“Committee Ka Bhangi” Afsana Nigar: Lehr Niazi

 

کمیٹی کا بھنگی  

یوسفے ریڑھی والے کو دیکھ کر خادم حسین بڑ بڑایا، “جب کبھی بھی کسی گھٹیا شخص کو اقتدار ملتا ہے تو وہ شخص اپنی ناک بلند رکھنے کے لیے شرفاء کو تنگ کرنا شروع کر دیتا ہے۔” خادم حسین کی بات سن کر فقیر محمد بولا، “تمھارا اشارہ کہیں یوسفے ریڑھی والے کی طرف تو نہیں۔” خادم حسین سر پر لپٹی چادر اتار کر ٹوٹے ہوئے میز پر رکھتے ہوئے بولا، “اور نہیں تو کیا۔ میں اسی یوسفے بھنگی کی بات کر رہا ہوں۔” فقیر محمد نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا، “خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔” خادم حسین دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے بولا، “خدا کی شان دیکھو! جس انسان کو کوئی دو وقت کی روٹی کے بدلے اجرت پر نہ رکھے، وہ آج گھومتی کرسی پر بیٹھا ہے۔” فقیر محمد ہاتھ سے بیلچہ رکھتے ہوئے پسینہ پونچھ کر بولا، “خدا کی دیگ کے نیچے کیچڑ جلتا ہے میاں۔” خادم حسین اپنی جوتی اتار کر ننگے پاؤں گھاس پر بیٹھتے ہوئے بولا، “جس ملازم پر کم ظرف بندہ افسر لگ جائے اس ملازم کے سمجھو نصیب پھوٹے۔

” فقیر محمد نے کمیٹی دفتر کی ٹوٹی ہوئی دیوار پر سے جھانک کر دیکھا تو یوسف صاحب آ رہا ہوتا ہے۔ فقیر محمد جلدی سے مڑا اور بولا، “یوسفا ریڑھی والا آگیا۔ باتیں چھوڑو، آؤ پہلے جلدی سے پودوں کی جڑوں سے جڑی بوٹیاں صاف کر لیں۔” کمیٹی کے دفتر کا جو انچارج تھا اس کی بڑے افسر سے ان بن ہو گئی تو اس نے اس انچارج کو ہٹا دیا گیا۔ اس بڑے افسر نے یوسفے ریڑھی والے کو عارضی انچارج بنا دیا۔ کچھ دن اور گزرے تو یوسفے ریڑھی والے نے اپنے آپ کو یوسف باؤ بنانے کے لیے کچھ حربے استعمال کیے۔

سب سے پہلے اس نے کمیٹی کے مالیوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ روز ان کی پیشیاں لگانے لگا اور انہیں خوامخواہ فالتو وقت بٹھائے رکھتا۔ ہوتے ہوتے کلرکوں کی باری بھی آگئی۔ کلرکوں سے کبھی ایک فائنل منگواتا تو کبھی دوسری فائل واپس بھجواتا۔ جب یہ سلسلہ چل نکلا تو دیکھتے ہی دیکھتے سارا دفتر اس سے تنگ آگیا۔ سب اس کی پیٹھ پیچھے یہی کہتے تھے کہ دیکھیں جی کم ظرف انسان کو تھوڑا سا عروج کیا ملا کہ سب کو تگنی کا ناچ نچا کر رکھ دیا۔ فقیر محمد اور خادم حسین بہت اچھے انسان تھے۔ وہ اپنی ذمہ داریاں عمدہ طریقے سے انجام دیتے تھے۔ مگر یوسف باؤ نے اپنی حرکتوں سے ان شریف مزدوروں کو بھی تنگ کر کے رکھ دیا۔ اسی دفتر میں کچھ موقعہ پرست ملازمین بھی تھے جو یوسف باؤ کو مکمل پڑھ رکھا تھا۔ انہوں نے اس کے شر سے پناہ میں رہنے کے لیے اسے ایک مشورہ دیا۔ نوید سب سے شاطر انسان تھا۔ اس نے یوسف باؤ کے اندر کے لالچی انسان کو پہچان لیا تھا۔ کچھ دن بعد نوید دفتر میں داخل ہوا تو یوسف باؤ گھومنے والی کرسی پر جھول رہا تھا۔ نوید کو دیکھ کر اس نے ٹانگیں اور پھیلا لیں۔ نوید نے بڑے مؤدبانہ لہجے میں کہا، “کمیٹی دفتر کے صحن میں اتنے سارے کھلے ہوئے گلاب کے پھول دیکھ کر ایک تجویز دماغ میں ابھری ہے۔ اگر اجازت ہو تو گوش گزار کر دوں؟”یوسف باؤ نے آنکھیں پھاڑ کر نوید کو دیکھا اور بولا، “اب بول بھی دو۔” نوید اس کے روکھے اور متکبرانہ لہجے سے چڑ تو گیا مگر پھر سنبھل کر بولا، “گل قند آج کل بازار میں مہنگے دانوں بک رہا ہے۔ اگر آپ ان کمیٹی والے نکمے ملازمین کو گلاب اگانے اور پھول چننے پر لگا دیں تو ہر روز اچھا خاصا گل قند تیار کر کے بیچا جا سکتا ہے۔” نوید کی تجویز سن کر یوسف باؤ کے منہ سے رال ٹپکنے لگی۔ پھر کیا تھا جھٹ سے قلم نکالا اور نوید سے حکم نامہ لکھنے کا کہہ دیا۔ اگلے ہی دن تمام ملازمین گلاب کے پھولوں اور کلیوں کو نوچنے لگے۔ کیا کمیٹی دفتر کا صحن اور کیا تفریح کے مقامات ہر جگہ سے پھول نوچے جانے لگے۔ کمیٹی دفتر کے تمام ملازمین چھٹی کے بعد بھی پھول توڑنے میں مصروف رہتے۔ کچھ پھولوں کی نشوونما میں مستعد رہتے اور گھنٹوں پانی دیتے پھرتے۔ کسی ملازم کو بھی چھٹی نہ ملتی۔ چاہے گھر میں اس کا جو بھی مسئلہ ہوتا۔ حتی کہ بیمار بوڑھے ملازمین کو بھی ہر وقت کام میں لگائے رکھتے۔

