کمیٹی کا بھنگی
یوسفے ریڑھی والے کو دیکھ کر خادم حسین بڑ بڑایا، “جب کبھی بھی کسی گھٹیا شخص کو اقتدار ملتا ہے تو وہ شخص اپنی ناک بلند رکھنے کے لیے شرفاء کو تنگ کرنا شروع کر دیتا ہے۔” خادم حسین کی بات سن کر فقیر محمد بولا، “تمھارا اشارہ کہیں یوسفے ریڑھی والے کی طرف تو نہیں۔” خادم حسین سر پر لپٹی چادر اتار کر ٹوٹے ہوئے میز پر رکھتے ہوئے بولا، “اور نہیں تو کیا۔ میں اسی یوسفے بھنگی کی بات کر رہا ہوں۔” فقیر محمد نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا، “خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔” خادم حسین دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے بولا، “خدا کی شان دیکھو! جس انسان کو کوئی دو وقت کی روٹی کے بدلے اجرت پر نہ رکھے، وہ آج گھومتی کرسی پر بیٹھا ہے۔” فقیر محمد ہاتھ سے بیلچہ رکھتے ہوئے پسینہ پونچھ کر بولا، “خدا کی دیگ کے نیچے کیچڑ جلتا ہے میاں۔” خادم حسین اپنی جوتی اتار کر ننگے پاؤں گھاس پر بیٹھتے ہوئے بولا، “جس ملازم پر کم ظرف بندہ افسر لگ جائے اس ملازم کے سمجھو نصیب پھوٹے۔
” فقیر محمد نے کمیٹی دفتر کی ٹوٹی ہوئی دیوار پر سے جھانک کر دیکھا تو یوسف صاحب آ رہا ہوتا ہے۔ فقیر محمد جلدی سے مڑا اور بولا، “یوسفا ریڑھی والا آگیا۔ باتیں چھوڑو، آؤ پہلے جلدی سے پودوں کی جڑوں سے جڑی بوٹیاں صاف کر لیں۔” کمیٹی کے دفتر کا جو انچارج تھا اس کی بڑے افسر سے ان بن ہو گئی تو اس نے اس انچارج کو ہٹا دیا گیا۔ اس بڑے افسر نے یوسفے ریڑھی والے کو عارضی انچارج بنا دیا۔ کچھ دن اور گزرے تو یوسفے ریڑھی والے نے اپنے آپ کو یوسف باؤ بنانے کے لیے کچھ حربے استعمال کیے۔
سب سے پہلے اس نے کمیٹی کے مالیوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ روز ان کی پیشیاں لگانے لگا اور انہیں خوامخواہ فالتو وقت بٹھائے رکھتا۔ ہوتے ہوتے کلرکوں کی باری بھی آگئی۔ کلرکوں سے کبھی ایک فائنل منگواتا تو کبھی دوسری فائل واپس بھجواتا۔ جب یہ سلسلہ چل نکلا تو دیکھتے ہی دیکھتے سارا دفتر اس سے تنگ آگیا۔ سب اس کی پیٹھ پیچھے یہی کہتے تھے کہ دیکھیں جی کم ظرف انسان کو تھوڑا سا عروج کیا ملا کہ سب کو تگنی کا ناچ نچا کر رکھ دیا۔ فقیر محمد اور خادم حسین بہت اچھے انسان تھے۔ وہ اپنی ذمہ داریاں عمدہ طریقے سے انجام دیتے تھے۔ مگر یوسف باؤ نے اپنی حرکتوں سے ان شریف مزدوروں کو بھی تنگ کر کے رکھ دیا۔ اسی دفتر میں کچھ موقعہ پرست ملازمین بھی تھے جو یوسف باؤ کو مکمل پڑھ رکھا تھا۔ انہوں نے اس کے شر سے پناہ میں رہنے کے لیے اسے ایک مشورہ دیا۔ نوید سب سے شاطر انسان تھا۔ اس نے یوسف باؤ کے اندر کے لالچی انسان کو پہچان لیا تھا۔ کچھ دن بعد نوید دفتر میں داخل ہوا تو یوسف باؤ گھومنے والی کرسی پر جھول رہا تھا۔ نوید کو دیکھ کر اس نے ٹانگیں اور پھیلا لیں۔ نوید نے بڑے مؤدبانہ لہجے میں کہا، “کمیٹی دفتر کے صحن میں اتنے سارے کھلے ہوئے گلاب کے پھول دیکھ کر ایک تجویز دماغ میں ابھری ہے۔ اگر اجازت ہو تو گوش گزار کر دوں؟”یوسف باؤ نے آنکھیں پھاڑ کر نوید کو دیکھا اور بولا، “اب بول بھی دو۔” نوید اس کے روکھے اور متکبرانہ لہجے سے چڑ تو گیا مگر پھر سنبھل کر بولا، “گل قند آج کل بازار میں مہنگے دانوں بک رہا ہے۔ اگر آپ ان کمیٹی والے نکمے ملازمین کو گلاب اگانے اور پھول چننے پر لگا دیں تو ہر روز اچھا خاصا گل قند تیار کر کے بیچا جا سکتا ہے۔” نوید کی تجویز سن کر یوسف باؤ کے منہ سے رال ٹپکنے لگی۔ پھر کیا تھا جھٹ سے قلم نکالا اور نوید سے حکم نامہ لکھنے کا کہہ دیا۔ اگلے ہی دن تمام ملازمین گلاب کے پھولوں اور کلیوں کو نوچنے لگے۔ کیا کمیٹی دفتر کا صحن اور کیا تفریح کے مقامات ہر جگہ سے پھول نوچے جانے لگے۔ کمیٹی دفتر کے تمام ملازمین چھٹی کے بعد بھی پھول توڑنے میں مصروف رہتے۔ کچھ پھولوں کی نشوونما میں مستعد رہتے اور گھنٹوں پانی دیتے پھرتے۔ کسی ملازم کو بھی چھٹی نہ ملتی۔ چاہے گھر میں اس کا جو بھی مسئلہ ہوتا۔ حتی کہ بیمار بوڑھے ملازمین کو بھی ہر وقت کام میں لگائے رکھتے۔
انسان کم ظرف ہو تو اسے اپنی ذات کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا۔ یوسف باؤ کچھ ایسا ہی شخص تھا جس نے کمینگی کی حدیں پار کر لیں۔ ایک وقت آیا کہ منوں کے حساب سے گل قند بازار میں بیچا جانے لگا۔ اس گل قند کی سرخی دراصل ملازمین کے خون کی سرخی تھی۔ ملازمین کا خون نچوڑ کر رکھ دیا گیا۔ کسی لاچار کی حالت پر ذرا بھی ترس نہ کیا گیا۔ پہلے پہل تو کمیٹی کے ملازمین ادھر ادھر چھپ چھپ کر کھسر پھسر کرتے پھرے۔ مگر یوسف باؤ کے سامنے کوئی بات بھی نہ کرتے۔ پیٹھ پیچھے سب اسے بھنگی کہتے۔ ایک دن تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق ایک پرانے ملازم نے یوسف باؤ کو اس کی اوقات یاد دلا دی۔ صابر چوکیدار کو تیز بخار تھا مگر اسے چھٹی نہ دی گئی۔ یوسف باؤ دفتر سے نکلا ہی تھا کہ صابر نے پھر سے گھر جانے کی اجازت چاہی۔ یوسف باؤ نے آکر کر کہا، “جب دیکھو چھٹی چاہیے صاحب جی، کبھی کام بھی کر لیا کرو ڈھنگ سے۔” یوسف باؤ کا روکھا لہجہ صابر کے صبر کے پیمانے کو لبریز کر گیا۔ صابر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، “ابے او یوسفے ریڑھی والے، اپنی اوقات بھول گیا کیا؟ تو انچارج کے گدھے کی لید صاف کرنے کے لیے بھرتی ہوا تھا آج تو خود ہی صاحب بن گیا۔” یوسف باؤ غصے سے پھنکارنے لگا تو صابر اور مالی نے اسے کچرے کے ڈرم میں اٹھا کر پھینکتے ہوئے کہا، “گندگی کا ٹھکانہ گندگی کا ڈھیر ہی ہے۔” صابر کی بات سن کر ادھر ادھر کھڑے سب ملازموں نے زور دار قہقہہ لگایا۔ اور یوسفا ریڑھی والا اٹھتا لڑکھڑاتا وہاں سے بھاگ نکلا۔
افسانہ نگار: لہر نیازی
