجیدہ اور مستقل اقدامات کرے کیونکہ کسان کی بدحالی دراصل ملکی معیشت کی بدحالی ہے اور کسان کی خوشحالی ہی پاکستان کی حقیقی خوشحالی کی بنیاد بن سکتی ہے-

Muhammad Ahsan Qureshi —Chashm-e-Salagar

Muhammad Ahsan Qureshi —Chashm-e-Salagar

محمد احسن قریشی  چشمِ سلاگر — قلم، کیمرے اور صحافت کے ذریعے...
Read More
Kalabagh mein namak ke zakhaar ki tabahi ka zimmadar kaun??

Kalabagh mein namak ke zakhaar ki tabahi ka zimmadar kaun??

کالاباغ میں نمک کے ذخائر کی تباہی کا ذمہ دار کون؟؟ اللہ...
Read More
KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

کالا باغ میں گرلز کالج کا قیام — ہماری بچیوں کے روشن...
Read More
Raja Salagar Ka Kala Bagh Maazi Ke Jharokon Se

Raja Salagar Ka Kala Bagh Maazi Ke Jharokon Se

راجہ سلاگر کا کالا باغ   -ماضی کے جھروکوں سے   ڈاکٹر کی...
Read More
Kalabagh Tehsil Level Hospital: Eentein, Cement aur Be-hissi!

Kalabagh Tehsil Level Hospital: Eentein, Cement aur Be-hissi!

کالاباغ تحصیل لیول ہسپتال: اینٹیں، سیمنٹ اور بے حسی! بڑی عمارت، ناپید...
Read More
Maazi Ke Jharokon Se – Kalabagh key  Tang-o-Tareekhi Galiyon Ke Tham

Maazi Ke Jharokon Se – Kalabagh key Tang-o-Tareekhi Galiyon Ke Tham

ماضی کے جھروکے سے تنگ و تاریخی گلیوں کے تھم کالاباغ کی...
Read More
Pakistan mein zaraat ka zawaal aur kisaan ki badhaali

Pakistan mein zaraat ka zawaal aur kisaan ki badhaali

پاکستان میں زراعت کا زوال اور کسان کی بدحالی کسان سال بھر...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top