انسان کم ظرف ہو تو اسے اپنی ذات کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا۔ یوسف باؤ کچھ ایسا ہی شخص تھا جس نے کمینگی کی حدیں پار کر لیں۔ ایک وقت آیا کہ منوں کے حساب سے گل قند بازار میں بیچا جانے لگا۔ اس گل قند کی سرخی دراصل ملازمین کے خون کی سرخی تھی۔ ملازمین کا خون نچوڑ کر رکھ دیا گیا۔ کسی لاچار کی حالت پر ذرا بھی ترس نہ کیا گیا۔ پہلے پہل تو کمیٹی کے ملازمین ادھر ادھر چھپ چھپ کر کھسر پھسر کرتے پھرے۔ مگر یوسف باؤ کے سامنے کوئی بات بھی نہ کرتے۔ پیٹھ پیچھے سب اسے بھنگی کہتے۔ ایک دن تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق ایک پرانے ملازم نے یوسف باؤ کو اس کی اوقات یاد دلا دی۔ صابر چوکیدار کو تیز بخار تھا مگر اسے چھٹی نہ دی گئی۔ یوسف باؤ دفتر سے نکلا ہی تھا کہ صابر نے پھر سے گھر جانے کی اجازت چاہی۔ یوسف باؤ نے آکر کر کہا، “جب دیکھو چھٹی چاہیے صاحب جی، کبھی کام بھی کر لیا کرو ڈھنگ سے۔” یوسف باؤ کا روکھا لہجہ صابر کے صبر کے پیمانے کو لبریز کر گیا۔ صابر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، “ابے او یوسفے ریڑھی والے، اپنی اوقات بھول گیا کیا؟ تو انچارج کے گدھے کی لید صاف کرنے کے لیے بھرتی ہوا تھا آج تو خود ہی صاحب بن گیا۔” یوسف باؤ غصے سے پھنکارنے لگا تو صابر اور مالی نے اسے کچرے کے ڈرم میں اٹھا کر پھینکتے ہوئے کہا، “گندگی کا ٹھکانہ گندگی کا ڈھیر ہی ہے۔” صابر کی بات سن کر ادھر ادھر کھڑے سب ملازموں نے زور دار قہقہہ لگایا۔ اور یوسفا ریڑھی والا اٹھتا لڑکھڑاتا وہاں سے بھاگ نکلا۔

   افسانہ نگار: لہر نیازی

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN WRITERS CLUB POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works THE SOUL OF THE DESERT: EXPLORING THE POETIC JOURNEY OF LEHR NIAZI WRITERS & AUTHERS FROM MIANWALI

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)   Gulistan Khan, known widely by his pen...
Read More
UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI

     "اداس ککری"    افسانہ نگار: لہر نیازی جوں جوں ریل گاڑی آگے بڑھتی جاتی تھی منظر بدلتا جاتا تھا۔...
Read More
YAAD-E-RAFTA  -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

YAAD-E-RAFTA -AFSANA BY LEHR NIAZI

افسانہ۔ "یاد رفتہ" شہرت، دولت اور جوانی سب ڈھلتی چھاؤں ہیں۔ سورج طلوع ہوتے ہی زوال کی طرف بڑھنے لگ...
Read More
LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI   The literary contributions of Lehr Niazi have garnered deep...
Read More
AMEERZADA AFSANA   -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

AMEERZADA AFSANA -AFSANA BY LEHR NIAZI

  امیر زادہ   -  افسانہ نگار: لہر نیازی   جھاڑیوں میں الجھتا گرتا پڑتا امیر زادہ اندھا دھند دوڑے جا رہا...
Read More
Muhammad Ashfaq Chughtai
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS

Muhammad Ashfaq Chughtai

محمد اشفاق چغتائیؔ     احوالِ ملازمت و خانگی زندگی   مضمون نگار: لہرؔ نیازی محمد اشفاق چغتائیؔ کا اصل نام...
Read More
Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr

محمد اشفاق چغتائیؔ کی شاعری میں تصوف، فلسفۂ خودی اور وجودی فکر اشعار، رباعیات اور فکری و فنی جائزہ محمد...
Read More
Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”

افسانہ ۔۔۔ ماں "میرے بچے آباد و شاد ہیں۔ بس دعا ہے وہ آباد رہیں۔" جب بھی زینت خاتون اپنے...
Read More
PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER Professor Rais Ahmad Arshi — A Distinguished Scholar, Teacher, and Poet from Mianwali

PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025

پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب سے ملاقات  -(10 ستمبر 2025ء)   ابتدائی زندگی پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب کا اصل...
Read More
Saleeb-e-Waqt (Urdu Shaairi Majmua)
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI KI SHAYARI:

Saleeb-e-Waqt (Urdu Shaairi Majmua)

صلیبِ وقت (اردو شعری مجموعہ) از: رئیس احمد عرشی، میانوالی اشاعت: اول، اگست 2004ء ناشر: محمد عنصر خان کاکڑ (مدیر...
Read More
“Darya Kandhi” Afsana
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“Darya Kandhi” Afsana

 افسانہ "دریا کندھی"  - افسانہ نگار: لہر نیازی "وقت پر لگایا گیا مرہم زخم کو ناسور بننے نہیں دیتا۔ بہتر ہوگا...
Read More
Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi)  Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb

محمد ضیاء اللہ قریشی (ضیاء قریشی) میانوالی کے صاف گو شاعر، غزل گو، گیت نگار اور صاحبِ فکر ادیب میانوالی...
Read More
Mutiullah Khan: Sahafat mein Nafasat aur Waqar ka Alam Bardar
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALI MEDIA LEGENDS & JOURNALISTS

Mutiullah Khan: Sahafat mein Nafasat aur Waqar ka Alam Bardar

مطیع اللہ خان: صحافت میں نفاست اور وقار کا علم بردار مطیع اللہ خان کا شمار ضلع میانوالی کے اُن...
Read More
Afsana: Baba Jand Peer
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Afsana: Baba Jand Peer

افسانہ ۔۔۔بابا جنڈ پیر۔۔۔افسانہ نگار: لہر نیازی   داراں مائی گاؤں والوں سے چھپتی چھپاتی چادر کے نیچے بغل میں...
Read More
Salagar Ki Raat (Afsane)
FICTION BOOKS BY MIANWALIAN LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Salagar Ki Raat (Afsane)

سلاگر کی رات — وسیب، انسان اور زندگی کی کہانی کتاب:سلاگر کی راتصنف: افسانےمصنف: لہرؔ نیازیناشر: سرکار پبلشرز، ملتان لہرؔ...
Read More
Ehsaas Tanhai – Afsana By Lehr Niazi
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Ehsaas Tanhai – Afsana By Lehr Niazi

افسانہ ۔۔۔احساس تنہائی    -افسانہ نگار: لہر نیازی  "انسان کے اندر کی تنہائی آسیب کی طرح ہوتی ہے جو دن...
Read More
“WOH AIK LAGHZISH” AFSANA NIGAR: LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“WOH AIK LAGHZISH” AFSANA NIGAR: LEHR NIAZI

"وہ ایک لغزش"  افسانہ نگار : لہر نیازی  "جوانی کی بھول زندگی کا روگ بن جائے گی، کبھی سوچا بھی...
Read More
Afsana: Haaye Ghurabat
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Afsana: Haaye Ghurabat

افسانہ   --ہائے غربت ۔۔۔۔ "پیٹ خالی ہو تو انسان کو اپنا بھرم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔" خالق ادھر ادھر...
Read More
“Afsana: Gori Gai” By Lehr Niazi
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“Afsana: Gori Gai” By Lehr Niazi

افسانہ۔. گوری گائے اپنوں کی یادیں تو کسی چیز کے ساتھ جب منسلک ہو جاتی ہیں تو وہ پھر یادیں...
Read More
Qurbani Ka Bakra AFSANA BY LEHNIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Qurbani Ka Bakra AFSANA BY LEHNIAZI

"اماں! ہم کب قربانی کریں گے؟" معصومہ نے حسرت بھرے لہجے میں ماں سے سوال کیا تو ماں کچھ دیر...
Read More
“Committee Ka Bhangi” Afsana Nigar: Lehr Niazi
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“Committee Ka Bhangi” Afsana Nigar: Lehr Niazi

  کمیٹی کا بھنگی   یوسفے ریڑھی والے کو دیکھ کر خادم حسین بڑ بڑایا، "جب کبھی بھی کسی گھٹیا شخص...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top